All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

بجٹ یا ابوالہول

توصیف احمد خان
مصر میں ابوالہول کا ایک ایسا مجسمہ دریافت کیا گیا ہے جس کی عمر بائیس صدیاں یا 22سو سال سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے ،ماہرین آثار قدیمہ کہتے ہیں کہ یہ دوسو سال قبل مسیح بطلیموس پنجم کے دور سے تعلق رکھتا ہے ، اگرچہ ہمارے لئے اس قسم کے آثار قدیمہ کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے ، خصوصاً ہماری نئی نسل کیلئے، انہیں مصر یا زمانہ قبل از مسیح کے عجائبات اور نوادرات سے کیا دلچسپی، انہیں تو یہ تک معلوم نہیں کہ ہمارے اپنے ملک میں اور ہمارے ارد گرد کون کو ن سے اور کس قسم کے عجائبات موجود ہیں، ان سے آپ ابوالہول کے بارے میں دریافت کریں تو ممکن ہے آٹے میں نمک کے برابر لوگوں کو معلوم ہو، شاید یہ بھی ہم زیادہ ہی بتا گئے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہم ابوالہول کے بارے میں جان لیں کہ یہ کیا بلا ہے ، آپ لوگوں نے اہرام مصر کے اوپر ایک مجسمہ بنا دیکھا ہوگا، حقیقت میں یہ ایک تصوراتی مجسمہ ہے جس کا تعلق یونان سے بتایا جاتا ہے ، اس کا سر تو انسان کا مگر دھڑ شیر کا ہوتا ہے ، بعض اوقات اس کے پر بھی بنادیئے جاتے ہیں ، اسے آپ ایک تصوراتی یونانی دیوتا سمجھ لیں، اس کے بارے میں تفصیل میں جانے لگیں تو بہت سا وقت اور صفحات درکار ہونگے، جس کی یہاں گنجائش نہیں …یہاں اس کے بیان کا مقصد کچھ اور ہے۔
اصل میں وفاقی حکومت نے سابقہ حکومت کے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اگلے نو ماہ کیلئے اپنا بجٹ پیش کردیاہے، ویسے تو بجٹ سال میں ایک بار ہی آتا ہے اور قومی اسمبلی موجود ہو تو پورے سال کیلئے آتا ہے ، لیکن عوام کو ” خوشخبری “ ہو کہ موجودہ حکومت جہاں نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کررہی ہے وہیں اس نے بجٹ بھی نیا متعارف کرادیا ہے ، آگے معلوم نہیں کون کون سی پرانی چیزوں یا معلومات کو پرانے پاکستان کی فرسودہ اشیاءسمجھ کر کسی تہہ خانے میں ڈال دیا جائے گا اور ان کی جگہ نئی نئی چیزیں سامنے لائی جائیں گی۔
بجٹ …..اور پھر سال میں دوسرا بجٹ…..جب بھی آتا ہے عوام کیلئے خوشخبری کم اور پریشانی زیادہ لاتا ہے ، ہر وزیر خزانہ بجٹ میں نئے ٹیکس لگاتے یا موجودہ میں اضافہ کرتے ہوئے یہی کہتا ہے کہ اس کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑیگا، ہم قریباً پاکستان کے ہم عمر ہیں اور جب بھی بجٹ تقریر سنتے ہیں کچھ رٹے رٹائے فقرے سامنے آجاتے ہیں، انہی میں سب سے اہم عام آدمی کے متاثر نہ ہونے کا ”مژدہ “ہے۔
بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو ہمارے جیسے جاہلوں کو اس کی خاک سمجھ نہیں آپاتی، ہمارے لئے یہ بالکل ابوالہول کی طرح ہوتا ہے جس کا سر کسی کا ، دھڑ کسی کا اور اگر پر بھی ہوں تو وہ کسی کے…وہ ابوالہول کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آیا جو اہرام مصر پر صدیوں سے ایستادہ ہے اور جس کا ایک 22سو سال پرانا مجسمہ اب دریافت ہوا ہے …اور یہ ابوالہول …یعنی بجٹ بھی ہماری سمجھ سے باہر ہی رہتا ہے کیونکہ اس کے سر، دھڑ، ٹانگوں، بازوو¿ں اور دیگر اعضاءکی کوئی وجہ ِ تسمیہ نہیں کہ یہ سب کچھ کیوں ہے۔
کل وزیر خزانہ نے جو بجٹ پیش کیا اس کی کچھ موٹی موٹی باتیں تو سیدھی طرح بتادی گئیں اور ہمارے موٹے دماغ میں آ بھی گئیں کہ سگریٹ مہنگے، موبائل فون مہنگے، بڑی گاڑیاں مہنگی وغیرہ وغیرہ …بجٹ ایک فنانس بل کی شکل میں ہوتا ہے جو اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے اور اس میں زیر ، زبر ، پیش وغیرہ کی اس طرح گردان کی جاتی ہے کہ سر چکرا کر رہ جاتا ہے اور پھر عام آدمی جو عموماً متاثر نہیں ہوتا سارا سال اسی زیر ،زبراور پیش کی چکی میں پستا رہتا ہے ۔
ہم کل پیش کئے گئے فنانس بل سے اس کی ایک ہی مثال پیش کرتے ہیں جو ہم سب کے سر دھننے کیلئے کافی ہوگی، اس میں ایک جگہ ہے کہ ”کالم نمبر 2میں جہاں بھی الفاظ ایل ای ڈی لائٹس کسی بھی شکل میں آئیں گے وہاں انہیں ایل ای ڈی لائٹس اور بلب پڑھا جائیگا“ … اب آپ پرانے قوانین تلاش کریں یا ماہرین سے رابطہ کریں کہ یہاں ان کا کیا مطلب ہے ، یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایل ای ڈی لائٹس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے اس میں بلبوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے، مگر ہوا کیا ہے …؟ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ، اسی لئے تو ہمارے نزدیک یہ ابوالہول سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اس سے بھی اگلے درجے کی کوئی شے ہے ۔
جو چیزیں سمجھ آنے والی ہیں ان کا بجٹ میں عموماً ذکر نہیں ملتا، بلکہ بجٹ سے آگے پیچھے ان کے معاملات طے کئے جاتے ہیں ، مثلاً وزیر اطلاعات نے بڑے دھڑلے کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جارہا…واقعی اس وقت اضافہ نہیں کیا جارہاتھا کیونکہ بجلی کے نرخوں میں تو اس سے چند روز قبل دو روپے یونٹ اضافہ کردیا گیا تھا، اور گیس کے نرخ اس وقت بڑھا دیئے گئے جب وزیرمحترم کے الفاظ کی گونج ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی، صنعتی و کمرشل صارفین کے علاوہ گھریلو صارفین کو جو نئے نرخ دیئے گئے ان میں اضافہ دس فیصد سے شروع ہوتا ہے اور 143فیصد پر ختم ہوتا ہے ، مگر اعلان یہی ہے کہ عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالا گیا یا ڈالا گیا ہے تو کم سے کم ، یعنی عام آدمی کو باقاعدہ گدھا نہیں بنایا گیا۔
ویسے تو سات عشروں سے بوجھ اٹھاتے اٹھاتے عام آدمی کی کمر دوہری ہونے کی بجائے باقاعدہ اکڑ چکی ہے اور اس طرح اکڑی ہے کہ اب اس پر جس قدر بوجھ ڈالتے جائیں اسے فرق نہیں پڑیگا، یہ اصل میں وہی فارمولا ہے ” مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پرکہ آساں ہوگئیں“… لیکن یہ بھی کیا کریں ، انہیں تو خزانہ ” خالی“ ملا ہے اور اس خالی خزانے کو کسی طرح سے بھرنا بھی ہے ، لہٰذا عوام جائیں بھاڑ میں…ہمارا خزانہ خالی نہیں رہنا چاہئے…ماضی کی تمام حکومتیں دھوکہ اور فریب تھیں، حکومت وقت ہی حقیقت ہے اور حقیقت بھی ابوالہول جیسی۔
مولا کریم ہم سب پر رحم کرے اور ہمیں اس بجٹ اور آنے والے بجٹوں کے ” فیوض و برکات“ سے استفادہ کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔
٭٭٭

حضرت حسینؓ کا مقصدِ جہاد….2

حافظ محمد ادریس….اظہار خیال
المیہ یہ ہوا کہ شام کے گورنر حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ نے حضرت علیؓ کی خلافت کو متنازعہ بنانا چاہا جبکہ صحابہؓ کی اکثریت اور عمومی راے عامہ ان پر اعتماد کا اظہار کر چکی تھی۔ حضرت معاویہؓ انعقادِ خلافت سے قبل حضرت عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دراصل یہ مطالبہ بھی اسی صورت میں پورا ہوسکتا تھا جبکہ نظام قائم ہوجاتا اور اسے تسلیم کر لیا جاتا۔ حضرت معاویہؓ کے ایک تندوتیز خط کے جواب میں چوتھے خلیفہ¿ راشد نے نہایت حکمت و ملائمت کے ساتھ لکھا کہ میری بیعت انھی لوگوں نے کی ہے، جنھوں نے مجھ سے قبل ابو بکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کی بیعت کی تھی اور جو شرائط ان کے انتخاب کے لیے تھیں انھی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے مہاجرین و انصار نے میری بیعت کی ہے۔ جناب معاویہؓ کا حضرت علیؓ کو خلیفہ تسلیم نہ کرنا ایک المیے سے کم نہیں لیکن بہر حال حقیقت یہی ہے کہ انھوں نے شام میں اپنی الگ حکومت تشکیل دی، جس کے بارے میں انھیں کئی صحابہ نے ان کے استفسار پر بتایا کہ وہ خلیفہ¿ راشد نہیں بلکہ بادشاہ ہیں۔ سیدنا معاویہؓ خود بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ وہ خلیفہ کے بجائے بادشاہ ہیں۔ وہ کھرے انسان تھے، اس لیے اس معاملے میں انھوں نے غلط تعبیرات کا سہارا نہیں لیا۔ چوتھے خلیفہ¿ راشد سیدنا حضرت علیؓ نے تقریباً پونے پانچ سال تک حکومت کی۔ پھر انھیں ایک خارجی عبد الرحمان ابن ملجم نے شہید کر دیا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت حسنؓ کی بیعت کی گئی مگر انھوں نے چھے ماہ بعد امت کو افتراق سے بچانے کی خاطر حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے ساتھ مصالحت کرکے ان کی بیعت کر لی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا :میری امت میں خلافت تیس (۳۰) سال تک رہے گی، پھر ملوکیت کا دور شروع ہوجائے گا۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد حدیث کے راوی حضرت سفینہؓ سے سعید بن جمھانؓ نے تفصیل پوچھی تو انھوں نے چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کو الگ الگ بیان کیا اور فرمایا یہ تیس سال پورے بنتے ہیں۔ سعید نے کہا مگر بنو امیہ تو سمجھتے ہیں کہ وہ بھی خلفا ہیں۔ حضرت سفینہ نے فرمایا :یہ غلط کہتے ہیں۔ یہ تو بدترین حکمران اور ملوکیت کے مظہر ہیں ۔ (سنن الترمذی جلد ۸ ص ۱۶۷ روایت سعید بن جُم±ھان و سفینة)۔ علامہ علقمیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے شیخ نے فرمایا کہ ان تیس سالوں میں چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت کے ساتھ سیدنا حسن بن علیؓ کے دور کو بھی شامل کیا جائے تو پورے تیس سال بن جاتے ہیں۔ (عون المعبود جلد دہم صفحہ ۱۶۴) علقمی نے محدث امام نووی کی کتاب تہذیب الاسماءکے حوالے سے ان کی رائے بھی اس قول کی تصدیق میں نقل کی ہے کہ حضرت حسنؓ کی مصالحت پر تیس سال کا عرصہ مکمل ہوتا ہے۔
آنحضور کے ارشاد کی روشنی میں حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ کی اس مصالحت کے وقت خلافت کو تیس سال مکمل ہوگئے تھے۔ اس کے بعد آنحضور کی اس پیشین گوئی کے مطابق خلافت کی جگہ ملوکیت کا دور آنا تھا، سو وہ آگیا۔ بادشاہ ہونے کے باوجود حضرت معاویہؓ صحابیِ رسول تھے اور عادل تھے۔ ان کی بادشاہت کو صحابہؓ نے عمومی طور پر قبول کیا تاہم جب انھوں نے اپنی ملوکیت کو موروثی بنانا چاہا تو صحابہؓ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تمام معروف صحابہ تو مزاحمت پر ڈٹے رہے جبکہ دیگر صحابہ نے اتمامِ حجت کے بعد خاموشی اختیار فرمالی مگر اس فیصلے پر صاد نہیں کیا۔ یزید کو حکمران تسلیم کرنے سے انکار کرنے والوں کی فہرست میں صحابہ کی بڑی تعداد کے نام آتے ہیں۔ انصار و مہاجرین کی اکثریت نے یزید کی حکمرانی پر نکیر کی۔ ان میں حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت حسین بن علی‘ حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر، حضرت احنف بن قیس اور حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہم کے اسماے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یزید اپنی ذاتی حیثیت اور کردار کے لحاظ سے بھی خلافت کا کسی صورت اہل نہ تھا اور پھر اس کے تقرر اور نامزدگی کا طریقہ بھی موروثی بادشاہت کا اثبات اور مشاورت و اہلیت کا انکار تھا۔ اس وجہ سے سیدنا امام حسینؓ نے فیصلہ کیا کہ نظامِ اسلام کے ایک اہم ترین رکن کے خاتمے پر خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنایا جائے۔ آپ نے بہت بڑی قربانی دی مگر یہ اصول کہ اسلام میں نظامِ حکومت شورائی اور مبنی براہلیت ہے، زندہ کر دیا۔ (ختم شد)
(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں)
٭….٭….٭

بھاشا ڈیم کی تعمیر خطرے میں

حامد جلال
موجودہ حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی انتہائی سنجیدگی سے بھاشاڈیم کی تعمیر کافیصلہ کیاہے۔ یہ ڈیم دنیا کا سب سے بلندRCCڈیم ہے اوراس طرح کے ڈیم کے ڈیزائن اور تعمیر کے لئے تکنیکی طورپر تمام دنیاسے انتہائی قابل اورتجربہ کار ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی بات کومدِ نظر رکھتے ہوئے واپڈا نے20ماہ قبل ملکی اور غیر ملکی ماہرین پرمشتمل کمپنیوں سے فنی اور مالیاتی تجاویز طلب کی تھیں اور ان کی قابلیت اوراہلیت کی جانچ پڑتال بھی مکمل ہوچکی ہے۔ شاید غلط اطلاعات کی بنیاد پر اس پراسس کونظر انداز کرکے اس انتہائی اہم ڈیم کی کنسلٹنسی ایک پاکستانی کمپنی کو سربراہ بنانے کااعلان کیا گیا ہے جوکہ اس طرح کے ڈیم کاتجربہ نہیں رکھتی۔
وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس سے پاکستانی انجینئرکی ٹریننگ ہوگی اور وہ آئندہ ڈیم خود ڈیزائن کرسکیں گے۔ جو تجاویز پہلے مانگی گئی ہیں اُن میں بھی پاکستانی فرمیں شامل ہیں۔
ڈیم کی پیچیدگیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آبی ماہرین کا خیال ہے کہ کسی بھی طرح کاخطرہ مول نہیں لینا چاہئے اور جس شفاف طریقہ سے کنسلٹنٹ رکھنے کا کام شروع کیاگیا اسی کو پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہئے۔ ورنہ یہ نہ صرف پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ پورے پراجیکٹ کی تعمیر کو داﺅپرلگا دیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاشا ڈیم کی اونچائی بہت زیادہ رکھی گئی ہے اورخطرہ ہے کہ اتنا بڑا لینٹر کابنا ہوا بند پانی میں نہ بہہ جائے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوگیا تو پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ ٹوٹ کر بہہ نکلے گا اور اندازہ لگایا گیاہے کہ یہ پانی سکھر تک جاپہنچے گا اور راستے میں آنے والی ہر چیز ملیا میٹ ہو جائے گی۔ واپڈا کی تاریخ میں ٹیکنیکل ماہرکے طورپر فوج سے جولوگ آئے تھے ان کا کہنا ہے کہ بھاشا ڈیم کی اونچائی ہرگز اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہئے کہ بند ٹوٹنے کی شکل میں سارا پاکستان تہہ آب نہ آجائے۔ یہ سوچنے بات کی ہے کہ ڈیم کی اونچائی کتنی ہو اس پر برسوں تک بحثیں ہوتی آئی ہیں اور ہرگز ہرگز ایسی غلطی کا ارتکاب نہیں کرناچاہئے جس کی وجہ سے بند ٹوٹنے کاخطرہ پاکستان کے زیریں علاقے کو مشکلات کاشکار نہ کردے۔ اس ضمن میں اب تک بہت کام ہوچکاہے یہ ساری رپورٹس بغور پڑھنی چاہئیں تاکہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے وقت کوئی ٹیکنیکل غلطی نہ ہوجائے۔ اونچائی کم سے کم رکھی جائے تاکہ میلوں تک پھیلے ہوئے پانی کاپریشر لینٹر کے بنے ہوئے بند کو بہا کرنہ لے جائے۔
٭….٭….٭

ڈاکٹر یاسمین راشد کا امتحان

خواجہ عبدالحکیم عامر/سچ ہی لکھتے جانا
دوستو…! میرا آج کا یہ کالم دو حصوں پر مشتمل ہوگا، ازراہ کرم ٹائم نکال کر پڑھیے ضرور،اس کالم میں آپ ہی کے ارد گرد کی عکاسی کی گئی ہے۔اپنی یہ تحقیق بیان کرتے ہوئے مجھے قطعاً کوئی رکاوٹ محسوس نہیں ہو رہی کہ ہمارے ملک پاکستان کی پولیس کے محکمے کو بیشمار نام دیئے جاتے رہے اور نئے نام دیئے جانے کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے اور اب تو انہیں چنداں دہرانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ان ناموں سے پاکستان کا بچہ بچہ اور نوجوان آگاہ و واقف ہے۔محکمہ پولیس لرزہ خیز داستانوں، قصوں اور کہانیوں سے بھرا پڑا ہے، ہماری پولیس سب سے زیادہ شہرت جعلی مقابلوں میں رکھتی ہے کہ کسی نارمل قیدی یا مخالف شخص کو ابدی نیند سلادینا مقصود ہو تو اسے پولیس مقابلے کا نام دے کر صفحہ ہستی سے غائب کردیا جاتا ہے ، محکمہ پولیس تو پورے پاکستان میں موجود ہے ، مگر ناقابل یقین واقعات میں شہرت پنجاب پولیس نے حاصل کی ہوئی ہے جسے روکنے اور ٹوکنے کی ہمت پنجاب کے کسی بڑے سے بڑے پہلوان / حکمران کے اندربھی موجود نہیں ہو سکی، کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ کسی مخالف کو بساط ہستی سے غائب کروانے کیلئے ہمارے حکمران بھی پولیس کا سہارا لیتے رہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔
دوستو…! محکمہ پولیس سے متعلق ہزاروں لاکھوں کہانیاں بطور ثبوت پیش کی جاسکتی ہیں جن میں پولیس کی بربریت اس بات کا ثبوت دیتی ہوئی نظر آئیگی کہ ہاں… یہ ظلم، قتل اور پولیس مقابلہ سب برے کام میں نے ہی کئے ہیں، پولیس کے مظالم میں سے یہ دو چیزیں انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں… اولاً بھاری بھرکم دولت …دوئم بہت بڑی سرکاری سفارش، اور یہ سب کچھ دیکھنے پڑھنے کیلئے پولیس اسٹیشن کے خفیہ وزٹ کی ضرورت ہے اور یہ خفیہ وزٹ باضمیر صحافی و دیگر غیرتمند اور تگڑے لوگ ہی کرسکتے ہیں کہ بڑے سے بڑے مجرم /ملزم اور اس کے لواحقین کے ساتھ مک مکا کیسے ہوتا ہے ، مک مکا ہوگیا تو کھیل کے مہرے الٹتے ہیں ، مک مکا نہ ہوسکے تو ملزم /مجرم پارٹی کے چہرے اداس لٹکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پولیس اسٹیشن عوام کو انصاف دینے کیلئے بنائے گئے ہیں جہاں بلاشبہ لین دین کے بعد ہی فیصلے کئے جاتے ہیں، کم از کم میں نے اپنی زندگی میں ایسا لطیفہ نما کیس نہیں دیکھا، درخواست کی سرخی ہی دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں، آپ کو سمجھانے کیلئے بات آسان کردیتا ہوں، درخواست گذار مدعی سبزہ زار کا پراپرٹی ڈیلر ہے اس نے تھانہ سبزہ زار میں ایک درخواست جمع کروائی کہ وہ ایک پراپرٹی ڈیلر ہے ، نام ہے اسکا محمد تحریم انوربٹ اور لوگوں کو مکان ، کمرے اور گھر کرائے اور گروی پر لیکر دیتا ہے ، بقول مدعی اس نے سید پور لاہور کی دو مختلف لیڈیز کو دو کمرے کرائے پر لے کر دیئے، اس بات کو ایک مہینہ گذر گیا ہے اور اب وہ جب بھی مالک مکان اور کرایہ دار عورتوں کے پاس کمیشن مانگنے جاتا ہے تو اسے روپوں کی بجائے کسی نہ کسی لڑکی کا ہاتھ پکڑا دیا جاتا ہے اور جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ گھر جو میں نے لیکر دیا تھا کوٹھی خانہ بن چکا ہے ، جو خلاف قانون امر ہے۔سبزہ زار پولیس کیلئے اس ایشو کے حل کیلئے صرف ایک گھنٹہ کافی تھا مگر ایسا نہ ہوا اور کچھ ہونا بھی نہ تھا، مالک مکان تو پہلے ہی کرایہ دار خواتین کی زلفوں کا اسیر بن چکا تھا ، پھر اس نے پولیس کے شیر جوانوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھلایا ہوگا، اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر دنیا کی کونسی طاقت ہے جو کوٹھی خانہ کو بند کروائے۔ پراپرٹی ڈیلر کس حال میں ہے کچھ خبر نہیں، البتہ مجھے کہنے دیجئے سبزہ زار پولیس کے وہ جیالے قابل سزا ہیں جن کی ڈھیل سے سید پور کی فضا انسانی غلاظت کی بدبو سے خراب ہونے لگی ہے ۔
قابل تعریف سمجھی جاتی ہے وہ حکومت جو کابینہ کے وزراءکا تقرر ان کی ذاتی اہلیت اوربے تجربی کو سامنے رکھتے ہوئے کرتی ہے ، موجودہ حکومت ہی کی مثال لیجئے کہ اس نے ایک ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزارت صحت کا قلمدان سونپ دیا،دیگر وزراءکی وزارتوں پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں جبکہ یاسمین راشد موجودہ حکومت کا ایک خوبصورت انتخاب ہے کہ ڈاکٹروں سے ایک ڈاکٹر وزیر ہی ڈیل کرینگی کیونکہ ڈاکٹری پیشہ کی جن باریکیوں کا پتہ یاسمین راشد کو ہے کسی دوسرے فیلڈ کا وزیر یقینا ان باریکیوں سے نابلد ہوگا ، بالکل برادرم خواجہ سلمان رفیق کی طرح، ایک ڈاکٹر وزیر کے اندر دو خوبیوں کا موجود ہونا اشد ضروری ہوتا ہے …اولاً اپنے پیشے سے مکمل آگاہی …دوئم انسانیت…انسانیت ہی ایسی خوبی ہے جسے تمامتر انسانی خوبیوں پر برتری حاصل رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی، لگتا ہے کہ وزارتی معاملے میں یاسمین راشد صاحبہ برادر عزیز سلیمان رفیق کو بھی کاٹتی ہوئی نظر آتی ہیں کیونکہ خواجہ سلمان رفیق صرف سیاستدان اور رحمدل و نیک دل انسان ہیں جبکہ یاسمین راشد بیک وقت ڈاکٹر، سیاستدان اور نیک دل خاتون بھی ہیں، البتہ دونوں شخصیات میں ایک نمایاں فرق آنے والے دنوں میں ضرور نظر آئیگاکہ خواجہ سلمان رفیق محکمہ سے زیادہ غریب مریضوں کو اہمیت دیتے تھے جبکہ یاسمین راشد ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر بننے پر زیادہ زور دینگی اور ظاہر ہے کہ یہ تضاد انہیں گوناگوں مسائل کا شکار کرسکتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ سلمان رفیق محکمہ سے زیادہ فائدہ غریب و سفید پوش مریضوں کو پہنچایا کرتے تھے جبکہ یاسمین راشد صاحبہ کو دیگر معاملات پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور یہ نقطہ ہی وزیر محترمہ کو کنفیوژ کر سکتا ہے ۔
ایک سچ نوک قلم پر لائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے مسیحاو¿ں نے سینوں سے دل اور دلوں سے انسانیت نکال کر کہیں دور پھینک دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض ننگے فرشوں پر ہی علاج کرواتے ہوئے نظر آتے ہیں ، نرسوں کے مزاج ہی مختلف ہیں، ان وجوہات کی بناءپر عام مریض شدید متاثر ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گذار رہاہے، یہ بات میں اپنے ایک کالم میں تحریر کرچکا ہوں کہ سرکاری ہسپتالوں اور وہاں کے ڈاکٹروں کو کسی ڈنڈا بردار وزیر، مشیر اور سیکرٹری کی ضرورت ہے ، میرے اسی کالم کے جواب میں شاید خواجہ عمران نذیر کا تقرر بھی کیا گیا تھا کیونکہ بہ نسبت سلمان بھائی خواجہ عمران زیادہ متحرک انسان ہیں، خواجہ سلمان رفیق محض نیک ایماندار اور خوف خدا رکھنے والے انسان ہیں اسلئے محکمہ صحت میں ڈنڈا نہ چلا سکے جس کی آج بھی ضرورت ہے جبکہ خواجہ عمران نذیر نے تھوڑا بہت ڈنڈا چلانے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی رہے ۔
فضا میں ایک خبر گردش کررہی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب و متوسط مریضوں کے علاج کیلئے جاری کئے جانے والے سی ایم ڈائریکٹیوز معطل و ختم کئے جارہے ہیں اور یہ سیٹ اپ یاسمین راشد صاحبہ کی حکومت کررہی ہے ، اس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب، میڈم یاسمین راشد اور سیکرٹری صحت کو میں تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خزانہ جہاں سے غریب و سفید پوش مریضوں کو ایک یا دو نمبر دوائیاں دی جاتی ہیں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، اگر یاسمین راشد یا انکے کسی اللے تللے نے غریبوں کا علاج بند کرنے کی کوشش کی تو بھرپور مزاحمت کی جائیگی، جو صرف عرش معلی ہی کو نہیں موجودہ حکومت کوبھی ہلا کر رکھ دیگی، ویسے اللہ نہ کرے یہ خبر درست ہو۔
مجھے آج بھی سرکاری ہسپتالوں کے تمام بڑے پلاسٹک سرجیز کا وہ ریکارڈ یاد ہے جو انہوں نے اس فقیر (راقم) کا آپریشن نہ کرنے کیلئے کیا تھا، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف تک کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیاتھا کہ خواہ بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑے راقم کا آپریشن نہیں کرینگے ، وجہ یہ تھی کہ راقم ان کے کرتوت اپنے کالموں کے ذریعے منظر عام پر لاتا رہتا تھا اور آج بھی باز نہیں آیا… کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے …میرے سوہنے اللہ نے مجھے کلمہ حق بلند کرنے کیلئے زندہ رکھنا تھا اور رکھا ہوا ہے اور مجھے موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھنے والے مسیحاو¿ں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور میں اللہ کے حکم سے آج بھی زندہ و سلامت ہوں، یہ الگ داستان ہے کہ میرا آپریشن کیسے ، کہاں اور کس نے کیا ، مناسب وقت پر ضرور بیان کرونگا، فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں کہ اے صاحبان اقتدار اللہ اور اسکی مخلوق کو خوش رکھنا چاہتے ہو تو کبھی مستحق، غریب اور سفید پوش مریضوں کے علاج سے انکار نہ کرنا ورنہ …..!
(کالم نگارثقافتی‘سماجی اورادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

کالا باغ ڈیم

عبدالمجید منہاس….خاص مضمون
کالا باغ ڈیم حکومت پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کر کے بجلی پیداوار اورزرعی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ تھا جس پر بوجوہ ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے کالا باغ کی ایک جگہ منتخب کی گئی تھی جو ضلع میانوالی میں واقع ہے۔ یہ ضلع صوبہ پنجاب کے شمال مغربی حصے میںواقع ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اس کی تیاری کے مراحل سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ دسمبر 2005ءمیں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ ” وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کالا باغ ڈیم تعمیر کر کے رہیں گے“ جبکہ 26مئی 2008ءکو وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی نے ایک اخباری بیان میں کہا ” کالا باغ بند کبھی تعمیر نہ کیا جائے گا“ اطلاعات کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے وطن عزیز پاکستان کو سستی بجلی تربیلا ڈیم سے مل رہی ہے۔ اربوں یونٹ بجلی کی لاگت تقریباً فی یونٹ چند روپے ہے یعنی تین چار روپے فی یونٹ تک اور یہ سستی ترین بجلی بھی فی یونٹ کتنے میں فروخت ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر موسم سرد ہو یا گرم بجلی جن طریقوں سے پیدا ہوتی ہے وہ طلب سے کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اگرچہ وہ سرد موسم میں کم اور گرم موسم میں زیادہ ہوتی ہے۔شہروں کی نسبت دیہات میں 12، 12گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ دیکھا جائے تو اس سلسلے میں حکومت کئی نئے ڈیموں پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور اس سے یقیناً پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو گابلکہ سستی بجلی بھی میسر آئے گی۔اس سلسلے میں کئی متبادل اقدامات بھی جاری ہیں۔ جہاں تک کالاباغ ڈیم کا تعلق ہے کئی دہائیوں سے یہ منصوبہ مختلف مصلحتوں کی وجہ سے التواءکا شکار ہوتارہا اورکالا باغ ڈیم جس کی مخالفت میں ایک بار پھر سندھ اورکے پی کے، کے لوگوں نے بیانات دینے شروع کردیئے حالانکہ انکی سوچ سراسر غلط ہے۔ آج اگر کوتاہیوں کی وجہ سے نہ بننے والا کالا باغ ڈیم بن جاتا وہاں سے 3600میگا واٹ بجلی ملتی اور اس کی فی یونٹ لاگت 2روپے 50پیسے ہوتی۔ اس ڈیم کی تعمیر سے 6.1بلین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت ملتی۔ اس طرح سندھ کو 40لاکھ ایکڑ فٹ‘ بلوچستان کو 15لاکھ ایکڑ فٹ ‘کے پی کے کو 20لاکھ ایکڑ فٹ اور پنجاب کو 22لاکھ اضافی پانی ملتا اور جو آج ملک بھر میں پانی کی کمیابی کا شورہے وہ نہ ہوتا مگر چند لوگوں نے وہی زبان اپنائی جو بھارت کی ہے۔ بھارت ایک طرف اپنے ملک میںدرجنوں نئے ڈیم بنا رہا ہے دوسری طرف پاکستان کی طرف آنے والے پانی کو روکتا جا رہا ہے۔ یوں پاکستان کے دریاﺅں میں پانی نہروں سے بھی کم دکھائی دیتا ہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب اس کے ڈیم پانی سے بھر جاتے ہیں تو وہ اضافی پانی چھوڑ کر ہمارے لیے مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔ ضرورت تو اس وقت اس امر کی ہے کہ فوری طور تمام کوششیں کالا باغ ڈیم کو بنانے پر لگائی جائیں تاکہ یہ جتنی جلدمکمل ہو گا پاکستان اتنا جلد روشن بلکہ سرسبز بھی ہو گا۔ اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل واپڈا کے چیئرمین اور لاہور چیمبر نے اس ڈیم کے حوالے سے کہاتھا کہ بھوک قحط اور تباہی پھیلانے والے سیلابوں سے بچنے اورسستی بجلی پیدا کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم بنانا ضروری ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت آج کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم مخالف عناصر کے واویلے پر کان نہ دھرے کیونکہ یہ سچ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے ہر سال سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہوتی ہے وہ ایک طرف توانائی کا بحران بھی آج اتنی شدت سے نہ ہوتا۔ ان تمام توانائی مسائل کا فوری حل کالا باغ ڈیم کی جلد تعمیر میںہے۔ دوسرے ڈیموں کی نسبت کالا باغ ڈیم کی تعمیر بہت آسان ہے اور قلیل مدت میں با آسانی بن سکتا ہے ایسے منصوبے کوختم کرنا قابل افسوس امر ہے۔
کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو پیش ہوتے ہی پاکستان کے چاروں صوبوں خیبر پختوانخواہ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی تلخی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس منصوبہ کی تعمیر کے حق میںصرف صوبہ پنجاب ہے جو کہ تمام چاروں صوبوں میں سیاسی و معاشی لحاظ سے انتہائی مستحکم ہے۔ مرکزی حکومت کی تشکیل بھی عام طور پر صوبہ پنجاب کی سیاست کے گرد گھومتی ہے۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں نے اس منصوبہ کی تعمیر کے خلاف صوبائی اسمبلی میں متفقہ قردادیں منظور کیں اورسخت تحفظات کا اظہار کیا۔ تب سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے اوراس پر کوئی بھی تعمیری کام ممکن نہ ہو سکا۔
وزیراعظم صاحب کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہی شروع کر دیں یہ کارنامہ ان کے مستقبل کیلئے بھی زادہ راہ ثابت ہو گا کیونکہ اس ڈیم کی تعمیر سے ملکی معیشت بھی تیزی سے ترقی کرے گی۔ اورموجودہ بجلی اور معاشی بحران بھی ختم ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں سارے صوبوں کو بھی تمام اختلافات اورنجشیں فراموش کر کے کالا باغ ڈیم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کی حمایت کرنی ہو گی یہی وقت کا تقاضا ہے، کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔
(کالم نگار قومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

جرمنی سے سیکھیں

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
یورپ میں دوسری عالمی جنگ تہتر برس قبل ختم ہوئی تھی۔ اس دوران لاکھوں جرمن موت کے منہ میں چلے گئے، جرمنی کے بڑے بڑے شہر تباہ اور عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی تھیں، زراعت، بجلی، سڑکیں، بندرگاہیں ناقابل استعمال تھیں۔ جرمنی، مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی میں تقسیم ہو چکا تھا۔ جنگ کے بعد جرمنی نے نیا دستور بنایا، انسانیت سے معافی مانگی اور آئندہ جنگ جیسی تباہ کن غلطی نہ دہرانے کا عزم کیا۔ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیئے جدوجہد کا نہ ختم ہونے والا سفر اپنایا اور یہی انداز اب بھی ہے۔ آج دنیا بھر میں یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کی دھوم ہے۔ ایک ایسی معیشت جو عالمی معاشی بحران کے دوران بھی ترقی کرتی رہی، جس نے روزگار کی نئی آسامیاں بھی فراہم کیں اور ملک کو خسارے سے بھی بچائے رکھا۔معیشت کی ترقی اور کامیابی کا دارومدار معاشی نظم و ضبط پر ہوتا ہے کیونکہ یہی نظم و ضبط معاشی سرگرمیوں کے لیئے ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ جرمنی میں اس نظم و ضبط کو“ سوشل مارکیٹ اکانومی“ کہا جاتا ہے۔ یہ مارکیٹ سرمایہ داری، سماجی پالیسیوں اور سوشل انشورنس کا مرکب ایک ایسا نظام ہے، جسے اکثر مربوط مارکیٹ اکانومی بھی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد ایک طرف تو سرمایہ دارانہ مقابلے کی دوڑ ہوتی ہے دوسری جانب یہ ریاست کو سماجی پالیسیوں میں بہتری لانے کے لیئے اقدامات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جرمنی کی“ سوشل مارکیٹ اکانومی“ کی جڑیں 19 ویں صدی سے ملی ہوئیں ہیں۔“ بسمارک”جنہیں اپنے وقت کا آئرن چانسلر یا چانسلر آہن کہا جاتا تھا، نے سماجی قوانین وضع کیئے تھے جن میں پنشن اور ہیلتھ انشورنس کو شامل کیا گیا تھا۔ ان قوانین کے تحت پنشن اور ہیلتھ انشورنس کی ماہانہ قسط کا نصف حصہ آجر ادا کرتا ہے اور نصف کام کرنے والا۔ یہ اصول دور حاضر کے سماجی قوانین کی بنیاد ہے۔ ان قوانین کو دوسری عالمی جنگ کے بعد خاندانی امور، سماجی امداد اور کئی دیگر شعبوں کی پالیسیوں کا حصہ بنایا گیا اور یہ آج تک رائج ہیں۔ جرمن معیشت کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہاں لیبر یونینوں اور آجرین کے مابین ایک شراکت داری یا پارٹنرشپ کا تعلق بھی پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں بہت کم ہڑتالیں ہوتی ہیں۔ ایک وقت ایسا تھا جب جرمنی میں بے روزگاری کی سطح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی تھی۔ تاہم اسی اثناءمیں جرمنی کی روزگار کی منڈی میں ایک معجزہ پیش آیا۔ اچانک 42 ملین افراد کو روزگار میسر ہوا۔ روزگار سے وابستہ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد اس سے پہلے جرمن تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس کامیابی کا سہرا“ ایجنڈا 2010 کے سر ہے۔
اس ضمن میں ایک نہایت اہم امر کم اجرت کے سیکٹر اور روزگار کی منڈی کی ڈی ریگولیشن اور اسے لچکدار بنانا ہے۔ اس کے سبب ایک طرف تو نئی آسامیاں پیدا ہوئی ہیں دوسری جانب بہت کم اجرت والی جابز پیدا ہوئی ہیں۔ جرمنی میں کوئی بھی حکومت بنائے، اس کی کوشش یہی ہو گی کہ ان اصلاحات کے منفی ضمنی اثرات دور کرے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے، یعنی واجب الادا قرضوں کا بوجھ، جس کے لیئے ہمیں اگلے تین ماہ کے دوران کم از کم اڑھائی ارب ڈالر درکار ہیں۔ آج ہماری معیشت کے لیئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان قرضوں کو واپس کیسے کریں۔ اگرچہ ملکی معیشت پر یہ ایک کڑا وقت ہے۔ بڑھتا ہوا خسارہ اور زرمبادلہ کے گرتے ذخائر کو سہارا دینا نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہو گا۔ مگر وزیراعظم پر امید ہیں کہ اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے راستے موجود ہیں۔ بڑے ملکی ادارے ملکی معیشت کے لیئے سانس کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ ریلوے، پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز اور دوسرے خسارے پر چلنے والے اداروں کو منافع بخش یونٹس میں بدلنا ہو گا۔ یہ کام بھی بلاشبہ نئی حکومت کے لیئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ نئی حکومت کو متعدد اہم مسائل کا سامنا ہے مگر ان میں دوست ممالک سے دوستانہ تعلقات کے علاوہ اہم ترین مسئلہ قومی سلامتی ہے، کیونکہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں تاریخ کا حساس ترین اور نازک دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاک چین تعلقات اور دونوں دوست ملکوں کے درمیان ہونے والا اقتصادی معاہدہ سی پیک ملک دشمن استعماری قوتوں کے حلق میں کانٹا بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں پاکستان اور چین کی طرف سے بیانات اس امر کا ثبوت ہیں کہ سی پیک کا منصوبہ بن کر رہے گا۔ اس وقت پاکستان پانی کی قلت کے سنگین بحران سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیئے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان بحرانی صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی تعداد ناکافی ہے۔ اگر فوری تدبیر نہ کی گئی تو 2025 تک اناج اگانے کے لیئے بھی پانی نہیں بچے گا، اور ملک میں قحط سالی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے مدد مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیموں کی تعمیر کے لیئے پاکستانی تارکین وطن رقوم بھیجیں تو پانچ برس میں ڈیم تعمیر کر لیں گے۔ نئے ڈیم سے نہ صرف پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے گابلکہ اس سے ہماری بنجر ہوتی زمین بھی سیراب ہو گی اور وطن عزیز سر سبز پاکستان بن سکے گا۔ حقیقت میں پانی بجلی اور ڈیمز پاکستان اور عوام کی سلامتی، بقا کے لیئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

امریکی وزیرخارجہ اورنیاپاکستان

خدا یار خان چنڑ …. بہاولپور سے
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میںجوبھی پارٹی حکومت میں ہوتی تھی مختلف ادوارمیں جب بھی کوئی گوراوزیرمشیرپاکستان کے دورے پرآتاتھاتواس گورے کوخوش کرنے کے لئے پوری حکومت کولالے پڑے ہوئے ہوتے تھے اس گورے کوپروٹوکول کس طرح دیناہے ‘رہائش کیسی ہونی چاہئے‘ کھانے کاخاص اہتمام کیاجاتاتھا۔جب وہ گوراپاکستان کی سرزمین پر اترتا تھاتوپاکستان حکومت کے آدھے وزیرتوگل دستے لے کر اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہوتے تھے پورے شان وشوکت کے ساتھ شہزادوں کی طرح ان کی خاطرتواضع کی جاتی تھی ان کی ناراضگی کاخاص خیال رکھاجاتاتھاکہیں واپس جاکران کی شکایت نہ کردے۔ سابقہ پاکستانی وزیراعظم جتنے بھی گزرے ہیں ان کی پہلی ترجیح یہی ہوتی تھی کہ امریکہ کوخوش رکھنا اور ان سے ملک سے ہٹ کربھی ذاتی تعلقات بنانے کے لئے ان کی بے حدخوشامدکرنا۔جب کوئی گوراپاکستان کادورہ کرکے واپس جاتاتھاتوپاکستانی وزیراعظم کی طرف سے اسے بڑے قیمتی تحائف سے نوازاجاتاتھاتاکہ امریکی صدر کے منظورنظرہوسکیں پاکستانی حکومت گوروں کے سامنے اپنے اداروں کے خلاف باتیں کرکے امریکہ کوخوش کرتے تھے۔امریکہ پاکستان کے تمام اداروں کوایک پیج پرنہیں دیکھنا چاہتا تھا اوروہ کئی سالوں سے اس شرارت میں کامیاب بھی رہاہے ۔پاکستان دشمن قوتوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں انارکی پھیلاکرخانہ جنگی کروائے عوام اوراداروں کے درمیان بغاوت پیدا کرنا ‘پاکستانی حکومت سے اپنے اداروں کے خلاف بیان بازی کروانا۔سابقہ ادوار میں حکومتوں نے جوحشراپنے اداروں کاکیاہے وہ سب کے سامنے ہے سب کے مکروہ چہرے کھل کرپاکستانی قوم کے سامنے آگئے تھے تمام اداروں کاستیاناس کرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی گئی ۔اب حال ہی میں امریکہ کے وزیرخارجہ پاکستان کے دورے پرآئےجب وہ پاکستان کی سرزمین پراترے تو پہلے کی طرح وہ شان وشوکت والاپروٹوکول نہیں تھاروٹین میں جس طرح ہمارے وزیرباہرکے ملکوں کے دورے پرجاتے ہیں ایک نارمل طریقہ سے ویلکم کیاجاتاتھا اسی طرح ان کے ساتھ ہوا پہلی تبدیلی توامریکی وزیرخارجہ کوائرپورٹ پرہی نظرآگئی تھی ان کویہ محسوس ہوگیاتھا کہ شائدیہ پہلے والا پاکستان نہیں ہے ۔جب امریکہ کے وزیرخارجہ کی ملاقات پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ ہوئی توہرپاکستانی کاسرفخرسرسے بلندہوگیا پہلے پاکستانی وزیراعظم اورامریکہ کے وزیرخارجہ کوآمنے سامنے برابرکی دوکرسیوں پربٹھاکرملاقات کروائی جاتی تھی سابقہ وزیراعظم کو امریکی وزیرسے ملاقات کے لئے مکمل تیاری کروائی جاتی تھی کہ وزیراعظم کے کپڑے کیسے ہونے چاہئیں اوراس کے اوپرویسکوٹ کیسی ہونی چاہئے اوران کے ساتھ گفتگوکی تیاری بھی کروائی جاتی تھی ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارایساہواکہ جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تووزیراعظم پاکستان کی ملاقات کے لئے امریکی وزیرخارجہ اوران کاوفدپہلے سے انتظارکررہاتھاجب پاکستان کے وزیراعظم آئے توپاکستانی لباس شلوارکرتامیں تھے۔ وہ معمول کے مطابق جس طرح پاکستانی وزراءکے ساتھ ملتے ہیںوہی رویہ انہوں نے امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ اپنایا ۔عمران خان کے اوپرایک فیصد کوئی اعصابی دباﺅ نہیں تھا کہ وہ امریکہ کے وزیرخارجہ سے ملاقات کررہے ہیں ۔ وہ اس طرح آئے جیسے کوئی مصروف ترین شخص جس کاایک ایک منٹ قیمتی ہو امریکی وفدسے ہاتھ ملایا اورفوراًگفتگو شروع کردی اپنی گفتگو مکمل کرتے ہی اٹھ کراپنے کام پرچلے گئے نہ توان سے کوئی ذاتی تعلقات بنانے کی کوشش کی گئی نہ کوئی خوشامدی الفاظوں سے نوازاگیا۔پہلی بارایساہواکہ درمیان میں پاکستانی وزیراعظم کی کرسی تھی اوردائیں جانب پاکستانی بیٹھے تھے اوربائیں جانب امریکی وفدبیٹھاتھا امریکہ کے وزیرخارجہ کو پہلی بار ایسا معلوم ہواکہ واقعی کسی غیرت مند اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعطم سے ملاقات ہوئی ہے ورنہ پہلے توپاکستانی وزیراعظم کو گاجرمولی سمجھاجاتاتھا۔ سب سے خوشی کی بات یہ کہ پہلی بارایساہواہے کہ ہماری عوام اورحکومت ،عدلیہ اور افواج پاکستان ایک ہی پیج پرکام کررہی ہےں جب امریکی وزیرخارجہ کی پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی توافواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ بھی ساتھ تھے ۔ پاکستانی حکومت اورتمام اداروں کوایک پیج پردیکھ کرامریکہ اورپاکستان دشمن قوتوں کوبڑی تکلیف ہورہی ہے کیونکہ پاکستانی حکومت اورتمام اداروں کاایک پیج پرکام کرناپاکستان کے لئے بڑی خوش آئندہ بات ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے جاتے ہوئے کہاکہ جنرل قمرباجوہ نے واضح طورپرانہیں کہاکہ جوحکومت پاکستان کی ترجیحات ہیں میری ترجیحات بھی وہی ہیں ۔امریکہ کے لئے یہ کوئی اچھاپیغام نہیں ہے۔ پہلی بارایسا نظرآرہا ہے کہ پاکستانی قوم اورپاکستان کے تمام اداروں کواپنے وزیراعظم پرفخرہے کیونکہ پہلے جتنے بھی وزیراعظم پاکستان تھے وہ گوروں سے یا بہت بڑے لوگوں سے مرعوب ہوجاتے تھے ۔عمران خان کاتووزیراعظم بننے سے پہلے ہی دنیا کے تمام بڑے لوگوں کے ساتھ ملناملانارہتاتھا گوروں سے ملنا ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی جو ان کے لئے کوئی خاص اہتمام کیاجاتاعمران خان نے بڑی خوداعتمادی اوربامقصدملاقات کرکے پاکستانی قوم کاسرفخرسے سرکیاہے۔ جوامریکہ کاپوری دنیاپرایک ہوّابناہواہے آج امریکہ کو پاکستان میں اپنی حیثیت کاپتہ چل گیاہوگا کہ اب وہ پہلے والاپاکستان نہیں رہااب برابری کی سطح پرتعلقات رکھیں گے تو پاکستان کے ساتھ چل سکیں گے ورنہ پاکستان اب نیچے لگنے کے لئے تیارنہیں نہ ہی اب وہ YES BOSSکرنے کے لئے تیارہیں۔امید ہے کہ اب امریکہ کوبھی اپنامزاج بدلناپڑے گا۔ ڈوموروالی باتیں نہیں چلیں گی پاکستان کاواحدوزیراعظم عمران خان ہے جس کی پراپرٹی باہرکے ملک میں نہیں کوئی بنک بیلنس باہرنہیں ہے جس کی وجہ سے عمران خان کوکسیملک کے ساتھ لچک رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب پاکستان باہر کی دنیاکے ساتھ برابری کی بنیادپرتعلقات رکھے گا۔ اب جوعمران خان کی حکومت آئی ہے پوری دنیاکی نظریں پاکستان پرلگی ہوئی ہیں اب دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات اورسرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اب پاکستانی قوم وہ ملک سے باہرہوں یاملک کے اندرہوں اپنے وزیراعظم اورپاکستان کے تمام اداروں پرمکمل اعتمادکر رہے ہیں انشااللہ اب پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کرے گا اب پاکستان کی باگ دوڑ مضبوط قیادت کے ہاتھ میں ہے پہلے کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیارنہیں تھا ان کے تحفظات تھے پہلے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنابہت بڑاسک تھا جتنے بھی اوورسیزپاکستانی ہیں انہوں نے اپنا پیسہ باہررکھاہواہے وہ پاکستان میں کاروبارکرنے سے ڈرتے تھے ان کوسابقہ حکومتوں پریقین نہیں تھا اب جب سے عمران خان وزیراعظم بناہے اب اوورسیزپاکستانی ،پاکستان میں کاروبارکرنے کے لئے سوچنے پرمجبورہوگیاہے ویسے بھی پہلے دن سے عمران خان یہی کہ رہاہے تمام اوور سیزپاکستانی ساراپیسہ پاکستان کے بینکوں میں رکھ دیں توہمیں قرضہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی اب وزیراعظم عمران خان کو ایسا قانون بنانا چاہئے کہ ہرپاکستانی کاپیسہ صرف پاکستان کے بنکوں میں ہوناچاہئے تاکہ پاکستان کی معیشت تیزی سے بہترہوسکے ۔
(کالم نگارچیئر مین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭

کراچی میں 8، 9 اور 10 محرم کو موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ

کراچی (ویب ڈیسک)کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں 8، 9 اور 10 محرم کو موبائل فون سروس بند رکھی جائے گی۔سیکرٹری داخلہ سندھ قاضی کبیر جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے شہر بھر میں موبائل سروس بند نہیں ہوگی، صرف جلوسوں کی گزرگاہوں اور اطراف میں سروس کو معطل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ موبائل فون سروس صبح 7 تا رات 12 بجے تک بند رہے گی۔سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ حیدرآباد، شہید بے نظیرآباد، خیرپور اور لاڑکانہ میں بھی موبائل فون سروس بند رہے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شکارپور اور جیکب آباد میں بھی موبائل فون سروس بند رہے گی۔

چیف جسٹس کا کراچی میں ڈکیتی کے دوران 10 سالہ امل کی ہلاکت کا نوٹس

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں ڈکیتی کے دوران 10 سالہ بچی امل کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس نے معاملے کی سماعت کے لیے 25 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔خیال رہے کہ جیو نیوز نے گزشتہ روز امل کی ڈکیتی کے دوران زخمی ہونے کے بعد نجی اسپتال اور ایمبولینس سروس کی غفلت اور لا پرواہی کا معاملہ اٹھایا تھا۔گزشتہ ماہ 13 اگست کی شب کراچی میں ڈیفنس موڑ کے قریب اختر کالونی سگنل پر ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ملزم کے ساتھ ساتھ جائے وقوع پر موجود گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی 10 سالہ بچی امل بھی جاں بحق ہوگئی تھی۔
امل کے والد عمر نے بتایا، ‘ا±س رات ہم کورنگی روڈ سے ایف ٹی سی کی طرف جارہے تھے، جیسے ہی سگنل بند ہوا تو ایک بندہ آیا اور مطالبہ کیا کہ سب چیزیں دے دیں’۔انہوں نے بتایا کہ ‘اس سگنل پر ا±س وقت بہت رش تھا، ا±س شخص نے میرا فون لیا، بینش کا بیگ لیا اور ہمیں کہا کہ شیشہ اوپر کرلو اور پھر وہ پیچھے چلا گیا’۔عمر نے مزید بتایا کہ جب ہماری گاڑی چلی تو اچانک ہمیں گولی چلنے کی آواز آئی اور ہمیں لگا کہ ہماری گاڑی کی ونڈ اسکرین پر گولی لگی ہے، جب ہم نے پیچھے دیکھا تو جہاں امل اور ہماری چھوٹی بیٹی بیٹھی تھی، وہاں سیٹ پر خون تھا’۔انہوں نے بتایا کہ ‘ہمیں اندازہ نہیں ہوا کہ گولی کہاں لگی ہے، میں نے لوگوں سے درخواست کی، جس پر مجھے نکلنے کا راستہ مل گیا اور خوش قسمتی سے ہم 3 سے 5 منٹ میں قریب ہی واقع نجی اسپتال نیشنل میڈیکل سینٹر (این ایم سی) پہنچ گئے’۔عمر کے مطابق ‘اسپتال میں امل کو گلے میں ٹیوب لگائی گئی اور ماتھے پر پٹی رکھی گئی اور پھر انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے، بچی کو جناح اسپتال لے جائیں’۔انہوں نے بتایا کہ این ایم سی والوں نے میڈیکولیگل کارروائی کی وجہ سے یہ کہا کیونکہ یہ پولیس کیس تھا، جس کے بعد انہوں نے خود سے چھیپا ایمبولینس کا انتظام کیا اور اپنی بیٹی کو جناح اسپتال لے کر گئے، لیکن تب تک وہ دم توڑ چکی تھی۔