تازہ تر ین

سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس ، بھارتی عدلیہ کا فیصلہ بڑی جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کا فیصلہ آیا ہے ایک بات واضح ہے کہ انڈین اداروں کا تضاد سامنے آ گیا ہے یہی صورتحال مقبوضہ کشمیر میں بالکل الٹ ہے مقبوضہ کشمیر میں اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ خدانخواستہ اس سے بھی کہیں چھوٹی سی بات کہ وہاں کوئی چھوٹا سا بچہ کوئی غلیل سے کوئی پتھر پھینک دے کسی پولیس والے پر اور اتفاق سے کسی فوجی ٹرک کو کنکر مار دے تو پھراس کے جواب میں جو گرفتاریاں ہوتی ہیں جو تشدد ہوتا ہے جو جیل ہوتی ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اس کے برعکس سمجھوتہ ایکسپریس جو ہے ظاہر ہے جیسی بھی تھی پولیس ان کی تحقیقات کے نتیجہ میں جو 4 مشکوک متوقع ملزم تھے ان پر مقدمہ چلا تو بھارتی عدالت نے ان کو عدم ثبوت کی بنیاد پر رہا کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس جس کا 45 سے زیادہ لوگ اس میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اس پر اگر کوئی آدمی جو تھے وہ گرفتار ہوئے تھے اب ان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ ثبوت کوئی نہیں ملے تو بندے ویسے ہی مارے گئے۔ بندوں نے اچانک فیصلہ کیا کہ وہ خودکشی کر لیں گے تا کہ کسی پر الزام بھی نہ لگے اور اگر دوچار بندے پکڑے بھی جائیں تو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر رہا کر دیئے جائیں گے اس سے ہندو انتہا پسندوں کے حوصلے اور بڑھیں گے۔ اتنے بڑے واقعہ نہ کوئی قاتل تھا نہ کسی پر الزام تھا۔ ظاہر ہوتا ہےکہ انڈیا کی عدلیہ بھی مودی سے متاثر ہو گئی ہے اور اب اس کے پاس کے دلیرانہ فیصلہ کرنے کی ہمت اور حوصلہ نہیں رہا۔ پچھلے دنوں پاکستان کے ساتھ جو کشیدگی، واقعہ ہوا۔ انڈیا کی حد تک اپوزیشن بھی دوبارہ سرگرم عمل ہوئی اور اندازہ ہوا کہ بہت سارے لوگ نریندر مودی کی سیاست سے مختلف سوچ رکھتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ الیکشن آسانی سے جیت سکے گی۔
نیویارک سے لے کر لندن کے انڈی پینڈنٹ اخبار تک جو کچھ انڈیا کی حکومت اور انڈیا کی فوج کے بارے میں کہا گیا۔ انڈین میں سنجیدہ عناصر ہی ان کی تعداد اتنی کم رہ گئی ہے کہ وہ الیکشن پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا کلیم کرنے والی ریاست بھارت ہونا تو نہیں چاہئے کہ وہاں کی اعلیٰ عدالتیں جو ہیں اس حد تک مجبور ہو جائیں کہ وہ بابری مسجد کا معاملہ ہو یا قربانی کا مسئلہ ہو یا لوگوں پر یک طرفہ طور پر مارپیٹ کا مسئلہ ہو وہ اس معاملے میں سمجھوتہ ایکسپریس کے نام پر جن لوگوں کو شکایت ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس کا نام ہی غلط ہے، انڈیا میں انتہا پسند تو اس کے خلاف ہیں۔ حالانکہ جو لوگوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ لوگوں کی رشتہ داریاں ہیں اب لوگوں کو آنا جانا پڑتا ہے بہرحال 1947ءسے پہلے یہ ایک ہی ملک تھا۔ اور اگر واقعی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی سچ کا ساتھ نہیں دے سکتے تو پھر اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ رسول کریم کا اشارہ ہے کہ ظلم سے معاشرے نہیں چل سکتے۔ عدل اورانصاف جو ہے وہی معاشروں کے زندہ رہنے کی بنیاد ہے۔ اب رجحان بن جائے گا کہ اس طرح کا کوئی کام کرو اور ہیرو بن جاﺅ۔ 100 کروڑ کی آبادی میں مذہب کے نام پر لوگوں کا جینا حرام کر دیں گے تو ہندوستان اپنے بوجھ سے خود گر جائے گا۔ اگر انڈیا میں کانگریس پہلی پارٹی تھی جو کم از کم نام کی حد تک سیکولر تھی وہ مسلمانوں کو بھی اور دوسری اقلیتوں کو بھی اپنے اقتدار میں رکھتی تھی جب سے کانگنریس کا خاتمہ ہوا ہے اور بی جے پی نے سنگل پارٹی ایجنڈا کے طور پر حکومت سنبھالی ہے اس وقت سے بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ We Dont Need Muslims Votes اب اس نعرے کے ساتھ کہ ہمیں مسلمانونں کے ووٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے تو 22 کروڑ لوگوں کی آبادی جو ہے اگر ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ان کی اسمبلیوں میں غالب اکثریت یا اپنی آبادی کے اعتبار سے اپنی مقررہ تعداد کے ارکان اسمبلی نہیں ہوں گے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت اور عوام دو الگ الگ چیزیں ہو جائیں گی۔ اور یہی فضا رہی تو علیحدگی پسندی کا رجحان بڑھتا جائے گا اور بالآخر انڈیا خود اپنے وزن سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔
سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ایک اور نامزد ملزم جو کہ اس وقت جیل میں قیدی ہیں سابق وزیراعظم نوازشریف کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا گیا۔ ایک گھنٹہ طویل پوچھ گچھ کی گئی اور کوٹ لکھپت جیل میں، شہباز شریف اور رانا ثناءاللہہ بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اب چونکہ یہ کیس اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ظاہر ہے جے آئی ٹی جو بنی ہے اس کی کوئی نہ کوئی مکمل رپورٹ سامنے آئے گی بلکہ زیادہ دیر تک اسے خفیہ بھی نہیں رکھی جا سکتی اس کو آڈٹ کرنا پڑے گا، آﺅٹ ہو گی تو بہت ساری چیزیں وہ آشکارا ہو جائیں گے دو بڑے اہم بیانات سامنے آئے ہیں۔ دونوں اگر آﺅٹ تو نہیں ہوئے لیکن دونوں کا انعقاد مکمل ہو گیا ہے یعنی شہباز شریف اور نوازشریف سے بیان لیا گیا ہے۔سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ داران کیخلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی بلکہ لیگی حکومت نے اندرون اور بیرون ملک میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں کی گئیں۔ سانحہ پر بنائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ دے گی تو تمام سوالوں کے جواب سامنے آ جائیں گے۔
بلاول بھٹو تو انکاری ہیں کہ کارکنوں کی اسلام آباد پہنچنے کی کال نہیں دی تاہم میڈیا گزشتہ رات دکھاتا رہا کہ پی پی رہنما مختلف اضلاع میں کارکنوں کو نیب ہیڈ کوارٹر کے باہر پہنچنے کا کہتے رہے۔ غیر جانبدار اطلاع کے مطابق ایک ہزار کے قریب لوگ وہاں جمع ہوئے۔ پیپلزپارٹی ماضی میں حکمران جماعت رہی ہے عوام میں اس کی جڑیں ہیں سندھ میں حکومت ہے اندازہ تھا کہ دس بیس ہزار بندے تو پہنچیں گے تاہم لگتا ہے کہ کارکنوں نے کال پر خاص ردعمل نہ دیا۔ بلاول نے جو بیان دیا ہے وہ محض الزام برائے الزام ہے۔ اندرون سندھ میں تیسرا واقعہ پیش آیا ہے کہ پنجاب کے چار محنت کشوں کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا ہے یہ واقعہ سیاست سے اگر بھی ہو سکتا ہے اور اب بھی ممکن ہے کہ بعض عناصر سندھ کارڈ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں اسد عمر اور شیح رشید نے بلاول کے ان پر لگائے الزام کا جواب دیدیا ہے اب بلاول قوم کے سامنے ثبوت پیش کر کے بات کریں کہ بیان کی صداقت سامنے آئے۔ شیخ رشید نے بلاول کے حوالے سے سیاسی قتل کی بات کی جسے 302 والا قتل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اس پر بہتر رائے کوئی قانونی ماہر ہی دے سکتا ہے۔
نیوزی لینڈ میں مقام مسلمانوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس کے بعد ان کی جذباتی تسلی اور جذبہ خیر سگالی کے تحت جمعہ کی اذان نشر کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم اسے ایسے نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہاں اسلام رائج کر دیا گیا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved