تازہ تر ین

”عقلمند کو ایک اشارہ ہی کافی ہے“

حیات عبداللہ……..(انگارے)

شرافت کی یہ قبا، میانہ روی اور عجز و انکساری کی یہ ردا جو ہم نے اپنی گفتار اور کردار پر تان رکھی ہے، اس کے حسن و جمال کا بھارت اوراس کے ہم نواو¿ں پر کچھ اثر نہیں ہونے والا، ہم تحمل مزاجی اور بردباری کے جس چھپّر تلے قیام پذیر ہیں اس کے سائے تلے کبھی مودی اور بپن راوت نہیں آئیں گے۔اپنی نا اہلی اور نالائقی کا طومار پاکستان کے سر منڈھ کر غُل غپاڑ مچا دینا بھارت کا وتیرہ ہے ، مودی اور بپن راوت اتنے جھوٹے ہیں کہ جھوٹ کی پوٹ بن چکے ہیں، پہلے سرجیکل سٹرائیک کی کذب بیانی ، پھر پلواما حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ڈراما، اس کے بعد پاکستانی ایف 16 گرانے کا دعویٰ اور پھر پاکستان میں 350 آتنک وادی ہلاک کرنے کی من گھڑت کہانی۔ جھوٹ کا ایک طویل سلسلہ ہے جو کہ بھارت کے بہی کھاتے میں جمع ہے ۔راوت کا معنی دلیر ہوتا ہے مگر بپن راوت بڑا ہی بزدل واقع ہوا ہے، بپن راوت کی یہ دھمکی دراصل اس کے خوف زدہ اور سراسیمگی میں مبتلا ہونے کی چغلی کھا رہی ہے۔ پاکستان پر جنگ اور سرجیکل سٹرائیک مسلط کرنے کے عارضے اور مرض میں مبتلا بپن راوت کے لئے میں چند کہاوت لکھنا چاہتا ہوں جو اسے عبرت اور نصیحت کے کئی سندیسے دے سکتی ہیں۔ جھوٹ تو بالکل ہی نہیں بولنا چاہئے، انسان جتنے بڑے منصب اور عہدے پر فائز ہو، کذب بیانی اس کی شخصیت کو اتنا ہی آلودہ اور داغ دار کر دیتی ہے مگر جھوٹ بولنا بھارتی فوج کی فطرت میں رچ بس چکا ہے، اس لئے پہلی کہاوت معمولی سے تصرف کے ساتھ پیش ہے:
جھوٹ بالکل نہ بولیے، جھوٹ نہ دل میں سمائے
اَسّی من کے گھنگرو، مرغا باندھے جائے
اس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ جھوٹ بالکل نہیں بولنا چاہئے اور واشگاف جھوٹ تو دلوں میں سما ہی نہیں سکتا، اگر کوئی یہ کہے کہ ایک مرغا 80من کے گھنگرو باندھے ہوئے جا رہا تھا تو اس پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ پہلے سرجیکل سٹرائیکس کی بڑھک لگائی گئی اور اب پاکستان پر حملے کا جھوٹ بولا گیا اور بھارتی فوج میں اتنا دم خم ہے کہاں کہ وہ سرجیکل سٹرائیک اور جنگ کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکے۔ بپن راوت کو میں شکست خوردہ بھارتی فوج کی ایک جھلک دکھانا چاہتا ہوں کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ قلیل عرصے میں تین سو سے زائد بھارتی فوجی پاگل ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی یہ تنظیم کہتی ہے کہ بھارتی فوجی جوان بھگوڑے ہو رہے ہیں، بی ایس ایف 29بٹالین کے سیکڑوں نوجوان ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں، پانچ سو سے زائد بھارتی فوجی خودکشی کر چکے ہیں، خواتین فوجیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ 12سے زائد بھارتی فوجی مکمل طور پر ذہنی توازن کھونے کے بعد اپنے ہی افسروں پر فائرنگ کر چکے ہیں۔
بپن راوت کیا تجھے خبر ہے کہ تیری خستہ حالی اور بے سروسامانی کا کیا عالم ہے؟ تو کس فوج کو پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس اور جنگ کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے؟ وہ بھارتی فوج جو مسلسل خودکشیاں کئے جارہی ہے۔ 17دسمبر 2016ءکو جموں کے علاقے سامبا میں تعینات بھارتی فوج کی 36سالہ خاتون میجر انیتا کماری نے سخت ماحول اور افسروں کے ذلت آمیز سلوک کی وجہ سے خودکشی کر لی۔ اس سے قبل 24اکتوبر 2016ءکو ایک فوجی کو پاکستان پر گولہ باری کرنے کا حکم دیا گیا وہ کرالہ پور، کپواڑہ میں ڈیوٹی پر تعینات تھا اس کا نام سنجے کمار تھا، اس کو کنٹرول لائن پرتعینات کر کے پاکستان پر فائرنگ کا حکم دیا گیا مگر اس نے پاکستان پر فائرنگ سے انکار کر کے خودکشی کر لی۔ 14جنوری 2017ءکو مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں قائم ایک اہلکار بیرو رام کو گھر جانے کے لئے چھٹی نہیں مل رہی تھی اس لئے اس نے اپنی سروس رائفل سے خود کو ختم کر لیا۔ اس سے دو روز قبل بھارتی ریاست بہار کے ضلع اورنگ آباد میں سکیورٹی کمپنی دی سنٹرل سکیورٹی فورس کے اہلکار نے چھٹی نہ ملنے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں چار افسر ہلاک ہو گئے۔ سری نگر سے 20کلومیٹر شمال میں صفاپور گاﺅں کے فوجی کیمپ میں راشٹریہ رائفلز کے فوجی نے بدھ کی رات بیرک میں سوئے فوجیوں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پانچ بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں دو درجن سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔ ایسے دگرگوں حالات میں بپن راوت کے لئے ایک اور کہاوت حاضر ہے۔
جیب میں نہیں کھَل کی ڈلی
چھیلا پھرے گلی گلی
اگر یہ کہاوت پسند نہ آئے تو ایک اور پڑھ لیجئے
گھر میں نہیں دانے
بڑھیا چلی بھُنانے
بھارتی آرمی چیف کے پاس جتنے فوجی جوان ہیں وہ سب تھکے ماندے، ہارے اور نکمے ہیں سو ان فوجیوں پر اسے اترانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ اس کے آڑے وقت میں کچھ کام نہیں آئیں گے۔ ایک طویل اور سخت جان تحریک حریت کے مقابل ہلکان اور بے جان ہوئے یہ پاگل بھارتی فوجی نہ صرف اپنے ساتھیوں کو مار رہے ہیں بلکہ خود بھی اپنی زندگیوں کو ختم کر رہے ہیں۔ نفسیاتی طور پر اس قدر الجھنوں، پیچیدگیوں اور بے چینیوں میں مبتلا فوجیوں کا سربراہ محض زبانی طور پر سرجیکل سٹرائیکس کے جھوٹے دعوے کر کے اپنی بیمار ذہنیت کا بھانڈا پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا ۔
شاید مودی اور بپن راوت سمجھتے ہیں کہ جنگ کوئی مصری کی ڈلی ہے جسے منہ میں رکھ کر لطف اٹھایا جا سکتا ہے، دو جنگی طیاروں کی زمین بوسی اور پائیلٹ کی گرفتاری کی ہزیمت اٹھانے کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم بھی جنگی جنون میں مبتلا ہوئی اور فوجی ٹوپی پہن کر کر کٹ میچ کھیلا،مگر ہار گئی۔ بپن راوت نے یہ کہاوت ضرورت سنی ہوگی کہ ”رسی جل گئی مگر بل نہ گئے“انہیں یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جلی ہوئی رسی کے بل ختم کرنے میں بھلا دیر ہی کتنی لگتی ہے، فوجی ٹوپی پہن کر بھارتی کر کٹ ٹیم نے بھارتی عزت کی رہی سہی لٹیا بھی ڈبودی مگر وسیع پیمانے پر بے عزتی اور سبکی کے باوجود مودی اور بپن راوت کی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہو رہی ۔ آج بھارت کی ننگی جارحیت پر ہم تحمل مزاجی کے کتنے بھی عالمی ریکارڈ قائم کرنے چلے جائیں ، بھارت کبھی خوش نہیں ہوگا ، اب تو وہ پلواما حملے کو جواز بنا کر جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے مگر ماضی میں وہ بنا کسی سبب کے بھی سرجیکل سٹرائیک کی دھونس دیتا رہا ہے، بپن راوت کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے ۔”حالیہ دنوں میں سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ، اگر ہوئی تو سرجیکل سٹرائیک کریں گے، ہم نے اپنے دشمن کو بتا دیا ہے کہ اگر امن قبول نہیں تو مزید سرجیکل سٹرائیک کریں گے“ اسکی اسی فطرت کو دیکھ کر کسی نے یہ کہاوت ترتیب دی ہے کہ ” جس کا یار، اس کو دشمن کیا درکار©“طیارے گرنے سے بھارت کے معدے میں تذلیل کی جوگرانی، تبخیر اور تیزابیت پیدا ہوئی ہے اس کی کھٹاس اسے عمر بھر یاد رہے گی، مودی اور بپن راوت یاد رکھیں کہ وہ سازشوں کی پٹاری کھول کر آنٹ سانٹ کریں یا زمینی راستوں سے حملہ آور ہوں وہ ہوا کے دوش آئیں یا سمندری لہروں میں چھپ کر وار کریں، ان کو فقط نشان عبرت ہی نہیں بنایا جائے گا بلکہ ایسی کار گاہ اذیت میں دھکیل دیا جائے گا کہ جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی۔ بپن راوت نے یہ کہاوت بھی ضرور سنی ہوگی کہ” عقل مند کو ایک اشارہ ہی کافی ہے“۔
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved