تازہ تر ین

امید سحر اور تحریک انصاف

ملک عمر فاروق….اظہارخیال
خدشات اور خطرات کے درمیان بہت باریک فرق ہوتا ہے۔ جو خود کو مستقبل کے چیلنجوں اور خطرات کے لئے تیار نہیں کرتے وہ ہمیشہ قسمت کو دوش دیتے ہیںلیکن وہ جو حالات، واقعات اور امکانات کی روشنی میں اپنے مستقبل کی سمت پیش قدمی کرتے ہیں انھیں زندگی میں کبھی پیچھے دیکھ کر پچھتانا نہیں پڑتا۔ یہ حقیقت ہے کہ حادثہ یا سانحہ کسی کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی سنبھلنے کاموقع دیتا ہے ،سمجھدار لوگ اس کا پیشگی ادراک کر کے ہی اپنے نقصان کی پیش بندی کر لیتے ہیں۔ ہمارا ملک اس وقت جس بے چینی کا شکار ہے اس کے پس پردہ عوامل کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سمجھنے میں کوئی دیر نہیں لگتی کہ ہم نے بحیثیت قوم دانستہ طور پر اپنی ترجیحات کا تعین ہی نہیں کیا۔ نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ آج ہمارے ملک میں ہر طبقہ ایک اضطرابی کیفیت کا شکار ہے۔ اس انتشاری دور نے خاص طور پر ہماری نوجوان نسل٬ جسے اس ملک کو سنوارنا تھا، جس سے ہمارے ایک خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کے خواب وابستہ تھے‘ کو بری طرح متاثر کیا ۔ معاشرتی اور سماجی ناہمواریوں،کرپشن، بدعنوانی، رشوت، اقرباءپرروی جیسی بیماریوں نے پورے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا اور تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ۔ آج کا نوجوان ایک عجیب اضطراب میں مبتلا ہے۔ بے سمت دوڑے جا رہا ہے، پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھتا، اس خوف سے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے میں جو وقت ضائع ہو گا اس میں کوئی دوسرا آگے نہ نکل جائے۔ افراتفری کے عالم میں کسی کو اتنی سدھ بدھ بھی نہیں ہے کہ وہ کیوں دوڑ رہا ہے، اس کی سمت کیا ہے۔ پاکستان کی موجودہ نسل شاید چوتھی نوجوان نسل ہے لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں میں وہ جنون، جذبہ اور لگن پیدا نہیں کر سکے جن کی بدولت قومیں اپنی خوشحالی اور ترقی کے راستوں کاتعین کرتی ہیں۔ کبھی سوچا کہ کیا ہم دنیا کی دوسری قوموں سے کم تر ہیں، کیا ہمارے ہاں علم و ہنر کی کمی ہے، کیا ہمارے نوجوان ذہنی طور پر کمزور ہیں۔نہیں ہرگز نہیں،ایسا نہیں ہے، صرف منصوبہ بندی کا فقدان ہے، راہبروں کی چشم پوشی ہے، راستہ دکھانے والوں کا قصور ہے۔ آج اگر ہم یہ طے کر لیں کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کی اس کھیتی کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ چند برسوں کا پاکستان معاشی، معاشرتی اور سماجی میدانوں میں ایک طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے اپنا آپ منوانے کے قابل نہ بن سکے۔
آج ملک میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور حکومت کے عمومی رویہ سے تبدیلی کے آثار نظر آنے شروع ہو گئے ہیں۔حکومت کی دور رس معاشی، معاشرتی ، سماجی، سیاسی اور خارجی پالیسیوں کے حوالے سے موجودہ حکومت کی کامیابیوں کی بدولت ایک اچھے اور روشن کل کے خدوخال نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی میںعمران خان اور ان کی ٹیم نے جس خوبصورتی سے اقوام عالم کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کیا اور امن کے حوالے سے پاکستان کے موقف اور بیانیہ کو عالمی طاقتوں کے سامنے رکھا ، اس سے نہ صرف ملک کے وقار میں بہت اضافہ ہوا بلکہ پاکستان کا ایک خوبصورت امیج ابھر کرسامنے آیا ہے۔ خارجی اور داخلی حوالے سے ماضی کے حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاﺅ پالیسیوں کی وجہ سے ملک مسائل کی دلدل میں دھنس گیا تھا، بار بار باریاں لگانے والی حکومتوں نے عوام کوترقی اور خوشحالی کے کھوکھلے خواب خوشنما نعروں اور دلکش دعوﺅںکا ملمع چڑھا کر پیش کئے اور اپنی ساری توجہ صرف اور صرف ملک کے وسائل لوٹنے اورغیر ملکی بنک بیلنس بھرنے پر دی۔ان حکمرانوں نے اپنے کمسن بچے تو کھرب پتی بنا دیے لیکن پاکستان کے ہر نئے پیدا ہونے والے ہر بچے کو مقروض کر دیا۔پاکستان کا قرضوں کی شکل میںحاصل کیا جانے والا سرمایہ سے حکمرانوں کے بچوں نے قیمتی فلیٹ بنا لئے ۔ آج کا پاکستان بدلا ہوا ہے اور موجودہ حکومت ملک کی ہر سطح پر اوورہالنگ کرنے میں مصروف ہوچکی ہے اور انشا ءاللہ عمران خان کی تعمیری سوچ اور سیاست سے بہت جلدایک خوشحال پاکستان وجود میں آئے گا۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی صورت گری میںبلاشبہ نوجوانوں کا بہت بڑا حصہ ہے اور نوجوانوں کی دلچسپی اور جنون کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کل کا پاکستان انشا ءاللہ عمران خان کے ویژن کے مطابق ایک نیا اور خوشحال پاکستان ہو گا۔ آج نوجوانوں کو بہرحال ایک تحریک ملی ہے ان میں ایک امید جاگی ہے کیونکہ عمران خان کی نڈر اور بے باک شخصیت نے نوجونوں کو ایک شعو ر اور ویژن دیا ہے کہ پاکستان ہر پاکستانی کا ہے، پاکستان اس میں بسنے والے ہر شہری کا ہے ، پاکستان پر نوجوانوں، خواتین، بزرگوں اور بچوں کا مساوی حق ہے، پاکستانی کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں جنہیں جب چاہیں جہاں چاہیں ہانک کر لے جائیں، اب پاکستان کی عوام ایک باشعور قوم بن چکی ہے اور انشا ءاللہ مستقبل قریب میںپوری دنیا میں ایک ترقی یافتہ قوم کا مقام حاصل کر لے گی۔ عمران خان پوری طرح مستعد اور آنکھیں کھول کر حکومتی معاملات چلا رہے ہیں، عمران خان ملک کو لوٹنے نہیں سنوارنے آئے ہیں۔ اس ملک کو لوٹنے والے تو بہت آئے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے‘ کا راگ آلاپہ گیا لیکن ایک بات طے ہے اور نظر بھی آ رہی ہے کہ عمران خان نہ تو خود کھاتا ہے اور نہ ہی کھانے دیتا ہے۔
حالیہ دنوں میں اس کی ایک زندہ مثال ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر عمران خان کا شدید رد عمل اس بات کی گواہی د ے رہا ہے۔ تحریک انصاف کی پاکستان کو کرپشن فری ریاست بنانے کا عزم پوری آب و تاب سے جاری ہے اور پاکستان کی عوام عمران خان پر مکمل اعتماد رکھتی ہے اور پوری طرح ان کی پیچھے کھڑی ہے کہ عمران خان پاکستان کو کرپشن مافیا سے بچانے، اسے سنوارنے اور اسے پوری دنیا میں ایک باعزت مقام دلانے کے لئے بھی وہی کوشش کریں گے جو انہوں نے شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی جیسے اداروں کوکامیاب بنانے کے لئے کی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور کو عملی شکل دینی شروع کر دی ہے خاص طور پر نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور روزگار کی فراہمی کے لئے اپنی ترجیحات کا اعلان کر دیا ہے جس کا آغاز فاٹا اور قبائلی علاقوںکو ایک ارب کے پیکیج کے اعلان سے ہو گیا ہے۔ عمران خان کی کاوشوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہم سب کو بالخصوص نوجوانوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہوگا، پاکستان ہم سب کا ہے اور اسے ہم سب نے مل کر سنوارنا ہے۔
(کالم نگارمشیروزیراعلیٰ پنجاب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved