تازہ تر ین

ترقی کاراز

وزیر احمد جوگیزئی….(احترام جمہوریت)

70سال کسی بھی قوم کی زندگی میں بہت طویل عرصہ نہیں ہوتا ستر سال کسی بھی قوم کے لیے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ کسی فرد کی زندگی میں 70دن اگر ہم پاکستان کی قومی زندگی میں کی گئی غلطیوں کی فہرست مرتب کرنا شروع کریں تو یہ بہت ہی طویل فہرست ہوگی ،پا کستان کے قیام کے بعد شروع کے دنوں میں ہمارے پاس لیاقت علی خان کے علاوہ کوئی بہت زیادہ تجربہ کار اور اعلیٰ پا ئے کے سیاست دان موجود نہ تھے لیکن پھر بھی اس وقت کے سیاست دان آج کے سیاست دانوں سے کہیں زیادہ اعلیٰ ظرف اور بہتر تھے ان کی سوچ فکر اور تجربہ موجودہ دور کے سیاست دانوں سے کئی درجہ بہتر تھا لیکن پھر اس کے بعد ہم سے دو غلطیاں ایسی ہوگئیں جس کی وجہ ریاست پا کستان کو بہت شدید نقصان پہنچا اور ایسا نقصان جس کی تلافی شاید آج تک بھی نہیں ہو سکی۔یہاں پر میں ان غلطیوں کی نشان دہی کرنا چاہوں گا۔پہلی غلطی تو یہ تھی کہ ہمارے ملک مارشل لاءکا نفاذ کر دیا گیا اور اس مارشل لاءکے نتیجے میں اس وقت کے پچاس سے زائد منجھے ہوئے سیاست دانوں کو سیاسی عمل سے یکسر طور پر باہر کر دیا گیا ،سیاسی عمل سے نکالے گئے سیاست دانوں میں حسین سہر وردی شہید جیسے سیاست دان بھی شامل تھے اس عمل کا نتیجہ کیا ہوا کہ نواب زادہ نصر اللہ خان اور نواب اکبر بگٹی جیسے سیاست دان منظر عام پر آئے گو کہ اس وقت پائے کے سیاست دانوں میں شمار نہ ہوتے تھے نہ ہی کوئی بہت ہی زیادہ فہم و فراست اور ویژن کے حامل تھے ۔
بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ریاست کے اس عمل سے ریاست کو ہی شدید نقصان پہنچا اور سیاست زوال کا شکار ہونے لگی ۔اسی طرح سول سروس کے تجربہ کار افراد کو ایک طرف کر دیا گیا اس کا نتیجہ بھی سول سروس کے معا ملات میں ابتری اور نا ہل لوگوں کے اوپر آنے کی صورت میں نکلا ،بطور قوم ہم ایک اچھی سول سروس سے محروم ہو گئے اور اچھے سنجیدہ اور درد دل رکھنے والے سیاست دانوں سے بھی محروم ہو گئے ۔قومیں انسانوں سے بنا کرتی ہیں اور انسان وہ ہوتے ہیں جن کی تربیت ہوچکی ہو جن کے پاس تعلیم ہو تجربہ ہو دنیا میں رہنے سہنے کا ڈھنگ سیکھ چکے ہوں ،اما نت رکھتے ہوں ،ساتھ دیانت بھی رکھتے ہوں ،فنی مہارت کے حامل بھی ہوں کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان ہوں جو کہ ایک لیول پر پہنچ چکے ہوں ۔یہاں پر جاپان کی مثال دینی بنتی ہے قومیں صرف اور صرف پہاڑوں سے یا دریاﺅں سے یا زمین کے حصول سے نہیں بن جا یا کرتی اور قومیں انسانوں سے بنا کرتی ہیں اور جاپان سے بہتر اس کی کوئی مثال نہیںملتی۔جاپان میں معدنی وسائل کے اعتبار سے کیا ہے صرف پہاڑ ہیں اور جنگل ہیں اس کے ساتھ ساتھ چاول کی کچھ پیدا وار ہے لیکن اتنے محدود وسائل کے با وجود جاپان آج دنیا کی تیسری بڑی معیشت کس طرح بن گیا جاپان نے یہ منزل کس طرح حاصل کر لی یہ سوچنے والی بات ہے ،اس سوال کا جواب سادہ ہے اور وہ یہی ہے کہ وہاں کی ریاست نے انسانوں پر اپنا پیسہ خرچ کیا اگر کہا جائے تو ایک طرح سے انھوں نے اپنے انسانی وسائل کو بہت ترقی دی اور اسے ڈویلپ کیا انسانی وسائل کی ترقی ان کی اولین ترجیح تھی ۔آج اسے لیے جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے پا کستانی ریاست کی بڑی کوتاہی یہ ہی رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو نہ تو بہتر تعلیم دے سکی نہ ہی بہتر صحت ہم نے اپنے لوگوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہیں دی ۔ اگر پا کستان کی آبادی کو بھی فنی اور تکنیکی علوم سے آراستہ کیا جاتا تو آج ہمارے ملک کی صورتحال یکسر مختلف ہوسکتی تھی ۔اس بات کا خلاصہ یہ ہی ہے کہ ملک اور قومیں زمین سے یا معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانوں یا پھر ہیومن ریسورس سے بنا کرتی ہیں۔
ہماری قوم آدھی سے زیادہ پڑھی لکھی یا تکنیکی علوم سے آشنا نہیں ہے اور اگر پاکستان کی عورتوں کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیا جائے تو پا کستان کی ستر فیصد آبادی کسی کام کی نہیں ہے اور ریاست کے پیدا واری عمل سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔کسی بھی ریاست کی آبادی جتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو جب تک وہ اس ریاست کے پیدا واری عمل میں ہا تھ بٹانے کے قابل نہ ہو تو اس آبادی کا ریاست کوکوئی فا ئدہ نہیں ہو ا کر تا ۔اگر پا کستانی قوم بھی آج پڑھی لکھی اور فنی طور پر تربیت یا فتہ ہوتی تو ہمارا ملک کہاں سے کہاں جا سکتا تھا ۔ہر ملک اور ریا ست کے پاس زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ایسے افرادکثرت سے ہونے چاہئیں جو کہ ملک کی ریاست کا پہیہ آگے بڑھا سکیں ۔اب اس سارے ماحول سے ہوا کیا کہ بطور قوم ہمارے اندر ایک نااہلی آچکی ہے اور پاکستان کے سیاست دان تو اس نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور میں یہاں پر صرف اور صرف سیاست دانوں کا ذکر ہی نہیں کروں گا بلکہ بیورو کریسی کا بھی نام لوں گا ۔
ہمارے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بیورو کریسی بھی نااہلی میں بد درجہ اتم ہوچکی ہے ،سیاست دانوں کی نااہلی کے تو کچھ جواز فراہم کیے جاسکتے ہیں جیسا کہ انھیں با قا عدہ طور پر پھلنے پھولنے کا موقع نہ مل سکا ان کی پراپر ٹریننگ کا کوئی بندوبست نہیں ہے لیکن ہماری بیورو کریسی کی نا اہلی کا کیا جواز ہے یہ تو اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں اور ان کی تو ٹریننگ اکیڈمی بھی موجود ہے جہاں ان سول سرونٹس کو تربیت دی جاتی ہے ،لیکن بات پھر وہیں آجا تی ہے کہ آپ ٹریننگ دے کس چیز کی رہے ہیں اور آپ سول سرونٹس کو بنانا کیا چاہتے ہیں ۔مشکل یہ ہوئی کہ شروع سے ہمارا سیاست دان تو کمزور تھا ہی لیکن ہماری سول سروس بھی نا اہلی کے عذاب کا شکار ہوگئی جس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔میں یہاں پر بلوچستان کی بات بھی کرنا چاہوں گا بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں پر بلوچستان میں یہ نا اہلی کی وبا دونوں اطراف سے عیاں ہے ،باقی صوبوں میں تو صورتحال پھر کسی حد تک کچھ بہتر ہے لیکن سندھ اور بلوچستان میں تو نا اہلی اس حد پر پہنچ چکی ہے کہ وہ نا قابل برداشت ہے ،اور کرپشن اور نااہلی کا ایسا ملاپ ہو چکا ہے جو کہ ہمارے ملک کی بربادی کا باعث بن رہا ہے ۔اس سارے مسئلہ کا حل یہ ہی ہے کہ ہمارے سیاسی نظام کو ایک بار پھر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہماری سیاسی قیادت نئے آنے والے سیاست دانوں کی تربیت درست انداز میں نہیں کرے گی تب تک یہ نااہلی کا ناسور ہماری قوم کو اسی طرح چا ٹتا رہے گا ،اور یہ مطالبہ کوئی دنیا میں اپنی واحد مثال نہیں ہے بلکہ امریکہ سمیت کئی ملکوں میں ایسا کیا جاتا ہے ۔امریکہ میں ہر آنے والے نئے سیاست دان کوبتایا جاتا ہے سمجھایا جاتا ہے کہ امریکہ کی بنیا دیں کیا ہیں امریکہ کہاں جا نا چاہتا ہے امریکہ کی تاریخ کیا ہے امریکہ کی اقدار کیا ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست دان ماں کے پیٹ سے سیکھے سکھائے ہوئے آتے ہیں ، بنیادی طور پر ہمارے ملک میں قیادت کا شدید فقدان ہے ۔میں یہاں پر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ چاہے لیڈرشپ کتنی ہی اچھی یا ایمان دار کیوں نہ آجائے جب تک کہ پوری اسمبلی ہی اپنی کا رکر دگی بہتر نہیں کرے گی تب تک ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔صرف اسمبلی ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے سے بات نہیں بنے گی ،ان کو کا رکردگی بھی دکھانا ہو گی ۔
ارکان اسمبلی کا بنیا دی مینڈیٹ قانون سازی ہے اور ہمارے پارلیمنٹرین اس کام کے علاوہ باقی سب کچھ کرتے ہیں ،پارلیمنٹ میں لا ئبریری تو موجود ہے ا ور اس میں قانون کی کتابوں کی بھی بہتات ہے لیکن انھیں پڑھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ہمارے سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ جب تک وہ خود بھی میرٹ پر کام نہیں کریں گے اور بیوروکریسی سمیت دیگر اداروں سے میرٹ پر کام نہیں کروائیں گے ملک آگے نہیں بڑھے گا ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved