All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

ہم دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے معترف ہیں ، پا کستان اپنے مسائل پر قابو پا کر بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گا ،جمہوری ادارے مضبوط ہونگے ، انسانی حقوق کا احترام ہو گا ، ارجنٹیناسفیر کی چینل ۵کے پروگرام ” ڈپلو میٹک انکلیو “ میں گفتگو

اسلام آباد (انٹرویو :ملک منظور احمد ،تصاویر نکلس جان ) اسلام آباد میں تعینات ارجنٹینا کے سفیر ایوان ایوان اسیوچ کا کہنا ہے کہ ارجنٹینا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سپورٹ کرتا ہے ،پاکستان نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔پاکستان نے افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کر کے بھی بہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے ،افغان مہاجرین جو اپنے ملک میں خانہ جنگی کے باعث تباہ حال تھے پا کستان نے انہیں قبول کیا ۔ہم دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پا کستان کی کوششوں کے معترف ہیں ۔ارجنٹینا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے امن مذاکرات جو کہ پا کستان کی مدد سے ممکن ہوئے ان کی بھی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ہم توقع کرتے ہیں کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان اور اس خطے میں امن لوٹ کے آئے گا ،معاشی ترقی کا حدف امن کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔امن کے دو ہی راستے ہیں یا تو دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے یا پھر ان کو اپنی منفی سرگرمیوں سے باز رکھنے پر قائل کر لیا جائے تاکہ معاشرہ امن اور ترقی کی منزلیں حاصل کر سکے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چینل فا ئیو کے پروگرام ©©©’ڈپلومیٹک انکلیو “میں خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کیا ،©ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تیسری بار جمہوری طریقے سے اقتدار منتقل ہوا ہے ،جو کہ بہت ہی خوش آئند پیش رفت ہے ،جمہوریت کا تسلسل ہی قوموں کو ترقی کی طرف لے جاتا ہے ،ارجنٹینا نے بھی 1976ءسے لے کر 1983ءتک ایک فوجی حکومت کا تجربہ کیا جو کہ بہت ہی ناکام ثابت ہوا ،جمہوریت فوری طور پر نتائج نہیں دیتی ،اورسوےلین حکمران غلطیاں بھی کرتے ہیں اور انہی غلطیوں سے سیکھتے بھی ہیں ۔طویل مدتی نظام کے طور پر جمہوریت ہی اچھا نظام ہے لیکن اس کے ساتھ پا لیسیوں کا تسلسل بھی ضروری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں کہ پا کستان اپنے مسائل پر قابو پا لے گا ،اور بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھائے گا ۔جمہوری ادارے تقویت پکڑیں گے ،سول اداروں اور انسانی حقوق کا احترام ہو گا ،آزادی اظہارپر بھی کوئی قدغن نہیں ہو گی ،پاکستان ابھی سیکھنے کے ارتقائی مراحل میں ہے ،اور ہمیں پر امید ہونا چاہیے ،کہ وقت کے ساتھ بہتری آئیگی ،اور ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کا مستقبل روشن ہو گا ۔سیا حت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ،مجھے ذاتی طور پر پہاڑی علاقے بہت پسند ہیں ،میں خاص طور پر پولو میچ دیکھنے شندور بھی جا چکا ہوں،اور پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے لوگ بھی بہت ہی ملنسار اور مہمان نواز ہیں،پاکستان جیسے پہاڑی سلسلے دنیا میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتے ہیں،ایک کام جو کرنے کی ضرورت ہے کہ ان علاقوں میں ہوٹلوں کی صنعت کو فروغ دیا جائے ،سیکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری آچکی ہے ،اورخاص طور پر شمالی علاقہ جات بہت محفوظ ہو چکے ہیں ،اور مجھے کبھی ان علاقوں میں کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا ۔میری ایک خواہش ہے کہ پشاور سے لنڈی کوتل تک اسٹیم انجن کی لا ئن کو بحال کیا جائے ،مجھے ذاتی طور پر اسٹیم ٹرینیں اور پرانی ٹرینوں پر سفر کا بہت شوق ہے ،میں 2004ءمیں پشاور سے لنڈی کوتل اس اسٹیم ٹرین کا سفر کر چکا ہوں اور مجھے جو خو بصورتی اس سفر کے دوران دیکھنے کو ملی وہ آپ کو دنیا میں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رجنٹینا نے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات 1951ءمیں استوار کیے ،ہم یہ تعلقات قا ئد اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں ہی استوار کرنا چاہتے تھے لیکن ایسا نہ ہو سکا ہوا ،واشنگٹن میں پا کستانی سفیر نے بیونس آ ئرس کا دورہ کرنا تھا لیکن قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ واپس چلے گئے اور یہ دورہ نہ ہو سکا اور ہمیں سرکاری سطح پر تعلقات استوار کرنے میں مزید تین سال لگ گئے ،لیکن ارجینٹینا نے 1948ءمیں ہی ایک کونسل خانہ کراچی میں قائم کرلیا تھا اور ہم اس وقت پا کستان سے یوٹی امپورٹ کیا کرتے تھے ، جو کہ گندم کی بوری بنانے میں کام آتی تھی ،اور پاکستان ارجینٹینا کو یوٹی سپلائی کرنے والا مرکزی ملک تھا ،دونوں ممالک کے درمیان اسی دور سے ایک گہرا تجارتی رشتہ قائم ہو چکا تھا ۔پاکستان اور ارجنٹینا کے درمیان با ہمی تجارت سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہ پا کستان کے ساتھ اپنی با ہمی تجارت کا فروغ چاہتے ہیں ،اس وقت جو ہمیں مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت دونوں ممالک پا کستان اور ارجینٹینا کو معاشی مسائل کا سامنا ہے ،اور جب بھی معیشت خراب ہوتی ہے تو تجارت میں کمی کا رجحان دیکھا جا تا ہے ،لیکن اس کے باوجود ارجینٹینا میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے فروغ کی بڑی گنجائش موجود ہے ،اور پا کستان کھیلوں کے سامان کو فراہم کرنے والا مرکزی ملک ہے ،پا کستان میں دنیا کے بہترین فٹ بال باسکٹ بال اور رگبی بال بنائے جاتے ہیں ،پاکستان کو اپنے فنشڈ کپڑوں کی برآمد بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے ،پا کستان اس وقت بیڈ لنن اور تولیے زیادہ برآمد کر رہا ہے ،پاکستان کو کپڑوں کی ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے ،پاکستان ارجینٹینا کو پہلے بھی کپڑے جن میں شرٹس وغیرہ شامل ہیں برآمد کر رہا ہے ،لیکن پا کستان کو فیشن برانڈز کی برآمد کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں فیشن کی صنعت کا شعبہ اہمیت اختیار کر رہا ہے ،جس کا فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ،لیکن بات پھر وہی ہے اس کے لیے بہتر معاشی حالات کی ضرورت ہے ،کیونکہ خراب معاشی حالات میں پہلی چیز جو لو گ خریدنا بند کر دیتے ہیں وہ کپڑے ہوتے ہیں ،لوگ کپڑوں کو چھوڑ کر اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ہمارے ملک مہنگائی کی شرح بھی چالیس فیصد ہے جو کہ بہت ہی بلند ہے ،ہمارا ملک پا کستان کو زیادہ تر زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے ،سیویا بین اور اس سے ملتی جلتی مصنوعات اور پاکستان کو وہ دالیں بھی برآمد کر رہے ہیں جوپا کستان میں پیدا نہیں ہوتیں ،اس کے علاوہ پاکستان کی ڈیری کی صنعت کے لیے پاکستان کو چارہ بھی برآمد کرتے ہیں ۔فارما سیوٹیکل کے شعبے میں سرل نامی پاکستانی کمپنی اور ارجنٹائن کی کمپنی کا اشتراک ہوا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اشتراک کامیاب ہو گا ،اور ارجنٹینا کی کمپنیاں پا کستان میں سائلو بیگز فروخت کر رہی ہے جو کہ زرعی مصنوعات کی پیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے ،یہ بیگز نجی شعبے تحت صوبہ پنجاب میں فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایم اﺅ یو (MOU)سائن کرنے کے حق میں نہیں ہوں یہ سائن کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ،میں ٹھوس اقدامات پر یقین رکھتا ہوں ،جیسا کہ پا کستان اور ارجینٹینا کے درمیان نجی شعبے میں کوئی ایم اﺅ یو موجود نہیں لیکن اس کے با وجود نجی شعبے کے تحت زرعات میںبہت اچھا کام ہو رہا ہے ۔میرے خیال میں دونوں ممالک کا نجی شعبہ ہی معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ ایوان ایوان اسیوچ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سے مطمئن نہیں ہوں ،اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا ہجم 277ملین ڈالر ہے جو کہ ماضی میں 500ملین ڈالر بھی رہ چکا ہے ،یعنی کہ اس وقت تجارتی ہجم نصف رہ گیا ہے ،اس میں معیشت کا بھی کافی عمل دخل ہے ،دونوں ملکوں کی معیشتیں اس وقت زیادہ درآمدات کرنے کی سکت نہیں رکھتیں ،ماسوائے بنیادی اشیا کے جن میں فٹ بال ،رگبی بال ہاکی اسٹک اور گلوز وغیرہ شامل ہیں ۔پاکستان پہلے ارجنٹینا سے فارما مصنوعات بھی درآمد کر رہا تھا جس کا سلسلہ اب ختم ہو چکا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری کے ماحول میں بہت بہتری آئی ہے جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن یہ درست سمت کی جانب پہلا قدم ہے ،مزید بہتری کی کافی گنجائش ہے ۔بدقسمتی سے اس وقت ارجینٹینا میں کاروبار کافی مندی کا شکار ہیں اور بیرون ملک سرمایہ کاری نہیں کر رہے ارجینٹینا کی برازیل ،یورا گوائے ،پیرا گوائے اور ایکوڈور کے ساتھ مشترکہ منڈی ہے اور ان ممالک کے ساتھ ہی کا روبار کا رجحان زیادہ ہے ،جیسا کہ پا کستان بھی چین اور عرب ممالک کے ساتھ زیادہ تجارت کر رہا ہے۔ پاکستان میں ارجنٹینا کی سرمائی کاری سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ارجینٹینا کی کمپنیاں بیرون ملک زیادہ تر فارما اور زرعات کے شعبوں میں ہی سرمایہ کاری کرتیں ہیں ،اس کے علاوہ ڈیزائن کے شعبے میں خدمات برآمد کی جاتیں ہیں ،لیکن یہ خدمات بھی پا کستان کے لحاظ سے بہت مختلف ہیں ،یہ زیادہ یورپی اسٹائل میں زیادہ ہیں ،جو کہ پاکستانیوں کے زوق سے مطابقت نہیں رکھتیں،لیکن زراعت اور فارما سیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے کی گنجائش موجود ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نہیں دفا ع کے شعبے میں بھی پا کستان اور ارجینٹینا کا تعاون اتنا زیادہ نہیں ہے ،ارجینٹیا کی مسلح افواج محدود پیمانے پر کام کرتیں ہیں ہمارا اپنے کسی پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے ۔ہم اپنی دفاعی ضروریات پر اپنے جی ڈی پی کا صرف 1فیصد خرچ کرتے ہیں ،ہمارا زیادہ خرچ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر ہی ہوتا ہے ،ہم تعلیم پر جی ڈی پی کا 6فیصد جب کہ صحت پر 4.5فیصد خرچ کرتے ہیں ۔ہماری زیادہ توجہ مچھلی کے غیر قانونی شکار کو روکنے پر ہوتی ہے ، اس کے لیے ہمیں کشتیاں اور جہاز چاہیے ہوتے ہیں ،ہمارے پانی کے ساتھ ایک اسپیشل اکنامک زون ہے جس سے مچھیرے ہمارے پا نیوں میں آجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کلچر ایک ایسی چیز ہے جو مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کو بھی قریب لے آتی ہے اور انھیں ملنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ آرجنٹائن کے فنکار پا کستان آئیں ،اور اس کے علاوہ کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہونا چاہیے ،تاکہ بطور انسان ہم اپنی مشترکہ قدروں کو پہچان سکیں ،ایسے انسانوں کو ملایا جائے جو مختلف ثقافتی پس منظر رکھتے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کلچر ارجنٹینا کے مقابلے مین ہزاروں سال پرانا ہے ۔ اس کے ساتھ کھیلوں کی ثقافت کو بھی فروغ دینا چاہیے ،ہم نے پا کستان سے پولو کا کھیل لیا ہے جو اگرچہ ہمارا سب سے مقبول کھیل تو نہیں لیکن ہمارا قومی کھیل ہے ، ہے۔پاکستان اور ارجنٹینا کے درمیان ہاکی کے کھیل میں بھی قریبی روابط ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ پا کستان میں ارجنٹائن کا سفارت خانہ پولو کے کھیل کے فروغ کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ،سفارت خانہ اسلام آباد کلب کے پولو کلب کو سپورٹ کرتا ہے ،اور یہ کلب ارجینٹینا کے پولو پلیئر متھیاس اولموس مشترکہ طور پر چلاتے ہیں ،اور کھلاڑی اپنے خاندان کے ہمراہ سال میں دو مرتبہ تین ماہ کے لیے پا کستان آکر بچوں اور بڑوں کو پولو کھیل کے گر سکھاتے ہیں یہ اکیڈمی بہت اچھے کھلاڑی پیدا کر رہی ہے ،آخری برس ارجینٹینا کے فرسٹ کلاس میں نمایاں کھلاڑی اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑی کا تعلق بھی اسی کلب سے تھا ،اس کے ساتھ ساتھ ہم ہر سال ایک پولو ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی کرتے ہیں ،یہ ایک بڑا پولو ٹورنمنٹ ہوتا ہے ،اور اس سال اس ٹورنمنٹ میں لاہور سمیت ملک کے دوسرے حصوں سے بھی کھلاڑیوں نے شرکت کی ،اس سال اس ٹورنمنٹ کا فائنل میچ 700کے قریب لوگوں نے دیکھا ،یہ ایونٹ ہر سال بڑا ہو رہا ہے ۔سال 2016میں ہم نے بڑے ایونٹس منعقد کیے جن میں ارجینٹینا کے پینٹر کی ایگزی بیشن بھی شال تھی اس پینٹر نے پا کستان میں آرٹ کی ورکشاپس بھی منعقد کیں ۔ہم نے کچھ فنکار جن میں ٹینگو ڈانسرز بھی شامل تھے ان کو پا کستان مدعو کیا اور انھوں نے یہاں آکر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اس سال بھی ہم بہت سے ثقافتی ایونٹس منعقد کرنے جا رہے ہیں ،جن میں خواتین شعرا اپنا کلام پیش کریں گیں ،اس کے علاوہ موسیقی کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے ۔اس ساتھ ایک اور نہایت کی کامیاب ایونٹ جو ہم نے پچھلے سال منعقد کروایا تھا اور ہم اس سال بھی منعقد کروئیں گے پیر رفیع ٹھیٹر گروپ نے مختلف اسکولوں کے 150سے زیادہ بچوں کے لیے پرفارم کیا ،ان بچوں میں اسٹریٹ چلڈرن اور اچھے اسکولوں کے بچے بھی شامل تھے اور سب نے اس ایونٹ کو بہت انجوائے کیا ۔2016میں ہم نے پا کستانی کلاسیکل مو سیقی کی محفل کا انعقاد بھی کیا اس قسم کی موسقی مجھے زاتی طور پر بھی بپت پسند ہے ،اس سال ہم فنڈز کی کمی کے باعث یہ ایونٹ منعقد نہیں کروا سکے لیکن مستقبل میں اس ایونٹ کے دوبارہ انعقاد کی بھر پور کوشش کی جائے گی ۔اور میرے خیال میں پا کستان کو اپنے فنکاروں کو ارجنٹینا لے کر جانا چاہئے اور بیونس آئرس میں پا کستانی ایمبیسی کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے ،کیونکہ میرے خیال میں ارجنٹینا میں پا کستانی فنکاروں کو ایک بڑی ما رکیٹ ملے گی ۔جواب:ارجنٹینا پارک 1973میں اس وقت کے صدر پورٹو کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک تحفہ تھا ۔یہ پارک 1971ءکی جنگ میں پاکستان کو ارجنٹینا کی جانب سے بطور صدر سیکورٹی کونسل جنگ بندی میں مدد دینے کی نشانی کے طور پر بنوایا گیا یہ ایک بہت اچھا پارک ہے ،میں خود بھی اس پارک میں جاتا رہتا ہوں ،یہ شہر کے بالکل مرکز میں واقع ہے اور بچوں کے لیے تفریح کا سامان مہیا کرتا ہے ،ہم میئر اسلام آباد کے ساتھ مل کر اس پارک کو اچھی حالت میں رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں ،اور مجھے خوشی ہے اس پارک کو پبلک کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔

6 ماہ میں بینکوں سے حاصل کردہ حکومتی قرضوں میں 485 ارب روپے کا اضافہ

کراچی( ویب ڈیسک ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت میں 485 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت میں 485 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور مجموعی قرضوں کی مالیت 10 ہزار 777 ارب 76کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے پہلی ششماہی کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک ہزار 250ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے جبکہ کمرشل بینکوں سے قرض گیری کا رجحان کم ہوگیا۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک پر انحصار بڑھاتے ہوئے کمرشل بینکوں کو ان کے قرضے لوٹائے جس کی وجہ سے شیڈول بینکوں کے حکومت پر قرضوں کی مالیت 764ارب 80کروڑ روپے کمی سے 5ہزار 927ارب 2کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔
پہلی ششماہی کے دوران سرکاری اداروں کو جاری کردہ قرضوں کی مالیت میں 117ارب 43کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ان اداروں میں خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل و دیگر شامل ہیں۔ پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبہ کے لیے جاری کردہ کاروباری قرضوں کی مالیت میں 506ارب 73کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور نجی شعبے کے مجموعی قرضے 5ہزار 101ارب 43کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔
چھ ماہ کے دوران بینکوں نے کنزیومر فنانسنگ کی مد میں 29ارب 76کروڑ روپے کے نئے قرضے جاری کیے جس کے بعد مجموعی صارف قرضوں کی مالیت 505ارب 77کروڑ 10لاکھ روپے کی سطح تک پہنچ گئی.

منی بجٹ کا مقصد حکومت کی آمدنی بڑھانا ہوگا، رپورٹ

کراچی( ویب ڈیسک ) مالی سال 2019 کے ساتویں مہینے میں حکومت کی جانب سے تیسری مرتبہ منی بجٹ 23 جنوری پیش کیا جائے گا۔بجٹ پیش کرنے کا مقصد آمدنی کا خسارہ کم کرنے کے ساتھ ملک میں کاروبار کرنے کا طریقہ کار ا?سان بنانا ہے، ایک نجی ادارے کی جانب سے بجٹ اقدامات اور ان اقدامات کے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات پر مبنی ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ منی بجٹ پیش کرنے کا مقصد پاکستان میں کاروبار کرنے میں ا?سانیاں پیدا کرنا ہے۔
اس کے علاوہ بجٹ سے حکومت کی آمدنی میں کمی کو دور کرنے میں بھی مدد ملے گی، مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومتی ا?مدنی 170 ارب روپے سے کم تھی، بجٹ اقدامات کے ذریعے حکومت 150ارب روپے کی کمی دور کرسکے گی، حکومت کا عزم اور توجہ برا?مدی شعبے کی صنعتوں کو بحال کرنے پر ہے۔

انٹیلی جنس کے پاس اطلاع پر تحقیقات ہوتی ہیں: ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف ، ساہیوال واقعہ پر بغیر تصدیق کارروائی کی گئی، واقعہ نے لوگوں کے دل ہلا دیئے: عبدالقادر پٹیل کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7 “ میں گفتگو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنماءعبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ساہیوال واقعے نے لوگوں کے دل ہلا دیے ہیں عوام اس حوالے سے کوئی بھی تاویل قبول نہیں کرے گی۔چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ7میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی عجیب بات ہے وزیر اعلی پھول لے کر اس زخمی بچے کے پاس گئے جس کے والدین کو قتل کیا گیااب ان بچوں کو کیسے مطمئن کیا جائے گا۔ حکومت تو چل ہی جے آئی ٹیز پر رہی ہے۔حکومتی وزراءبھی بغیر سوچے سمجھے بیانات دیتے رہے۔ میرا سوال ہے کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کہاں ہیں۔ایئر مارشل ر شاہد لطیف نے کہا ہے کہ اگر کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے پاس کوئی اطلاع آتی ہے تو تحقیقات کی جاتی ہیں لیکن ساہیوال واقعے میں سوچے سمجھے بغیر ہی کارروائی کی گئی کوئی تصدیق تک نہیں کی گئی۔پھر نامعلوم افراد کے نام ایف آر درج کی گئی اس کی بھی سمجھ نہیں آئی کیا سی ٹی ڈی کے لوگ نامعلوم ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس قسم کے واقعے سے لوگوں کے دلوں میں ایک خوف بیٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع وقت کی ضرورت ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماءعبدالمنان نے کہا کہ حکومتی وزراءکے بیانات میں تضادات ہیں میں کہتا ہوں ساہیوال میں ان لوگوں کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا گولیاں کیوں ماری گئیں جب اندر سے فائرنگ ہوئی تھی تو گاڑی سے خول کیوں نہ ملے۔قوم جے آئی ٹیز نہیں چاہتی انصاف چاہتی ہے۔

 

فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑا طیارہ اڑان بھرنے کے لیے تیار

لاہور( ویب ڈیسک )دنیا کا سب سے بڑا طیارہ اتنا بڑا ہے کہ اسے چلانے کے لیے 2 کیبن اور کاک پٹس کی ضرورت ہے۔

جی ہاں واقعی, یہ ہے سٹراٹولانچ نامی طیارہ، جسے بالائی خلائ میں راکٹ لانچ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

جون 2017 میں اسے متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سے اس طیارے کی آزمائش جاری ہے اور پہلی باقاعدہ پرواز 2019 میں اڑان بھرے گی۔

مگر اب اس نے اپنی پہلی پرواز کے لیے ایک اہم پیشرفت اس وقت کی جب اس کے نوز وہیل کو تیز رفتار رن وے ٹیسٹ میں زمین سے اوپر اٹھانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔

سٹرا?لائنچ ٹیم نے تیز رفتار ٹیکسی ٹیسٹنگ 9 جنوری 2019 کو کی تھی۔

تین مرحلے کے ٹیسٹ کے دوران ٹیم نے 119 ناٹ کی حد رفتار تک طیارے کو دوڑایا۔

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ
یہ اس طیارے کے ٹیسٹ کا نیا سلسلہ تھا جس کا انجن ٹیسٹ گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا۔

ویسے یہ جان لیں کہ یہ طیارہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے بازو?ں کا گھیرا? فٹبال کے گرا?نڈ سے بھی بڑا ہے، جیسا آپ نیچے تصاویر میں دیکھ کر بھی اندازہ کرسکیں گے۔

یہ طیارہ سٹراٹولانچ سسٹم نامی کمپنی نے تیار کیا ہے جس کی ملکیت مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کے پاس ہے، جن کا اکتوبر 2018 میں انتقال ہوا تھا۔

پال ایلن کا اس کمپنی کی تشکیل کا مقصد ایسے طیارے کو بناتا تھا جو زمین کے نچلے مدار تک آسان، قابل بھروسا رسائی فراہم کرسکے۔

اس طیارے کے ذریعے راکٹوں کو فضائ میں لانچ کرنے میں مدد ملے سکے گی اور کمپنی کو توقع ہے کہ اس سے یہ عمل زیادہ سستا ہوجائے گا جبکہ کمرشل اسپیس پروازیں بھی ممکن ہوسکیں گی۔

اس کی 385 فٹ کے پر یا بازو کسی فٹ بال فیلڈ سے زیادہ چوڑے ہیں اور اس طرح اسے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بناتے ہیں۔

اس طیارے کے نوز سے دم تک لمبائی 238 فٹ ہے جبکہ یہ 50 فٹ لمبا ہے اور اس میں 6 انجن نصب کیے گئے ہیں۔

ااس کا وزن پانچ لاکھ پونڈ ہے اور اس کے دونوں کیبن کے لیے 28 پہیے لگے ہوئے ہیں۔

اسے باقاعدہ پرواز کے لیے اہل قرار دینے سے قبل اس کے کئی طرح کے ٹیسٹ کیے جائیں گے جو ابھی کیے بھی جارہے ہیں۔

سانحہ ساہیوال دلخراش واقعہ ، پولیس نے آنکھیں بند کر کے پورا خاندان مار دیا : معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ساہیوال کا واقعہ اتنا دلخراش ہے کہ اس کی جوں جوں تفصیلات سامنے آتی جا رہی ہے پہلے سے بھی زیادہ دکھ ہونے لگتا ہے کہ ہم کس قسم کے معاشرے میں زندہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کے بھی ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے کوئی سا الزام لگ سکتا ہے ایک مرتبہ کچھ کہا گیا دوسری دفعہ کچھ کہا گیا۔ تیسری مرتبہ کچھ کہا گیا۔ پولیس پنجاب تو بڑی شاندار روایات رکھتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں جب روس میں ماسکو کیپٹل تھا۔ مثال دی جاتی تھی کہ اگر پنجاب کی پولیس کو مشن سونپا جائے کہ جو کوسیجن وغیرہ جو سربراہ مملکت ہوتے تھے ان کی گھڑی گم ہو گئی۔ انہوں نے حکم دیا کہ میری گھڑی تلاش کی جائے۔ کہتے ہیںکہ یہ کام پنجاب پولیس کے سپرد کیا یہ کام بہت باصلاحیت ہیں تو پولیس کے لوگوں نے تین مختلف مقامات پر تین آدمی گرفتار کر لئے اور تینوں نے مان لیا کہ ہم نے گھڑی چوری کی ہے۔ پنجاب پولیس ٹارچر اتنا کرتی ہے اور مشہور ہے کہ جو جرم تسلیم نہ کرتا ہو اسے پنجاب پولیس کے حوالے کر دو۔ پنجاب پولیس کے افسر تو پڑھے لکھے آ رہے ہیں مگر نیچے جو عام اہلکار ہے تو اتنا ہی بدتمیز ہے۔ قانون کی زبان وہ خود نہیں سمجھتا۔ لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں سرخ بتی جل رہی ہوتی ہے اور پولاس والا بڑے ٹھاٹ سے موٹر سائیکل چلاتا ہوا گزر جاتا ہے۔ ماورائے قتل کرنے والے پولیس افسروںکی سفارشیں بہت بڑی بڑی ہیں اور سب سے بڑی سفارش پیسہ ہے ان کا پیسہ، ان کی جائیدادیں اور ان کا رہن سہن، شان و شوکت دیکھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح سے دھن دولت میں کھیلتے ہیں۔ اثرورسوخ اور دولت کی وجہ سے یہ لوگ صاف بچ نکلتے ہیں۔ ایک تو ہم رکتے ہی نہیں 14 سو سال میں۔ ایک دم سے مدینہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اللہ کے بندو ہمارا افسر، ہمارا اہلکار، سرکاری ملازم، عام شہری کیا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ریاست مدینہ جیسا سلوک کیا جائے۔ کیا مدینہ کی ریاست کا سربراہ اپنے تحفظ کے لئے اتنے سپاہی کھڑے کر سکتا تھا کیا مدینہ میں جو حاکم تھا اس کے جسم پر جو کپڑے ہوتے تھے عام آدمی پوچھ سکتا تھا کہ ”عمر جو بات کر رہے ہو ہمیں پہلے یہ بات بتاﺅ اتنا لمبا پہنا ہوا ہے سب لوگوں کو ایک ایک چادر ملی تھی یہ ایک چادر میں نہیں بنتا۔ یہ تم نے کرتا کہاں سے لیا۔ اس کو وضاحت کرنا پڑتا تھا کہ ایک چادر میرے بیٹے کو ملی تھی ایک مجھے ملی تھی تو میرے بیٹے نے اپنی چادر بھی مجھے دے دی تھی جس پر می ںنے لمبا کرتا بنوایا ہے۔ ہم کس سے موازنہ کر رہے ہیں کیا ہمارا حاکم جو ہے معاف کیجئے گا خواہش بڑی اچھی ہے۔ عمران خان صاحب کی لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ یہ ملازمین سرکار جو ہیں یہ مدینہ کی ریاست بننے دیں گے سانحہ ساہیوال بارے گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے جب ایک بندہ منت کر رہا ہے اس کے ساتھ بیوی بچے ہیں اگر غلط اطلاع مل بھی جائے کہ تو کیا اِن کو نظر نہیں آتا کہ فیملی ہے بے گناہ لوگ ہیں اسلحہ ان کے پاس نہیں ہے کیا پولیس والے اتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ صرف ایک غلط اطلاع ملنے پر صحیح ہو یا غلط ہو وہ اپنی گن کی نالیاں سیدھی کر دیتے ہیں اور اندے کو تڑپتا ہوا چھوڑ دیتے ہیں کیوں آخر جو حملہ کرنے آئے تھے کیوں اس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ آدمی دیکھ کر ہی سمجھ لیتا ہے کہ ساتھ عورت ہے چھوٹے بچے ہیں۔ وہ منتیں کر رہا ہے گولی نہ چلاﺅ، گولی نہ چلاﺅ کیا پولیس والوں کے کان نہیں ہوتے دل نہیں ہوتا۔ آنکھیں نہیں ہوتیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ میں جب اس واقعہ کا خاکہ اپنے ذہن میں بناتا ہوں تو مجھ سے تو یہ تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ اگر غلط فہمی ہو بھی گئی اور نشاندہی غلط ہوئی اور غلط گاڑی کی یا کم از کم افراد کی غلط نشاندہی ہو گئی لیکن جب اتنے قریب سے گولیاں چلائی گئی ہیں تو سارے متاثرین نظر آ رہے تھے ایک آدمی ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہے بچوں کو گولی مت مارو، گولی نہ چلاﺅ سمجھ نہیں آتی اس کے باوجود پولیس کس طرح بے حس ہو جاتی ہے۔ اس میں جلدی کی کیا ضرورت تھی آپ نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ گن پوائنٹ پر ان کو باہر کھڑا کر لیں۔ کون سی ایسی قیامت آ گئی تھی بغیر سوچے سمجھے انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی صف ماتم بچھی رہی۔ پولیس ایک جھوٹ بولتی ہے پھر اسے چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولتی ہے ساہیوال واقعہ میں بھی اسی طرح کئی بیانات بولے گئے۔ بچوں کے سامنے والدین کا قتل اور پھر بچوں کو گھسیٹ کر باہر نکالنا سب غیر انسانی رویہ ہے پنجاب میں نظم و نسق کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے جانے کس بنا پر عمران خان نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ لگایا ہے۔ وزیراعظم کو چاہئے کہ قطر سے واپس آ کر فوری ساہیوال جائیں تمام تر صورتحال کا خود جائزہ لیں ایسے واقعات حکمرانوں کیلئے ٹیسٹ کیس ہوتے ہیں کہ کیا وہ عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ سارا نظام ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سرکاری مشینری بالکل زیرو ہو چکی ہے۔ سرکاری ملازمین بے حس لاشوں کی طرح ہیں جو اوپر سے سیٹی بجنے پر چل پڑتے ہیں یا رک جاتے ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام پریشان ہیں روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور حکومتی رہنماﺅں کی ریاست مدینہ کی باتیں یہی ختم نہیں ہوتیں انہیں چاہئے کہ یہ مثال دینا بند کر دیں کہ ہمیں تو کہیں اس مثالی ریاست جیسی کوئی بات یہاں نظر نہیں آتی۔

فرانس نے گوگل پر 5 کروڑ یورو جرمانہ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک ) فرانس نے امریکی سرچ انجن ‘گوگل’ پر پالیسی کے مطابق معلومات کی فراہمی میں ناکامی پر 5 کروڑ یورو (5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) جرمانہ عائد کردیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق فرانس کے مانٹیرنگ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی ا?ر) کے تحت پہلی مرتبہ گوگل پر 5 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے۔بیان کے مطابق گوگل کو فرانسیسی ادارے ‘سی این ا?ئی ایل’ نے ریکارڈ جرمانہ اس لیے کیا ہے کیونکہ وہ دستاویزات کے حوالے سے باہمی پالیسی کے تحت معلومات تک واضح اور ا?سان رسائی دینے میں ناکام ہوا۔سی ایل آئی ایل کا کہنا تھا کہ گوگل نے صارفین کے لیے معلومات تک رسائی کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا اور ان کی ذاتی معلومات کے استعمال کے مطابق ترجیحات ترتیب دیں خاص کر اشتہارات کے معاملے میں زیادہ مشکل بنا دیا گیا۔گوگل کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘عوام ہم سے کنٹرول اور شفافیت کے اعلیٰ معیار کی توقع رکھتے ہیں اور ہم ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے پرعزم ہیں اور جی ڈی پی آر کی ضروریات پوری کریں گے’۔گوگل کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے اگلے لائحہ عمل کے لیے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں’۔خیال رہے کہ یہ شکایات گزشتہ برس مئی میں دو گروپس کی جانب سے جی ڈی پی ا?ر کے نافذ ہونے کے فوری بعد درج کرائی گئی تھیں۔فرانس کے ‘کواڈریچر نیٹ گروپ’ کی جانب سے درج کی گئی ایک شکایت میں 10 ہزار افراد کے دستخط تھے، جبکہ دوسری شکایت ا?سٹریا کی تنظیم ‘میکس شریمز’ کے نون ا?ف یور بزنس نامی گروپ کی تھی۔

ا?سٹرین گروپ نے گوگل کے خلاف شکایت میں کہا تھا کہ ان کے اینڈرائیڈ سے اپنے ایپ یا ا?ن لائن سروس کے ذریعے معلومات چوری کی گئی ہیں کیونکہ وہ ایپ اس وقت تک فعال نہیں ہوتی جب تک ان کی شرائط کو قبول نہیں کیا جاتا۔

سی این ا?ئی ایل کا کہنا تھا کہ ‘اس کے باوجود جو معلومات فراہم بھی کی گئی تھیں وہ واضح نہیں تھی کہ اس سے کچھ حاصل کیا جائے’۔

ا?سٹرین گروپ کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کو مختلف انداز میں قانون کی تشریح کرتے پایا ہے’۔

خیال رہے کہ جی ڈی پی ا?ر کو ویب کی تاریخ میں سخت ترین قانون قرار دیا جارہا ہے جو ان کمپنیوں پر بھی نافذ العمل ہوتا ہے جو یورپی یونین کی حدود میں سرگرم ہو چاہے وہ رکن ممالک سے تعلق نہ رکھتی ہوں۔

اسی قانون کے تحت فرانس کے ادارے ‘سی این ا?ئی ایل’ نے گوگل کو ایک سال میں نئے قوانین پر عمل کرتے ہوئے نہیں پایا اور نہ ہی کوئی تبدیلی دیکھی گئی۔

موٹرولا کے فولڈ ایبل ریزر فون کی پہلی جھلک سامنے آگئی

لاہور( ویب ڈیسک ) موٹرولا کا پہلا فولڈ ایبل فون ممکنہ طور پر آئندہ ماہ متعارف کرایا جارہا ہے جو ماضی کے آئیکونک موبائل ریزر کا اپ ڈیٹ ورڑن ہوگا۔

اور اب اس کا ڈیزائن بھی سامنے آگیا ہے جس میں ایک فولڈنگ اسکرین اندر جبکہ ایک چھوٹی اسکرین باہر موجود ہے۔

اگرچہ ڈیزائن کے دستاویزات میں ریزر برانڈ کا نام موجود نہیں مگر ان خاکوں میں ریزر وی تھری سے کافی مماثلت نظر آتی ہے۔

موٹرولا کی جانب سے اس ڈیزائن کا پیٹنٹ ورلڈ انٹیلیکوچل آرگنائزیشن میں 17 دسمبر کو جمع کرایا گیا۔

فولڈ ایبل ریزر فون کے بارے میں رپورٹ گزشتہ دنوں وال اسٹریٹ جرنل میں سامنے آئی تھی جو 21 فروری کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

سام سنگ کے 1700 ڈالرز کے فولڈ ایبل فون کی طرح یہ نیا ریزر فون بھی ممکنہ طورپر ڈیڑھ ہزار ڈالرز کا ہوسکتا ہے۔

اوریجنل ریزر فون ہر دور کے مقبول ترین موبائل فونز میں سے ایک ہے اور موٹرولا کی پیرنٹ کمپنی لیناوو اس برانڈ کے نام سے فائدہ اٹھا کر اسے فولڈ ایبل اسمارٹ فون کی شکل دینا چاہتی ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ نئی ڈیوائس فی الحال آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہے اور اس کے حتمی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوسکیں۔

اس فون کے بارے میں ابھی کوئی ٹھوس معلومات سامنے نہیں آسکی یعنی اس کا اسکرین سائز کیا ہوگا، فیچرز اور کیمرہ کیسا ہوگا، کچھ بھی معلوم نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب ریزر برانڈ ایک مرتبہ پھر وایسی کی کوشش کررہا ہے، اس سے قبل 2011 اور 2012 میں موٹرولا نے ایسی کوشش کی تھی۔

مگر اب کمپنی کو لگتا ہے کہ پرانے اسمارٹ ڈیزائن کو جدید شکل دے کر اپ ڈیٹ کرنا لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتا ہے۔

ایک فرد ایک دن میں کتنے کیلے کھا سکتا ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک ) کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔

مگر کیا آپ نے کبھی سنا کہ ایک دن میں بہت زیادہ کھانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے بلکہ یہ تصور بھی موجود ہے کہ بیک وقت 6 سے زائد کیلے کھانے موت کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیا یہ واقعی درست ہے؟
جیسا اوپر لکھا جاچکا ہے کہ کیلے دنیا کے مقبول ترین پھلوں میں سے ایک ہے جو صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند بھی ہے تو آخر کچھ لوگ سے مہلک کیوں سمجھتے ہیں؟

مزید پڑھیں : روزانہ صرف 2 کیلے جسم پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟

درحقیقت متعدد افراد کا ماننا ہے کہ کیلے میں موجود پوٹاشیم ایسا جز ہے جو موت کی وجہ بن سکتا ہے، یعنی 6 کیلوں کے ذریعے اتنا پوٹاشیم جزو بدن بن جاتا ہے جو موت کا باعث بننے کے لیے کافی ہے۔

تو پوٹاشیم کتنا خطرناک جز ہے؟ حقیقت میں تو یہ زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے جو کہ جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق خلیے کے افعال کے لیے پوٹاشیم برقی رو بنانے میں مدد دیتا ہے، یہ دل کی دھڑکن کو مستحکم رکھنے کے ساتھ لبلبے سے انسولین کے اخراج کو حرکت میں لاکر بلڈشوگر بھی کنٹرول کرتا ہے اور سب سے اہم یہ بلڈپریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔

دوسری جانب جسم میں پوٹاشیم کی بہت کم یا زیادہ مقدار سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے، پیٹ میں درد، قے اور ہیضے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اب جہاں تک کیلوں سے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار بڑھنے کی بات ہے تو ماہرین کے مطابق کیلوں سے ایسا ہونا لگ بھگ ناممکن ہے۔

درحقیقت پوٹاشیم کی سطح دل کی حرکت روک دینے تک بڑھانے کے لیے ایک فرد کو دن بھر میں 400 کیلے کھانے ہوں گے اور ایسا ممکن نہیں، تو یہ پھل خطرناک نہیں بلکہ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

بالغ افراد کو روزانہ 3500 ایم جی پوٹاشیم جزو بدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جبکہ ایک اوسط کیلے میں یہ مقدار 450 ایم جی ہوتی ہے، تو ایک وقت میں ایک صحت مند شخص ساڑھے 7 کیلے کھا سکتا ہے جس کے بعد تجویز کردہ حد پوری ہوجاتی ہے۔

مگر ماہرین زیادہ پوٹاشیم والی غذا?ں کا استعمال گردوں کے امراض کے شکار افراد کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں جن کا یہ عضو زیادہ کام نہیں کرپاتا تو دوران خون میں موجود پوٹاشیم کو کارج کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا، جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

کیلوں کو اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے تاہم اگر ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھالیا جائے تو سردرد اور غنودگی کا باعث بن سکتا ہے۔

علی الصبح یا رات گئے جاگنے والوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟

لاہور (ویب ڈیسک) رات گئے تک جاگنا کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے یہ طرز زندگی کے معمولات کا حصہ بن جاتا ہے۔

کیا آپ بھی ایسے افراد میں شامل ہیں جن کے لیے صبح جلد بستر سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے؟

یقیناً انسان سونے کے لیے اپنی مرضی کا وقت کا انتخاب کرسکتے ہیں اور وہ رات گئے تک جاگنے یا جلد سو کر علی الصبح اٹھ سکتے ہیں۔

جلد اٹھنے والے صبح جلدی اٹھتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والے علی الصبح تک خوشی سے جاگتے ہیں۔

تو اس کی وجہ یہ ہے کہ درحقیقت انسان 2 قسم کے ہوتے ہیں ایک صبح جلد اٹھنے والے جبکہ دوسرے رات گئے تک جاگنے والے اور ایسا جسمانی گھڑی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

یعنی دماغ کا 20 ہزار عصبی خلیات پر مبنی حصہ دن بھر جسم کا شیڈول مرتب کرتا ہے یعنی ہر نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے ہارمون لیول سے لے کر غذا ہضم کرنے تک اور یقیناً اس میں نیند بھی شامل ہے۔

صبح جلد جاگنے والے شام ہوتے ہی تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں کو دیر تک ذہنی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔

مگر جلد سونے والوں کو رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں ذہنی طور پر کچھ سبقت حاصل ہوتی ہے۔

2013 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جلد اور دیر سے سونے والوں کا دماغی اسٹرکچر مختلف ہوتا ہے اور جلد سونے جاگنے والے افراد میں سفید میٹر کا معیار زیادہ بہر ہوتا ہے جس سے عصبی خلیات کو کمیونیکٹ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مگر کیا کوئی اپن سونے جاگنے کے وقت کو بدل سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب ہے کہ ایسا کسی حد تک ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صبح جلد اٹھنا اچھا خیال کیوں ہے؟

جسمانی گھڑی عمر کے ساتھ بدلتی رہتی ہے، بچے علی الصبح جاگ جاتے ہیں، نوجوانوں کے لیے دوپہر سے پہلے بستر سے نکلنا مشکل ہوتا ہے، مگر عمر بڑھنے سے لوگوں کے لیے صبح جلد اٹھنا آسان ہونے لگتا ہے۔

اس کے علاوہ جسمانی گھڑی کے شیڈول کو بدلنے کے لیے نیند کے نظام الاوقات کو اپنایا جاسکتا ہے۔

ویسے ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایک جین لوگوں کے رات گئے تک جاگنے، علی الصبح اٹھنے یا ان دونوں کے درمیان رہنے کا تعین کرتا ہے۔