All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

شلپا شیٹھی گولڈ کو ن آئس کریم کھانے ہانگ کانگ پہنچ گئیں

ہانگ کانگ (شوبزڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹھی سنہری ورق سے ڈھکی مشہور زمانہ گولڈ کون آئس کریم کھانے کیلئے ہانگ کانگ پہنچ گئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ شلپا شیٹھی جو ہانگ کانگ میں ہیں جہاں وہ 24قیراط سونے کے ورق سے ڈھکی آئس کریم کے مزے اڑانے نامور آئس کریم پارلر پہنچیں۔ شلپاشیٹھی نے اس سنہری آئس کریم کوکھاتے ہوئے اپنے مداحوں سے تاثرات بھی سوشل میڈیا پر شیئر کئے جسے ان کے فالورز نے بہت پسند کیا۔

نسیم وکی، طاہر انجم قطرمیں ”گول گپے “ میں پرفارم کرینگے

لاہور(شوبزڈیسک) پاکستانی کامیڈین قطر میں پرفارم کرینگے۔ تفصیل کے مطابق معروف کامیڈین نسیم وکی، ہنی البیلا، طاہر انجم ،ببو رانا،پرویز خان کے علاوہ اداکارہ نیناں خان، انمول شہزادی اور کرن نور ماہ دسمبر میں کے دوسرے ہفتے قطر روانہ ہوجائینگے جہاں وہ پنجاب میوزک گروپ کے زیراہتمام قطر کے مختلف شہروں میں ”گول گپے “ کے نام سے ہونیوالے میوزیکل شو میں پرفارم کرینگے۔ان کا پہلا شو 18دسمبر کو اوپن گراﺅنڈ ایونٹ ،19دسمبر کو رائل سینما السعاد اور 20دسمبر کو الخور کمیونٹی میں ہوگا۔ آرگنائزر نزاکت علی ہیں۔ نے بتایا کہ یہ تین روزہ پروگرام قطر کے قومی ڈے کے حوالے سے رکھا گیا ہے جس کے رائٹر ڈائریکٹر نسیم وکی ہیں۔

دیپکا اور رنویرکی شادی‘سکیورٹی پر ایک کروڑ خرچہ آیا

ممبئی (شو بز ڈیسک)بھارتی اداکارہ دیپکا پڈکون اوررنویرسنگھ کو ان کی شادی پر ان کے فلمی ساتھیوں کی جانب سے مبارکبادوں کے ڈھیر لگا دیئے گئے۔دونوں اٹلی کے خوبصورت مقام لیک کومومیں شادی کے بندھن میں بندھ گئے ۔ شاہ رخ خان، کرشمہ کپور، کرن جوہر، کپل شرما اورراکھی ساونت سمیت متعدد شوبز شخصیات کی جانب سے مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ شادی کے سکیورٹی انتظامات پر 1کروڑ روپے خرچ کر ڈالے ۔نگر انی کے لئے بحر ی جہاز اور کشتیاںبھی کرائے پر لی تھی۔رنویر سنگھ اور دپیکا پڈوکون نے مہمانوں پر موبائل فون کے استعمال کی پابندی عائد کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس تقریب کی تصاویر سامنے نہیں آئیں۔اس موقع پر مہمانوں کے لیے ایک منشن کے 75 کمرے بک کرائے اور اس کا کرایہ ایک کروڑ 73 لاکھ بھارتی روپے ادا کیا۔یہ جوڑا اب 18 نومبر کو بھارت واپس آئے گا جہاں 21 نومبر کو بنگلور میں شادی کی دعوت ہوگی جبکہ 28 نومبر کو ممبئی میں بالی وڈ اداکاروں کے لیے بھی ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

مائیکل جیکسن کی جیکٹ 2لاکھ 98ہزار ڈالر میں نیلام

نیویارک (شوبزڈیسک ) شہرہ آفاق آنجہانی امریکی گلوکار مائیکل جیکسن کی سیاہ جیکٹ نیلام کردی گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاپ سٹار مائیکل جیکسن کی سلور مارکر سے دستخط شدہ سیاہ جیکٹ 2لاکھ 98ہزار ڈالر میں نیلام کردی گئی۔ جیکٹ فروخت سے قبل ٹیکساس کے ایک بزنس مین کی ملکیت تھی ،جسکے پاس مائیکل کی ایک اور جیکٹ بھی موجود ہے۔سیاہ جیکٹ کی نیلامی ٹائمز سکوائر نیویارک کے کیفے ہارڈ راک میں کی گئی ۔

ورلڈٹی20،سٹیفنی پروٹیزبلے بازوں کےلئے قہربن گئیں

سینٹ لوسیا (اے پی پی) سٹیفنی ٹیلر کی تباہ کن باﺅلنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے ویمنز ورلڈ ٹی ٹونٹی کرکٹ کپ کے بارہویں میچ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کو 31 رنز سے شکست دیکر میگا ایونٹ میں مسلسل دوسری کامیابی اپنے نام کرلی۔ کپتان سٹیفنی ٹیلر نے انتہائی شاندار باﺅلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو نشانہ عبرت بنا کر ٹیم کو فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اس شاندار کارکردگی پر ٹیلر کو میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم 108 رنز ہدف کے تعاقب میں 18.4 اوورز میں 76 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئی۔ میزبان ٹیم کی باﺅلرز کی تباہ کن باﺅلنگ کے باعث جنوبی افریقہ کی 9 کھلاڑی دوہرا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکیں۔ ایک اور میچ میں سری لنکن ٹیم نے بنگلہ دیشی ٹیم کو 25 رنز سے شکست دیکر میگا ایونٹ میں پہلی فتح کا مزہ چکھ لیا۔ شاشیکالا سری وردھنے کو آل راﺅنڈ کارکردگی پر میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ویسٹ انڈیز میں جاری میگا ایونٹ میں کھیلے گئے گروپ اے کے میچ میں ویسٹ انڈیز ویمن ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 107 رنز بنا کر جنوبی افریقہ کی ٹیم کو میچ میں کامیابی کے لئے 108 رنز کا ہدف دیا۔ کیسیا اے نائٹ 32، مکلین 28 اور ڈوٹن 12 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں جبکہ 6 کھلاڑی دوہرا ہندسہ بھی عبور نہ کر سکیں۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے شبنم اسماعیل نے 3 اور ڈینی وان نیکرک نے 2 وکٹیں لیں، جواب میں ویسٹ انڈین ویمن ٹیم کی کپتان سٹیفنی ٹیلر کی تباہ کن باﺅلنگ کے بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں 18.4 اوورز میں صرف 76 رنز پر ڈھیر ہو گئی، سٹیفنی ٹیلر کی تباہ کن باﺅلنگ کے سامنے جنوبی افریکن ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ ریت کی دیوار ثابت ہوئی، کوئی بھی کھلاڑی متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی، پوری ٹیم میں سے صرف دو کھلاڑی دوہرا ہندسہ عبور کر سکیں، کاپ نے 26 اور لی نے 24 رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے سٹیفنی ٹیلر نے 4، ڈوٹن، کونل اور شکیرا نے ایک، ایک وکٹ لی۔ سٹیفنی ٹیلر کو شاندار باﺅلنگ پر میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اسی روز کھیلے گئے گروپ اے کے ایک میچ میں سری لنکن ویمن نے بنگلہ دیشی ٹیم کو 25 رنز سے شکست دیکر میگا ایونٹ میں پہلی کامیابی حاصل کرلی۔ یہ سری لنکن ٹیم کی تین میچوں میں پہلی کامیابی ہے ۔ سری لنکن ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں پر 97 رنز بنائے، سری وردھنے 31 رنز بنا کر نمایاں رہیں، بنگلہ دیش کی جہان آرا عالم نے 3 کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔ جواب میں بنگلہ دیشی ویمن ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں مقررہ اوورز میں 72 رنز بنا کر آﺅٹ ہوگئی۔ سلطانہ نے 20 رنز بنائے۔ بنگلہ دیش کی آٹھ کھلاڑی دوہرا ہندسہ بھی عبور نہ کرسکیں۔ سری وردھنے نے بیٹنگ کے بعد باﺅلنگ میں بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اس عمدہ کارکردگی پر ان کو میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم میگا ایونٹ میں اب تک کوئی میچ جیتنے میں کامیابی نہیں ہوسکی۔

وسیم اکرم بیک وقت 2کشتیوں کے سواربن گئے

کراچی(نیوزایجنسیاں)دو کشتیوں کے سوار وسیم اکرم ٹی ٹین لیگ اور کراچی کنگز دونوں کا حصہ بن گئے، شاہد آفریدی کو اسی وجہ سے پی ایس ایل فرنچائز چھوڑنا پڑی تھی۔ذرائع کے مطابق سابق لیفٹ آرم پیسر شارجہ میں شیڈول ایونٹ میں بھی بطور کوچ ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے بھی اپنے بعض کھلاڑیوں کو ازخود لیگ سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی کو ٹی ٹین لیگ نہ چھوڑنے کی وجہ سے کراچی کنگز سے الگ ہونا پڑا، دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ پی ایس ایل فرنچائز کے نئے صدر وسیم اکرم بھی اس لیگ سے بطور ٹیلنٹ ہنٹ ڈائریکٹر اور کوچ منسلک ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ ٹی ٹین کو چھوڑ دیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ وہ پروفیشنل کرکٹر ہیں اور جہاں موقع ملے وہاں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔واضح رہے کہ کراچی کنگز کے اونر ٹی ٹین لیگ کے شریک پارٹنر تھے مگر پھر اختلافات کی وجہ سے الگ ہو گئے،وسیم اکرم ایونٹ میں مراٹھا عربےئنز کی کوچنگ کریں گے جب کہ سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد پنجابی لیجنڈز کے کوچ ہیں۔دوسری جانب پی سی بی نے بظاہر لیگ کیلیے پلیئرز کو این او سی جاری کر دیے مگر ذرائع کے مطابق کئی کو روکا بھی گیا، کوچ مکی آرتھر نے ورلڈکپ سے قبل بعض کھلاڑیوں کو ایسے ایونٹس سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا تھا، لہذا محمد عامر کو معاہدہ ہی نہیں کرنے دیا گیا، شعیب ملک نے پی سی بی کے دبا پر ایونٹ سے علیحدگی اختیار کی، آصف علی کو بھی اجازت نہیں دی گئی، موجودہ ٹیم کے ارکان نیوزی لینڈ سے ٹیسٹ سیریز کی وجہ سے ویسے ہی دستیاب نہیں تھے۔21 نومبر سے 2 دسمبر تک شارجہ میں شیڈول ٹی ٹین لیگ میں شاہد آفریدی،محمد عرفان اور سہیل خان پختون کی نمائندگی کریں گے، کیرالہ کنگز میں سہیل تنویر، جنید خان اور عمران نذیر موجود ہیں، پنجابی لیجنڈز کو محمد سمیع ، عمر اکمل، انور علی اور حسان خان کا ساتھ حاصل ہوگا، مراٹھا عربینئز میں کامران اکمل، بنگال ٹائیگرز میں عامر یامین، ناردرن وارےئرز میں وہاب ریاض، راجپوتس میں راحت علی جبکہ ایک اور فرنچائز میں محمد نواز

ہاکی ورلڈ کپ کی تیاری ، توقیر نے ٹیم کو فتح کا نسحہ بتا دیا

لاہور(سپورٹس رپورٹر) قومی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ توقیر ڈار نے ورلڈ کپ میں کھلاڑیوں کو فتح کا نسخہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کھلاڑی باصلاحیت ہیں اور دنیا کی کسی بھی ٹیم کو ہرانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔چیف کوچ توقیر احمد ڈار نے اپنے انٹرویو میںکہا کہ ورلڈ کپ کے دوران میچز کی صورت حال کے مطابق حکمت عملی اپنا کر نتائج اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے۔ میگا ایونٹ میں ہمارا پول سخت ہے تاہم امید ہے کھلاڑی عوامی توقعات پر پورا اترینگے ۔محمد عرفان اور راشد محمود کو باہر کے لوگ لاکھوں روپے معاوضوں کے عوض اپنی لیگز کا حصہ بناتے ہیں، یہی صورت حال ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کی بھی ہے، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سالہا سال سے ہاکی کھیلنے والے کھلاڑیوں کو بھی کیا کوچنگ کی ضرورت ہے؟ سچ پوچھیں تو یہ ہمارے دور کے پلیئرز سے زیادہ اچھے کھلاڑی ہیں، ان کھلاڑیوں کو بس اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔توقیرڈار کا کہنا تھا کہ ماضی میں کوچز کھلاڑیوں کے ساتھ سخت گیر ہیڈماسٹر کی طرح سلوک کرتے تھے، ٹیم مینجر حسن سردار کے بعد میں نے پلیئرز کے ساتھ چھوٹے بھائیوں اور بیٹوں جیسا رویہ اپنا کر ان کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک سوال پر قومی ہاکی ٹیم کے چیف کوچ نے کہا کہ گو ورلڈ کپ کے دوران ہمارا پول خاصا سخت ہے تاہم پرامید ہوں کہ عالمی کپ کے دوران کھلاڑی عوامی توقعات پر پورا اتریں گے۔

ٹینس سٹارثانیہ مرزا کی سالگرہ پر مبارکبادوں کے ڈھیر لگ گئے

حیدرآباد دکن(آئی این پی) بھارتی ٹینس اسٹار اور شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے زندگی کی 32بہاریں دیکھ لیں۔15نومبر 1986کو ممبئی میں پیدا ہونے والی ثانیہ مرزا نے کیریئر میں 6گرینڈ سلیم ٹائٹلز کے ساتھ سیالکوٹی منڈے شعیب ملک کا دل جیتا،دونوں اسٹارز کی شادی 2010میں ہوئی تھی، حال ہی میں ان کے ہاں ننھے مہمان اذہان کی آمد ہوئی ہے۔نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریزمیں شرکت کے بعد یواے ای سے روانہ ہونے والے شعیب ملک ان دنوں دونوں بھارتی شہر حیدرآباد دکن میں فیملی کیساتھ موجود ہیں۔آل رانڈر نے بیوی اور بچے کو وقت دینے کیلیے ٹی ٹین لیگ میں شرکت سے بھی معذرت کرلی تھی، دونوں اسٹارز اپنے نوزائیدہ بیٹے اذہان کیساتھ ثانیہ مرزا کی پہلی سالگرہ منارہے ہیں۔اس موقع پر بڑی تعداد میں کھیلوں اور فلم انڈسٹری کے ستارے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر مبارکبادیں دے رہے ہیں۔جواب میں ثانیہ مرزا بھی نیک خواہشات پر ان کا شکریہ ادا کررہی ہیں۔

کرکٹ کمیٹی 6ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی ، توقیر ضیا

اسلام آباد( آن لائن ) پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)توقیر ضیا نے کہا ہے کہ جس انداز سے کرکٹ کمیٹی کے اراکین بیان بازی کر رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہا تو کمیٹی 6 ماہ کے اندر ختم بھی ہو جائیگی۔ ایک انٹرویومیں توقیر ضیا نے کہا کہ سابق ٹیسٹ کر کٹر محسن حسن خان کی سربراہی میں کام کرنے والی کرکٹ کمیٹی کا کردار ان کی نظر میں کرکٹ معاملات سے زیادہ مشاورتی لگ رہا ہے۔انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی کے اراکین جس انداز میں بیان بازی کر رہے ہیں انھیں نہیں لگتا کہ اس کمیٹی کا مستقبل زیادہ تابناک ہے ،اگر یہ کمیٹی اسی انداز میں بیان دیتی رہی تو 6 ماہ کے اندر ختم بھی ہو جا ئیگی۔قومی کر کٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہو ئے پی سی بی کے سابق سربراہ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کس بات کا انتظار کررہے ہیں، انہیں تو فی الفور وکٹ کیپر کو ورلڈ کپ کیلئے کپتان نامزر کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی ٹیم میں شعیب ملک اور محمد حفیظ دو ایسے سابق کپتان ہیں جنہیں قیادت کے مقابلے میں دیکھا جاسکتا ہے ، البتہ انہیں نہیں لگتا کہ پی سی بی اس حوالے سے کچھ سوچ رہی ہے لہذا مناسب ہو گا کہ احسان مانی سرفراز کی قایدت کاباقاعدہ اعلان کر کے ساری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیں۔، ورنہ لوگ باتیں کرتے رہیں گے۔پی سی بی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے توقیر ضیا کا کہنا تھا کہ احسان مانی کو بطور چیئرمین کچھ وقت دینا چاہیے کیونکہ وہ کرکٹ کے معاملات میں وہ بڑی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل میں پی سی بی کے سربراہ ہوتے ہوئے میں نے ہی انہیں آئی سی سی کی صدارت کیلئے بھیجا تھا۔سابق چیئرمین نے پی سی بی منیجنگ ڈائریکٹر کے تقرر پر بات کرتے ہو ئے کہا کہ چیف آپریٹنگ آفیسر کی موجودگی میں یہ تقرری ان کی سمجھ سے باہر ہے۔#/s#

کو ہ ہمالیہ!

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
صبح دم سوشل میڈیا پر ان کی تصویر نظر آئی۔ایک ویل چیئر پر انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔دل تڑپ کر رہ گیا۔بر صغیر کی مسلم تاریخ کا کوہ ہمالیہ جس کی زندگی انقلاب اور آزادی کے لیے صرف ہوئی اور ہر دوسرا دن زندانوں کی نذر ہو گیا۔
وہ کون ہے ‘ جس کی آواز مردہ دلوں میں امیدوں کے دیے روشن کرتی ہے ؟ جس کی زندگی اول تا آخر جذبوں اور ولولوں کی کہانی ہے ۔ جس نے تخت و تاج کو پاﺅں کی ٹھوکروں میں رکھا ۔ بھارت کی صدارت پر جیل کی طویل اور اذیت ناک زندگی کو ترجیح دینے والا شخص کون ہے ؟
وہ کون ہے ؟ جس کی جراتوں نے رزم آرائی سے نا آشنا کشمیر کو معرکے کا میدان بنا دیا ۔ جس کی ہمتوں کے سامنے ہمالیہ سر نگوں ہو گیا ‘ جس نے ببانگ دہل جبر کی سیاہ رات کو للکارا‘ ایسے وقت میں جب کشمیر کے طول و عرض میں شیخ عبداﷲ خاندان خدا کا اوتار کہلاتا تھا ۔
وہ مرد حق آگاہ ، کشمیر کا وہ مرد حر سید علی گیلانی ہے:جوبھارت کے لیے لوہے کی چٹان بن گیا ہے ‘ جس نے تمام تر سازشوں اور ہزار ہا رکاوٹوں کے باوجود للکار کر کہا ۔
” اگرکشمیرکے پہاڑوں پر کالی برف بھی پڑنے لگے‘ تب بھی ہم شہیدوں کے لہو سے غداری نہیں کریں گے ‘ اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔“
سید علی شاہ گیلانی ‘ کشمیر کا مرد حر ‘ آزادی کی تحریک کا بے لوث اور ہر دلعزیز قائد جن کی زندگی کا ہر لمحہ ‘ ہر پل حق خودارادیت کی جدوجہد کے لیے وقف رہا ۔ یہ کون ہے کہ جب بہت سے دعوے دار کڑی دھوپ میں پگھل گئے …. تو وہ عزم و ہمت کا ہمالہ بن کر ڈٹا رہا۔ کون ہے آخری سید علی شاہ گیلانی ….؟
سید علی شاہ گیلانی 82 برس قبل ولر جھیل کے کنارے زوری منس گاﺅں میں پیدا ہوئے ‘ آپ کے والد سید پیر شاہ گیلانی ایک عام مزدور تھے ۔ سید علی شاہ گیلانی نے غربت میں آنکھیں کھولیں ۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاﺅں سے حاصل کی ۔ بعد ازاں لاہور اور سری نگر میں زیر تعلیم رہے ۔تعلیم سے فراغت کے بعد کشمیرکی اسلامی تحریک سے وابستہ ہوئے ۔ کشمیر کے مرد درویش پیر سعد الدین سے حریت و انقلاب کا سبق پڑھا ۔ حکیم غلام نبی ‘ قاری سیف الدین ‘ مولانا امین شوپیانی ‘ مولانا غلام احمد احرار جیسے مردان حر کی صحبت نے آپ کے اندر قافلہ عشاق کے رہرو اور رہبری کے جوہر پیدا کر دیے ‘ بہت جلد آپ کشمیر کے بچوں ‘ بوڑھوں ‘ نوجوانوں اور ماﺅں بہنوں کی زبان بن گئے ۔ حق گوئی و بے باکی ان کا شعاربن گیا ۔خواب غفلت میں مد ہوش قوم کے تن بدن میں آگ لگانے والے کی ضرورت تھی ۔ آپ نے کشمیر پر بھارتی جابرانہ اور غاصبانہ قبضے کو گلی کوچے ‘ بستی بستی ‘ شہر شہر اور گاﺅں گاﺅں نہ صرف چیلنج کیا بلکہ عوام الناس کو بھارت کے کھلے جبر اور شیخ عبداﷲ کی مکاریوں سے آگاہ کیا ۔ آپ کی قوت گفتار کا اعجاز تھا کہ کشمیر کے پیر وجواں آپ کی صدا کے ہمنوا ہوتے چلے گئے ۔ کشمیر کے کوچہ و بستی گیلانی کی پکار کے گواہ بن گئے ۔
انہوں نے للکار کر کہا : ” میں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کو نہیں مانتا ۔ میں بھارتی سامراج کا باغی ہوں ۔ اس بغاوت کے جرم میں مجھے پھانسی کے پھندے کو بھی چومنا پڑا تو اسے اپنی سعادت سمجھوں گا ۔“
ابتلا و آزمائش کی بھٹی سلگائی گئی ‘ سید علی گیلانی سب سے بڑھ کر تعذیب و تعزیر کے مستحق ٹھہرے ۔ آپ کے دو ٹوک لہجے اور واضح موقف کو جبر ‘ ستم اور بہیمانہ تشد کے ذریعے بدلا نہ جا سکا ۔
28اگست 1962ءکو آپ پہلی بار گرفتار کیے گئے ‘ جس کے بعد دارو گیر کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہو گیا ۔ 31 برس کے دوران وقفے وقفے تک جیل آپ کا مسکن ‘ ہتھکڑی زیور اور بھارتی تشدد مقدر ٹھہرا ۔ بر صغیر کی تاریخ میں سید علی گیلانی واحد شخصیت ہیں جن کی سیاسی زندگی کا ہر دوسرا دن جیل میں گزرا ۔ طویل عرصہ اسیری میں آپ کو جھکانے ‘ مٹانے اور ورغلانے کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ ہر بار صدائے حریت بلند آہنگ ہوتی چلی گئی ۔ شیخ عبداﷲ اور اس کے حواریوں نے ہزار جال بچھائے لیکن یہ شاہین زیر دام نہ آیا ۔
شیخ عبداﷲ نے کہا :” حق خود ارادیت کا وقت گزر چکا ہے ۔اب تو دریائے جہلم کے پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے ۔“ سید نے کہا :” دریائے جہلم میں پانی ہی تو بہا ہے ‘ کشمیر کا حق آزادی تو نہیں بہہ گیا ۔“ انسانی حقوق تو نہیں بہہ گئے ‘ تو پھر ہم اپنے حق سے دست بردار کیوں ہوں ۔“
سید ہمیشہ اس ٹھوس مطالبے پر ڈٹے رہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے ۔ جمہوری و آئینی جدوجہد کی طویل کہانی کے ہیرو سید علی شاہ گیلانی ریاستی اسمبلی کے شعلہ بار رکن اور ایک عرصے تک قائد حزب اختلاف رہے ۔ مسلسل گرفتاریاں ‘ لاتعداد مقدمات ‘ درجنوں قاتلانہ حملے ‘ جسم و جان کے مختلف عارضے آپ کی زندگی کے شب و روز کی یہی کہانی ہے ۔ آپ نے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی کشمیری ملت کی انگلی پکڑ کر اسے آزادی کی راہ پر گامزن کیا ‘ بھارتی حکمرانوں اور ان کے ریاستی حواریوں سے کہا ۔
” تمہارے خیال میں اگر کشمیر ی ملت نے بھارت کے ساتھ رہنا منظور کر لیا ہے ‘ تو یہ تمہاری بھول ہے ۔ جبر سے زبانیں بند کی جا سکتی ہیں لیکن تمہیں اس روز کا انتظار کرنا چاہیے جب آج ماﺅں کی گودوں میں پلنے والے بچے جوان ہوں گے ۔ یقین رکھو ‘ کل یہی نسل میرا ساتھ دے گی ‘ یہی نسل تم سے اپنی آزادی چھین کر لے گی ۔“
نئی نسل میں آزادی کی روح پھونکنے کے لیے آپ اور آپ کے ساتھیوں نے ریاست جموں و کشمیر میں چار سو سے زائد ماڈل سکول قائم کیے ۔ ایک ہزار سے زائد مثالی بستیاں قائم کر کے ماﺅں کی گودوں میں پلنے والے معصوم بچوں کو آزادی کا سبق سکھایا ۔ آج پون صدی بعد پوری تین نسلیں بھارتی غلامی کے خلاف صف آراءہیں ‘ تب ماﺅں کی گودوں میں پلنے والے آج میدان وغا میں کھڑے ہیں ۔
سید علی شاہ گیلانی کی جدوجہد کی کہانی طویل اور اذیت ناک بھی ہے اور صبر آزما بھی ۔آزادی کی جدوجہد سے باز رکھنے کے لیے بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے آپ کو بھارت کا صدر بننے کی پیش کش کی ۔ آپ نے اس پیش کش کو پائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہا ۔
”مادام گاندھی ! اب کشمیرمیں کوئی شیخ عبداﷲ نہیں رہا جو کرسی کی خاطر دین و ملک سے غداری کرے ۔“
کشمیرکے گلی کوچے ہوں یا شہر و دیہات ‘ بلند و بالا پہاڑوں پر آباد گاﺅں ہوں یا دور دراز برف زاروں میں بسی آبادیاں‘ جیل کا تاریک سیل ہو یا ریاستی اسمبلی کا ایوان …. سید علی گیلانی کی جدوجہد اور بے باکی کی داستان ہر سو پھیلی ہوئی ہے ۔یہ ان کا فیضان نظر ہے کہ کل تک شیخ عبداﷲ کو اوتار ماننے والی ملت آزادی کی راہ میں اپنے خون کے چراغ جلا رہی ہے اس چومکھی جنگ نے ایک پوری نسل کو بھارت کی غلامی کو تقدیر سمجھنے کے بجائے لڑنا سکھایا ۔ یہ آپ ہی تھے کہ سب سے پہلے کشمیریوں کو ٹی وی اور دوسرا گھریلو سامان بیچ کر بندوق خریدنے کی تلقین کی ۔31 برس سے زائد عرصے تک جیلوں میں رہنے ‘ حق آزادی کی جدوجہد سے باز نہ آنے اور پورے عزم و حوصلے سے ملت کشمیرکی رہنمائی کے اعتراف کے طور پر ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ” ضمیر کا قیدی “ قرار دیا ہے۔
سید علی شاہ گیلانی آج ایک مرتبہ پھرہسپتال میںہیں۔ بھارتی حکمران اس پہاڑ کو اپنے سامنے جھکانا چاہتے تھے وہ کبھی بھارتی جبر کے سامنے نہیں جھکا۔ اسے پاکستان سے بے مثال محبت کی سزا دینا چاہتے ہیں ۔اس نے اپنے ناناﷺ کی آبرو رکھ لی ۔ پورا پاکستان ان کا شکر گزار ہے کہ انہوںنے اہل پاکستان کی تمناﺅں کو بھی توقیر بخشی ۔ اہل پاکستان ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔سید علی شاہ گیلانی کی جدوجہد جاری ہے تو جیلوں اور تعذیب خانوں کے دروازے بھی کھلے ہیں ‘ مصائب سید علی شاہ گیلانی سے اور سید گیلانی ان سے خوب واقف ہیں ۔ انہیں پاکستان سے دور نہیں کیا جا سکتا ہے ‘ نہ اہل کشمیر سے ۔ ان کا ماضی اور حال ان کے مستقبل پر گواہ ہے ۔
وہ کڑی دھوپ میں ایک گھنے اور ٹھنڈے سائے کی طرح جلوہ گر ہیں اور رہیں گے ۔ایسا سایہ جس میں راہ حریت کے مسافر آسودگی پاتے ہیں ۔
ہمیں خوب جانتی ہیں یہ عزیمتوں کی راہیں
کئی بار آ چکے ہیں ‘ کئی بار جا چکے ہیں
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭