تازہ تر ین

وزیراعظم کی پریس بریفنگ اچھی رہی ، بہتر مستقبل کیلئے پر امید نظر آئے :معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ عام طور پر جو پریس بریفنگ ہوتی ہیں ان میں ماحول بڑا کھینچا کھینچا سا ہوتا ہے مگر یہ پریس بریفنگ نہایت سادہ تھی کرسیاں جو تھیں وہ ایک دائرے کی شکل میں رکھی ہوئی تھیں اور اسی قسم کی ایک کرسی پر عمران خان صاحب آ کر بیٹھ گئے اور سوال و جواب کی نشست شروع ہو گئی سب لوگ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے پاس بیٹھے تھے اور سن سکتے تھے اور اچھے ماحول میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے نیب کے بارے میں کہا کہ نیب نے بہت بڑے پیمانے پر اتنے زیادہ کیسز کھول لئے ہیں کہ ان کے پاس نہ تو اتنا سٹاف موجود ہے نہ ہی اتنی محاذوں پر بیک وقتکام ہو سکتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہےکہ بہت سارے لوگو جو اندر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے کیسز کی باری نہیں آ رہی اور انہوں نے گورننس پر اس کا بُرا اثر پڑ رہا ہے چونکہ اکثر لوگ نیب کے خوف سے کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے کوئی فائل پر دستخط نہیں کرتا اس طرح سے سارے کام رکے ہوئے ہیں۔ یہ اچھاپوائنٹ تھا جس کی طرف انہوں نے توجہ دلائی اور ایک نیب ہی کے سلسلے میں ایک سوال کے جواب میں ایک اخبار کے ایڈیٹر نے جب ان سے کہا کہ جناب جو ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے جو چیف گرفتار ہیں ان کے بارے میں ہونا چاہئے کہ ان کی ضمانتیں ہونے چاہئے تا کہ وہ اپنا کام کریں گپہلے ہی اخباری صنعت جو ہے وہ مالی بحران کا شکار ہے اس کے جواب میں عمران خان صاحب نے کہاکہ میں نیب کے کام میں مداخلت نہیں کروں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اللہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ جو اندر بیٹھے ہوئے ہوتے وہ ان کی مدت جو ہے اس میں کافی کافی وقت گزر گیا ہے اور ابھی ان کے کیسز پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں دو دن پہلے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ نیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نیب قوانین میں ترمیم کی تجویز دی ہے میرا خیال ہے اگر نیٹ کی طرف سے یہ موو آئی تو ہو سکتا ہے کہ ترمیم سامنے آ جائے اور اگر آئینی ترمیم کے سلسلے میں کوئی موو آئی تو یقینی طور پر اپوزیشن تو بہت زوروشور سے حصہ لے گی کیونکہ اپوزیشن کی اکثریت تو خود نیب زدہ ہے اور خود حکومتی پارٹی کے لوگ اور بیورو کریسی کے بہت سارے لوگ بھی کافی دیر سے نیب کی جیلوں میں بندہیں۔ نیب کی کارکردگی پر یقینا سوالیہ نشان ہوتا ہے اور نیب کے بارے میں جس طرح عمران خان صاحب نے تجویز کیا وہ تو حود حکومت میں ہیں اگرچہ وہ نیب کے کام میں مداخلت نہیں چاہتے لیکن ان کا جنرل ریمارکس ضرور تھا کہ نیب کے پاس بہت سارے لوگ جو ہیں وہ جیلوں میں بند پڑے ہیں اور ان کی باری نہیں آ رہی اور مقدمات جو ہیں فائنل ہونے کی شکل میں سامنے نہیں آتے۔ اس طرح سے لگتا ہے کہ اگر کسی قسم کی کوئی نیب میں اصلاحات کی ضرورت ہوئی تو ان اصلاحات میں اپوزیشن بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے گی ظاہر ہے کہ اپوزیشن تو شاید سرے سے نیب کے رول کو ہی ختم کرنا چاہے کیونکہ دیکھا ہو گا کہ کل آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی پیشی کے موقع پر کہا ہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے نیب کا جو قانون تھا اس کو ختم نہیں کیا۔ مولانا فضل الرحمن، زرداری سے ملاقات کر چکے ہیں نوازشریف سے بھی ملاقات کی کوششیں کر رہے ہیں اس پر عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو ایسا مسئلہ اللہ دے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کشمیر کمیٹی کی وجہ سے ان کے پاس گاڑی بھی تھی۔ دفتر بھی تھا اور گھر بھی ملا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ کہتے ہیںکہ وہ کشمیر کی آزادی کے بارے میں انڈیا میں جا کر ایسے خیالات کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کی جو انٹرپٹیشن نقطہ نظر جو ہم سمجھتے ہیں وہ مولانا کے ذہن میں شاید اس سے مختلف ہو۔ مولانا کی کوششیں جو ہیں وہ ایک ایسی سیاسی شخصیت ہیں کہ کوئی خاص اہمیت عددی اعتبار سے ان کی پارٹی کے لوگ اتنے کم ہیں کہ ان کو ضرورت پڑتی ہے ہر وقت کہ وہ کسی نہ کسی کے لئے کام کریں اور کسی سلسلے میں کسی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بن جائیں تواس طریقے سے ان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے لہٰدا وہ اس کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک توبات یہ ہے کہ عمران خان نے ملکی معیشت پر بڑی باتیں کیں اور انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ معیشت بڑی تیزی سے اس طرف بڑھ رہی ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ صرف 50 لاکھ گھروں کی بات ہے یہ جب بننا شروع ہوئے تو اتنے روزگار ملیں گے اور اتنے کاروبار شروع ہوں گے کہ پھر بیروزگاری کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل ہو جائے گا اور جو مشترکہ منصوبے آ رہے ہیں ان کی وجہ سے بیروزگاری میں کمی ہو گی اور لوگوں کے مالی حالات بھی بہتر ہو جائیں گے تاہم انہوں نے تسلیم کیا حقیقت یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں اور مراعات باقی صوبوں سے سب سے کم ہیں اور انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اس وقت انہوں نے یہ کام کیا اور جس طرح کیا اس پر مجھے شدید تشویش ہوئی اور میں نے اپنی رائے بھی دی ہے آپ اس کو ختم کریں اور اس میں ترمیم کریں چونکہ باہر لوگ مہنگائی اور بیروزگاری میں پس رہے تھے اور یہاں لوگ تنخواہیں اور دیگر مراعات کے لئے تگ و دو کرتے نظر آتے تھے۔ انہوں نے میرے حوالے سے نام لے کر کہا کہ ضیا شاہد ہمارے ساتھ تھے اور جب ہم نے تحریک انصاف کا منشور بنایا تو ضیا شاہد ہمارے ساتھ تھے اور ان کو یاد ہو گا کہ ہم نے جو مڈل کلاس کو اوپر لانے کی بڑی باتیں کی تھیں کیں اب جو حالات ہیں وہ یہ ہیں کہ مڈل کلاس تو سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے لہٰذا اس پر جتنی زیادہ بڑھتی جا رہی ہے مہنگائی بے روزگاری جتنی زیادہ تشویش پائی جاتی ہے۔ لہٰذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس تشویش کا ازالہ ہونا چاہئے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ نئے منصوبے شروع ہوں اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو مشترکہ منصوبہ بندی ہے مشترکہ جو سرمایہ کاری ہے اس کے سلسلے میں بھی جو کام شروع ہو گا تو آہستہ آہستہ کافی فرق پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بہتر شکل دیکھ رہا ہوں۔ عمران خان نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ اس ملک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں لوگوں کی جو تعداد ہے وہ چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ جو کرٰروں آبادی کا ملک ہے بیس بائیس کروڑ جو لوگ ہیں ان کے جو سارے اخراجات ہیں وہ سات آٹھ ہزار ٹیکس دہندگان برداشت کر رہے ہیں اور جب ٹیکس نیٹ نہ بڑھایا جائے لیکن کلچر اس قسم کا ہے لوگ سوچتے ہیں کہ ہمیں کسی طریقے سے ٹیکس کے دائرے میں نہ لایا جائے اور وہ اس سے الگ رہنا چاہتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے معیشت پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی اور یہ بھی کہا کہ پچھلی حکومتیں ڈنگ ٹپاﺅ کام کرتی رہیں یہ کہا کہ پچھلی حکومتوں نے 700 ارب جو ہیں خرچ کر دیئے صرف بنیاد پر کہ روپے کی قیمت نہ کم کی جائے یعنی مصنوعی طور پر جو باہر سے لوگ پیسہ کما کر اپنے ملک کو بھیج رہے تھے اس کو یہ حکومتیں خرچ کر رہی تھیں کہ مصنوعی طور پر روپیہ کی قیمت نہ گرنے دی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور یو اے ای کے مالی تعاون سے ہمارے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں اب ہم آئی ایم ایف کے پاس جائیں تو اس کی سخت شرائط ماننے پر مجبور نہ ہوں گے۔ میں نے نشست میں ایک سوال کیا کہ ایک جانب عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں بیروزگاری اور بدحالی کا شکار ہیں اس پر مستزاد یہ دوسرے دن وزیرخزانہ اسد عمر بیان داغ دیتے ہیں کہ مہنگائی بڑھے گی عوام کا کچومر نکل جائے گا، وزیرخزانہ کو ہی اس قسم کے بیان دینے سے روکیں۔ جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ معاشی حالات واقعی سخت ہیں عوام حکومت کی جانب سے ریلیف ملنے کے انتظار میں ہیں وہ وقت جلد آنے والا ہے جب عوام کو ریلیف ملنا شروع ہو جائے گا، جب مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر عمل شروع ہو گا 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا میگا پراجیکٹ شروع ہو گا تو معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنا شروع ہو جائے گا اور اس سے غریب عوام اور ہر طبقے کو ریلیف ملے گا۔ میں نے وزیراعظم کے خالات سے اتفاق کیا اور بار بار غریب آدمی کو ریلیف دینے کی بات کی۔ طویل نشست میں 18 ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی سوال پوچھا گیا نہ ہی اس پر بات ہوئی۔ عمران خان نے آصف زرداری بلاول بھٹو، نوازشریف پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان کی جائیدادیں باہر ہیں آئے روز کسی نئی جائیداد کا پتہ چلتا ہے۔ یہ شور مچانے والے ہی اصل میں ملک کی تباہی اور مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved