All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

خوفناک حادثات, 10افراد جان کی بازی ہار گئے،23زخمی

لاہور (کرائم رپورٹر)کاہنہ کے علاقہ میں ہسپتال میں زیر علاج مریض کی عیادت کے لیے جانے والے 2دوست ٹرک کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے جبکہ تیسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے نعشیں قبضہ میں لے لیں موت کی اطلاع گھر پہنچنے کہرام برپا ہوگیا۔بتایاگیا ہے کہ موٹرسائیکل پر سوار 3دوست 20سالہ دلاور، فقیرحسین اور ذوالفقار جناح ہسپتال مریض کی عیادت کے لیے جارہے تھے کہ ہلوکی کے قریب ٹر ک کو اوور ٹیک کرتے ہوئے سامنے سے آنے والے ٹرالہ سے تصادم ہوگیا جس کے نتیجہ میں دلاور اور فقیرحسین موقع پر ہلاک ہوگئے۔ جبکہ ذوالفقار کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں جسے فوری طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچادیاگیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے نعشیں قبضہ میں لیکر ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردیں۔بادامی باغ کے علاقہ میں دوستوں کے ہمراہ جانے والے 22سالہ نوجوان کی نعش قبرستان سے برآمد۔ کھوکھر پنڈ کا رہائشی 22سالہ عمران خاں سلائی گڑھائی کا کام کرتا تھا دو روز قبل دوستوں کے ہمراہ گھر سے گیا مگر واپس نہ آیا جسے ورثاءنے رشتہ داروں دوست احباب کے ہاں تلاش کیا مگر کوئی سراغ نہ مل سکا ۔ رات گئے اس کی نعش قریبی قبرستان میں پڑی تھی جسے دیکھ کر راہگیروں نے شور مچانا شروع کردیا اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے نعش کو قبضہ میں لے لیا۔ ایس ایچ او بادامی باغ نشاط چیمہ نے ”نیااخبار“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ متوفی کے جسم پر بظاہر کسی قسم کے تشدد یا زخم کا نشان موجود نہیں ملزمان کی تلاش جاری ہے اصل حقائق پوسٹمارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئینگے۔
پنڈی بھٹیاں، بھکر (مانیٹرنگ ڈیسک) آج صبح تیز رفتار کار اور ٹرک کے درمیان تصادم کے نتیجہ میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ تین شدید زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ بتایا گیاہے کہ فیصل آباد سے ار سوار فیملی آ رہی تھی کہ پنڈی بھٹیاں کے قریب سامنے سے آنے والے ٹرالر سے تصادم ہوگیا جس کے نتیجہ میں کار میں سوار تین افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں راہگیروں نے کار کے شیشے توڑ کر باہر نکالا واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ ادھر تیزرفتار کار ٹائی راڈ کھلنے کے باعث سامنے سے آنے والی ہائی ایس سے جا ٹکرائی، پانچ افراد جاں بحق، 19 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

افغانستان سے دہشتگرد گروپس پاکستان میں داخل, سکیورٹی اداروں نے خبردار کردیا

ملتان(خصوصی رپورٹ) بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مدد سے دہشت گرد تنظیم لاہور، نوشہرہ سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کی بڑی سیاسی شخصیات کی ہائی آفیشلز اور حساس ادارے کے آفیسرز کو اغواءکرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سپیشل برانچ ہیڈ کوارٹر لاہور اور ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ تھریٹس الرٹ لیٹرز میں بتایاگیا ہے کہ دہشت گردوں نے افغانستان کے صوبے کنہار میں ٹریننگ بھی مکمل کرلی ہے جن کو پاکستان میں مختلف روٹس کے ذریعے داخل کیا جارہا ہے جبکہ ایک اطلاع کے مطابق داعش کے دہشت گرد جنوبی پنجاب میں بڑی سیاسی شخصیات، ہائی لیول گورنمنٹ آفیشلز اور انٹیلی جنس آفیسرز کو اغواءکرنے اور ان کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس کا ٹاسک داعش کے دہشت گرد گروپ جس کو رضوان نامی دہشت گرد لیڈ کر رہا ہے، دے دیا گیا ہے۔ صورت حال کے مطابق سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی جائے۔ ادھر ہیک کرنے کے لئے افراد کو ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگوں کے فیس بک آئی ڈی کو ہیک کرکے یا جعلی بنا کر مذہبی توہین آمیز چیزیں لکھنا شروع کر دی ہیں۔ ہیکرز بھارت کے چندی گڑھ، امرتسر، افغانستان اور دبئی سے بیٹھ کر یہ کام کر رہے ہیں۔ مختلف پاکستانی شہروں میں ان کے پے رول پر کام کرنے والے ہیکرز موجود ہیں۔ انہوں نے مختلف مذہبی رہنماﺅں کے جعلی فیس بک اکاﺅنٹس بھی بنا رکھے ہیں۔ حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایسے علماءکے بھی اکاﺅنٹس بنا رکھے ہیں جن کی طرف سے فوری فتویٰ بھی جاری کر دیا جاتا ہے۔ کئی سعودی علماءکے اکاﺅنٹس بھی اس میں شامل ہوتے ہیں، پہلے کسی اکاﺅنٹ سے توہین آمیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے پھر ایک اکاﺅنٹ سے فتویٰ جاری اور پھر لوگوں کو کرایے پر لے کر جلوس بھی نکلوائے جاتے ہیں۔ حساس اداروں کی آئی ٹی ٹیم نے ایسے لوگوں کے خلاف کام شروع کر دیا ہے۔ غیر ملکی ایجنسیز کے آلہ کار پاکستانی ہیکرز کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ بیرون ملک بیٹھے ہیکرز کو بھی کاﺅنٹر کیا جا رہا ہے۔
راہیکرزاغوائ

افغان سفیر کی یقین دہانی, بڑی کاروائی کا فیصلہ کرلیاگیا

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستا ن میں تعینا ت افغان سفیر ڈاکٹرعمر زاخیل وال نے کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ٹی ٹی پی سربراہ کے خلاف مشترکہ آپریشن کرسکتے ہیں۔ نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیل وال نے کہا کہ افغانستان ایک خود مختار ریاست ہے اور وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت بھارت کو کبھی نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک افغان کشیدگی دونوں کے حق میں بہتر نہیں، رواں سال تعلقات بہتر ہونے کی امید ہے۔ افغان سفیر کا کہنا تھا کہ افغانستان نے پاکستان کے مطالبے پر قاری یاسین اوردیگردہشت گردوں کاخاتمہ کیا۔ عمر زاخیل وال نے کہا ہے کہ آئی ایس کے لیڈر حافظ سعید کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا گیا، ملا فضل اللہ کوئی بیٹھی ہوئی بطخ نہیں ہے، ہم ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ کارروائی کر سکتے ہیں لیکن وہ عناصر جو پاکستان میں گھوم پھر رہے ہیں اور افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں بھی افغانستان کے حوالے کیا جانا چاہئے۔ یہ الزام کہ افغانستان بھارت کے زیر اثر پاکستان مخالف پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے یہ افغان قوم کی توہین ہے۔ افغانستان اپنی خارجہ‘ امور سلامتی اور معیشت کے حوالے سے پالیسیاں اپنے قومی مفاد میں بناتا ہے۔ افغانستان کبھی بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آنے کے چند ہفتوں بعد پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ وہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات چاہتے تھے۔ بعض افغان حلقوں نے صدر غنی کو مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کا دورہ نہ کریں آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ لیکن صدر اشرف غنی نے اپنی سیاسی ساکھ داو¿ پر لگاتے ہوئے پاکستان کا دورہ کیا۔ افغان سفیر نے بتایا کہ افغان صدر نے میری تجویز پر جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا لیکن اس دورے کے جواب میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ افغان سفیر سے استفسار کیا گیا کہ پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی پاکستان میں میزبانی کی تھی یہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں امن اور استحکام کی طرف ایک اہم پیش رفت تھی جس پر افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے جو افغانستان کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں بتایا کہ پاکستان جن طالبان لیڈروں کو مذاکرات کی میز پر لایا وہ درمیانے درجے کے لیڈر تھے۔ وہ صف اول کے لیڈر نہیں تھے۔افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہو رہی ہے جس پر افغان سفیر نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے مطالبہ پر قاری یٰسین کو ہلاک کیا۔ عمر نارے بھی پاکستان کو مطلوب تھے جسے مارا گیا۔ آئی ایس کے لیڈر حافظ سعید کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان عرصہ سے ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس پر افغان سفیر نے کہا کہ ملا فضل اللہ کوئی بیٹھی ہوئی بطخ نہیں ہے۔ ہم ملا فضل اللہ کے خلاف مشترکہ کارروائی کر سکتے ہیں لیکن وہ عناصر جو پاکستان میں گھوم پھر رہے ہیں اور افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں بھی افغانستان کے حوالے کیا جانا چاہئے۔ افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ کیا پاک افغان سرحد پر کشیدگی ختم ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر کشیدگی دونوں ملکوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ دونوں ملکوں کے صدیوں پرانے رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ تجارت متاثر ہوتی ہے۔افغان سفیر نے دعویٰ کیا کہ پانچ سال پہلے پاکستان کی افغانستان کو برآمدات سالانہ پانچ ارب ڈالر تھیں جو تعلقات کی خرابی اور سرحدی کشیدگی کی وجہ سے اب ڈیڑھ ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ پاکستان کی جگہ اب ایران نے افغان مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایران افغانستان کو پانچ سال سے دو سو ملین ڈالر کی اشیائ برآمد کرتا تھا اب وہ 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی اشیاء افغانستان کو برآمد کرتا ہے۔ افغان سفیر نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان فضائی سفر چالیس منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ ہمارے درمیان ہفتہ وار نہیں تو سالانہ بنیادوں پر سیاسی‘ تجارتی اور پارلیمانی وفود کا تبادلہ ہونا چاہئے۔ افغان سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان غلط فہمیوں کا موجودہ دور کب ختم ہو گا تو افغان سفیر نے کہا کہ 2017 ئ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے اچھی خبروں کا سال ہے۔ ہمارے تعلقات میں سرد مہری ختم ہونے والی ہے۔ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔

پنجاب میں دفعہ 144نافذ, 2ماہ کیلئے بڑی پابندی لگادی گئی

لاہور (خصوصی رپورٹ) محکمہ داخلہ حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں جلسے، جلوسوں، ی ریلیز دھرنوں، مظاہروں وغیرہ پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کا یہ حکم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ یہ پابندی ان اجتماعات پر جن کی منظوری متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر سے حاصل کی گئی ہو اور وہ چار دیواری کے اندر منعقد ہوں پر لاگو نہیں ہو گی۔ پابندی کا حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو کر ساٹھ دن تک موثر رہے گا۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہےں۔

سرکاری سکولز کے 10ہزار طلبہ کو مفت سائیکلیں دینے کا فیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ) بچوں کی انرولمنٹ میں اضافہ کرنے اور سکول چھوڑکر جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی کرنے کیلئے نیا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم 10 ہزار بچوں کو سکول آنے اور جانے کیلئے دس ہزار مفت سائیکلیں تقسیم کی جائیں گی۔ پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کے سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کو سائیکلیں دی جائیں گی۔ سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم غریب عوام کے بچوں کو سائیکلیں ملنے سے نہ صرف انہیں سکول آنے جانے میں آسانی ہوگی بلکہ انہیں بسوں اور ویگنوں کا کرایہ بھی نہیں دینا پڑے گا، اس سے پہلے حکومت مانیٹرنگ ایلیویشن آفیسر کو سکولوں کی مانیٹرنگ کیلئے موٹرسائیکلز بھی دے چکی ہے جس سے سکولوں کی مانیٹرنگ بہتر ہوئی ہے۔ صوبائی وزیرتعلیم رانامشہود خان نے کہا ہے کہ منصوبہ پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ کامیاب تجربہ کے بعد پنجاب کے دیگر اضلاع میں بچوں کو سائیکلز دی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق بچوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور پرائیویٹ سکولوں کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں لانا ہے۔

اورنج ٹرین کیس کا فیصلہ, سپریم کورٹ کا بڑا اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے لاہور اورنج لائین ٹرین منصوبہ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے لاہورہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف دائرکی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی کامل خان رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت ایک ہفتے میں کم از کم دو ماہرین کی رائے پر مشتمل جواب جمع کروائے جبکہ فریقین اگر مزید دلائل دینا چاہیں تو وہ تحریری صورت میں عدالت میں جمع کراسکتے ہیں۔سوموار کو اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سر براہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس مقبول باقر، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے کی، اس موقع پر دلائل جاری رکھتے ہوئے درخواست گذار کامل خان نے موقف اپنایا کہ تاریخی عمارتوں کی بنیادوں اور مٹیریل سے متعلق کوئی سٹڈی نہیں کروائی گئی جبکہ نیسپاک کی رپورٹ اندازوں پر بنائی گئی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کافی تعمیرات ہو چکی ہیں ، کیا تعمیرات سے اب تک کسی عمارت کو نقصان پہنچا کامل خان نے جواب دیا کہ دہلی میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے زیر زمین میٹرو ٹریک بنایا گیا ، یہ ٹریک جامعہ مسجد اور دہلی قلعے کے نیچے سے گزرتا ہے ۔ اس دوران مداخلت پر عدالت نے ایڈوکیٹ اظہر صدیق کو دلائل دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل دے چکے ہیں اس لئے خاموش رہیں جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہاکہ مقدمے میں کوئی سنجیدگی آتی ہے تو آپ اس کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔اس موقع پر وکیل نیسپاک شاہد حامد کا کہنا تھا کہ درخواست گزار براہ راست ڈاکٹر کو نینگم سے خط و کتابت کرتے رہے ، دوسروں پر تعصب کا الزام لگانے والے اپنا گریبان میں بھی جھانکیں۔اس موقع پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھاکہ پنجاب حکومت کا ٹنل ٹیکنالوجی سے دستبردار ہونا بدنیتی ہے جبکہ ٹھیکہ نہ تجربا کار کمپینیوں کو دیا گیا ، اس دوران وکیل نیسپاک نے کہاکہ اورنج لائن کا منصوبہ جائزے کے لیے یونیسکو کو بھیجنے کی ضرورت نہیں جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ ڈی جی آرکیولوجی کی تقرری سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے تاہم معاملہ جائزے کے لیے یونیسکو کو بھیجنے کی قانونی ضرورت نہیں شی اور ڈاکٹر کونینگم کی رپورٹ پر درخواست گزاروں نے ایک لفظ نہیں کہا جب درخواست گزاروں کو رپورٹ میں دلچسپی نہیں تو ہمیں دلچسپی کیوں ہو گی ۔جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ کیاموج دریامزار کی بنیادوں کی سٹڈی کروائی گئی ۔تو نیسپاک کے وکیل نے کہاکہ موج دریامزار کی بنیادوں کی سٹڈی کی ضرورت نہیں ،درخواست گزار کہیں توان کو وہاں ڈرلنگ کرکے دکھادیتے ہیں و، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ورنج لائن منصوبہ نہیں بناناتوآپ کی مرضی ہے ،یہاں تواورنج لائن منصوبہ بنتاہوانظرنہیں آرہا ،چاہیں تورائیونڈ میں جاکراورنج لائن ٹرین بنالیں جسٹس اعجاز افضل خان نے کہاکہ ایشو صرف موج دریامزار کانہیں ہے جی پی او،سپریم کورٹ رجسٹری اور ہائیکورٹ کی عمارتیں بھی راستے میں آتی ہیں،سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور جی پی اوعمارتوں کے نقشے موجود ہوں گے جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ معلوم یہ کرناہے ان عمارتوں کی بنیادیں کہاں تک ہیں ،ہماری تشویش یہ ہے کہ ڈرلنگ سے عمارتوں کی بنیادیں تومتاثر نہیں ہوں گی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ دوسرا فریق چاہتا ہے تاریخی مقامات کے قریب ٹرین زیر زمین گزرے، زیر زمین گزارنے سے لاگت میں کتنا اضافہ ہوگا، جس پر نیسپاک کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاگت چار سے پانچ گنا بڑھ جائے گی،۔ شاہد حامدنے کہا کہ زیر زمین سیکورٹی اور وینٹیلیشن کا مسئلہ بھی ہوگا، ایسا نہ ہو زیر کہ مسافر فرائی ہو جائیں ، اورنج لائن دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے سستی ہے۔پیرس میں ایفل ٹاور کے سامنے سے ٹرین گزرتی ہے اورکبھی کسی نے ایفل ٹاور نظر نہ آنے کی شکایت نہیں کی ، انہوں نے کہاکہ دہلی میں میٹرو ٹرین 52 کلومیٹر زمین سے اوپر اور صرف 13 کلومیٹر زیر زمین ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ دوسرے فریق کے بقول تاریخی عمارات کے قریب دہلی میٹرو بھی زیر زمین ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاک کہا جاتا ہے تعمیراتی کام سے موج دریا مزار اور سینٹ اینڈریو چرچ کی بنیادیں متاثر ہونگی، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ بنیادیں متاثر ہوئیں تو عمارت گر بھی سکتی ہے۔اس موقع پر وکیل نیسپاک کا کہنا تھا کہ عدالت کو اورنج لائن ٹرین منصوبہ کے ارتعاش کاجومعیاربتایاجارہاہے اس سے بھی کم ہوگا کیونکہ تعمیرات اور ٹرین کی تھرتھراہٹ میں فرق ہے انہوں نے کہاکہ 5تاریخی عمارتوں کے لیے 60کروڑ کافنڈ مختص کیاگیاہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ عمارتوںکے لیے 60کروڑ کافنڈ کچھ بھی نہیں ۔ اس موقع پر عدالت نے رخواست گزار کامل خان کی رپورٹ پر نیسپاک کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور کہاکہ فریقین کے وکلا اپنے مزید دلائل تحریری طور پر جمع کرائیں۔اس موقع پر وکیل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی مخدوم علی خان نے بتایا کہ منصوبے کے حوالے سے عدالت کے پاس 9رپورٹس پیش کی جاچکی ہیں اور رپورٹ کے نتائج پر کوئی اعتراضات نہیں کیے گئے انہوں نے کہاکہ رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین پر تعصب کاالزام لگایاگیا و جس پر جسٹس عجاز افضل خان نے کہا کہ نیسپاک کامنصوبے سے مفاد وابستہ ہے اس لئے کیانیسپاک کی رپورٹ کوغیرجانبدارکہاجاسکتاہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ تعمیرات کے حوالے سے نیسپاک نے متعدد سائٹس کاجائزہ نہیں لیا اورجن سائٹس ہر تعمیرات کاجایزہ نہیں لیاگیاکیاوہاں عمارتوں کونقصان نہیں ہوگا مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ تاریخی عمارتوں کے سامنے تعمیرات کے کام کی مانیٹرنگ ہوگی،ٹرین کے چلنے کے بعد بھی اس کے آپریشن کو مانیٹر کیاجائے گا۔عدالت نے اورنج لائین ٹرین منصوبہ کے حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلہ کیخلاف دائرکی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی کامل خان رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ حکومت ایک ہفتے میں کم از کم دو ماہرین کی رائے پر مشتمل جواب جمع کروائے۔ واضح رہے کہ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے مسلسل دو ہفتے سماعت کی اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

ڈان لیکس معاملہ, چودھری نثار کا اہم بیان آگیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ جس وقت ڈان لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی گئی اس وقت میجر جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر نہیں تھے اور نہ ان کا اس رپورٹ سے کوئی تعلق ہے۔ میں اپنے اس بیان پر قائم ہوں کہ ڈان لیکس کی سفارشات مرتب ہونے میں تاخیر کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر در عمل دیتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے قیام کے وقت جسٹس عامر رضا خان نے اس کی سر براہی اس شرط پر قبول کی کہ وہ صرف اس وقت کمیٹی کی رپورٹ پر دستخط کریں گے جس پر سب کا اتفاق رائے ہو جائےگا۔ اگر شروع میں ہی کمیٹی کی سفارشات پر سب اراکین کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کمیٹی کو اپنی حتمی رپورٹ مرتب کرنے میں پانچ مہینے سے زیادہ وقت کیوں لگتا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا نہ تو کمیٹی سے تعلق ہے اور نہ ہی وہ اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر تھے جب یہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں مختلف معاملات زیر بحث آئے۔ ڈان لیکس کی رپورٹ پر پوچھے گئے سوال پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اگر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اتفاق رائے کا کہا ہے تو ان سے پوچھا جائے، ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

آئندہ انتخابات میں نوازشریف کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔زرداری کا بڑا اعلان

اسلام آباد(آن لائن) سابق صدر آصف علی زردار ی نے کہا ہے کہ اگلے انتخابات میں نواز شریف کی گنجائش نہیں رینجرز اختیارات کا معاملہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر طے ہو گا۔ اقتصادی راہداری اور گوادر ہمارے منصوبے ہیں۔ میں وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ وزیراعظم کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ پانامہ کا فیصلہ نواز شریف کے خلاف نہیں آئے گا۔ ایان علی ، عزیر بلوچ کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں سنجیدگی نہیں ان کے ہاتھ میں ملک کا مستقبل نہیں سیاسی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں چلتی رہتی ہیں۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں (ن) لیگ پری پول دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔ میاں صاحب اگلے انتخابات میں کوئی گنجائش نہیں ۔ سندھ میں 18گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہے حکومت سندھ سے گیس لے کر اپنوں کو دینا چاہتی ہے۔ پنجاب میں گیس کی کمی کو پورا ہونا چاہیئے سندھ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے۔ سندھ کو بھی ملنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ شخصیات کا فرق ہوتا ہے۔ راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ کی شخصیات میں بھی فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اومنی گروپ کو صرف گنا سپلائی کرتا ہوں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ڈھونڈ رہا ہوں میرے دوستوں کو کس نے اٹھایا ہے۔ میرا خیال میں وفاقی ایجنسیوں نے اٹھایا ہے۔ عدالت کے ساتھ میں بھی ڈھونڈ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے لئے کچھ لو اور کچھ دو کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوا لغاری کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ۔ عزیر بلوچ کے خلاف وارنٹ پیپلز پارٹی کے دور میں نکلے تھے۔ اس کے خلاف 5آپریشنز کئے گئے۔ اگر عزیر بلوچ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہوتا تو ان کے وارنٹ نہ نکلتے انہوں نے کہا کہ بلاول اور میں پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں ہمیں لوگ بلا رہے ہیں۔ انتخابات بتائیں گے کس نے کیا کیا ہے۔ اگلے انتخابات میں اچھے نتائج نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایان علی کیس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ عرفان اللہ مروت کو دوبارہ پیپلز پارٹی میں لانا چاہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے اور گوادر منصوبے پر میں نے دستخط کئے ۔ یہ منصوبے ہمارے دور میں شروع ہوئے۔ ا نہوں نے کہا کہ 2018ءکے انتخابات جیتے تو وزیراعظم کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ میں تو وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ نواز شریف کو عدالت کے ذریعے ہٹانے کے حق میں نہیں تاہم پانامہ کا فیصلہ نوازش ریف کے خلاف نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں سنجیدہ لوگ نہیں ۔ اگر ملک کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں نہیں ہو سکتا دیگر پارٹیاں بھی ہیں وہ آئیں گی۔ ا نہوں نے کہا کہ خورشید شاہ پر ڈاکٹر عاصم پر بل گیٹس سے بھی زیادہ الزامات لگائے گئے مگر کوئی ثبوت نہیں ہے۔ نیب کے کیس سے متعلق علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی نے دہشتگردی کے خلاف بڑی قربانی دی ہے۔ ان کے کئی جوان اور کارکن شہید ہوئے ۔ انٹرنیٹ بڑی دنیا ہے اس کے ذریعے بچوں کو ورغلایا جاتا ہے۔ ہمیں اس پر سوچنا چاہیئے پاکستان اور طالبان کے درمیان ہماری فوج کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کی سزائے موت کا فیصلہ درست ہے۔ افغانستان کے ساتھ دوستی کرنی چاہیئے وہاں غیر ریاستی عناصر ہیں جو کسی نہ کسی کے خلاف استعمال ہوتی ہیں۔#/s#۔( علی)

عمران خان کا ”آرمی چیف“ بارے اہم بیان….

اسلام آباد، (مانیٹرنگ ڈیسک،ایجنسیاں) مشال قتل کی تہہ تک جائیں گے، مجرمان کو سخت سزا دلوا کر رہیں گے، مسلم لیگ والوں کو ایمپائر کو ملا کر کھیلنے کی عادت ہے، مریم نواز ایسے پھرتی ہیں جیسے آئندہ کی وزیراعظم ہوں، آرمی چیف سے ملاقات کی درخواست میں نے کی تھی، اس ملاقات میں افغان بارڈر اور فاٹا کے معاملات پر بات چیت ہوئی ہے، میں نے آرمی چیف سے کہا اب آر او الیکشن نہیں ہونے دینگے، نواز شریف بھارت سے دوستی اور فوج مخالفت کررہی ہے، یہی ڈان لیکس میں ہے، پانامہ کا فیصلہ اللہ پر چھوڑدیا ہے، چاہتے ہیں جج فیصلہ دے دیں، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اے پی این ایس واقعہ پر پوری قوم اکٹھی ہوگئی تھی، اسی طرح مشال کے قتل کے بعد لوگوں میں یہ بات اجاگر ہوگئی ہے کہ اسے توہین آمیز واقعات پر ایسا عمل نہیں ہونے دینگے، توہین رسالت کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا، کسی پر الزام ہو تو اسے انٹیروگیٹ کیا جانا چاہئے، مشال کے واقعے پر تہہ تک جائیں گے، مجرمان کو سخت سزائیں دلوا کر رہیںگے، اس معاملے میں پولیس شفافیت کے ساتھ ہر پہلو کو دیکھے گئی، میں کل مقتول کے گھر جاو¿ں گا اور انہیں تفصیل سے آگاہ کروں گا، یونیورسٹی میںوائس چانسلر کیلئے بہت نئے اقدامات کے تحت5 چن لیتے ہیں جنہیں مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھایا جائےگا، مسلم لیگ وا لوں کو ایمپائر ملا کر کھیلنے کی عادت ہے، آصف زرداری کو اب آر او الیکشن یاد آرہا ہے، مریم نواز ایسے پھر رہی ہے جیسے آئندہ کی وزیراعظم ہے، وہ کہہ رہے ہیں طوفان چلا گیا ہے، صرف آرمی چیف اور چیف جسٹس ہی بولے ہیں، کونسا طوفان تھا جو اب چلا گیا ہے، میں نے چیف آرمی سے ملنے کی درخواست کی، ملاقات میں افغان بارڈر اور آئی ڈی پیز کے حوالے سے بات کی، فاٹا معاملات زیر گفتگو آئے، ایک گھنٹہ ملاقات میں کے پی کے کے معاملات پر بات چیت ہوئی، میں اس سے پہلے کبھی آرمی چیف سے نہیں ملا تھا، آرمی چیف نے کہا میں جمہوریت کے ساتھ ہوں، میں نے انہیں کہا کہ2013 ءکی طرح آر او الیکشن نہیں ہونے دینگے، انہوںنے کہاہم موو کریں گے۔ ہم نے کہا ہمیں ایک فوجی اندر اور ایک باہر فوجی چاہئے،یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ نے نیو ٹرل رہنے کا فیصلہ کیا، سعودی عرب سے ضرور تعلقات ہیں لیکن ایران بھی ہمارا ہمسایہ ہے، شیعہ اور سنی کو آپس میں لڑوایا جارہا ہے، ہمیں جنگ ختم کرنے کاحصہ بننا چاہئے، ہم جانتے ہیں ان کے پیچھے کون ہے، قمر جاوید باجوہ چاہتے ہیں راحیل شریف ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔ مودی پاکستان کے ساتھ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، ہمارے یہاں کوئی لیڈر ہی نہیں ہے کوئی لیڈر ہوتو انٹر نیشنل لیول پر بھارت کے رویئے کو اجاگر کرے اور دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھائے، بھارت پاکستان کو تنہا کرنے میں کامیاب ہورہا ہے، نواز شریف بھارت سے دوستی چاہتا ہے آرمی بھارت کے خلاف ہے، یہی ڈان لیکس میں ہے، امریکہ اور ٹرمپ نے انسانیت سے دشمنی کرکے افغانستان میں بم گرایا، اسی سے انتہا پسندی ختم نہیں ہوگی بلکہ بڑھے گی، دنیا میں امریکہ کی وجہ سے دہشتگردی بڑھ رہی ہے، بم کے نتیجے میں مرنے والوں کے لواحقین داعش اور طالبان کو اختیار کریں گے۔ حکمرانوں کی کرپشن پر کتاب لکھی ہوئی ہے، یہ کمیشن اکٹھی کرکے منی لانڈرنگ کرنا چاہتے ہیں، کے پی کے میں مثالی کام کردیئے ہیں، ادارے مضبوط ترین ہوچکے ہیں، اسلام آباد میں مجھے اور بچوں کو گن دکھا کر لوٹا گیا، دس دنوں میں دس کو لوٹا گیا صرف میں نے رپورٹ درج کروائی، لوگ پولیس سے خوفزدہ ہیں، پنجاب حکومت نے پولیس بدلنے کی بجائے انکی وردی بدل دی اور ڈیڑھ ارب روپیہ خرچ کردیا، پی ایس ایل کے کلب میچ کیلئے32 ارب روپے کے اشتہار لگوادیئے۔ پانامہ کے کیس کے بعد انکی حکومت پنجاب میں بچے گی نہیںیہ کے پی کے میں کیا حکومت بنائیں گے، اگر یہ پانامہ سے بچیں گے تو گوادر کے ٹھیکے پر انہیں پکڑوائیں گے، جو قطری دوست کو دے دیا، پشاور کی میٹرو ان کی میٹرو سے بالکل مختلف ہوگی، بہت سستی اور بغیر سبسڈی کے چلے گی، نواز شریف زرداری کے ساتھ نورا کشتی کرتے رہتے ہیں، دونوں کے مفاد ایک ہیں، دونوں کے پیسے باہر پڑے ہیں، دونوں منی لانڈر ہیں، جو لوگ قرضے دیتے ہیں وہ استعمال کرتے ہیں، پی پی پی، ن لیگ کے مقاصد مشترکہ ہیں ڈاکٹر عاصم، ایان علی، شرجیل پر انکی ڈیل ہوچکی۔ چیف جسٹس کو نیب اور احتساب کمشنر کو چننا چاہئے، دو پارٹیاں ملکر کیسے آزاد کمشنر چن سکتے ہیں، جتنی کوشش کرسکتا تھا کرلی، پانامہ کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، چاہتے ہیں کہ جج جلد فیصلہ کردیں۔

عوام کو ریلیف کی فراہمی, وزیراعلیٰ کے اہم احکامات جاری

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہا ہے کہ آئندہ رمضان المبارک مےں عوام کی سہولت کےلئے گزشتہ برسوں سے بڑھ کر انتظامات کےے جائےں اور اشےاءصرف کی قےمتوں مےں استحکام کےلئے کوئی بھی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔معےاری اشےاءصرف کی مقررہ قےمتوں پر فراہمی کو ےقےنی بناےا جائے اور اگر کہیں بھی اس ضمن مےں کوئی شکاےت ملی تو متعلقہ انتظامےہ کو جوابدہ ٹھہراےا جائے گا۔ رمضان المبارک مےں عوام کو رےلےف کی فراہمی کےلئے کےے گئے اقدامات کی مےں خود نگرانی کروںگا۔وہ آج ےہاں رمضان المبارک مےں رمضان پےکےج ،رمضان بازار،فےئر پرائس شاپس اور سحری اورافطاری دسترخوانوں کے حوالے سے انتظامات کاجائزہ لےنے کےلئے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے ،جس مےں رمضان المبارک کے دوران عوام کو رےلےف کی فراہمی کےلئے مجوزہ اقدامات پر تفصےلی جائزہ لےا گےا۔وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب امسال بھی رمضان المبارک مےں عوام کو رےلےف کی فراہمی کےلئے جامع پروگرام ترتےب دے رہی ہے جس کے تحت صوبہ بھر مےں 300سے زائد رمضان بازار لگائے جائےں گے جبکہ 27ماڈل بازار بھی رمضان بازاروں کے طورپر کام کرےںگے۔انہوںنے کہاکہ عوام کو معےاری اشےاءخوردونوش کی مناسب نرخوں پر فراہمی ےقےنی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے اوراس حوالے سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔انہوںنے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی اور ذخیرہ اندوزی کی شکایات پر متعلقہ کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز ذمہ دار ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب بھر میں رواں برس 3 سو سے زائد رمضان بازار لگائے جائیں گے جبکہ 27 ماڈل بازار بھی رمضان بازار کے طور پر کام کریں گے۔رمضان المبارک کے دوران روزہ داروں کی سہولت کیلئے سحری و افطاری کیلئے دسترخوان لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں کسی بھی پھل، سبزی یا دال کی قلت پیدا نہیں ہونی چاہیئے ۔اس ضمن میں متعلقہ محکمے پیشگی اقدامات کرکے جامع میکانزم بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان بازاروں میں محکمہ زراعت کی فیئرپرائس شاپس بھی لگائی جائیں گی اور ان فیئرپرائس شاپس پر اشیاءمارکیٹ کی نسبت سستے داموں دستیاب ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کا محور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اس لئے عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ معیار پر خصوصی توجہ دی جائے۔اشیائے ضروریہ کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے ہدایت کی کہ رمضان بازاروں میں اشیاءکی قیمتوں کو ڈیجیٹل بورڈ کے ذریعے ڈسپلے کیا جائے اور رمضان بازاروں میں آنےوالے شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے ضلع کی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ لاہور کی پرائس کنٹرول کمیٹی کی صدارت لارڈ میئر اور کمشنر لاہور ڈویژن مشترکہ طور پر کریں گے جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں میئر یا چیئرمین ضلع کونسل ڈپٹی کمشنر کےساتھ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ صوبائی وزراءبلال یاسین، شیخ علاﺅالدین، عائشہ غوث پاشا، نعیم اختر بھابھہ، رکن قومی اسمبلی ملک افضل کھوکھر، رکن پنجاب اسمبلی توفیق بٹ، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، قائم مقام انسپکٹر جنرل پولیس، کمشنر لاہور ڈویژن، لارڈ میئر لاہور، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر آصف سعید منیس، ایم پی اے وحید گل، سیکرٹری زراعت اور سیکرٹری خزانہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زےر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،جس مےںرحےم ےار خان مےں خواجہ فرےد ےونےورسٹی آف انجےنئرنگ اےنڈ انفارمےشن ٹےکنالوجی کے منصوبے پر پےش رفت کا جائزہ لےاگےا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ رحےم ےار خان مےں پاکستان کی بہترےن انجےنئرنگ اور انفارمےشن ٹےکنالوجی کی ےونےورسٹی بنائی جارہی ہے ۔خواجہ فرےد ےونےورسٹی آف انجےنئرنگ اےنڈ انفارمےشن ٹےکنالوجی کاقےام جنوبی پنجاب کے عوام کےلئے حکومت کا اےک اورشاندار تحفہ ہوگا۔انہوںنے کہا کہجنوبی پنجاب مےں جدےد علوم کے فروغ مےں ےہ ےونےورسٹی اہم کردارادا کرے گی اورےہ ےونےورسٹی جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کواعلی معےار کی انجےنئرنگ اور جدےد تعلےم سے آراستہ کرے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ےہ منصوبہ دےگر ترقےاتی منصوبوں کی طرح شفافےت اور معےار کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہوگا۔رحےم ےار خان مےں ےونےورسٹی کا قےام انتہائی اہمےت کا حامل منصوبہ ہے اور منصوبے پر دن رات کام کرکے اسے مقررہ مدت مےں پاےہ تکمےل تک پہنچانے مےں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے ۔انہوںنے کہاکہ ےونےورسٹی کے قےام مےں اربوں روپے کی سرماےہ کاری کے ثمرات جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو ملےں گے۔ےونےورسٹی کی ہر فکلےٹی مےں پی اےچ ڈی کی سہولت ہونی چاہےے۔انہوںنے کہا کہ ہےومن رےسورس ،انفراسٹرکچر ،نصابی و ہم نصابی سرگرمےوں اورہر لحاظ سے ےہ ےونےورسٹی اپنی مثال آپ ہونی چاہےے۔ےونےورسٹی مےں 6ہزار طلبا و طالبات انجےنئرنگ اور جدےد علوم کی تعلےم حاصل کرےں گے۔ وزےراعلیٰ نے ہداےت کی کہ ٹےچنگ سٹاف کےلئے اعلی معےار کی رہائشگاہےں تعمےر کی جائےںاور ےونےورسٹی مےں لےنڈسکےپنگ اور ہارٹیکلچر بھی سٹےٹ آف دی آرٹ ہونی چاہےے۔ہمےں اس ےونےورسٹی کو ہر لحاظ سے پاکستان کی بہترےن ےونےورسٹی بناناہے ۔ ےونےورسٹی کے اموردےکھنے کےلئے کمےٹی اسی ہفتے رحےم ےار خان جائے گی جبکہ مےںخود بھی ےونےورسٹی کاجلد دورہ کروں گا۔ےونےورسٹی مےں تعلےمی و تحقےقی پروگراموں کے بارے مےں وزےراعلیٰ کو برےفنگ دی گئی۔صوبائی وزےر ہائر اےجوکےشن سےد رضا علی گےلانی،چےئرمےن ہائر اےجوکےشن کمےشن پنجاب ڈاکٹر نظام الدےن، رجسٹرار انفارمےشن ٹےکنالوجی ےونےورسٹی اورمتعلقہ حکام نے اجلاس مےں شرکت کی جبکہ سٹےرنگ کمےٹی کے چےئرمےن مخدوم خسرو بختےار،کمےٹی کے اراکےن، اراکےن قومی و صوبائی اسمبلی،سےکرٹری ہائر اےجوکےشن، سےکرٹری خزانہ ،کمشنر بہاولپورڈوےژن، وائس چانسلر ےونےورسٹی آف انجےنئرنگ اےنڈ ٹےکنالوجی لاہوراوردےگر متعلقہ حکام نے رحےم ےار خان سے وےڈےولنک کے ذرےعے اجلاس مےں شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت آج یہاں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں عوام کو صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا-اجلاس میںوزیر اعلی نے کاہنہ میں زیر تعمیر ہسپتال کو 100 بستروں تک بڑھانے کی منظوری دی- وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ کیئر کے نظام میں بہتری کے لئے درست سمت میں تیزی سے اقدامات کئے جا رہے ہیں اورہیلتھ کیئر کے نظام کو خوب سے خوب تر بنانے کے لئے انڈس ہسپتال کی معاونت خوش آئند ہے -انہوںنے کہا کہ لاہور کے گرد و نواح میں صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری کے لئے ہسپتال بنائے جا رہے ہیں – بیدیاں روڈ پر ہسپتال کو انڈس انتظامیہ چلا رہی ہے اوریہ ہسپتال علاقے کے لوگوں کو بہترین علاج معالجہ فراہم کر رہا ہے -اسی طرح حکومت مناواں میں بھی ایک سو بستروں پر مشتمل ہسپتال بنا رہی ہے اورسبزرہ زار میں بھی 60 بستروں پر مشتمل ہسپتال تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے -اس ہسپتال کو بھی مرحلہ وار پروگرام کے تحت 100 بستروں تک بڑھایا جائے گا-انہوںنے کہا کہ لاہور کے گرد ونواح میں قائم ان ہسپتالوں کے فنکشنل ہونے سے وہاں کے رہائشیوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولتیں میسر آئیں گی-انہوںنے کہا کہ بیدیاں میں ہسپتال کو 200 بستروں تک بڑھایا جائے گا-وزیر اعلی نے ہدایت کی کہ سکول آف نرسنگ کے منصوبے کے قیام کا جائزہ لیا جائے- صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر، انڈس ہسپتال کے روح رواں ڈاکٹر عبدالباری ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات ، کمشنر لاہور ڈویژن اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی- وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے ریفرنڈم میں شاندار کامیابی پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام کو مبارکباد دی ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے نام اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ ترکی کے عوام نے ریفرنڈم میں اپنے ہردلعزیز رہنما کی حمایت میں ووٹ دے کر رجب طیب اردوان کی بے لوث خدمت کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جس طرح اپنے عوام کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کی خدمت کی ہے، یہ ریفرنڈم اس خدمت کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے ووٹ کی طاقت سے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ محنت، خدمت اور دیانت کی سیاست کا کوئی نعم البدل نہیں۔میں پنجاب اور پاکستان کے عوام کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔