All posts by asif azam

سانحہ پارا چنار،ہنگامہ آرائی اور فورسز کیخلاف پراپیگنڈہ، کون ملوث؟

لاہور (خصوصی رپورٹ) سانحہ پارا چنار کے بعد وہاں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور فورسز کیخلاف نعرے بازی منصوبہ بندی کے تحت کرائی گئی جس میں بھارت کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پارا چنار ‘ کوئٹہ اور کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو بھارت کے سرحدی علاقوں موم ڈاو‘ بجنا مہر اور چندی گڑھ سے مانیٹر کیا گیا تھا۔ سانحہ پارا چنار اور دہشت گردی کے واقعات کو مذہبی رنگ دینے اور حساس اداروں کے ذمہ داران کیخلاف پراپیگنڈہ کیلئے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کئے گئے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق حساس ادروں نے اس سازش کے حوالے سے ثبوت اکٹھے کرکے کئی ایسے افراد کو بھی زیرحراست میں لے لیا جو غیرملکی قوتوں کی آشیرباد اور ان کی فنڈنگ سے یہ سب کررہے تھے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق کہا گیا ہے کہ باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت بھارت کے سرحدی علاقے رئیس سنگ‘ راولا منڈی ‘ کھاجو والا‘ مناباو‘ بھون‘ بدواوا اور بجنا سر میں عرصہ دراز سے پاکستان کے اندر مذہبی فسادات کرانے کیلئے ٹریننگ دی جارہی تھی اور مختلف ایجنٹوں کو مذہبی رہنما بنا کر پاکستان کے اندر داخل کیا گیا جہاں ان کے جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے اور پھر مختلف مذہبی گروپوں کے اندر ان کو داخل کرکے باقاعدہ پلاننگ کے تحت سازش تیار کی گئی کہ وہ مذہبی فسادات کرائیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق سانحہ پارا چنار کے بعد وہاں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور فورسز کے خلاف نعرے بازی ایک پلاننگ کے تحت کرائی گئی جس کے پیچھے بھارت میں بیٹھے یہ گروپ موجود تھے اور نعرے بازی سے لے کر ہنگامہ آرائی اور تقاریر کی ویڈیوز بھارت بھیجی جارہی تھیں جہاں بھارتی چینل پر اس کو دکھایا جارہا تھا اور نفرت آمیز تقریر کو انٹرنیشنل میڈیا پر پہنچانے کیلئے بھی کام کیا جارہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کچھ گرفتاریاںبھی عمل میں آئی جن سے اہم انکشافات ہوئے ہیں۔

ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت بارے قانونی مسودہ تیار

برلن(خصوصی رپورٹ)جرمن پارلیمان جمعے کے روز ملک میں ہم جنس پرست جوڑوں کو باقاعدہ طور پر شادی کی اجازت دینے سے متعلق قانون کی منظوری دے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی قانونی امور کی کمیٹی نے ایک بل کا مسودہ جمعے کے روز رائے شماری کے لیے رکھ دیا ہے۔ گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والی رہنما ریناٹے کیوناسٹ کے مطابق یوں مساوی حقوق کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔ یورپ کے متعدد ممالک میں ہم جنس پرست جوڑوں کو آپس میں باقاعدہ قانونی شادیوں کی اجازت مل چکی ہے، تاہم جرمنی میں ابھی تک یہ ممکن نہیں ہے۔

سانحہ احمد پورشرقیہ،امداد کٹوتی میں میگا کرپشن، لواحقین سراپا احتجاج

اسلام آباد (ٹی وی رپورٹ)ایک نجی ٹی وی کے مطابق احمد پور شرقیہ میں ٹینکر میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثا میں اعلان کردہ بیس لاکھ کے بجائے دس لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے گئے۔ وزیر مملکت بلیغ الرحمان نے حکومت پاکستان کی جانب سے سانحہ احمد پور شرقیہ میں شناخت ہونے والے اٹھائیس جاں بحق افراد کے خاندانوں کو امدادی رقم کے چیک دیئے گئے اس موقعے پر ایم این اے علی حسن، سینیٹر سعود ماجد اور صوبائی وزیر مالک اقبال بھی موجود تھے۔دوسری جانب لواحقین کا کہنا تھا امداد کیلئے حکومت کی جانب سے بیس لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم آج ہمیں جو چیک دیئے گئے ہیں ان میں رقم دس لاکھ روپے درج ہے جس پر حیرانی بھی اور پریشانی بھی ہے جبکہ لواحقین نے امداد کٹوتی پر انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا ہے۔ دریں اثناءنجی ٹی وی کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے سانحہ احمد پور شرقیہ کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے جسے وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثہ موٹروے پولیس کی نااہلی کی وجہ سے ہوا۔ حادثہ شفٹ تبدیلی کے وقت ہوا جبکہ پہلی شفٹ چلی گئی تو دوسری شفٹ وقت پر نہیں پہنچی تاہم اگر بروقت موٹروے پولیس حادثے کے مقام کو سیل کردیتی تو حادثہ نہ ہوتا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقامی ایس ایچ او اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پورشرقیہ بھی جائے حادثہ پر ایک گھنٹہ کی تاخیر سے پہنچے۔دوسری جانب آئل کمپنی نے بھی اپنی ابتدائی رپورٹ اوگرا کو پیش کردی جس میں کہا گیا ہے کہ حادثے کا شکار آئل ٹینکر کراچی کی بندرگاہ سے وہاڑی جارہا تھا کہ اتوار کی صبح 6 بج کر 29 منٹ پر حادثے کا شکار ہوا۔ حادثے کے وقت ٹینکر کی رفتار 35 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی اور اس میں 50 ہزار لٹر پٹرول تھا۔ ٹینکر اپنے مقررہ راستے پر جارہا تھا کہ اچانک اس کے عین آگے مسافر بس نے بریک لگائی، ٹکراﺅ سے بچنے کے لئے ڈرائیور نے ٹینکر کو دوسری سائیڈ پر موڑا جس سے ٹینکر الٹ گیا۔ ٹینکر الٹنے سے سارا آئل بہنا شروع ہوگیا اور مقامی آبادی نے اسے بالٹیوں، ڈبوں اور دیگر برتنوں میں بھرنا شروع کردیا۔ مقامی انتظامیہ کی کوشش کے باجود لوگ حادثے کے مقام سے نہیں ہٹے کہ اچانک اس میں آگ بھڑک اٹھی جس کی لپیٹ میں آکر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
ملتان (سپیشل رپورٹر) سانحہ احمدپورشرقیہ کے مزید 5 زخمی آج صبح سویرے دم توڑ گئے۔ نشتر ہسپتال میں جاں بحق ہونے والے زخمیوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ تفصیل کے مطابق سانحہ احمدپورشرقیہ کے 5 مزید زخمی چل بسے، 2 کو رات 4 بج کر 40 منٹ جبکہ 2 افراد کو 6 بج کر 1 منٹ پر مُردہ خانے منتقل کردیا گیا۔ بعدازاں 5 افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں۔ آہوں اور سسکیوں کے ساتھ لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر احمدپورشرقیہ پہنچ گئے جہاں ان کی آج تدفین کی جائے گی۔ نشتر ہسپتال میں آج صبح جاں بحق ہونے والوں میں 42 سالہ عبدالخالد ولد رحیم بخش، 18 سالہ فرحان ولد راشد، 16 سالہ سمیع اللہ ولد جمیل، 12 سالہ فہد ولد مشتاق اور 25 سالہ محمد شکیل شامل ہیں۔ دریں اثناءسانحہ احمد پورشرقیہ کے ڈرائیور گل محمد کی نمازِ جنازہ آج صبح 9 بجے ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقہ میں ادا کردی گئی ہے۔ ڈرائیور گل محمد ڈیرہ غازی خان کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال میں ابھی بھی 42 افراد تشویشناک حالت میں زیرعلاج ہیں جبکہ سانحہ احمدپورشرقیہ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 172 ہوگئی ہے۔

بھائی پیسوں کیلئے یہ کام کرتا رہا،نامور اداکارہ کا شرمناک انکشاف

ممبئی (خصوصی رپورٹ) بالی ووڈ کی بے باک اداکارہ سنی لیون نے کہاہے کہ ان کا بھائی کالج کے دنوں میں پیسے کمانے کےلئے اپنے دوستوں میں ان ہی کی تصاویر بیچتا تھا۔ کینیڈین نژاد بھارتی اداکارہ سنی لیون کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بنائی گئی ہے جس میں انہوں نے کئی اہم انکشافات کئے ہیں جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی والدہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا۔ آخری وقت میں انہوں نے خود والدہ کو دوا دی تھی جس کے بعد وہ سونے چلی گئیں‘ کبھی کبھی وہ سوچتی ہیں کہ ان کی دی ہوئی دوائی نے والدہ کی جان لے لی۔ انہیں کبھی ایسا نہیں لگا کہ وہ اپنی والدہ کی قاتل ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ دوائی دینے کے فوراً بعد مر گئی تھیں۔ سنی لیون کا کہنا تھا کہ وہ بہت اچھا رقص کرلیتی ہیں‘ اس لیے لوگ چاہتے تھے کہ وہ ان کی شادیوں میں ڈانس کریں اور وہ ایسا کرتی بھی تھیں کیونکہ یہ صرف اور صرف خوشی کے ماحول کو دوبالا کرنے کےلئے ہوتا تھا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تو انہوں نے اپنے لیے بھائی سندیپ ووہرا کی عرفیت ”سنی“ استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس پر بھائی کو تو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن والدہ کو جب اس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوئیں۔ اپنے کیریئر کے دوران وہ اپنے بھائی کے کالج کے دوستوں میں بہت مشہور تھیں۔ ایک روز بھائی نے کہا کہ وہ کچھ اضافی پیسے کمانا چاہتا ہے اس کےلئے کیا وہ اپنی کچھ تصویریں دے گی جس پر انہوں نے بھائی سے پوچھا کہ کیا وہ اس کے ذریعے پیسے کمانا چاہتا ہے اور اگر ایسا ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کہ وہ کوئی بھی تصویر 10 ڈالر سے کم میں نہ بیچے۔

نگران حکومت یا نیا وزیراعظم؟

لاہور(خصوصی رپورٹ) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی چودھری نثار، شہباز شریف اوراسحاق ڈار کی طرف سے حالات کے مطابق نئے سیاسی قبلے کا تعین کر نے کی پیش گوئی پر سیاسی حلقوں میں حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شیخ رشید احمد نے گزشتہ روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایک بڑا گروپ اہم سیاسی فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے شیخ رشید کی اس پیش گوئی پر نہ صرف حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ اسے شیخ رشید کی پہلی ناکام پیش گوئیوں پر خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ کرپشن کا تابوت سپریم کورٹ سے نکلے گا اور 8ہفتوں میں نگران حکومت یا نئے وزیراعظم کا فیصلہ ہو جائے گا۔ شیخ رشید نے کہا کہ پانامہ جے آئی ٹی کی تفتیش اب مکمل ہوگئی ہے۔ جے آئی ٹی نے اسحاق ڈار کے علاوہ سب کو ہی بلا لیا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ 3درخواست گزاروں کو دی جائے گی اور اسے عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں رپورٹ پر ہمیں جرح کی اجازت دی گئی تو وہ نوازشریف کو طلب کرنے کی استدعا کریں گے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کرپشن کا تابوت سپریم کورٹ سے نکلے گا۔ حکمرانوں کی آنکھیں کھلنے کا وقت آ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا بڑا گروپ آئندہ 8ہفتوں میں بڑا سیاسی فیصلہ کرے گا۔ وہ بہت پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ نوازشریف مستعفی ہو جائیں‘ اب نوازشریف کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں گے یا اسمبلی تحلیل کریں گے۔ عبوری سیٹ اپ آتا ہے یا عبوری وزیراعظم‘ اس کا فیصلہ 8ہفتوں میں ہو گا۔ اگر قومی اسمبلی تحلیل کی گئی تو صوبائی اسمبلیاں بھی نہیں رہیں گی۔

چودھری شجاعت حسین کا نامور اخبار نویس ،کہنہ مشق مصنف ضیا شاہد اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بارے ”دلچسپ انکشاف“

لاہور (رپورٹنگ ڈیسک) چودھری شجاعت نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں شیخ رشید اور دوسرے بہت سے یوتھ لیڈروں کے ساتھ ضیاشاہد بھی ہمارے گھر آتے تھے۔ چودھری صاحب مرحوم کے ڈر سے ان کے قریب بھی نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے ضیاشاہد کی ان معلومات کو بھی سراہا (شیخ رشید موجودہ عوامی لیگ والے) بھی آیا کرتے تھے۔ چودھری صاحب جمعیت اور مسلم فیڈریشن کے طالب علموں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

”2008ءکے الیکشن فکس تھے“ سابق وزیراعظم نے بھید کھول دیا

لاہور (سیاسی رپورٹر) پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ نہ کوئی ن ہے نہ ق نہ کوئی پے اور نہ کوئی دوسرا دھڑا۔ پاکستان مسلم لیگ جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے اس کا صدر ہوں۔ وہ عید سے اگلے روز ٹرو کے دن ٹی وی چینل۵ کے پروگرام ضیاشاہد کے ساتھ میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو ن لیگ ایک آندھی میں اڑنے والے پتوں کی طرح بکھر جائے گی اور ان کے خاندان کے چند ذاتی بہی خواہوں کے ساتھ اکثر قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میری صدارت میں بننے والی مسلم لیگ میں واپس آ جائینگے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی کارکردگی کے حوالے سے چند سوالوں کے جواب میں چودھری شجاعت نے کہا کہ کیا مثبت کام کیا ہے شہباز صاحب نے صحت کے میدان میں پنجاب کے عوام سخت پریشان ہیں تعلمی اداروں میں بالخصوص ستیاناس ہوچکا ہے کسان سب سے بڑے صوبے پنجاب کے آبادی 70% فیصد بدحال ہے۔ زراعت کھوہ کھاتے میں چلی گئی لٰہذا فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں پنجاب میں مظاہروں کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ان سے پوچھا گیا دھرنوں کے دوران آپ عمران خان اور طاہرالقادری سے بہت ملاقاتیں کرتے رہے۔ آپ بتائیں جب عمران اور قادری نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم ہاﺅس میں گھیراﺅ کیا اور پی ٹی وی پر قبضہ کر لیا ہے تو عمران خان کا یہ کہنا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے کا کیا مطلب تھا جبکہ تحریک انصاف کے صدر نے یہ الزام لگا کر کہ دھرنے کے ذریعے مارشل لاءلگانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی سیاستدان اجازت نہیں دے سکتے۔ چودھری شجاعت نے کہا یہ بہت لمبی بحث ہے پھر کسی وقت جواب دونگا۔ بھارتی جاسوس کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ نیپال میں اغوا کئے جانے والے پاکستانی کرنل سے کلبھوشن کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے تو ق کے صدر نے کہا مجھے اس مسئلے پر عبور نہیں اس لئے جواب نہیں دونگا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ءکے الیکشن میں پہلے ہی فیصلہ ہو گیا تھا کہ بینظیر بھٹو وزیراعظم بنے گی اور پرویز مشرف صدر چودھری صاحب نے کہا کہ ہم بھی انہیں صدر رکھنے کو تیار تھے۔ یہ فیصلہ امریکہ میں ہواتھا اور این آر ا و کے ذریعے پیپلز پارٹی کے عہدیداروں کو ورکروں کے علاوہ بڑی تعداد میں مجرموں کو رہائی مل گئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مجھے ایوان صدر سے فون آیا کہ آپ کی سیٹیں کم آ رہی ہیں صبر و تحمل سے برداشت کرنا میں نے کچھ پوچھنا چاہا تو صدر نے رسیور بریگیڈئر اعجاز شاہ کو دے دیا۔ جو وفاقی بیورو کے چیف تھے) جنہوں نے مجھے یہ پیغام دیا کہ آپ اپنی ہار تسلیم کریں اور مسائل نہ پیدا کریں ورنہ آپ کے لئے اچھا نہ ہوگا۔ چودھری شجاعت سوال پوچھنے کی ا س رائے سے اتفاق کیا کہ جنرل مشرف کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اس غلطی کا خمیازہ ہمیں ہی نہیں خود جنرل پرویز مشرف کو بھگتنا پڑا۔ جب چودھری شجاعت سے یہ پوچھا گیا کہ آخر پرویز مشرف آپ سے ناراض کیوں ہوئے آپ بھی انہیں صدر رکھنا چاہتے تھے تو انہوں نے کہا امریکن دباﺅ تھا اور بے نظیر بھٹو کے حق میں فیصلہ ہو چکا تھا۔ پانامہ لیکس کے بارے میں موجود عدالتی کاروائی کے بارے میں جب چودھری شجاعت سے پوچھا گیا کہ آپ ن لیگ کے پنجاب کے صدر تھے اور برسوں جناب نواز شریف دست راس رہے۔ انہوں نے کہا بارہ سال تک ان کے ساتھ کام کیا لیکن اقتدار سے علیحدگی اور ہائی جیکنگ کیس کے بعد وہ وہ سعودی عرب چلے گئے اور دس سال سیاست نہ کرنے کا معاہدہ کر لیا تو ہمارے خیال میں پاکستان مسلم لیگ کو بچانا ضروری تھا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آخری فیصلہ تو سپریم کورٹ ہی دے گی۔ لیکن بظاہر لگتا ہے میاں صاحب اور اہل خانہ ججوں کے سامنے کوئی صفائی نہیں دے سکے دو جج پہلے ہی ان کے خلاف فیصلہ دے چکے تین نے کہا مزید تحقیق کے لئے جے آئی ٹی قائم کی جائے۔ سپریم کورٹ کے پاس میاں صاحب کو صاف بری کرنا مشکل ہوگا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا میاں صاحب کے کبوتر اڑ جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہمارے درخت کی شاخوں میں پناہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ منتخب وزیراعظم کی مبینہ کرپشن پر فیصلہ دینا ہے۔ کرپشن کے خلاف 80 فیصد کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔ 5 فیصد شیخ رشید کو 5 فیصد جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کو باقی 10 فیصد آزاد میڈیا نے تحریک یہاں تک پہنچائی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ ہو یا پگاڑہ صاحب کی مسلم لیگ ہم سب اندر سے ایک ہیں اور موجودہ حکمرانوں کے خلاف صف آراءہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو تین سال تک وزیراعظم رہنے کا موقع ملا آپ نے کونسا ایسا کام کیا جسے آپ اپنا کارنامہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا صرف 90 دن میں میں نے دو کام کئے جن پر آج تک اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ اول کوئی پاکستانی بیرون ملک فوت ہو جاتا تھا تو ائیر لائنز واپس وطن نہیں پہنچاتی تھیں۔ ہم نے سختی سے قانون منظور کروایا کہ جہاں کہیں دنیا میں پاکستانی فوت ہو گا تو پی آئی اے کی ذمہ داری ہو گی کہ اس میت فری وطن تک پہنچائی جائے۔ دوسرا سڑک پر ٹریفک حادثہ ہو جاتا تھا تو زخمیوں کو ہسپتال میں داخلہ نہیں ملتا تھا چونکہ قانون یہ تھا کہ پہلے پولیس میں پرچہ درج کراﺅ اس طرح کئی جانیں ضائع ہو جاتی تھیں۔ میں نے یہ پابندی ختم کروا دی جو آج تک موجود ہے اور زخمیوں کو بغیر پولیس رپورٹ کے فوراً آپریشن تھیٹر پہنچایا جاتا تھا۔

بلاول نے عید کے روز کہاں حاضری دی؟, جان کر آپ بھی فخر کرینگے

لاڑکانہ (این این آئی) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی، صوبائی وزرائ، نثار احمد کھوڑو، سہیل انور سیال و اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ہمراہ نماز عید گڑھی خدا بخش بھٹو میں ادا کی۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد پاکستان کی ترقی، دہشت گرد واقعات میں شہید ہونے والے افراد اور احمد پور شرقیہ واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد بلاول بھٹو اور وزیراعلیٰ کارکنان سے عید ملے۔ بعد ازاں بلاول بھٹو و دیگر نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو، شہید ذوالفقار علی بھٹو و دیگر کے مزارات پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں جلد ہی 45ہزار نوکریاں میرٹ پر دی جائیں گی۔ نوڈیرو ہاﺅس میں کارکنوں سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاکہ سندھ حکومت بے روزگاری ختم کرنے کے لیے عملی طور پر کام کررہی ہے، آنے والے دنوں میں 45 ہزار نوکریاں دی جائیں گی جو کہ میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی ۔ بلاول بھٹو زرداری سے عید ملنے کے لیئے پارٹی رہنماﺅں، کارکنان، معززین اور عام شہریوں کا جوق در جوق نوڈیرو ہاﺅس آمد کا سلسلہ عید کے دوسرے اور تیسرے روز بھی جاری رہا۔ اپنے مہمانوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں اپنی دعاﺅں میں پارا چنار، کوئٹہ اور کراچی کے شہدا اور بہاولپور حادثے کے متاثرین کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ بلاول بھٹو نے پنجاب کی تنظیموں سے صوبے کے دورے کا شیڈول مانگ لیا بلاول بھٹو نے پنجاب کے تمام بڑے شہروں‘ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے دوروں‘ کارکنوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کیلئے پیپلزپارٹی وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کی قیادت سے شیڈول مانگ لیا۔

لاہور میں کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی بارے بڑی خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) صوبائی دارالحکومت میں کھلے دودھ کی فروخت پر مکمل پابندی کیلئے قانون سازی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ شہر بھر کی گنجان آبادیوں اور گلی محلوں کی سطح پر ملاوٹ شدہ‘ مضر صحت جعلی دودھ کی مکمل روک تھام کیلئے متعلقہ محکمے انتہائی اقدام کیلئے حرکت میں آ گئے ہیں۔ ان محکموں نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران شہر میں دودھ‘ دہی کی نئی دکانوں کی بھرمار اور دودھ کے کاروبار میں حیران کن تیزی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے سروے کروائے تھے جن کی ہوشربا رپورٹ کے مطابق گائے‘ بھینس کے اصلی دودھ کی پیداوار میں تو اضافہ نہیں ہوا تاہم بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے نقلی دودھ تیار کیا جا رہا ہے جس میں یوریا ڈیٹرجنٹ‘ ویجیٹیبل فیٹ و دیگر مضر صحت اجزاءڈال کر دودھ تیار کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دودھ کے کاروبار میں غیرحقیقی منافع کے پیش نظر لاہور کے مہنگے علاقوں میں چمک دمک والی دکانوں کے پھیلاﺅ میں بے تحاشا اضافہ دیکھا گیا جبکہ بعض مقامات پر دکانوں کے افتتاح کے موقع پر گاہکوں کیلئے دودھ کی ایک گڑوی کے ساتھ ایک مفت کی پرکشش آفر بھی نظر آئی۔ اس حوالے سے پنچاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت دودھ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاﺅن کا آغاز کیا اور لاہور کے داخلی راستوں پر ناکے لگا کر ہزاروں من دودھ ضائع بھی کیا گیا تاہم خاطرخواہ نتائج نہ ملنے کے باعث اب مرحلہ وار پنجاب بھر میں کھلے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کر دی جائے گی جس کا آغاز لاہور سے ہو گا۔ اس سلسلے میں ”پیسچرائزڈ لائ“ کے نام سے ایک مجوزہ قانون پاس کیا جائے گا جس کے تحت نجی شعبے کے تعاون سے لاہور کے تمام داخلی راستوں پر پیسچرائزیشن کے پلانٹس لگیں گے اور دوسرے شہروں سے لاہور آنے والے دودھ کے تمام کنٹینر وہاں پر خالی کئے جائیں گے۔ موقع پر ہی دودھ کا معیار چیک کر کے گوالوں کو ادائیگیاں کی جائیں گی‘ بعدازاں اس دودھ کو پیسچرائزاڈ اور سٹینڈرڈائز کر کے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں منتقل کر دیا جائے گا جہاں سے لاہور کے دس ہزار دکاندار اپنی ضرورت کے مطابق دودھ اٹھا کر شہر میں فروخت کر سکیں گے۔

خاتون ڈی ایس پی کے گن مین بارے شرمناک خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) شیراکوٹ کے علاقہ میں عید کے روز خاتون ڈی ایس پی سکیورٹی کا گن مین زہریلی شراب پینے کے باعث ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق غوثیہ کالونی کا رہائشی 34سالہ سجاد محکمہ پولیس میں ملازم اور لاہور کی ایک خاتون ڈی ایس پی سکیورٹی کا گن مین تھا۔ عید کے روز اپنے گھر کے ساتھ دوستوں کے ہمراہ شراب پی رہے تھے کہ اچانک حالت خراب ہو گئی۔ اسے بیہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔ وہ ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ ہو گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق پولیس کانسٹیبل کی موت زہریلی شراب پینے کی باعث واقع ہوئی ہے۔ پولیس نے نعش پوسٹمارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی ہے۔