تازہ تر ین

فیملی پلاننگ نہیں پاپولیشن پلاننگ

فیصل مرزا……..نقطہ نظر

چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میںبڑھتی آبادی پر کنٹرول اور فیملی پلاننگ سے متعلقہ سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے ایک اعلیٰ سطحی صوبائی ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے ۔ ٹاسک فورس کے ممبران میں صوبائی وزیر بہبودآبادی ، وزیر صحت ، وزیر ہائر ایجوکیشن، وزیرسکول ایجوکیشن، صوبائی وزیر خزانہ، وزیرپلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری بہبود آبادی، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈمیڈیکل ایجوکیشن ، ڈائریکٹر جنرل بہبودِ آبادی ودیگر افسران شامل ہونگے۔ٹاسک فورس کے فرائض میں ایک یہ بتایا گیا ہے کہ مانع حمل طریقوں کے نفاذ اوربڑھتی آبادی کی شرح پرقابوپانے کے حوالے سے اہم فیصلے لے گی اور اس ضمن میں فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ چند ماہ پہلے اردو قومی اخبارات میں سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کی ڈیٹ لائن سے ایک جلی شہ سرخی کیساتھ خبر شائع ہوئی کہ پاکستان کی آبادی 207.8ملین جبکہ برآمدات کا حجم 23.228ارب ڈالر ہے ،جو ملکی استعدادسے کہیں کم ہے ۔ خبرمیں مزیدبتایا گیا کہ سنگاپور کی آبادی 5.7ملین جبکہ برآمدات506 ارب ڈالرہے، ہانگ کانگ کی آبادی 7.3ملین ڈالرجبکہ برآمدات353ملین ڈالر،جنوبی کوریا کی آبادی 51.2ملین جبکہ برآمدات کا حجم 509 ارب ڈالرسالانہ ہے ۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی یا آبادی کی شرح اضافہ یا زیادہ آبادی ملکی وسائل پر بوجھ یا مسائل کا بوجھ نہیں ہوتی ، بلکہ باعث رحمت ہوتی ہے ۔اس ضمن میں جنوبی کوریا کی معاشی ترقی ہمارے لئے رول ماڈل ہونا چاہئے جس نے 50 ملین آبادی کو ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ 509ارب ڈالر سالانہ برآمدات کا وسیلہ بنایا ہے ۔
اس کے برعکس تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں کہ 26نومبر2018ءکوایک انگریزی اخبارمیں نیوزسٹوری ”اوورپاپولیشن ، مدر آف آور پرابلمز“شائع ہوئی۔ جس میں بتایا گیا کہ 1947ءمیں پاکستان کی آبادی 32.5ملین یعنی سوا3 کروڑتھی اور پھر 1950ئ، 1981ئ، 2002ء،2005ئ، 2009-10ئ، اور2018ءکے اعداد وشما ردیتے ہوئے ثابت کیا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح2.45فیصد سے بڑھتے بڑھتے 3 فیصد سالانہ ہوچکی ہے جوکہ انتہائی خوفناک وخطرناک شرح اضافہ ہے ،اورروزمرہ اشیائے خوردنی کی مہنگائی، بیروزگاری ، غربت ، بیماری ، بھوک ، خودکشیوں، ہرطرح کے جرائم کی بنیادی وجہ آبادی میں اضافے کا خوفناک رحجان ہے ۔
میرا سوال یہ ہے کہ آخرہمارے دانشوروں کو اور مغربی ویورپی ممالک کو پاکستان ومسلم ممالک کی آبادی میں اضافہ کی فکر لاحق کیوں رہتی ہے ؟ کیا یہ ممالک مسلم ممالک کے عوام کے رازق ہیں ؟ بقول مصنف کوئی سیاسی و مذہبی جماعت سنجیدگی سے اس اہم مسئلے کی سنگینی کی طرف توجہ نہیں دیتی، اور محض اس سے پیداشدہ مسائل مہنگائی، کرپشن، بیروزگاری کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہےں۔ درحقیقت آبادی میں اضافے کو روکنے کی کوششیں سراسر غیر شرعی وغیراخلاقی وغیرفطری ہیں،اورصرف اورصرف معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوشش ہے کہ بچے نہ پیدا کرو، باقی جو کچھ مرضی جیسے مرضی کرو،پھر نکاح کی کیا ضرورت ۔ جب صنفی ضروریات ویسے ہی پوری ہوجانی ہیں۔کیا یہ خاندانی نظام کے خاتمے کی مذموم کوشش نہیں ہے ۔
ذرا سوچئے کہ اگر آبادی بڑھنے کی رفتار واقعی کم ہوجاتی ہے اور منفی ہوجاتی ہے اسرائیل، ویٹی کن سٹی کی طرح ،تو پھر کیاہمارے ہاں ہیومن ریسورسزکی کمی نہیں ہو جائیگی؟ تصورکی آنکھ سے دیکھیں ایک فیکٹری یا سرکاری دفتر میں کام کرنیوالے والے تمام افراد 60 سال کی عمر میں ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں ، اور مزید ہمیں متعلقہ قابلیت اور مطلوبہ تعداد کے مطابق افرادی قوت نہیں میسر آتی تو کیا ہم باہر سے منیجر، سی ای او، کلرک، مزدورایکسپورٹ کرینگے؟ ۔ہمیں غیرجانبدار ہوکر پوری دنیا کی آبادی پر ایک نظر ڈالنی چاہئے ۔اقوام متحدہ کے مطابق آبادی کے لحاظ سے 233ممالک کی ایک فہرست میں چین سرفہرست ہے ، بھارت دوسرے ، امریکہ تیسرے ، پاکستان چھٹے نمبر پر ہے اور233ویں نمبر پر جنوبی یورپ کا ایک ملک ”ہولی سی“نامی ایک چھوٹاسا ملک ہے جسے دنیا ویٹی کن سٹی کے نام سے جانتی ہے ۔ جس کی آبادی 801 ہے اور اسکا رقبہ 0.44 مربع کلومیٹر ہے ،کرنسی یورو ہے، یہ رو م کے اطالوی دارالحکومت کے اندر اور دنیا کے سب سے بڑے کیتھولک چرچ کا مرکز ہے ۔اسکابجٹ دنیا بھرمیں پھیلے ہوئے رومن کیتھولک چرچ تنظیم کے تقریباً ایک ارب ارکان کے رضاکارانہ چندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ کی آبادی عالمی اعداد وشمار کے مطابق 2010 ء میں 309.3 ملین،2017ءمیں بڑھ کر 325.7 ملین ہوگئی ،اورآج 2018 ء میں 327.16ملین ہوچکی ہے ، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ امریکہ میں آبادی بڑھنے کی رفتار کس قدر تیز ہے ۔مگر اسے فکر نہیں کیوں ….کیونکہ اسکا رقبہ بڑا ہے، وسائل زیادہ ہیں، اسے ترقی کیلئے ہیومن ریسورسز کی ضرورت ہے ….!!!
عالمی ادارے ورلڈومیٹرڈاٹ انفوکی ویب سائٹ پر شائع تازہ ترین اعداد شمارپر نظرڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جن ممالک میں رقبہ بہت زیادہ ہے،وہاں رقبہ کی نسبت آبادی بہت کم ہے، جیساکہ روس ہے۔جبکہ ترقی یافتہ مہذب ممالک نے آبادی کی کثافت(Density) کو کنٹرول کرلیا ہے ،بہ نسبت تیسری دنیا کے ترقی پذیر غریب ممالک کے جن میں بھارت ،بنگلہ دیش، فلپائن شامل ہیں۔میرے خیال میں جاپان اور یورپی ممالک کی ترقی کا راز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے وسائل آبادی میں اضافے کو کنٹرول پر ضائع کرنے کے بجائے آبادی کو ہیومن ریسورسزکے ذریعے ترقی کے ہتھیار Tool کے طورپر استعمال کرتے ہوئے وسائل پیداوار کی منصفانہ تقسیم ،میرٹ وقانون کی حکمرانی کویقینی بنایا ہے اور صحت وتعلیم کی سہولتوں کی ٹھوس منصوبہ بندی کی ہے ۔ لہٰذا ہمیںبھی پاکستان میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے بجائے آبادی کی پلاننگ کی ضرورت ہے ۔ یعنی فیملی پلاننگ نہیں، پاپولیشن پلاننگ کی جائے ۔ اور آبادی کو ترقی کے ایک ہتھیار Toolکی حیثیت سے استعمال کیا جائے ۔ ہمارے نزدیک ترجیحات فیملی پلاننگ کے ذریعے افرادکی نجی زندگی میںمداخلت کرتے ہوئے انہیں فیملی کم کرنے یا محدود ترکرنا نہیں ہونا چاہئیں،بلکہ اصل ترجیحِ اوّل ریاست اور حکومتی اداروں پر سارازورڈالنا چاہئے کہ وہ رقبہ، پہاڑوں،دریا،سمندر، موسم جیسے قدرتی ذرائع، مالی وسائل، انسانی وسائل کی مﺅثر پلاننگ اس طرح کریں کہ تمام ملک کے شہریوں کو رہائش، تعلیم ،صحت،تفریح ،روزگار، خوراک، لباس جیسی بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ ملائشیا میں ایک دورہ کے دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ اس ملک میں پہاڑوں کو اس طرح مصرف میں لایا گیا ہے کہ ان پر پام کے درختوں کو اگایا گیا ہے اور ملائشیا 4.49ملین ہیکٹر زمینی رقبہ پر یہ فصل کاشت کر کے 17.73ملین ٹن پام آئل اور 2.13ٹن پام کرنیل آئل پیدا کر رہا ہے جو کہ ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،جبکہ پاکستان میں بشمول آزاد کشمیر کے علاقوں کے پہاڑی رقبہ ملائشیا کے نسبت بہت زیادہ ہے جو کہ پلاننگ سے پاکستان کی معیشت کی مضبوطی کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور تحریک انصاف کے ایک کروڑ نوکریوں کے وعدہ کی بھی کافی حد تک تکمیل ہو سکتی ہے۔
یاد رکھیں کہ آج کسی بھی مہذب ،جمہوری،ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ریاست میں جمہوری،عوامی حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے یا ہونی چاہئے کہ عوام کی قوت ِ خرید کوایک معقول ومتعین معیارِ زندگی کی سطح پر برقراررکھا جائے ،جس میں زندگی و موت کا نہ صرف رشتہ باآسانی برقرار رکھا جاسکے ، بلکہ بچوں کا مستقل وشادی بیاہ جیسے معاملات غیریقینی کا شکار نہ ہوں۔ ایک بہترین آئیدیل فلاحی ریاست میں تو عوام کی تعلیم ،صحت، رہائش ،شادی بیاہ ،روزگار ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔تاہم آج کل کے دور میں ریاست کے فرائض میں پہلی ذمہ داری عوام کی قوت خرید کوبہتر رکھنا ہونا چاہئے۔اس کے بعد اس کا فرض ہے کہ وہ اوپر سے لیکر نیچے تک کرپشن کے لیول وشرح کو بتدریج کم کرتے ہوئے صفر پر لائے۔ اسکے لئے شاہانہ حکومتی وسرکاری اخراجات ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس کے بعد حکومت ِ وقت کا فرض ہوتا ہے کہ پاپولیشن کے زیادہ سے زیادہ مستنداور تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق وسائل ومسائل کی طلب و رسد کی فہرست مرتب کرکے مربوط پلاننگ کے ساتھ کام کرے ۔ ملک کی تمام زمینوں کا ریکارڈ رکھ کر فصلوں،پھلوں، سبزیوں ،ڈیری فارمنگ، پولٹری فارمنگ، فش فارمنگ وغیرہ کے پیداواری،مارکیٹنگ،برآمدی اہداف متعین کرنے ہوں گے۔ تبھی ہم آبادی کو ترقی کا ہتھیار بناسکیں گے، ورنہ بصورت دیگر واقعی یہ آبادی کا بے ہنگم و بے ربط سمندر ہمیں لے ڈوبے گا،اگر ہم نے اس کے آگے بند باندھ کر مختلف جگہوں سے اسکی نکاسی کا انتظام نہ کیا تو۔ جبکہ بڑے شہروں پر آبادی کا دباﺅ کم کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے نئے شہر بسانا بھی انتہائی ضروری ہوچکا ہے۔نت نئی ہاﺅسنگ اسکیموں کو ریگولرائزاور ملکی قوانین کے دھارے میں لانے کی ضرورت ہے ۔
اس ضمن میں اسلام کا نظام حکومت وسیاست اور فلاحی ریاست کا عملی تصور خلافت کی شکل میں ہماری بہترین رہنمائی کرتا ہے ۔ کہ ہمارے ہاں سودجیسے استحصالی برائی کی قطعاًکوئی گنجائش نہیں، اسرائیل نے بھی داخلی طور پر سود ی نظام پر مکمل طور پر پابندی عائد کررکھی ہے کہ کوئی یہودی کسی یہودی سے سودی لین دین نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰة اور وراثت کی شکل میں ہمیں بہترین معاشی نظام عطا کیا ہے جس کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی انکم ٹیکس، سیلزٹیکس وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی ۔ سالانہ سونے یا چاندی کی مخصوص ومتعین مقدار کے مطابق منقولہ وغیرمنقولہ جائیدادیا رقم ضرورت سے زائدسرمایہ کاری وغیرہ کیلئے ہو تو اس پورے مال کی کل مالیت کا صرف اڑھائی فیصد صدقہ سال میں صرف ایک دفعہ ادائیگی کرنا زکوٰة کہلاتا ہے ، اسی سے ایک اسلامی ملک کے ذرائع آمدنی خاطر خواہ حد تک بڑھ سکتے ہیں۔ باقی ہر شعبہ ہائے زندگی یا ادارے کی کل آمدنی سے بھی اسکے اخراجات اداہوسکتے ہیں، اور اس میں کام کرنے والے ورکروں ،افسروںکی انکی قابلیت کے مطابق جائز تنخواہوں،مراعات کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ آبادی کی موثر پلاننگ کیلئے جہاں کرپشن اور شاہانہ اخراجات کنٹرول کرنا ضروری ہےں، وہاں سادگی، صحت وصفائی ،شرم و حیا کے اصولوں کو فروغ دینا ازبس ضروری ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے کہ ”جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں میںفحاشی، بے حیائی پھیلےئ، وہ دنیاوآخرت میں دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔“ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ فیملی پلاننگ کے بجائے پاپولیشن پلاننگ کی جائے اور ملکی آبادی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان سے ملکی تعمیر وترقی کا کام لیا جائے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved