تازہ تر ین

میڈیا کابحران جلد حل ہونا چاہیے

میم سین بٹ….(ہائیڈپارک)

میڈیا کو ہردورمیں سنسرشپ ،اشتہارات کی کمی سمیت متعدد مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن موجودہ دور میں تو اسے جس سنگین بحران سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مالی مشکلات کے باعث بعض صحافتی اداروں میں نہ صرف کارکنوں کی تنخواہیں تاخیر کا شکارہیںبلکہ کئی ادارے تو بند ہی ہو گئے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل جب ایک بڑے نجی چینل کا غلغلہ بلند ہوا تھا تو میڈیا مالکان خطرہ بھانپ کر اکٹھے ہو گئے تھے اور انہوں نے پیشگی اقدامات کے ذریعے بحران کا پیدا ہونے سے پہلے ہی علاج کرلیا تھا جس سے ادارے بند ہونے سے بچ گئے تھے لیکن اب سرکاری اشتہارات کی بندش یا اس میں کٹ لگنے سے پیدا ہونے والے میڈیا کے سنگین بحران کا مقابلہ صرف مالکان نہیں کر سکتے اس کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونا ضروری تھا۔ لہٰذا معروف صحافی اور چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں جناب ضیا شاہد متحرک ہو ئے اور انہوں نے پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن کے نام سے نئی تنظیم تشکیل دیدی ہے ۔
میڈیا مالکان،ایڈیٹرزاورکارکن صحافیوں کی الگ الگ تنظیمیں موجود ہیں مگر وہ سب اپنے اپنے مخصوص دائرے میں کام کرتی ہیں ان میں باہمی رابطہ بھی نہیں ہوتا ‘اس کمی کو دور کرنے اورمیڈیا کو درپیش بحران سے نجات پانے کیلئے جناب ضیا شاہد نے احباب کے مشورے سے نئی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اسلام آباد ،کراچی کے بعد لاہور میں حتمی اجلاس کرکے اس نئی تنظیم کے قیام کا اعلان کردیا۔ ہم غلطی سے کسی دوسرے ہوٹل پہنچ گئے پہنچ گئے تھے لہٰذا قدرے تاخیر سے آواری کے ہال میں داخل ہوئے توچیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی جناب ضیا شاہد کی زیر صدارت تقریب شروع ہو چکی تھی ۔ایڈیٹرروزنامہ خبریں امتنان شاہد، سینئر صحافی ارشاد احمد عارف،ڈاکٹر جبار خٹک، رحمت علی رازی، اعجاز الحق ، ایاز خان،ذوالفقار شاہ، فیصل عزیز،خضر حیات وٹو،راشد حجازی، ریاض صحافی، میاں حبیب، عدنان ملک، خالد کھوکھر، یوسف نظامی، مبشر زیدی، امتیاز روحانی، وقاص طارق ،غازی بابر،آغا وقار،سہیل خان،احمد اقبال بلوچ اورکراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران بھی موجود تھے ۔ انیق احمد نے درست کہا کہ میڈیا نے اس سے برا وقت پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اسے نظر بندی جیسی کیفیت کا سامنا ہے تاہم جب کتابت ختم ہو جاتی ہے تو کمپوزنگ خود بخود آجاتی ہے مگر دیکھنا ہو گا کہ کس کس کو شہادت کا شوق ہے ۔ جس کے جواب میںعدنان ملک نے اعلان کیا کہ انہیں ڈر نہیں لگتا وہ شہادت کیلئے تیار ہیں، ارشاد احمد عارف نے جنرل (ر)پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میڈیا نے ماضی میں بھی بہت برے حالات دیکھے تھے ان کے سابق ادارے کے اشتہارات پانچ ماہ تک بند رہے تھے نئی تنظیم ضرور بننی چاہیے یہ مفید کام ہوگا ان کا ادارہ ساتھ دے گا ، امتیاز خان فاران نے کراچی پریس کلب باڈی کی جانب سے نئی تنظیم کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا ۔
ہمیں امتیاز خان فاران سے مکمل اتفاق ہے، میڈیا کو درپیش سنگین بحران کے حوالے سے ہمارا شروع سے موقف رہا ہے کہ کارکنوں اور مالکان کو آپس میں نہیں لڑنا چاہیے اس لڑائی سے دونوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ میڈیامالکان کا نقصان بھی کارکنوں پر منتقل ہو جائے گا اوربحران کے اصل ذمہ داروں کا کچھ نہیں بگڑے گا ۔ یہ بحران سرکاری اشتہارات کی بندش کے باعث پیدا ہوا تھا لہٰذا صحافتی تنظیموں کو اخبارات اور چینلز کے سرکاری اشتہارات کی بحالی کیلئے اسمبلیوں کے سامنے احتجاج کرنا بلکہ فیصلہ کن دھرنا دینا چاہیے اگر ایسا ہوجاتا تو بحران شروع میں ہی ختم ہوجاتا،ایک یونین لیڈر نے ہم سے کہا تھا کہ میڈیا مالکان اگرسرکاری اشتہارات کے بغیر ادارے نہیں چلا سکتے تو انہیں کارکن صحافیوں کے حوالے کردیں جس پر ہم نے انہیں ماضی کے تجربے سے آگاہ کرتے ہوئے بھٹو دورمیں صنعتی ادارے قومیائے جانے کی مثال دی تھی جوسرکاری ملکیت میں آنے کے بعد افسروں اور یونین عہدیداراروں کی ملی بھگت نے ہی تباہ و برباد کر ڈالے تھے، کسی دانشور نے سچ ہی کہا ہے….
جس کا کام اسی کو ساجھے
ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری اشتہارات کی بندش یاکمی کے باعث پیدا ہونے والے میڈیا کے سنگین بحران سے نجات حاصل کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل اس نئی تنظیم کا قیام بہت ضروری تھا یہ بہت بڑا پلیٹ فارم ہے ،پی ایف یو جے اور پریس کلبوں سمیت تمام صحافتی تنظیموں کو پاکستان نیوز میڈیا ایسوسی ایشن میں نمائندگی حاصل کرنی چاہیے ان سب کو مل بیٹھ کر آئندہ کا مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے اور اپنی بقاءکی جنگ کو اکٹھے ہو کر لڑنا چاہیے ورنہ مبشر زیدی کے بقول ایک ایک کرکے سب کو معاشی طور پر مار دیا جائے گا ۔
رحمت علی رازی نے درست مشورہ دیاتھا کہ ضیا شاہد اپنی ذات میں انجمن ہیں ان کے ذریعے میڈیا کو اپنے مسائل حل کروانا ہوں گے۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved