All posts by asif azam

محسن پاکستان نواب آف بہاولپور

ظہور احمد دھریجہ ….یاد رفتگاں
24مئی، محسن پاکستان، نواب آف بہاولپور صادق محمد خان عباسی کا یوم وفات ہے، ان کی وفات 1966ءمیں ہوئی۔انہیں محسن پاکستان کا خطاب قائد اعظم نے دیا تھا۔ قائد اعظم نے ریاست بہاولپور کی عظیم خدمات کے بارے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے ایک پاکستان موجود تھا اور وہ ریاست بہاولپور تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ سرائیکی ریاست بہاولپور کی پاکستان کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستان کیلئے خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ نواب بہاولپور صادق محمد خان عباسی نہ صرف مسلم لیگ کو فنڈ دیتے تھے بلکہ انہوں نے کراچی میں بہاولپور کے الشمس محل اور القمر محل تحریک پاکستان کے لئے حضرف قائد اعظم محمد علی جناح اور فاطمہ جناح کے حوالے کر دےے،آج سرائیکی نوا ب کے انہی محلات پر سندھ کا گورنر ہاو¿س بنا ہوا ہے۔
قیام پاکستان سے پہلے نواب بہاولپور نے ریاست کی طرف سے ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پرایک طرف مملکت خداداد بہاولپور اور دوسری طرف پاکستان کا جھنڈا تھا،پاکستان قائم ہو تو قائداعظم ریاست بہاولپور کی شاہی سواری پربیٹھ کر گورنر جنرل کا حلف اٹھانے گئے،پاکستان کی کرنسی کی ضمانت ریاست بہاولپور نے دی،پہلی تنخواہ کی ادائیگی کیلئے پاکستان کے پاس رقم نہ تھی تو نواب بہاولپور نے 7کروڑ روپے کی خطیر رقم دی۔ قائد اعظم کے ساتھ علامہ اقبال بھی نواب آف بہاولپور کے بہت قدر دان تھے اور انہوں نے نواب آف بہاولپور کی عظیم اسلامی خدمات پر ان کی شان میں طویل قصیدہ بھی لکھا تھا۔تحریک پاکستان قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کیلئے ریاست بہاولپور کا کردار ناقابل فراموش ہے مگر افسوس کہ آج ان باتوں کا تذکرہ تاریخ پاکستان اور نصاب کی کسی کتاب میں موجود نہیں۔
ریاست بہاولپور کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق نواب بہاولپور پنجاب یونیورسٹی کا سینٹ بلاک،کنگ ایڈورڈ کالج کی نصف بلڈنگ اور لاہور ایچی سن کالج کے بہت سے کمرے لاکھوں روپے خرچ کر کے تعمیر کرائے۔ریاست بہاولپور کی طرف سے تعلیمی مقاصد کےلئے لاہور کو سالانہ جو گرانٹ جاری ہوتی رہی اس کی تفصیل کے مطابق کنگ ایڈروڈ کالج ڈیڑھ لاکھ،اسلامیہ کالج لاہور تیس ہزار،انجمن حمایت اسلام پچھتر ہزار،ایچی سن کالج دوہزار،اور پنجاب یونیورسٹی لاہور بارہ ہزار اس کے ساتھ ساتھ لاہور کے ہسپتالوںاور دوسرے رفاہی اداروں کی ریاست بہاولپور کی طرف سے لاکھوں کی مدد کی جاتی رہی۔اس رقم کی مالیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت سوا سو روپے تولہ سونا، ایک روپے میں سو اینٹ، چار آنے سیر چھوٹا گوشت،اور دو روپے من گندم تھی سب سے اہم یہ کہ اس وقت برطانیہ پونڈ اور مملکت خداداد بہاولپور کا کرنسی نوٹ برابر شرح مالیت کے حامل تھے۔اتنی عظیم تعلیمی خدمات کا تذکرہ نصاب کسی کتاب میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔یہ سرائیکی وسیب سے سوتیلی ماں کا سلوک نہیں تو اور کیا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت زندگی کے تمام معاملات میں تمام خطوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے۔ ریاست بہاولپور کے فرمانروا نے عوام کی امور حکومت میں شرکت کیلئے 1952ءمیں ایک عبوری دستوری ایکٹ کا نفاذ کیا، جس کے تحت 49 ارکان کی انتخاب کے ذریعے اسمبلی وجود میں آئی۔ مخدوم زادہ حسن محمود ریاست بہاولپور کی کابینہ کے وزیراعظم تھے۔ عبوری ایکٹ کے تحت ریاست بہاولپور کا آئینی سربراہ امیر آف بہاولپور نواب صادق محمد خان عباسی تھے۔ گویا یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ ون یونٹ کے قیام سے پہلے تک بہاولپور صوبہ تھا۔ اگر صوبہ ہوتا تو حسن محمود وزیراعظم نہیں وزیراعلیٰ ہوتے اور صوبے کا گورنر بھی ہوتا۔
میں نے خبریں کے ابتدائی دنوں میں ریاست بہاولپور کی پاکستان کیلئے خدمات کے بارے لکھنا شروع کیا تو خبریں کے چیف ایگزیکٹو محترم ضیاشاہد نے میری حوصلہ افزائی فرمائی، پھر میں نے ستلج کا نوحہ لکھااور بہاولنگر کی محرومیوں کی داستان لکھی جو روزنامہ خبریں میں قسطوں کی شکل میں شائع ہوئی، اس پر محترم ضیاشاہد نے خبریں ملتان کے مشاعرے سے خطاب کے دوران میرا نام لیکر میری دلجوئی کرتے ہوئے کہا کہ ” میرا تعلق بہاولنگر سے ہے، اپنے علاقے اور اپنی دھرتی سے محبت فطری امر ہے، مجھے اپنے بہاولنگر کا خوبصورت ریلوے اسٹیشن آج بھی یاد ہے۔ مجھے دریائے ستلج کی سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتی ہوئیں موجیں آج بھی یاد ہیں۔ مجھے ستلج تہذیب کے رنگ یاد ہیں، اس کی خوشبوئیں یاد ہیں۔ مجھے علاقے کے لہلہاتے کھیت اور ان کی پیداوار یاد ہے۔ مگر یہ سب کچھ اُجڑ گیا اور یہ سب کچھ قیام پاکستان کے بعد ستلج کی فروختگی اور امروکا بٹھنڈہ ریلوے لائن کی بندش کے نتیجے میں ہوا۔ “ یہ بھی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ریاست بہاولپور کے لوگ بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ ریاست بہاولپور کے تین اضلاع میں سے پہلے نمبر پر بہاولنگر کا نقصان ہوا ہے، ستلج کی غیر طبعی موت کے بعد وہاں پر ویرانی شروع ہو چکی ہے۔ زیر زمین پانی کڑوا ہو گیا ہے اور پانی کا لیول بہت نیچے چلا گیا ہے۔ گویا چولستان کے بعد ایک اور چولستان وجود میں آ رہا ہے۔ امروکا بٹھنڈہ بارڈر کی بندش نے بھی تجارتی طور پر اس خطے کو تباہ کر دیا ہے۔ سمہ سٹہ بہاولنگر ریلوے لائن ناجائز طور پر بند کر دی گئی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کو دیکھ کر رونا آتاہے۔ جناب ضیا شاہد صاحب یہ بھی کہہ رہے تھے کہ نواب آف بہاولپور ہم آبادکاروں اور مہاجروں کے تو محسن تھے ہی لیکن اس سے بڑھ کر وہ محسن پاکستان اور محسن عالمِ اسلام بھی تھے۔ ریاست بہاولپور کے ساتھ ظلم کا ذمہ دار تخت لاہور بھی ہے اور اس کے ذمہ دار موجودہ والیانِ ریاست بھی ہیں۔ ریاست کے لوگوں نے پانچ مرتبہ ان کو نواب صادق محمد خان عباسی کی محبت میں ووٹ دیئے۔ ان لوگوں نے ایک پائی کا کام نہیں کیا۔ ان کے مقابلے میں طارق چیمہ اور دوسرے آبادکار سیاستدانوں نے اپنی کمیونٹی کو زمین سے اٹھاکر آسمان تک پہنچا دیا۔ مگر ریاست کے قدیم اور اصل باسی ذلتوں کا شکار ہو گئے۔ آج بھی حالت یہ ہے کہ مقامی لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ والیانِ ریاست اب بھی کھرب پتی ہیں لیکن ان کی کوٹھیاں اور بنگلے لاہور اور دوسرے شہروں میں ہیں۔ نواب صلاح الدین عباسی کے بھائی نواب فلاح الدین عباسی کے حصے میں انگلینڈ کے محل سمیت کھربوں کی جائیداد آئی۔ ان کی شادی لاہور میں ہوئی۔ وہ والیانِ ریاست بہاولپور میں سے پہلے آدمی ہیں جو شاہی قبرستان میں دفن ہونے کی بجائے لاہور میں دفن ہیں اور کھربوں کی جائیداد کی مالک لاہور میں مقیم ان کی بیوہ ہے۔ کھرب پتی والیانِ ریاست بہاولپور میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی ہم نے نہیں سنا کہ اس نے اپنے خرچے سے کوئی ہسپتال بنوایا ہو یا کوئی تعلیمی ادارہ۔ ان کے محلات اور ان میں پڑے ہیرے جواہرات اور سونے کے برتنوں پر اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے قبضہ کر لیا لیکن یہ کسی غریب کو ایک روپیہ دے کر راضی نہیں۔ یہ صرف نام کے نواب ہیں۔ ان میں انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں۔ پاکستان کےلئے ریاست بہاولپور کی جو خدمات تھیں وہ بہاولپور کے سرائیکی عوام کی طرف سے تھیں کہ کسی بھی سٹیٹ کا کنگ سٹیٹ کی املاک کا محض امین ہوتا ہے، اس کے اصل مالک وہاں کے شہری ہوتے ہیں۔ میں والیانِ ریاست کو بھی کہتا ہوں کہ وہ سٹیٹ کے لوگوں میں کوئی اپنا مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں تو انسانوں سے پیار کریں۔ میں حکومت پاکستان کو بھی کہتا ہوں کہ اگر اس میں ریاست بہاولپور کے احسانات کا ذرہ بھر بھی احساس ہے پھر نہ صرف ریاست بہاولپور بلکہ پوری سرائیکی قوم کو صوبہ اور شناخت دیکر اسے زندہ رہنا کا حق دیں۔
(سرائیکی اخبار روزنامہ جھوک کے ایڈیٹر ہیں
اور زیادہ تر سرائیکی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

ایٹمی دیا سلائی

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف چین تیزی سے اُبھرتے ہوئے دنیا کی لیڈرشپ سنبھال رہا ہے تو اس کی ان کاوشوں کے پیچھے ”تقاریر کم“ اور ”ایکشن زیادہ“ نظر آرہے ہیں۔ دوسری طرف ایسی لیڈرشپ سنبھالنے کی جن ممالک کو سخت تکلیف ہے‘ ان میں سرفہرست امریکہ و برطانیہ ہیں‘ تو ان کے دم چھلوں کے طور پر ایشیاءمیں بھارت و افغانستان ہیں۔ تکلیف میں مبتلا ممالک میں حکومتوں پر نظر ڈالیں تو برطانیہ میں تو کوئی حکومت نظر ہی نہیں آرہی۔ دراصل پچھلے برس جب سے انگریزوں نے یورپی یونین سے نکل جانے یعنی کہ ”بریگزٹ“ کی حمایت میں ریفرنڈم کا ووٹ ڈالا ہے‘ تب سے وہاں پر وزیراعظم کے استعفیٰ کے بعد افراتفری کا عالم ہے۔ اس صورتحال میں وہاں پر ”فوری انتخابات“ کا اعلان کردیا گیا ہے جو کہ اگلے ماہ ہونے جارہے ہیں۔ ان عام انتخابات میں وہاں کی لیڈرشپ کا اونٹ کیسے بیٹھے گا؟ پردہ اٹھے گا تو ہم سب دیکھیں گے۔ گلوب کی لیڈرشپ سنبھالنے کے کام کو چین میں ”ون بیلٹ‘ ون روڈ“ منصوبے کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا نام تو آہستہ آہستہ دنیا کو معلوم ہورہا ہے مگر اس پر کام برق رفتاری سے اس کے اعلان کے اگلے ہی دن شروع ہوگیا تھا۔ یہ اعلان چینی صدر کے دورہ ¿ اسلام آباد کے موقع پر ”پاک چین راہداری منصوبے“ پر دستخطوں کے ساتھ ہی دنیا پر واضح ہوگیا تھا۔ مختصر ترین الفاظ میں وہ ”سی پیک کاریڈور“ کے الفاظ میں یا پھر ”ون بیلٹ‘ ون روڈ“ جیسے خوش کن الفاظ‘ چین ان الفاظ کی تشریح دنیا کو کاغذوں یا تقاریر سے نہیں بلکہ خنجراب سے لے کر گوادر تک میں جاری پاک سرزمین پر منعقد ہونے والے تعمیراتی پراجیکٹس کے ذریعے سے زیادہ سمجھا رہا ہے۔ اب جن ممالک کو ایسے معاشیاتی جامع منصوبوں کی سدھ بدھ پڑ رہی ہے‘ وہ تو تیزی سے ان میں شامل ہورہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں اس ”معاشیات کے معجزے“ سے اپنے ممالک کے رسد و رسائل اور کاروبار و تجارت کے میدان میں اپنی اپنی اقوام کے لئے فائدے سمیٹ سکیں۔ مگر کچھ ممالک جن کے ذہنوں میں برسوں سے بنا دنیا کی چودھراہٹ کا بھوت سوار ہے (اور جن کا ذکر اوپر موجود ہے) بوجوہ اس معاشی جن کو اپنی پیہم دہشت گردی اور تخریب کاری کی کارروائیوں سے واپس بوتل میں بند کرنے کی سازش کررہے ہیں‘ کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر طرح کی منفی سوچ اور کارروائیوں پر ہی غور کرتے چلے آرہے ہیں۔
اب چونکہ چین کے ان تمام منصوبوں کا مرکز و محور پاکستان اور اس کی بارہ مہینے کارآمد رہنے والی گرم پانیوں کی قدرتی بندرگاہ گوادر ہے۔ اس لئے دنیا کے سازشی چودھری پاکستان کے مشرق و مغرب میں جغرافیائی حدوں کے اس پار سے بھارت و افغانستان کے واسطے سے اندرون پاکستان آگ لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں‘ کہ شاید اچانک بوتل سے برآمد ہوا یہ معاشی جن (جس کے کہ زبردست تذویراتی نتائج بھی برآمد ہوں گے) واپس بوتل میں بند کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کے حساس صوبوں سندھ اور بلوچستان کو اپنا مرکز نگاہ بنا رکھا ہے۔
اب یہاں تک کی بات تو قابل فہم ہے‘ ہر کوئی شخص اسے بآسانی سمجھ بھی سکتا ہے۔ مگر ہم اس سے کچھ آگے بڑھ کر قاری کی توجہ اس انہونی کی طرف بٹانا چاہتے ہیں کہ جس میں امریکہ‘ برطانیہ اور بھارت و افغانستان میں موجود حکومتوں کی بات کی گئی ہے۔ اب برطانیہ کی بات تو ہوگئی۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہ تو ایک مقبوضہ ملک ہے‘ وہاں پر امریکی یا پھر نیٹو کی افواج باقاعدہ طور پر قبضہ کئے ہوئے ہیں مگر اشک شوئی کی خاطر انہوں نے وہاں پر پہلے پہل حامد کرزئی کو آگے کیا ہوا تھا تو آج کل اشرف غنی کی شکل میں وہاں پر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہے۔ سو افغانستان کا ذکر ہی کیا کرنا۔ اب رہ گئے امریکہ اور بھارت تو یہاں کی جمہوریتوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کی شکل میں ان کے پچھلے عام انتخابات میں ایسا ”اپ سیٹ“ نمودار ہوچکا ہے کہ دنیا بھر کے صاحبان فہم و دانش‘ ایسی جمہوری انہونیوں پر ابھی تک انگشت بدندان ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلی صدی میں جب جرمنی و اٹلی کی جمہوریتوں میں وہاں کے انتخابات کے بعد ہٹلر اور مسولینی کی حکومتیں قائم ہوئی تھیں‘ تو ان حکومتوں کو جرمنی و اٹلی کے علاوہ تمام دنیا نے بھی بھگتا تھا۔ نتیجے میں بے پناہ تباہی کے علاوہ کوئی ایک کروڑ کے قریب بنی آدم دوسری جنگ عظیم میں ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔ یورپ میں تو اس جنگ عظیم کے نتیجے میں کوئی جوان لڑکا بچا ہی نہ تھا۔ اتنے برس گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک یورپ میں مرد و زن کا تفاوت ختم نہیں ہوسکا۔ اگر ہم ہٹلر اور مسولینی کی سوانح حیات پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ ذاتی طور پر وہ رہنا تھے اور اپنا اپنا نظریہ رکھتے تھے بلکہ دونوں نے اپنے نظریات پر کتب بھی تحریر کی تھیں۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ جنگوں میں اُلجھ کر اپنی اپنی قوموں کو بھی رسوا کیا اور دنیا بھر میں تباہی بھی پھیلائی۔
اب جبکہ گراں خواب چینی انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھے ہیں اور بیجنگ میں دنیا کے حکمرانوں کو بلا کر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو پیش کیا جارہا ہے تو دراصل یہ باتیں چین کو دنیا بھر کے رہنما کے طور پر اُبھاریں گی۔ مگر امریکہ و بھارت چین میں منعقدہ سربراہی کانفرنس پر جزبجز ہورہے ہیں۔ وہ نہ صرف اس منصوبے کی حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں بلکہ ابھی تک اپنے کل بھوشنوں اور مقامی خریدے گئے دہشت گردوں کی وساطت سے مزدوروں تک کو قتل کروانے کے گھناﺅنے کام کروا رہے ہیں۔ کہیں پر وہ مذہبی فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں تو کہیں پر لسانی اور صوبائی تعصبات کو اُبھار رہے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طور چین و پاکستان میں چڑھتے ہوئے معاشیاتی و تذویراتی سورج کو دیکھنے سے آنکھیں چرائی جائیں۔
اب اگر امریکہ میں کارٹونی فطرت کے ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ پر کوئی لنکن و نکسن وغیرہ جیسے صدر ہوتے یا بھارت گندے پیالوں میں جعلی چائے بیچنے والے نریندر مودی کی جگہ گاندھی و نہرو جیسا کوئی حکمران ہوتا تو ان سے دوراندیشی میں اچھے فیصلوں کی توقع کی جاسکتی تھی۔ مگران دونوں ممالک میں اگر ”سی پیک“ جیسے معاہدوں سے ایک سخت پیٹ میں خرابی کی صورتحال ہے تو وہاں پر حکومت پر بھی بندر نما انسان بیٹھے ہیں جو کہ نہ صرف بیٹھے ہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم کے حالات کے برعکس اب ہاتھوں میں ایٹمی دیا سلائی بھی دبائے ہوئے ہیں۔ سو معاملات سنجیدہ ہیں۔ دنیا کے دانشوروں کو لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ جہاں پر وہ ون بیلٹ اور ون روڈ کے کرشموں پر دنیا کو موقع دیں وہیں پر امریکہ و بھارت جیسی جمہوریتوں سے اُبھرے حسن ٹرمپ و مودی پر بھی نظر رکھیں کہ بندر کے ہاتھ میں عام دیا سلائی ہو تو تب بھی خطرناک ہے اور اگر یہ دیا سلائی کسی ایٹم بم کو چلانے والی ہو تو یقینا یہ ایک بہت ہی بڑا خطرناک لمحہ فکریہ ہوسکتا ہے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے
ڈسٹرکٹ ناظم بھی رہے ہیں)
٭….٭….٭

مولانا طارق جمیل بارے افسوسناک خبر

لاہور ( ویب ڈیسک) معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کو کینیڈا میں دل کا دورہ پڑنے کی خبریں افواہیں ثابت ہوئیں بلکہ ان کو دل کا دورے کی بجائے سر درد کا اٹیک ہوا اور اس حوالے سے مولانا طارق جمیل کا ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے دعائے صحت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ”السلام و علیکم ،مجھے اچانک سر درد کا اٹیک ہوا ہے،جس کی وجہ سے میں بہت معذرت خواہ ہوں کہ اپنا پروگرام پورا نہیں کرسکتا،انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب سے معافی چاہتا ہوں اور دعا کی درخواست کرتا ہوں،میری تمنا تھی کہ آپ کے شوق کو دیکھتے ہوئے میری خواہش تھی کہ ان ساری جگہ پر آپ سے بات ہوجاتی لیکن بہت مجبوری سے میں یہ معذرت کررہا ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھے صحت دے اور آپ سب سے دعا کی درخواست کرتا ہوں“۔ یاد رہے کہ یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ کینیڈا میں موجود مولانا طارق جمیل کو دل کا دورہ پڑا ہے مگراب ان کے پیغام کے بعد یہ سب افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ واضح رہے کہ مولانا طارق جمیل کو کافی عرصہ سے سردرد کا مسئلہ درپیش ہے جس حوالے سے ان کا علاج بھی جاری ہے۔

عمران خان کی منی ٹریل اور غیرملکی فنڈنگ بارے سب سے اہم خبر

اسلام آباد، لاہور، کراچی (ویب ڈیسک)وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا کسان پیکج کسانوں کو ریلیف دینے کا اہم اقدام ہے‘ کسان پیکج سے ملک میں زراعت کو فروغ حاصل ہورہا ہے‘کسانوں کو قرضوں سمیت مختلف مراعات دی گئی ہیں‘ کسانوں کو کھاد‘ بیج اور مختلف مشینری پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں‘ حکومت بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے پروگرامز پر بھی توجہ دے رہی ہے‘ وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر خوراک کی قلت پر قابو پانے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے‘ پارلیمنٹ کی شمولیت سے زراعت کے شعبے میں ترقی کی جاسکتی ہے۔ منگل کو سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تحت چلنے والے مختلف پروگرام قابل تعریف ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما دانیال عزیز نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم سب آج عینی گواہ کے طور پر عدالت میں موجود تھے ،وہ سیاسی جماعت جو کہتی ہے کہ الیکشن کمیشن کا دائرہ وسیع ہونا چاہئے، الیکشن کمیشن کو بااختیار ہونا چاہئے، سزائیں دینے اور تحقیقات کرانے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہئے، بائیو میٹرک سسٹم ہونا چاہئے، ہر چیز کا قانون ہونا چاہئے، جب ان کی اپنی باری آتی ہے تو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے لئے حکومتی اداروں اور عدالت پر دباو ڈالتے ہیں۔ ترجمان وزیراعظم ہاﺅس مصدق ملک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے، اعتراض جے آئی ٹی کے طریقہ کار پر کیا جا رہا ہے، وہ درست نہیں۔ جے آئی ٹی میں طریقہ کار آئین و قانون کے تحت ہونا چاہئے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی پر اعتراض ہوتا تو سب سے پہلے ہم بولتے۔ جے آئی ٹی میں کچھ لوگ قانون کی حد عبور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اعتراض اٹھایا۔ جے آئی ٹی کو سیاسی فٹبال میچ نہیں بنانا چاہئے۔ پانامہ کیس میں ملوث بعض لوگوں نے سمجھا کہ جے آئی ٹی میں کچھ لوگ قانون کے دائرے سے باہر جا رہے ہیں جس کی وجہ سے اعتراض اٹھایا گیا، جو سب کا حق ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ شفافیت کا شور مچانے والی سونامی آج فرار کے راستے تلاش کررہی ہے‘ پورے پاکستان میں ثابت ہوچکا کہ عمران خان کرپٹ اور جھوٹا انسان ہے‘ عمران خان انسداد دہشت گردی عدالت کا اشتہاری ہے‘ عمران کا اصل چہرہ عوام کو دکھا کر رہیں گے‘ مطلب کا فیصلہ لینے کے لئے عمران خان غنڈے کا کردار ادا کررہے ہیں‘ عمران خان اپنی کسی کرپشن کا جواب نہیں دینا چاہتے‘ حنیف عباسی کی درخواست میں بہت سے سوالات ہیں آپ تو ایک سوال سے گھبرا گئے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے کہا کہ اگر آپ نے چوری نہیں کی تو اب کیوں بھاگ رہے ہیں۔

میڈیکل اسٹور سے آغاز کرنے والے حنیف عباسی ارب پتی کیسے بنے ، دیکھیے اہم انکشاف

اسلام آباد( ویب ڈیسک )میڈیکل سٹور سے آغاز کرنے والا حنیف عباسی بتائے آج ارب پتی کیسے بن گیا :، رہنما پی ٹی آئی ، تحریک انصاف نے پکوڑوں والی دستاویزات جمع کرائی ہیں پی ٹی آئی کے رہنما فواد چودھری کا کہنا ہے تحریک انصاف اور عمران خان ایک ایک پیسے کا حساب دینے کے لیے تیارہیں ، دیگر جماعتوں کی فنڈنگ کا کچھ پتا نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن کے دانیال عزیز کہتے ہیں عمران خان بنی گالہ کی منی ٹریل نہیں دے سکے ، اب جعلی سرٹیفکیٹس سے کام نہیں چلے گا۔ دونوں طرف سے تنقید کے باﺅنسرز تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔
پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان میچ جاری ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے نت نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان کی نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے حنیف عباسی کے خوب لتے لئے۔ انہوں نے کہا حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں اکبر ایس بابر کی درخواست کو کاپی پیسٹ کیا۔
میڈیکل سٹور سے آغاز کرنے والا حنیف عباسی بتائے آج اربوں روپے کا مالک کیسے بن گیا۔ فواد چودھری کے بعد مسلم لیگ نواز کے دانیال عزیز بھی ترکش میں تنقید کے تیر لئے آئے اور خوب برسائے۔ ان کا کہنا تھا ابھی تو عمران خان بنی گالہ کی منی ٹریل نہیں دے سکے،،اب جعلی سرٹیفکیٹس سے کام نہیں چلے گا۔ دانیال عزیز نے کہا اب تحریک انصاف کی سونامی گلیوں میں پھنس گئی ہے ، آج بھی کوئی پکوڑوں والی دستاویزات جمع کرائی ہیں۔