تازہ تر ین

نریندرمودی کی لغزشوں کی داستان

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد

ایک نیا مسئلہ، نریندر مودی کی حکومت منی لانڈرنگ میں بھی ملوث پائی گئی۔کروڑوں روپے کے کرنسی نوٹ فوجی جہازوں میں بھر کر انڈین انٹیلی جنس ایجنسی ” را “کی مدد سے ملک میں لائے گئے، کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ خبر ہوتی بھی تو کیسے، خبر رکھنے والے، نظر رکھنے والے، سب کے سب اس حمام میں ننگے تھے۔ الیکشن کے زمانے میں نریندر مودی کچھ اس طرح مسائل کے گڑھے میں دھنستے چلے جارہے ہیں کہ بچاﺅ کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔یہ منی لانڈرنگ والا معاملہ بھی سامنے آگیا۔ جھوٹ ، غلط بیانی، دھوکہ دہی، فراڈ، غرضیکہ نریندر مودی کی لغزشوں کی داستان کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔اور ان کیلئے اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ کہ ان کے اپنے ووٹر ان کی کسی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔نریندر مودی شور مچا مچا کر تھک گئے کہ بھارتی ائر فورس نے گذشتہ فروری میں پاکستان کا ایک ایف سولہ طیارہ مار گرایا تھا لیکن کسی نے ان کی بات کو تسلیم نہیں کیا۔ دنیا ثبوت مانگتی رہی مگر ثبوت ہوتا تو سامنے آتا۔ پاکستان کے پاس تو ابھی نندن تھا، جیتا جاگتا، چائے پیتا ، باتیں کرتا ثبوت، پاکستان کو اپنی بات منوانے کے لیے کہیں بھی شور نہیں مچانا پڑا، یہی کچھ کلبھوشن کے معاملے میں بھی ہوا۔نریندر مودی کے حواری کہتے رہے کہ کلبھوشن ہمارا نہیں لیکن کلبھوشن کہتا رہا کہ وہ بھارت کا ہی ہے، وہ آج بھی اپنی اسی بات پر مصر ہے کہ اس کا تعلق بھارتی نیوی سے ہے اور یہ کہ وہ را کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے بلوچستان میں فرضی اور جعلی شناخت کے ساتھ موجود تھا۔اب نریندر مودی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے الیکشن کی فکر کریں، ابھی نندن کو سنبھالیں یا پھر کلبھوشن کو بچائیں یا پھر منی لانڈرنگ کے پیسوں کا حساب دیں، اور ان تمام مراحل سے بچ کر نکل بھی جائیں تو پلوامہ میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کے لواحقین کو کیسے مطمئن کریں جو اب کھل کھلاکر میڈیا پر یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو مودی نے قتل کروایا ہے۔ معلوم نہیں بھارت میں ہماری نیب جیسا کوئی باریک بین ادارہ ہے یا نہیں کہ جو نریندر مودی کے گلے میں رسی ڈال سکے۔
دلچسپ بات یہ کہ بھارتی فضائیہ کے ایک ائیر وائس مارشل آر جی کے کپور نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کی اور میز پر مکا مارتے ہوئے وہاں موجود میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ونگ کمانڈر ابھی نندن نے اپنے مگ 21بائسن طیارے سے اپنے تعاقب میں آنے والے پاکستان کے دو ایف سولہ طیاروں میں سے ایک کو مار گرایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے پاس اس واقعے کے نہایت ٹھوس شواہد موجود ہیں جنہیں وقت آنے پر دنیا کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ ائیر وائس مارشل نے اس پاکستانی ایف سولہ کی ایک تصویر بھی میڈیا نمائندوں کے سامنے پیش کردی جس پر صحافیوں نے فورا ًہی اعتراض کردیا کہ مذکورہ تصویر کسی اورپاکستانی ایف سولہ طیارے کی فائل فوٹو ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ اگر ابھی نندن نے پاکستان کو اتنا بڑا نقصان پہنچایا تھا تو پاکستان نے اسے عزت آبرو سے اپنے گھر جانے کی اجازت کیسے دے دی۔
حقیقت حال یہ ہے کہ الزام لگانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے اور جھوٹے الزام کو سچ ثابت کرنا مشکل ترین کام ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ الزام لگانا ہمیشہ کمزوروں کا شیوہ ہوتا ہے، طاقت ور الزام نہیں لگایا کرتے۔نریندر مودی نے الزام لگایا کہ پلوامہ واقعہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا کیا دھرا ہے لیکن ان کے اپنے ہی ملک میں باشعور صحافیوں نے اپنے سوالات اور اعتراضات کی بوچھاڑ سے نریندر مودی کے اس بھونڈے الزام کو بے سرو پا ثابت کردیا۔کلبھوشن کی ماں اور بیوی کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کلبھوشن سے ملاقات کا موقعہ فراہم کیا تو نریندر مودی کے حواریوں نے الزام لگادیا کہ کلبھوشن کی ماں اور بیگم کو اذیت دینے کے لیے ان کا لباس تک تبدیل کروادیا گیا، ابھی نندن سے پاکستان نے حسن سلوک کیا، پاکستانی فوجیوں نے اسے مقامی لوگوں کی مار پیٹ سے بچایا، اچھا کھانا دیا، عزت کی رہائش دی اور پھر نہایت احترام کے ساتھ اسے اس کے ملک روانہ کردیا لیکن نریندر مودی کے ساتھیوں نے دنیا بھر میں ابھی نندن کے ساتھ سختی اور ظلم کی داستانیں عام کردیں۔ دنیا بھی بڑی سیانی ہے،لوگ یہ ساری داستانیں مزے لے لے کر سنتے رہے لیکن کسی ایک نے بھی ان داستانوں کو سچ تسلیم نہیں کیا۔اب ایک بار پھر پاکستانی ایف سولہ کو مار گرانے کا شور کیا جارہا ہے۔پاکستان نے ایف سولہ لڑاکا طیارے امریکا سے خریدے تھے۔ ان کی کتنی تعداد ہے اور یہ کہ انہوں نے اب تک کتنی پروازیں کی ہیں، یہ سب باتیں پینٹاگون کے ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہیں۔یہاں یہ سچائی بھی پیش نظر رہے کہ پاکستان اور امریکا کے عسکری مراسم جیسے بھی رہے ہوں، پینٹاگون میں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو پاکستان اور پاکستانیوں کو معمولی سا بھی پسند نہیں کرتے۔ اگر نریندر مودی کے دعوے میں رتی برابر بھی سچائی ہوتی تو پینٹاگون میں موجود بھارت کا کوئی نہ کوئی خیر خواہ بھارتی حکومت کے اس بے بنیاد دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی بیان ضرور جاری کر دیتا۔ مذکورہ الزام کے حوالے سے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور پینٹا گون کی سناٹا نما خاموشی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ مودی سرکار نے ایف سولہ طیارہ گرانے کا صرف خواب ہی دیکھا ہے اور وہ بھی دن میں۔
جہاں تک بھارتی ائیر وائس مارشل آر جی کپور کی بے جان اور پھسپھسی پریس کانفرنس کا تعلق ہے تو وہ کانفرنس تو اصل میں بھارتی ریٹائرڈ جنرل سید عطا حسنین کے توصیفی بیان کا جواب تھی جو انہوں نے افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے گذشتہ دنوں جاری کیا تھا۔ جنرل عطا نے یہ توصیفی کلمات اس وقت ادا کیے جب وہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع مقبوضہ کشمیر میں جمہوریت اور دہشت گردی تھا۔جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر اس وقت افواج پاکستان کے نکتہ نظر کو جس مہارت اور کامیابی سے دنیا بھر میں پہنچارہا ہے اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ آئی ایس پی آر ایک بہترین کام کرنے والا ادارہ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام عالم کے ذہنوں میں زندہ رکھنے کا ایک بڑا کریڈٹ آئی ایس پی آر کو جاتا ہے۔۔یاد رہے کہ جنرل سید عطا حسنین چند برس پہلے جموں کشمیر میں تعینات 15کور کے کمانڈر رہے ہیں اور کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے ہر گوشے سے بخوبی آشنا ہیں۔آئی ایس پی آر کے بارے میں انہوں نے جو اعترافات کیے، یقینا ایسے اعترافات کے لیے بہت بہادری اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس حق بیانی کا جنرل صاحب کو یہ نقصان ہوا کہ بی جے پی کے لوگوں نے ان پر بھی آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہونے کا الزام دھر دیا۔ یہ الزام بھارت میں ہر اس شخص پر لگادیا جاتا ہے جو پاکستان کے بارے میں معمولی سی بھی اچھی بات کردےتاہے۔
سر دست سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارتی انتخابات خیرو خوبی کے ساتھ تکمیل کو پہنچ جائیں۔ان انتخابات کے مکمل ہوتے ہی بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزامات کی بارش بھی کچھ تھم جائے گی،لائن آف کنٹرول کے گرد رہنے والے بھی تھوڑا سکون کا سانس لیں گے اور بھارت کی نئی سیاسی انتظامیہ کو جنگ و جدل سے نکل کر یہ سوچنے کا موقعہ ملے گا کہ سی پیک جیسے عظیم الشان تعمیراتی منصوے کے ثمرات سے بھارت کیسے مستفیض ہوسکتا ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved