تازہ تر ین

ریڈیو پاکستان کے بکھرتے خواب

مریم ارشد……..میری آواز
آج کی جدید دنیا نشریاتی انقلاب کے عہد میں جی رہی ہے ۔ دنیا ایک گلوبل گاﺅں بن چکی ہے ےہ بات تو اب سکول میں بچوں کو مضمون کی شکل میں لکھوائی جاتی ہے۔1890 میں ریڈیو کی ایجاد ہوئی ۔ ریڈیوپاکستان براڈ کاسٹنگ کی خدمت گزاری آواز کی لہروں کے دوش پر ہوا کے سنگ سفر کرتی ہوئی بڑی تعداد میں سامعین تک پیغامات پہنچاتی ہے۔ ریڈیو پاکستان کی نشریات یعنی ریڈیو براڈ کاسٹنگ کو ”پاکستان کی آواز “ بھی کہا جاتا ہے۔ ریڈیو پاکستان بلاشبہ ہماری تاریخ کا وہ صوتی سرمایہ ہے جو ملک کے چپے چپے تک معاشی وسماجی مسائل پہ آواز اُٹھاتا ہے۔ ریڈیو کے تمام عہدے داران جن میں مختلف ڈائریکٹرز ہوتے ہیں کا تقرر حکومت ِ پاکستان کرتی ہے۔
پاکستان نظریاتی مملکت ہے اور ریڈیو نے اس نظریے کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ۔ ملک میں اہم موقعوں پرریڈیو سے خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے بڑے بے مثال فنکار پیدا کیے۔ ریڈیو کے کارکن اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ قومی ترانے کی تیاری میں ریڈیو پاکستان نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ احمدغلام علی چھاگلہ نے قومی ترانے کی بہترین دھن تخلیق کی، حفیظ جالندھری نے بول لکھے اور ریڈیوکے فنکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ریڈیونے جنگوں کے دوران ، امن کے دنوں میں، قدرتی آفات کی تباہ کاریوں میں ، عوامی تہواروں اور ہر موقع پر بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا۔عوام میں ڈرامے کا تاثر اور شوق پیدا کرنے کا سہرا بھی ریڈیو پاکستان کے سر ہے۔ دنیائے ادب کا ہر اچھا ڈرامہ ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا۔ ہماری قوم کے سماجی ، اخلاقی، نظریاتی کردارکی تعمیر و ترقی میں ریڈیو پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اگر ےہ کہا جائے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ میں ریڈیو باپ دادا کی حیثیت رکھتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔علاقائی زبانوں میں ریڈیوآج بھی اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج کی عورت جاگ چکی ہے، مزید جاگ رہی ہے لیکن دُھندلے زمانوں میں ریڈیوپاکستان نے ہی عورتوں کی خدمات کو سراہا اور ان کے لیے مختلف پروگرام نشر کیے۔ دُور دراز علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ اور وائی فائی کام نہیں کرتا وہاں ریڈیو لوگوں کو تازہ ترین حالات و واقعات سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھتا ہے۔
مارچ کے اس مہینے میں جہاں اوائل بہار کا آغاز ہے ، باغوں میں نئی کونپلیں امنگوں کی طرح پھوٹ رہی ہیں۔ بجھے ہوئے دل بھی جوش و ولوے سے بھرے ہیں۔ یوں بھی ”نیا پاکستان“ ہے اور ہم مسٹر پرائم منسٹر کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ اب آپ” نئے پاکستان“ کی بہار کا پہلا موسم دیکھنے والے ہیں۔ آپ سے امید کرتے ہیں کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ریڈیو پاکستان کو بی بی سی کی طرز پر بنائیں گے لیکن ےہاں تو عین بہار میں خزاں آگئی ۔بدقسمتی سے پی بی سی کے پاس اپنے ملازمین کی تنخواہیں ، یومیہ وظیفے اور پنشن وغیرہ ریٹائرڈ اور حاضر سروس کارکنان کو دینے کے لیے کوئی پیسے موجود نہیں۔ پی بی سی اس وقت 32براڈ کاسٹنگ ہاﺅسز ، 22میڈیم ویوزٹرانسمیٹرزاور ایک شارٹ ویوٹرانسمیٹر چلا رہی ہے جس میں سے بیشتر ٹرانسمیٹرز کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ فرسودہ ٹرانسمیٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے پی بی سی کے پاس عطیات نہیں۔ نتیجتاً اس کی downsizingکی جارہی ہے۔ اگر ریڈیو پاکستان جیسا مضبوط ادارہ سیاسی پالیسیوں کی نظر ہوجائے گااور ملازمین کو مستقل بنیادوں پر نوکریوں سے نکال دیا جائے گاتو ان کے گھروں کے چُولہے بجھ جائیں گے، بچوں کی کتابیں کھو جائیں گی، یونیفارم لٹکے رہ جائیں گے۔ اپنی ساری عمریں اور خدمات ریڈیو پاکستان کو دینے کے بعد ان بے چاروں کو تو شاید کوئی اور کام کرنا بھی نہیں آتا ہوگا۔ ”نئے پاکستان “ میں تو لوگوں کو دس لاکھ نئی نوکریاں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ لیکن یہاں نئی تو کُجا پرانی بھی چھینی جارہی ہیں۔فی الحال تو اس سارے منصوبے کو پی بی سی کے ملازمین سے خفیہ رکھا جارہا ہے کہ کہیں وہ احتجاج کے لیے سٹرکوں پہ نہ نکل آئیں ۔ مت بھولیے ریڈیو ذرائع ابلاغ کا وہ سستا ترین ذریعہ ہے جو پسماندہ علاقے کے غریبوں کی پہنچ میں ہے۔ جب ابھی نندن نے اپنا جہاز ejectکیا تو ریڈیو پاکستان نے اپنی روایت کے مطابق ےہ خبر سب سے پہلے نشر کی تھی ۔ دوسری طرف ایک اورخطرناک بات سامنے آرہی ہے کہ بھارت اپنے دوغلے پن سے نہ صرف پاکستان کے معاشرے میں نظریاتی ابہام پیدا کررہا ہے بلکہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے 7بلین روپے کی لاگت سے تمام ذرائع ابلاغ جیسے ٹی وی، اخبارات ، کتابیں ، سوشل میڈیا ،فلمیں ، ڈرامے اور ریڈیو سے پراپیگنڈ ہ پھیلارہا ہے۔ بلکہ اس زہریلی مہم میں بھارت نے پہلے ہی بلوچی ریڈیو سروس کے نام سے ملٹی میڈیا ویب سائٹ اور appکی کشتی نفرت کے سمندر میں اُتار دی ہے۔ RAWکے سینئر ارکان بلوچ کے باسیوں کو ورغلانے کے لیے جوڑ توڑ کے پروگراموںکا سلسلہ شروع کرچکے ہیںکہ بلوچی لوگ پاکستان کے خلاف اُٹھیں ۔ ےہ پروپیگنڈا اس قدر تباہ کن ہوسکتا ہے اس کا اندازہ سقوطِ ڈھاکہ میں استعمال کی گئی طرزِ کار سے لگایا جاسکتا ہے۔ذرا بھارت کے مذموم ارادوں پہ غور کیجیے کہ ریڈیو سیل سے چلنے والا وہ آلہ ہے جو کہیں بھی لے جایا جاسکتا ہے۔بھارت نے ذی سلام کے نام سے خبروں کا چینل بھی اُردو زبان میں اسی گھناﺅنے مقصد کے لیے بنایا ہے۔ کیا ہمیں نہیں چاہیے کہ ہم بھی بلوچستان اور بقیہ علاقوں کے لیے ویب ریڈیو کی app بناتے مگر ہم پہلے کی بنی ہوئی چیزوں کو ہی مختصر کرنے کے چکروں میں پڑے ہیں۔پی بی سی میں لوگوں کو مزید مراعات دینے کی بجائے ان کی وہ تنخواہیں جو 10%بڑھ گئیں تھیں وہ بھی ابھی تک نہیں دی جارہیں۔دوسرے بیوروکریسی ریڈیو کے ڈائریکٹرز کو ہٹا کر شاید اپنے من پسند لوگوں کو ریوڑیاں بانٹنا چاہ رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان کی براڈ کاسٹنگ کا رپوریشن بدترین مالی بحران سے گزررہی ہے۔ 2018-19کے بجٹ کے مطابق اخراجات4.983بلین تھے جبکہ اس پر متوقع اخراجات 5.550بلین ہیں، موجودہ خسارہ 0.567جبکہ زیرِ غور عمومی قرضہ یا بوجھ 0.728ہے۔ جمع شدہ بار 1.295ہے۔ اس خسارے کو ختم کرنا فی الوقت شاید مشکل دکھائی دیتا ہے۔ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ ملک اور ادارے قائم رہتے ہیں ۔ مسٹر پرائم منسٹر عمران خان نے بد عنوانی کے خلاف زیرو برداشت کا اظہار کیا ہے تو ان سے پُر زور اپیل کی جاتی ہے کہ ریڈیو پاکستان جیسے ادارے کو ختم کرنے کی جرا¿ت کو ختم کردیا جائے ۔ ویسے یہاں ایک سوال بنتا ہے کیا پاکستانی عوام اپنی جانوں اور خواہشوں کو بھینٹ چڑھنے سے روکنے کے لیے اپیلیں ہی کرتی رہے گی یا آپ کچھ تبدیلی لائیں گے؟
ریڈیو پاکستان اکیڈمی کو ختم کرنے کی بات بھی ہواﺅں میں گردش کررہی ہے سو اگر ےہ بند ہوگئی تو کام کیسے سکھایا جائے گا؟ کیا حکومت نہیں جانتی کہ دولت چند ہاتھوں میں چلی جائے تو معاشرے میں واضح امتیاز نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ سی بی اے کے ملازمین پہ خدارا رحم کیا جائے ۔ موجودہ ملازمین کی تنخواہوں پہ 50%کٹوتی کا آرڈر واپس لیا جائے ۔ چار ماہ پہلے وزیرِ اعظم نے سی بی اے کو چالیس کروڑ روپے دے کر ریڈیو ملازمین کے دل جیت لیے تھے تب انہوںنے کہا تھا وہ کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھائیں گے جو ادارے یا حکومت کے خلاف ہو۔ سی بی اے کے کارکنان اب پھر سے وفاقی وزیرِ اطلاعات چودھری فواد حسین کے چہرے کی جانب دیکھ رہے ہیںکہ انھیں downsizingکی بھینٹ نہ چڑھایا جائے ۔ اگر اس بے لوث ثقافتی ادارے کو privatization کی نذر چڑھایا جارہا ہے تو ریڈیو پاکستان کے کارکنان اور اس کے مداحوںکا پُرزور مطالبہ ہے اس کی شان ، سج دھج اور عظمت کو پارہ پارہ مت کیجیے کہ زندہ قومیںاپنی ثقافت کو دلوں کی دھڑکنوں میں بساتی ہیں۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved