All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

یا اللہ خیر ،میری امی کی حالت اس وقت ۔۔مریم نواز نے قوم سے دعاﺅں کی اپیل کر دی

لندن (ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز اس وقت بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے لندن میں موجود ہیں جہاں سے مریم نواز نے اپنی والدہ کی تصاویر جاری کرتے ہوئے قوم سے دعا?ں کیلئے اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق مریم نواز کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ میری والدہ کو ریڈیو تھراپی کیلئے لے جایا رہاہے ، وہ مسلسل الٹیوں کے باعث بہت کمزور ہو چکی ہیں ، وہ سہارے کے بغیر ہل بھی نہیں سکتی ہیں ، آپ کی دعا?ں کی ضرورت ہے۔تصویر میں دیکھا جا سکتاہے کہ کلثوم نواز کو ریڈیو تھراپی کیلئے وہیل چیئر پر بٹھا کر لے جایا جارہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ انہیں اس وقت چلنے پھرنے میں بھی کافی مشکلات ہیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل سابق وزیراعظم نوازشریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ اچانک لندن کیلئے روانہ ہو ئے تھے جس کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ بیگم کلثوم نواز شدید علیل ہیں جس کے باعث وہ ہنگامی بنیادوں پر لندن روانہ ہوئے ہیں۔

کیا آج کا پختونخوا5برس قبل والے سے بہتر نہیں ؟عمران خان کا چیف جسٹس سے سوال

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے پوچھا کہ وہ 5سال پہلے کے خیبرپختونخواسے آج کا خیبرپختونخوا کیا اچھا نہیں ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تحسین قابل قدر ہے۔ قابل افسران کو، پختونخوا کی طرح اہلیت کی بنیاد پر لگایا جائے تو وہ مو¿ثر کارگردگی دکھاتے ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب اور سندھ میں اقرباپروری کا رواج ہے جہاں ذاتی تعلقات اور “جی حضوری” کی بنیاد پر تقرریاں کی جاتی ہیںچیف جسٹس پاکستان کی آئی جی کے پی کے صلاح الدین محسود کی غیر متعلقہ افراد سے سکیورٹی لینے کے بعد رپورٹ پر تعریف کے بعد عمران خان نے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کیلئے فوری طور پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا رخ کیا اور کہا کہ پنجاب اورسندھ میں اقرباپروری کے ذریعے ذاتی مفاداور”یس مین “کوتعینات کیاجاتاہے۔عمران خا ن نے یہ بھی اعتراف کیا کہ عوام کوبنیادی سہولیات مہیاکرنے کیلئے زیادہ توجہ، فنڈزدینے چاہئیں تھے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بارے میں میری رائے ہے کہ پہلے سے موجود ادارے کو ٹھیک کرنے سے نیا ادارہ کھڑا کرنا کہیں زیادہ آسان ہے۔ ہم نے ابھی پشاور میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ شوکت خانم تعمیر کیا۔ اگر لیڈی ریڈنگ بہترنہیں ہوا تو 30 ڈاکٹرز باہر سے اپنی نوکریاں چھوڑ کے یہاں کیوں آئے؟ضرور پڑھیں:میشا شفیع کے علی ظفر پر جنسی ہراسگی کے الزام پر خاتون گلوکارہ کی والدہ بھی میدان میں آ گئیں ، واضح اعلان کر دیا چیف جسٹس کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی تحسین قابل قدر ہے۔ قابل افسران کو، پختونخوا کی طرح اہلیت کی بنیاد پر لگایا جائے تو وہ مو¿ثر کارگردگی دکھاتے ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب اور سندھ میں اقرباپروری کا رواج ہے جہاں ذاتی تعلقات اور “جی حضوری” کی بنیاد پر تقرریاں کی جاتی ہیں پی ٹی آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پرانے ادارے کو ٹھیک کرنا ،نئے ادارے بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے جبکہ اپنے ٹویٹس میں عمران خان نے چیف جسٹس سے دو سوال بھی پوچھ لیے کہ 5سال پہلے کے خیبرپختونخواسے آج کا خیبرپختونخوا اچھا نہیں؟کیاصوبے کے عوام5سال پہلے کے مقابلے میں آج حکومت سے زیادہ مطمئن نہیں؟واضح رہے کہ رہے کہ آج سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میںکی سماعت میں آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے چیف جسٹس کو غیر متعلقہ افراد کوسکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جس میں بتایاگیا کہ 1769 افراد سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے آئی جی خیبر پختونخو اکی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا آپکا شکریہ۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئی جی خیبرپختونخوا کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، اگرعدالت کسی کوسلیوٹ کرسکتی تو میں آئی جی کوسلیوٹ کرتاہوں۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر شریف فیملی کی حفاظت پر تعینات 102اہلکار واپس

لاہور (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے حکم پر شریف خاندان سے اضافی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے جمعرات کو خیبر پختونخوا کے آئی جی کو اضافی سکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا جس کے بعد چاروں صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت کی گئی کہ غیر ضروری سکیورٹی واپس لے لی جائے۔ پنجاب میں سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے اور شریف خاندان سے اضافی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ جاتی امرا میں تعینات ایلیٹ فورس کے 52 اور پنجاب کانسٹیبلری کے 50 ملازمین کو واپس بلالیا گیا ہے، اس کے علاوہ کیپٹن (ر) صفدر اور عباس شریف کے خاندان سے بھی اضافی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔قبل ازیں آئی جی خیبر پختونخوا نے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ہی 769 افراد سے سکیورٹی واپس لے لی تھی جس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے پر آئی جی کو شاباش بھی ملی۔

”ہے کوئی سائل جو مجھ سے سوال کرے“ چیف جسٹس ثاقب نثار کے دبنگ اعلان سے کھلبلی مچ گئی

چارسدہ (ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے اس وقت سب کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا جب انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا ’ہے کوئی سائل جو مجھ سے سوال کرے اور میں یہیں کھڑے کھڑے اس کا فیصلہ کردوں ‘۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چارسدہ بار کی تقریب سے خطاب کے دوران وکلا کو مخاطب کرکے کہا وہ یہاں مانگنے کیلئے آئے ہیں ان کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، ’میں آپ سے تعاون اور محبت مانگتاہوں تاکہ عوام کو بنیادی حقوق مل سکیں کیونکہ عوام کو حقوق آپ کی مدد سے مل سکتے ہیں‘۔چیف جسٹس نے کہا کاش میرے پاس کوئی سال آئے اور کہے میرا یہ مسئلہ ہے ، میرے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال موجود ہیں، میں یہیں کھڑے کھڑے اس کو اس کا حق دلوا?ں گا۔ انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا ’ہے کسی کا پرابلم جو مجھے بتائے، آپ کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے ہروقت حاضر ہوں‘۔

ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں جسے فوج نے پیدا نہ کیا ہو ،شیخ رشید کا اہم اعلان

رحیم یار خان(ویب ڈیسک)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی ایک بھی سیاستدان ایسا نہیں جسے فوج نے پیدا نہ کیا ہو۔رحیم یارخان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے پاس نابجلی ہے نا پانی اور نا ہی روٹی، پینے کا صاف پانی نا ہونے کے باعث لوگ ہیپاٹائٹس سے مررہے ہیں، نوازشریف نے ملک و قوم کو لوٹ کھایا، ملک میں اتنی کرپشن ہوئی کہ سی پیک پر کام روک دیا گیا ہے، جس ملک میں جج کے گھر میں فائرنگ ہوجائے وہاں قوم کی بیٹی کیسے محفوظ ہوسکتی ہے، جس عمر میں بچوں کے شناختی کارڈز نہیں بنتے شریف خاندان کے بچے ارب پتی بن گئے، لیکن یہ تمام صورتحال جاننے کے باوجود ہم ووٹ دیتے وقت آنکھوں پرپٹیاں باندھ لیتے ہیں۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملک میں تباہی اس لئے ہے کہ بیورو کریٹ بھی کرپٹ ہیں، آج ووٹ کی عزت کی باتیں کررہے ہیں جب کہ ووٹ کو جتنا نواز شریف نے ذلیل کیا اس کی مثال نہیں ملتی، فوج اور عدلیہ کے خلاف بیانات دیئے جارہے ہیں، پاکستان میں ایک بھی سیاست دان ایسا نہیں جس کو فوج نے پیدا نہ کیا ہو لیکن بدقسمتی ہے کہ فوج کی نرسری بھی نوازشریف جیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پردے کے پیچھے این آر او کی کوشش کی جارہی ہے، حکمران احتساب میں نہیں بلکہ ختم نبوت کے خلاف کام کرنے پر اللہ کی پکڑ میں ا?ئے، پارلیمنٹ میں بیٹھے سارے مولویوں نے ختم نبوت کے خلاف ووٹ دیا اور مولانا فضل الرحمان نے پہلی مرتبہ اس معاملے پر میرا شکریہ ادا کیا، کرپٹ لوگ جب تک سیاست سےنہیں نکلیں گےملک ترقی نہیں کرے گا۔

بگ تھری ختم پیسہ بھی ہضم ،زر تلافی کیس میں بھارت کی ہٹ دھرمی جاری مگر پاکستانی پوزیشن مضبوط

نئی دہلی(ویب ڈیسک) پاکستان سے کرکٹ تعلقات کے حوالے سے بھارتی ڈھٹائی برقرار ہےزرتلافی کے کیس میں مضبوط پاکستانی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے تاخیری حربے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے گئےبی سی سی آئی کی کوشش ہے کہ سماعت کی تاریخ آگے بڑھا دی جائے۔حکام کا موقف ہے کہ پاکستان سے معاہدہ بگ تھری کی حمایت کے بدلے سیریز کھیلنے پر تھا اب چونکہ وہ ماڈل نہیں رہا اور اس کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان بھی ہوچکا اس لیے پی سی بی سے کنٹریکٹ بھی ختم ہوگیا، پاکستان کی جانب سے70 ملین ڈالر کے ہرجانہ وصولی کیس کیلیے بی سی سی ا?ئی نے پرانا ریکارڈ جمع کرنا شروع کردیا ہے،2014 سے معاملات کو دیکھنے والے تمام ا?فیشلز کو مدد کیلیے خطوط بھیج دیے گئے، ا?ئی سی سی میٹنگز میں پاک بھارت باہمی کرکٹ پر ہونے والی بات چیت کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا۔دوسری جانب پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی اور چیف ا?پریٹنگ ا?فیسر سبحان احمدکے دورہ بھارت کا وقت بھی قریب ا?گیا، دونوں کولکتہ میں شیڈول ا?ئی سی سی میٹنگز میں حصہ لیں گے، اس دوران انکی کوشش ہوگی کہ پاک بھارت کرکٹ پر اپنا موقف بھی بھرپور انداز میں پیش کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے باہمی سیریز کھیلنے کے معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر ا?ئی سی سی کی تنازعات کمیٹی میں بھارت کیخلاف70 ملین ڈالر ہرجانے کا کیس کیا ہے، جس کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ سماعت اکتوبر میں ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی ڈھٹائی برقرار ہے،زرتلافی کے کیس میں مضبوط پاکستانی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے اب اس نے تاخیری حربے بھی استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں،بی سی سی ا?ئی کی کوشش ہے کہ سماعت کی تاریخ ا?گے بڑھا دی جائے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی سی سی ا?ئی اس ایک نقطے پر اپنا کیس لڑے گاکہ ’ پاکستان سے معاہدہ بگ تھری کی حمایت کے بدلے سیریز کھیلنے پر تھا اب چونکہ وہ ماڈل نہیں رہا اور اس کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان بھی ہوچکااس لیے پی سی بی سے کنٹریکٹ بھی ختم ہوچکا۔ بھارتی حکام نے کیس ہارنے سے بچنے کیلیے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔اس سلسلے میں قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چوہدری نے 2014 کے بعد بی سی سی ا?ئی کے اہم عہدوں پر کام کرنے والے تمام ا?فیشلز کو خطوط بھیجے ہیں، سب سے کہا گیاکہ اپنے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے ہونے والی بات چیت کے جتنے بھی شواہد اور ریکارڈ موجود ہیں وہ ان سے بورڈ کو ا?گاہ کریں، ان حکام میں ا?ئی سی سی کے موجودہ چیئرمین ششانک منوہر، این سری نواسن، سنجے پٹیل، انوراگ ٹھاکر اور ا?ئی پی ایل کے سابق چیف ا?پریٹنگ ا?فیسر سندر رامن شامل ہیں۔ ایک بھارتی اخبارکی رپورٹ کے مطابق امیتابھ چوہدری نے ا?ئی سی سی کو بھی ایک خط بھیجا جس میں اس سے بورڈ میٹنگز کے دوران پاکستان اور بھارت کی باہمی کرکٹ سے متعلق ہونے والی بات چیت کا ریکارڈ فراہم کرنے کوکہا گیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بی سی سی ا?ئی کو ابھی تک سابق سربراہان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ جلد ہی سب مل کر اپنا موقف پیش کردیں گے، پاکستان کے ساتھ اس معاملے کو سپریم کورٹ کی مقرر کردہ کمیٹی ا?ف ایڈمنسٹریٹرز نہیں بلکہ خود بی سی سی ا?ئی حکام ہی دیکھ رہے ہیں۔ امیتابھ چوہدری نے رابطہ کرنے پر دعویٰ کیا کہ بھارت کا پاکستان بورڈ کے خلاف کیس مضبوط ہے۔ یاد رہے کہ بی سی سی ا?ئی نے دنیا کو دکھانے کیلیے اپنے نئے ایف ٹی پی میں بھی پاکستان سے باہمی سیریز کیلیے جگہ رکھی ہوئی ہے لیکن اس کا جواز ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر سیریز ممکن نہیں ہوگی۔دریں اثنا پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی اور چیف ا?پریٹنگ ا?فیسر سبحان احمد کے دورئہ بھارت کا وقت بھی ا? گیا ہے، دونوں ہفتے سے کولکتہ میں شروع ہونے والی ا?ئی سی سی میٹنگز میں شریک ہوں گے، ڈھائی برس میں یہ پہلا موقع ہے جب پی سی بی کا وفد بھارت کا دورہ کررہا ہے، ا?خری مرتبہ 2015 میں اس وقت کے پی سی بی سربراہ شہریار خان ممبئی گئے تھے،مگر انتہا پسندوں کے بی سی سی ا?ئی ہیڈکوارٹر میں گھسنے کے بعد بھارتی بورڈ حکام سے ان کی بات چیت نہیں ہوسکی تھی،اس بار پی سی بی حکام کی کوشش ہوگی کہ اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے۔

اب پتنگیں اُڑینگی نہیں ،حملوں کیلئے استعمال ہونگی ،اسرائیلی فوج کیخلاف چونکا دینے والا اقدام

غزہ (ویب ڈیسک)فلسطینیوں کی جانب سے لگاتار چوتھے ہفتے بھی غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب مظاہرے جاری ہیں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پمفلیٹ پھینکے ہیں جن میں فلسطینی مظاہرین کو سرحد کے قریب آنے سے منع کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ ہر جمعہ کے روز فلسطینی مظاہرین غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب مظاہرے کرتے ہیں جن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج تازہ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور اندازہ کیا جا رہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین ہوں گے۔ہر ہفتے فلسطینی مظاہرین اس جگہ ٹائر جلاتے ہیں جہاں پر اسرائیلی سنائپرز تعینات ہوتے ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے پمفلیٹ گرا کر فلسطینیوں کو متنبہ کیا ہے۔اسرائیل کی جانب سے گرائے جانے والے پمفلیٹس پر لکھا ہے کہ ’حماس دہشت گرد تنظیم شدت پسند کارروائیوں میں آپ لوگوں کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔ سرحد سے دور رہیں اور سرحدی باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔‘فلسطینیوں کی جانب سے ان مظاہروں کو ’دا گریٹ مارچ آف ریٹرن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے 30 مارچ کو شروع کیے گئے تھے اور امکان ہے کہ ان کا اختتام 15 مئی کو ہو گا۔دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق فلسطینی مظاہرین اس ہفتے ایک نئی ترکیب کا استعمال کر رہے ہیں۔
مظاہرین بڑی بڑی پتنگوں کے ساتھ مولوتوو لٹکا کر غزہ اور اسرائیلی سرحد کے قریب چھوڑ رہے ہیں۔مظاہرین کی کوشش ہے کہ وہ درجنوں پتنگیں سرحد کے اس پار اڑائیں۔ ان میں سے کچھ پتنگوں کے ساتھ نوٹ لگے ہوئے ہیں جن پر اسرائیلیوں کے لیے لکھا ہے ’فلسطین میں تم لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘۔جمعرات کی شام کو فلسطینیوں نے رنگ دار کاغذوں اور کوکا کولا کی خالی بوتلوں کے ساتھ پتنگیں بنائیں۔
کچھ نے 60 سینٹی میٹر بڑی پتنگیں بنائیں جن کے بیچ میں فلسطین کا جھنڈا تھا۔ ان پتنگوں کے ساتھ دھاتی رسی جوڑی گئی جس کے ساتھ کوکا کولا کی خالی بوتل لٹکائی گئی جس میں پیٹرول تھا۔اے ایف پی کے مطابق تین نوجوان لڑکے ایک پتنگ لے کر سرحد کی جانب گئے اور سرحد سے کچھ دور انھوں نے بوتل کو آگ لگائی۔ بوتل کو آگ لگانے کے بعد پتنگ کو ہوا میں اڑایا اور پھر اس کی ڈور کاٹ دی۔ پتنگ اڑتی ہوئی اسرائیل میں داخل ہوئی اور گر گئی اور اس سے تھوڑی سے آگ لگی۔16 سالہ عبداللہ نے اے ایف پی کو بتایا ’ہم اسرائیل کو پتنگ کے ذریعے پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اس قبضے کے خلاف ہیں۔‘

انسانی اعضا ءاب چھپے گیں مددگار جیلی دریافت ہو گئی

یارک شائر(ویب ڈیسک) برطانوی ماہرین نے ایک ایسا جیلی دار مادہ دریافت کیا ہے جو تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے پیچیدہ اور نرم انسانی اعضائ چھاپنا ممکن بناسکتا ہے۔تھری ڈی پرنٹر گزشتہ پچیس سال سے موجود ہیں جبکہ ان میں ترمیم کے ذریعے مختلف جاندار بافتوں (ٹشوز) کی پرنٹنگ بھی ممکن بنالی گئی ہے جسے ”تھری ڈی بایوپرنٹنگ“ کہا جاتا ہے۔ لیکن جیتے جاگتے مصنوعی انسانی اعضاءکی تھری ڈی بایوپرنٹنگ کے ذریعے تیاری اب تک نہایت مشکل کام رہی ہے۔اسی حوالے سے ایک اہم رکاوٹ ایسے مادّے ہیں جو نہ صرف نرم ہوں بلکہ ان میں مخصوص جسمانی حصوں سے تعلق رکھنے والے خلیات شامل کرکے متعلقہ عضو کی ایسی جاندار نقل تیار کی جاسکے جو اپنا کام درست طور پر انجام دے سکے۔یارک شائر کی یونیورسٹی آف ہڈرزفیلڈ میں بایوپولیمر مٹیریلز کے ماہر ڈاکٹر ایلن اسمتھ، جن کی نگرانی میں یہ مادّہ دریافت ہوا ہے، تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی بھی انسانی عضو بیک وقت ایسے کئی مادّوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو سخت اور ٹھوس ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اور لچک دار بھی ہوتے ہیں۔ اب تک بایوپرنٹرز سے مکمل انسانی اعضائ چھاپنے میں سب سے بڑی مشکل یہی رہی ہے کہ اس طرح بننے والی پرتیں (لیئرز) اتنی نازک ہوتی ہیں کہ اپنے ہی وزن سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں جبکہ ایسی دو پرتیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط بھی نہیں ہوپاتیں۔یہ نیا مادّہ ایک ہلکا پھلکا پولیمر ہے جو بایوپرنٹنگ کے مرحلے سے گزرنے کے بعد لچک اور مضبوطی کو برقرار رکھتا ہے جبکہ اس کی ایک سے زیادہ پرتیں بھی بہ ا?سانی جمائی جاسکتی ہیں۔ اسے انسانی اعضاءکی بایوپرنٹنگ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ ابتدائی تجربات کے دوران اس سے کرکری ہڈیاں اور دوسری نرم لیکن مضبوط جسمانی بافتیں (تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے) چھاپی جاسکیں گی۔ماہرین کو امید ہے کہ اسے مزید بہتر بنا کر آئندہ چند برسوں میں پورے انسانی اعضاءتک چھاپنے کے قابل بنالیا جائے گا۔اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ”ایڈوانسڈ مٹیریلز“ میں آن لائن شائع ہوئی ہیں۔

لاہور کی قسمت جاگ اُٹھی کہ شہباز بنے وزیر اعلیٰ،وسیم اختر نے اعتراف کر لیا

لاہور(ویب ڈیسک)میئرکراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیر دیکھ کر دکھ ہوتاہے کراچی میں مسائل کو حل کرنے کے لیے جرات کی ضرورت ہے۔لاہور میں تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال مناواں کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے میئرکراچی نے کہا کہ لارڈ میئر لاہور خوش قسمت ہیں کہ انہیں کھل کرعوام کی خدمت کا موقع مل رہا ہے، کراچی میں مسائل کو حل کرنے کے لیے جرات کی ضرورت ہے۔ وہ سندھ حکومت پرتنقید نہیں کریں گے، لیکن وہاں کچرے کے ڈھیردیکھ کردکھ ہوتا ہے۔بعد ازاں میئر کراچی وسیم اختر نے جیلانی پارک میں ڈی جی پی ایچ اے کے دفتر آمد کے موقع پر کہا کہ لاہور میں مثالی ترقیاتی کام کرائے جا رہے ہیں، ہم منتخب لوگ عوام میں رہتے ہوئے ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ پنجاب میں فنڈ عوام پر خرچ ہو رہا ہے، یہاں سب لوگ مل کر کام کر رہے ہیں، لاہور والے خوش نصیب ہیں انہیں شہبازشریف جیسا وزیراعلیٰ ملاہے، ترقیاتی کام اورمحنت دیکھ کروزیراعلیٰ پنجاب مبارکباد کے مستحق ہیں۔وسیم اختر نے کہا کراچی میں روزانہ 13 ہزار ٹن کچرا پھینکا جاتا ہے، کراچی سے کچرا صاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وفاق کو معاملے کے حل کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

ماہرہ خان بھی جنسی ہراسانی کیخلاف پھٹ پڑیں

کراچی(ویب ڈیسک) نامورپاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزام پر کہا ہے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے گزشتہ روز ایک ٹویٹ میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا سنگین الزام لگایا تھا۔ میشا شفیع کے الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر دیگر فنکاروں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔اداکارہ ماہرہ خان نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے میشا شفیع یا علی ظفر کا نام لیے بغیر سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی جیسے سنجیدہ معاملے پر تبصرے کرنے والے لوگوں کو ا?ڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ بیمار ذہنیت والے اس معاملے پر تبصرہ کررہے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ مسئلہ دراصل ان کے دماغوں میں ہے۔ اگر ہم اس معاملے کو تبصرے کرکے کمزور کرتے رہیں گے تو یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز میشا شفیع نے علی ظفر پر انہیں ایک سے زائد بار جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ میشا شفیع کے الزامات پر سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ شوبز سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔جنسی ہراسانی کے الزامات پر کچھ اداکار میشا شفیع کو درست قرار دے رہے ہیں جب کہ کچھ لوگ علی ظفر کے ساتھ کھڑے نظر ا?رہے ہیں تاہم ایک بات جس پر تمام لوگ متفق ہیں وہ ہے کہ واقعے کی مکمل طور پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔