All posts by admin

علامہ طاہر اشرفی کے اکاﺅنٹ میں 7کروڑ کی منتقلی کا انکشاف

کراچی (خصوصی رپورٹ)طاہر اشرفی کے بینک اکاﺅنٹ میں 4برس کے دوران پونے 7کروڑ روپے کی منتقلی ہوئی۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار ریلی جینس اینڈ ڈپلومیسی کی جانب سے پاکستان میں 4این جی اوز کو مختلف پروجیکٹ دیئے گئے جن میں طاہر اشر فی نے ” علم دامن فاﺅنڈیشن“ کے ذریعے امریکی ادارے سے 90ہزار ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت طاہر اشرفی کو پاکستان میں فرقہ واریت کے خلاف متبادل بیانیہ تیار کرنے کیلئے مختلف سیمینارز اور کانفرنسز کرانے کے علاوہ مدارس کے فضلا ءاور طلباءکی سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیاں مانٹیر کرنی تھیں۔ ایک عرصہ تک مختلف نیوز چینلز پر علماءکی نمائندگی کرنے والے حافظ طاہر محمود عرف علامہ طاہر اشرفی کی کہانی بڑے پیچ وخم کی حامل ہے۔ ملک بھر میں کسی بھی غیر کاروباری اور غیر ملازم پیشہ حافظ یا مذہبی شخصیت کے پاس 6کروڑ سے زائد کی رقم آنا، مذہبی حلقوں میں بہت غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ لاہور انجینئرنگ یونیورسٹی کے قریب رہائش پذیر حافظ طاہر محمود نے لاہور ہی کے ایک بڑے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد چوک رنگ محل لاہور میں واقع جمعیت علمائے اسلام کے دفتر میں بطور منشی اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعدازاں انہیں ایک بڑے عالم دین کی سفارش پر لاہور میونسپل کارپوریشن کے زیراہتمام پرائمری سکول میں ٹیچر تعینات کیاگیا۔ پھر یہ نوکری چھوڑنے کے بعد فیصل آباد کے ایک عالم و خطیب (مرحوم) کے ذریعے وہ ایک دوست کے توسط سے سی آئی ڈی میں 1500 روپے ماہانہ تنخواہ پر جاب کرنے لگے۔ ان کی ڈیوٹی یہ تھی کہ جمعیت علمائے اسلام لاہور کے دفتر میں آنے جانے والے علماءکی مانٹیرنگ کریں۔ یہ ڈیوٹی کامیابی سے انجام دینے کے بعد پنجاب کی سطح پر ان کی خدمات آئی بی کیلئے مانگ لی گئیں اور تنخواہ 2000 روپے مقرر کی گئی۔ تاہم اس دوران طاہراشرفی سی آئی ڈی کیلئے بھی کام کرتے اوروہاں سے بھی تنخواہ وصول کرتے رہے۔ حافظ طاہرمحمود نے مذکورہ دونوں ادارے کے ساتھ کام میں شہرت 1990ءکی دہائی میں حاصل کی، جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں مذہبی منافرت اور دہشت گردی عروج پر تھی۔ اسی دوران طاہر محمود نے عمرہ ویزا کا کاروبار بھی شروع کیا، لیکن اس میں خاطر خواہ آمدن نہ ہونے کے سبب کچھ ہی عرصہ بعد اس کاروبار کو چھوڑ دیا۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پنجاب پولیس کے ایک دبنگ افسر ذوالفقار احمد چیمہ، جنہیں بعد میں موٹروے پولیس کا آئی جی تعینات کیا گیا، اپنی سروس کے آخری دور تک اس بات کے خواہشمند رہے کہ طاہراشرفی کو گرفتار کیا جائے۔ کیونکہ ان کے حوالے سے رپورٹس تھیں کہ وہ جرائم پیشہ اڈوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ تاہم حافظ طاہرمحمود کے سابقہ سرکاری اداروں کی مداخلت سے ایسا نہ ہوسکا۔ بلکہ بعض سیاسی شخصیات کی سفارش پر طاہر اشرفی کو ایڈوائزر مذہبی امور برائے گورنر پنجاب لگوادیا گیا۔ ایڈوائزر مذہبی امور کی حیثیت سے انہیں صوبائی وزیر کا پروٹوکول تقریباً5برس تک حاصل رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہراشرفی کو اسلامی نظریاتی کونسل کارکن سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمرزمان کائرہ کی سفارش پر بنایاگیا تھا۔ 2012ءمیں اسلام آباد کی نواحی بستی کی رہائشی رمشا مسیح کو قرآن پاک اور اق جلانے پر گرفتار کیاگیا ۔طاہر اشرفی نے رمشا مسیح کو نومبر 2013ءمیں تمام الزامات سے بری کروا کے پوری فیملی سمیت کینیڈا بھجوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یادرہے کہ اس کیس میں طاہراشرفی نے رمشا مسیح کی کھلے عام حمایت کی تھی۔ ذرائع کا کہناہے کہ رمشا مسیح اور اس کی فیملی کے ملک سے جانے کے فوراً بعد سوئس ایمبیسی، سویڈش ایمبیسی، فرنچ ایمبیسی اور برطانوی ہائی کمیشن کے افسران طاہراشرفی سے ملے۔ طاہر اشرفی کو برطانوی سرخ پاسپورٹ بھی اسی دوران جاری کیا گیا۔طاہر اشرفی سے ملے۔طاہر اشرفی کو برطانوی سرخ پاسپورٹ بھی اسی دوران جاری کیا گیا۔طاہر اشرفی کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے حیرت انگیز انکشافات میں معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ برس جرمن سفارتخانے کے ذریعے انہوں نے ساڑھے 6 ماہ دورانیہ پر مشتمل ایک پروجیکٹ حاصل کیا۔ جس کا فنڈ 43 لاکھ 44 ہزار 516 روپے تھا۔ انہوں نے ایک امریکی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فاریلیجس اینڈ ڈپلومیسی کے ساتھ تقریباً ایک کروڑ روپے کا معاہدہ کیا۔ مذکورہ معاہدوں کی دستاویزات میں طاہر اشرفی کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات میں جو بینک اکاﺅنٹ دیا جاتا رہا، اس کی کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ یہ اکاﺅنٹ یکم اپریل 2013ء کو لاہور کنال پارک کے قریب بیگم پورہ باجوہ اسٹریٹ پر واقع فیصل بینک میں کھلوایا گیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق اکاﺅنٹ ٹائٹل”حافظ محمد طاہر محمود“ ہے۔ جبکہ کرنٹ اکاﺅنٹ نمبر 3421010043960005 اور گھر کا ایڈرس ہاﺅس نمبر H-\31 کینال پارک درج ہے۔ رکم اپریل 2013ءسے 17 مارچ 2017ء تک اس اکاﺅنٹ میں مجموعی طور پر 6 کروڑ 93 لاکھ 48 ہزار 765 روپے جمع کرائے گئے۔ جبکہ وقتافوقتا اس اکاﺅنٹ سے نکالی جانے والی رقم 5 کروڑ 57 لاکھ85 ہزار 185 روپے بنتی ہے۔ اس وقت اکاﺅنٹ میں ایک کروڑ 44 لاکھ 98 ہزار، 332 روپے موجود ہیں۔ مذکورہ بینک اکاﺅنٹ کی تفصیلات کے مطابق اپریل 2013ءمیں چیک کے ذریعے اکاﺅنٹ میں 5 لاکھ 10 مئی 2013ء کو چیک نمبر 3889060 کے ذریعے 3 لاکھ 86 ہزار 16مئی 2013ءکو چیک نمبر 3088267 کے ذریعے 4 لاکھ 95 ہزار 461 روپے،30 ستمبر 2013ء کو سی آرفنڈ کے نام سے اکاﺅنٹ میں 6 لاکھ 40 ہزار 800 روپے، 25 نومبر 2013ءکو سی آر ٹی ٹی کے نام سے 5 ہزار19 ہزار 771روپے، 4دسمبر 2013ءکو چیک نمبر 3092342 کے ذریعے 10 لاکھ 70 ہزار 19 روپے، 29 نومبر 2013ءکو 10 لاکھ 70 ہزار 19 روپے جمع کرائے گئے۔ جبکہ 13دسمبر 2013ءکو چیک کے ذریعے 5 لاکھ 17ہزار 128 روپے، یکم جنوری 2014ء کو 21 لاکھ 75 ہزار 995 روپے 14 پیسے، 14 اپریل 2015 ءکو 5 لاکھ 40 ہزار روپے، 26 جوم 2015ءکو چیک کے ذریعے 16 لاکھ 87 ہزار 870 روپے ، 22 جولائی 2015ءکو 5 لاکھ 55 ہزار،23 جولائی 2015ءکو 8 لاکھ 18ہزار 18 روپے، 23 نومبر 2015ءکو 6 لاکھ57 ہزار 694 روپے،24 اگست 2016ءکو 7 لاکھ 67ہزار 378 روپے، 30 دسمبر 2016ءکو 8 لاکھ 13 ہزار 965 روپے، 24 نومبر 2016ءکو 20 لاکھ 18 ہزار،8 دسمبر 2016ءکو 18 لاکھ 46 ہزار 172 روپے 24 پیسے طاہر اشرفی کے اکاﺅنٹ میں جمع کرائے گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر اس اکاﺅنٹ میں 6 کروڑ 96 لاکھ48 ہزار 765 روپے 37 پیسے جمع کر ائے گئے۔ جبکہ 5 کروڑ 57 لاکھ 85 لاکھ ہزار 185 روپے 96 پیسے نکالے گئے۔ اس وقت اکاﺅنٹ میں 1 کروڑ 44 لاکھ 98 ہزار 332 روپے 71 پیسے موجود ہیں۔ذراﺅ کا کہنا ہے کہ طاہر اشرفی، امریکی ادارے کے دئے گئے ٹاسک کو جلدازجلد مکمل کرناچاہتے ہیں۔ تا ہم اس وقت ان کا سب سے بڑا ہدف اسلام آباد جناح کنونشن سینٹر میں 12 اپریل کو منعقد ہونے والی مجوزہ اسلامی کانفرنس میں امام کعبہ کو شریک کرنا ہے۔ اس کانفرنس کو پاکستان علما کونسل کے جانب سے شرکت کرنا ناممکن بتایا جا رہا ہے۔ کیونکہ امام کعبہ، جمعیت علمائے اسلام کی صدد سالہ کانفرنس میں شرکت کے بعد دوبارہ چند ہفتوں کے اندر کسی پروگرام کیلئے پاکستان نہیں آئیں گے۔

بلاول ،زرداری میں پھڈا ….آئند ہ انتخابات بارے زرداری نے اہم فیصلہ سُنا دیا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سابق صدر آصف علی زرداری نے اگلے عام انتخابات کے لئے امیدواروں کو ٹکٹ دینے اور فیصلہ سازی کے عمل سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو الگ کر دیا۔ انتخابات میں پی پی پی نہیں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین حصہ لے گی۔ آصف علی زرداری پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر کی حیثیت سے ممکنہ امیدواروں کو ٹکٹ دیں گے جس پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے بلاول نے نہ صرف اپنا اسلام آباد کو دورہ مختصر کر دیا ہے بلکہ وہ عام انتخاب کے پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کا مشاورتی اجلاس کئے بغیر ہی (آج) کراچی واپس چلے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے دورے کے دوران اس بار بلاول بھٹو زرداری نے اپنی کسی قسم کی کوئی سیاسی مصروفیات بھی نہیں رکھیں اور صرف ایک تعلیمی ادارے کے کانووکیشن میں شرکت کی جبکہ پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ جس طرح پنجاب میں سابق صدر آصف علی زرداری ممکنہ ٹکٹ ہولڈرز سے مشاورتی اجلاس کر رہے ہیں اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں کے ممکنہ ٹکٹ ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق اگلے عام انتخابات میں بھی پی پی پی‘ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے نشان پر الیکشن لڑے گی جس کے لئے پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری پارٹی کے ممکنہ امیدواروں کو ٹکٹ جاری کریں گے۔

عبدالستار ایدھی کو حکومت پاکستان کا خراج تحسین

کراچی(خصوصی رپورٹ) سٹیٹ بینک آف پاکستان عبدالستار ایدھی کی یاد میں 31 مارچ سے 50 دوپے کا سکہ جاری کرےگا۔ اعلانیہ کے مطابق یہ یاد گاری سکہ 31مارچ 2017ء سے ایس بی پی بینکنگ سروسز کا رپوریشن کے تمام فیلڈ دفاتر کے ایکسچینج کا ﺅنٹرز دے جاری کیا جائے گا۔ 50 روپے کا یہ سکہ تانبے اور نکل سے بنا ہے جس میں تانبے کا تناسب 75 فیصد اور نکل کا 25 فیصد ہے۔ اس کا قطر 30 ملی میتر اور وزن 13.50 گرام ہے۔ سکے کے سامنے کے رخ پر وسط میں بڑھا ہوا ہلال اور پانچ نوکوں کا ابھرتا ہوا استارہ ہے جس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہے۔ ستارے اور بلال کے اوپر کنارے کے ساتھ ساتھ اردو میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کندہ ہے۔ ہلال کے نیچے اور گندم کی اوپر کی طرف حمیدہ دوبالیوں کے اوپر عددی صورت میں عبدالستار ایدھی کا سلا وفات درج ہے۔ ستارے اور ہلال کےدائیں اور بائیں جانب سکے کی مالیت لکھی ہے ، سکے کے پچھلے رخ پر وسط میں عبدالستار ایدھی کا ایک رخی تصویری عکس ہے جس کی ہلائی سمت میں عہد انسانیت عبدالستار ایدھی درج ہے۔ اس عکس کے نیچے عبدالستار ایدھی درج ہے۔ اس عکم کے نیچے عبدالستار ایدھی کا عرصہ حیات 1928-2016ءنیم دائرے کی صورت میں درج ہے۔

لاہور تباہی سے بچ گیا

لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور پولیس نے شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا اور پشاور سے لاہور سمگل ہوکر آنے والے غیرقانونی اسلحہ کی بڑی کھیپ تھانہ شاہدرہ کی حدود میں پکڑی گئی۔ ایس پی سٹی عادل میمن نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدراشرف کی ہدایت پر تمام ڈویژنل ایس پیز کی نگرانی میں غیرقانونی اسلحہ کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے۔ ان احکامات کی روشنی میں شاہدرہ پولیس نے سراغ لگا کر صوبہ خیبر پختونخوا ضلع کوہاٹ کے رہائشی فہیم سرفراز کو چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا اور اس سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا۔ ملزم اسلحہ کی ایک بڑی کھیپ غیرقانونی طور پر لاہور آکر فروخت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ پولیس نے ملزم کے قبضہ سے 12 رپیٹر گنیں‘ 33 پمپ ایکشن‘ 3 رائفلز 44 بور‘ 13 لیزر گن‘1 گن 12 بور‘ 48 پسٹلز اور 4200 سے زائد گولیاں برآمد کرلیں۔ اس موقع پر ایس پی سٹی عادل میمن نے مزید کہا کہ ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف کی ہدایت پر غیرقانونی اسلحہ کے خلاف کریک ڈاﺅن کی مہم جاری ہے جس میں بہترین کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔

اسپاٹ فکسنگ کیس …محمد عرفان پر پابندی …کرکٹ سے باہر

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرکٹر محمد عرفان کو سزا سنا دی گئی۔پی سی بی حکام نے محمد عرفان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں فاسٹ بولر کو سزا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محمدعرفان کو ایک سال کے لیے معطل کردیا گیاہے، جبکہ وہ 6ماہ تک کرکٹ نہیں کھیل سکتے ،وہ پی سی بی کو 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کریں گے۔پی سی بی حکام نے اس موقع پر مزید کہا کہ عرفان نے شرائط مکمل کیں تو 6ماہ بعد کرکٹ کھیل سکیں گے، پابندی کی صورت میں وہ چیمپیئنز ٹرافی نہیں کھیل سکیں گے۔پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ محمد عرفان پر ایک سال کی پابندی دو ٹکڑوں میں بانٹی گئی ہے،محمد عرفان کی 6ماہ تک کی معطلی بغیر کسی تنخواہ کے ہوگی،پانچ لاکھ روپے کے حساب سے انہیں 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوگا،پی سی بی کی معاونت کرنے پر اگلے چھ ماہ وہ کرکٹ کھیل سکیں گے۔

این اے 123 : مریم نواز بمقابلہ۔۔۔؟بڑا سیاسی دھماکہ

لاہور (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی کے مطابق مریم نواز شریف لاہور سے ایک قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑیں گی قومی اسمبلی کیلئے یہ حلقہ این اے 123اور صوبائی اسمبلی کیلئے اس کی ذیلی نشست پی پی 144 ہو سکتی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے ان کا نام پی پی 147 کیلئے بھی زیر غور ہے جو سپیکر ایاز صادق کے نیچے صوبائی حلقہ ہے جس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ یہاں سے مریم نواز کے امیدوار ہونے سے عمران خان کے مقابلہ میں سپیکر ایاز صادق کی جیت یقینی بن سکتی ہے اور اگر عمران خان این اے 122 کے بجائے این اے 125 سے انتخاب لڑتے ہیں تو پھر مریم نواز این اے 122 اور اس کی ذیلی پی پی 147 سے امیدوار ہو سکتی ہیں، آئینی طور پر عام انتخابات 2018 کو منعقد ہونا ہیں اور سیاسی جماعتوں نے آنے والے انتخابات میں اہم حلقوں کیلئے اپنے امیدواروں کے چناﺅ کیلئے خاموش مشق شروع کر رکھی ہے اور پارٹی کے اہم رہنماﺅں کی یقینی جیت کیلئے حلقوں کا تعین کیا جارہا ہے تاکہ ان کے حلقوں میں منظم انتخابی مہم ابھی سے شروع کر دی جائے۔پنجاب کے تمام شہروں میں براہ راست مقابلہ حکمران مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان پنجاب میں کچھ حلقوں میں آزاد اور پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی زور آور ثابت ہو سکتے ہیں، پنجاب کے دارالحکومت لاہور کو ملکی سیاست میں اہم سمجھا جاتا ہے لہٰذا آنے والے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر لاہور ملک بھر کی توجہ کا مرکز ہو گا جہاں سے ایک نیا چہرہ مریم نواز شریف کی صورت میں انتخابی میدان میں اتر رہا ہے اور حکمران مسلم لیگ ن میں سب سے زیادہ دلچسپی کا اظہار اس امر پر ہو رہا ہے کہ مریم نواز کہا سے انتخاب لڑیں گی۔گو کہ وزیراعظم نواز شریف پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے کی وجہ سے اپنی ایک اہمیت اور حیثیت رکھتے ہیں اور کئی بار لاہور سے کامیاب قرار پائے ہیں لیکن سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات میں لاہور میں اہمیت کے حامل دو ہی حلقے ہوں گے جن میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور مریم نواز شریف کے حلقے ہوں گے،یہی وجہ سے کہ ابھی سے عمران خان اور مریم نواز کے حامیوں نے ان کے مجوزہ انتخابی حلقوں میں رابطوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حلقہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی پرویز ملک جو مسلم لیگ ن کے صدر بھی ہیں اور ان کی اہلیہ جو خصوصی نشست پر رکن قومی اسمبلی ہیں وہ مریم نواز شریف کی مہم چلا رہی ہیں اور مسلم لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف کے این اے 123 سے انتخاب لرنے کی صورت میں پرویز ملک کو لاہور کے کسی دوسرے قومی اسمبلی کے حلقہ سے انتخاب لڑایا جا سکتا ہے یا سینیٹ میں لے جایا جا سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق2018 ءکے انتخابات میں بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف کو سمجھتے ہیں۔

ذیابیطس کم کرنے کا آسان گھریلو نسخہ

لندن(خصوصی رپورٹ) اگرچہ کئی تہذیبوں میں گرم پانی کے ٹب میں دیر تک بیٹھے رہنا ایک معمول کی بات ہے لیکن اب ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ گرم پانی سے غسل حرارے (کیلوریز) جلانے اور خون میں گلوکوز کی مقدار کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔برطانیہ میں لوبورو یونیورسٹی کے ماہرین کا اصرارہے کہ گرم پانی سے نہانے کا عمل انسانی جسم پر ورزش جیسے اثرات مرتب کرتا ہے، اس کے ذریعے نہ صرف ٹائپ ٹو ذیابیطس کو دوررکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ اس مرض کے دہانے پر پہنچنے والے افراد اسے ٹال سکتے ہیں۔

واٹس ایپ نے صارفین کو ایک اور بڑی سہولت میسر کر دی

نیویارک (خصوصی رپورٹ) واٹس ایپ میں اکثر نئی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں اور اب اس میں ایک اور فیچر جلد سامنے آنے والا ہے۔ واٹس ایپ میں اب نیا فیچر متعارف کرائے جانے والا ہے جس میں اگر کوئی صارف اپنا فون نمبر تبدیل کرے گا تو اس کے کانٹیکٹس کو اس کی اطلاع دی جائے گی۔ یہ فیچر ان افراد کیلئے کارآمد ہے جو کسی وجہ سے فون نمبر بدلتے ہیں مگر اپنے واٹس ایپ فرینڈز کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں مگر انہیں یہ یقین دلانا مشکل ہو سکتا ہے کہ یہ نیا نمبر آپ کا ہی ہے، اپنے کانٹیکٹس کو اپنے پاس رکھنا اور فون نمبر بدلنے سے انہیں آگاہ کرنا کافی آسانی کا باعث ہوگا۔

زرداری نے نیا نعرہ لگوا کر ”ن“لیگ کی نیندیں حرام کردیں

لاہور، اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + نامہ نگار) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کا وقت قریب ہے،پچھلی دفعہ ہم پر ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں لیکن اس دفعہ کوئی ہتھکڑی نہیں، ہم میدان میں نکل کر مقابلہ کریں گے، پیپلز پارٹی نے پنجاب سے کبھی شکست نہیں کھائی البتہ آر او الیکشن سے شکست ضرور کھائی ہے، آر او الیکشن پہلے بھی ہوئے تھے اور اب بھی ہو رہے ہیں لیکن ہم نے ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ اتوار کے روز سابق صدر آصف علی زرداری سینئر پارٹی رہنماءعزیز الرحمان چن کی رہائش گاہ آئے جہاں انہوں نے کارکنوں سے خطاب بھی کیا، انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کارکنوں کا ولولہ، جوش دیکھ کر پتہ لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور کارکن دوبارہ ایک مقابلے کیلئے تیار ہیں، پچھلی دفعہ ہم پر ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں لیکن اس دفعہ کوئی ہتھکڑی نہیں، میں خود اور بلاول میدان میں ہیں، آپ کی بیٹیاں میدان میں ہیں، ہم سب ساتھ نکل کر میدان میں مقابلہ کریں گے اور ان کو پتہ چل جائے گا کہ الیکشن کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کا وقت آنے والا ہے، ان دوستوں کو اور آپ کو سمجھنا چاہئے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی بھی شکست نہیں کھائی۔ پیپلز پارٹی نے پنجاب سے کبھی شکست نہیں کھائی البتہ آر او الیکشن سے شکست ضرور کھائی ہے، آر او الیکشن پہلے بھی ہوئے تھے اور اب بھی ہو رہے ہیں لیکن ہم نے ان کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے پاس پیپلز پارٹی کا ایک وفد بھیجیں گے جو مذاکرات کرے گا کہ کس طرح پورے پاکستان بالخصوص پنجاب اور شہر لاہور میں صاف اور شفاف الیکشن کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ کارکنوں کا ولولہ بھی دیکھا ہے اور قربانیاں بھی یاد ہیں، آج شہیدوں کی بہنیں یہاں موجود ہیں، میں نے وہ دن بھی دیکھے کہ جب بی بی آیا کرتی تھیں تو پورا لاہور بند ہو جایا کرتا تھا، اب بھی ایسا ہی ہو گا، ہم جب نکلیں گے تو پورا لاہور بند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا پرانا نعرہ ہے کہ بھٹو دے نعرے وجن گے لیکن اب ساتھ ملا لیں بھٹو دے نعرے وجن گے، پیٹو سارے نچن گے، بھجن گے۔زرداری نے نیا نعرہ لگوا کر ”ن“لیگ کی نیندیں حرام کردیں
ایک زرداری سب پہ بھاری نہیں بلکہ ایک زرداری سب سے یاری کا نعرہ لگائیں۔ سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے اور علاقائی امن کے لئے یہ بات نتہائی ضروری ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی مینجمنٹ باہمی مشاورت سے کی جائے۔ سرحدوں کومشاورت سے باقائدہ طریقے سے محفوظ بنا نے ہی سے ایک دوسرے پر سرحدوں کے پار سے دہشتگردوں کی مداخلت کے الزامات کا خاتمہ ہو سکے گا اور انہیں الزامات کی وجہ سے پاکستان اور برادر پڑوسی ملک افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سابق صدر نے ان رپورٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بات کہی جن میں کہا گیا ہے کہ باجوڑ اور مومند ایجنسیوں میں افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حال میں دونوں ممالک کے درمیان تعلاقات بہت خراب ہو گئے ہیں اور کہا کہ دونوں ملک عدم اعتماد اور شک کی فضا ختم کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں۔ سرحدوں کی باہمی مشاورت سے مینجمنٹ کا معاملہ بہت تاخیرکا شکار ہو چکا ہےاور اب اس میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے۔ اس بارے فیصلے میں تاخیر ایک بحران کو دعوت دینا ہے۔ سابق صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ باڑ لگانے کا خیر مقدم وہ سب لوگ کریں گے جو عسکریت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور الزامات کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔ آصف زرداری نے کہا کہ حسین حقانی پروفیشنل ڈپلومیٹ نہیں تھے، ان سے صرف ایک کام لینا تھا جو لے لیا۔ لوگ چھوٹے چھوٹے فائدوں کے لئے پاکستان کو دھوکہ دے جاتے ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کیا کر رہے ہیں۔ نجی ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ حسین حقانی اور ان کی بیگم کے امریکہ میں کافی تعلقات تھے، حسین حقانی ان تعلقات کے لئے محترمہ بے نظیر شہید کا نام بھی استعمال کرتے تھے، میں نے حقانی سے یہ کام لینا تھا کہ اس وقت کے سیکرٹری آف سٹیٹ نیگرویونئے پرویز مشرف کا فون رسیو نہ کریں اور ایسا ہی ہوا۔ یوسف رضا گیلانی نے ویزوں کے معاملے کی وضاحت کر دی ہے۔ وزیراعظم اگر خط لکھتا ہے تو وہ ایک طریقہ کار کے تحت آگے بھیجا جاتا ہے۔ فارن آفس اور وزارت داخلہ سے ہو کر خط آگے جاتا ہے۔ سفارتخانوں میں صرف ایک سفارتکار ہی فارم پر سائن نہیں کرتا بلکہ وہاں دیگر فورسز کے نمائندے بھی بیٹھتے ہیں جو تمام معاملات کو چیک کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے ک ہ سنسنی خیز خبر بنا کر ایک اور کتاب لکھنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ مجھ پر مقدمات بنائے گئے تو سامنا کروں گا یہ میرے لئے نیا نہیں ہے ایسے مراحل سے گزرتا رہا ہوں۔ آئینی طور پر بلوچستان کو اب تمام صوبائی وسائل، تمام حقوق حاصل ہیں۔ دوبارہ حکومت کا موقع ملا تو بلوچستان کا بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی حل کروں گا۔ میرے پاس آئیڈیا موجود ہے کہ کیسے زمینوں تک پانی پہنچانا، زرخیز بنانا اور پھر غریب عوام میں تقسیم کرنا ہے۔ چھوٹی ذہنیت والوں نے ریکوڈک منصوبہ کو آگے نہ بڑھنے دیا اور ملک کو جرمانہ بھی دینا پڑا۔ اسی طرح بجلی کی فراہمی کیلئے آنے والے جہاز کو بھی روک دیا گیا اس پر بھی جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، اسی طرح کے معاملات پر بات کرنے کے لئے الگ فورم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں مرضی کے حلقے بنوانے کے لئے آبادی کو ادھر ادھر منتقل کیا جاتا رہا، ان معاملات میں بعض فورسز اور ادارے ملوث رہے تاہم اب انہیں غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔ اس بار الیکشن میں پی پی بہتر نتائج دے گی۔ وزیراعظم نوازشریف کو سندھ کی یاد تھوڑی دیر سے آئی ہے ان کے اعلان کردہ تمام ترقیاتی منصوبے محض افسانہ ہیں۔ حکومت نے الیکشن کا اچانک اعلان کر دیا تو بھی ہم تیار ہیں ہمارے پاس پہلے سے امیدوار موجود ہیں کیونکہ انہیں ہروایا گیا تھا وہ ہارے نہیں تھے۔ بلاول بھٹو پارٹی کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میرے تینوں بچے سیاست میں آئیں کیونکہ یہ لڑائی پاکستان کی لڑائی ہے پاکستان کے لئے بھٹو اور بی بی بینظیر نے جان قربان کی۔ آفتاب شیر پاﺅ سے سیاسی اتحاد ہو سکتا ہے کیونکہ سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے۔ پچھلی بار دو جج صاحبان کی وجہ سے الیکشن کمپئن کی سربراہی نہ کر سکا ورنہ آئین میں کہیں درج نہیں کہ صدر غیر سیاسی ہوتا ہے۔ کے پی کے میں اس بار پیپلزپارٹی کا تول تھوڑا مختلف ہو گا، اے این پی سے دوستی اور مراسم ہیں مولانا فضل الرحمن سے پیار اور دلی لگاﺅ ہے۔ اگلے الیکشن میں سیاسی اتحاد کیلئے پنجاب میں سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ الیکشن میں ملک بھر میں جنرل الائنس ہو گا۔ پاکستان کی مضبوطی کے لئے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا تاہم بدقسمتی سے بعض دوست انتہا پر چلے گئے ہیں۔

سندھ کی اہم شخصیات کی ”ن“لیگ میں شمولیت ….ن لیگ کا سیاسی وار

لاہور(طلال اشتیاق)پی ٹی آئی اور پی پی پی کی پنجاب میں سیاسی پیش قدمی ،ن لیگ نے سندھ اور کے پی میں جوابی سیاسی حملہ کی تیاری کرلی۔ایم کیو ایم ،فنکشنل لیگ کے ساتھ ساتھ سابق وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا سے بھی سیاسی مدد لینے کا فیصلہ کرلیا گیاجبکہ موجودہ گورنر سندھ کی موجودگی میں مسلم لیگ ن میں صوبے میںنئی روح پھونک دی۔خیبر پختونخواہ میںجے یو آئی ،جماعت اسلامی اوراے این پی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے امکانات بڑھ گئے۔مسلم لیگی ذرائع نے خبریںکو بتایا ہے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے عام انتخابات سے قبل پنجاب میں سیاسی پلیٹ فارم اور دھڑے بندی کی سیاست میں تیزی لائے جانے کے بعد جہاں مختلف افراد اور گروپوں کی طرف سے ان جماعتوں میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے وہیں مسلم لیگ ن نے بھی اس سیاسی حملے کی تیاری کا آغاز کردیا ہے اور پہلے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مقتدر صوبے سندھ میں انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے مختلف جماعتوں اور سیاسی افراد سے رابطے شروع کردیے گئے شہری سندھ میںاس حوالے سے ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت کا جلد آغاز کردیا جائے گااسی طرح اندرون سندھ کچھ شہروں میں پیر صاحب آف پگارو کی جماعت فنکشنل لیگ سے بھی ن لیگ کی مدد کو تیار ہیں جبکہ ن لیگ سندھ کے اہم رہنماءکی جانب سے سابق وزیرداخلہ ذوالقار مرزا اور سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا سے بھی رابطہ کیا گیا ہے جس کے بعد امید کی جارہی ہے کہ کچھ روز تک اس بارے میں اہم پیش رفت ہوگی اور چند اہم سندھی سیاسی رہنماءن لیگ میں شمولیت بھی اختیار کرسکتے ہیں۔دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخواہ میںن لیگ کے اتحادی مولانا فضل الرحمن صوبے کے ساتھ ساتھ فاٹا میں بھی اتحاد کے خواہش مند ہیں مگر ن لیگ کی صوبائی قیادت سولو فلائٹ کے حق میں ہے مگر وفاقی قیادت نہ صرف جے یو آئی بلکہ جماعت اسلامی کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خواہش کا اظہار کرچکی ہے اسی طرح چار سدہ اور مردان سمیت کچھ علاقوں میں اے این پی کے ساتھ نشستوں کی ایڈجسٹمنٹ بھی کی جاسکتی ہے۔