تازہ تر ین

آج ہمسائے سے محفوظ نہیںہمسایہ

اسرار ایوب….(قوسِ قزح)

موجودہ حالات کے تناظر میں اپنے دو اشعار رہ رہ کر یادآرہے ہیں کہ
میں نے بروقت کئی بار جسے بلوایا
مر چکا میں تو بچانے وہ مسیحا آیا
یا خدا دور یہ کیا آیا ترے بندوں پر
آج ہمسائے سے محفوظ نہیں ہمسایہ
ایسا کیوں ہوا اور اس سے آگے کیا ہونا چاہیے ؟ یہ ہیں وہ دو سوال جن کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش آج کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے اُن دو باتوں کا یاد کر لینا ضروری ہے جو ہنری کسنجرنے کہی تھیں (جوامریکی صدور نکسن اور فورڈکی حکومتوں میں نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور سیکریٹری آف سٹیٹ رہے،1969سے1977تک امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ان کا کردار کلیدی رہاجس کے طفیل انہیں1973میں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا)۔پہلی یہ کہ کسی دوسرے ملک میں مسلح جدوجہد کی سپورٹ کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ اس کا ردعمل انتہائی گھناﺅنا ہوسکتا ہے جو براہِ راست آپ کے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے،آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ آپ کے تیار کیے ہوئے لوگ آپ ہی کے خلاف برسرِ پیکار ہوسکتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ کسی دوسرے ملک سے ہجرت کر کے اپنے ملک میں آنے والوں کو اپنی آبادیوں میں کسی صورت آباد نہیں کرنا چاہیے ورنہ ایسی قباحتیں جنم لیتی ہیں کہ قومی سلامتی تک کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان نے اپنے ”امیر المومنین“ صدر ضیاالحق کے طفیل ان دونوں امور کا خیال نہ رکھا ، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے اور پورے کا پورا ملک ایسا میدان جنگ بنا کہ مسجدوں میں نمازی اور سکولوں میں معصوم بچے تک محفوظ نہ رہے۔ اس پر ستم یہ کہ ہم یہی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ہم نے کچھ غلط بھی کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف اپنی جگہ لیکن کون نہیں جانتا کہ انہیں تختہ دار پر اس لئے لٹکایا گیا کہ( ہنری کسنجر کی طرح) وہ بھی ایک ”سٹیٹس مین“تھے اور خارجی و داخلی پالیسی کے اسرار و رموز سے بڑی اچھی واقفیت رکھتے تھے،بھٹوامریکہ کی سلامتی پر پاکستان کی سلامتی کو قربان کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، چنانچہ ان کی جگہ ایک جنرل کو لایا گیا جسے غالباً یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے اس کا خمیازہ کیسا جان لیوا ہو سکتا ہے؟ ضیاالحق نے (اچھی یا بری نیت سے) اسلام اور پاکستان کو امریکی مفادات کے بھینٹ چڑھاتے ہوئے ،مدرسوں اور سکولوں کے تعلیمی نصاب میں ترامیم کر کے قدامت پرستی اور انتہا پسندی کو ہماری ثقافت کا حصہ بنا دیا۔سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو امریکی ضروریات نے بھی ایک نئی شکل اختیار کر لی، چنانچہ مشرف صاحب منظرِ عام پر آ گئے ۔جنرل مشرف نے جنرل ضیا کی الجھائی گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش ہو سکتا ہے کہ اچھی نیت سے ہی کی ہو لیکن اس حقیقت سے انکارکیسے کیا جا سکتا ہے کہ طریقہ کار ان کا بھی انتہائی غیر دانشمندانہ تھا، ورنہ حالات سدھرنے کے بجائے مزید خراب کیوں ہوتے؟
بہرطور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا جائے، تو سب سے پہلے کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں اور اب ہمیں ان کو سدھارنا ہے۔ اچھے اور برے دہشت گردوں کی تفریق ختم کرنی ہوگی کہ دہشت گرد تو دہشت گرد ہی ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا گروہ سے ہو،ضربِ عضب جیسے اقدامات کے ساتھ ساتھ ترجیحی بنیادوں پر نصاب میں وہ تبدیلیاں کرنا ہوں گی جو ہمیں تخلیق و تجدید کی راہوں پر ڈال سکیںاور رواداری و ترقی پسندی کو ہماری ثقافت کا حصہ بنا سکیں ، کرپشن اور دہشت گردی میں چولی دامن کا ساتھ ہے چنانچہ کرپشن کے ساتھ قائدِ اعظم کے الفاظ میں ”آہنی ہاتھ سے“نمٹنا ہوگا چاہے اس کے لئے کسی غیرملکی کو ہی چیئرمین نیب کیوں نہ لگانا پڑے جیسا سنگاپور نے کیا(جس پر ”سنگاپور ماڈل“کے نام سے پورا کالم لکھ چکا ہوں)،گڈ گورننس کا بول بالا کرنا ہوگا چاہے کوئی قیمت بھی ادا کر نی پڑے،قانون کی بالادستی کو حتمی طور پر قائم کرنا ہوگا،انصاف کی فراہمی بلاتخصیص ہر شہری کےلئے یقینی بنانی ہو گی،غیر ترقیاتی بجٹ جو اس وقت کل بجٹ کا تقریباً 82فیصد ہے کو بتدریج کم کرتے ہوئے دو برس میں کم از کم 50 فیصدتک لانا ہوگا چاہے پیٹ پر پتھر ہی کیوں نہ باندھنے پڑیں،قدرتی وسائل کی بندربانٹ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا چاہے کسی کی بھی ناراضگی مول لینی پڑے ، تمام شعبہ ہائے زندگی میں میرٹ کی پاسداری کو یقینی بنانا ہوگا چاہے پبلک سروس کمیشن کی جگہ ”ایچ آر“کی مستند ترین بین الاقوامی کمپنیوں کی خدمات ہی کیوں نہ حاصل کرنی پڑیں جس طرح بین الاقوامی ادارے حاصل کرتے ہیں،اور ان تمام کاموں کے لئے نیم حکیم بیوروکریٹس کے بجائے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی ہونگی، بصورتِ دیگر ہم خوانحصاری و خود مختاری کی اس منزل پر کسی صورت نہیں پہنچ سکتے جہاں ہندوستان یا امریکہ کے ساتھ باوقار شرائط پر مذاکرات کر سکیں ۔ہمیں یہ باور کر لینا چاہیے کہ جو ملک ادھار اور بھیک کے پیسے سے چلتا ہواس کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی، نہ ہی بین الاقوامی برادری ان قوموں کو خاطر میں لاتی ہے جن کی ثقافت کا تانا بانا جھوٹ اور بددیانتی پر مشتمل ہو یاجن کے یہاں قدامت پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ایمان کا حصہ قرار دیا جاتا ہو۔
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved