All posts by asif azam

وہ کون سے ممالک ہیں جہاں سب سے طویل گھنٹے کا روز ہ ہو گا ؟

وہ کون سے ممالک ہیں جہاں سب سے طویل گھنٹے کا روز ہ ہو گا ؟لاہور (ویب ڈیسک) وہ کون سے ممالک ہیں جہاں سب سے طویل گھنٹے کا روز ہ ہو گا ؟۔ تفصیل جانیے
روس میں 20گھنٹے 33منٹ
ہالینڈ 19گھنٹے 5منٹ
ڈنمارک 20گھنٹے 5منٹ
ناروے 20گھنٹے 7منٹ
سوئیڈن 21گھنٹے 3منٹ
آئس لینڈ 22گھنٹے 3منٹ

وہ کون سے ممالک جہاں سب سے کم دورانیے کا روزہ ہو گا ؟

چلی11گھنٹے 58منٹ
آسٹریلیا 12گھنٹے 5منٹ

وہ کون سے ممالک ہیں جہاں 18گھنٹے سے 16گھنٹوں کا روزہ ہوگا ؟

انگلینڈ18گھنٹے 44منٹ
بیلجیم 18گھنٹے سے 31منٹ
فرانس 18گھنٹے 5منٹ
بھارت 17گھنٹے 11منٹ
پاکستان 16گھنٹے 11منٹ
سعودی عرب 16گھنٹے 13منٹ
امریکہ 16گھنٹے 22منٹ

بھارت پاکستان دشمنی میں پاگل ہو گیا ،ایل او سی پر یو این فوجی مبصرین کی گاڑی پر فائرنگ

راولپنڈی( ویب ڈیسک) بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یو این مبصرین کی گاڑی کو نشانہ بنایا تاہم فوجی مبصرین محفوظ رہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یو این مبصرین کی گاڑی کو نشانہ بنایا، بھارتی فوج نے یو این مبصرین کی گاڑی کو خنجر سیکٹر میں نشانہ بنایا تاہم یو این فوجی مبصرین کے افسر بھارتی فائرنگ سے محفوظ رہے۔

کرکٹ میں ان فٹ ، رقص میں ثابت ، ڈانسر کی ویڈیو آگئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کھیل میں ان فٹ، رقص میں مکمل فٹ کرکٹر عمر اکمل کی خاتون کے ساتھ رقص کی یک اور ویڈیو منظر عام پر آگئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمر اکمل ایک تقریب میں شریک تھے، تقریب میں مدعو رقاصہ نے رقص شروع کیا تو عمر اکمل بھی خود پر قابو نہ پا سکے اور رقاصہ کے ساتھ ڈانس کرتے رہے۔

محکمہ موسمیات نے پہلے روزہ کی خبر سنا دی ،موسم کیسا رہے گا ،دیکھیں خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پہلا روزہ ہفتے کو ہوگا یا اتوار کے روز ؟ محکمہ موسمیات نے اپنا حساب کتاب بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جمعہ کے روز رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ چاند نظر آنے یا نہ آنے کا حتمی فیصلہ صرف رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ماہ صیام کے پہلے دو عشروں میں سخت گرمی پڑنے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔ موسم کا حال بتانے والوں نے کہا ہے کہ رمضان کے پہلے دو ہفتوں میں زور کی گرمی پڑنے کا امکان ہے۔

پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کی گھن گرج سے دشمنوں پر ہیبت طاری ، تما م فارورڈ ائیر بیس آپریشنل کر دئیے

اسکردو(ویب ڈیسک) پاک فضائیہ نے بھارتی ائیرچیف کی دھمکیوں کے بعد کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اپنے تمام فارورڈ ایئربیس آپریشنل کردیئے ہیں۔ پاک فضائیہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ بھارتی ائیرچیف کی دھمکیوں کے پیش نظر پاک فضائیہ کے تمام فارورڈ آپریٹنگ بیسزمکمل آپریشنل کردیئے گئے ہیں اور مختلف جنگی طیاروں کی تربیتی پروازیں جاری ہیں۔
ایئرچیف مارشل سہیل امان سیاچن محاذ کے قریب اسکردو میں فارورڈ آپریٹنگ بیس پر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے پہنچے، ایئر چیف نے ناصرف فضائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور جوانوں کے جذبے کو سراہا بلکہ فارورڈ آپریشنل ایریا میں میراج طیارہ اڑا کر جنگی مشقوں میں حصہ بھی لیا۔

جاپان کی کم ہوتی آبادی

عامر بن علی….مکتوب جاپان
جاپان سفید بالوں والے لوگوں کا ملک بنتا جارہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ آبادی کی اکثریت خضاب کا استعمال کرتی ہے، مگر پھر بھی ضعیف العمری کے اپنے تقاضے اور مظاہر ہوتے ہیں۔تازہ ترین مردم شماری کے مطابق جاپان کی مجموعی قومی آبادی میں گزشتہ پانچ برس کے دوران دس لاکھ افراد کی کمی ہوگئی ہے۔ اس خبر نے ملک کے سنجیدہ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس تشویش کا باعث بننے والے اعداد وشماریوں پرپشان کن ہیں کہ یہ زمانہ¿ امن میں آبادی میں کمی کا رجحان ریکارڈ کیاگیا ہے۔ ریاست کو گزشتہ پانچ برس میں نہ تو کوئی جنگ درپیش تھی اور چند سال پہلے آنے والے زلزلے و سیلاب میں ہلاک ہونے والے کچھ ہزار افراد کو اگر نظرانداز کردیا جائے تو کوئی بڑی قدرتی آفت بھی آبادی میں کمی کا سبب نہیں بنی ہے۔ شہریوں کو جدید طبی سہولیات کی باآسانی فراہمی اور صحت کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے سبب اوسط عمر بڑھی ہے، کم نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار پر غور کریں تو تمام ترقدرتی آفات و ناگہانی واقعات کے باوجود ملک کے باشندوں کے زندہ رہنے کے امکانات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ عہد ساز سخن طراز ابن انشاءکا یہ قول اپنی جگہ معتبر سہی کہ ”جھوٹ کی تین اقسام ہوتی ہیں، اول جھوٹ، دوم سفید جھوٹ اور سوم سرکاری اعداد وشمار “ جھوٹ کی قسم کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ یہاں صورتحال بالکل برعکس ہے۔ سرکاری اعدادوشمار اور اطلاعات کو عوامی سطح پر زیادہ معتبر مانا جاتا ہے اور حقیقتاً وہ زیادہ قابل اعتماد ہوتے بھی ہیں۔
آبادی میں کمی کی سب سے اہم اور کھلی وجہ تو کم شرح پیدائش ہی ہے۔ پانچ سال پہلے کی گئی مردم شماری کے مطابق بارہ کروڑ تہتر لاکھ افراد جاپان میں زندگی گزار رہے تھے، جبکہ اس ماہ شائع ہونے والے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ایک ملین افراد کی کمی کے بعد،اب اس ملک کے باسیوں کی کل تعداد بارہ کروڑ چونسٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ آبادی کے لحاظ سے جاپان اب بھی دنیا کا گیارہواں بڑا ملک ہے اور اس عالم رنگ وبو میں سانس لینے والے انسانوں کی کل تعداد میں سے تقریباً دو فیصد یہاں آباد ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر آبادی میں کمی کا یہی تناسب جاری رہا تو اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق 2050ءتک جاپان کی آبادی محض 10کروڑ نفوس تک محدود ہوجائے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1955ءمیں اس ملک کی آبادی 9کروڑ افراد پر مشتمل تھی۔
کم شرح پیدائش کی وجوہات پر غور کریں تو ہمیں کم ہوتی آبادی کے مسئلے کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ میرے خیال میں اس کی سب سے اہم وجہ تو مہنگائی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں، ہر سال دینا کے مہنگے ترین دس شہروں میںجاپان کے لازمی طور پر دو، تین شہر شامل ہوں گے۔ ٹوکیو اور اوساکاتو عموماً اس فہرست کے مہنگے ترین پانچ شہروں میں شامل رہتے ہیں۔ ایسے مہنگے ملک میں بچے پالنا یقینا بہت مہنگاہے، اس لیے لوگ ایک دو بچوں کے بعد مہنگائی کے خوف کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ملک میں قائم مثالی امن و امان اور جان و مال کا تحفظ جہاں بہت بڑی نعمت ہے، وہیں کم شرح پیدائش کی وجہ بھی ہے۔ عالمی طور پر یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ جنگ زدہ علاقوں اور جنگ کے دوران شرح پیدائش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ فلسطین اور افغانستان کی تازہ مثالیں ہی دیکھ لیں،اتنی بڑی تعداد میں جنگ کی وجہ سے ان علاقوں سے ہجرت ہوئی مگر آبادی میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عدم تحفظ کا احساس شرح پیدائش میں اضافے کا سبب ہے اور تحفظ اس شرح میں کمی کا باعث بنتاہے۔
بڑے شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی، بہتر مستقبل کی تلاش میں چھوٹے قصبوں اور دیہات سے لوگ ترک سکونت کرکے شہروں میں منتقل ہورہے ہیں۔جاپان کی کل آبادی کا صرف چھ فیصد اب دیہات میں زندگی گزار رہا ہے، جبکہ 94فیصد لوگ شہروں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بڑے شہروں میں زندگی کی سہولیات یقینا یہاں بھی زیادہ ہیں مگر زندگی زیادہ مصروف اور مہنگی بھی ہے، نیز شہروں میں رہائش گاہوں کا عمومی سائز اتنا جھوٹا اور مختصر سا ہے کہ اس میں بڑا کنبہ سمانا تو ممکن ہی نہیں ہے۔شہری زندگی اور رہائش گاہوں کا رقبہ بھی آبادی میں کمی کا اہم سبب ہیں۔
میرا مشاہدہ ہے کہ کوئی بھی ملک اورمعاشرہ جنتا زیادہ مذہبی ہوگا اس میں آبادی میں اضافے کی رفتار بھی اتنی زیادہ تیز ہوگی۔ یورپ، روس اور چین مذہب سے بیگانگی کی بڑی مثالیں شمار کی جاتی ہیں اور ان ممالک میں آبادی کے بڑھنے کی شرح بھی بہت ہی کم ہے۔ غالباً توکل، ایثار اور صلہ رحمی خالصتاً مذہبی معاشرے سے منسوب چیزیں ہیں، جیسے جیسے مذہب کے دورہٹتے جائیں، یہ دوسرے لوگوں پر احسان اور قربانی کے جذبات بھی ماند پڑتے جاتے ہیں، ان کی جگہ خودغرضی لے لیتی ہے۔ حضور پاک کا بڑا ہی خوبصورت فرمان ہے، جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ” جو کھانا ایک شخص کا پیٹ بھر سکتا ہے، و ہ دو افراد کی شکم پروری کیلئے بھی کافی ہے“۔ اگر کوئی مجھ سے جاپانیوں کی مذہبی عبادات اور رجحانات کے بارے میں پوچھے تو یہ پریشان کن سوال ہوگا۔ اس معاشرے میں روحانیت کے اثرات تو بہت گہرے ہیں مگر مذہب اور مذہبیت سے یہاں کے لوگ کافی دور ہیں۔کم ہوتی آبادی کی وجہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ مذہب سے دورہوتا جارہا ہے۔ بوڑھے لوگوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ سو سال سے زیادہ عمر کے حامل افراد کی سب سے زیادہ تعداد اسی ملک میں ہے۔ کم عمر اور زیادہ توانالوگ محنت کی منڈی میں نسبتاً کم ہوتے جارہے ہیں۔ ملکی باشندوں کی اس وقت اوسط عمر 47سال ہے۔
آبادی میں کمی کے رجحان اور اس کے اثرات کو سب سے نمایاں طور پر زرعی شعبے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ملکی زراعت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس شعبے سے منسلک افراد کی تعداد بیس لاکھ سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ یوں تو کئی عشروں سے جاپان میں زراعت کا شعبہ بوڑھے لوگوں کے ہاتھ میں ہے، مگر وزارت زراعت کے مطابق اتنے شدید بوڑھے توکسان کبھی بھی نہ تھے۔ یعنی 67فیصد کسانوں کی عمر اب 67برس سے بھی زیاد ہ ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر زیر کاشت رقبہ مسلسل کم ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں زراعت سے روزی،روٹی کمانے اور اس شعبے پر زندگی کا انحصار کرنے والے افراد کی تعداد میں چودہ فیصد کمی ہوئی ہے۔ اب زرعی شعبے سے متعلق افراد کی تعداد محض سترہ لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ باقی شعبہ ہائے زندگی میں بھی گھٹی ہوئی آبادی کے اثرات محسوس کئے جارہے ہیں، گرچہ زرعی شعبے میں یہ زیادہ شدید ہیں۔ پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی اورآبادی کے کنٹرول پر تو ہمیشہ بات ہوتی ہے مگر کبھی یہ نقطہ نظر سامنے نہیں آیا کہ بڑی آبادی، بڑی افرادی قوت کا مظہر اور ترقی کا زینہ بھی ہے۔ ہمارے ملک کے وسائل کے مطابق یقینا بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول ضروری ہے مگر جاپان میں معاملہ الٹ ہے، کم ہوتی آبادی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
(کالم نگار اکثر اخبارات میں مختلف مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

اے کیو خان غریبوں کا ہسپتال

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق دِل کی بات
سائنسی طرز فکر رکھنے والے متعصب نہیں ہوتے۔ یہ بات ہمارے قومی ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر صادق آتی ہے۔ جن کی سوچ ملت پاکستانیہ کی بہبود اور خوشحالی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ ہفتے مجھے اے کیو خان ہسپتال کے توسیعی منصوبے کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو وہاںمخیر طبقے کی ایک کثیر تعداد ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی مقناطیسی شخصیت کے اثر میں اسیر تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے جہاں پاکستان کو ناقابل تسخیر قلعہ بنایا ہے وہاں وہ اس کے شہروں کے شہریوں کو خوشحال دیکھنے کے بھی متمنی ہیں۔ انہوں نے صوبائی دارالحکومت لاہور کی اس رہائشی بستی کا انتخاب کیا ہے جہاں مزدوروں، کم تنخواہ داروں کی کثرت ہے اور وہ صنعتی ماحولیاتی آلودگی کا بھی شکار ہیں۔ جراثیم آلودہ پانی اور فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلتا ہوا دھواں ہمارے پسے ہوئے کمزور اور نادار لوگوں کی قسمت کا حصہ بنا ہوا ہے۔ زمینی حقائق پر گہری نگاہ رکھنے والے پاکستان کے محسن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بصیرت و بصارت کا اعتراف کیے بغیر میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔ پرائیویٹ ہسپتال تو عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں بھی رسائی بہت مشکل ہے۔ عام آدمی بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس دنیا میں رہنے کی بجائے اسے چھوڑ دینے پر راضی ہوجاتا ہے۔ اس مشکل ترین زندگی کی تمنا رکھنے والے موت کے منہ میں رہ کر بھی زندہ دلی سے زندہ رہتے ہیں۔ اب تو وہ بات بھی غلط ثابت ہورہی ہے کہ
کس قدر مشکل ہے زندگی اور کس قدر آساں ہے موت
اب نہ زندگی آسان ہے اور نہ ہی موت آسان ہے۔ اب دونوں طرح غریب آدمی مارا جارہا ہے اور اس کیفیت کو جس انسان نے محسوس کیا ہے وہ ملت اسلامیہ کا گراں مایہ سرمایہ ہے۔ اس کی ا للہ پاسبانی فرمائے۔ 18 ماہ کے بہت ہی کم عرصے میں ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں اوپی ڈی کی تعمیر مکمل کر لی گئی۔ 24 فروری 2015 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس ہسپتال سے اب تک لاکھوں غریب اورنادار، کمزور اور لاغر مریضوں نے مکمل شفا یابی پائی ہے اور اس مرد درویش کو دعائیں دی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی روح اتنی توانا ہے کہ وہ اپنے ارادے اور عزم کی قوت سے آج بھی پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ خلق خدا کی دعائیں تسلسل و تواتر کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کی درازی عمر کے لیے ہمیشہ تعاقب میں ہیں۔ ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو قومی سرمایہ قرار دیا۔ ہسپتال کی توسیع اور اس کے اخراجات پورے کرنے کےلئے ایس ایم ظفر نے دل کھول کر مخیر حضرات سے بھی اپیل کی اور اپنی طرف سے بھی سرمایہ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ادیب اور مصنف سے بڑھ کر ایک بہت بڑے انسان جن کے سینے میں ایک دردمند دل غریبوں کے دلوں کے ساتھ دھڑک رہا ہے اور اُن کی زبان سے الفاظ انمول موتیوں کی طرح جھڑ رہے تھے۔ وہ بولتے نہیں بلکہ موتی پروتے ہیں میری مراد جبار مرزا سے ہے اُن کے خیالات کی نزاکت کا یہ عالم تھا کہ باتیں اُن کی دل میں اترتی چلی جاتی تھیں۔ پھر اُن کاڈاکٹر عبدالقدیر خاں کے ساتھ بہترین ہمدم و دمساز کا رشتہ ہے اُن کی دیرینہ رفاقت اور پارینہ دوستی کے ڈانڈے اخوت رواداری کے فروغ کا سبب بن رہے تھے۔ متروکہ املاک کے چیئرمین صدیق الفاروق نے لوگوں کی توجہ اس ہسپتال کی تعمیر و ترقی کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یہ ہسپتال ڈاکٹر صاحب نے غریبوں کےلئے بنایا ہے اس لئے ہم سب کو اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی جیب سے ایک لاکھ رروپے عطیہ کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی خدمات بھی اس ہسپتال کے لیے سپرد کرنے کا اشارہ دیا۔ ڈاکٹر اے کیو خاں ہسپتال ٹرسٹ کے وائس چیئرمین قیصر امین بٹ نے کہا کہ میرے والد محمد امین بٹ مرحوم کی دلی خواہش تھی کہ یہ ہسپتال اُن کی زندگی میں ہی بن جاتا مگر اُن کا یہ خواب آج ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی سرپرستی میں شرمندہ تعبیر ہوا ہے اور آج میرے والد مرحوم امین بٹ کی روح مسرت و شادمانی کی کیفیت میں ہوگی۔ تقریب میں بہت سارے اصحاب تشریف فرما تھے خاص طور پر کراچی سے کمال محمودی، یونس خامسانی اور رفیق پردیسی کے علاوہ سوشل میڈیا کے نامور ماہر فاروق تسنیم بھی موجود تھے۔ ہسپتال کی ڈائریکٹر عائشہ نذیر، میجر طارق، پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید، ضیا مصطفےٰ، فاروق بلوچ، کرنل (ر) عمر فاروق، خالد شہزاد اور حسین احمد شیرازی خاص طو رپر شریک تھے۔ حسین احمد شیرازی کی خدمات ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کے مشن کے حوالے سے ناقابل فراموش ہیں۔ اُن کا بہت ہی پرانا تعلق ہے اور انہوں نے قومی دلچسپی کے امور کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر سرکاری سطح پر خدمات سر انجام دی ہوئی ہیں جس کا اعتراف ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے بھی گاہے گاہے کیا ہے۔ اس موقع پر لاکھوں روپے کے عطیات جمع ہوئے اور یہ سلسلہ رکا نہیں جاری و ساری رہے گا۔ میری مخیر حضرات سے استدعا ہے کہ وہ اس کار خیر میں سبقت لے جائیں اس سے زیادہ اورکوئی باعزت کام آپ کو نہیں ملے گااور دین و دنیا کی بہترین سعادتیں آپ کے حصے میں آئیں گی۔
(کالم نگار شاعرہ اور مختلف مسائل پر
اکثر اخبارات میں لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

محسن پاکستان نواب آف بہاولپور

ظہور احمد دھریجہ ….یاد رفتگاں
24مئی، محسن پاکستان، نواب آف بہاولپور صادق محمد خان عباسی کا یوم وفات ہے، ان کی وفات 1966ءمیں ہوئی۔انہیں محسن پاکستان کا خطاب قائد اعظم نے دیا تھا۔ قائد اعظم نے ریاست بہاولپور کی عظیم خدمات کے بارے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے ایک پاکستان موجود تھا اور وہ ریاست بہاولپور تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ سرائیکی ریاست بہاولپور کی پاکستان کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستان کیلئے خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ نواب بہاولپور صادق محمد خان عباسی نہ صرف مسلم لیگ کو فنڈ دیتے تھے بلکہ انہوں نے کراچی میں بہاولپور کے الشمس محل اور القمر محل تحریک پاکستان کے لئے حضرف قائد اعظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح کے حوالے کر دےے،آج سرائیکی نوا ب کے انہی محلات پر سندھ کا گورنر ہاو¿س بنا ہوا ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے نواب بہاولپور نے ریاست کی طرف سے ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرایک طرف مملکت خداداد بہاولپور اور دوسری طرف پاکستان کا جھنڈا تھا،پاکستان قائم ہو تو قائداعظم ریاست بہاولپور کی شاہی سواری پربیٹھ کر گورنر جنرل کا حلف اٹھانے گئے،پاکستان کی کرنسی کی ضمانت ریاست بہاولپور نے دی،پہلی تنخواہ کی ادائیگی کیلئے پاکستان کے پاس رقم نہ تھی تو نواب بہاولپور نے 7کروڑ روپے کی خطیر رقم دی۔ قائد اعظم کے ساتھ علامہ اقبال بھی نواب آف بہاولپور کے بہت قدر دان تھے اور انہوں نے نواب آف بہاولپور کی عظیم اسلامی خدمات پر ان کی شان میں طویل قصیدہ بھی لکھا تھا۔تحریک پاکستان قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے ریاست بہاولپور کا کردار ناقابل فراموش ہے مگر افسوس کہ آج ان باتوں کا تذکرہ تاریخ پاکستان اور نصاب کی کسی کتاب میں موجود نہیں۔
ریاست بہاولپور کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق نواب بہاولپور پنجاب یونیورسٹی کا سینٹ بلاک،کنگ ایڈورڈ کالج کی نصف بلڈنگ اور لاہور ایچی سن کالج کے بہت سے کمرے لاکھوں روپے خرچ کر کے تعمیر کرائے۔ریاست بہاولپور کی طرف سے تعلیمی مقاصد کےلئے لاہور کو سالانہ جو گرانٹ جاری ہوتی رہی اس کی تفصیل کے مطابق کنگ ایڈروڈ کالج ڈیڑھ لاکھ،اسلامیہ کالج لاہور تیس ہزار،انجمن حمایت اسلام پچھتر ہزار،ایچی سن کالج دوہزار،اور پنجاب یونیورسٹی لاہور بارہ ہزار اس کے ساتھ ساتھ لاہور کے ہسپتالوںاور دوسرے رفاہی اداروں کی ریاست بہاولپور کی طرف سے لاکھوں کی مدد کی جاتی رہی۔اس رقم کی مالیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت سوا سو روپے تولہ سونا، ایک روپے میں سو اینٹ، چار آنے سیر چھوٹا گوشت،اور دو روپے من گندم تھی سب سے اہم یہ کہ اس وقت برطانیہ پونڈ اور مملکت خداداد بہاولپور کا کرنسی نوٹ برابر شرح مالیت کے حامل تھے۔اتنی عظیم تعلیمی خدمات کا تذکرہ نصاب کسی کتاب میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔یہ سرائیکی وسیب سے سوتیلی ماں کا سلوک نہیں تو اور کیا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت زندگی کے تمام معاملات میں تمام خطوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے۔ ریاست بہاولپور کے فرمانروا نے عوام کی امور حکومت میں شرکت کیلئے 1952ءمیں ایک عبوری دستوری ایکٹ کا نفاذ کیا، جس کے تحت 49 ارکان کی انتخاب کے ذریعے اسمبلی وجود میں آئی۔ مخدوم زادہ حسن محمود ریاست بہاولپور کی کابینہ کے وزیراعظم تھے۔ عبوری ایکٹ کے تحت ریاست بہاولپور کا آئینی سربراہ امیر آف بہاولپور نواب صادق محمد خان عباسی تھے۔ گویا یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ ون یونٹ کے قیام سے پہلے تک بہاولپور صوبہ تھا۔ اگر صوبہ ہوتا تو حسن محمود وزیراعظم نہیں وزیراعلیٰ ہوتے اور صوبے کا گورنر بھی ہوتا۔
میں نے خبریں کے ابتدائی دنوں میں ریاست بہاولپور کی پاکستان کیلئے خدمات کے بارے لکھنا شروع کیا تو خبریں کے چیف ایگزیکٹو محترم ضیاشاہد نے میری حوصلہ افزائی فرمائی، پھر میں نے ستلج کا نوحہ لکھااور بہاولنگر کی محرومیوں کی داستان لکھی جو روزنامہ خبریں میں قسطوں کی شکل میں شائع ہوئی، اس پر محترم ضیاشاہد نے خبریں ملتان کے مشاعرے سے خطاب کے دوران میرا نام لیکر میری دلجوئی کرتے ہوئے کہا کہ ” میرا تعلق بہاولنگر سے ہے، اپنے علاقے اور اپنی دھرتی سے محبت فطری امر ہے، مجھے اپنے بہاولنگر کا خوبصورت ریلوے اسٹیشن آج بھی یاد ہے۔ مجھے دریائے ستلج کی سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہوئیں موجیں آج بھی یاد ہیں۔ مجھے ستلج تہذیب کے رنگ یاد ہیں، اس کی خوشبوئیں یاد ہیں۔ مجھے علاقے کے لہلہاتے کھیت اور ان کی پیداوار یاد ہے۔ مگر یہ سب کچھ اُجڑ گیا اور یہ سب کچھ قیام پاکستان کے بعد ستلج کی فروختگی اور امروکا بٹھنڈہ ریلوے لائن کی بندش کے نتیجے میں ہوا۔ “ یہ بھی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ریاست بہاولپور کے لوگ بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ ریاست بہاولپور کے تین اضلاع میں سے پہلے نمبر پر بہاولنگر کا نقصان ہوا ہے، ستلج کی غیر طبعی موت کے بعد وہاں پر ویرانی شروع ہو چکی ہے۔ زیر زمین پانی کڑوا ہو گیا ہے اور پانی کا لیول بہت نیچے چلا گیا ہے۔ گویا چولستان کے بعد ایک اور چولستان وجود میں آ رہا ہے۔ امروکا بٹھنڈہ بارڈر کی بندش نے بھی تجارتی طور پر اس خطے کو تباہ کر دیا ہے۔ سمہ سٹہ بہاولنگر ریلوے لائن ناجائز طور پر بند کر دی گئی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کو دیکھ کر رونا آتاہے۔ جناب ضیا شاہد صاحب یہ بھی کہہ رہے تھے کہ نواب آف بہاولپور ہم آبادکاروں اور مہاجروں کے تو محسن تھے ہی لیکن اس سے بڑھ کر وہ محسن پاکستان اور محسن عالمِ اسلام بھی تھے۔ ریاست بہاولپور کے ساتھ ظلم کا ذمہ دار تخت لاہور بھی ہے اور اس کے ذمہ دار موجودہ والیانِ ریاست بھی ہیں۔ ریاست کے لوگوں نے پانچ مرتبہ ان کو نواب صادق محمد خان عباسی کی محبت میں ووٹ دیئے۔ ان لوگوں نے ایک پائی کا کام نہیں کیا۔ ان کے مقابلے میں طارق چیمہ اور دوسرے آبادکار سیاستدانوں نے اپنی کمیونٹی کو زمین سے اٹھاکر آسمان تک پہنچا دیا۔ مگر ریاست کے قدیم اور اصل باسی ذلتوں کا شکار ہو گئے۔ آج بھی حالت یہ ہے کہ مقامی لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ والیانِ ریاست اب بھی کھرب پتی ہیں لیکن ان کی کوٹھیاں اور بنگلے لاہور اور دوسرے شہروں میں ہیں۔ نواب صلاح الدین عباسی کے بھائی نواب فلاح الدین عباسی کے حصے میں انگلینڈ کے محل سمیت کھربوں کی جائیداد آئی۔ ان کی شادی لاہور میں ہوئی۔ وہ والیانِ ریاست بہاولپور میں سے پہلے آدمی ہیں جو شاہی قبرستان میں دفن ہونے کی بجائے لاہور میں دفن ہیں اور کھربوں کی جائیداد کی مالک لاہور میں مقیم ان کی بیوہ ہے۔ کھرب پتی والیانِ ریاست بہاولپور میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی ہم نے نہیں سنا کہ اس نے اپنے خرچے سے کوئی ہسپتال بنوایا ہو یا کوئی تعلیمی ادارہ۔ ان کے محلات اور ان میں پڑے ہیرے جواہرات اور سونے کے برتنوں پر اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے قبضہ کر لیا لیکن یہ کسی غریب کو ایک روپیہ دے کر راضی نہیں۔ یہ صرف نام کے نواب ہیں۔ ان میں انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کےلئے ریاست بہاولپور کی جو خدمات تھیں وہ بہاولپور کے سرائیکی عوام کی طرف سے تھیں کہ کسی بھی سٹیٹ کا کنگ سٹیٹ کی املاک کا محض امین ہوتا ہے، اس کے اصل مالک وہاں کے شہری ہوتے ہیں۔ میں والیانِ ریاست کو بھی کہتا ہوں کہ وہ سٹیٹ کے لوگوں میں کوئی اپنا مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں تو انسانوں سے پیار کریں۔ میں حکومت پاکستان کو بھی کہتا ہوں کہ اگر اس میں ریاست بہاولپور کے احسانات کا ذرہ بھر بھی احساس ہے پھر نہ صرف ریاست بہاولپور بلکہ پوری سرائیکی قوم کو صوبہ اور شناخت دیکر اسے زندہ رہنا کا حق دیں۔
(سرائیکی اخبار روزنامہ جھوک کے ایڈیٹر ہیں
اور زیادہ تر سرائیکی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ایٹمی دیا سلائی

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف چین تیزی سے اُبھرتے ہوئے دنیا کی لیڈرشپ سنبھال رہا ہے تو اس کی ان کاوشوں کے پیچھے ”تقاریر کم“ اور ”ایکشن زیادہ“ نظر آرہے ہیں۔ دوسری طرف ایسی لیڈرشپ سنبھالنے کی جن ممالک کو سخت تکلیف ہے‘ ان میں سرفہرست امریکہ و برطانیہ ہیں‘ تو ان کے دم چھلوں کے طور پر ایشیاءمیں بھارت و افغانستان ہیں۔ تکلیف میں مبتلا ممالک میں حکومتوں پر نظر ڈالیں تو برطانیہ میں تو کوئی حکومت نظر ہی نہیں آرہی۔ دراصل پچھلے برس جب سے انگریزوں نے یورپی یونین سے نکل جانے یعنی کہ ”بریگزٹ“ کی حمایت میں ریفرنڈم کا ووٹ ڈالا ہے‘ تب سے وہاں پر وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد افراتفری کا عالم ہے۔ اس صورتحال میں وہاں پر ”فوری انتخابات“ کا اعلان کردیا گیا ہے جو کہ اگلے ماہ ہونے جارہے ہیں۔ ان عام انتخابات میں وہاں کی لیڈرشپ کا اونٹ کیسے بیٹھے گا؟ پردہ اٹھے گا تو ہم سب دیکھیں گے۔ گلوب کی لیڈرشپ سنبھالنے کے کام کو چین میں ”ون بیلٹ‘ ون روڈ“ منصوبے کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا نام تو آہستہ آہستہ دنیا کو معلوم ہورہا ہے مگر اس پر کام برق رفتاری سے اس کے اعلان کے اگلے ہی دن شروع ہوگیا تھا۔ یہ اعلان چینی صدر کے دورہ ¿ اسلام آباد کے موقع پر ”پاک چین راہداری منصوبے“ پر دستخطوں کے ساتھ ہی دنیا پر واضح ہوگیا تھا۔ مختصر ترین الفاظ میں وہ ”سی پیک کاریڈور“ کے الفاظ میں یا پھر ”ون بیلٹ‘ ون روڈ“ جیسے خوش کن الفاظ‘ چین ان الفاظ کی تشریح دنیا کو کاغذوں یا تقاریر سے نہیں بلکہ خنجراب سے لے کر گوادر تک میں جاری پاک سرزمین پر منعقد ہونے والے تعمیراتی پراجیکٹس کے ذریعے سے زیادہ سمجھا رہا ہے۔ اب جن ممالک کو ایسے معاشیاتی جامع منصوبوں کی سدھ بدھ پڑ رہی ہے‘ وہ تو تیزی سے ان میں شامل ہورہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں اس ”معاشیات کے معجزے“ سے اپنے ممالک کے رسد و رسائل اور کاروبار و تجارت کے میدان میں اپنی اپنی اقوام کے لئے فائدے سمیٹ سکیں۔ مگر کچھ ممالک جن کے ذہنوں میں برسوں سے بنا دنیا کی چودھراہٹ کا بھوت سوار ہے (اور جن کا ذکر اوپر موجود ہے) بوجوہ اس معاشی جن کو اپنی پیہم دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں سے واپس بوتل میں بند کرنے کی سازش کررہے ہیں‘ کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر طرح کی منفی سوچ اور کارروائیوں پر ہی غور کرتے چلے آرہے ہیں۔
اب چونکہ چین کے ان تمام منصوبوں کا مرکز و محور پاکستان اور اس کی بارہ مہینے کارآمد رہنے والی گرم پانیوں کی قدرتی بندرگاہ گوادر ہے۔ اس لئے دنیا کے سازشی چودھری پاکستان کے مشرق و مغرب میں جغرافیائی حدوں کے اس پار سے بھارت و افغانستان کے واسطے سے اندرون پاکستان آگ لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ کہ شاید اچانک بوتل سے برآمد ہوا یہ معاشی جن (جس کے کہ زبردست تذویراتی نتائج بھی برآمد ہوں گے) واپس بوتل میں بند کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے حساس صوبوں سندھ اور بلوچستان کو اپنا مرکز نگاہ بنا رکھا ہے۔
اب یہاں تک کی بات تو قابل فہم ہے‘ ہر کوئی شخص اسے بآسانی سمجھ بھی سکتا ہے۔ مگر ہم اس سے کچھ آگے بڑھ کر قاری کی توجہ اس انہونی کی طرف بٹانا چاہتے ہیں کہ جس میں امریکہ‘ برطانیہ اور بھارت و افغانستان میں موجود حکومتوں کی بات کی گئی ہے۔ اب برطانیہ کی بات تو ہوگئی۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہ تو ایک مقبوضہ ملک ہے‘ وہاں پر امریکی یا پھر نیٹو کی افواج باقاعدہ طور پر قبضہ کئے ہوئے ہیں مگر اشک شوئی کی خاطر انہوں نے وہاں پر پہلے پہل حامد کرزئی کو آگے کیا ہوا تھا تو آج کل اشرف غنی کی شکل میں وہاں پر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہے۔ سو افغانستان کا ذکر ہی کیا کرنا۔ اب رہ گئے امریکہ اور بھارت تو یہاں کی جمہوریتوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی شکل میں ان کے پچھلے عام انتخابات میں ایسا ”اپ سیٹ“ نمودار ہوچکا ہے کہ دنیا بھر کے صاحبان فہم و دانش‘ ایسی جمہوری انہونیوں پر ابھی تک انگشت بدندان ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلی صدی میں جب جرمنی و اٹلی کی جمہوریتوں میں وہاں کے انتخابات کے بعد ہٹلر اور مسولینی کی حکومتیں قائم ہوئی تھیں‘ تو ان حکومتوں کو جرمنی و اٹلی کے علاوہ تمام دنیا نے بھی بھگتا تھا۔ نتیجے میں بے پناہ تباہی کے علاوہ کوئی ایک کروڑ کے قریب بنی آدم دوسری جنگ عظیم میں ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔ یورپ میں تو اس جنگ عظیم کے نتیجے میں کوئی جوان لڑکا بچا ہی نہ تھا۔ اتنے برس گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک یورپ میں مرد و زن کا تفاوت ختم نہیں ہوسکا۔ اگر ہم ہٹلر اور مسولینی کی سوانح حیات پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ ذاتی طور پر وہ رہنا تھے اور اپنا اپنا نظریہ رکھتے تھے بلکہ دونوں نے اپنے نظریات پر کتب بھی تحریر کی تھیں۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ جنگوں میں اُلجھ کر اپنی اپنی قوموں کو بھی رسوا کیا اور دنیا بھر میں تباہی بھی پھیلائی۔
اب جبکہ گراں خواب چینی انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھے ہیں اور بیجنگ میں دنیا کے حکمرانوں کو بلا کر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو پیش کیا جارہا ہے تو دراصل یہ باتیں چین کو دنیا بھر کے رہنما کے طور پر اُبھاریں گی۔ مگر امریکہ و بھارت چین میں منعقدہ سربراہی کانفرنس پر جزبجز ہورہے ہیں۔ وہ نہ صرف اس منصوبے کی حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں بلکہ ابھی تک اپنے کل بھوشنوں اور مقامی خریدے گئے دہشت گردوں کی وساطت سے مزدوروں تک کو قتل کروانے کے گھناﺅنے کام کروا رہے ہیں۔ کہیں پر وہ مذہبی فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں تو کہیں پر لسانی اور صوبائی تعصبات کو اُبھار رہے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طور چین و پاکستان میں چڑھتے ہوئے معاشیاتی و تذویراتی سورج کو دیکھنے سے آنکھیں چرائی جائیں۔
اب اگر امریکہ میں کارٹونی فطرت کے ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ پر کوئی لنکن و نکسن وغیرہ جیسے صدر ہوتے یا بھارت گندے پیالوں میں جعلی چائے بیچنے والے نریندر مودی کی جگہ گاندھی و نہرو جیسا کوئی حکمران ہوتا تو ان سے دوراندیشی میں اچھے فیصلوں کی توقع کی جاسکتی تھی۔ مگران دونوں ممالک میں اگر ”سی پیک“ جیسے معاہدوں سے ایک سخت پیٹ میں خرابی کی صورتحال ہے تو وہاں پر حکومت پر بھی بندر نما انسان بیٹھے ہیں جو کہ نہ صرف بیٹھے ہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم کے حالات کے برعکس اب ہاتھوں میں ایٹمی دیا سلائی بھی دبائے ہوئے ہیں۔ سو معاملات سنجیدہ ہیں۔ دنیا کے دانشوروں کو لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ جہاں پر وہ ون بیلٹ اور ون روڈ کے کرشموں پر دنیا کو موقع دیں وہیں پر امریکہ و بھارت جیسی جمہوریتوں سے اُبھرے حسن ٹرمپ و مودی پر بھی نظر رکھیں کہ بندر کے ہاتھ میں عام دیا سلائی ہو تو تب بھی خطرناک ہے اور اگر یہ دیا سلائی کسی ایٹم بم کو چلانے والی ہو تو یقینا یہ ایک بہت ہی بڑا خطرناک لمحہ فکریہ ہوسکتا ہے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے
ڈسٹرکٹ ناظم بھی رہے ہیں)
٭….٭….٭