All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

ماڈل ٹاؤن کیس میں شریف برادران کو ہر صورت پھانسی ہو گی، طاہرالقادری

 لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ منظر عام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں آخری حد تک جائیں گے اور شریف برادران کو پھانسی ہو گی۔لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آج مال روڈ پر بیٹھ کر ثابت کر دیا کہ 17 جون کے شہدا تنہا نہیں، ان لے لواحقین کو نا تو خریدا نہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت انہیں ڈرا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس میں چور تو پکڑا گیا مگر 14 بے گناہ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا قاتل ابھی باقی ہے جس کا نام شہباز شریف ہے اور نوازشریف کے پیچھے اصل قوت شہبازشریف کا پنجاب میں اقتدارہے۔طاہر القادری کا کہنا تھا کہ نوازشریف کہتے ہیں 70 سال سے تماشا لگا ہوا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ نوازشریف صاحب 35 سال سے تو آپ نے تماشا لگا رکھا ہے، 30 سال سے اقتدار کر کے اپنے صرف خاندان کو خوشحالی دی، آپ کہتے ہیں میں ووٹ کا تقدس بحال کرانا چاہتا ہوں مگر پہلے یہ بتائیں پامال کس نے کیا، آپ نے ہی چھانگا مانگا سیاست پاکستان میں متعارف کروائی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے 80 کی دہائی میں ایم پی ایز اور ایم این ایز کی بولیاں لگائیں، صدر سے مل کر بے نظیرکی حکومت ختم کروائی، ابھی نواز شریف پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا اور بعد میں شہباز شریف پوچھیں گے کہ مجھے کیوں نکالا، دنیا کی کوئی طاقت انہیں پھانسی کے پھندے سے نہیں بچا سکتی۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ انقلاب کا نعرہ لگانے پر نوازشریف کو شرم آنی چاہیے، 17  جون کو لاشیں گرانے والے کس منہ سے انقلاب کی بات کرتے ہیں، آپ وزیراعظم بن کر اسلام آباد چلے گئے اور کرپشن کے لیے بھائی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا گئے اور اب آئین سے امانت دیانت کی ساری شقیں ختم کرنا چاہتے ہیں جب کہ آپ کا انقلاب نواز شہباز بچاؤ انقلاب ہے مگر نواز شریف ابھی تو انصاف کی پہلی کھڑکی کھلی ہے، دروازہ اور راستہ ابھی کھلنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ اشرافیہ نے ملک کو لوٹ لیا ہے، مگر میں کہتا ہوں کہ شہبازشریف صاحب، اشرافیہ تو آپ کا خاندان ہے جس نے ملک کو لوٹا ہے۔طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے خود کہا تھا کہ باقرنجفی کمیشن رپورٹ میں وزیراعلیٰ  پنجاب کو ذمہ دار قرار دیا گیا تو میں حکومت چھوڑ دوں گا، اگر وہ ذمہ دار نہیں تو رپورٹ کو منظر عام پر کیوں نہیں لاتے۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد فیصل آباد میں احتجاجی دھرنے ہوں گے جس کے بعد ملتان اور راولپنڈی میں بھی ریلیاں نکالیں گے۔

مکی آرتھر نے مجھے گالیاں دیں، عمر اکمل کا الزام

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے انہیں گالیاں دیں اور وہ کسی کی گالیاں نہیں سن سکتے۔لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمر اکمل نے الزام لگایا کہ مکی آرتھر نے انہیں کہا کہ اکیڈمی نہ آؤ، جاؤ کلب کرکٹ کھیلو، وہ دوسرے کھلاڑیوں کو بھی برا بھلا کہتے ہیں، میں خود کو اچھا کرنا چاہتا ہوں لیکن رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔عمر اکمل کا کہنا تھا کہ انہیں بلا جواز وارننگ دے کر کیمپ سے ڈراپ کیا گیا، انہوں نے کبھی رولز کی خلاف ورزی نہیں کی، ہیڈ کوچ کو گالیاں دینے سے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے بھی نہیں روکا، کوچنگ اسٹاف کے رویے کی طرف کرکٹ بورڈ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مکی آرتھر اور کوچنگ اسٹاف نے انہیں ٹارگٹ بنا رکھا ہے، اکیڈمی کا مقصد غلطیوں اور خامیوں پر قابو پانا ہوتا ہے، نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مجھے ٹریننگ سے روکنا سمجھ سے بالاتر ہے، مکی آرتھر نے کہا کہ مجھے اکیڈمی میں کس نے آنے دیا۔وکٹ کیپر بیٹسمین عمر اکمل کا کہنا تھا کہ مکی آرتھر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو گالیاں دیں، کسی سینیئر کھلاڑی نے مکی آرتھر کو نہیں روکا کہ وہ پاکستانی پلیئرز کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی انجری کی وجہ سے انگلینڈ گئے تھے کہیں غائب نہیں ہوئے تھے اور اس حوالے سے انہوں نے مشتاق احمد اور ڈاکٹر سہیل کو بتادیا تھا۔عمر اکمل نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے عملے کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ پی سی بی اکیڈمی اسٹاف نے ان کے ساتھ کام کرنے انکار کیا، عملے نے کہا کہ وہ صرف سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل کھلاڑیوں کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیمپیئنز ٹرافی میں انہیں غلط وارننگ دے کر فٹنس ٹیسٹ سے روکا گیا، 2009 سے اب تک انہیں کبھی جرمانہ نہیں ہوا اور نہ ہی انہوں نے کبھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی۔

ن لیگ کے پارٹی صدر کا نام سامنے آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن)کی اعلیٰ قیادت نے شہبازشریف کوپارٹی کے صدر کیلئے امیدوارنامزد کردیا ہے، ن لیگ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں شہبازشریف کو صدرمنتخب کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد محمد نوازشریف کی ہدایت پر پارٹی کی جنرل کونسل کااجلاس کل طلب کرلیا گیا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت صدر، قائم مقام صدر اور اور سیکرٹری جنرل کومنتخب کرنے کیلئے انتخابات کروائے جائیں گے۔ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے وزیراعلیٰ پناب شہبازشریف کوپارٹی کی صدارت جبکہ سینیٹریعقوب خان ناصرکوقائم مقام صدرکیلئے امیدوارنامزدکردیاہے۔تاہم نوازشریف کی ہدایت پرمسلم لیگ ن کی جنرل کونسل کااجلاس بھی کل طلب کرنے کافیصلہ کرلیاگیا۔

سرفراز احمد نے ورلڈکپ 2019 کو ہدف قرار دے دیا

 لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ورلڈکپ 2019 کو ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کی فتح تاریخ کا حصہ بن چکی اب مسلسل بہتری کی جانب سفر جاری رکھنا ہوگا جب کہ نوجوان کرکٹرز کارکردگی میں نکھارلاتے رہے تو ٹیم ایک مضبوط یونٹ میں ڈھل جائے گی۔ایک انٹرویو میں سرفراز احمد نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی ایک بہت بڑی کامیابی تھی، شاندار فتح پر دنیا بھر کے شائقین نے بھرپور پذیرائی بھی کی، بطور کپتان میرا اور ٹیم کا اعتماد کئی گنا بڑھ گیا، پرستاروں کا مورال بلند ہوا، قوم کو اس فتح کی سخت ضرورت تھی لیکن اب وہ تاریخ کا حصہ بن چکی، ہمیں آگے بڑھنا اور آئندہ چیلنجز کیلیے خود کو تیار کرنا ہے، کسی سہل پسندی کی گنجائش نہیں، مسلسل محنت اور بہتری کی جانب سفر جاری رکھنا ہوگا۔کپتان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو کئی باصلاحیت نوجوان کرکٹرز میسر آگئے ہیں، اگر انہوں نے اپنی کارکردگی میں نکھار لانے کا سلسلہ جاری رکھا تو ٹیم ایک مضبوط یونٹ میں ڈھل جائے گی، ورلڈکپ 2019 اپنے نام کرنے کیلیے ہمیں ہر شعبے میں اپنی خامیوں پر نظر رکھتے ہوئے ان کو دور کرنے کیلیے کام کرنا ہوگا۔ایک سوال پر سرفراز احمد نے کہا کہ عمراکمل ایک باصلاحیت کرکٹر اور ٹیم کا اثاثہ ہیں لیکن بطور پروفیشنل کھلاڑی اپنی ذمہ داریوں کا ہم سب کو احساس ہونا چاہیے، امید ہے کہ وہ سخت محنت کرتے ہوئے ایک بار پھر ٹیم میں جگہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت وکٹ کیپر، بیٹسمین اور کپتان کے طور پر توقعات پر پورا اترنا آسان کام نہیں لیکن جونیئر سطح سے ہی تینوں شعبوں کا بوجھ اٹھاتا آیا ہوں، یہی تجربہ تینوں فارمیٹ میں ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے کام آئے گا۔

مشکل وقت میں آصف زرداری نے بھی لال جھنڈی دکھادی ،اہم بیان آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے کوئی رابطہ ہے نہ رکھنا چاہتا ہوں جب کہ نواز شریف کی ترجیحات مشکلات میں اور جب کہ اقتدار میں الگ ہوتی ہیں۔مطابق لاہور میں پیپلز پارٹی کی سینئیر قیادت سے مشاورت کے دوران آصف زرداری کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے کوئی رابطہ ہے نہ رکھنا چاہتا ہوں، ہم گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بنیں گے، جب نواز شریف سے کوئی رابطہ ہی نہیں رکنا چاہتے تو ڈائیلاگ کیسا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی ترجیحات مصیبت میں الگ اور اقتدار میں الگ ہوتی ہیں، نواز شریف کو اقتدار میں آرٹیکل 62، 63، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ اور نیا عمرانی معاہدہ کیوں یاد نہیں آ±ٓتا۔آصف زرداری نے کہا کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں اس بار نواز شریف کی سیاست خطرے میں ہے، چنیوٹ کا کامیاب جلسہ سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، بلاول میدان میں اتر چکا اور بلاول پنجاب میں پارٹی کی عوامی مقبولیت میں اصافہ کرے گا۔

پارٹی فنڈنگ کیس،پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن نے پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت روکنے سے متعلق تحریک انصاف کی درخواست مسترد کردی۔الیکشن کمیشن نے پارٹی فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی کی سماعت روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے 7 ستمبر تک پارٹی فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں ہیں۔ الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں 5 رکنی بینچ نے تحریک انصاف کے خلاف غیرملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل انور منصور الیکشن کمیشن کے پیش ہوئے جہاں انہوں نے نیا جواب جمع کرادیا۔وکیل پی ٹی آئی انور منصور کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں پارٹی فنڈنگ کیس میں تفصیلات دے چکے ہیں اور الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ میں جاری کیس میں فریق ہے جس پررکن الیکشن کمیشن ارشاد قیصر نے کہا کہ آپ کو یہاں پر ہمیں پارٹی فنڈنگ کی تفصیلات پیش کرنی چاہیں، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ زیرسماعت ہونے کے باعث الیکشن کمیشن کارروائی روک دے، یہی معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے جب کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں فریق ہے جہاں ہم جواب دے چکے ہیں، سپریم کورٹ نے پارٹی فنڈنگ کیس کی پوری تاریخ نہیں پوچھی تھی جب کہ الیکشن کمیشن نے پورا قصہ سپریم کورٹ میں بیان کردیا۔وکیل پی ٹی آئی نے دلائل میں کہا کہ شاید الیکشن کمیشن کے کسی رکن کے ذہن میں تعصب ہو سکتا ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہمارے ذہن میں ایسا کچھ نہیں جیسا آپ کو لگ رہا ہے، ہم نے تو اپنا ریکارڈ سپریم کورٹ کو بھیجا ہے، رکن الیکشن کمیشن ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ کیس کی تفصیلات فراہم کرنے سے تعصب کا عنصر کیسے آگیا، وکیل انور منصور نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمے میں الیکشن کمیشن فریق بن چکا ہے لہذا اب فریق ہوتے ہوئے آپ کو کارروائی آگے نہیں بڑھانی چاہیے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں کیس کی تاریخ کب مقرر ہے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ سپریم کورٹ عید کے بعد کیس کی سماعت کرے گی۔چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ بہتر ہوتا آپ سپریم کورٹ میں استدعا کردیتے کہ الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکا جائے جس پر وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں تو میں سپریم کورٹ میں درخواست دے دوں گا، چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ کیا آپ میرے کہنے پر درخواست دائر کریں گے۔وکیل درخواست گزار نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت حنیف عباسی اور ہمارے کیس کی نوعیت مختلف ہے، پی ٹی آئی نت نئے طریقے سے پارٹی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم نہیں کررہی، اگر پی ٹی آئی تفصیلات فراہم کردے تو معلوم ہوجائے گا ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ لی کہ نہیں۔ وکیل اکبر ایس بابر نے اپنے دلائل میں کہا کہ پی ٹی آئی نئے طریقوں سے معاملہ لٹکاناچاہتی ہے، الیکشن کمیشن نے فنڈر کی تفصیلات 21 بار مانگی ہیں جب کہ 4 بار پی ٹی آئی کے وکلاءتحریری طور پر لکھ کر دے گئے۔