All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

بیچارہ روپیہ

توصیف احمد خان

محترم چیف جسٹس پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے بعد خیبرپختونخوا پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے پشاور رجسٹری میں سماعت کی، یہ سماعت پانی کے حوالے سے تھی جس میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو بھی طلب کیا گیا اور ان سے استفسارات کئے، حکومت کی کارکردگی دریافت کی ، وزیراعلیٰ نے حکومت میں آنے پر سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت زار سے آگاہ کیا اور ان اقدامات کا ذکر کیا جو صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس صاحب جہاں بھی گئے وہاں پانی کے مسئلہ کو ترجیح دی گئی کیونکہ اس ملک میں کثیر اخراجات کے باوجود عام آدمی کو صاف پانی میسر نہ آنا ایک المیہ سے کم نہیں، اگر یہ حکمرانوں یا بیوروکریسی کی غفلت ہے تو پھر قدیم محاورے کے مطابق کولہو میں پیل دیئے جانے کے قابل ہیں، اصل میں آج کل تو کولہو ہوتے نہیں ہر کام مشینی ہے لہٰذا موجودہ نسل اس کولہو سے آشنا ہی نہیں جہاں سرسوں اور دیگر بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہے ، ہمارے یہاں امراض کی سب سے بڑی وجہ ناقص یعنی ملاوٹ شدہ غذا اور ایسا پانی ہے جو پینے کے قابل نہیں ہوتا، اس پر طرہ جعلی ادویات…یہ سب مل کر انسان کو بیماریوں کا ملغوبہ بنادیتے ہیں ان امور پر توجہ دینے والا انسانوں کے دلوں میں تو گھر کرہی رہا ہے ساتھ ہی اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی مل رہی ہے ۔
پانی ہی کے مسئلہ پر سندھ میں حکمرانوں کو کافی رگڑا گیا کہ خصوصاً کراچی میں بعض اوقات لوگ واقعی بوند بوند کو ترس رہے ہوتے ہیں جبکہ ٹینکر مافیا دونوں ہاتھوں سے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف رہتا ہے ، جو یقینا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے ، پنجاب میں تو کافی وقت گذاراگیا اور حکمرانوں کی ہی نہیں بیوروکریسی کی بھی خوب خبر لی گئی ، یہاں جو جو معاملات سامنے لائے گئے ہیں ان سے تو لگتا ہے کہ سب کچھ دھوکہ تھا، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے اورجو سبز باغ دکھائے جارہے تھے وہ اچانک خشک گھاس میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
بلوچستان میں مختصر وقت گذاراگیا، وہاں بھی وزیر اعلیٰ کی طلبی ہوئی مگر انہیں اقتدار سنبھالے ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے یعنی بہت کم عرصہ گزرا ہے لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ فی الحال ملبہ ان پر نہیں ڈالا جاسکتا ، ابھی تو سابق وزرائے اعلیٰ ہی ذمہ دار ہیں ، اسی لئے ن لیگ کی حکومت کے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ یعنی ڈاکٹر مالک اور ثناءاللہ زہری کو طلب کرلیاگیا ہے ، ان کی 30اپریل کو اسلام آباد میں پیشی ہے ، دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے اور ان کے ساتھ کیسے سوال و جواب ہوتے ہیں، قرائن سے لگتا ہے کہ انہیں جان بچانا مشکل ہوجائے گا، آخر اقتدار کے مزے لوٹنا کوئی آسان کام تو نہیں، کبھی کبھی ان مزوں کی وجہ سے بھگتنا بھی پڑجاتا ہے ۔
اور اب محترم چیف جسٹس کے پی میں ہیں جہاں کے وزیراعلیٰ پیش بھی ہوئے اور سوالات کے جواب بھی دیئے، انہوں نے کچھ ماضی کو دہرایا اور کچھ اپنی کہی، جمعرات کا دن تو ان کیلئے مشکل ثابت نہیں ہوا لیکن دیکھتے ہیں آنیوالے دن کیا خبر لاتے ہیں ، کیونکہ مسائل کا انبار ہے ، اگلی سماعتوں سے پتہ چل جائیگا کہ جناب جسٹس ثاقب نثار کے پی کے معاملات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور اس صوبہ کے عوام کیلئے کس طرح خوشخبری بنتے ہیں، فی الحال تو آئی جی پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ غیر ضروری لوگوں کی سکیورٹی ختم کردی جائے ، اس پر غالبا ً اب تک عملدرآمد بھی ہوچکا ہوگا لیکن اس سے ایک امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی غیر ضروری لوگوں کو سکیورٹی دی گئی ہے ، گذشتہ روز کی سماعت میں صاف پانی کے معاملہ پر چیف جسٹس نے سختی سے نوٹس لیا، انہوں نے میڈیکل کالجوں کی فیسوں سمیت بہت سے دوسرے اقدامات بھی کئے ۔
برادر عزیز طارق کیانی نے قیام پاکستان کے بعد سے اب تک سال بہ سال ڈالر کے نرخ بھیجے ہیں، فنانشل ٹائمزمیں شائع ہونےوالے یہ نرخ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہونگے ، لہٰذا انہیں کالم کا حصہ بنایاجارہاہے، اس سے یہ بھی پتہ چل جائیگا کہ کس کی حکومت میں روپیہ کتنا بے توقیر ہوا ، نرخ درج ذیل ہیں :۔
1948 سے1954 تک3.30 روپے فی ڈالر، 1955 میں3.91 روپے فی ڈالر، 1956 سے 1971تک4.71 روپے فی ڈالر، 1972ءمیں8.68 روپے فی ڈالر،1973ءمیں9.99 روپے فی ڈالر، 1974 سے1981تک9.90 روپے فی ڈالر، 1982ءمیں11.84 روپے فی ڈالر، 1984ءمیں15.92 روپے فی ڈالر، 1986ءمیں16.64 روپے فی ڈالر، 1987ءمیں17.39 روپے فی ڈالر، 1988ءمیں18.00 روپے فی ڈالر، 1989ءمیں20.54 روپے فی ڈالر، 1990ءمیں21.70 روپے فی ڈالر، 1991ءمیں23.80 روپے فی ڈالر، 1992ءمیں25.08 روپے فی ڈالر،1993ءمیں28.10 روپے فی ڈالر، 1994ءمیں30.56 روپے فی ڈالر، 1995ءمیں31.64 روپے فی ڈالر، 1996ءمیں36.07 روپے فی ڈالر، 1997ءمیں41.11 روپے فی ڈالر، 1998ءمیں45.04 روپے فی ڈالر، 1999سے2000 تک51.04 روپے فی ڈالر، 2001ءمیں63.00 روپے فی ڈالر، 2002ءمیں60.00 روپے فی ڈالر، 2003ءمیں57.55 روپے فی ڈالر، 2004ءمیں57.60 روپے فی ڈالر، 2005ءمیں59.50 روپے فی ڈالر،2006ءمیں60.20 روپے فی ڈالر، 2007ءمیں60.63 روپے فی ڈالر،2008ءمیں66.80 روپے فی ڈالر، 2009ءمیں80.25 روپے فی ڈالر،2010ءمیں84.65 روپے فی ڈالر،2011ءمیں85.60 روپے فی ڈالر، 2012ءمیں89.87 روپے فی ڈالر، 2013ءمیں97.30 روپے فی ڈالر،2014ءمیں102.99 روپے فی ڈالر، 2015ءمیں101.39 روپے فی ڈالر، 2016ءمیں104.09 روپے فی ڈالر، 17 فروری 2017ء104.19 روپے فی ڈالر،14 دسمبر2017،109.50 روپے فی ڈالر،اور آج115.76 روپے فی ڈالر۔
واضح رہے کہ قیام پاکستان سے ایک صدی قبل ایک ہندوستانی روپے کے مقابلے میں چودہ ڈالر ملتے تھے اور قیام پاکستان کے وقت بھی نرخ قریباً برابر ہی تھا۔ افسوس! آج کیا حالت ہو گئی ہے۔
٭٭٭

پی ٹی آئی کا اقتدار

عبدالودودقریشی

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اپنی طبعی مدت پوری کر چکی ہیں۔ ساری دنیا میں ادبی اور سیاسی تحریکوں کی ابتداءخاموشی سے ہوتی ہے رفتہ رفتہ وہ مظلوم نظر آتی ہیں پھر لوگ ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اقتدار ان کا مقدر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ان پر عروج آتا ہے اور پھر عروج کے بعد زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے تمام سیاسی جماعتوں کے مقدر میں ادبی تحریکوں کی طرح عروج و زوال لکھا جاتا ہے ماسوائے برطانیہ اور امریکہ کے جہاں پارٹیوں کے نام تو رہتے ہیں مگر پارٹی کے عہدیداران ازخود نکل جاتے ہیں لہٰذا ان کی تجدید ہوتی رہتی ہے اسی لئے وہ پارٹیاں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کی طرح انہدام پذیر نہیں ہوتیں یہی حال ادبی تحریکوں کا ہے جس میں کچھ ادیب ایک تحریک شروع کرتے ہیں پھر وہ عروج پر پہنچتی ہے۔ اس کے بعد یہی ادیب اس کے نام میں خامیاں،برائیاں نکالتے ہیں۔ ادبی تنظیمیں گروہی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور یوں انہدام ان کا بھی مقدر ہوتا ہے مسلم لیگ ن میں بھی گروہی صورتحال اپنے عروج پر تھی ایک طبقہ میاں نواز شریف کے گرد، ایک طبقہ مریم نواز، ایک شہباز شریف کے گرد اور ایک طبقہ 31مئی تک اقتدار کے مزے لوٹنا چاہتا ہے۔ میاں نواز شریف کا پہلا دور بھی پرویز مشرف کے پہلے دور کی طرح تھا جس میں لوگوں کو بہت کم یقین تھا کہ یہ بد عنوان ہیں ان کی حکومت عوامی فلاح کے کام کرے گی مگر وقت گزرنے کے ساتھ پرویز مشرف کے پاس چوہدری صاحبان،جمالی اور شوکت عزیز نمودار ہوگئے اور میاں نواز شریف کے پاس بھی ق لیگ کے ہی ارکان اعلیٰ عہدوں پر بلکہ یوں کہیے کہ اختیارات کے منبع پر بیٹھ گئے میاں نواز شریف کا یہ المیہ رہا ہے کہ اقتدار میں آتے ہی اس کے گرد بھٹو کے چاہنے والے جمع ہوگئے اور انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا دکھ میاں نواز شریف کے ذریعے فوج پر نکالنے کی پوری کوشش کی میاں نواز شریف ان کے چکمے میں آگئے کیونکہ یہ لوگ شام کو مال بناتے اور مشروب سے ہم آغوش ہوتے جبکہ دن کے وقت میاں نواز شریف کو انقلابی باتیں بتا کر عالمی لیڈر بننے کا چکمہ دیتے تھے۔ اقتدار میں آتے ہی میاں نواز شریف نے اپنی مسلم لیگ کو ایک ڈبے میں بند کرکے طاق میں رکھ دیا بیورو کریسی اور انٹیلی جینس بیورو کے ذریعے حکمرانی میں جت گئے پھر اچانک پانامہ کا کیس سامنے آیا جس کو بڑی رعونت کے ساتھ دبانے کی کوشش کی گئی مطالبہ تھا کہ پارلیمان میں بیان دیا جائے جس سے انکار کر دیا گیا۔ کہا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے اس سے بھی انکار کر دیا گیا کہ کسی جج سے تحقیقات کروائی جائے اس پر بھی انکار کر دیا گیا مگر پھر پارلیمنٹ میں ایسا بیان جاری کیا جو گلے کا طوق ثابت ہوا اس کے بعد عدلیہ کو تحقیقات کا خط لکھ دیا گیا عدلیہ نے جوں جوں تحقیقات کا معاملہ جے آئی ٹی کے ذریعے نکالنا شروع کیا پھر بس کیا تھا کہ زوال کی داستان لکھی جانے لگی۔ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد طیب اردگان بننے کا مشورہ دیا گیا جس پر سرکاری میڈیا کو لگا دیا گیا لفافوں کی ریل پیل بھی شروع ہوگئی مگر یہ ساری باتیں بے سود ثابت ہوئیں رجب طیب اردگان بنیادی طور پر ترکی میں اسلامی تحریک کا رکن تھا جس کے ہاتھ صاف ہیں اس نے کوئی بدعنوانی کی، بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور نہ ہی قوم کا سر کہیں سرنگوں ہونے دیا۔ طیب اردگان جماعت اسلامی کی طرز پر ترکی میں چلنے والے تحریک کا نمائندہ ہے جو ہر جمعرات کے دن کسی نہ کسی قبرستان میں جاکر خوش الہانی سے تلاوت قرآن مجید کرتا ہے مگر اس کی سرکاری طور پر تشہیر نہیں کی جاتی۔ میاں صاحبان کو بھی ختم نبوت کے حوالے سے احتجاج کے بعد میلاد یاد آیا۔ طیب اردگان نے لوگوں پر جبر نہیں کیا اور نہ ہی کسی موٹروے،ایکسپریکس وے یا پل کی تعمیر میں کمیشن لیا، نہ اپنے گھر کے سوا مری،لاہور اور لندن میں مکانات نہیں رکھے اور ترکی کی فوج پاکستان کی فوج کی طرح بھی نہیں ہے وہاں عارضی طور پر نوجوان بھرتی کیئے جاتے ہیں ان کی فضائیہ البتہ انتہائی تربیت یافتہ ہے ایف 16طیارے وہاں بنائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو آزادیاں ہیں۔معاشرے میں انارکی نہیں ہے۔ پاکستان میں فوج کا ایک منظم ادارہ ہے جس کے کمانڈر کا حکم مانا جاتا ہے اس سے رو گردانی کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔میاں نواز شریف نے اپنے خلاف ہونے والی تحقیقات کے ضمن میں ہیرو بننے کے لئے فوج اور عدلیہ کو اپنا مخالف بنا لیا اور ان کے نادان مشیروں نے اور مریم کے گرد جمع کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں نے ایک ایسا جال بنا جس سے نکلنا ناممکن ہے۔ میاں نواز شریف کی گرتی ہوئی اس ساکھ کو زندگی کے ہر طبقہ فکر نے اچھی طرح سے جان لیا ہے جن میں بیورو کریسی، عوام اور سیاستدان شامل ہیں جن لوگوں نے میاں نواز شریف کے دور میں بدعنوانی کی اور انھیں یوم حساب قریب آتا نظر آرہا ہے وہ فوج اور عدلیہ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں تاکہ اس جرم میں انہیں پکڑ لیا جائے اور اصل جرم پر وہ اپنے آپ کو ہیرو ظاہر کرسکیں۔ بیورو کریسی، سیاستدانوں اور عوام نے میاں نوازشریف کی گرتی ہوئی اس ساکھ کا متبادل عمران خان کو سمجھ لیا ہے اور ہر ایک کو اس بات کا علم ہے کہ مستقبل میں عمران خان ہی حکمرانی کریں گے۔ اس بات کا کسی کو علم نہیں ہے تو وہ موجودہ حکمران اور ان کے چند حواری ہیں جن کے پاس اب کہیں جانے کا راستہ نہیں۔ عمران خان کی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے جوق درجوق لوگ درخواستیں دے رہے ہیں اور انہیں باضابطہ احکام دیئے جاتے ہیں فلاں جلسے میں اتنے افراد اور اتنی گاڑیاں لانی ہوں گی جس کی تعمیل کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے ورکر تگ و دو میں ہیں ظاہر ہے اس طرح کے احکام صرف وہی پارٹی ہی دے سکتی ہے جسے اپنی فتح نظر آرہی ہو۔ عمران خان نے بیس افراد کو کے پی کے اسمبلی سے اس لئے نکالا کے ان لوگوں کے متبادل لوگ اس کے پاس آنے کے لئے سفارشیں کر رہے ہیں وہ صاحب حیثیت بھی ہیں اور صاحب سرور بھی۔ یہ ساری علامتیں اقتدار کی ہیں۔
٭٭٭

اللہ کانظام‘مثالی نظام

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ظاہر و باطن میں جو ہم آہنگی تھی وہ آپ کی شخصیت کو دنیاکے عظیم ترین انسانوں میں شمار کرتی ہے اور ممتاز کرتی ہے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے آپ سے آئین کے بارے میں پوچھا گیاتھا کہ پاکستان کا آئین کیا ہوگا؟ تو آپ نے بغیر کسی تامل و توقف سے کہا کہ ہمارا آئین قرآن مجید ہے۔ قائد کے یہ الفاظ میں سمجھتی ہوں اُن کی بخشش کا ذریعہ بن گئے ہوں گے۔ آپ کی وفات کے بعد جو لوگ 70 سال سے حکمران چلے آرہے ہیں انہوں نے قرآن سے روگردانی کی۔ انسان ساختہ آئین ہم پر مسلط کر دیا گیا جس کی وجہ سے ہم اس وقت شدید عذاب میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ۔ میاں نواز شریف فرما رہے ہیں کہ 70 سال سے ووٹ کی بے توقیری ہورہی ہے اور جس کے نتیجے میں ملک میں وہ انتشار دیکھ رہا ہوں کہ الامان والحفیظ۔ میاں صاحب آپ نے ووٹ کو بے توقیر نہیں کیا، آپ نے قائد اعظم کے فرمان سے روگردانی کی ہے جن کا واضح فرمان تھا کہ ہمارا آئین قرآن ہے اور اس وقت جس انتشار کا شکار ہیں اس کے محرک ہم خود ہیں ۔ اس وقت پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہے اور سیاستدانوں کی باتیں اور بیانات اپنے مفاد کے لئے اور اپنی ذات تک محدود ہیں ۔ ووٹ کی عزت چاہتے ہیں ووٹر کی نہیں۔ 70سال میں کس کی حالت بدلی ہے؟ ووٹروں کی یا سیاستدانوں کی جنہوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اس موجودہ فرسودہ نظام کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوتا آرہا ہے۔ میاں صاحب عوام کی رائے کو نہیں کچلا گیا، ہم نے اللہ کے نظام کو نظر انداز کیا ہے اور آپ کو مکافات عمل کا پتہ نہیں ہے تو اپنے مولانا فضل الرحمن صاحب سے دریافت کرلیں ،آپ مکافات عمل کی زد میں ہیں، اس وقت بھی آ پ اپنا قبلہ درست کر لیں تو آپ کی توبہ بھی اللہ قبول فرما لیں گے اور ایک نئے دور کا بھی خوش آئند آغاز ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کا آئین قرآن ہو اور اس پر عمل پیرا ہو کر ہم ریاست کو ایک مثالی ریاست میں بدل سکتے ہیں۔
ہم نے کیا بدلنا ہے، ہمارا تو صرف اتنا ہی کام ہوگا اس پر عمل کریں، اس کے نتائج پھر دنیا دیکھ لے گی کہ اللہ کا نظام جو پوری کائنات کی ربوبیت سے سرفراز ہے۔ اس نظام میں ایک آدمی تو کیا بکری کا بچہ بھی بھوکا نہیں رہ سکتا۔ ترقی، تعمیر اور امن اسی نظام میں پنہاں ہیں۔ میاں نواز شریف آنے والے وقت میں جو انتشار دیکھ رہے ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ انتشار نہیں اللہ کا عذاب ہوگا جو ہماری بد اعمالیوں اور اللہ کے نظام سے روگردانی کی سزا ہوگی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ذات کے خول سے باہر آجائیں اور انا کی جھوٹی سولیوں پر لٹکنے کی بجائے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں۔ اگر آپ ایسا کر لیں تو دین و دنیا کی کامرانی آپ کا خیر مقدم کرے گی مگر اب وقت گزر گیا ہے، اس کی تلافی ناممکن نہیں ہے ممکن بھی ہوسکتی ہے۔ ہمیں اس شجر سایہ دار کی طرف لوٹنا ہوگا تب جا کر بات بنے گی اور ہم دین و دنیا میں سرخرو ہوں گے۔
ہم نے ستر سال سے اللہ کے نظام سے فائدہ نہیں اٹھایا ،اس کی برکات اور فیض سے ہم محروم چلے آرہے ہیں۔ میاں نواز شریف اپنے نادان مشیروں کے ہاتھ میں ہیں اور وہ درست مشورہ نہیں دیتے ،اپنے دانا دوستوں کو بھی وہ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ برادرِ اصغر میاں شہباز شریف کی حکمت عملی میں کھوکھلا پن نہیں ہے، وہ بڑے تحمل بردباری اور برداشت کی شاہراہ پر چل رہے ہیں۔ ہماری مختلف تنظیمیں جن کا تعلق سول سوسائٹی سے ہے وہ شفاف انتخابات کے حوالے سے مذاکرے کروارہی ہیں اور اس سلسلے میں سول سوسائٹی کے ارباب دانش پیش پیش ہیں ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب ہماری پاکستانی قوم کے مسائل کا حل شفاف انتخابات میں ہے یا احتساب میں۔پہلے تو احتساب کا عمل پورا ہونا چاہئے۔ انتخابات سے پہلے احتساب ضروری ہے جس میں نظر آرہا ہے کہ میاں نواز شریف کے حریفوں اور حلیفوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔کم از کم سیکڑوں سے زائد لوگوں کی فہرستیں بن چکی ہیں اور نا اہلوں کی اس کمیٹی کا صدر کون ہوگا یہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ٹیکنو کریٹ نگران حکومت کے امکانات زیادہ روشن ہیں اور اس سلسلے میں اندر ہی اندر بھاگ دوڑ جاری ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں کے قول اور فعل میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو سیاسی آسمان کا مطلع صاف ہوسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔ پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمن کا بیان آپ ملاحظہ فرمائیں وہ کہہ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ قرآن کا نفاذ نہیں چاہتی ہے ،ہم قرآن کا نظام چاہتے ہیں۔ اُن سے کوئی پوچھے کہ قرآن کے نظام میں عوام کے ووٹ کا طریقہ ¿ کار کیا ہوگا اور موجودہ انتخابات کیسے ہوں گے۔ حضور والا آپ ایک طرف قرآن کے نظام کے نفاذ میں اسٹیبلشمنٹ کوحائل قرار دے رہے ہیں اور دوسری طرف اپنی نشست کے لئے اسی فرسودہ نظام کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ کتنا بڑا تضاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیڈروں کو قرآن کا فہم و ادراک نصیب کرے اور اب چہرے نہیں نظام کو بدلنا ہوگا۔
(کالم نگارمعروف شاعرہ‘سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

میاں صاحب نظریاتی ہوتے ہی اپنا ماضی بھول گئے

مسز جمشید خاکوانی….آئینہ
گزشتہ روزسارا دن یہی سوال ہوتا رہا کہ بھٹو اور بھٹو کی اولاد کے خلاف ہر سازش میں شریک میاں صاحب یکایک ان کے حامی کیسے ہو گئے ؟ ہر پروگرام میں وہ ویڈیو کلپس بھی سنائے اور دکھائے گئے جس میں میاں صاحب کبھی بےنظیر پر تہمتیں دھر رہے ہیں تو کبھی گیلانی پر برس رہے ہیں، کبھی بھٹو کو ملک توڑنے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں تو کبھی بھٹو کی بیٹی کو۔ ابھی ذہنوں میں یہ الفاظ تازہ ہیں، ویڈیو ثبوت موجود ہیں جب میاں صاحب نے یوسف رضا گیلانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا گیلانی صاحب کرسی سے نیچے اترو بے گناہ ہوئے تو واپس آ جانا ورنہ چھٹی کرو ،یہ عدالت کا فیصلہ ہے، اگر ہماری حکومت ہوتی تو ہم بھی تسلیم کرتے، ان کو عوام نے اس لیے ووٹ نہیں دیا کہ یہ سپریم کورٹ سے لڑتے پھریں، چاہے دس وزیر اعظم جائیں عدالت کا فیصلہ ماننا پڑے گا ۔یہ حیوانوں کی بستی نہیں ہے، ہم اسے حیوانوں کی بستی نہیں بننے دیں گے۔
”ووٹ کو عزت دو“ نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وہ اپنی ہی کہی ہر بات سے مکر گئے ،چار ڈکٹیٹروں کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ خود بھی ایک ڈکٹیٹر کی پیداوار ہیں، ورنہ آج ان کا نام بھی نہ ہوتا داستانوں میں ۔پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کا ہر جرم آرمی اور عدلیہ کے نام کرتے ہوئے ان کی زبان بھی نہیں لڑکھڑائی کیونکہ لکھی ہوئی تقریر بھی وہ اس طرح پڑھتے ہیں کہ ایک آدمی پڑھا ہوا کاغذ جلدی سے واپس لیتا جاتا ہے، کہیں میاں صاحب وہی پرچی دوبارہ نہ پڑھنا شروع کر دیں کیونکہ میاں صاحب کا اپنا ذہن تو بالکل سلیٹ کی طرح صاف ہو چکا ہے، اس سلیٹ پر جو کچھ مریم لکھواتی ہے وہ پڑھ دیتے ہیں۔ عدالتیں بھی ان کو ثبوت دکھاتی ہیں لیکن وہ میں نہ مانوں کی تصویر بن جاتے ہیں ۔ان کا دماغ اسی سوال میں الجھ گیا ہے کہ ججوں سے فیصلے لکھوانے والے اتنے غیر اہم کیسے ہو گئے کہ آج ان کے خلاف فیصلے آ رہے بلکہ ان کو گلہ ہے کہ صرف پانچ لوگ ووٹ کا تقدس پامال کر رہے ہیں۔ ان کے ارد گرد وہی لوگ ہیں جو ان کی سوچنے سمجھنے کی راہ میں حائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں میاں صاحب ان ججوں کے بچوں پر زمین تنگ کر دیں گے، ان کا احتساب کریں گے، ان سے حساب لیں گے ،یہ چیز ہی کیا ہیں۔ اور میاں نواز شریف کو وقت کی چاپ سننے کا اختیار ہی نہیں رہتا ۔وہی مشاہد حسین سید جو کبھی مشرف کے ساتھ تھے، ق لیگ میں شامل تھے، اب ان کے لیے ووٹ کو عزت دو جیسے نعرے تخلیق کر رہے ہیں جبکہ ووٹرز کو عزت دینے کا انہیں ابھی بھی احساس نہیں۔ مسند اقتدار پر براجمان ہوتے ہی ووٹر زکو لات مار کر باہر پھینک دیتے ہیں، صرف دھاندلی سے بھرے گئے ووٹ بکس ہی ان کے لیے اہم رہ جاتے ہیں۔ عوام کی چیخ و پکار کا نوٹس عدلیہ نے ہی لینا تھا باقی کون بچا تھا جو ان کے سامنے کھڑا ہوتا ؟ہر فرعون کے لیے ایک موسی تو ہوتا ہی ہے ۔ یہ قانون قدرت ہے اس بار فوج نہ سہی تو عدلیہ ان کے ظلم کے آگے سینہ سپر ہو گئی ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں جنرل ضیاالحق کے فرزند اعجاذ الحق نے کہا مجھے آج میاں صاحب کی تقریر سن کر بہت دکھ ہوا ،ان کی پارٹی تو ہمارے ہی گھر سے بنی اور مجھے سمجھ نہیں آتی ان کو کیا چاہیے۔ جنرل وحید کاکڑ،جنرل مرزا اسلم بیگ ،اور جنرل پرویز مشرف سے لے کر آج جنرل باجوہ تک یہ کیا چاہتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف صبح ناشتہ کرنے سے پہلے انہیں سیلیوٹ ماریں اور پوچھیں کہ انہیں کیا چاہیے؟کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار جناب ریاض پیرزادہ اور رضا حیات ہراج نے بھی کیا۔ ان کا بھی یہی موقف تھا کہ نا اہل وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی تو آج کس منہ سے وہ ووٹ کو عزت دینے کا تقاضا کر رہے ہیں جبکہ ووٹ کی عزت اسی میں ہے کہ صاف شفاف الیکشن ہوں کیونکہ اب ووٹ لینا آسان کام نہیں رہا، اب ووٹ کو نہیں نوٹ کو عزت دی جاتی ہے اور سیاست میں پیسہ اس قدرغالب آ گیا ہے کہ کوئی شریف اور ایماندار آد می ووٹ نہیں لے سکتا ۔
میاں صاحب کو اب تمام احسان اس لیے بھول گئے ہیں کہ فیصلے ان کے خلاف آنے لگے ہیں ،یہ اب عوام کو ورغلا رہے ہیں کہ اٹھو عدلیہ کے گلے پڑو ،آرمی سے لڑو۔ پارلیمان کی اتنی بے توقیری کبھی نہیں ہوئی جتنی میاں صاحب نے کی۔ ساڑھے چار سال میں ہماری صرف دو میٹنگز ہوئی ہیں۔ ہمارے ملک کی یہ روایات نہیں ہے کہ خواتین سے نازیبا الفاظ بلوائے جائیں لیکن یہ خواتین سے یہی کام لے رہے ہیں ۔ایک مجھے افسوس ہے کہ پرویزمشرف صاحب خود بھی شرمندہ ہیں کہ انہیں باہر نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔ یہ قانون کے مجرم تھے، ان سے قانون کے مطابق سلوک کیا جاتا۔ یہ کیسا لیڈر ہے جو اوپر سے لوگوں کو اکساتا ہے کہ ا ٓرمی سے لڑو ،عدلیہ کے گلے پڑو اور اندر سے کہتے ہیں کہ مجھے این آر دو ،کیا یہ دہرا میعار نہیں ہے؟۔
سپریم کورٹ پر حملہ بھی نواز شریف کی روایات میں شامل ہے۔ ججز کو بار بار دھمکیاں دی گئیں اور آخرکار جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر حملہ ہو بھی گیا ۔گو اس حملے کے ملزم ابھی منظرعام پر نہیں آئے لیکن حقائق کیا نشاندہی کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن ہی شریف خاندان کے ٹرائل کے نگران جج ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز براہ راست پانامہ بینچ کے ججز کے خلاف اشتعال پھیلا چکے ہیں، جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ عوام ان پانچ ججوں کا احتساب کریں گے، ان سے حساب لیں گے۔ نہال ہاشمی ان کے بچوں پر زمین تنگ کر دینے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ پانامہ کے پورے کیس کے دوران جو جج کم بولا مگر سب سے اہم سوالات اٹھائے وہ جسٹس اعجاز ہی تھے جنھوں نے بیس اپریل کے فیصلے میں ”ایف زیڈ ای “ کا ذکر کر دیا تھا جس پر دانیال عزیز کا ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا تھا جس میں وہ نواز شریف کی موجودگی میں جسٹس اعجاز الاحسن کے بارے میں کہہ رہے ہیں اس جج کے بارے میں ہم نے بہت کچھ اکٹھاکر لیا ہے، اس کو اب جواب دینا پڑے گا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ دانیال عزیز جن تین بیانات پر توہین عدالت کیس کا سامنا کر رہے ہیں ان میں سے دو جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف ہیں ۔ایک وہی دھمکی آمیز بیان ہے جو انہوں نے جسٹس اعجازکے بارے میں دیا تھا ۔پھر یہ بھی جسٹس اعجاز ہی تھے جنھوں نے شریف خاندان کی جے آئی ٹی میں پیشیوں پر کہا تھا کہ ان کی تمام پیشیوں پر حکمت عملی یہی رہی ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے جاﺅ تو کچھ بتاﺅ نہیں ،وہ خود کچھ سامنے رکھیں تو اس کا اعتراف نہ کرو ،دستاویزات مانگیں تو دو نہیں ،انھیں نکالنے دو، اگر خود کچھ نکالتے ہیں تو۔اس پر انہوں نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی خود کچھ نکال لائی ہے تو پھر شکایت کیسی ؟
گذشتہ چار ماہ سے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عوامی مفاد کے ایشوز پر از خود نوٹس کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں مستقل طور پر جسٹس اعجاز الاحسن ان کے ساتھ بینچ میں شریک ہیں۔ جسٹس اعجاز کے بارے میں ہی چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے برطانوی عدالت کا ایک فیصلہ نکالا ہے جس کے مطابق اگر عدلیہ کے خلاف یک طرفہ الزامات کا سلسلہ جاری ہو تو تو جج اس پر بول سکتے ہیں۔ گذشتہ ماہ میں جتنے بھی کرپٹ اشرافیہ اور مافیا کے خلاف فیصلے آئے ہیں اس میں جسٹس اعجازکا دبنگ کردار ہے۔ ایک ایسا جج جو تمام فائلیں پڑھ کر آتا ہے، جو انتہائی جرات کے ساتھ فیصلے دیتا ہے، جس کے راستے میں مفاد،لالچ،خوف آڑے نہ آتا ہو اس کے گھر پر فائرنگ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گااور ایک ایسے وقت میں جب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اپنے تمام ججز اور پانامہ بینچ کے ججز کے ساتھ دل و جان سے کھڑے ہیں۔
(کالم نگارسماجی اورسیاسی مسائل پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭

آزادی اظہاریامادر پدر آزادی

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
آج کل مختلف اردو اور انگریزی اخبارات سے وابستہ کچھ کالم نگار اور الیکٹرانک میڈیا سے منسلک کچھ اینکر پرسنزسوشل میڈیا پر اس بات کا بار بار رونا روتے دکھائی دے رہے ہیں کہ نامعلوم نادیدہ قوتوں کے دباﺅ میں آکر ان کی تحریروں اور تقریروں کو ان دیکھے سنسر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان حضرات کا خیال ہے کہ اس طرح کی پابندیاں اس قوم کو آزادی اظہار کی اس نعمت سے محروم کر دیں گی جسے بقول، ان کے ،بڑی تگ و دو کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اصل مطالبہ یہ ہے کہ منہ میں جو آئے، انہیں ’ کہنے ‘ دیا جائے۔ یعنی یہ کہ وہ تحریر و تقریر کی ایک ایسی مادر پدر آزادی کے خواہاں ہیں جو دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی کو بھی حاصل نہیں ہوتی۔سچ تو یہ ہے کہ ایسی آزادی اظہار پر پابندی ہی بہتر ہے کہ جو ہمارے قومی فلسفے اور دینی نظریے سے متصادم ہو اور جو دنیا بھر میں ہمارے لیے بطور قوم تضحیک کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ ہماری بنیادوں کو ہلانے کا سبب بن جائے۔ آزادی اظہار کی بد ترین مثال چند ماہ قبل قصور میں معصوم زینب کے حوالے سے دیکھنے میں آئی۔ قصور کی یہ معصوم بچی ایک جانور کی جنسی درندگی کا شکار ہوئی تونام نہاد تجزیہ کاروں نے اس سانحے کی وہ وہ پرتیں کھولنے کی کوشش کی کہ جن کا حقیقت سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں تھا، پرنٹ میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک کچھ عناصر نے بے بنیاد معلومات کا ایک ایسا طوفان برپا کیا کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز ہی باقی نہ رہی۔قدرت کی طرف سے لکھنے اور بولنے کی صلاحیت عطا ہونے کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ لکھنے والوں اور بولنے والوں کو قارئین اور سامعین کو بھٹکانے، ورغلانے اور مشتعل کرنے کا لائسنس مل گیا۔دنیا کے ہر ملک میں بہت کچھ برا بھی ہوتا ہے اور بہت کچھ ایسا بھی جسے دوسروں سے چھپایا جاتا ہے۔مگر معلوم نہیں ہمارے ہاں لوگ غیروں کے سامنے اپنا پیٹ ننگا کرنے میں فخر کیوں محسوس کرتے ہیں۔پردے داری اور آزادی اظہار میں ایک فرق ہوتا ہے، ہمیں اس فرق کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔زینب کے ساتھ جو کچھ ہوا، یقین کیجیے کہ ایسا ظلم تھا کہ زمین کانپ جائے اور آسمان لرز جائے لیکن ہمارے خیالی تجزیہ کاروں نے جو کچھ کیا وہ بھی کسی ظلم سے کم نہیں تھا۔زینب کے واقعے کو اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے استعمال کرنے والوں کو شاید احساس ہی نہ ہو کہ ہمارے ہی میڈیا سے حاصل کردہ رپورٹوں کو بنیاد بناکر دنیا بھر میں پاکستان کے بدخواہوں نے مذکورہ سانحے کو مرچ مصالحے لگا کر ایک دلچسپ واقعے کے انداز میں سنانا شروع کر دیا۔سارے ملک کو ، ساری قوم کو بدنام کردیا۔کہا گیا کہ پاکستان ڈارک ویب سمیت چائلڈ پورنوگرافیک سائٹس کو میٹیریل فراہم کرنے والے ممالک میں سر فہرست ملک ہے۔ایک فرد کے قبیح فعل کو بنیاد بنا کر ساری قوم کو مجرم ٹھہرادیا گیا۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے سارا پاکستان اس معصوم بچی کے گینگ ریپ میں شامل تھا۔
حادثات، جرائم،فراڈ،نا انصافیاں، زیادتیاں، ہر معاشرے کا حصہ ہوتی ہیں مگر سمجھدار لوگ ان معاشرتی یا اخلاقی برائیوں کا اشتہار لگانے کی بجائے ان کے تدارک اور سد باب کے لیے کوشش کرتے ہیں۔جنسی جرائم کے حوالے سے بھارت کا شمار شروع کے دو چار ممالک میں ہوتا ہے۔ 2012میں ممبئی کی ایک بس میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی 23سالہ جیوتی سنگھ کی داستان الم سے کون آشنا نہیں، انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے یہ ایک انتہائی خوفناک واقعہ تھا لیکن اس واقعے کا جھوٹا سچا تجزیہ کر کے خود کو میڈیا ٹاک کا مرکز بنانے کا رجحان بحر حال بھارتی میڈیا میں دیکھنے کو نہیں ملا۔یہ ہمارے ہاں دی جانے والی آزادی اظہار کا ہی شاخسانہ ہے کہ آج دنیا کو پاکستان میں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کی ساری داستان مکمل تفصیلات کے ساتھ ازبر ہے لیکن مقبوضہ جموں کشمیر کی آٹھ سالہ مسلمان بچی آصفہ بانو کے ساتھ وہاں کے مقامی ہندوﺅں نے جو شیطانی کھیل کھیلا اس کی خبر عام نہیں ہوسکی، صرف اس لیے کہ وہاں کا میڈیا حکومت کی جانب سے طے کردہ قوانین و ضوابط کا ہر صورت پابند رہتا ہے۔آصفہ بانو کی مسخ شدہ لاش اس سال کے ابتدائی دنوں میں،ریاست جموں کشمیر کے علاقے کاٹھوا کی ایک وادی سے برآمد ہوئی تھی۔اس بچی کا تعلق وہاں کے مسلمان خانہ بدوش گھرانے سے تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس بچی سے گینگ ریپ کرنے والے اسے ورغلا کر دیوی ستھان نامی ایک ویران مندر کی طرف لے گئے اور اسے وہاں بند کردیا۔اس کے بعد اسے بے ہوشی کے انجکشن لگائے گئے اور پھر لگاتار کئی روز تک آٹھ سے زائد افراد نے اسے اپنی حوس کا نشانہ بنایا۔ آصفہ بانو کے ساتھ یہ ظلم کرنے والوں میں بی جے پی کا ایک مقامی سیاستدان بھی شامل تھا۔بتایا جاتا ہے کہ اس بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے تمام کے تمام لوگ ہندو تھے اور انہوں نے اس کے ساتھ یہ ظلم کرکے اصل میں مسلمانوں سے انتقام لیا ہے۔قابل شرم بات یہ کہ گذشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کی اس عدالت کے باہر ہندو وکیلوں کا ایک گروہ جمع ہوگیا جس عدالت میں آصفہ ریپ اور مرڈر کیس کی سماعت ہورہی ہے۔ ان وکیلوں نے مسلمانوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ آصفہ کیس میں ہندوﺅں کو بدنیتی کی بنیاد پر گھسیٹا جا رہا ہے۔تاہم اسی دوران سوشل میڈیا پر کچھ مقامی لوگوں نے آصفہ کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔انہوں نے فیس بک اور ٹوئیٹر پر اپنی پروفائل پکچر کی جگہ یہ جملہ لکھ دیا، ’ میںہندوستانی ہونے پر شرمندہ ہوں۔‘ لیکن وہاں کے میڈیا نے اس واقعے کو اپنی رینکنگ اور ریٹنگ بڑھانے کے لیے بالکل بھی استعمال نہیں کیا۔
اتر پردیش کے علاقے اوناﺅ میں ایک سیاستدان کے ہاتھوں اپنی عزت گنوانے والی سترہ سالہ ہندو لڑکی کے معاملے کو ہی دیکھ لیں۔اس واقعے میں بھی بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینیگر کا نام لیا جارہا ہے۔ جون 2017میں ہونے والے اس واقعے میں نامزد ملزم کا تعلق اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی سے ہے۔مذکورہ لڑکی اپنے حلقے کے رکن اسمبلی کے گھر اس امید کے ساتھ گئی کہ ملازمت کے حصول میں اس کی مدد کی جائے گی لیکن وہاں کلدیپ اور اس کے بھائی اتل سنگھ سینیگر نے اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا۔ظلم کی بات یہ کہ پولیس نے مذکورہ رکن اسمبلی کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے لڑکی کے باپ کو حراست میں لے لیا۔رات کے کسی پہر رکن اسمبلی کے حامیوں نے تھانے پر حملہ کر کے لڑکی کے باپ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بے چارہ باپ اس تشدد کو برداشت نہیں کرسکا اور چند ہی روز میں اس کا انتقال ہوگیا۔ پولیس کی بے رحمی کی انتہا یہ کہ نہ تو لڑکی کو ریپ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی نہ ہی اس کے باپ کی جان لینے والوں کو پکڑا گیا۔ مجبورا اس بے بس لڑکی نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیا ناتھ کے گھر کے سامنے خود کو آگ لگانے کی دھمکی دے دی جس پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے اور ان سب کی مداخلت پر لڑکی کی عصمت دری کے الزام میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد مذکورہ رکن بی جے پی کے ساتھ کوئی رعایت برتی گئی تو ایسا کرنا مودی صاحب کی سیاسی موت کے مترادف ہوگا۔دیکھنا یہ ہے کہ مسٹر مودی اپنی پارٹی کے ایک معتبر رکن اسمبلی کو بچاتے ہیں یا پھر اپنی سیاسی خودکشی کا اہتمام کرتے ہیں۔تاہم اس ساری صورت حال میں بھارتی میڈیا نے جس سمجھداری اور برداری کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی جگہ ایک مثال ہے۔وہاں کسی کالم نگار یا اینکر نے جیمز بانڈ بن کر خود سے معاملے کی تہہ میں جانے کی کوشش نہیں کی۔رپورٹنگ کرتے وقت اس بات کا خیال بھی رکھا کہ کسی بھی حوالے سے ملک کی تذلیل نہ ہو، قوم بدنام نہ ہو۔بعض صورتوں میں ہمیں دشمنوں اور بدخواہوں سے بھی بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر پر گری سونے کی بالی سونا ہی رہتی ہے، کوڑا نہیں بن جاتی۔
(کالم نگاراردو اورانگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ہندوستان کے غیرسفارتی ہتھکنڈوں کی روش

محمد کامران خان(خصوصی مضمون
گزشتہ کئی ماہ سے بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ہر دوسرے تیسرے دن بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے جس سے سرحد سے ملحقہ دیہات میں مقیم معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور سرحدی گاﺅں میں رہنے والے جو کہ زیادہ تر غریب کاشتکار ہوتے ہیں ایک ہمہ وقت خوف اور نفسیاتی ہیجان میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سال 2017میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحد کی 1800 سے زائد بار خلاف ورزی کی گئی جو کہ دونوں ممالک کی تاریخ میں، ایک سال میں ہونے والی مشترکہ سرحد کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 52 شہادتیں ہوئیں اور 175 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں۔خیر یہ تو وہ کارروائیاں ہیں جن کا ہر بار منہ توڑ جواب بھی دے دیا جاتا ہے اور موقع پر ہی حساب پاک کر دیا جاتا ہے۔
یہ کارروائیاں تو دشمن صرف اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہی کرتا ہے کیونکہ اسے خود اپنے قدم پاک سر زمین پر رکھنے کی نہ تو جرات ہے اور نہ ہی صلاحیت لیکن چونکہ نیت میں فتور ہے اور طبیعت میں اوچھا پن، اس لئے ڈھٹائی کی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہندوستان اپنے ملک میں آئے ہوئے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی شرمناک اور گھٹیا حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ گزشتہ ماہ سے نئی دہلی میں قائم پاکستانی سفا رت خانے سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کا باہر نکلنا دشوار بنایا جا رہا ہے اور انہیں مختلف اور نت نئے طریقوں کے ذریعے ہراساں کرنے کا کوئی بہانہ انڈیا ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا۔ تازہ ترین شکایات کے مطابق پاکستانی سفارتکار جب نئی دہلی میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نکلتے ہیں تو کوئی بھی گاڑی ان کے آگے آ کر راستہ روک لیتی ہے۔نہ خود چلتی ہے اور نہ ہی راستہ دیتی ہے۔ سفارتکار نصف گھنٹے تک اپنی گاڑی میں محبوس رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی اہلیہ بھی ساتھ ہوں اور سکول جانے والے بچے بھی ساتھ ہوں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس اوچھی حرکت سے وہ کس پریشانی میں مبتلا ہو سکتے ہیں، اہلیہ کس مستقل خوف کا شکار ہو سکتی ہیں اور بچے نفسیاتی ٹراما کے مریض بن سکتے ہیں۔ پھر اسی محبوسیت کے دوران دو اور موٹر سائیکل سوار آئیں آپ کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل روکیں۔ ان دونوں سواروں نے ہیلمٹ پہن رکھے ہوں، ان کے چہرے چھپے ہوئے ہوں اور ان میں سے ایک سوار موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے آپ کی اور آپ کے بچوں کی وڈیو بنا نا شروع کر دے اور کمال ڈھٹائی کے ساتھ مختلف زاویوں سے تصویریں اتارنا شروع کر دیں تو دیار غیر میں رہتے ہوئے کون ہے جو اس حرکت سے پریشان نہ ہو گا۔پھر تنگ کرنے کے صرف یہی نہیںبلکہ اور بھی کئی بچگانہ اور اوچھے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ آپ کی رہائش گاہ کے صدر دروازے کی گھنٹی کوئی بجا کر بھاگ جائے اور ایسا بار بار ہو تو یقینا یہ سراسیمگی کا موجب ہو گا۔آپ اپنی رہائشگاہ سے نکلیں اور سائے کی طرح آپ کا تعاقب شروع ہو جائے۔آپ سے آنے والے ملاقاتیوں کو بھی ہزیمت اٹھانا پڑے۔ آپ کے مہمانوں کی بغیر کسی شک و شبہ کے تلاشی لی جائے غیر ضروری پوچھ گچھ کی جائے۔ آپ کو موصول ہونے والی ڈاک کو کھول کر دیکھا جائے اور پھر ایسے سر بمہر کر دیاجائے کہ وصول کنندہ کو معلوم نہ ہو سکے۔آپ کے وہ ہندوستانی ملازمین یا خدمت کار جنہیں آپ ضرورت کے تحت کام کے لئے بلانا چاہیں انہیں سروسز دینے سے روک دیا جائے۔بلکہ اتنا ڈرایا جائے کہ وہ کام پر آنے سے ہی انکار کر دیں تاکہ آپ کی ضرورت پوری نہ ہو سکے۔ بغیر کسی شیڈول کے آپ کی گیس سپلائی منقطع کر دی جائے۔ خوف و ہراس کا یہ عالم ہو جائے کہ آپ اپنے بچوں کو سفارتخانے کے ڈرائیور کے ہمراہ بھی سکول بھیجنے سے خوفزدہ ہوجائیں۔ایک واقعے میں تو ایک پاکستانی قونصلرکو گاڑی سے با قاعدہ اتار کر ان کے ساتھ گالم گلوچ کیا گیا۔ان کا موبائل فون وقتی طور پر لے کر ان کو کسی سے رابطہ کرنے سے روکا گیا۔نوبت دست وگریباں ہونے تک پہنچ گئی اور یہ سب کچھ صرف اور صرف بغیر کسی وجہ کے ہراساں کرنے کی غرض سے کیا گیا۔ ان تمام حرکات کا مقصد صرف آپ کو ہراساںکرنا ہو تو یہ تمام ہتھکنڈے سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ 1961 کے ویانا کنونشن جس پر تمام عالم اقوام نے دستخط کر رکھے ہیں، کے تحت کسی بھی ملک میں غیر ملکی سفیروں کے جان ومال اور عزت و تکریم کے تحفظ کی ذمہ داری میزبان ملک پر عائد ہو تی ہے۔ویانا کنونشن کا آرٹیکل 22کہتا ہے کہ کسی بھی ملک میں غیر ملکی سفارتخانے کو اور آرٹیکل 30 کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی رہائشگاہوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو گا نہ تو کبھی ان مقامات کی تلاشی لی جا سکے گی اور نہ ہی یہاں سے کوئی دستاویز قبضے میں لی جا سکتی ہے۔ ویا نا کنونشن کا آرٹیکل 37 بہت واضح ہے جس کے مطابق غیر ملکی سفارتکاروں کے ساتھ مقیم ان کے اہلِ خانہ کو بھی وہی تحفظ حاصل ہو گا جس کے خودسفارتکارحقدار ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ ویا ناکنونشن کے آرٹیکل 24 کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی خط کتابت اورڈاک کی ترسیل کو بھی تحفظ حاصل ہے۔لیکن بھارت کی جانب سے ہر اوچھی حرکت ان متفقہ عالمی اصولوں کو بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ پاﺅں تلے روندی جا رہی ہے۔
بھارت کی جانب سے ان بچگانہ اور اوچھی حرکات کی شکایات مودی سرکار سے بارہا کی گئی ہے۔پاکستانی ہائی کمشنر یہ معاملہ بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز کے نوٹس میں بارہا لا چکے ہیں۔ سیکرٹری کی سطح پر باقاعدہ ملاقاتیںبھی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمشنر اور ان کے ڈپٹی کو متعدد بار دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو ایک باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھی ارسال کیا گیا جس میںواضح کر دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستانی سفارتکاروں کے اہل خانہ کا ہندوستان میں رہنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ شاید ڈھٹائی کی کوئی بھی انتہا نہیں ہوتی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بھارتی اہلکاروں کی جانب سے ایسی اوچھی حرکات کی بہت سی شکایات ملتی رہی ہیں شاید بھارت نے یہ اپنا وتیرہ ہی بنا لیا ہے اور اس اوچھے پن کا مظاہرہ کرنے والی جمہوریہ سے کوئی خیر کی امید بھی نہیں رکھی جا سکتی۔یہ دنیا کی ”بڑی” جمہوریہ کا چھوٹا پن ہی ہے کہ بھارت میں دستیاب مخصوص طبی سہولیات کے حصول کے لئے پاکستانی مریضوں کو ویزے دینے کا اجراءبھی معطل کر دیا۔یعنی دکھی انسانیت پر بھی سیاست کا موقع نہیں گنوایا جا رہا۔
کہا جا رہا ہے جب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان نے پکڑا، قید کیا، اور سزا سنائی ہے تب سے ان چھوٹی اور اوچھی حرکات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ 2016 کے مقابلے میں بھارت نے پاکستانیوں کے لئے ویزے دینے کی شرح اڑتیس فیصد تک کم کر دی جبکہ اسی عرصے میں پاکستان کی جانب سے بھارتی شہریوں کے لئے جاری کردہ ویزوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ میڈیکل بنیاد پر ویزے کے اجراءکے لئے بھارت نے شرط عائد کر دی کہ ایسے پاکستانی کے پاس وزیر خارجہ کا خط ہو گا تو ہی انہیں ویزہ ملے گا ورنہ بیمار مرتا ہے تو بے شک مرے۔یہ تو صرف انسانیت کی بات تھی بھارت نے تو رواں سال مذہب کے نام پر بھی سیاست کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے عرس پر جانے والے پاکستانی زائرین کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒکی خانقاہ پر جانے والے زائرین کو بھی ویزے کی سہولت سے محروم رکھا گیاجبکہ ان زیارتوں کے لئے ویزوں کا اجراءدو طرفہ مفاہمتی سمجھوتوں کا حصہ ہے۔ یعنی نہ انسانیت نہ مذ ہبی احترام اور نہ ہی انسانی ہمدردی۔بس ہر طرح کی اخلاقی و سفارتی حدود کو بالائے طاق رکھ کر اپنا چھوٹا پن ضرور دکھانا ہے۔
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭

حافظ محمدادریس کی سیرت نگاری!

مولانا عبدالمالک….اظہار خیال
سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا ایمان افروز موضوع ہے کہ اس کا ہر باب دل ودماغ کو منور کردیتا ہے۔ سیرت پر قلم اٹھانا ایک نازک ذمہ داری بھی ہے اور ایک منفرد اعزاز بھی۔ ہمارے محترم بھائی حافظ محمدادریس صاحب کو اللہ نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ وہ سیرتِ نبوی پر بولتے اور لکھتے ہیں تو سننے اور پڑھنے والا ہر کلمہ گو ان کے حق میں بے ساختہ دعائیں کرنے لگتا ہے۔ حافظ صاحب نے سیرت طیبہ کے مدنی دور پر ”رسول رحمت تلواروں کے سائے میں“ پانچ جلدوں میں مکمل کرنے کے بعد اب مکی دور پر بھی کام مکمل کرلیا ہے۔ ان کی کتاب ”رسول رحمت مکہ کی وادیوں میں“ دوجلدوں میں مکمل ہوچکی ہے۔ اس وقت پہلی جلد ہمارے سامنے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جسے رسول بنانا ہو اسے پیدائشی طور پر نبوت ورسالت کی اہلیت عطافرماتے ہیں۔ تمام انبیا علیہم السلام کی یہ شان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ان سب سے اس معاملے میں برتر ہے۔ آپ امتوں کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ انبیاعلیہم السلام کے بھی نبی ہیں۔ آپ کو نبی الانبیا اور نبی الامم کہا جاتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر جبکہ آپ حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں دودھ پینے کے بعد پرورش کی عمر میں تھے، تاریخ انبیا کا عظیم ترین واقعہ ہے۔ اس وقت آپ بچے ہی تھے کہ آپ کا شق صدر ہوا۔یہ واقعہ اتنا ایمان افروز ہے کہ قاری اسے پڑھتے ہوئے محبوب خدا سے اپنے تعلق کی حلاوت محسوس کرتا ہے۔ اس کتاب میں یہ واقعہ حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
شق صدر بچپن میں بھی ہوا اور پھر بعد از نبوت و آمد وحی بھی اس کا ظہور ہوا۔ دوسری مرتبہ معراج کے موقع پر یہ شق صدر ہوا۔ ان دونوں مواقع میں آپ کا سینہ شق کیا گیا اور پھر دل کو سینے میں رکھ کر سینے کو سی دیا گیا۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ پیدایش کے بعد بھی آنحضورصلی اللہ علیلہ وسلم کو نبوت ورسالت کے عظیم منصب اور قیادتِ بنی نوع انسان کے لیے مزید تیار کیا گیا۔ وحی کی آمد سے قبل آنجناب کے دل میں اس وقت جب آپ کی عمر چالیس سال کے قریب تھی غارِ حرا میں تخلیے کا خیال پیدا ہوا اور آپ نے وہاں تخلیے میں ذکرالٰہی اور فکر و تدبر کا عمل شروع کردیا۔ اسی دوران جب آپ کا نورِ فطرة عروج کو پہنچا تو جبریل علیہ السلام نورِ وحی لے کر آگئے اور سورہ¿ العلق کی ابتدائی پانچ آیات آپ کو پڑھائیں۔ گویا نورِ فطرة اس وقت پورے جوبن پہ تھا۔ جب نورِ وحی اس پر ضوفشاں ہوا تو پھر نور علی نورٍ ہوگیا۔یہ باب بھی اس کتاب میں خوب صورت پیرائے میں قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلیتا ہے۔
اسی طرح آپ کا عظیم نسب بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور اسماعیل ذبیح علیہماالسلام کی پاکیزہ اور بلندوبالا فطرت سے نسبت نے درّ یتیم کو چارچاند لگا دئیے۔ آپ عالی نسب ہیں اور اس کا اعتراف ہر ایک کو تھا اور ہے۔ پھر نسلاً بعد نسل عظیم آبا وامہات سے نسبت بھی آپ کی شان اور طرہ امتیاز ہے۔ کئی مواقع پر اس کا اظہار ہوتا رہا جیسے ہرقل نے حضرت ابوسفیان سے جب کہ وہ ایمان نہیں لائے تھے آپ کا مکتوب ملنے پر پوچھا: کیف نسبہ فیکم؟ یعنی تمھارے اندر اس نبی کا نسب کیسا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: وہو فینا ذونسب یعنی وہ ہمارے درمیان اونچے نسب والے ہیں تو ہرقل نے کہا: وکذلک الرسل تبعث فی نسب قومھا۔اسی طرح رسول اپنی قوم کے اونچے نسب میں سے بھیجے جاتے ہیں۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر بندہ¿ مومن کے ایمان میں اضافے اور حبّ رسول کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ممد ہوسکتا ہے۔
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے درختوں اور پتھروں کا سجدہ کرنا، حدیث و سیرت کی کتب میں کثرت کے ساتھ روایت ہوا ہے۔ یہ بھی آپ کی نبوت ورسالت اور خصوصی شان وعظمت کی دلیل ہے۔ اسی طرح تعمیرکعبہ کے موقع پر جب اپنے چچا عباس کے کہنے پر آپ نے اپنی چادر اتار کر کندھے پر رکھی تو آپ بے ہوش ہوگئے۔ یہ آپ کی سیرت کا نمایاں مقام ہے کہ آپ نے شرم وحیا کی تعلیم پوری انسانیت کو دینی ہے تو نبوت سے پہلے بھی آپ کی ذات اقدس اس کا کامل نمونہ تھی۔ پھر ہر نبی نے نبوت سے پہلے بکریاں چرائی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اہلِ مکہ کی بکریاں چرائیں۔ (صحیح بخاری)۔ اس گلہ بانی کو خود آپ نے ایک خوبی اور خصوصیتِ انبیا کے طور پر بیان فرمایا۔ یہ بھی آپ کی نبوت کی دلیل اور آپ کی شخصیت کی عظمت ہے۔صاحبِ تصنیف نے ان تمام واقعات کا بہت خوبصورت انداز میں احاطہ کیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو خلاف شرع ہو۔اس کے ساتھ بچپن سے جوانی تک آپ کی حیات طیبہ میں ایک بھی ایسا کام نظر نہیں آتاجس پر کوئی انگلی اٹھا سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا پر سب قریش کو جمع کیا اور پوچھا تم نے مجھے کیسا پایا؟ سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم نے آپ کو صادق اور امین پایا ہے۔ یہ ہمارا بار بار کا تجربہ ہے۔ اعلان نبوت سے پہلے کفار وقریش کا یہ اقرار ان کے کفر و عناد کے خلاف بہت بڑی دلیل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کا صبر، عزم وہمت اور جس مقصد کے لیے آپ کو کھڑا کیا گیا تھا، اس پر استقامت لاجواب و بے مثال ہے۔ آپ نے ہر ابتلا کا مقابلہ کیا حتّٰی کہ وہ مشن اپنی تکمیل کو پہنچ گیا جس کے لیے آپ کو کھڑا کیا گیا تھا اور سرزمین عرب میں مکمل تبدیلی آگئی۔
اس تبدیلی کو حقیقی انقلاب کا نام دیا جاسکتا ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ دنیا میں اس انقلاب کی مثال تاریخ کے کسی دور میں نہیں ملتی، نہ اس سے قبل، نہ اس کے بعد! اس انقلاب کا ثمرہ تھا کہ تمام معاشرہ پہلے سے بدل کر نئی اور یکسر مختلف شکل اختیار کرگیا۔ جھوٹ ختم ہوگیا، اس کی جگہ سچائی کا دور دورہ ہوا، دھوکہ اور فریب ختم ہوگیا اس کی جگہ دیانت وہمدردی اور غم گساری واخوت و موانست آگئی، دشمنیاں ختم ہوگئیں ،ان کی جگہ دوستیاں قائم ہوگئیں، معاشرے میں امن وامان قائم ہوگیا اور زمین کا ہر چپہ بدامنی اور فتنوں سے پاک ہوگیا۔ ہر کسی کی جان ومال اور عزت و آبرو محفوظ ہوگئی۔ یہ وہ انقلاب تھا جس کی دنیا منتظر تو تھی لیکن اس کی خاطر دعوت حق کو قبول کرنے کے لیے آسانی سے تیار نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبروحکمت سے لوگوں کو دعوت دی۔ جن خوش نصیب افراد نے حق کی دعوت قبول کرلی، ان کو تسلی اور سہار ادیا۔ سب بیمار تمام بیماریوں سے شفایاب ہوگئے کیونکہ نبی¿ رحمت وہ نسخہ¿ کیمیا لے کر آئے تھے جس میں ہر درد کا علاج اورہر مرض سے شفا خود اللہ نے پیدا فرمائی تھی۔
مکی دور کے پہلے حصے میں آب زم زم، چاہ زم زم، اس کی تولیت، بیت اللہ کی تعمیر اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار، حرب فجاراور حلف الفضول اور پھر نبوت کے بعد کے حالات، سرّی دعوت، پھر جہری دعوت۔ اس کے آگے کعبة اللہ میں نماز کی ادائیگی، قرآن پاک کی تلاوت، پھر عمومی دعوت اور آزمائشیں، تمام عنوانات پر سیرحاصل تحقیقی لوازمہ کتاب کے حصہ اول میں جمع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا دوسرا حصہ جو اس کے بعد طباعت سے مزّین ہوگا، اس کے مضامین کا بھی خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ مکی زندگی میں جتنے بھی اہم واقعات پیش آئے ان تمام اہم معاملات اور ہجرت مدینہ کے تذکرے پر مشتمل اس کتاب کی دوسری جلد بھی مستقبل قریب میں قارئین کے ہاتھوں میں آجائے گی۔
اللہ تعالیٰ اس مجموعہ¿ سیرت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نامی کی برکت سے زیادہ سے زیادہ بامقصد اور زیادہ سے زیادہ فیض بخش بنادے۔ ہم جناب حافظ محمدادریس صاحب کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ ان کے قلم وزبان کو مزید قوت اور تاثیر سے مالامال کردے تاکہ وہ دین حق کی اقامت اور اعلائے کلمة اللہ کے لیے زیادہ سے زیادہ خدمات سرانجام دے سکیں۔ آمین یارب العالمین!
(مضمون نگار صدر اتحادالعلماءپاکستان ہیں)
٭….٭….٭

بار بار دھرانے سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت تنائی کون کر رہا ہے دفتر خارجہ کا سنسنی خیز بیان کے ساتھ جانیئے وزیر اعظم اور مریم نواز کا لندن میں قیام شہباز شریف اور چودھدری نثار کی ملاقات ضیاءشاہد کے ساتھ

شاہد آفریدی ایک بار پھر کرکٹ کے گھر لارڈز میں ایکشن میں نظر آئیں گے

کراچی (ویب ڈیسک)پاکستان کے اسٹار آل راو¿نڈر شاہد آفریدی ایک بار پھر کرکٹ کے گھر لارڈز میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔بوم بوم آفریدی اور شعیب ملک لارڈز کرکٹ گراو¿نڈ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف آئی سی سی ورلڈ الیون کی جانب سے چیریٹی میچ کھیلیں گے۔ ارما اور ماریہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ٹی ٹوئنٹی میچ لارڈز میں 31 مئی کو کھیلا جائے گا جس میں ٹی ٹوئنٹی کی عالمی چیمپئن ویسٹ انڈیز اور آئی سی سی ورلڈ الیون مد مقابل ہوں گی۔ورلڈ الیون کی قیادت انگلش کپتان اوئن مورگن کریں گے جبکہ ٹیم میں شاہد آفریدی اور شعیب ملک بھی ایکشن میں ہوگے، سری لنکا کے تھیسارا پریرا نے بھی میچ میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔شاہد آفریدی اور شعیب ملک دونوں 2009 ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی فاتح پاکستان ٹیم کے رکن ہیں جبکہ تھیسارا پریرا بھی سری لنکا کی ٹی ٹوئنٹی چیمپئن ٹیم کے رکن تھے۔