تازہ تر ین

عالمی یوم آب اور دشمن کی آبی جارحیت

اکمل شاہد ……..بحث ونظر
رواں سال ہم 23 مارچ کو ”یوم پاکستان“ جن خطرات کا سامنا کرتے ہوئے منا رہے ہیں قوم میں اُن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور جوش و جذبہ پہلے سے کہیں بہتر اور زیادہ ہے۔ بھارتی درا ندازی اور پھر اُس کے جواب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جس دلیری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ روزِ روشن میں مودی سرکار کا جنگی جنون خاک میں ملایا اُس کی دھوم پوری دنیا میں مچی ہوئی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے بزدل بھارتی فوجیوں کے پختہ بنکر پاک فوج کے نشانے پر ہیں۔ جبکہ پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کی چھپ کر وار کرنے کی مذموم کوشش ناکارہ بنا دی، رہی سہی کسر بھارتی ڈرون جاسوس گرا کر پوری کر دی گئی۔ گویا ہماری تینوں مسلح افواج حالتِ جنگ میں ہیں جس میں پوری قوم اُن کے ساتھ کھڑ ی ہے، عجیب اتفاق ہے کہ یوم پاکستان مناتے ہوئے جس ازلی دشمن پر ہماری توجہ مرکوز ہے ، 22 مارچ کو ورلڈ واٹر ڈے پر بھی اُس دشمن کی آبی جارحیت نے ہمیں شدت سے یہ احساس دلایا کہ آبی ذخائر کی تعمیر کتنی ضروری ہے، بد قسمتی سے قومی سطح پر اتفاق رائے کا فقدان ہمیں کوئی ٹھوس قدم اٹھانے نہیں دے رہا جبکہ واٹر سیکیورٹی جیسے اہم معاملے پر کوئی قومی پالیسی اور مناسب قانون تک موجود نہیں۔
اس میں کوئی کلام نہیں کہ پوری دنیا ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ تربیتی معیار کی معترف ہے اور انہیں دفاعی سازو سامان بھی جدید حربی تقاضوں کے مطابق فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی جاتی ، یہی سبب ہے کہ دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ میں کامیابی حاصل کرکے مسلح افواج نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، بحیثیت قوم ہمارے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ سپر پاور امریکا سترہ سالہ افغان جنگ میں اپنی ناکامی کا بدلہ ہم پر ڈالنے میں ناکامی کے بعد افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے جبکہ بھارت ہزار جتن کر کے بھی افغان مفاہمتی عمل میں کوئی پوزیشن حاصل نہیں کر پائے۔پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا مقصد یہ تھا کہ افغان سر زمین پر موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور جلد ہی پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام شروع ہو جائے گا، بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ بہترین قدم ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران گجرات کے قصائی نریندر ا مودی جو مسلم کُشی کے حوالے سے اب پورے بھارت کے مہا قصائی ہیں بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد اپنی خفت مٹانے کے لیے یہ واویلا کرتے رہے کہ بھارت کے پاس آج رافیل طیارے ہوتر تو صورت حال مختلف ہوتی، اُن کی جنتا تو یہ سمجھ کر بے وقوف بن گئی کہ فرانسیسی ساختہ لڑاکا طیاروں کا ذکر کر رہے ہیں لیکن مودی دراصل ”را“ فیل یعنی بھارتی خفیہ دہشت گرد ادارے ”را“ کی ناکامی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے، کلبھوشن یادو پکڑا گیا، بلوچستان ، کراچی اور فاٹا میں ”را“ کے دہشت گرد نیٹ ورک کی نقاب کشائی اور کلبھوشن کے اعترافِ جرم سے منہ کی کھائی اور پھر ونگ کمانڈر ابھی نندن کی ٹھکائی اور امن کی خیرات کے طور پر رہائی سے جگ ہنسائی نے مودی کے حواس باختہ کر رکھے ہیں۔اب مودی کو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ آخر یہ نوجوت سنگھ سدھو کہاں سے آگیا! اور اِ س پریڈ نے تو جان ہی نکال لی، جنگ کا ماحول کیسے بناﺅں ، الیکشن کیسے جیتوں ، 23 مارچ کو بھی انہی دنوں آنا تھا؟
22مارچ کو دنیا پانی کا عالمی دن اس لیے مناتی ہے تاکہ اس کی اہمیت کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا سکے اور میں صدقے جاﺅں رہبر انسانیت ، رحمتہ اللعالمین ، خاتم الانبیاءحضرت محمد کے جنہوں نے تقریباََ ڈیڑھ ہزار سال قبل پانی کی قدر و قیمت سے آگاہ فرماتے ہوئے خبردار کیا کہ ”نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے بھی پانی ضائع کرنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ اس کا بھی حساب ہوگا“۔ اب ایک طرف ہمیں بھارت کی آبی جارحیت کا سامنا ہے، اُس کی مذموم کوشش ہے کہ پاکستان کو ریگستان میں بدل دے ،ڈیم پر ڈیم بنانے کے علاوہ دریاﺅں کا رخ بدلنے کی منصوبہ بندی سمیت ہمارا دشمن ہر وہ حربہ اختیار کر رہا ہے جس سے پاکستان خشک سالی اور غذائی بحران کی لپیٹ میں آجائے۔ دفاع میں ہم کیا کر رہے ہیں ! صرف باتیں، کالا باغ ڈیم جو ہمیں اس سے محفوظ رکھ سکتا ہے اُسے سیاسی مفادات کے لیے متنازعہ بنا دیا گیا ، دیامر بھاشا اور مُہمند ڈیم کب بنیں گے کچھ پتہ نہیں، غیر معمولی موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان کا آٹھواں نمبر لیکن قوم اس کے خطر ناک نتائج سے بے خبر۔
جس مُلک میں زیر زمین قیمتی پانی کھینچ کر گھر اور گاڑیاں دھونا سٹیٹس سمبل یعنی ناک اونچی رکھنے کی علامت ہو وہاں بھارت کچھ نہ بھی کرے تو نتیجہ خدانخواستہ وہی نکلے گا جس کے لیے وہ اتنے پاپڑ بیل رہا ہے۔ ہماری مسلح افواج بیرونی دشمنوں اور داخلی سلامتی کو لاحق دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے تو قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر رہی ہیں اور کرتی رہیں گی لیکن ہم اگر خود ہی اپنے دشمن بن جائیں تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ آئیے اس مو قع پر عہد کریں کہ ہم سب مل کر گرین اور کلین پاکستان کی مہم میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیں گے، ہم زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں گے اور پانی کا ضیاع روکیں گے۔ اب کے بار آئی ایس پی آر نے یوم پاکستان کے موقع پر ایک نیا پرومو جاری کیا ہے جو کہ اچھی بات ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ دیہی علاقوں کے لوگ مقامی فنکاروں کو سنتے ہیں جو اپنی اپنی علاقائی زبانوں میں گاتے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ دیہی علاقوں میں پاکستانیت کا پیغام پہنچانے کیلئے ان فنکاروں سے اردو زبان میں ملی نغمے تیار کروا کر کروڑوں پاکستانیوں تک ملی یکجیتی کا پیغام پہنچایا جائے۔ایسے سچے فنکاروں کو ایوارڈزدینے کے ساتھ ساتھ مالی سپورٹ بھی کی جائے تو سونے پہ سہاگہ ہوگا کیونکہ یہی سچے اور دھرتی کے حقیقی رنگوں میں رچے فنکار ہوتے ہیں جنہیں کروڑوں دیہاتی لوگ سنتے ہیں اورآج بھی پاکستان کی زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved