تازہ تر ین

افسوسناک سانحہ

نصیر ڈاھا …. (گستاخی معاف)

ایسا پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ ایک شخص اپنے مقصد پر عمل درآمد سے صرف10منٹ قبل اہم شخصیات کو ای میل ارسال کرتے ہوئے اپنے منشور کے بارے میں آگاہ کرتاہے، پھر وہ اپنی آہنی ٹوپی پر کیمرہ لگاتا ہے اور گاڑی میں اسلحہ رکھ کر بآسانی منزل مقصود پر پہنچتا ہے جہاں وہ آٹومیٹک مشین گن ہاتھوں میں تھام کر بیرونی سڑک سے اندر مسجد تک جاتا ہے۔ بیرونی سڑک پر لوگ بھی کھڑے ہیں اور ٹریفک بھی رواں دواں ہے۔ اندر پہنچنے کے بعد وہ کئی منٹ تک اندھادھند فائرنگ کرتا ہے۔ مسجد کے اندرونی ہال اور دیگرکمروں میں کوئی بھی شخص محفوظ نہیں رہ پاتا۔ پھر وہ اس اسلحہ کو لے کر کئی کلومیٹر دور ایک اور مسجد تک پہنچتا ہے اور وہاں بھی ایسا ہی عمل دہراتاہے اور اس دوران اُسے کوئی بھی نہیں روکتا۔ دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے اس مذموم کام کی فیس بک اور یوٹیوب پر لائیو کوریج کی ۔ سارے کا سارا کام نصف گھنٹہ پر مشتمل تھا ۔ یعنی ای میل کرنے سے لے کر گرفتاری تک۔ یہ نصف گھنٹہ بہت بڑی مدت ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ملک میں جہاں امن وسلامتی کے قیام کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے اور جہاں کی فوج کے پاس جدید ترین ہتھیار ہوتے ہیں وہاں نصف گھنٹے تک خون کی ہولی کھیلنے کا مقصد آخر کیا ہوسکتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سارے سانحہ کو ایک شخص کی مجرمانہ ذہنیت کا فعل قراردیاگیا اور یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ یہ سب ایک تحریک کا نتیجہ ہے۔ برنٹن نے جن لوگوں سے اس کام کے لئے تحریک پائی، وہ اس مقصد کے لئے مختلف افراد سے ملا اور کئی ممالک کا سفر کیا، یہ سب محض اس کی ذاتی انا کی تسکین یا مسلمانوں سے نفرت کی واحد مثال نہ تھا۔ اُسے مسلسل بتایاجاتا رہاہے کہ مسلمان کس قدر ظالم ہیں اور یہ کہ وہ جلد ہی دنیا کو دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے تباہ وبربادکردیں گئے۔ اس سبق نے یقینا برنٹن کے جوش وجذبات کو مہمیز عطا کی اور وہ اپنے مشن کی تکمیل میں اس قدر اندھا ہوگیا کہ اس نے اپنے جیسے لوگوں کو خوش کرنے اور مسلمانوں سے نفرت کی انتہا دکھانے کے لئے سارے عمل کی لائیوکوریج کی۔ ایسا واقعہ اس سے پہلے کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
اس واقعہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے ، کم ہے۔ اچھا ہوا کہ عالمی برادری نے بھی اس کی بھرپور مذمت کی۔ واقعہ میں 9پاکستانی بھی شہید ہوئے جن میں ایک نعیم راشد اپنے بیٹے کے ساتھ شہداءکی فہرست میں شامل ہیں جنہوںنے قاتل کو دبوچنے کی کوشش کی جسے ویڈیو میں دیکھاجاسکتاہے۔ وزیراعظم نے ان کےلئے قومی اعزازکااعلان کیا ہے۔ نعیم راشد نے اپنی جان کی قربانی دے کر صرف پاکستانیوںہی نہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں کا سرفخر سے بلند کردیا ہے کہ مسلمان موت سے گھبرایانہیں کرتا۔ دوسرا پہلو جو اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کے امن کے داعی ہونے کا بین ثبوت فراہم کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد کہیں سے بھی ، دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی ایک جگہ بھی عیسائیوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا گیا اور نہ کہیں ان کی املاک کونقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جس طرح کے بالعموم دنیا بھر میں ہوتاہے کہ جب بھی کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا الزام مسلمانوں پر عائد کرتے ہوئے ان کی جان و مال اور عزت وآبرو کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا آزادی اظہاررائے کے بڑے علم برداروں کے ہاں بھی ہورہاہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ بہت محفوظ ملک تھا لیکن وہاں بھی اب ہزاروں نہیں تو سینکڑوں برنٹن پیدا ہوچکے ہیں جن کی برین واشنگ اس نہج پر کی گئی ہے کہ مسلمان صرف اور صرف دہشت گرد ہیں اور ان کا مذہب انہیں دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ ناجانے دنیا نے یہ جاننے اور سمجھنے کی ابھی تک کوشش کیوںنہیں کی کہ اس دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ خود مسلمان ہی بنے ہیں۔ فلسطین، عراق، شام، یمن، افغانستان ، برما، نائیجریا، کشمیر، لبنان، بوسنیا، چیچنیا اور دیگر مقامات پر صرف اور صرف یہ مسلمان ہی ہیں جو مسلسل پچھلی کئی دہائیوں سے غیراعلانیہ شروع کی گئی جنگوں کا ایندھن بنے ہوئے ہیں۔ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ یہ جنگیں کس نے شروع کررکھی ہیں اور ان کامقصدکیا ہے۔ یہ جنگیں اسلحہ کی عالمی تجارت کی رہین منت ہیں اور بڑے پیداواری ملک جیسے امریکہ وغیرہ اپنے ہتھیاروں کی زیادہ سے زیادہ فروخت کے لئے ایسے اقدامات کے سزاوار ہوتے ہیں ۔
برنٹن نے اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کے لئے جن ممالک کا سفر کیا، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اپنے دورہ کے اختتام پر اس نے پاکستانیوںکی مہمان نوازی کی خوب داد دی اور لکھا کہ ایسے مخلص، ملنسار ، نرم دل اور مہمان نواز لوگ کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتے لیکن افسوس کہ اِسی برنٹن نے کرائسٹ چرچ میں 9پاکستانیوں کو بے گناہ شہید کردیا۔ اگر یہ لوگ دہشت گرد ہوتے تو برنٹن ہی کیا، کوئی ایک بھی غیر ملکی پاکستان میں کسی جگہ آزادانہ نقل و حرکت کا مرتکب نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ یہودی اور عیسائی جنونی اپنے مذموم مقاصد کے ذریعے دراصل خود دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آﺅ! مسلمانوں کو اور اسلام کو پہچانو۔ یہ لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ امن کے داعی ہیںاور یہ کہ اسلام سے بڑھ کر سچا ، کھرا اور دینی ودنیوی ضرورتیں پوراکرنے والا واحد مذہب ہے۔ ہمیں خاطر جمع رکھنا چاہیے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی ہر تحریک نے دراصل اسلام کو فائدہ ہی پہنچایاہے۔ اس ناطے بھی غیر مسلم اورمسلمانوں کے دشمن لوگ یہ جاننے کی کوشش کرنے لگتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان آخر ہیں کیا۔ اب یقینا اہل یورپ اسلام کے مزید مطالعہ کی کوشش کریں گئے۔ جس طرح نیوزی لینڈمیں ہزاروں شہریوں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے پروگرام میں شرکت کی اس طرح یورپ اور باقی دنیامیں بھی مسلمانوں کو خطرہ سمجھنے والے اب اپنے نظریات تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم دنیا سے صرف یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گرد کو صرف دہشت گرد ہی سمجھا جائے، جب ہم سمجھتے ہیں کہ برنٹن اور اس کے ساتھی دہشت گرد ہیں اور باقی لوگ معصوم تو اہل مغرب کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی مسلمان کہیں کسی واقعہ میں ملوث ہوجاتا ہے تو اس کی اس حرکت سے باقی دنیا کے مسلمان بھی دہشت گرد نہیں بن جاتے۔ یورپ میں مقیم مسلمانوں کو امن وسلامتی کے لئے خطرہ سمجھنے والوں کوبھی اپنا وطیرہ تبدیل کرناچاہیے۔
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved