تازہ تر ین

پی ایس ایل کے اصل فاتح

کامران گورائیہ
پاکستان سپر لیگ کا چوتھا ایڈیشن بخیرو خوبی مکمل ہو گیا ۔اس لیگ کے چوتھے مرحلہ کا آخری 8 میچز پاکستان کے سب سے بڑے آبادی والے شہر کراچی میں منعقد ہوئے جو پوری قوم کے لیے خوشی و مسرت کا باعث ہے ۔ ہر طرف پی ایس ایل فور کی کامیابی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے‘ ہر ایک کی زبان پر پی ایس ایل کے میچز اور کھلاڑیوں کے انفرادی و اجتماعی کارکردگی کا ذکر ہے۔ پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن کی فاتح کوئٹہ گلیڈی ایٹر رہی جسے اس لیگ کے آغاز پر زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی تھی مگر اس ٹیم نے پی ایس ایل کے چاروں ایڈیشن میں حیرت انگیز طور پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کرکٹ کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لی ۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹر نے 3 مرتبہ پلے آف مرحلہ تک رسائی حاصل کی مگر اسے فائنل میں جگہ بنانے کا موقع صرف 2 بار ہی مل سکا۔ اس بار کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی جیسی بہترین اور پی ایس ایل کی سابق چیمپئن ٹیم کو چاروں شانے چت کر کے دنیا بھر میں کرکٹ کے دیوانوں کے دلوں میں منفرد مقام حاصل کیا۔ پی ایس ایل کے آٹھ میچز کا پاکستان میں انعقاد چوتھے ایڈیشن میں نا ممکن دکھائی دے رہا تھا مگر پاکستان کے سکیورٹی اداروں ، قومی کرکٹ بورڈ کی کاوشوں اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے یہ انہونی ہو کر رہی۔ پی ایس ایل فور کے آٹھ میچز کا کراچی میں کامیاب انعقاد اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ درجنوں بین الاقوامی شہرت کے حامل کھلاڑیوں ، میچ آفیشلز اور آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈ سن کی شرکت نے لیگ کو چارچاند لگا دیئے۔
گذشتہ برسوں میں پی ایس ایل کی ٹیموں میں غیر ملکی کھلاڑی صرف اورصرف دبئی ، ابوظہبی اور شارجہ میں کھیلنے پر آمادگی ظاہر کرتے تھے اور پاکستان آنے سے صاف انکار کر دیا کرتے تھے مگر پچھلے سال لاہور میں 2 سیمی فائنل اور کراچی میں فائنل کے انعقاد نے آئندہ کے لیے پی ایس ایل کے زیادہ میچز پاکستان ہی میں کروانے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس مرتبہ وہ تمام کھلاڑی پاکستان میں آئے جنہوں نے پی ایس ایل فور کے ابتدائی میچز دبئی اور ابوظہبی میں کھیلے سوائے ان کھلاڑیوں کے جو زخمی ہونے کی وجہ سے گھروں کو لوٹ گئے۔ درجنوں غیر ملکی کھلاڑیوں کا پی ایس ایل فور کے میچز کھیلنے کے لیے پاکستان آنا اس لیگ کے منتظمین قومی کرکٹ بورڈ اور مقامی شائقین کے لیے زبردست اہمیت کا حامل رہا ۔ کراچی میں ہونے والے میچز دیکھنے کے لیے نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کا رخ کرنے والے شائقین اپنے من پسند کھلاڑیوں کو ہوم گراﺅنڈ پر کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے امڈ آئے ۔ پی ایس ایل فور کے آخری 8 میچز کے ٹکٹس ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئے اور شائقین نے غیر ملکی کھلاڑیوں کے شاندار کھیل پر انہیں زبردست دادو تحسین پیش کیا۔ یوں تو پی ایس ایل فور کے آخری مرحلہ کے میچز میں تقریباً تمام غیر ملکی کھلاڑی مقامی شائقین کی توجہ کا مرکز رہے لیکن آسٹریلیا کے شین واٹسن اور ڈیرن سیمی نے میلہ لوٹ لیا۔ غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد سے دنیا بھر کو یہ پیغام گیا کہ یہ ملک امن پسند اور کھلاڑیوں سے پیار کرنے والا ہے اور یہاں کے عوام کرکٹ کے تمام پاکستانی اورغیر ملکی کھلاڑیوں سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ پی ایس ایل شروع کرنے کا کریڈٹ سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کو جاتا ہے جنہوں نے اس خواب کو تعبیر دینے میں دن رات ایک کر دیا۔ بالآخر ان کی محنت رنگ لائی اورجہاں پاکستان کو قومی کرکٹ ٹیم کے لیے پاکستان سپر لیگ سے بہت سے باصلاحیت کھلاڑی میسر آئے وہاں اسی لیگ سے ملنے والی بہت سے کھلاڑیوں نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں تاریخ ساز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو دینائے کرکٹ کا چیمپئنز بنوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فخرزمان ، شاداب ریاض، حسن علی، عثمان شنواری، فہیم اشرف، رومان رئیس سمیت بہت سے ایسے ہی کھلاڑی اس ملک کے لیے گوہر نایاب اور قیمتی اثاثہ ہیں جو اب بھی اور آنے والے دنوں میں بھی اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے ۔
پی ایس ایل کو شروع کرنے اور پاکستان میں لانے کا کریڈٹ نجم سیٹھی کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو بھی جاتاہے جن کی منصوبہ سازی کے نتیجے میں یہ لیگ پہلے پاکستان میں اور اس بار 8 میچز کراچی منعقد کیے گئے جن میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ پی ایس ایل فور کا فائنل دیکھنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی خصوصی دعوت پر آنے والے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈ سن لیگ کے انعقاد کے سلسلہ میں کیے جانے والے استقبالیہ اور سکیورٹی انتظامات کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبورہوگئے کہ پاکستان میں سکیورٹی کے حوالے سے بہت زبردست اقدامات کیے گئے ہیں‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بحالی صحیح سمت کی جانب گامزن ہے ۔ڈیوڈ رچرڈ سن نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کے بعد پاکستان کرکٹ نے ناقابل فراموش اقدامات اٹھائے ۔ انہوں نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو پاکستان کی پیروی کرنی چاہیے ۔ اسی طرح غیر ملکی آفیشلز ، کھلاڑیوں اور کوچنگ سٹاف نے بھی پاکستان سپر لیگ کے اختتام پر رخصت ہوتے ہوئے اپنے کراچی کے قیام اور یہاں پر ہونے والی میزبانی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ پاک فوج کی طرف سے بھی پاکستان سپر لیگ کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد پیش کی ۔ حقیقت تو یہی ہے کہ پی ایس ایل فور کی ٹرافی کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی ٹیم لے اڑی مگر اصل فاتح اس ملک کے عوام بالخصوص اہلیان کراچی ہیںجنہوں نے اس لیگ کو یاد گار بنانے کے لیے سٹیڈیم میں آ کر قومی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھرپور انداز سے پذیرائی کی۔ پی ایس ایل کے فرنچائز آنر بھی لائق تحسین ہیں جنہوں نے انتہائی حوصلہ مندی اور سابق قدمی سے پی ایس ایل کی شروعات اور اسے پاکستان لانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ پی ایس ایل فور میں کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی جیت کو صرف کوئٹہ گلیڈ ی ایٹرز کی ٹیم کی جیت سمجھنا کافی نہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ یہ جیت پاکستان کی جیت ہے پاکستانی عوام کی فتح ہے ،جن کے تعاون اور امن پسندانہ رویوں کی وجہ سے 9 سال کے طویل انتظار کے بعد اس ملک کے میدانوں میں کرکٹ کے میلے سجانے کی راہ ہموار ہوئی ۔ پاکستان کرکٹ کی جیت اصل میں عوام کی فتح ہے کیونکہ اس ملک کے تمام قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کو بھی عوام کا تعاون درکار تھا اور عوام نے پی ایس ایل فور کے 8 میچز کے کراچی میں انعقاد کے موقع پر جس طرح کے جذبہ خیر سگالی کا اظہار کیا اسے بھی الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ پی ایس ایل فور کے کامیاب اختتام کے بعد حکومت نے اپنے عوام کو یہ خوشخبری بھی سنا دی ہے کہ اگلے برس پی ایس ایل کے تمام میچز پاکستان میں کرائے جائیں گے۔ اس خوشخبری پر بھی پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ جنہوں نے اپنی زندہ دلی سے ناصرف قومی کھلاڑیوں کے دل موہ لیے بلکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی ناقابل فراموش یادوں کے ساتھ رخصت کیا۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پی ایس ایل کے اصل فاتح پاکستان کے عوام ہیں۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved