All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

اونٹنی کا دودھ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

لاہور( ویب ڈیسک ) لگ بھگ ہر ایک ہی گائے کا دودھ پیتا ہے مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ اونٹنی کا دودھ کتنا فائدہ مند ہے؟کیا آپ جانتے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ ایسے متعدد امراض کا علاج ثابت ہوتا ہے جو کہ گائے کے دودھ سے دور نہیں ہوتے؟

گائے کا دودھ بمقابلہ اونٹنی کا دودھ
اونٹنی کے دودھ کے متعدد فوائد دیگر اقسام کے دودھ سے زیادہ ہوتے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ صحت بخش ہے، یہ ماں کے دودھ کے قریب ہوتا ہے جسے ہضم کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ یہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔

دونوں میں فرق کیا ہے؟
اونٹنی کے دودھ میں منرلز جیسے آئرن، زنک، پوٹاشیم، کاپر، سوڈیم اور میگنیشم کا اجتماع گائے کے دودھ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح اس دودھ میں وٹامن اے اور بی ٹو کی سطھ بھی زیادہ ہوتی ہے اور ہاں پروٹین کی مقدار بھی گائے کے دودھ سے زیادہ ہوتی ہے۔

اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار گائے کے دودھ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔

یہ دودھ جراثیم کش ہوتا ہے جبکہ اس میں کولیسٹرول کی مقدار بھی گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

اس دودھ کے فوائد
بچوں کی الرجی کے لیے فائدہ مند
یہ دودھ ان بچوں کے لیے مثالی گھریلو ٹوٹکا ہے جو متعدد اقسام کی غذا?ں سے لارجی کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اونٹنی کے دودھ کا استعمال بچوں میں گائے کے دودھ یا دیگر غذا?ں سے ہونے والی الرجی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

آٹو امیون امراض کے خلاف مزاحمت
آٹو امیون (ایسے امراض جن میں ہمارا مدافعتی جسم ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے) امراض پر قابو پانے کے لیے بھی اونٹنی کا دودھ فائدہ مند ہے، یہ اینٹ باڈیز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ خارجی باڈیز کو ہدف بناکر امراض کا باعث بننے والے مواد کا خاتمہ کرتے ہیں۔

قوت مدافعت میں اضافہ
اونٹنی کا دودھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے اخراج میں مدد دیتے ہیں، جس سے مختلف امراض سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ جاننا بہت آسان

عمر کے اثرات کو کنٹرول کرے
اس دودھ میں ایک جز الفا ہائیڈروڑل ایسڈ ہوتا ہے جو کہ فائن لائن کو ہموار کرکے جھریوں کی روک تھام کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ورم کش
اس دودھ میں ورم کش خصوصیات بھی ہیں جو کہ کھانسی، جڑوں کے امراض اور دیگر کے علاج میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کی روک تھام
اس دودھ میں موجود اجزا ذیابیطس سے تحفظ دینے یا اس سے کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں، اس مٰں ایک انسولین جیسا پروٹین موجود ہے جو کہ ذیابیطس کے اثرات کو کم کرتا ہے،خون کے لیے اس دودھ میں موجود انسولین کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی موثر
اس دودھ میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ کم کرتی ہے، اس مٰں موجود اجزا بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرتے ہیں جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

جاپان کی خوبصورت ترین ٹرک ڈرائیور سے ملیے

جاپان( ویب ڈیسک ) اگرچہ دنیا کے تمام ممالک میں زیادہ تر بھاری ٹرک مرد ڈرائیورز ہی چلاتے ہیں، لیکن گزشتہ چند سال سے دیگر شعبوں کی طرح اس میں بھی کچھ تبدیلیاں ا?ئی ہیں۔

جنوبی و شمالی امریکا او یورپ سمیت وسطی ایشیا کے چند ممالک میں اب خواتین بھی بڑی اور بھاری ٹرک چلانے لگی ہیں۔

خواتین کاریں، ٹیکسیاں، بسیں اور جہاز تو پہلے بھی چلاتی تھیں، تاہم ٹرک چلانے کے بعد خواتین کو شہرت بھی ملنے لگی ہے، کیوں کہ ٹرکوں کی ڈرائیونگ کرنا کوئی ا?سان کام نہیں سمجھا جاتا۔

یہ بھی سچ ہے کہ ڈرائیورز اور خصوصی طور پر ٹرک ڈرائیورز اپنی خوبصورتی اور لباس کا خیال نہیں رکھ پاتے۔

مگر جاپان کی ایک ایسی خاتون ٹرک ڈرائیور بھی ہیں، جو نہ صرف اپنی صحت اور صفائی کا خیال رکھتی ہیں بلکہ وہ سوشل میڈیا پر بھی متحرک رہتی ہیں۔

جی ہاں، جاپان کی 28 سالہ رینو سساکی کو دنیا کی خوبصورت ترین ٹرک ڈرائیور بھی کہا جا رہا ہے، جب کہ انہیں جاپان کی پرکشش اور خوبصورت ترین ٹرک ڈرائیور کا اعزاز پہلے ہی حاصل ہے۔

رینو سساکی اب اگرچہ 28 برس کی ہوچکی ہیں، تاہم انہوں نے ٹرک کی ڈرائیونگ محض 21 برس سے اس وقت شروع کی، جب ان کے والد سخت بیمار پڑگئے اور انہیں ایک ساتھی کی ضرورت پڑی۔
امریکی اخبار ’دی مرر‘ کے مطابق رینو سساکی ٹرک کی ڈرائیونگ کرنے سے قبل ڈانس کی تربیت دیتی تھیں اور انہیں ڈرائیونگ اور خصوصی طور پر ٹرک ڈرائیونگ کا کوئی شوق نہیں تھا۔

تاہم رینو سساکی کے والد بیمار پڑگئے، جس کے بعد انہوں نے ابتدائی طور پر اپنے والد کا خیال رکھنے کے لیے ان کے ساتھ سفر اور ڈرائیونگ کرنا شروع کی، تاہم بعد ازاں وہ مکمل ٹرک ڈرائیور بن کر رہ گئیں۔

سی ٹی ڈی کا انٹیلی جنس آپریشن اس طرح ہونا چاہیے کہ ہر شخص سوچنے پر مجبورہو اسکی جان محفوظ ہے: ذوالفقار راحت، پولیس اصلاحات کیلئے ناصر درانی آئے مگر مداخلت کی وجہ سے چارج چھوڑ گئے: آغا باقر، اطلاع درست بھی تھی تو گرفتار کرلیا جاتا، ذاتی عناد پر بھی بات ہونی چاہیے: امجد اقبال ، ایف آئی آر میں اہلکاروں کے نام درج، حکومتی وزراءکے بیانات بغیر سوچے سمجھے: میاں افضل ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار ذوالفقار راحت نے کہا کہ ساہیوال کا سانحہ بہت اندوہناک ہے سی ٹی ڈی کا انٹیلی جنس آپریشن جب اس طرح ہو سکتا ہے تو ہر شخص ہی سوچنے پر مجبور ہے کیا اس کی جان محفوظ ہے واقعے کے بعد بیانات میں تضاد بھی افسوسناک ہے۔ چینل فائیو کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جعلی پولیس مقابلوں سے پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے، پولیس اصلاحات کے لئے ناصر درانی آئے لیکن مداخلت کی وجہ سے چارج چھوڑ گئے۔ حکومت کو اب کام کر کے دکھانا ہو گا۔ اس وقت لیڈر شپ کا امتحان ہے۔ نااہلی کی درخواست پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس طرح کی درخواستیں سماعت کے لئے مقرر ہونے سے چہ مگوئیاں جنم لیتی ہیں اور ملکی حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست پر انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں زرداری کے خلاف فیصلہ آ بھی سکتا ہے۔ کالم نگار و پروگرام کے میزبان آ غا باقر نے کہا ہے کہ ساہیوال واقعہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اس قسم کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے اگر ذمہ داران کو سزا ملتی تو ان واقعات کا تدارک ہو سکتا تھا۔سوال یہ ہے جن کے بچوں کے ماں باپ ہلاک ہو گئے کیا ان بچوں کو پھولوں کا گلدستہ دینا کچھ عجیب نہیں لگتا۔ قطر سے وزیراعظم عمران خان کچھ نہ کچھ لے کر ہی آئیں گے۔تحریک انصاف نے بھی زرداری کے خلاف نااہلی کے لئے رٹ دائر کر دی ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کارامجد اقبال نے کہا کہ ساہیوال واقعہ کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بات قبل از وقت ہے ساہیوال واقعہ سی ٹی ڈی کی پیشہ وارانہ غفلت ہے جعلی پولیس مقابلے الگ اصطلاح ہے۔فرض کریں اطلاع درست بھی تھی تو گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے خیال میں اس واقعے پر ذاتی عناد پر بھی بات کر نی چاہئے جو کسی نے نہیں کی۔ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں کہ دہشت گرد فیملیوں کے ساتھ سفر کرتے رہے لیکن درست معلومات کی بنیادپر ہی کارروائی ہونی چاہئے۔قطر کے طالبان کے اس حد تک تعلقات ہیں کہ وہاں طالبان کا دفتر کھلا ہوا تھا۔ نمائندہ خصوصی وکالم نگارمیاں افضل نے کہا کہ ساہیوال واقعے پر حکومتی وزراءکے بیانات قبل ازروقت اور بغیر سوچے سمجھے تھے۔ ایک بات بتاتا چلوں کہ پولیس کی مدعیت میں ساہیوال واقعے کی جوجوایف آئی آر کاٹی گئی اس میں تمام سی ٹی ڈی اہلکاروں کے نام ہیں۔ وزیراعظم عمران خان قطر گئے ہوئے ہیں دیگر ملکوں کے دورے بھی کر چکے ہیں چلیں کچھ نہ کچھ تو آ ہی رہاہے ۔

پالتو بلیوں کے نخرے کوئی اٹھائے تو ایسے!

لاہور( ویب ڈیسک ) بلی ایک ایسا جانور جو کئی لوگوں کا من بھاتا پالتو جانور ہوتی ہے۔ جو لوگ بلی کو پالتے ہیں وہ اس کے نخرے بھی خوب اٹھاتے ہیں۔ ایک خاندان ایسا بھی ہے جو نخرے اٹھانے میں کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ گیا؟سلیکون ویلی سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے حال ہی میں 1500 ڈالر پر ایک فلیٹ کرائے پر لیا ہے۔ کسی اور کے لیے نہیں اپنی پالتو بلیوں کے لیے۔

یہ پڑھ کر آپ یہ سمجھے ہوں گے کہ ان پالتو بلیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گی کہ یہ خاندان اور بلیاں ایک ساتھ ایک گھر میں نہیں رہ سکتیں؟ جی نہیں ایسا کچھ نہیں۔ یہ پالتو بلیاں تعداد میں صرف دو ہیں۔

صرف دو بلیاں ایک خاندان کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ کیا اس خاندان میں لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ لیکن بات یہ بھی نہیں ہے، مسئلہ ہے ان پالتو کتوں کا جن کی وجہ سے یہ بلیاں اس گھر میں نہیں رہ سکتی تھیں۔

ڈیوڈ کالش کیلی فورنیا میں اپنے 425 اسکوائڑ فٹ کے رقبے پر محیط اپارٹمنٹ میں رہنے والے اپنے کرایہ داروں سے خوش نہیں ہیں۔ یہ نہ تو سگریٹ پیتے ہیں، نہ کسی اور عادت بد میں مبتلا ہیں اور نہ ہی اونچی آواز میں موسیقی سنتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹینا اور لوئس دو بلیاں ہیں۔

کیلش کے دوست ٹرائے نے اس سے درخواست کی کہ وہ اپنے گھر میں ان کی بیٹی کی پالتو بلیوں کو بطور کرایہ دار اپنے ساتھ رکھ لے۔ یہ سن کر انھیں حیرت تو بہت ہوئی لیکن پھر انھیں احساس ہوا کہ بلیوں سے بہتر انھیں کوئی کرائے دار نہیں مل سکتا۔

ٹرائے کی 18 سالہ بیٹی وکٹوریہ کے پاس دو پالتو بلیاں ہیں جنھیں وہ اپنے ساتھ یونی ورسٹی کے ہاسٹل میں نہیں رکھ سکتی تھی۔ اس کے لیے اس نے اپنے والد سے مدد مانگی لیکن اس کے والد کے پاس پہلے ہی سے ایک پالتو کتا تھا۔

ک±تے اور بلی کی ازلی دشمنی سے پریشان ہو کر پالتو بلیاں کے لیے علیحدہ سے کرائے پر جگہ ڈھونڈ لی گئی۔

یہ خبر سوشل میڈیا پر عام ہوتی ہی تنقید کا سلسہ شروع ہو گیا۔ لوگوں کے مطابق جب انسان کو جگہ میسر نا ہو لیکن بلیوں کے ایک علیحدہ سے جگہ کرائے پر لے لی گئی ہو تو کچھ عجیب لگتا ہے۔

جھانوی سے زیادہ سارہ علی کو توجہ ملنے پربونی کپور چکرا گئے

ممبئی(شوبزڈیسک ) بالی وڈ پروڈیوسر بونی کپور اپنی بیٹی جھانوی کپور سے زیادہ سیف علی خان کی بیٹی سارہ کو میڈیا پر توجہ ملنے پر ناراض ہوگئے۔پروڈیوسر بونی کپور اورسری دیوی کی بیٹی جھانوی اور سیف علی خان اورامرتا سنگھ کی بیٹی سارہ علی خان کو بالی وڈ کی مستقبل کی سٹارز کہاجارہا ہے، دونوں نے بالی ووڈ میں اکٹھے انٹری دی ۔ میڈیا پر سارہ اور جھانوی کے درمیان مقابلے کی خبریں بھی گردش میں رہیں جھانوی فلم دھڑک میں نظر آئی تھیں جب کہ سارہ علی خان نے دو فلموںکیدار ناتھا اورسمبامیں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ سمبا سپر ہٹ فلموں میں سے ایک ہے سارہ کو میڈیا پر جھانوی سے زیادہ مقبولیت ملی اوراسی بات کو لے کر جھانوی کے والد بونی کپور پریشان ہوگئے ہیں۔

پِلاک میں صوفی نائٹ ‘ سائیں ظہور، حنا نصر اﷲ نے سماں باندھ دیا

لاہور( شوبزڈیسک )پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک) میں پاک میڈیا یو کے کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں صوفی میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مختلف صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے علاوہ مشہور ادیبوں اور دانشوروں نے بھر پور شرکت کی۔ اِس موقع پر پلاک اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ان کی فیملی کیلئے پلاک حقیقی معنوں میں اقدامات کررہا ہے۔ عالمی شہرت یافتہ صوفی گائیک سائیں ظہور، حنا نصر اللہ اور سائرہ طاہر نے پروگرام میں صوفیانہ کلام پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لئے۔ آخر میں ٹیم کے تمام ممبران کو پِلاک ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تقریب میں صدر پریس کلب ارشد انصاری نے خصوصی شرکت کی۔

عمران ہاشمی کی فلم باکس آفس پر شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

ممبئی (شوبزڈیسک) بالی وڈ اداکارعمران ہاشمی کی فلم باکس آفس پر شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام ہو گئی جو ریلیز کے پہلے روز صرف 1.71کروڑ کما سکی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سومیک سین کی ہدایت کاری اور عمران ہاشمی کی پروڈکشن میں بنے والی فلم ”وائے چیٹ انڈیا“ 18جولائی کو ریلیز کی گئی لیکن فلم شائقین کی توجہ کا مرکزی نہیں بن سکی اور ریلیز کے پہلے روز صرف ایک کروڑ 71لاکھ روپے کا ہی بزنس کر سکی۔

سوہا علی خان بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی قائل نہیں

ممبئی (شوبزڈیسک) بالی وڈ اداکارہ سوہا علی خان کا کہنا ہے کہ بطور والدےن ہمیں بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہیے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اداکارہ سوہا علی خان نے مےڈےا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ والدےن کو بچوں پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہیے اور ان کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی خواہشات کو رد کرنے اور ان کو اہمیت نہ دینے سے ان کے اندر بغاوت اور ضد کا عنصر جنم لیتا ہے جو سراسر غلط ہے۔

پاکستان میں کرکٹ نے ہاکی کو گول کر دیا :شہباز

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف)کے سابق سیکرٹری شہباز سینئرنے کہا ہے کہ گزشتہ 15برسوں کے دوران ہاکی ہمارے نوجوانوں میں مقبول نہیں رہی اور اب نوجوان ہاکی کی جگہ کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دے رہے ہیں، وزرات بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ جس کی وجہ سے تمام تر تنقید ہاکی فیڈریشن کو برداشت کرنا پڑی۔میڈیاسے بات چیت کے دوران شہباز سینئرنے کہاکہ نوجوانوں میں اگر کسی بھی کھیل کے لیے جذبہ اور جنون ختم ہوجائے تو اس کا ٹاپ لیول پر رہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ بچوں کے کرکٹ کی طرف رجحان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کھیل میں آکر مالی طورپر فائدے میں رہیں گے، اگر کوئی اچھا کرکٹر ہے تو وہ ٹیم میں جگہ حاصل نہیں بھی کرتا تو وہ کسی نہ کسی محکمے میں ملازمت حاصل کرلے گا، ملک اور بیرون ملک بہت سی لیگز ہورہی ہیں، وہاں جاکر کھیل لے گا۔ اس کے پاس بہت سے ایسے پلیٹ فارم ہیں جہاں جاکر وہ کھیل سکتا ہے۔شہباز سینئر کا کہنا تھا کہ جہاں تک ہاکی کی بات ہے تو اس کے لیے ملکی ہاکی میں پیسہ نہ ہونے کے برابر ہے، حکومتی فنڈنگ ویسی نہیں جیسی ہونے کی ضرورت ہے، ہاکی فیڈریشن کے پاس کوئی ایسا نظام یا پراپرٹی نہیں، جہاں ایسا سینٹر بناکر تعلیم، خوراک، جم، سوئمنگ پول اور کوچنگ سمیت پلیئرز کی تمام ضروریات کا خیال رکھا جاسکے۔سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ایسا نظام ہونا چاہیے کہ جس میں جونیئر لیول سے سینیئر لیول تک کوالیفائیڈ کوچز اور ٹرینرز دستیاب ہوں۔، تمام کیمپ ایک جگہ پورے سال کے لیے پلان کرسکیں، اس وقت تک رزلٹ ملنا ناممکن ہیں۔ موجودہ صورت حال میں نوجوان ٹیم سے نتائج کی زیادہ امید نہیں رکھنا چاہیے۔ہاکی اولمپئنز کی جانب سے تنقید کے سوال پر ورلڈ کپ 1994 کی گولڈ میڈلسٹ ٹیم کے کپتان کا موقف تھا کہ ہم ایک دوسرے پر اتنا زیادہ کیچڑ اچھالتے ہیں کہ کسی کی عزت نہیں رہتی۔ انہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اسی ہاکی نے انہیں اس مقام تک پہنچایاہے۔ ہاکی ان کی پہچان ہے اور اسی وجہ سے لوگ ان کی عزت اور احترام کرتے ہیں، ان کی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ اپنی وہ رائے دیں جس سے قومی کھیل کی نیک نامی اور توقیر میں اضافہ ہو۔یورپین ٹیموں کے سسٹم پر بات کرتے ہوئے شہباز سینیئر نے اس بات کی تائید کی کہ ان کا اور ہمارا سسٹم بہت مختلف ہے۔ ہمارے ہاں ہر شہر میں الگ الگ انداز اور طریقہ کار سے ہاکی ہورہی ہے جب کہ گوروں میں ایسا نہیں، وہ ایک ہی طرح کی ہاکی کھیل رہے ہیں۔ ہمیں بھی ایسا ہی کرنا پڑے گا۔حکومتی رویے پر نالاں مستعفی ہونے والے سابق سیکریٹری پی ایچ ایف نے گلہ کیا کہ وزرات بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا۔ جس کی وجہ سے تمام تر تنقید ہاکی فیڈریشن کو برداشت کرنا پڑی۔ اس سے ملک نام بدنام ہونے کے ساتھ کھیل کا بھی نقصان ہورہاہے۔ بہت کوشش کی کہ حکومت کو اس بات کا احساس دلائیں کہ ان کی دلچسپی اس جانب بہت ضروری ہے۔ پاکستان ہاکی کو سالانہ 20 کروڑ روپے سے زیادہ کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ لانگ ٹرم پلاننگ کی طرف توجہ دینا ہوگی۔شہباز سینئر نے کہا کہ جاپان،بیلجیم، انڈیا، ملائیشیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ان ملکوں میں کس طرح ڈویلپمنٹ پر کام کیا۔ ہمیں ان ملکوں سے نصف بجٹ دے دیں، دوسال میں ہاکی کو دوبارہ کھڑا کرسکتےہیں۔ حکومت اگر ہاکی کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے تواس میں وہ ٹیکنوکریٹس لائے جو ان کے لیے نعرے لگانے والے نہ ہوں۔ اولمپئنز کی مشاورت سے ایسی اصلاحات بنائی جائیں جن سے مستقبل میں حالات بہت بہتر ہوسکیں۔ ہمارا موجودہ کوچنگ سسٹم درست نہیں، اب جدید ہاکی میں 2 کوچنگ کورس کرنے سے کام نہیں بنے گا۔ک وچ ایجوکیشن کی طرف پوری توجہ دینا ہوگی،اس کے سب تقاضوں کو اپنانا ہوگا۔جتنے گورے کوچز ہیں وہ کلب لیول سے کوچنگ کرنے کے ساتھ اپنی ایجوکیشن کو بڑھا کر اوپر آتے ہیں۔ ہمیں ان نوجوان کوچز پر فوکس کرنا ہوگا جن میں کوچنگ کی صلاحیت کے ساتھ انگلش میں بھی عبور ہو۔ہمیں کسی ایک کلب، صوبے یا گروپ کے بجائے پاکستان سے پیار کرنے والے نیک نیت لوگوں کو آگے لانے کی ضرورت ہے۔

قومی ویمنزکرکٹرزکےلئے سنٹرل کنٹریکٹ کااعلان

لاہور(سپورٹس رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ نے خواتین کرکٹرز کیلئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا۔بورڈ نے 17 خواتین کرکٹرز کو کارکردگی کی بنیاد پر 6 ماہ کا سینٹرل کنٹریکٹ دیا جو یکم جنوری سے 30 جون تک ہوگا، بسمعہ معروف، جویریہ ودود، ناہیدہ بی بی اور ثنا میر کو اے کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔بی کیٹیگری پانے والوں میں نشرہ سندھو، سدرہ نواز اور ندا راشد شامل ہیں۔ عالیہ ریاض، انعم امین، ڈیانا بیگ، عمائمہ سہیل اور سدرہ امین کو سی کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔ایمن انور، کائنات امتیاز، عائشہ ظفر، منیبہ علی صدیقی اور نتالیہ پرویز ڈی کیٹیگری میں شامل ہیں۔ فریحہ محمود، غلام فاطمہ، ماہم طارق اور رامین اس بار کنٹریکٹ فہرست میں جگہ نہیں پاسکیں۔ عمائمہ سہیل پہلی بار سینٹرل کنٹریکٹ پانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔