تازہ تر ین

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اور بیچارے عوام

ضیاءالحق سرحدی….یقیں محکم
کچھ عرصہ قبل وزارت صحت کے ذیلی ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی لاپرواہی کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیوں نے غریب عوام پر میڈیسن بم گراتے ہوئے مختلف امراض کی ادویات کی قیمتوں میں 15سے200فیصد تک کااضافہ کردیا تھا جس سے غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے مارے عوام کی پریشانی میں اضافہ جبکہ علاج معالجہ کی سہولیات مشکل بنا دی گئی ہیں۔ اب حکومت کے بار بار کہنے کے باوجود کمپنیوں نے دواﺅں کی قیمت میں اضافہ واپس لینے سے صاف انکار کر دیا ہے جبکہ اس معاملے میں وہ حکومت سے مذاکرات بھی نہیں کررہے ۔صحت کے ماہرین کا کہناہے کہ بھاری منافع کمانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ بلاجواز ہے۔
خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کی ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں15فیصد اضافے کے احکامات ہوا میں اڑاتے ہوئے بعض ادویات 200فیصد تک مہنگی کر دی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے وفاقی کا بینہ کی منظوری کے بعد ادویات کی قیمتوں میں15فیصد کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 15فیصد اضافے کی قیمت کو ڈبیوں پر الگ سے تحریر کرے گی تاکہ عوام کو پہلی اور موجودہ قیمتوں کا اندازہ ہو سکے ۔ تاہم ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے احکامات ہوا میں اڑاتے ہوئے ڈبیوں پر 15فیصد اضافے کی تحریر تو درکنار قیمتوں میں200فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیسن مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق بعض جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی بے حد اضافہ کیا گیا ہے۔
ادویات کی قیمتیں پہلے ہی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر تھیں،اب قیمتوں میں مزید 200فیصد اضافے سے بدقسمت عام آدمی کے لئے علاج کرانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔موجودہ حکمران جماعت کا انتخابی نعرہ تھا کہ وہ قومی دولت عوام پر خرچ کرے گی،مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کرے گی،لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرے گی،مفت تعلیم اور مفت علاج کا نظام لائے گی،کرپشن کا خاتمہ کرے گی،رشوت اور سفارش کے کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔ تبدیلی کے ان دلکش نعروں سے متاثر ہو کر عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا،لیکن گزشتہ چھ سات مہینوں کے اندر مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس کی وجہ سے حکومت کے حامی بھی اب اس پر نکتہ چینی کرنے پر مجبور ہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری نے جہاں عام شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے وہاں مریضوں کے لواحقین کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔جان بچانے والی ادویات یوں تو ملنا ہی دشوار امر ہوتا ہے اور مریضوں کے لواحقین ان ادویات کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ادویہ ساز اداروں کی کمائی کا یہی غیر انسانی اور ظالمانہ طریقہ ہوتا ہے کہ پہلے مارکیٹ سے جان بچانے والی ادویات غائب کر دیتی ہیں اور بعد ازاں انہیں دگنی تگنی قیمتوں پر مہنگا کر کے فروخت کرکے مجبور لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہیں۔ملٹی نیشنل مافیا نے ملکی ادویہ سازاداروں کو بھی اپنی ڈگر پر ڈال دیا ہے جو ان کی دیکھا دیکھی ادویات کی قیمتیں جب چاہتی ہیں بڑھا لیتی ہیں۔2016ءمیں قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کو ادویہ ساز کمپنیوں کو ادویات کی من مانی قیمتوںمیں اضافہ سے روکنے کے لیے ایک کروڑ سے دس کروڑ جرمانہ اور تین سال کی سزا کے قانون کا مسودہ حکومت کو بھجوایا گیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔یہی وجہ ہے کہ اب ایک بار پھر حکومت کی طرف سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود ادویہ سازاداروں نے مارکیٹ سے ادویات غائب کر دی ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں فارما سیوٹیکل انڈسٹری کے مالکان کا تعلق سیاسی اشرافیہ سے بھی ہے اور سیاست اور حکومت ان ملکی اور غیر ملکی اداروں کے مہربان دوست اپنا حصہ لے کر عوامی مشکلات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ جنوری میںڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی(ڈریپ )نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیاتھا۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کی قیمتوں میں9اور 15فیصد اضافہ کیا گیا تھا،لیکن 15فیصد کی آڑ میں ادویات دوسوفیصد مہنگی کر دی گئی ہیں۔ تاہم جواز یہ گھڑا کیاگیا کہ اس اضافے کے باوجود پاکستان میں ادویات کی قیمتیں بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر قیمتوں سے کم رہیں گی۔کیا اتھارٹی عوام کو یہ بتا سکتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر عام شہری کی ماہانہ آمدن کیا ہے اور پاکستان جیسے ملک میں ایک عام آدمی کو جو کہ دس بارہ سے بیس ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے اس کا تقابل کسی دوسرے ملک کے شہری سے کیسے کیا جا سکتا ہے، جبکہ روپے کی قدر نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔دنیا بھر میں ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق مقرر کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میں اس انسانیت دوست کاروبار کو ناجائزکمائی اور لوٹ مار کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔حکومت مقامی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو فروغ ضرور دے،مارکیٹ میں مسابقانہ ماحول بھی پیدا کرے لیکن مریضوں اور ملک کے ”وسیع تر مفاد“میں قیمتوں میں ”مناسب اضافے“کا فیصلہ واپس لے۔یہ درست ہے کہ پچھلے ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں30فیصد تک اضافہ کے بعد مارکیٹ میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن اس کا اثر صرف اسی ادویہ ساز صنعت پر ہی مرتب نہیں ہوا دوسرے شعبوں میں بھی اسکے اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن ادویات کی شرح منافع سب سے زیادہ ہے۔کھانسی کا ایک شربت سو روپے سے کم کا دستیاب نہیں جس کی قیمت ایک سال قبل تیس چالیس روپے تھی ۔حکومتی ادارے ڈریپ کے لیے جان بچانے والی اورضروری ادویات کی فراہمی ایک اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لیں۔جعلی اور دونمبر ادویات کا خاتمہ کرائیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مقامی ادویہ سازاداروں کی اس لوٹ مار کے خاتمے کیلئے حقیقت پسندانہ فیصلہ کریں۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved