تازہ تر ین

نریندرا مودی کی قید میں!

مفتی عبدالقیوم منصوری۔خاص مضمون
یہ 17اگست 2003ءکی صبح تھی۔ میں ڈابھیل اپنے استاذ مولانا مفتی احمد خانپوری اور دیگر اساتذہ و طلبہ سے ملاقات کے بعد کفلیتہ پہنچا کہ صبح 10بجے میرے موبائل پر ایک کال آئی جس کا نمبر دیکھ کر مَیں بے چین ہوگیا کیوں کہ یہ نمبر پچھلے ایک ہفتے سے میرے پیچھے لگا ہوا تھا۔ ایسے آثار نظر آرہے تھے کہ کسی بھی وقت مجھے بھی پولیس کرائم برانچ کا بلاوا آسکتا ہے کیوں کہ مجھ سے قبل کئی حضرات کو کرائم برانچ میں بلایا، دھمکایا ، ماراپیٹا اور غلط مقدمات میں پھنسا دیا گیا تھا لہٰذا مجھے بھی خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ کب بلاوا آ جاتا ہے؟۔آخرکار17اگست 2003ءاتوار کے روز صبح 10بجے انھی صاحب کا فون آیا: ’بھائی تو کہاں ہے؟‘ میں نے پوچھا: ’کیا کام ہے؟‘ کہا: ’سانگھل صاحب بلا رہے ہیں‘۔میں نے کہا: ’میں پالن پور میں ہوں‘۔ جواب ملا:’تو کب آئے گا؟‘ میں نے بتایا: ’شام تک آجاﺅں گا‘،تو جواب آیا: ’پالنپور صرف دو تین گھنٹے کا راستہ ہے، تجھے اتنی دیر کیوں ہوگی؟‘، میں نے وہاں سے فوراً ڈابھیل آکر اپنے بزرگوں کو یہ بات بتائی اور دعا کی درخواست کی۔ واپسی کا سفر شروع ہوا۔ میں واپس پہنچا ۔ مسجد پہنچتے ہی کرائم برانچ کے تین چار افسران ملک صاحب کی قیادت میں مسجد میں تشریف لائے جو سارے مسلمان تھے۔انھوں نے آکر مجھ سے مصافحہ کیااور کہا: ’ہم آپ کو لینے کے لیے آئے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ’مجھے کیوں بلایا گیا ہے؟‘ انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔اس وقت میرا گھر حاجی سخی کی مسجد سے متصل ہی تھا۔ پولیس والوں کے ساتھ نکلتے ہوئے میں نے صحن سے اپنے گھر والوں کو الوداعی ہاتھ ہلایا۔ مجھے کب پتا تھا کہ یہ جدائی گیارہ برسوں کی ہے۔
بہرحال مکروفریب سے مجھے اغوا کر کے کرائم برانچ کے ایک کانسٹیبل نے اپنی موٹرسائیکل پر سوار کرلیا۔عشاءسے قبل گائیک واڈ کی حویلی، کرائم برانچ پہنچ کر پی ایس آئی محبوب ملک مجھے ایک خستہ حال عمارت کی دوسری منزل پرلے گئے۔ وہاں ایک ہال نما کمرہ تھا جہاں مَیں نے مولوی عبدالصمد حیدرآبادی اور دیگر کچھ مظلوموں کو آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھ کڑی لگی حالت میں بے بس و مجبور دیکھا۔ مَیں ان مظلوموں کو دیکھ کر اپنی فکر بھول گیا۔ مجھے وہاں ایک افسر پی آئی ماوانی کے دفتر میں بٹھا دیا گیا اور محبوب ملک نے مجھے ایک چادر دی اور کھانالاکر دیا اور ساتھ ہی اپنا دستی رومال نکال کر میری آنکھوںپر باندھ دیا۔ رات کے تقریباًگیارہ بجے ملک صاحب آئے، میرا ہاتھ پکڑ کر سیڑھی سے اتار کر نیچے لائے۔ سیڑھی اترتے ہی اے سی پی گریش کمار سانگھل کے آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹی ہٹا دی۔ وہاں سانگھل صاحب بیٹھے تھے۔ انھوں نے ملک صاحب و دیگر کو آفس سے باہر نکال دیا اور کچھ دیر تک مجھے گھورتے رہے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے اپنی زبان کو تکلیف دی اور اس طرح گفتگو ہوئی:
سانگھل: ’تجھے یہاں کیوں لائے ہیں؟‘ میں نے کہا: ’مجھے پتا نہیں ہے‘۔ سانگھل صاحب غرائے: ’سوچ کر بتا، کچھ تو ہوگا جس کی وجہ سے تجھے یہاں لایاگیا ہے؟‘ میں نے سوچا کہ شاید بواہر ہال ریلیف کیمپ کے حساب کتاب کے معاملے میں بلایا گیا ہو۔ اس لیے مَیں نے جواب دیا کہ ’ریلیف کیمپ کے حساب کتاب کے سلسلے میں بلایا گیا ہے‘۔ سانگھل نے کہا: ’اور سوچ کر بتا تُو نے کیا کیا ہے؟‘ جواب دیا: ’میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا‘۔سانگھل نے کچھ دیر گھورنے کے بعد کہا: ’حیدرآباد سے کون آیا تھا؟‘ میں نے جواب دیا: ’مولوی عبدالصمد آئے تھے‘۔ سانگھل نے اچانک پوچھا: ’لیاقت سے کیا بات ہوئی تھی؟‘ اس پر مَیں یہ سمجھا کہ لیاقت چونے والا جس سے میں اکثر ہنسی مذاق کرتا تھا۔ غالباً اس سے گفتگو کا کوئی شرارت بھرا فون ٹیپ کرلیا گیا ہے، چنانچہ یہ سوال سنتے ہی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ میری اس مسکراہٹ پر سانگھل صاحب بھڑک اٹھے اور مجھے واہی تباہی گندی گالی دیتے ہوئے اٹھ کر بے ساختہ مجھے ڈنڈے سے پیٹنا شروع کر دیا۔ کچھ ڈنڈے مارنے کے بعد کہا: ’جا، کل تجھے پتا چل جائے گا کہ تجھے ہم یہاں کیوں لائے ہیں؟‘
پھر ایک ناقابلِ بیان، بے انتہا ظلم و ستم اور وحشت و درندگی سے بھرپور غم ناک داستان کا آغاز ہوا۔ مجھے آنکھوں پر پٹّی باندھ کر دفتر میں بھیج دیا گیا۔کرائم برانچ کی یہ پہلی رات بڑی تاریک و خوف ناک معلوم ہورہی تھی۔ چھوٹا سا کیبن نما آفس، اندھیری رات اور پھر آنکھوں پر پٹی۔ گہری رات کی خاموشی میرے خوف و ہراس کو بڑھاتی رہی۔ اللہ اللہ کرکے صبح ہوئی۔ دوپہر تقریباً 12بجے مجھے لینے کے لیے ایک کانسٹیبل آگیا کہ: ’بنجارا صاحب بلا رہے ہیں“۔گرفتاری سے قبل مسٹر بنجارا کا ’نام‘ اور ’کام‘ سن رکھا تھا، دیدار18اگست 2003 ، پیرکے روز دوپہر کو ہوا۔ آفس میں لے جاکر میری آنکھوں سے پٹّی ہٹائی گئی تو کاﺅنٹر ٹیبل کے پیچھے لال داڑھی والے چشمہ لگائے ہوئے بنجارا صاحب تشریف فرما تھے۔ ان کی بائیں جانب کرسیوں پرکچھ دوسرے افسران بیٹھے تھے، جن میں سے سانگھل صاحب سے تو گذشتہ رات تعارف ہوچکا تھا۔ مجھے لے جاکر ان کے جوتوں کے پاس زمین پر بٹھا دیا گیا اور بات شروع کرنے کی ذمہ داری بنجارا نے پنے ہاتھ میں لیتے ہوئے گذشتہ رات والا سوال دہرایا کہ ’حیدرآباد سے کون آیا تھا؟‘ میں نے وہی جواب دیا: ’مولانا عبدالصمد آئے تھے‘۔ بنجارا نے کہا کہ ’ڈنڈا پارٹی کو بلاﺅ‘۔ یہ ڈنڈا پارٹی پانچ، چھے درندوں او ر وحشیوں پر مشتمل تھی۔ یہ بھوکے بھیڑیے اور وحشی خود مارتے ہوئے جب تک تھک نہ جاتے مارپیٹ اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہتا تھا، یا پھر مار کھانے والا مر جائے یا بے ہوش ہوجائے تو ہوش آنے تک یہ سلسلہ رک جاتا۔چنانچہ ڈنڈا پارٹی آگئی۔ انھوں نے آکر میرے ہاتھ میں بیڑیاں ڈال دیں۔ ایک موٹے تازے بھینسے جیسے ظالم نے تیزی سے لپک کر مجھے کمر سے دبوچ لیا۔ دوسرے نے دونوں پیر پکڑ لیے۔ تیسرے شخص نے باوجود یہ کہ میرے ہاتھوں میں بیڑیاں تھیں میرے دونوں ہاتھ کندھوں سے پکڑ کر مجھے الٹا کھڑا کر دیا اور وی ڈی ونار نے میری پشت اور کولہوں پر انتہائی درندگی سے ڈنڈے برسانے شروع کیے۔ الحمدللہ، ہرڈنڈے کی ضرب پر مَیں’اللہ اکبر‘کی صدا لگا رہا تھا۔ جب مَیں اللہ اکبر کہتا تو بنجارا صاحب نہایت گندی گالیاں بک کر کہتا کہ:’ تمھارا اللہ تمھارا ساتھ چھوڑ گیا ہے۔ دیکھ، آج ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ تمھارے پاس کیا ہے؟ اگر اللہ تیرے ساتھ ہے تو یہ بیڑیاں توڑ دے اور رہا ہوکر دکھلا دے‘۔اسی طرح وکھت دیوی ونار کا تعارف اگر مَیں ان الفاظ میں کراﺅں کہ ظلم اور ونار، ایک سکّے کے دو رخ تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑھ کرظالم شخص نہیں دیکھا۔ اس کے تعصب اور اسلام دشمنی کا اس بات سے انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ دورانِ ریمانڈ یہ جنگلی درندے کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑتا۔ مجھے لہولہان کرتے ہوئے بے ہوش کردیتا۔یہ اسلام اور مسلمانوں پر ناقابلِ بیان گندے تبصرے کرتے ہوئے مجھے اکثر کہتا کہ: ’ہماری پولیس، حکومت اور عدالتیں بے وقوف ہیں کہ مقدمات درج کرکے تم لوگوں پر فضول خرچی کرتے ہیں۔ تم مسلوں کو تو گولی مار دینی چاہیے‘۔ ونار نے کتنے ڈنڈے برسائے معلوم نہیں، آخر وہ تھک گیا اور اس کی سانس پھولنے لگی تو وہ رک گیا۔ تب بنجارا نے براہِ راست سوال کیا کہ: ’بتا ، اکشردھام مندر پر حملہ کس نے کروایا تھا؟‘ یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین سرک گئی اور کلیجہ منہ کو آگیا، زبان کانٹے کی طرح خشک ہوگئی اور پہلی مرتبہ مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا کہ مجھے کس بھیانک جرم میں پھنسانے کی سازش ہورہی ہے۔ میں نے پوری قوت سے چلّا کر کہاکہ:’خدا کی قسم!میں بالکل بے قصور ہوں اور مَیں اس معاملے میں کچھ بھی نہیں جانتا‘۔ بنجارا نے برہم ہوکر ونار سے کہا: ’مارو اسے‘۔ اس ظالم نے دوبارہ میرے کولہوں پر نہایت ہی جنون و پاگل پن سے ڈنڈے برسانے شروع کر دیے، یہاں تک کہ میرے کپڑے خون سے تر ہوگئے۔ تو بنجارا نے حکم دیا:’اس کے ہاتھوں پر مارو‘۔ پھر میری ہتھیلیوں پر اتنے ڈنڈے برسائے کہ ہتھیلیوں کا رنگ بدل گیا اور دونوں ہتھیلیاں زخموں سے چُور ہوگئیں۔ بنجارا کی نظر میرے پیروں پر پڑی تو کہنے لگا: ’دیکھو، کتنا موٹا تازہ ہے، اس کے پیروں پر ڈنڈے برساﺅ‘۔ چنانچہ ظالموں نے مجھے گرا دیا اور وہ موٹا و مکروہ شخص مجھے الٹا منہ کے بل لٹاکر میری پشت پر بیٹھ گیا، دوسرے دو لوگ میرے پیروں پر بیٹھ گئے۔ دو لوگوں نے میرے ہاتھ اور سر کو پکڑ لیا۔ پھرونارنے اسی حالت میں میرے پیروں کے تلوﺅں پر ڈنڈے برسانے شروع کیے اور برساتا ہی رہا۔ جب تھک جاتا تو کچھ دیر کو رک جاتا۔ اس کے رکنے پر بنجارا گالی دے کر کہتا: ’اور مارو، کیوں رک گئے؟‘ وہ کہتا: ’صاحب تھک گیا ہوں، تھوڑا آرام کرلوں‘۔ پیروں سے ہٹ کر پیچھے مارنا شروع کرتا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کتنی دیر تک یہ سلسلہ چلا اور مجھے کتنے ڈنڈے مارے گئے۔ میرے اندازے سے کم از کم ڈیڑھ ، دو سو ڈنڈے ضرور مارے تھے۔ آخرکار میں بے ہوش ہوگیا۔جب مَیں ہوش میںآیا تو مَیں نے پانی طلب کیا۔ پیروں کے تلوے بے شمار ڈنڈے مارے جانے کی وجہ سے بالکل زخمی ہوگئے اور ہاتھوں اور پیروں میں ورم آگیا۔ چلنا تو درکنار مَیں اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسے ہی مَیں بات چیت کرنے اور مزید مارپیٹ کے کھانے کے قابل ہوگیا تو مجھے پکڑ کر اٹھایا گیا اور اب کی بار بنجارا نے یہ کہا کہ :’مندر پر حملہ کرنے کے لیے تو نے حیدرآباد سے کسے بلایا تھا؟‘ سوال کا منشا یہ تھا گویا مَیں ہی اکشردھام مندر پر حملے کا ملزم ہوں۔ اس لیے مجھے حملہ آوروں اور سازش میں شریک دوسرے افراد کے نام بتانے تھے۔ میں نے کہا: ’مَیں بے قصور ہوں مجھے کچھ نہیں معلوم۔
ایک بار پھر مجھے پھر نہایت بے دردی سے پیٹنا شروع کیا۔ میں مار کھاتے کھاتے زمین پر گر کر نیم بے ہوش ہوگیا۔ میرے ہاتھ پاﺅں سوج کر گیند کی طرح گول ہوگئے تھے۔ میں ہاتھ، پیر اور پیچھے کی جانب بے انتہا درد کی وجہ سے سسکیاں اور آہیں بھر رہا تھا۔گذشتہ رات کی طرح یہ رات بھی خوف و اضطراب میں گزری۔ کرائم برانچ کے افسران دیر رات تین چار بجے تک ظلم و ستم کی محفلیں سجاتے، کبھی سانگھل آفس سے کسی مصیبت زدہ کی جگرخراش چیخیں بلند ہوتیں، کبھی بنجارا کے آفس سے زمین و آسمان کو رلا دینے والی آہیں سنائی دیتیں، تو کبھی ونار اور پٹیل کے دفاتر سے مظلوم و بے بس انسان کی آہ و زاری اور رحم کی بھیک و دہائی سنائی دیتی، لیکن ان آہوں پر خون آشام درندوں کی چنگھاڑ اور وحشیوں کے قہقہے غالب آجاتے تھے۔ رات بھر ظلم و ستم کا بازار گرم رہتا۔ رات میں تقریباً تین چار بجے یہ حضرات اپنے گھروں کو جاتے اور صبح گیارہ بجے واپس آتے تھے۔ بس یہ چند گھنٹوں کا وقفہ کچھ پرسکون ہوتا تھا۔ صبح گیارہ بجے افسروں کی آمد کے ساتھ ہمارے لیے ایک نیا دن، نئی مصیبتوں کے ساتھ شروع ہوتا تھا۔پورے 40روز میری آنکھوں پر پٹّی اور دونوں ہاتھوں میں بیڑیاں لگائی جاتی رہیں، حتیٰ کہ رات کو سونے کے وقت بھی ایک ہاتھ اور ایک پیر میں بیڑی لگا کر ٹیبل یا کسی بھی جالی کے ساتھ بیڑی کا دوسرا حصہ لاک کر دیا جاتا تھا۔ اس حال میں پرسکون نیند کیسے آسکتی تھی؟ تاہم، نماز، کھانا اور استنجا کے لیے ایک ہاتھ ضرور کھولا جاتاتھا۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اور درد استنجا کے وقت ہوتا تھا۔ خون و پیپ کی وجہ سے پاجامہ پیچھے سیرین سے چپک جاتا تھا کہ استنجا کے وقت زور لگاکر کھینچنا پڑتا تھا۔ بڑی مشکل سے پاجامہ چمڑی سے الگ ہوتا تو خون و پیپ بہنا شروع ہوجاتی اور اسی حال میں استنجا کرنا پڑتا تھا۔دورانِ ریمانڈ مجھے بجلی کے کرنٹ بھی دیے گئے۔ میرے ہاتھوں کی تمام انگلیوں میں کلپ لگاکر اس کے ساتھ ایک چھوٹے سے الیکٹرک (بجلی کے) مشین کے تار لگائے جاتے اور پھر اس میں ایک ہینڈل گھمایا جاتا، جس سے میرے پورے جسم میں کرنٹ اور بجلی کی لہر دوڑ جاتی۔ اسی طرح کبھی کبھی بیس بال کے ڈنڈے جیسا ایک بجلی کا ڈنڈا میرے جسم کے مختلف حصوں پر لگایا جاتا اور اس سے مجھے کرنٹ دیا جاتا تھا۔ غرضیکہ ظلم وستم کے انتہائی بھیانک طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔
(بشکریہ: ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved