All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

کلبھوشن یادیو کے کیس کا ”نواز شریف “کے وکیل سے تعلق؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف میں سابق اٹارنی جنرل اور پاناما کیس میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کو ایڈہاک جج نامز د کرنے کیلئے مشاورت شروع کردی ہے۔ تفصیل کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں سابق جج سپریم کورٹ جسٹس خلیل الرحمان رمدے سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے پیشکش سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اٹارنی جنرل آفس نے سینئر قانون دان مخدوم علی خان اور اردن کے سابق وزیراعظم عون الخصاونتہ کے نام بطور ایڈہاک جج نامزد کرنے کیلئے وزیراعظم آفس کو بھیجے تھے تاہم مخدوم علی خان کو بین الاقوامی ثالثی مقدمات میں وسیع تجربہ کی بنیاد پر فیورٹ سمجھا جارہا ہے تاہم دفتر خارجہ اور فوجی سٹیبلشمنٹ سے رائے لینے کے بعد ایڈہاک جج کے نام کو حتمی شکل دی جائے گی ،ایڈہاک جج کیلئے نام اگلے ماہ تک فائنل کرلیا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام بھی ایڈہاک جج کیلئے زیر غور رہا تھا۔ قانونی ماہرین نے ایڈہاک جج کی نامزدگی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا حکومت کو چاہیے تھا کہ ابتدائی سماعت سے قبل ہی ایڈہاک جج مقرر کردیتی۔ پاکستان اپنے جواب میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ثبوت بھی دے گا۔

فوجی وزراءکیا کچھ کرتے رہے؟ سعید رفیق چُپ نہ رہے

 لاہور: وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق  کا کہنا ہے کہ ملک میں تبدیلی ووٹ کے ذریعے آئے گی کسی اور کو فیصلے کرنے کا حق نہیں دیں گے۔لاہور میں ریلوے اسٹیشن پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ماضی میں فوجی اور سول وزراء نے ریلوے کو کباڑ خانہ بنایا جب کہ دوبارہ وزارت نہیں لینا چاہتا تھا لیکن ریلوے کے نامکمل منصوبوں کی تکمیل اور کارکنوں نے جو محبت اور پیار دیا اسی وجہ سے دوبارہ اس کابینہ میں شامل ہوا ہوں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ووٹ کے ذریعے بنا اور ملک کا مستقبل بھی جمہوریت سے وابستہ ہے جب کہ ملک مزید انتشار اور افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا جمہوری بالادستی کی صورت میں پاکستان سے محبت کا سلسلہ جاری رکھیں گے جب کہ  تبدیلی ووٹ کے ذریعے آئے گی کسی اور کو فیصلے کرنے کا حق نہیں دیں گے ۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن تحقیقات،طاہر القادری بُری طر ح پھنس گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مورخہ 17جون 2014 کو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن نشتر ٹاﺅن لاہور اور پولیس نے ادارہ منہاج القرآن اور چیئرمین عوامی تحریک پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے ارد گرد ناجائز تجاوزات ہٹانے کیلئے کارروائی کی جس کے دوران شہریوں کا جانی و مالی نقصان ہوا اس وقوعہ کا مقدمہ انسپکٹر رضوان قادر ایس ایچ او تھانہ فیصل ٹاﺅن کی مدعیت میں مورخہ 17 جون 2014ءکو تعزیرات پاکستان کی دفعات 302, 34, 324, 290, 291, 353, 148, 149, 186 اور 7-ATA کے تحت درج کیا گیا۔وقوعہ کے دوران 28 پولیس ملازمین شدید زخمی ہوئےکے دوران 28 پولیس ملازمین شدید زخمی ہوئے جن میں سے دو کو آتشیں اسلحہ سے زخمی ہوئے جبکہ ایک پولیس ملازم محمد شریف اے ایس آئی کو ادارے کے کارکنان نے اغواءکر کے شدید زخمی کیا۔ اے آئی جی ڈاکٹر عارف مشتاق کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بشمول ممبران آئی ایس آئی اور آئی بی نے مقدمہ کی تفتیش کی جس کے دوران ادارہ منہاج القرآن کے ملازمین و ممبران کو شامل تفتیش ہونے کے لئے کئی بار طلب کیا گیا لیکن وہ شامل تفتیش نہ ہوئے۔ دوران تفتیش 9 پولیس ملازمین اور 42 ملزمان ادارہ منہاج القرآن گنہگار پائے گئے۔ 28 اگست 2014ءکو چالان عدالت میں پیش کیا گیا مورخہ 20 اکتوبر 2015ءکو فرد جرم عائد ہوئی۔ پراسیکیوشن نے 40 گواہان کی شہادت قلمبند کروائی اس دوران ملزمان التواءحاصل کرتے رہے۔ تاحال 9 چشم دید گواہان پر جرح منجانب کونسل ادارہ منہاج القرآن نہ کی گئی ہے اس وجہ سے مقدمہ کی آگے نہ بڑھ سکی۔ مقدمہ نمبر 696/14 تھانہ فیصل ٹاﺅن برخلاف سرکاری عہدیداران مورخہ 28 اگست 2014 ءکو ڈائریکٹر ایڈمن محمد جواد حامد ادارہ منہاج القرآن کی مدعیت میں درج رجسٹر ہوا۔ مقدمہ ہذا میں 24 ملزمان نامزد ہوئے۔ ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بشمول ممبران آئی ایس آئی اور آئی بی نے مقدمہ کی تفتیش کی۔ مستغیث مقدمہ شامل تفتیش نہ ہوا۔ بمطابق تفتیش 10اشخاص مقتول جبکہ 54مضروب ہوئے۔ بعد تفتیش 6 پولیس ملازمین اور 42 پاکستان عوامی تحریک کے ورکرز گنہگار پائے گئے اور چالان کئے گئے۔مورخہ 19 دسمبر 2014 کو فرد جرم عائد ہوئی اور اس میں 21 گواہان کی شہادتیں قلمبند ہوئیں۔ مورخہ 15 مارچ 2016ئ کو مستغیث جواد حامد نے ایک سال نو ماہ کی تاخیر سے عدالت میں ڈائریکٹ کمپلینٹ 139 افراد کیخلاف دائر کی۔ نورالٰہی کیس کی روشنی میں عدالت نے چالان پر کارروائی روک دی اور کمپلینٹ پر کارروائی شروع کر دی۔ 139 ملزمان میں سے ملزمان ایک تا بارہ جن میں سابق وزیراعظم پاکستان اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب شامل تھے کو عدالت نے بے گناہ سمجھتے ہوئے طلب نہ کرنے کاحکم صادر فرمایا۔جب کہ دیگر ملزمان جن میں اس وقت کے آئی جی پولیس شامل ہیں کو طلب فرمایا اور وہ عدالت میں مقدمہ کا سامنا کر رہے ہیں۔ مورخہ 08 نومبر 2016ء(قریباً آٹھ ماہ) مستغیث نے استغاثہ میں 57 سرسری گواہان کی شہادت قلمبند کروائی۔ بعدازاں مقدمہ کو التواءمیں ڈالنے کے لئے مستغیث نے درخواست زیر دفعہ 94 ضابطہ فوجداری برائے طلبی رپورٹ جوڈیشل کمیشن کورٹ میں دائر کی جو کہ خارج ہوئی جس کیخلاف مستغیث جواد حامد / ادارہ منہاج القرآن نے رٹ پٹیشن عدالت عالیہ لاہور ہائیکورٹ میںدائر کی جو مورخہ 15 دسمبر 2016ءکو خارج ہوئی۔ مقدمہ نمبر 696/14 جو کہ محمد جواد حامد مستغیث کی مدعیت میں درج رجسٹر ہوا میں 24 ملزمان نامزد تھے جبکہ کمپلینٹ میں محمد جواد حامد نے 139 ملزمان نامزد کئے۔ اب تک استغاثہ میں کل 92 پیشیاں مقرر ہوئیں جن میں سے 47 پیشیوں پر مستغیث/ادارہ منہاج القرآن کے گواہ پیش نہ ہوئے اور کارروائی استغاثہ اس بنائ پر ملتوی ہوئی۔ اس طرح استغاثہ میں تاخیر کی تمام تر ذمہ داری مستغیث /ادارہ منہاج القرآن پر عائد ہوتی ہے۔

یہاں پر ایسا نہیں ہوسکتا،ہائیکورٹ کا عوامی تحریک کو دھرنا دینے پر واضح پیغام

لاہور (ویب ڈیسک ) ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد پاکستان عوامی تحریک نے مال روڈ کے بجائے ڈی سی روڈ پردھرنے کا اعلان کردیا ہے۔پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے، کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جس سے عوام کا راستہ بند ہواوراسے تکلیف ہو، دھرنا مال روڈ کے بجائے ڈی سی روڈ پرناصرباغ کے ساتھ ہوگا۔اس سے قبل لاہورہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس مامون الرشید نے پاکستان عوامی تحریک کے مال روڈ پردھرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دھرنا شرکا کی جانب سے ضلعی حکومت کو دھرنے کے لیے دی جانے والی درخواست اوراس کی تیاریوں کی تصاویرعدالت میں پیش کردی، انہوں نے کہا کہ دھرنے کے لیے رات درخواست دی گئی، دھرنا شرکا لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔عدالت نے عوامی تحریک کے وکیل سے استفسارکیا کہ یہ دھرنا کہیں پاکستان عوامی تحریک کے امیدوارکی الیکشن مہم تو نہیں، دھرنا کتنے وقت کے لیے دیا جا رہا ہے، جس پرپی اے ٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ سیاسی دھرنا نہیں، اس میں ماڈل ٹاو¿ن کے شہدا کے ورثا شامل ہیں، دھرنا دو، تین گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جس پر جسٹس مامون الرشید نے کہا کہ جناب آپ ایک وقت بتادیں۔سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ مال روڈ کے تاجر، پاکستان عوامی تحریک اور ایڈووکیٹ جنرل معاملہ طے کریں کسی نتیجے پر پہنچ گئےتو ٹھیک ورنہ عدالت فیصلہ کرے گی۔

سروں کے بادشاہ کو مداحوں سے بچھڑے 20برس بیت گئے

لاہور (ویب ڈیسک) سروں کے بادشاہ اور شہنشاہ قوال استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے20 سال بیت گئے مگر ان کی آواز کا جادو آج بھی سرچڑھ کر بول رہا ہے۔ 1948میں فیصل آباد میں معروف قوال فتح علی خان کے ہاں پیدا ہونے والے نصرت فتح علی خان قوالی اورلوک موسیقی میں اپنی پہچان آپ تھے، نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف خاندان کے دیگرافراد کی گائی ہوئی قوالیوں سے ہوا۔ ”حق علی مولا علی“ اور ”دم مست قلندرمست مست“ نے انہیں شناخت عطا کی۔

(ن) لیگ کے 70 ایم این اے ہم سے رابطے میں ہیں، چوہدری شجاعت

 لاہور: مسلم لیگ (ق) کے صدر اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ (ن) لیگ کے 70 ارکان قومی اسمبلی بڑا فیصلے کرنے کےلیے تیار ہیں۔کراچی روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے (ق) لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ستر ایم این اے ان سے رابطے میں ہیں جو بڑا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیک نیتی سے لیگیوں کے اتحاد کا ایجنڈا لیکر کراچی جارہا ہوں، مسلم لیگیوں کے اتحاد کے مشن پر نکلا ہوں، اللہ مجھے کامیابی دے گا۔چودہری شجاعت حسین کراچی میں آج فنکشنل لیگ کے رہنما پیر پگارا، (ن) لیگ سندھ کے صدر غوث علی شاہ اوردیگر لیگی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

عوامی تحریک کے بعد پیپلز پارٹی بھی” کلثوم نواز“ کیخلاف میدان میں کود پڑی

لاہور(خصوصی نامہ نگار) عوامی تحریک کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیاجبکہ ریٹرننگ افسر نے بیگم کلثوم نواز کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے آج (بدھ ) طلب کر لیا۔ تفصےلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے این اے 120 سے امیدوارفیصل میر نے الیکشن کمیشن میں درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیگم کلثوم نے کاغذات نامزدگی میں کئی چیزیں چھپائی ہیں جس پر وہ صادق اور امین نہیں رہیںلہذا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت انہیں الیکشن کیلئے نااہل قرار دیا جائے۔اس سے قبل پاکستان عوامی تحریک کے امید وار اشتیاق چودھری نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی چیلنج کیے تھے ۔انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ن لیگ نواز شریف کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور وہ نا اہل ہو چکے ہیں اس کے علاوہ بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں اقامے کا معاہدہ بھی نہیں لگا یا لہذا الیکشن کمیشن کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی مسترد کرے جس پر ریٹرننگ افسر نے بیگم کلثوم نواز کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے آج طلب کر لیا ہے ۔عوامی تحریک نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی چیلنج کر دئیے، عوامی تحریک کے امیدوار اشتیاق چوہدری نے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کروا دی۔درخواست گزار نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں اقامہ کا معاہدہ ساتھ نہیں لگایا اور نہ ہی وہ مسلم لیگ ن کا نام استعمال کر سکتیں ہیں، مسلم لیگ ن نواز شریف کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور وہ نااہل ہوچکے ہیں لہذا الیکشن کمیشن کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی مسترد کرے۔واضح رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 120پر مسلم لیگ کی جانب سے کلثوم نواز اور تحریک انصاف کی یاسمین راشد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ پیپلز پارٹی کے زبیر کاردار اور فیصل میر نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حتمی امیدواروں کی فہرست 26اگست کو آویزاں کی جائیں گی اور 17 ستمبر کو ضمنی انتخاب کے لئے ووٹنگ ہوگی۔این اے 120ضمنی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوگیا ہے، لاہور کے این اے 120ضمنی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل شروع ہوگیاہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی یاسمین راشد کوجانچ پڑتال کیلئے 17اگست جبکہ کلثوم نواز کو کاغذات کی جانچ پڑتال کیلئے آج بروز بدھ بلالیا ہے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل 17اگست تک جاری رہے گا، واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق دائر درخواستوں پر نوازشریف کو نااہل قراردیدیاتھا اور فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے نوازشریف کی کامیابی کو ڈی نوٹیفائی کرتے ہوئے این اے 120کو خالی قرار دیاتھا، الیکشن کمیشن کے شیڈول کے تحت حتمی امیدواروں کی فہرست 26اگست کو آویزاں کی جائیں گی اور 17ستمبر کو ضمنی انتخابات کیلئے ووٹنگ ہوگی۔

18وفاقی وزراء کی گرفتاری, خبر نے ہلچل مچادی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 18 وفاقی وزیر توہین عدالت میں گرفتار ہو سکتے ہیں، آصف زرداری اپنے رسک پر واپس آئے ہیں، متحدہ بانی پچھلے چند روز میں اپنی تقاریر میں نواز شریف کی بڑی تعریفیںکرتے نظر آئے۔ سندھ میں آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہونے جا رہی ہیں۔ یہ انکشافات سینئر صحافی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 30 دن کے اندر ریفرنسز دائر نہ کئے تو توہین عدالت ہوگی۔ ریفرنسز دائر ہونے کے بعد تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے جائینگے، اکاﺅنٹس منجمد ہو جائینگے۔ ملک بلاتفریق سخت احتساب کی جانب جا رہا ہے، نواز شریف کی ریلی اور عدلیہ کےخلاف بات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ٹریک ٹو چینل مسلسل کھلا ہے۔ آصف زرداری کا خیال ہے کہ ملک میں سیاسی خلا پیدا ہو گیا ہے جسے وہ پورا کرینگے۔ زرداری نے واپس آ کر بہت بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے، اس مرحلے میں نواز شریف کی جانب سے مفاہمت کا ہاتھ بڑھایا تو پی پی پنجاب میں بڑی دراڑ پڑ جائے گی۔ پارلیمنٹ میں کوئی بھی ایسی ترمیم کی گئی جو آئین سے متصادم ہوئی تو عدالت اسے باہر پھینک دے گی۔ افغانستان میں پاک افغان امن مذاکرات ہو رہے ہیں اور وزیرخارجہ غائب ہیں۔ آصف زرداری کو ایوان صدر میں پہنچانے کی آفر واپس لائی۔ برطانیہ، یو اے ای اور سعودیہ کی کئی شخصیات بھی بیچ میں کود پڑیں ان کی یقین دہانی پر آصف زرداری واپس آئے۔ یہ انکشافات نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران سامنے آئے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ آصف زرداری کو آفر کی گئی کہ آپ کو ایوان صدر میں بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ سسٹم ہمارے ساتھ ہے، آئین میں بھی ترمیم کر لینگے۔ سعودی عرب، برطانیہ اور یو اے ای کی کئی شخصیات نے بھی اس معاملہ پر آصف زرداری کو یقین دہانی کرائی جس پر وہ واپس آئے ہیں۔

کارکنوں کو تیاری کا حکم, نواز شریف کانیا پلان سامنے آگیا

لاہور، رائیونڈ(اپنے سٹاف رپورٹر سے، مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کا اہم غیر رسمی مشاورتی اجلاس جاتی امراءرائے ونڈ میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کی تنظیم سازی ،حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب ،پارٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ،گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ ،وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ،سپیکر سردار ایاز صادق ،خواجہ محمد آصف، حمزہ شہباز،احسن اقبال، زاہد حامد، پرویز رشید، انوشہ رحمان ،سینیٹر آصف کرمانی ،رانا مقبول سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ ذرائع کے مطابق غیر رسمی مشاورتی اجلاس میں نواز شریف کی آئندہ کی سر گرمیوںبارے بھی تبادلہ خیال ہوا تاہم فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلہ میں رہنماﺅں اور کارکنو ں کی مزید مشاورت سے حتمی فیصلہ ہوگا۔اس موقع پر پارٹی کی تنظیم سازی بارے بھی گفتگو ہوئی جبکہ حلقہ این اے 120کی انتخابی مہم کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز پر بھی غوروخوض کیا گیا ۔اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے ملک کو معاشی طور پر درست سمت میں گامزن کر دیا ہے ،عوام کی خدمت مشن ہے اور ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اسے آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران عوام نے جس طرح محبت اور پذیرائی دی اسے فراموش نہیں کر سکوں گا ، پاکستان اور عوام کی ترقی کے ایجنڈے کوہر صورت آگے بڑھائیں گے۔اجلاس کے بعد سردار ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا پاکستان نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے،نواز شریف دوستوں اور عوام کے مطالبے پر جی ٹی روڈ کے راستے سے لاہور آئے تھے اور ان کو جو پذیرائی ملی وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف میرے دل میں ابھی تک وزیراعظم ہیں اسی لیے نواز شریف کے لیے میرے منہ سے بار بار وزیراعظم ہی نکلتا ہے۔مشاورتی اجلاس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کبھی کسی ادارے سے تصادم کی بات نہیں کی گئی ۔ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہر حصہ نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے، نواز شریف ہر جگہ جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ جس جگہ کے لوگ سابق وزیراعظم کو زیادہ شدت سے بلائیں گے وہ وہاں ضرور جائیں گے،عوام کے پاس جاکر ہر وہ راستہ اختیار کیا جائے گا جوبہتر ہوگا۔آئین میں ترمیم کے حوالے سے اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب آگے دیکھنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعہ اور جمعرات کو الیکشن اصلاحات بل کے حوالے سے ملاقات ہوگی جس کے لیے 125 اجلاس ہوچکے ہیں۔سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں 62اور63کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔ انہوںنے کہا کہ بارہا کہہ چکے ہیں ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور عدلیہ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ نواز شریف عوامی رہنما اور ملک کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں ۔ عوام کا ان سے پیار اور عقیدت کا اظہار تھا کہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے استقبال کےلئے باہر آیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے عدلیہ کو چیلنج نہیں کیا بلکہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں ۔ نواز شریف نے کسی موقع پر کسی ادارے کا نام نہیں لیا لیکن سازش کا ضرور ذکر کیا ہے اور وقت آنے پر وہ خود بتائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ اجلاس میں این اے 120کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے دوستوں نے رائے دی ہے جس پر تبادلہ خیال ہوا۔ آئندہ مزید اجلاس ہوں گے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ مشاورتی اجلاس میں موجودہ تحریک کو جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے دس روز کے اندر ملتان میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور جی ٹی روڈ سے ریلی کی شکل میں ملتان جانے کی تجویز دی گئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی پارٹی کارکنوں اور رہنماو¿ں تک رسائی کے لیے بڑی رابطہ مہم چلانے کی منصوبہ بندی کرلی۔اس ضمن میں وہ پہلے خیبرپختونخوا کا انتخاب کرسکتے ہیں جیسا کہ اس صوبے میں ان کے حریف عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی حکومت قائم ہے۔سابق وزیراعظم کے قریبی ساتھی کے مطا بق اس ضمن میں نواز شریف جلد ضلع مانسہرہ کا دورہ کریں گے تاکہ یہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے سپورٹرز کو متحرک اور مقامی رہنماو¿ں سے ملاقاتیں کرسکیں۔اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) مانسہرہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں جلسے بھی منعقد کرے گی۔نواز شریف کے ساتھی کا کہنا تھا کہ مانسہرہ کا دورہ ممکنہ طور پر عیدالاضحیٰ سے قبل ہوسکتا ہے تاکہ جی ٹی روڈ ریلی کے تسلسل کو جاری رکھا جاسکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عید کے بعد سابق وزیراعظم بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے دیگر علاقوں کے دوروں کا منصوبہ بھی بنارہے ہیں۔

وزیراعظم نے فاٹا کی عوام کو بڑی خوشخبری سُنادی, بڑا اعلان جاری

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات ( فاٹا) میں تعمیری تبدیلی حکومت کی ترجیح ہے اور ہم فاٹا کو دیگر وفاقی اکائیوں کے برابر لانے کے خواہاں ہیں، تمام سماجی شعبوں میں فاٹا کے رہائشیوں سے یکساں سلوک کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ منگل کو وزیر اعظم آفس میں ان سے ملاقات کرنے والے سینیٹرز میں ہدایت اللہ ، حاجی مومن خان آفریدی ، اورنگزیب خان ، ہلال الرحمٰن، سجاد حسین طوری، محمد صالح شاہ ، تاج محمد آفریدی اور ملک نجم الحسن شامل تھے۔ فاٹا کے سینیٹرز نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے ان کے علاقوں میں ترقی کی شرح کو بری طرح متاثر کیا اور بنیادی ڈھانچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فاٹا میں تبدیلی اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی ہماری حکومت کی ترجیح ہے اور ہم فاٹا کو دیگر وفاقی اکائیوں کے برابر لانا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی اس ضمن میں اقدامات اٹھائے چکے ہیں اور فریقین کی مشاورت سے قانونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ فاٹا کے امور میں تعمیری تبدیلی کو ترجیح دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ صحت، تعلیم ، بنیادی ڈھانچے اور سماجی شعبوں میں بہتری کے لئے فاٹا کے لئے اضافی وسائل مختص کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ وہ جلد فاٹا کادورہ بھی کریں گے۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پولیو کا خاتمہ آنے والی نسلوں کی بقاءکے لئے ضروری ہے‘ سیاسی قیادت پولیو کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے‘ انسداد پولیو کے لئے صوبائی حکومتیں مربوط کوششیں کریں‘ پولیو کے خاتمے کے لئے قومی ٹاسک فورس کا اجلاس فوری طلب کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لئے قومی ٹاسک فورس کا اجلاس فوری طلب کیا جائے۔ پولیو کے خاتمے کے لئے پیش رفت کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو کے لئے صوبائی حکومتیں مربوط کوششیں کریں پولیو کے خاتمے کے لئے تمام فریق بین الاقوامی اداروں سے مل کر کوششیں کریں۔ سیاسی قیادت پولیو کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ آنے والی نسلوں کی بقاءکے لئے ضروری ہے۔ وزیراعطم نے پولیو کے خاتمے کے لئے وزارت قومی صحت کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہیں اور وہ توانائی ، بنیادی ڈھانچے ، ریلوے اور دیگر شعبوں سمیت ان شاندار منصوبہ جات پر پیشرفت کی ذاتی طورپر نگرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات سی پیک کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید سے گفتگوکرتے ہوئے کہی سی پیک کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ وزیرا عظم کو پیش کی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ہے۔ سی پیک کے منصوبہ جات پاک چین تعلقات کے استحکام کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور پاکستان کے لئے ایک تابناک مستقبل کے حصول میں معاون ہوں گے ۔وزیر اعظم نے سی پیک منصوبہ جات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں سی پیک کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے کردار کو سراہا۔