تازہ تر ین

بد قسمتی سے انصاف پارلیمنٹ کی ترجیح نہیں ، انتظامیہ کیساتھ مل کر بہتری لانا ہو گی : چیف جسٹس

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے عدالتوں میں زیر التواءمقدمات کو نمٹانے کی رفتار پر اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال عدالتوں نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے ،ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے،سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ،بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں ،پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی،عدالتی فیصلوں میں ” تاخیر“کو ٹارگٹ کرکے ختم کرنا ہے ، دو ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانا لازمی ہے، انسداد دہشتگردی قانون دیکھیں تو چوری اور زناءبھی دہشتگردی ہے،مقدمات کے فوری فیصلے کرنے والے ججوں کو سیلوٹ کرتا ہوں، ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کیخلاف کارروائی ہوگی، ججز سماعت کیساتھ ہی فیصلہ لکھنا شروع کر دیں،ساتھ ساتھ فیصلہ لکھا جاتا رہے تو دلائل مکمل ہوتے ہی فیصلہ بھی تیار ہوگا، ماڈل کورٹس کے ججز کا کردار ناقابل فراموش ہے، ایک ماہ بعد ماڈل کورٹس میں ایک ایک ججز کا اضافہ کرینگے۔ ہفتہ کو وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں فوری فراہمی انصاف کے حوالے سے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ جج بنا تو پہلے دن سے ہی مشن تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلے کیے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ بار میں وکلاءمجھے اور ساتھی ججز کو جنون گروپ کہتے تھے۔ انہوںنے کہاکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرے ۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کیلئے کئی تجربات کیے گئے۔ انہوںنے کہاکہ کبھی قانون میں ترمیم کبھی ڈو مور کی تجویز دی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ ججز کو ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے ،ہمارے ججز جتنا کام کر رہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی نہیں کرتا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں مجموعی طور پر تین ہزار ججز ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال عدالتوں نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے ،ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے۔چیف جسٹس نے کہاکہ امریکی سپریم کورٹ سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ برطانوی سپریم کورٹ سالانہ 100 مقدمات کے فیصلے کرتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستانی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 26 ہزار مقدمات نمٹائے ۔انہوںنے کہاکہ فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات کو کم کرنا ہے۔انہوںنے کہاکہ قانون کہتا ہے فوجداری کیس کی تحقیقات دو ہفتے میں مکمل ہوں ۔انہوںنے کہاکہ دو ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانا لازمی ہے۔انہوںنے کہاکہ چالان جمع ہونے کے بعد عدالت کا کام ہے کیس کا شیڈیول بنائے ۔انہوںنے کہاکہ برطانیہ میں آج بھی کیس دائر کریں تو سال بعد کی تاریخ ملتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ برطانیہ میں جب کیس لگ جائے تو پھر التواءنہیں دیا جاتا ۔انہوںنے کہاکہ ٹرائل کورٹ میں التواءکا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ ماڈل کورٹس میں گواہان پیش کرنے میں پولیس کا تعاون مثالی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کیخلاف کارروائی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ فورنزک لیب ماہرین بھی عدلیہ کیساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں ،سماعت سے پہلے تمام متعلقہ مواد عدالت میں موجود ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ تاخیر کو ٹارگٹ کرکے ختم کرنا ہے ،مقدمات کے فوری فیصلے کرنے والوں کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کوئی قانون تبدیل کیا ہے نہ ہی ضابطہ کار تبدیل کیا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتی جائزہ سے پہلے بہتر ہوگا پارلیمنٹ ایسے قوانین کا جائزہ لیں۔ انہوںنے کہاکہ جائیداد کے تنازعات کے فیصلے پولیس رپورٹس پر ہوتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کیا پولیس کا کام ہے کہ فریقین کے حقوق کا تعین کرے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ سول مقدمہ میں پولیس کے کردار کا قانون سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوںنے کہاکہ اٹارنی جنرل کے ذریعے معاملہ حکومت کے نوٹس میں لائے ۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کا جائزہ لے ۔انہوںنے کہاکہ انسداد دہشتگردی قانون دیکھیں تو چوری اور زناءبھی دہشتگردی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عدالت نے دہشتگردی دفعات کا جائزہ لینے کیلئے لارجر بنچ بنایا ،لارجر بنچ کا فیصلہ محفوظ ہے اس لیے اس پر بات نہیں کروں گا ۔انہوںنے کہاکہ یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ انسداد دہشتگردی کے قانون کو آسان بنائے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ججز سماعت کیساتھ ہی فیصلہ لکھنا شروع کر دیں۔ انہوںنے کہاکہ ساتھ ساتھ فیصلہ لکھا جاتا رہے تو دلائل مکمل ہوتے ہی فیصلہ بھی تیار ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ اعلیٰ عدلیہ ہر سماعت کا مکمل حکمنامہ لکھواتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ساتھ ساتھ لکھا جائے تو سماعت مکمل ہونے کے اگلے ہی دن حتمی فیصلہ آ سکتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ ماڈل کورٹس کے ججز کا کردار ناقابل فراموش ہے۔انہوںنے کہاکہ ایک ماہ بعد ماڈل کورٹس میں ایک ایک ججز کا اضافہ کرینگے۔انہوںنے کہاکہ کوشش ہوگی نئی ماڈل کورٹس سول مقدمات کی ہوں۔انہوںنے کہاکہ پہلے مرحلے میں فیملی اور کرایہ داری مقدمات نمٹائے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ تمام ججز ماڈل کورٹس کے ججز بن جائیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مقدمات کا وقت مقرر کرنے سے انصاف کا حصول آسان ہوگا، کسی وجہ سے وکیل کے پیش نہ ہونے پر جونیئر کو مقرر کیا جائے گا، مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا، کیمیکل ایگزامینر اور فرانزک اتھارٹیز کی رپورٹس کو مقررہ مدت پرپیش کرنےکو یقینی بنانا ہوگا۔نجی ٹی و ی کے مطابق جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیاگیا، بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔انہوںنے کہاکہ عدالتی قوانین واضح ہیں بس انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، انسداد دہشتگردی ایکٹ سمجھنے کے لیے قانون میں تعارف موجود ہے، قوانین میں ابہام دور کرنے کے لیے اٹارنی جنرل سے رائے مانگی جاتی ہے، ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مد نظر رکھاجاتا ہے۔چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس میں عدالتی عمل تیز کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ متازع معاملات اور وراثتی مقدمات کےلئے بھی نظام کو آسان بنایا جارہا ہے،وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے عدالتوں کے بجائے نادرا کا نظام اپنانے کی ضرورت ہے، خاندانی اور وراثتی مسائل عدالت کے بجائے نادرا میں حل ہو سکیں گے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved