تازہ تر ین

قابل قدرلوگ

ثوبیہ خان نیازی….نقطہ نظر
جوقومےں اپنے محسنوں کو فراموش کردےتی ہےں ان کا مورال کبھی بلند نہےں ہوسکتا ہے۔ عظےم قومےں اپنے ہےروز کو ہمےشہ سلام پےش کرتی اور انہےں سر آنکھوں پہ بٹھاتی ہےں۔ قدر شناسی اور احسان مندی بڑے انسانوں کی پہچان ہے۔ اﷲ کی ذات کچھ لوگوں کو مخصوص کرلےتی ہے اور پھر ان سے اےسے کام کرواتی ہے کہ وہ لوگ زمانوں ےاد رہتے ہےں، وہ سب خاص و عام کے لےے فخر بن جاتے ہےں۔جھکے ہوئے سر بلند ہونے لگتے ہےں، پستےاں بلندےوں مےں بدلنے لگتی ہےں۔ قدرت مہربان ہوتو اےسے انسان کائناتِ ارضی مےں جنم لےتے ہےںجن کی قدر کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ انہےں ان کے مقام اور مرتبے کے مطابق عزت اور اہمےت دےنا رےاست کی مجموعی ذمہ داری ہے کےونکہ ےہ لوگ اپنی عزت نفس اور خودداری کی بناءپر زےادہ تر خاموش زندگی گزارتے ہےں۔ نمود و نمائش اور بڑھ چڑھ کر بےانات دےنے سے گرےز کرتے ہےں۔
ےہاں تمام تر تمہےدکے محور و مرکز ڈاکٹر عبدالقدےر خان ہےں جو فخر پاکستا ن ہےں۔ اﷲ نے ان کے ہاتھوں سے اس ملک کو ملکِ عظےم بنانا تھا، اےٹمی طاقت کا اعزاز بخشنا تھا۔ سو اﷲ نے ان کے ذہن وقلب کو اپنے علم و حکمت سے روشن کےا اور انہےں طاقت بخشی کہ وہ ےہ کارہائے سرانجام دےں۔ ہندوستان مےں ےہ اعزا ز مسلمان سائنسدان ڈاکٹر عبدالکلام کے حصہ مےں آےا ۔ خوشی کی بات ےہ ہے کہ دونوں اےٹمی سائنسدان مسلمان ہےں۔ ہندوستانےوں نے اپنے سائنسدان کو اپنے ملک کا صدر بناےا مگر افسوس ہم نے اپنے محسن کے لےے کچھ نہےں کےا۔ میرے خیال میں انہےں کوئی بڑا حکومتی عہدہ ملنا چاہےے تھا، ان کی صلاحےتوں سے فائدہ اٹھانا چاہےے تھا، ان کے آئےڈےاز اور خےالات سے مستفےد ہونا چاہےے تھا۔ مگر ہمارے ہاں سےاستدان عصبےت پرستی، تعلق داری اور مفاد پرستی کے نشے مےں دھت ہےں۔ انہےں کچھ اور نظر نہےں آتا صرف اپنا آپ اور اپنے منظور نظر ہی دکھائی دیتے ہےں ۔ لوٹ کھسوٹ کی اس دلدل مےں اب سب چہرے بے نقاب ہورہے ہےں۔ معصوم لوگوں کو سنہرے خواب دکھا کر ان سے ووٹ خرےدنے والے اپنا مطلب نکلتے ہی کےسے نظرےں بدل لےتے ہےں۔ اب لوگوں کی سمجھ مےں آرہا ہے اور ساتھ ہی تبدےلی کے نام پہ سامنے آنے والی حکومت سے ہر خاص و عام کی توقعات بڑھتی جارہی ہےں۔ جےسے آہستہ آہستہ ہر کسی کی سُنی جائےگی۔ چند دن پہلے ڈاکٹر اجمل نےازی کے کالم سے متاثر ہوکر اِسی موضوع پر کالم لکھنے کو دل چاہا۔ جےسے مےرا بھی ےہ فرض ہے کہ مےں بھی اپنے محسن کو خراج عقےدت پےش کروں۔ ڈاکٹر صاحب نے لکھا تھا کہ عمران خان کو ڈاکٹر قدےر خان سے ملنا چاہےے۔ تو میرے خیال میں موجودہ صورتحال مےں ڈاکٹر صاحب نے ےہ بہت اچھا مشورہ دےا ہے کہ ملکی اور غےر ملکی معاملات اور مسائل پہ ان سے بات چےت کرےں۔ ان کی صلاحےتوں سے فائدہ اٹھائےں ۔ انہےں اپنا نقطہ نظر پےش کرنے دےں۔
وزےر اعظم صاحب! ڈاکٹر عبدالقدےر خان اےک انمول انسان ہےں، گوہر ناےاب ہےں ۔ اےسے انسان اﷲ کی خاص رحمت ہوتے ہےں، انہےں ضائع مت کرےں۔ آپ عقےدتوں کا پاس رکھنے والے انسان ہےں ۔ دوسروں کی صلاحےتوں سے فائدہ اٹھانا جانتے ہےں اور خدمت خلق کے جذبے سے بھی آشنا ہےں۔ ڈاکٹر عبدالقدےر خان کا نام خدمت خلق کے حوالے سے بھی کسی تعارف کا محتا ج نہےں۔ مختلف شہروں مےں ان کے ہسپتال اور سکول اپنے حصے کی شمع روشن کےے ہوئے ہےں۔ اس صاحب خےال کی روشنی کو اور پھےلانا چاہےے۔ ہر خاص و عام کی زندگی مےں روشنی ابھرنی چاہےے ۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائےں،پڑے پڑے صلاحےتوں کو زنگ لگ جاتاہے۔ جس کنوےں کا پانی لوگوں کے استعمال مےں آتا رہے وہ بہتا رہتا ہے ورنہ پانی خشک ہوجاتاہے اور وےرانےاں پھےلنے لگتی ہےں۔ ڈاکٹر صاحب کو دولت ،شہرت ےا عزت کی کوئی کمی نہےں، انہےں دنےا ڈھونڈتی ہے اور سلام کرتی ہے۔ ان کے کالموں کے انگرےزی تراجم پوری دنےا مےں پڑھے جاتے ہےں ۔ اگر کمی ہے تو ہم عام انسانوں کو گوہر ناےاب کی قدر شناسی کی کمی ہے۔ امےد ہے کہ عمران خان اس بات پہ توجہ دےں گے اور ڈاکٹر صاحب سے بات چےت کے سلسلے بڑھائےں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے دانشمند ، اہل قلم حضرات سے بھی ملکی مسائل اور بہتر لائحہ عمل کے لےے ان کے نقطہ نظر سے آگاہی حاصل کرنی چاہےے۔ ملکی ترقی کے لےے سب کی رائے معتبر ہونی چاہےے۔ ہر فورم پہ بات سنی جائے اور سنائی جائے ۔ تاکہ لوگوں کے مسائل سے آگاہی ہو اور اےک دوسرے کو سمجھنے مےں آسانی ہو۔
مےں ےہاں انجینئر ڈاکٹر فاروق (ستارہ امتےاز) کا ذکر بھی کروں گی جنہوں نے تےس سال تک ڈاکٹر قدےر خان کے ساتھ AS A Director General کام کےا ہے۔ ہمارا ملک کا اثاثہ ےہ لوگ اب رےٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہےں۔ کوئی نہ کوئی اےسا فورم ہونا چاہےے جہاںان کے تخلےقی ذہنوں سے مستفےد ہوا جاسکے۔ نوجوان ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائےںعلم و ادب سے شغف رکھنے والے ڈاکٹر فاروق کو کئی اعزازت سے نوازا گےا ہے، مگر اب وہ فارغ ہےں۔ انہےں کوئی اچھی مصروفےت دےنا حکومت کا فرض ہے۔ وزےر اعظم صاحب سے ےہ تمام گزارشات ہم اس لےے کرتے ہےں کہ وہ ذرا مختلف آدمی ہےں۔ اپنی جہدوجہد سے سامنے آئے ہےں۔ وہ موروثی سےاست کی پےداوار نہےں۔ انہےں کچھ بھی پکا پکاےا پلےٹ مےں ڈال کر نہےں ملا۔ کےنسر ہسپتال سے لےکر ےونےورسٹی تک اور پھر پاکستان کے وزےر اعظم بننے تک ان کی کوشش اور محنت سے انکار ممکن نہےں۔ اپنے محسنوں، استادوں اور دانشوروں کو قدرو منزلت دےنا انسانےت کی معراج ہے ۔عقےدت اور وابستگی کے بغےر کوئی بڑا کام نہےں ہوسکتا۔ عمدہ اخلاق اور شیریں سخن دلوں کو تسخےر کرنے کا بڑا ہتھےا رہے ۔
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved