تازہ تر ین

نیوزی لینڈ واقعہ‘ اصل نشانہ کون تھا؟

وجاہت علی خان….(مکتوب لندن)

15مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے وقت ہونے والے دردناک و افسوسناک واقعہ جس میں تادم تحریر 50افرادجاں بحق ہو چکے ہیں اور ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ان میں کنفرم 9پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ ماضی قریب میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں اچھوتا اس لئے تھا کہ اس میں دہشت گرد جنونی شخص نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا جس پر کیمرہ نصب کر کے اس نے یہ واقعہ فیس بک پر لائیو ساری دنیا میں نشر کیا۔ آج کی دنیا میں عموماً اس قسم کے واقعہ کا زیادہ تر الزام مسلمانوں پر ہی لگتا ہے لیکن امریکہ و یورپ کے مختلف ممالک میں کئی ایک ایسے سانحات کی طرح اس تازہ ترین واقعہ کے پیچھے بھی ایک سفیدفام عیسائی دہشت گرد ہے جس کا نام برینٹن ٹارنٹ ہے، 28سالہ اس شخص کاتعلق آسٹریلیا سے ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ اس حملہ آور کے پاس پانچ خودکار بندوقیں تھیں۔ ان کے مطابق اب ہم نیوزی لینڈ میں آتشیں اسلحہ کے ضمن میں قانون تبدیل کریں گے‘ لیکن نیوزی لینڈ کا اور دیگر مغربی ملکوں کا میڈیا اس واقعہ کو دہشت گردی کے بجائے قتل عام کیوں کہہ رہا ہے؟۔ یہ ایک باریک سوال ہے جس کا جواب مغربی میڈیا کو دینا ہو گا لیکن اس سلسلے میں سب سے بڑا سوال جو حکومت پاکستان‘ اس کے عوام اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرنا چاہئے وہ یہ کہ کیا اب نیوزی لینڈ میں انٹرنیشنل کرکٹ بند ہوجائے گی‘ کیا اب کوئی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ نہیں جائے گی؟
ایک انتہائی اہم بات جو اس سلسلے میں نظرانداز کی جا رہی ہے یہ کہ کیا یہ کام فرد واحد یا دو تین افراد کا ہے‘یا اس کے پس پردہ کوئی بڑی انتہاپسند و دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے جس نے بڑی مہارت سے اسے انجام دینے کیلئے منصوبہ بندی کی ہے۔ برطانیہ میں بھی بعض صف اول کے تجزیہ کار اس پر بات کر رہے ہیں۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق بھی نیوزی لینڈ کی حکومت بھی چند حقائق کی پردہ پوشی کر رہی ہے۔ ابھی تک پولیس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کی تحویل میں حملہ آور نے ابتدائی تفتیش میں اپنے اس ظالمانہ فعل کی کیا وجوہات بتائی ہیں۔ پولیس و حکومت یہ بھی بتائے کہ کیا حملہ آور کا مقصد فقط یہ تھا کہ اندھادھند کسی بھی مسلمان کو جان سے مارنا ہے یا یہ کہ اس کا مقصد کچھ خاص تھا؟ ممکن ہے کچھ عرصہ بعد چھپائے جانے والے یہ حقائق سامنے آئیں کہ اس قاتل یا اس کی دہشت گرد تنظیم کا حقیقتاً نشانہ دراصل بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم تھی چنانچہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے محفوظ رہنے کی واحد وجہ یہ نہیں کہ وہ کسی حکمت عملی کے تحت وہاں سے نکل آئے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ٹیم مسجد کے پاس صرف تین منٹ دیر سے پہنچی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کھلاڑی اور آفیشلز ایک پریس کانفرنس میں شریک تھے جہاں انہیں چند منٹ کی دیر ہوئی اور اسی دیر نے ان سب کی جان بچائی۔
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد مسعود کا یہ بیان مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ”جب فائرنگ شروع ہوئی تو کھلاڑیوں کی بس مسجد سے دو تین منٹ یا پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر تھی‘ بس رک چکی تھی اور کھلاڑی اتر کر مسجد جانے کیلئے تیار تھے لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اگر ہم تین منٹ پہلے مسجد پہنچ جاتے تو شاید ہماری جانیں بھی جا سکتی تھیں۔“ ٹیم کے ترجمان جلال یونس نے بھی یہی کہا کہ تمام کھلاڑی مسجد کے اندر جانے ہی والے تھے لیکن گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے ہمیں واقعہ کا بڑی حد تک اندازہ ہو چکا تھا۔ اسی طرح ٹیم کے ساتھ آنے والے ایک بنگلہ دیشی صحافی محمداسلام نے بھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس واقعہ کے وقت وہ کھلاڑیوں کے ساتھ تھا۔ اس نے بتایا کہ میں نے انہیں مسجد کی پارکنگ میں بس سے اترتے دیکھا۔ تین چار منٹ بعد ہی ایک کھلاڑی کا مجھے فون آیا کہ ”ہمیں بچائیں‘ کوئی فائرنگ کر رہا ہے“ لیکن پہلے تو میں نے اس کال کو سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن جب اس کھلاڑی کی آواز ڈوبنے لگی تو میں ان کی جانب بھاگا‘ ذرا نزدیک پہنچا تو وہاں کئی لاشیں دیکھیں۔ جب میں پارک کے نزدیک پہنچا تو کھلاڑی میری جانب بھاگ کر آ رہے تھے چنانچہ ہم سب نے بھاگ کر پارک میں پناہ لی۔ وہاں لوگ بھاگ کر جانیں بچانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن یہاں کوئی سکیورٹی نہیں تھی اس لئے ہم تقریباً ایک گھنٹہ تک اس پارک میں چھپے رہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش کی ساری ٹیم اور اس کے آفیشلز اس حملہ میں بال بال بچ گئے۔
اس اندوہناک واقعہ پر دنیا بھر کے حکمران اور اعتدال پسند عوام افسوس کا اظہار کر رہے ہیں‘ کوئی اسے ”اسلامو فوبیا“ کا شاخسانہ قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے عمل و ردعمل کی تھیوری بتا رہا ہے لیکن قطع نظر ان نکات کے سردست قابل سوچ نکتہ اس وقت یہ ہے کہ آج سے ٹھیک دس سال پہلے مارچ 2009ءکو جب قذافی سٹیڈیم لاہور کے پاس سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر حملہ ہوا تھا تو اس کے بعد مغربی ممالک کی کرکٹ ٹیموں نے سکیورٹی کو جواز بنا کر پاکستان آنا بند کر دیا تھا حالانکہ سری لنکا ٹیم اس کے بعد بھی پاکستان آئی‘ چنانچہ کیا اب پاکستان کا یہ سوال عالمی کرکٹ کے بورڈز سے یہ نہیں بنتا کہ اگر نیوزی لینڈ میں پہلے کی طرح عالمی کرکٹ ہو گی تو پاکستان اور اس کی کرکٹ کے ساتھ یہ معاندانہ اور غیرمنصفانہ رویہ کیوں؟ لہٰذا میرے خیال میں تو ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیوزی لینڈ حکومت اس واقعہ کو مسجد کے عام نمازیوں پر حملہ تو کہہ رہی ہے لیکن اسے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم پر حملہ کہنے سے کترا رہی ہے کیونکہ اس طرح اس واقعہ کی سنگینی میں دو سو گنا اضافہ ہو جائے گا اور پوری دنیا میں نیوزی لینڈ کا امیج متاثر ہو سکتا ہے‘ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ قاتل اور اسکی دہشت گرد تنظیم کو سوفیصد علم تھا کہ آج اس مسجد میں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئے گی۔ یہ شخص بالکل درست وقت پر اپنی پانچ عدد جدید رائفلز کے ساتھ مسجد پہنچ گیا‘ بنگلہ دیش ٹیم کی خوش قسمتی یہ رہی کہ وہ مسجد صرف چند منٹ دیر سے پہنچے ورنہ صورتحال انتہائی مختلف ہوتی۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر بنگلہ دیش کے آفیشلز کے مطابق وہ ایک گھنٹہ تک پارک میں چھپے رہے تو پولیس نے موقع پر پہنچنے میں اتنی دیر کیوں کی بلکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر ملکی کرکٹ ٹیم دورے پر ہو اور مقامی پولیس ان کی بس کو سکیورٹی نہ دے؟
پچھلے ہفتہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے بہت سے یورپی ملکوں کی طرح برطانیہ میں بھی ہائی الرٹ ہے کیونکہ یہاں کوئی 12لاکھ پاکستانی و کشمیریوں سمیت مختلف ممالک سے یوکے آکر آباد ہونے والے تقریباً 26لاکھ مسلمان بستے ہیں اور یہاں کم و بیش مساجد کی تعداد 18سو ہے۔ نیوزی لینڈ واقعہ کے بعد برطانوی حکومت نے انگلینڈ‘ سکاٹ لینڈ اور ویلز کی مساجد میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا ہے کیونکہ یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور گزشتہ سالوں میں مسجدوں پر سفید فام انتہا پسندوں کی طرف سے چھوٹے بڑے حملے کئے جاتے رہے ہیں۔ کرائسٹ چرچ کا حالیہ افسوسناک ایکٹ یقینا اپنی نوعیت ایک بڑا واقعہ ہے۔ اس سانحہ میں جہاں پچاس سے زائد انسانوں کی جانیں گئیں وہاںپاکستان کے اس بیانئے کو بھی ضرور تقویت ملی کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی وطن ہوتا ہے۔ اس قسم کے مذہبی جنونی کسی بھی قوم‘ ملک اور مذہب میں ہو سکتے ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی پوری دنیا کو اس نازک مسئلہ پر ایک مربوط اور کراس دی بورڈ پالیسی بنانے اور اسے اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی وہ پیمانہ ہے جسے اپنا کر ہم سب انتہا پسندٰ و دہشت گردی سے محفوظ معاشرے بنا سکتے ہیں لیکن اگر ایک دوسرے پر الزام کی پالیسی یونہی رہی‘ رجعت پسندانہ خیالات و روایات بھی بدلے نہ گئے‘ مذاہب کے سیدھے سادھے انسانیت کی بھلائی کیلئے بتائے گئے پیغام کی بجائے ایک دوسرے سے نفرت کو جلا دی گئی تو پھر مسجد ہو یا چرچ، مندر‘ گوردوارہ یا کوئی دوسری عبادت گاہ کسی کو اس ابہام میں نہیں رہنا چاہئے کہ وہ محفوظ ہے کیونکہ “اسلاموفوبیا“ نام کا ”جن“ کسی ایک مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ بدلتے ہوئے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ اپنی وفاداری بدلتا رہتا ہے کیونکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عقیدے‘ ادیان اور مت صرف اور صرف خود کو درست و مکمل خیال کرتے ہیں چنانچہ ان کے ہاں جمہوریت کی قطعی گنجائش موجود نہیں ہوتی اور پھر یہیں اسی سوچ سے فوبیا کا لفظ سر اٹھاتا ہے یہی وہ خیال ہے جس نے تاریخ انسانی میں کھوپڑیوں کے مینار بھی بنائے اور کروڑوں انسانوں کی اجتماعی قبریں بھی‘ بڑے بڑے انسانی المیوں کے بعد گزشتہ کئی دہائیوں سے بتدریج مہذب ہوتی ہوئی دنیا نے اس جن کو بوتل میں بند کر دیا تھا لیکن اگر چند مخصوص گروہوں کی کوتاہی اور عاقبت نااندیشی سے کسی فوبیا‘ کا یہ جن ایک دفعہ پھر باہر نکل آیا تو پھر کسی عظیم تباہی اور بڑے انسانی المیے کو روکنا مشکل نہیںہو گا۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved