All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

وزیراعظم کیلئے ”ٹرمپ“ کا خصوصی پیغام, دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) امریکی مشیر قومی سلامتی جنرل میک ماسٹر نے نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط تر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ امریکی مشیر میک ماسٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان سمیت ساو¿تھ ایشیا ریجن میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے امریکی قومی سلامتی مشیر میک ماسٹر سے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری، افغانستان میں امن اور خطے کی ترقی کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر کی پاکستان اور بھارت میں ثالثی سے خطے میں پائیدار امن و خوشحالی آئے گی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے امریکا کے ساتھ پائیدار اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے پائیدار مذاکرات اور بامعنی رابطے ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان اوربھارت کی تنازعات خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے حل میں مدد کرنے کیلئے صدر ٹرمپ کی آمادگی کا خیر مقدم کیا۔ اس سے قبل جنرل میک ماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی سکیورٹی اور افغانستان میں قیام امن کے معاملات زیر غور آئے۔ اس سے قبل امریکی مشیر برائے قومی سلامتی میک ماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق وزرات خارجہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق مشیر خارجہ نے میک ماسٹر کو پاک، بھارت تعلقات، کشمیر میں بھارتی مظالم، پاکستان میں بھارتی مداخلت اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور پاکستان دشمن سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کے سینیئرمسلم لیگی رہنماﺅںکا اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ باہمی مشاورت سے انجینئر امیر مقام کو مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کا صدراور مرتضیٰ جاوید عباسی کو جنرل سیکرٹری مقرر کردیا گیا ۔ اجلاس میں تمام رہنماﺅں اور وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے سابق صدر پیر صابر شاہ اور جنرل سیکرٹری رحمت سلام خٹک کی خدمات، پارٹی سے وابستگی کو سراہا اور اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے اِس موقع پر نئے عہد یداران کو مبارک باد دی اور اِس توقع کا اظہار کیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے زیادہ متحرک اور فعال کردار ادا کریں گے۔ خیبر پختونخواہمیشہ سے مسلم لیگ (ن) کا گڑھ رہا ہے اور انشااللہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھر پور اور مسلسل کوشش کی جائے گی ۔ عوام کی محرومیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ عوامی رابطہ مہم کو ہر سطح پر منظم طریقے سے چلایا جائے گا ۔ امیر مقام اور مرتضیٰ جاوید عباسی نے اعتماد کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور اُنہیں یقین دلایا کہ وہ مسلم لیگ( ن) کو خیبر پختونخوا میں مزید مقبول بنانے اور نواز شریف کا ترقی ، خوشحالی اور روشن پاکستان کا پیغام خیبر پختونخوا کے عوام تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ اجلاس کے آخر میںسابق جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا رحمت سلام خٹک کی والدہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے دُعا کی گئی ۔ اجلاس میں راجہ محمد ظفر الحق ، اقبال ظفر جھگڑا ، خواجہ سعد رفیق ، انجینئر امیر مقام ، مرتضیٰ جاوید عباسی ، سردار مہتاب احمد خان عباسی ، ڈاکٹر آصف کرمانی ، سرانجام خان ، سینیٹر نزہت صادق ، سینیٹر بیگم نجمہ حمید ، سینیٹر پرویز رشید، محترمہ مریم نواز شریف ، کیپٹن (ریٹائرڈ ) محمد صفدر ، پیر صابر شاہ ، جعفر اقبال ، بیگم عشرت اشرف ، صدیق الفاروق ، رحمت سلام خٹک ، میاں راشد علی شاہ اور شیر زمان ٹکرنے شرکت کی ۔

پی ٹی آئی کا ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) پاکستان تحرےک انصاف کا ملک مےں غےر اعلانیہ لوڈشےڈنگ اور گردشی قرضوں کے خلاف ملک گےر احتجاجی تحرےک چلانے کا اعلان کےا ہے اس بات کا فےصلہ پےر کو چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے اجلاس مےں کےا گےا اجلاس مےںکراچی، لاہور، اسلام آباد سے پارٹی قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میںملکی مجموعی صورتحال اور پانامہ کے ممکنہ فیصلے کے خدوخال پر تفصیلی تبادلہ خیال کے ساتھ وفاقی حکومت کی جانب سے بلند وبانگ دعوﺅں اور وعدوں کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ میں ناقابل برداشت اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ملک میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش اور گردشی قرضوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں قائدین نے کراچی کے امن کو سیاست کی نذر کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور رینجرز کے مستقبل کو سیاسی مک مکا کی بھینٹ چڑھانے کی کوششوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔اجلاس کے شرکاءنے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس کے مختلف پہلوﺅں پر بھی تفصیلی غورکیا۔ اور یہ طے کیا گیا کہ نواز شریف کی موجودگی میں پاکستان سے منی لاندرنگ کا خاتمہ ناممکن ہے۔وزیرا عظم اور ان کے سمدھی وزیرخزانہ خود منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں۔علاوہ ازیں تحریک انصاف نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کیلئے حکومت پر دباﺅ بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تحریک انصاف ملکی سلامتی سے متعلق اس اہم معاملے کو سرد خانے کی نذر نہیں ہونے دے گی۔اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔

ڈان لیکس کا فیصلہ, آئی ایس پی آر کا بڑا بیان سامنے آگیا

راولپنڈی (آئی این پی )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آپریشنز کے دوران گزشتہ 15سالوں کے دوران اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے اورکالعدم تنظیم کے جماعت الاحرار کے سرغنہ احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے، دہشتگرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں گے خاتمہ کیا جائے گا،22فروری کو شروع آپریشن ردالفساد کے تحت ،15بڑے آپریشنز 723جوائنٹ چیک پوسٹیں قائم ،ملک بھر میں 4510مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا،غیررجسٹرڈ 1859افغان باشندوں کوحراست میں لیا گیا، اب تک 4083ہتھیار قبضے میں لئے گئے ،6لاکھ22ہزار691مختلف اقسام کے ہتھیار پکڑے گئے،پنجاب میں دوبڑے آپریشن کے دوران سینکڑوں مشتبہ افراد حراست میں لیے گئے 558فراریوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا، فاٹا میں راجگال اور خیبرایجنسی کا کچھ علاقہ کلیئرہونا ابھی باقی ہے،مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے نئے فورٹ بنائے جارہے ہیں، فوجی عدالتیں اب تک 274مقدمات کا فیصلہ دے چکی ہیں،فوجی عدالتوں نے 161ملزموں کو سزائے موت دی،پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے،مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے،تمام پاکستانی اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں،ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرسکتا،آپریشن ردالفساد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،بھارت نے 2014سے لے کر اب تک سینکڑوں بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی،سرحد پار بیٹھی قیادت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات اب پہلے جیسے نہیں،آئی ایس آئی ایس کا ہدف نوجوان ہیں،نورین لغاری نے داعش میں شمولیت کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا، وہ لاہور سے بازیاب ہوئی ، شام نہیں گئی تھی،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ وہ پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی اداروں اور عوام کی مدد سے تمام آپریشن کامیاب ہوئے،سب نے مل کر آپریشن کو کامیابی کی طرف گامزن کیا ہے،ردالفساد ایک ارادہ ہے کہ فساد کو رد کرنا ہے،یہ عہد ہے جس میں ہم سب شال ہیں اس سے پہلے سارے آپریشن بڑے پیمانے پر تھے،ردالفساد کا مقصد دیگر آپریشنز کی کامیابیوں کو مستحکم بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارے اور سسٹم وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے ہیں،مدرسہ،جوڈیشل،ایجوکیشن ،پولیس اور فاٹا اصلاحات ردالفساد کا حصہ ہیں،دہشتگرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں گے خاتمہ کیا جائے گا،22فروری کو آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا،15بڑے آپریشن کیے گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 723جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کی گئی ہیں،ملک بھر میں 4510مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا،غیررجسٹرڈ 1859افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا،آپریشن ردالفساد کے دوران اب تک 4083ہتھیار قبضے میں لئے گئے ہیں،6لاکھ22ہزار691مختلف اقسام کے ہتھیار پکڑے گئے،پنجاب میں دوبڑے آپریشن کے دوران سینکڑوں مشتبہ افراد حراست میں لیے گئے۔انہوں نے کہا کہ 558فراریوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا،لاہور آپریشن کے دوران حیدرآباد سے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کرایا گیا،آرمی چیف نے ایم آئی کو لڑکی بازیاب کرانے کی خصوصی ہدایت کی،ڈی جی خان میں سیکیورٹی فورسز نے رینجرز کے ساتھ مل کر آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران 10دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا،ہلاک دہشتگردوں میں سے دو کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا،چمن کے علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا،چمن سے پکڑی گئی گاڑی میں سے 120کلو بارودی مواد نصب تھا،لورالائی میں آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔میجر جنر آصف غفور نے کہا کہ فاٹا میں راجگال اور خیبرایجنسی کا کچھ علاقہ کلیئرہونا ابھی باقی ہے،مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے نئے فورٹ بنائے جارہے ہیں،42فورٹ بنائے جاچکے ہیں جبکہ 63فورٹس پر کام جاری ہے،پاک افغان سرحد پر پہلے مرحلے میں 744کلومیٹر علاقے میں تاریں لگائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں حکومت اور فوج کے تعاون سے بہت سے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے،فاٹا سے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں 82کیڈٹس زیرتربیت ہیں،فاٹا کے 1100سے زائد بچے آرمی کے زیراہتمام سکولوں میں پڑھ رہے ہیں،سوات میں 23مارچ سے اے پی ایس سکول 700بچے زیرتعلیم ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارت کی جانب سے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا ہے،بھارت نے 2014سے لے کر اب تک سینکڑوں بار سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کی،پنجاب،سندھ اور بلوچستان میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے،مردم شماری کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں اب تک 274مقدمات کا فیصلہ دے چکی ہیں،فوجی عدالتوں نے 161ملزموں کو سزائے موت دی،آپریشن ردالفساد کسی ایک ادارے کا آپریشن نہیں ہے،تمام پاکستانی اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں،ریاست کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں کرسکتا،ابھی بہت سا کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار بیٹھی قیادت بھی جانتی ہے کہ پاکستان کے حالات اب پہلے جیسے نہیں،کسی بھی آپریشن کی کامیابی کا مقصد ریاستی رٹ کی بحالی ہوتا ہے،کالعدم تنظیم کے جماعت الاحرار کے احسان اللہ احسان نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں تمام اداروں میں تعاون میں بہتری آرہی ہے،مغربی سرحد پر باڑ اپنی سرحدی حدود کے اندر لگائی جارہی ہے،نوجوان طبقہ داعش کا ہدف ہے،والدین بچوں پر کڑی نظر رکھیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے،دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،انجام تک پہنچائیں گے،کوئی دہشتگرد اگر راہ راست پر آجائے تو اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں،پاکستان کے اندرون معاملات میں کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی نے قربانیاں نہیں دیں،دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس نے دہشتگردی کا پروفیشنل طریقے سے مقابلہ کیا ہو۔آئی ایس آئی ایس کا ہدف نوجوان ہے،نورین لغاری نے داعش میں شمولیت کا اعلان فیس بک کے ذریعے کیا،نورین لغاری لاہور سے بازیاب ہوئی وہ شام نہیں گئی تھی،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔نیوز کانفرنس کے دوران حیدرآباد کی نورین لغاری کا ویڈیوپیغام سنایا جس میں اس کا کہنا تھا میرے والد کا نام عبدالجبار ہے جو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں،میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں ایمم بی بی ایس سیکنڈائیر کی طالبہ ہوں میں واضح کرتی ہوں مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا،میں خود اپنی مرضی سے لاہور کیلئے روانہ ہوئی تھی،مجھے خودکش حملے میں استعمال کرنے کیلئے لاہور لایا گیا۔آرمی چیف کی اور عمران خان کی ملاقات کے بارے میں پہلے ہی پریس ریلیز جاری کردی تھی ۔آپریشن ردالفساد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ڈان لیکس کے حوالے سے کہا ہے کہ ڈان لیکس پر فیصلہ جلد آئے گا،اگر وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ اتفاق رائے ہوگیا تو ان سے پوچھیں،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق پیرکو میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ڈان لیکس پر فیصلہ جلد آئے گا،اگر وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ اتفاق رائے ہوگیا تو ان سے پوچھیں،ڈان لیکس کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔وزیرداخلہ ڈان لیکس پر معاملات تین چار دن میں لانے کی پاسداری کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ننگر ہار میں گرایا گیا بم ظاہر کرتا ہے کہ امریکا داعش کے خلاف جائے گا،داعش کا ٹارگٹ نوجوان ہی ہیں‘مدرسہ ریفارمز کے ساتھ ایجوکیشن ریفارمز بھی ہورہی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ کل بھوشن یادیو کو سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تمام تقاضوں کے مطابق دی، اسے جعلی نام، جعلی شناخت اور جعلی پاسپورٹ کی بنیاد پر پکڑا، اس کے معاملے پر نہ سمجھوتہ کیا اور نہ کریں گے، کلبھوشن جاسوس ہے اور جاسوس کو قونصلر رسائی نہیں دی جاتی، عدالت کے پاس اس کے خلاف ایسے ثبوت ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔میجر جنرل آصف غفور نے نیپال میں لاپتا ہونےوالے سابق فوجی افسرکے بارے میں کہا کہ کرنل ریٹائرڈ حبیب پاکستانی شہری ہیں، ان کا کلبھوشن کو پکڑنے والی ٹیم سے کوئی تعلق نہیں، کرنل حبیب 2014 میں پاک فوج سے ریٹائر ہوئے، ان کا کلبھوشن کے معاملے سے کیسے تعلق ہوسکتا ہے؟۔

تکفیری چھاج اور چھلنی

حیات عبداللہ …. انگارے
یہ بات کسی تجریدی آرٹ کے ایسے فن پارے کی مانند ہر گز نہیں ہے جسے سمجھنے کے لئے کسی خاص فن کا ماہر اور آشنا ہونا ضروری ہو۔ امت مسلمہ میں باہم مودت اور محبت پیدا کرنے کے لئے عین نبوی ﷺ منہج سے عبارت یہ موقت شاعری کی مختلف بحو اور علم عروض کی طرح پیچیدہ بھی نہیں ہے کہ جس کے شناوروں کو طبع آزمائی کے لئے مخصوص قواعد و ضوابط کا سیکھنا نا گزیر ہو۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ” دین آسان ہے“ سو یہ بڑی ہی سادہ اور عام فہم بات ہے، اگر اپنے خود ساختہ عقائد و نظریات کی مختلف رنگوں پر مشتمل بھیانک عینکوں کو اتار کر تحمل اور بردباری کے ساتھ غور کریں تو اس حقیقت کو سمجھنا چنداں دشوار نہیں کہ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے اور خود کو مسلمان کہلواتا ہے تو اسے اسلام سے خارج کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور کیوں لگایا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ہمیں لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا فریضہ سونپا ہے ، نہ کہ اسلام میں داخل لوگوں کو دھکے دے کر باہر نکالنے کا، عقائد میں لغزش ہو سکتی ہے، نظریات میں ٹھوکریں کھائی جا سکتی ہیں، ایمان و ایقان کی کیفیت اور حالت میں کمی اور کجی دراندازی کر سکتی ہے لیکن اگر کوئی شخص ان اعمال شنیع کے باوجود کلمہ پڑھتا ہے تو اسے نہ قتل کیا جا سکتا ہے نہ اس پر کفر کے فتوے عائد کر کے دائرہ اسلام سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے دعوت و تبلیغ ہی کو شعار بنانا اسلام کا تقاضا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ زندگی کے کسی بھی لمحے اور موڑ پر ان کی طرف سے مایوس ہو کر ان کی زندگیوں کو چھین لینے کی اجازت اسلام کسی کو بھی نہیں دیتا ، اس کلمے نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی جان کا تحفظ کیا، حالانکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سب جانتے تھے کہ یہ منافق ہے مگر چونکہ وہ کلمہ بھی پڑھتا تھا اس لئے اسے قتل نہ کیا گیا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ حضرت محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں، جب عبداللہ بن ابی جیسے منافق شخص کی جان نہ لی گئی تو پاکستان میں کلمہ گو افراد کو قتل کرنے کا کیا جواز ہے؟
اگر تکفیر کے چھاج اور چھلنی میں دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ مسلمانوں کی چھان پھٹک کر کے چھاننا شروع کر دیا جائے تو صرف چند لوگ ہی باقی رہ جائیں گے۔ پھر باقی مسلمانوں کا کیا کیا جائے؟ کیا انہیں چھان بورا سمجھ کر ان پر کفر کے فتوے عائد کر کے انہیں دائرہ اسلام سے باہر کھڑا کر دیا جائے۔ دل فگار المیہ یہ ہے کہ بات تو یہاں بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ تکفیری فتووں کے بانی اور موجد اپنے دانتوں کو کٹکٹاتے ہوئے اس شخص کا خون چوسنے کے در پے ہو جاتے ہیں جو ان کے ذہن رسا میں موجود ایمان کے سانچے میں فٹ نہیں آتا۔ تکفیری فتووں کے قائل اور مائل ملاو¿ں کو اس کرہ ¿ ارض پر ظلم کی ہر صنف آزماتے یہود و نصاریٰ تو دکھائی نہیں دیتے مگر انہیں کلمہ گو مسلمانوں کو قتل کر کے ایسا کیف اور سکون ملتا ہے کہ وہ خود کو بھی بم دھماکے سے اڑا لیتے ہین۔ جو بھی شخص اس نوع کے باطل عقائد اپنے دل میں پال پوس کر ہٹا کٹا کئے بیٹھاہے اسے خوب اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ یہ نظریات حقیقت میں آگ اور خون کے ایسے کھیلوں کو انگیخت دیتے ہیں جن کا ایندھن دوسروںکو بنانے کے بعد وہ خود کو بھی جھلسا لیتا ہے، تکفیری فتووں کے بانی اپنے تفکرو تدبر کی نگرانی اور نظر ثانی کرنے کی بھی قطعاً ضرورت محسوس نہیں کرتے ان کے نزدیک ایمان کی کسوٹی اور پیمانہ یہ ہے کہ ہر مسلمان ان کے اپنے نظریات اور عقائد کے ترازو کے مطابق پورا اترتا ہو بصورت دیگر اسے مسلمان کہلوانے اور اس کرہ ¿ ارض پر زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ کچھ لوگ ضرور لاشعوری طور پر اس فتنے کا حصہ بنتے ہیں مگر ان کی قیادت عالم کفر کے دیئے گئے ہوم ورک کے مطابق اپنے پر اور جال پھیلاتی ہے، کیا یہ لوگ بصارت و بصیرت سے اتنے عاری ہیں کہ انہیں یہ بھی علم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے؟کیا ان کی آنکھوں میں اس قدر دھند لکے اتر آئے ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں کہ نبی مکرمﷺ کا فرمان ہے کہ ” دین خیر خواہی کا نام ہے” اپنے آپ کو اعلیٰ وار فع ایمان کے لمس سے آشنا کہنے والے یہ لوگ کیا اس حقیقت سے بھی نابلد ہیں کہ اللہ رب العزت مہربان ہیں اور مہربانی کرنے والے کو پسند فرماتے ہیں؟ کیا یہ سخت گیر لوگ اس بات سے بھی نا آشنا ہیں کہ اسلام نے ازراہ تفنن بھی کسی مسلمان کی طرف ہتھیار اٹھانے سے منع کیا ہے پھر یہ کس قدر اخلاق باختگی ہے کہ کسی بھی کلمہ پڑھنے والے شخص کو آگ اور بارود میں بھون دیا جائے۔ صحیح بخاری جلد نمبر1 میں نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسے لوگ بت پرستوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو قتل کریں گے، آج آپ انسانی کھال میں ملبوس ان ظالموں کو دیکھ لیجئے یہ اپنے باطل عقائد کی دھونی رمائے قشقہ کھینچ کر بیٹھے خود کو مومن اور باقی سب کو کافر کہہ کر قتل و غارت گری کرنے میں مصروف ہیں، ان کے لہجوں کا خروش ، ان کے جذبات کا جوش اور آواز کا طنطنہ سب کا رخ یہود ونصاریٰ کے بجائے مسلمانوں کی طرف ہے۔ ساری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن پاک فوج کے خلاف یہ اعلان جنگ کر کے عالم کفر کا دل خوش کر رہے ہیں، ان کے رگ و ریشے اور تاروپود میں یہ عفونت اور خرافات اس حد تک سرایت کر چکی ہیں کہ یہ معصوم بچوں کو بھی سفاکیت کے ساتھ قتل کرنے سے نہیں چوکتے ، فتنہ تکفیر کے یہ جتھے جہاں بھی موجود ہوں گے وہیں امن و سلامتی کو تلپٹ کر کے رکھ دیں گے، تفسیرابن کثیر میں سورة الاعراف کی آیت نمبر 175 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” یہ لوگ مسلمانوں پر شرک کا الزام لگا کر انہیں قتل کریں گے“ کیا کسی ایک لمحے کے لئے بھی ان لوگوں کے دلوںمیں یہ خیال نہیں کوندا کہ جب یہ کسی مسلمان کو کافر کہیں گے تو جسے کافر کہا جا رہا ہے وہ انہیں مومن اور موحد کے لقب سے تو نہیں پکارے گا، یقینا ایسا تو کبھی نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی مسلمان کو کافر کہیں اور وہ جواب میں آپ کو معززو مکرم راسخ العقیدہ مسلمان کی طرف بھونڈے الفاظ کی یورشیں کریں گے تو رد عمل اتنا ہی شدید ہوگا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ” ایسے لوگ اس حد تک عبادت گزار ہوں گے۔ کہ تم اپنی عبادتوں کو حقیر جانوگے” نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” اگر میں انہیں پاتا تو قوم عادو ثمود کی طرح قتل کر دیتا” اس کا واضح اور دو ٹوک معنی یہ ہوئے کہ شب گزیدہ متعفن راہوں پر چلنے والے ایسے فتنہ سازوں کی عبادت چلّتر بازی کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔٭٭

تنگ نظری

نصیر ڈاھا….گستاخی معاف
”مدر آف دی بمز“نامی بم نے افغانستان کے اندر کیا تباہی پھیلائی، یہ پوری دنیا جان چکی ہے۔ کتنے معصوم خون میں نہاگئے اور کتنے بے گناہ ناکردہ جرم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دہشت گردوں کی سرکوبی اگرچہ لازم ہے لیکن بے گناہ کو بھی ساتھ ہی پیس دینے کے احکامات جاری کرنا صرف ٹرمپ ہی کی سرشت میں ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ ایسے اور اس جیسے دیگر اقدامات سے کیا اپنے اور اپنے ملک کے لیے مشکلات اور خطرات میں اضافہ نہیں کررہے ؟آئیے ، پہلے ایک چھوٹی سی کہانی پڑھتے ہیں۔
”زندگی کے مصائب سے تنگ ایک شخص انتہائی ڈپریشن کے عالم میں ، سامنے میز پر چائے کا کپ رکھے، سوچو ں میں غلطاں تھا کہ اچانک اس کا ایک دوست آگیا۔ مفت خورے دوست نے پریشان حال شخص سے کچھ پوچھنے کے بجائے آرام سے کپ اٹھایا اور چسکیاں لینے لگا۔ اس دوران وہ پریشان حال شخص کو اس انداز سے دیکھتا رہا کہ جیسے اسے چڑا رہا ہو کہ لیجیے ! آپ کی چائے تو میں نے پی لی۔ اب آپ کیا کرینگے؟ پریشان حال شخص نے اپنے دوست کے رویے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ وہ اس کی شرارت کو نظر انداز کرتے ہوئے غم گیر لہجے میں کہنے لگا ” یار! میری تو قسمت ہی خراب ہے۔ کوئی بھی کام کروں، کوئی بھی قدم اٹھاﺅں، ناکامی میرا مقدر بن جاتی ہے۔ زندگی بھر کی جمع پونجی کاروبار میں لگادی لیکن وہ نہ چل سکا اور میں یہ جمع پونجی لٹنے کے ساتھ ساتھ بھاری قرضے کے بوجھ تلے آگیا۔ پچھلے دنوں گھر میں چوری ہوگئی تو رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ قدرت نے اولاد سے نوازا تھا لیکن وہ بھی نکمی نکلی۔ یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کے لئے جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں لہٰذا بجلی ، پانی اور گیس کے سارے کنکشن کاٹ دیے گئے۔ روٹی کی خاطر یار دوستوں سے مدد کی درخواست کی لیکن جو پہلے ہی اتنے پیسے قرضے میں دے چکے ہوں، وہ بھلا اور کیا دیتے؟ جان عذاب میں پھنس گئی اور کوئی راہ نہ سوجھی تو مسائل سے چھٹکارے کا حل یہی پایا کہ خودکشی کرلی جائے۔ کم ازکم بھوک سے بلکتے بچوں کا رونا تو دیکھنا نصیب نہ ہوگا ۔ بڑی مشکل سے لاکھ منت سماجت کے بعد ایک دکان سے زہر کی پڑیا خریدی اور یہاں بیٹھا چائے میں ملا کر پینے ہی لگا تھا کہ تم آئے اور کچھ پوچھے بغیر مزے سے چسکیاں لیتے ہوئے ساری چائے پی گئے۔ “
امریکی تاریخ کے سب سے غیر مقبول صدر ٹرمپ کے انتہائی عجلت میں کئے گئے اقدامات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے اپنے دو دو ادوار کی ناکامیوں کے زہر کا جو پیالہ صدر بش اور صدر اوباما اپنے سامنے رکھے بیٹھے تھے وہ ٹرمپ نے آتے ہی بنا سوچے سمجھے یا کچھ دریافت کیے بغیر اٹھاکر ایک ہی گھونٹ میں پی لیاہے۔ کہنے کو تو” امریکہ کو پھر سے گریٹ بنائیں گے “ کا نعرہ لگاکر ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک ایسے قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو امریکہ کے اندر اور باہر دشمنوں کو چیلنج کررہاہے لیکن اس کوشش میں وہ کچھ زیادہ ہی آپے سے باہر ہورہے ہیں۔ امریکی صدور کی سیاست کی بنیاد پہلے بھی اور اب بھی محض نفرت ہے جو ان کی ہر تقریر ، ہر بیان اور ہر لفظ میں جھلکتی نظرآتی ہے ۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ صدور کے لئے تاریخ کے فیصلے سے فرار حاصل کرنا یا اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد اسے تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ٹرمپ کو اگر عقل چھُوکر بھی گزری ہوتی تو وہ بش اور اوباما کی ناکامیوں سے سبق لیتے اور یہ سمجھتے کہ سی آئی اے کی ” اسلامی دہشت گردی“ کی بے بنیاد کہانی نے کس طرح پہلے ہی دنیا کو تباہی کے دہانے پرلاکھڑا کررکھا ہے۔ یہ اب کوئی راز نہیں کہ بش کی عراق پر چڑھائی کی کوئی وجہ نہیں تھی امریکہ کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے پاک کرنے کے نام پر بش نے اسلامی ملکوں میں جو تباہی مچائی وہ چنگیز خان کو بھی شرمادینے کیلئے کافی ہے۔ سابق امریکی صدر بش نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ ” اڑھائی سال کے عرصے میں سی آئی اے نے شدت پسندوں کے نہایت خطرناک 20منصوبوں کا پتا لگایا تھا۔ ان خطرناک سازشوں میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کا امکان تھا۔ شدت پسند ان کارروائیوں کو عملی شکل دینے کے لئے امریکا پر حملہ آور ہوسکتے تھے “۔ بقول بش ” سی آئی اے کی فراہم کردہ معلومات سے ان کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔اکثر نصف شب کو ان کی آنکھ کھل جاتی اور پھر باقی رات اسی بے چینی میں گزر جاتی تھی۔ “ بہرحال منتظر زیدی کا دس نمبر کا جوتا مغرور بش کو کبھی نہ بھولے گا۔
اوباما نے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر کے طور پر مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔ دنیا کو ان سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں لیکن یہ امیدیں ان کے آٹھ سالہ دور کی ناکامیوں میں تحلیل ہوگئیں۔ روشن خیال امریکیوں کی اکثریت کو بھی یہ امید تھی کہ اوباما اپنے دور میں امریکہ سے نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنے میں اہم کردار ادا کرینگے۔ روزگار کے مواقع وسیع ہونگے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ اوباما نے بش کی اسلام دشمن پالیسیوں کو ہی آگے بڑھایا۔ انہوںنے سی آئی اے کی ”اسلامی دہشت گردی “ کی اصطلاح کی انگلی تھامی اور افغانستان، لیبیا، عراق میں خونی داستانیں رقم کرنے نکل پڑے۔ حکومتی باگ ڈور سنبھالتے ہی پاکستان پر ڈرون حملوں کی منظوری دی۔ اوباما نے پاکستان، صومالیہ اور یمن میں بش کی بانسبت دس گنا زیادہ حملوں کا حکم دیا۔ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں افراتفری پید اکرنے میں امریکہ پیش پیش رہا۔ بش اور اوباما ناکام صدور ہیں جو پیچھے مڑکر دیکھتے ہیں تو ضمیر پر بوجھ اور شرمندگی کے سوا ان کے پلے کچھ نہیں۔ جوں جوں عمر بڑھتی جائے گی، یہ بوجھ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔
اب ٹرمپ ”پھنے خان “ بنے میدان میں ہیں جنہوںنے متنازعہ ترین احکامات جاری کرکے سیاسی خودکشی کا ارتکاب کیاہے۔ وہ نہ صرف اپنے لئے مسائل کھڑے کررہے ہیں، بلکہ ایسی سنگین غلطیوں سے امریکہ کی سلامتی کے لئے نائن الیون سے بھی زیادہ خطرناک ماحول پیدا کررہے ہیں۔ افغانستان میں ”مدر آف دی بمز“ نامی بم پھینکتے ہوئے کتنے معصوموں کو خاک کا پیوند بنادینے جیسا اقدام ٹرمپ ہی کی سرشت میں ہوسکتاہے۔ دہشت گردوں کی سرکوبی اگرچہ لازم ہے لیکن بے گناہوں اور معصوموں کو ساتھ ہی پیس دینے کے احکامات صرف ٹرمپ ہی جاری کرسکتے ہیں۔ ابھی تو یہ ابتدا ہے لیکن آنے والے دنوں میں اس سے بھی کہیں زیادہ سخت اور افسوس ناک اقدامات امریکی پٹاری سے برآمد ہوتے ہوئے دیکھنے کو ملیں گئے اور ہر نیا اقدام ٹرمپ کے امریکہ کو مزید خطرات کی طرف دھکیل دے گا۔ ٭٭

کلبھوشن یادیو کو پھانسی….؟

سید مجاہد علی …. مہمان کالم
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ برس مارچ میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک فوجی عدالت نے کیا ہے جہاں بھارتی جاسوس کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی ایس پی آر کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ کلبھوشن یادیو نے ایک مجسٹریٹ کے سامنے پاکستان میں تخریب کاری اور جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرنے کے بارے میں اعتراف جرم کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ اس طرح اب اس سزا پر کسی وقت بھی عمل درآمد ہو سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے کیا بھارت ، پاکستان کے خلاف جاسوسی اور تخریب کاری کے منصوبوں کو ترک کردے گا۔ یا اس پھانسی سے دونوں ملکوں کے درمیان حالات کو بہتر بنانے کی امید پیدا ہو سکے گی۔
ان دونوں سوالوں کا جواب ایک سانس میں نہیں دیا جا سکتا ۔ اس کے باوجود پاکستان میں سیاست دان ، مبصر اور تجزیہ کار عام طور سے اس فیصلہ کو مناسب، قانون کے مطابق اور قومی مفاد کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ تاہم بعض نحیف آوازیں اس جوش و خروش کے عالم میں بھی یہ کہنے کی کوشش کررہی ہیں کہ کلبھوشن کے جرائم سے قطع نظر، اس سزا پر عمل درآمد کرنے سے پہلے ، اس کے سفارتی اور سیاسی نتائج اور اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر بھی عام طور سے اس فیصلہ کو مناسب اور ضروری قرار دے رہے ہیں تاہم پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اصولی طور پر موت کی سزا کے خلاف ہیں۔ موت کی سزا کے خلاف دنیا میں سخت رائے پائی جاتی ہے۔ یورپ کے متعدد ممالک میں سزائے موت کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم یہ بحث پاکستان جیسے ملکوں میں ناقابل فہم سمجھی جاتی ہے جہاں جرم کے خاتمہ کے لئے موت کی سزا کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
کلبھوشن یادیو پاکستان کی ریاست اور عوام کے خلاف گھناو¿نے جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اس نے سالہا سال تک بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کا نیٹ ورک منظم کرنے کے لئے بھار ت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا تھا۔ وہ ایسے ہی مشن پر پاکستان آیا ہو¿ا تھا جب اسے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاک فوج نے گرفتار کرلیا تھا۔ پاکستان کا مو¿قف ہے کہ کلبھوشن بھارتی نیوی کا حاضر سروس کمانڈر ہے لیکن بھارت کا دعویٰ ہے کہ یادیو بحریہ کا سابقہ افسر ہے اور وہ اس وقت ایران یا پاکستان میں کیا کررہا تھا ، اس سے بھارتی حکومت یا ’را‘ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کلبھوشن یادیو نے البتہ ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو میں ان سب الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ یہ ویڈیو یادیو کی گرفتاری کے تھوڑے عرصہ بعد گزشتہ سال ریلیز کی گئی تھی۔ بھارت نے اس ویڈیو کے مندرجات کو بھی لغو قرار دیا تھا۔ لیکن ویڈیو ریکارڈنگ دیکھنے کے بعد یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کلبھوشن نے کسی تشدد کے بعد یا کسی دباو¿ میں یہ بیان دیا ہے۔
اس کے باوجود دونوں ملک کبھی اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ اصل سچ کیا ہے۔ ایسے معاملات میں سچ ہمیشہ قومی مفادات کی روشنی میں متعین ہوتا ہے۔ کوئی ملک کبھی یہ اقرار نہیں کرتا کہ وہ دوسرے کی جاسوسی کرتا ہے لیکن ملکوں کے درمیان اس طرح کے واقعات روز کا معمول ہیں۔ خاص طور سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جس طرح دہائیوں سے دشمنی کا رشتہ استوار کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں یہ سمجھنا مبنی بر حقیقت نہیں ہو سکتا کہ دونوں ملک کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کا نظام استوار کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تاہم کلبھوشن یادیو کے معاملہ میں جاسوسی کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردی کو منظم کرنے کے الزامات معاملہ کو سنگین اور تشویشناک بناتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی نوعیت اور معروضی حالات کی صورت حال میں یہ تصور کرنا مشکل نہیں ہو نا چاہئے کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرکے بھارت کا جاسوسی اور تخریب کاری کا جو نیٹ ورک توڑا تھا ، اس دوران اسے دوبارہ استوار کرلیا گیا ہوگا۔ اس لئے ایک کلبھوشن یادیو کو پھانسی دینے سے یہ گمان کرلینا محال ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل حل ہو جائیں گے یا پاکستان کی سلامتی کا تحفظ کرلیا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے دونوں ملکوں کو مذاکرات کرنے ، ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد کا تعلق استوار کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تصادم اور دشمنی دونوں ملکوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ہمسایہ ملک ہیں۔ انہیں بہر صورت ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ دونوں ملکوں میں سے جس ملک میں بھی یہ تصور راسخ کیا جاتا ہے کہ دوسرے کو تباہ کرکے یا فوجی طور پر زیر کرکے وہ سرفراز ہو سکتا ہے، اسے ختم کرنے اور اس سچائی کو مان لینے کی ضرورت ہے کہ بر صغیر خواہ جن حالات میں معرض وجود میں آیا تھا مگر اب چار پانچ نسلوں کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں ہی اٹل حقیقت کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی خود مختار حیثیت برقرار رہے گی۔
پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرکے بھارت کے پاک دشمن ارادوں کو بے نقاب کیا ہے۔ دنیا کو یہ بتایا جا سکا ہے کہ بھارت ایک طرف پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا ہے لیکن دوسری طرف خود اس کے خلاف تشدد اور تخریب کاری منظم کرنے کے گھناو¿نے جرائم میں ملوث ہے۔ یادیو ایک نظام اور ایک مملکت کا نمائندہ ہے۔ اس کی پاکستان یا اس کے شہریوں سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ اب اسے سزا سنا کر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اس نے کون سے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ یہ سارے مقاصد حاصل کئے جا چکے ہیں۔ کلبھوشن کو ہلاک کرکے مزید کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بجائے اگر پاکستان مناسب سفارتی طریقہ سے کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرے تو اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی میں مدد مل سکتی ہے اور بھارت کے عوام کو بھی یہ احساس ہوگا کہ ان کی حکومت کے جرم کے باوجود پاکستان نے ان کے جاسوس کو سزائے موت سنانے کے بعد واپس کردیا۔ اس طرح خیر سگالی کے جو جذبات پیدا ہوں گے، وہ تعلقات بحال کرنے اور مفاہمت کی طرف قدم بڑھانے کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔٭٭

بھارت اورمسلمان

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے !!
اگر پاکستان نہ بنتا تو ہم کہاں ہوتے؟بھارت میں گاﺅ ماتا کو ہاتھ لگانا تو برا تھا ہی ، اس ہندو بنیے کے ساتھ مسلمان کس مشکل سے گزارا کر رہے ہیں ۔ان کا محض جرم تو یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں ۔ اس جرم کی سزا وہ ستر سال سے پا رہے ہیں ۔
بھارت میں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ جموں و کشمیر میں 68.31 فیصد مسلمان آباد ہیں، اس کے برعکس سب سے کم میزورم میں1.35 فیصد مسلمان ہیں۔ دوسری جانب آسام، مغربی بنگال اور کیرالہ میں ۵۲فیصد سے زائد مسلمان موجود ہیں۔ وہیں 10سے 15فیصد والی ریاستیں بہار اور اترپردیش ہیں، وہ ریاستیں جن میںدس سے پندرہ فیصد مسلمان رہتے ہیں ا±ن میں جھاڑکھنڈ، اتراکھنڈ، کرناٹک، دہلی اور مہاراشٹر شامل ہیں۔ لکش دیپ جو بھارت کا حصہ ہے وہاں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ بلکہ کہا جائے کہ لکش دیپ بھارت کا مکمل طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے تو غلط نہیں ہوگا جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 96.58ہے۔ مزید آٹھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں آبادی کے تناسب سے مسلمان دس فیصد کے درمیان رہتے ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کا جائزہ اس لحاظ سے لیا جائے کہ بھارت میں موجود مسلمانوں کی کل آبادی کا حصہ کون سی ریاست میں کس حیثیت میں موجود ہے تو تصویر کا دوسرا ر±خ یہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ لکش دیپ بھارت میں مسلمانوں کی کل آبادی کا آدھا فیصد بھی نہیں، بلکہ یہ تعداد 0.04ہی شمار کی جاتی ہے۔ کیونکہ لکش دیپ میں کل آبادی 47364ہے جس میں 26862مسلمان ہیں۔ یعنی یہاں اگرچہ مسلمان اکثریت میں ہیں اس کے باوجود بھارتی وسائل میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ کل آبادی کے تناسب میں ان کی حقیقی تعداد بھی ہے۔ وہیں 68.31فیصد مسلمانوں کی آبادی جموں و کشمیر میں موجود ہے، وہ بھی مسلمانوں کی کل آبادی کے اعتبار سے 4.67ہے۔ مزید یہ کہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے مسائل جس قدر بڑی تعداد میں موجود ہیں، وہ انہیں اس بات کا موقع ہی نہیں فراہم کرتے کہ وہ مرکزی دھارے سے وابستہ مسائل میں دلچسپی لیں یا اس میں حصہ دار بنےں۔ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد علیحدگی پسند ہے۔ لہٰذا ستّر سالہ دورِ آزادی کے باوجود جموں وکشمیر کے مسلمان بھارتی مسلمانوں کے مسائل اور درپیش چیلنجوں میں کسی بھی حیثیت میں کوئی کردار ادا نہیں کرپائے اور یہ صورتحال آج بھی برقرار ہے۔ اس کے باوجود کہ وہاں بے شمار جانیںا ٓزادی کے لیے قربان کی جاچکی ہیں۔ دہلی میں ریاستی سطح پر موجود آبادی کا 12.68فیصد حصہ مسلمان ہیں، وہیں دہلی سے متصل ریاست ہریانہ میں7.03فیصد مسلمان رہتے ہیں لیکن اگر ان آبادیوں کو ملکی سطح پر موجود مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو یہ دونوں ہی ریاستیں ایسی ہیں جہاں 1.5فیصد مسلمان رہتے ہیں۔ ریاست ہریانہ میں مسلمانوں کی آبادی کو ریاستی سطح پر حد درجہ کم تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہریانہ میں ۷۱لاکھ ۱۸ہزار مسلمان رہتے ہیں۔
دو سے پانچ فیصد والی مسلم آبادی کا تناسب رکھنے والی ریاستیں ا ٓٹھ ہیں، ان میں ریاست جموں و کشمیر، جھاڑکھنڈ، کرناٹک، گجرات، آندھرا پردیش (2011ءکی مردم شماری کی روشنی میں) راجستھان، مدھیہ پردیش اور تامل ناڈو شمار کی جاتی ہیں۔بھارت کی تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں کل مسلم آبادی کا تناسب پانچ سے دس فیصد موجود ہے۔ یہ ریاستیں آسام، کیرالہ اور مہاراشٹر ہیں۔ دوسری جانب دوریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں مسلمان اپنی ک±ل آبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں ریاست مغربی بنگال اور بہار شمار کی جاتی ہیں، یہاں مسلمان اپنی کل آبادی کے لحاظ سے 10سے 15فیصد موجود ہیں۔ دیگر وہ ریاستیں ہیں جہاں مسلمان اپنی ک±ل آبادی کے لحاظ سے ایک فیصد سے بھی کم تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں اتراکھنڈ بھی آتا ہے۔ منی پور، ہماچل پردیش، پنجاب اور گوا بھی۔ اس پورے تجزئیے میں ریاست اترپردیش کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ بات عجیب ہوگی۔ ریاست اترپردیش بھارت کی وہ واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی کل آبادی کا 22.34 فیصد حصہ ہے۔3کروڑ 84لاکھ 83ہزار 927 مسلمانوں کی آبادی والی ریاست نہ صرف بھارت کے تناظر میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے بلکہ ریاست کی آبادی کو دنیا میں موجود مسلمانوں کی کل آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو بھی اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ پوری دنیا میں فی الوقت ایک سو پانچ کروڑ مسلمان موجود ہیں، اِن میں تقریباً 4کروڑ مسلمان بھارت کی ریاست اترپردیش میں رہتے ہیں، یہ دنیا کی کل مسلم آبادی کا 2.53فیصد حصہ ہیں۔
بھارت کی سوا ارب کی اس آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۱۴ فیصد ہے، لیکن ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں بھیک مانگنے والا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔یہ انکشاف بھی 2011ءمیں کی جانے والی مردم شماری کی رپورٹ کی بنیاد پر تیارکردہ اعداد و شمار میں ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 72.79 کروڑ افراد ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں یا کام نہیں کرتے، ان میں سے 3.7 لاکھ بھیک مانگ کر گزر بسر کرتے ہیں۔ ان بھکاریوں میں سے مسلمانوں کی تعداد بھیک مانگنے والوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً پچیس فیصد بنتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندو بھارت کی آبادی کا 8.97 فیصد ہیں لیکن ان میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد 2.28 لاکھ ہے۔ واضح رہے کہ ہندوو¿ں کی مردم شماری میں قبائلیوں اورانتہائی پسماندہ ذات کے دلتوں نیز دیگر کئی ایسے فرقوں کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے جو خود کو ہندو قرار نہیں دیتے۔ عیسائی جن کا تناسب مجموعی آبادی میں2.3 فیصد ہے ان میں بھیک مانگنے والوں کی شرح0.88 فیصد، بدھ مت کے ماننے والوں میں 0.25 فیصد، سکھوں میں0.54 فیصد، جین دھرم کے ماننے والوں میں0.60 فیصد اور دیگر فرقے کے بھیک مانگنے والوں کی شرح 0.30 فیصد ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مردوں کے مقابلے میں بھیک مانگنے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہے جو بقیہ تمام فرقوں میں پائے جانے والے رجحان سے یکسر مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر بھیک مانگنے والے مردوں کا قومی اوسط 53.13فیصد اور خواتین کا46.87فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ تناسب مردوں میں 43.61فیصد اور خواتین میں 56.38فیصد ہے۔یوں تو بھارت میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے اور اس جرم کے لیے تین سے دس سال تک کی سزا ہے، تاہم حقوقِ انسانی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ قانون کافی مبہم ہے اور اس میں بھیک مانگنے والوں اور بے گھر اور بے زمین مزدوروں میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے اور اپنی روزی روٹی کے لیے گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں میں نقل مکانی کرنے والوں کو بھی بھیک مانگنے والوں کے زمرے میں ہی رکھ دیا گیا ہے۔
(کالم کی طوالت کے پیش نظر مزید اعدادوشما ر پھر کبھی)
٭….٭….٭

قرارداد لاہور اور اصل پاکستان

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
قرارداد لاہور‘ جس کو بعد میں ہندو پریس نے قرارداد پاکستان کا نام دیا تھا‘ آج سے آٹھ دہائیاں قبل ہندوستان کے مسلمانوں نے شہر لاہور میں منظور کی تھی۔ آج اسی مقام پر‘ اسی قرارداد کی یاد میں مینار پاکستان ایستادہ ہے۔ اس قرارداد کے پاس ہونے کے فقط سات برس ہی میں برصغیر تقسیم ہوا اور ایک بے مثال جدوجہد اور لاتعداد انسانی جانوں کی قربانی کے بعد پورے وجود میں آگیا۔ تخلیق پاکستان عمومی طور پر قرارداد لاہور پر ہی منطبق ہوتی رہی۔ اس قرارداد کے الفاظ آج بھی قرطاس کے علاوہ مینار پاکستان کی دیواروں پر کندہ ہیں۔ یہاں پر ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کی بجائے برصغیر کے تمام مسلمان اکثریتی علاقوں میں آزاد اور خودمختار اسلامی ریاستوں کا قیام مذکور ہے۔ یہ مسلم اکثریتی علاقے عمومی طور پر شمالی ہند ہی میں پائے جاتے تھے‘ جہاں پر ایسی خودمختار اسلامی ریاستیں تشکیل پا سکتی تھیں۔ لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجتماع میں یہ قرارداد دراصل قلندر لاہوری علامہ سر محمد اقبال کے دیرینہ خواب کی ایک تعبیر تھی۔ اب اگر اس سارے عمل کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک ”خودی پرست مرد درویش“ نے ایک خواب دیکھا‘ اس کے چند خدوخال کو اس نے لکھنو¿ کے سالانہ اجلاس میں موجود ہندوستانی مسلمانوں کے گوش گزاراکیا۔ گزرتے وقت میں وہ لاہور میں 1940ءکے اجتماع میں صفحہ ¿ قرطاس کی زینت بنے تو 1947ءمیں وہ مملکت پاکستان کی شکل میں روئے زمین پر وجود میں بھی آگئے۔ گو کہ یہ ایک ہی مسلم ریاست تھی جبکہ بنیادی خواب اور الفاظ میں ایک سے زیادہ خودمختار اسلامی ریاستوں کی بات تھی۔ بہرحال یہ ساری تدبیریں تو روئے زمین پر متشکل ہورہی تھیں جبکہ آخری تدبیر تو وہ وحدہ ¿ لاشریک ذات ہی کرتی ہے کیونکہ وہی ایک ہستی ”خیرالماکرین“ کہلاتی ہے۔ مگر اس آخری تدبیر کو جاننا اگر کسی بندہ بشر کے بس کی بات نہیں تو اس کے وقوع پذیر ہونے کے ”ٹائم فریم“ سے متعلق آگاہی حاصل کرنا بھی کسی کے بس کا روگ نہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے کسی خاص بندے کو اشاروں کنایوں یا خوابوں میں کچھ عطا کردے۔ سو! ہمارے خیال میں علامہ اقبال ؒ کی ذات کو ایسے ہی الہامی اشاروں کے لئے شاید چن لیا گیا تھا۔
آگے چلیںتو ہم دیکھیں گے کہ قیام پاکستان کے بعد چند ہی برسوں میں 1971ءمیں ”بنگلہ دیش“ کے نام سے برصغیر میں ایک نئی آزاد اور خودمختار مسلمان ریاست وجود پاکستان سے علیحدہ ہو کر منظرعام پر آ گئی تھی۔ اس مملکت کا قیام گو کہ مسلمانوں ہی کی باہمی آویزش کا ایسا شاخسانہ تھا کہ اس کی بنیادوں میں خون مسلم بہت زیادہ بہا‘ مگر بنگلہ دیش کو اگر جذبات سے کچھ اوپر اٹھ کر دیکھا جائے تو یہ مملکت بھی ہمیں قرارداد لاہور کی روح کے عین مطابق دکھائی دے گی۔ ہم یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اس طرح سے برصغیر کے انتہائی مغرب میں اب اگر پاکستان کے نام سے ایک آزاد اور خودمختار مملکت قائم ہے تو اسی برصغیر کے مشرقی کونے میں آزاد اور خودمختار ریاست بنگلہ دیش بھی وجود پذیر ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس ریاست کا نام ”بنگلہ دیش‘ ہے۔ یعنی کہ اس نام میں ”بنگالی بولی“ کے نام پر ہی آج کے مشرقی اور مغربی بنگال کے یکجا ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگرچہ آج یہ دونوں علیحدہ ہیں۔ ایک کا دارالخلافہ ڈھاکہ ہے تو دوسرے کا کلکتہ۔ مگر یہ تو بنگالیوں کی ایک چھوٹی سی تاریخ ہے۔ طویل ترین تاریخ میں تو ایک صدی قبل بھی یہ فقط خطہ بنگال تھا۔ اس کو انگریزی عہد میں آ کر فقط انتظامی طور پر علیحدہ کیا گیا تھا۔ اگر مشرقی پاکستان کے مسلمان لسانیت اور قومیت کی بنیاد پر مملکت پاکستان سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں تو انہی بنیادوں پر مغربی بنگال کی بھارت سے علیحدگی تو ایک ”اصول‘ کی بات ہو گی۔ اب کسی کو یہ بات اچھی لگے یا نہ لگے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ قلندر لاہوری کے خواب کے عین مطابق برصغیر کے دو کونوں یعنی کہ مشرق و مغرب میں تو دو آزاد اور خودمختار اسلامی ریاستیں وجود میں آ چکی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ درویش کے خواب کا باقی حصہ‘ یعنی کہ مشرق و مغرب کا زمینی راستے سے ملاپ کیونکر ممکن ہو گا؟
اس سوال کا جواب تو فقط اس اوپر والی ذات ”خیرالماکرین“ ہی کو معلوم ہے مگر ہم تاریخ سے کچھ نتائج ضرور اخذکرسکتے ہیں۔ اول یہ کہ برصغیر کبھی بھی ماسوائے اورنگزیب عالمگیر اور انگریزوں کے عہد کے ، کبھی ایک وحدت نہیں رہا ہے۔ دوم یہ کہ سارے برصغیر کو بالعموم شمالی ہندوستان سے ہی حکومت تلے رکھا گیا ہے۔ جس کا دارالحکومت آگرہ یا دہلی وغیرہ میں رہا ہے۔ سوم یہ کہ اس خطے میں ہمیشہ کثیرالمذاہب، کثیر المذاہب، کثیر النسل اور کثیر الثقافت لوگ باہمی یگانگت سے بستے چلے آ رہے ہیں اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کی اکثریت شمال مغربی برصغیر ہی میں بستی ہے۔ ان مختصر تاریخی حقائق کو جاننے کے بعد اگر آپ آج کے بھارت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس کے مشرق و مغرب میں تو آزاد مسلمان ریاستیں تشکیل پا چکی ہیں، کشمیر کا خطہ اور اس میں موجود آج کی نسل تو عملی طورپر بھارت سے علیحدہ ہو ہی چکے ہیں۔ بھارتی پنجاب میں سکھوں کا وطن خالصتان اپنی سرحدیں آج کے ہماچل و ہریانہ سے لیکر پانی پت تک استوار کرے گا۔ پانی پت سے آگے دہلی اور آگرہ تک مسلمان کافی تعداد میں موجود ہیں۔ اس سے آگے ریاست اترپردیش ہے جس میں لکھنﺅ کے اردگرد تقریباً پانچ کروڑ مسلمان بستے ہیں۔ آگے چلیں تو ریاست بہار ہے اور بہاری مسلمانوں سے سب واقف ہیں اور بہار کے آگے کھلا ہوا بنگال ہے جس کا مختصر تذکرہ ہم پہلے ہی کر چکے ہیں۔ کیا اب بھی ہمیں مشرق و مغرب کے درمیان زمینی تعلق و راستے پر کچھ ابہام رہتا ہے۔ ہاں مگر یہ راستہ استوار کب ہوگا۔ اس کے لیے وقت کی رفتار پر نظر رکھنا ہوگی۔ راقم کی نظر میں تو اس جانب پہلا قدم اٹھایا جا چکا ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ آج کے بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے حالیہ انتخابات مکمل طور پر بی جے پی اپنے ”ہندو اتا“ کے پرچم تلے جیت چکی ہے۔ اس سیاسی جماعت کی نریندرمودی کی سربراہی میں دہلی میں حکومت قائم ہے اور مسٹر مودی نے ساڑھے پانچ کروڑ مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی ریاستی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ جیتنا یا ہارنا تو بعد کی بات تھی کیا 1947ءمیں تخلیق پاکستان مسلمانوں کے ایسے ہی لتاڑے جانے کے بابت نہیں ہوئی تھی؟ اور کیا وجود بنگلہ دیش بھی مذہبی ہم آہنگی کے باوجود بنگالی محرومیوں کے طفیل ممکن نہیں ہوا تھا؟ اور اگر یہ سچ ہے تو کیا ایسی ہی محرومیاں جن کا کشمیر عرصہ دراز سے شکار ہے اور وسط ہندوستانی مسلمان بابری مسجد اور حالیہ ریاستی انتخابات کے بعد شدت سے شکار ہو چکے ہیں۔ اب کون ہے جو کہ آج کے بھارت میں مزید کئی پاکستانیوں کو آزاد ہونے سے روکے گا؟ دعا کرنی چاہیے کہ اگر جلدی درکار ہے تو ”سیکولر کانگریس“ کی جگہ ”ہندواتابی جے پی“ بھارت میں مزید پھیلے پھولے۔ اگر بی جے پی وہاں رہ گئی تو پھر جلد ہی برصغیر پر ایک تابناک صبح نمودار ہوگی جو کہ یوم آزادی ہوگا۔ اور یہی وہ دن ہوگا جو کہ 1940ءمیں پاس کی گئی قرارداد لاہور کی تکمیل برصغیر میں اصلی دن ہوگا۔ اور یہی وہ دن ہوگا جو خواب قلندر لاہوری کی تعبیر میں تکمیل پاکستان کا ہوگا اور یہ پاکستان زمینی راستے سے جڑے ہونگے۔ ان مسلمان پاکستانیوں میں ”خالصتان“ کی حقیقت کیا ہوگی، اس پر علیحدہ کالم تحریر ہوگا۔ انشاءاللہ٭٭

قدآور پولیس افسر

ڈاکٹر سید اظہر حسن ندیم… اظہار خیال
آج کے کالم کی یہ سطور ایک ایسے پولیس افسر کی یاد تازہ کرنے کےلئے رقم کی جارہی ہیں جس نے پولیس افسروں اور جوانوں کی ٹریننگ میں بہت اہم کردار ادا کرکے پولیس کی فعالیت‘ رویہ‘ پیشہ ورانہ مہارت‘ فرض شناسی کی لگن اور ان کے لواحقین کی بہبود میں اضافہ کرنے میں منفرد اور اعلیٰ کارکردگی کا عملی نمونہ پیش کیا۔ 15 اپریل 2017ءکو ڈی آئی جی ریٹائرڈ میجر مبشر اللہ اس جہان فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے چلے گئے لیکن اپنے پیچھے کارکردگی‘ ایمانداری‘ دلیری‘ پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق اور پولیس کا ری میں مثبت انداز فکر کی ترویج کی بہترین روایات چھوڑ گئے۔
میجر (ر) مبشر اللہ کے پولیس کیرئیر کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے فیلڈ پوسٹنگ کے بجائے پولیس کے تربیتی ادارہ کی پوسٹنگ کو ترجیح دی۔ 2000ءکے آخر میں انہوں نے پولیس ٹریننگ سنٹر چوہنگ لاہور کے پرنسپل کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں اور وہ 12 مئی 2012ءکو اس ادارے کو پولیس کالج لاہور کے درجے پر فائز کرنے کے بعد ریٹائر ہوگئے۔ وہ بطور ایس پی ٹریننگ کے شعبہ میں آئے اور ڈی آئی جی کے عہدہ پر اس شعبہ سے ریٹائر ہوئے۔ یہ کسی بھی پولیس افسر کی ایک ہی جگہ پر تعیناتی کا طویل ترین عرصہ ہے۔ میں نے 2001ءمیں ڈی آئی جی ٹریننگ‘ 2003ءمیں ایڈیشنل آئی جی پنجاب اور 2008ءمیں آئی جی پنجاب کے عہدے سنبھالے۔ اس عرصہ میں مجھے مبشر مرحوم کو قریب سے دیکھنے اور ان کی کارکردگی کا عمیق جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ان کی محنت‘ پیشہ ورانہ مہارت‘ تحریک‘ نئے نئے طریقہ ہائے کار سے تربیت کے پروگراموں کو معیاری بنانے کا جنون کی حد تک جانے والا شوق مجھے متاثر کئے بغیر نہ رہ سکا۔
2004-6ءتک تفتیشی افسروں کےلئے جدید ترین سلیبس پر مشتمل کورسز کا آغاز کیا گیا۔ اس سلسلہ میں تجربہ کار پولیس افسران‘ وکلاءحضرات‘ نفسیات کے ماہرین‘ فرانزک سائنس کے سپیشلسٹ حضرات کے لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ پولیس کے رویہ کو بہترین بنانے کےلئے پرابلم سولونگ اپروچ کے تحت ان کی منفی سوچ کو مثبت سوچ بنانے اور عوام الناس کی پولیس کا درجہ عطا کرنے کا خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا۔ 2006ءکے اوائل میں ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کے لئے انٹرمیڈیٹ اور اپرکلاس کورسز شروع ہوئے۔ 2005ءمیں انسپکٹر سے ڈی ایس پی کے رینک پر ترقی کرنے کےلئے ایڈوانس کورس کا آغاز بھی مبشر اللہ نے کیا۔ خواتین پولیس افسروں کی خصوصی تربیت‘ ڈرائیور کینٹل کے لئے پیشہ ورانہ مہارت پر مشتمل کورس اور اینٹی نارکوٹکس کورس بہت سی این جی اوز بین الاقوامی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک یعنی امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس کی پولیس کے تعاون کے ساتھ شروع کرائے گئے۔
مبشر اللہ کی رہنمائی میں اس ادارے نے 2004ءمیں انٹرنیشنل سرٹیفیکیشن حاصل کی اور اسے بہترین کارکردگی کا حامل قرار دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پولیس ٹریننگ سنٹر پولیس ٹریننگ سکول اور پھر 2009ءمیں پولیس کالج لاہور کے درجہ پر فائز ہوا۔
میجر مبشر کے تربیتی کارنامے ایک جگہ پر اہم ہیں لیکن اس کے علاوہ ان کی دلیری‘ فرض شناسی‘ بے لاگ حق بات کہنے کی خصوصیت کی بنا پر اعلیٰ عدالتیں اور پولیس کے اعلیٰ افسر ہمیشہ بے لاگ تفتیش اور انصاف پر مبنی تحقیقات کے لئے خصوصی طور پر مبشر اللہ کو نامزد کرتی تھیں۔ عوامی اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ مظلوم اور حق پر ہونے والی پارٹیاں عدالتوں سے درخواست کرتیں کہ ان کے معاملے کی تفتیش میجر مبشر اللہ کریں۔
وہ 2012ءمیں پولیس سروس سے ریٹائر ہوئے۔ 14 جنوری 2017ءکو پتہ چلا کہ وہ کینسر کی موذی بیماری کا شکار ہوگئے ہیں۔ 15 اپریل 2017ءکو وہ راہئی ملک عدم ہوگئے۔ ان کی اچانک موت ان کے تمام ہم پیشہ افراد‘ عوام الناس اور ہر خاص و عام کو صدمے سے دوچار کرگئی۔
ان کی ذاتی خصوصیات میں بہترین مزاج‘ رحم دلی اور گفتگو میں چاشنی ان کو جاننے والے افراد کو ہمیشہ یاد رہیں گی۔ انہوں نے میرے ساتھ ایک تسلسل کے ساتھ تقریباً آٹھ سال کام کیا تھا۔ میری کیفیت یہ ہے کہ
ملاقاتیں ادھوری رہ گئی ہیں
کچھ باتیں ضروری رہ گئی ہیں
٭….٭….٭

ایران کا مقصد سعودی عرب پر حملہ تھا

سعودی عرب (ویب ڈیسک)عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ ایران نے یمن سے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ”اس سازش کا آغاز یمنی سرحد سے کیا گیا تھا اور اس کے جواب میں سعودی عرب اور عرب ممالک پر مشتمل اتحاد کی فورسز نے مملکت کے دفاع کے لیے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاع کے لیے مداخلت کی تھی“۔ وہ مارچ 2015ئ سے جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان کا حوالہ دے رہے تھے۔
احمد العسیری نے انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مقامی ملیشیاو¿ں کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ تہران نے حوثی ملیشیا کی مالی اور اسلحی مدد کا آغاز سنہ 2004ئ سے کیا تھا اور تب حوثیوں نے معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کی تھی۔یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں حوثی باغی ایران کے مہیا کردہ اسلحے کو استعمال کررہے ہیں اور اس حوالے سے آئے دن خبروں اور رپورٹس کی شکل میں انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔امریکا اور خلیجی ممالک بھی ایران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتے ہیں جبکہ ایران سرکاری سطح پر ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔
جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کو ایرانی ذرائع کی جانب سے حوثی جنگجوو¿ں کو ایک سو ڈالرز روزانہ دینے کا پتا چلا ہے۔اس کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی یمن میں حوثیوں کی تربیت کے لیے موجودگی کی انٹیلی جنس اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔انھیں سعودی عرب کے اندر خودکش کارروائیوں کی بھی تربیت دی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ سعودی فورسز کو یمن کو ایک ایسا میزائل اڈا بننے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی جہاں سے سعودی مملکت کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے جبکہ ایرانیوں نے ایسی ہی سازش کی تھی اور وہ یمن کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرکے وہاں سے سعودی مملکت پر حملے کرسکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن کا سرحدی علاقہ اس سازش کے نتیجے میں غیر مستحکم بن جاتا اور پھر وہاں سے ایجنٹوں کو سعودی عرب میں دراندازی کا موقع مل جاتا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ یمن میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کی جانب 48 بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں اور حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی مملکت کی حدود میں یا یمن کے اندر سعودی فورسز پر 138 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔
بریگیڈیئر عسیری کے بہ قول یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ میزائل چین ،شمالی کوریا اور سابق سوویت یونین کی ریاستوں میں تیار کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ ایران ان میزائلوں کی تیاری اور مرمت کا ذمے دار رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سب خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار ملیشیاو¿ں کے کنٹرول میں ہیں اور وہ غیر ریاستی عناصر ہیں۔اگر کسی ملک میں کوئی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی حکومت کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن غیر ریاستی عناصر کو کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے۔اس لیے ان کے قبضے میں آنے والے جدید ہتھیار بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اگر ایران یمن میں حکمرانی کی کوشش کرتا تو سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو دو محاذوں مشرقی اور جنوبی محاذ پر لگا دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت قریباً ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار یمن کے ساتھ واقع سرحد پر تعینات ہیں اور وہ چند روز ہی میں یمن پر قبضہ کرسکتے تھے لیکن ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کیونکہ ہم یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کررہے تھے اور اس کی پورے ملک میں عمل داری چاہتے تھے۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج دو سال کی جنگ کے بعد حوثیوں کو مہیا کیے جانے والے بیرونی ہتھیاروں تک رسائی سے محروم کردیا گیا ہے۔وہ اپنے بہت سے تربیت یافتہ جنگجوو¿ں اور لیڈروں سے محروم ہوچکے ہیں اور بہت سے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں کھیل کا پانسا پلٹ چکا ہے اور وہ اتحادی فورسز کے حق میں ہوچکا ہے۔