All posts by asif azam

https://www.facebook.com/asif.azam.33821

شعیب ملک نے پاکستان کی لاج رکھ لی

دبئی (ٹرینڈی ایڈ یٹررپورٹ) ایشیا کپ سپر فور مرحلے کے دوسرے میچ میں پاکستان نے 258 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دے دی اور ہدف آخری اوور میں حاصل کرلیا۔ہدف کے تعاقب کے لئے پاکستان کے فخر زمان اور امام الحق نے اننگز کا آغاز کیا ،پہلے اوور کی آخری گیند پرصفر کے مجموعی اسکور پر فخرزمان کو مجیب الرحمن نے ایل بی ڈبلیو آﺅٹ کر دیا ،وہ ایونٹ میں دوسری بار صفر پر آﺅٹ ہوئے ہیں۔دوسری وکٹ پر امام الحق اور بابر اعظم نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 154 رنز کی شاندار شراکت قائم کی تاہم دونوں بیٹسمین اوپر تلے آﺅٹ ہوگئے،امام الحق 80 رنزبناکر رن آﺅٹ ہوئے جبکہ بابر اعظم 66 رنز بناکر اسٹمپ ہوگئے۔اس کے بعد حارث سہیل اور شعیب ملک نے ہدف کے لیے محاذ سنبھالا مگر حارث سہیل محض 13 رنز پر پویلین لوٹ گئے،ان کے بعد کپتان سرفراز احمد بیٹنگ کے لیے آئے۔سرفراز احمد بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر سکے اور محض 8 رنز کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ ان کے بعد آصف علی کھیلنے آئے جو ایک چھکا مارنے کے بعد آوٹ ہوگئے۔قبل ازیں افغانستان نے حشمت اللہ شاہدی کی شانداربیٹنگ کی بدولت مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹ پر 257 رنز بنائے اور پاکستان کو 258 رنز کا ہدف دیا۔ابوظبی کرکٹ اسٹیڈیم کھیلے جانے والے میچ میں افغانستان نے حشمت اللہ 97رنز ناٹ آﺅٹ ،کپتان اصغر 67 اور رحمت شاہ 36 رنز کی بدولت 6 وکٹ پر 257 رنز بنائے۔گرین شرٹس کی طرف سے محمد نواز کامیاب ترین بالر رہے، انہوں نے 10 اوورز 57 رنز کے عوض 3 وکٹیں اپنے نام کیں، شاہین آفریدی نے 38رنز دے کر2 اور حسن علی نے 51 رنز دے کر ایک افغان کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔

بھارتی بولنگ کے آگے بنگالی شیر 173رنز پر ڈھیر

دبئی (ٹرینڈی ایڈ یٹررپورٹ) ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے کے پہلے میں بنگلادیش کی بیٹنگ لائن بھارتی بولنگ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 173 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ دبئی اسٹیڈیم میں ہورہے میچ میں بھارتی کپتان روہیت شرما نے ٹاس جیت کر مشرفی مرتضی الیون کو بیٹنگ کی دعوت دی ۔بنگلادیش کی طرف سے لیٹن داس اور ناظم الحسین نے اننگز کا آغاز کیا،بنگال ٹائیگر کو پہلا نقصان 15 کے اسکور پر ہوا جب1 چوکے کی مدد سے 7 رنز بنانے والے لیٹن داس کو بھونیشور کمار نے جادیو کی مدد سے قابو کرلیا ۔ بنگلادیش کو دوسرا نقصان ایک رنز کے اضافے کے بعد یعنی16 رنز پر اٹھانا پڑا ،7 ہی رنز بنانے والے دوسرے اوپنر ناظم الحسین کو جسپریت بمبرا نے پویلین کی راہ دکھائی۔ تیسری وکٹ پر شکیب الحسن اور مشفق الرحیم نے تھوڑی سی مزاحمت کی ،تاہم بھارت نے 42 کے اسکور پر 3چوکوں کی مدد سے 17 رنزبنانے والے شکیب الحسن کو میدان بدر کردیا ، ان کی وکٹ رویندراجدیجا کے حصے میں آئی۔ روہیت شرما الیون کو چوتھی وکٹ کےلئے 60 کے اسکور تک انتظار کرنا پڑا، محمد متھون 6 رنز بناکر رویندراجدیجا کا دوسرا شکار بن گئے،65 کے اسکور پر بنگلادیش کی پانچویں اور انتہائی وکٹ بھی گر گئی، مشفق الرحیم 21 رنز جدیجا کے تیسرے شکار بن گئے۔ بنگلادیش کی چھٹی وکٹ 101 کے اسکور پر گری ،بھونیشور کمار نے 3 چوکوں کی مدد سے 25 رنز بنانے والے محمود اللہ کو ایل بی ڈبلیو آﺅٹ کیا، اسی اسکور پر اگلے اوور میں جدیجا نے مصدق حسین کو اپنا چوتھا شکار بنایا، بنگلادیشی بیٹسمین 12 رنز بناکر میدان چھوڑ گئے۔ کپتان مشرفی مرتضی آﺅٹ ہونے والے آٹھویں کھلاڑی تھے ،انہوں نے مہدی حسین کے ہمراہ 66 رنز کی شراکت قائم کی ،2چھکوں کی مدد سے 26 رنز بنانے والے بنگلادیشی کپتان کی وکٹ بھونیشور کمار کے حصے میں آئی۔ 48 ویں اوور میں169 کے اسکور پر بنگلادیشی اننگز کے ٹاپ اسکور مہدی حسین کو جسپریت بمبرا نے پویلین کی راہ دکھائی ، 50گیندوں پر 42 رنز بنانے والے بیٹسمین نے اپنی اننگز کے دوران 2 چھکے اور 2 چوکے بھی لگائے۔ 50 ویں اوور کی پہلی گیند پر جسپریت بہمرا نے مستفیض الرحیم 3 رنز کو شیکھردھون کی مدد سے قابو کیا اور میچ میں تیسری وکٹ اپنے نام کی۔ بھارت کی طرف رویندرا جدیجا 4، بھونیشور کمار اور جسپریت بہمرا نے 3،3 بنگلادیشی کھلاڑیوں پویلین کی راہ دکھائی۔

اب بھی کہتے ہیں ! بھارت ایک قدم بڑھائے ، ہم 2 بڑھائینگے : پاکستان

اسلام آباد (ٹرینڈی ایڈیٹر رپورٹ)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی منسوخی کی خبر سن کر حیرت اور افسوس ہوا، ایک موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں بہتری کا خواہشمند ہے لیکن لگتا ہے کہ بھارت کی ترجیحات ہی اور ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری طرح بھارت نے بھی مذاکرات کا عندیہ دیا تھا، افسوس ہے کہ بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے الجھے مسائل کو سلجھانے کی ضرورت ہے، ثبوت اور مداخلت کے باوجود مثبت انداز میں آگے بڑھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا رویہ مثبت ہے لیکن افسوس بھارت سیاست سے نہیں نکل پا رہا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل بات چیت سے ہی ممکن ہے، پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت کے باوجود ہم نے مذاکرات کی جانب پیش قدمی کی، اب بھی کہتے ہیں بھارت ایک قدم آگے بڑھے، ہم دو قدم بڑھیں گے کیونکہ مسائل کا حل مل بیٹھ کر بات کرنے میں ہی ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات ہوں گے تو باوقار طریقے سے ہوں گے، اگر بھارت کو مذاکرات کی عجلت نہیں ہے تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈرشپ کا کام معاملات کو سلجھانا ہوتا ہے، اگر ہندوستان اپنی پرانی سوچ کی قید میں جکڑا رہے گا تو غربت کی لکیر کے نیچے کروڑوں لوگوں کے مسائل کون حل کرے گا۔ دریں اثناءوفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ بھارت میں شدت پسند گروہ امن عمل سبوتاژ کر رہے ہیں اور بھارت کی حکومت بھی شدت پسندی کے زیراثر ہے۔ بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کرنے کے بعد خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان کا امن کا عمل دنیا دیکھ رہی ہے، پاکستان نے امن کی بات کی اور مذاکرات کے لیے کھڑا ہے، امن کے لیے جو ممکن ہے وہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں شدت پسند گروہ یہ سبوتاژ کر رہے ہیں اور بھارت کی حکومت بھی شدت پسندی کے زیراثر ہے، پاکستان نے کھلے دل کا مظاہرہ کیا، وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں بھارتی کرکٹرز کو مدعو کیا گیا، سدھو پاکستان آئے لیکن بھارت میں ان کے ساتھ کیا ہوا، اس سے پتہ چلتا ہے بھارتی معاشرے میں کتنی شدت پسندی ہے۔ پاکستان امن کے لیے کھڑا ہے لیکن بھارت میں ایک طبقہ ہے جو امن نہیں چاہتا، وہ طبقہ بہت بااثر ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بھارت نے پہلے ملاقات کی رضامندی ظاہر کی پھر پیچھے ہٹ گیا، اس سے پتہ چلتا ہے بھارتی حکومت کے اندر یکجہتی نہیں ہے وہ تقسیم نظر آ رہے ہیں لیکن ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ وزیرخارجہ آج رات جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں، وہاں پر ان کی تمام اہم ترین وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہیں۔ فواد چودھری نے مزید کہا کہ عالمی رائے عامہ میں پاکستان کو سنجیدہ ملک کے طور پر لیا جارہا ہے، ایسے ملک کے طور پر جو امن کا خواہاں ہے اور بھارت کا رویہ سب لوگ دیکھ رہے ہیں، جو غیرسنجیدگی کا مظاہرہ بھارت کی طرف سے ہوا، دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملاقات میں کوئی قباحت نہیں ہے، اگر گفتگو نہیں کریں گے تو جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، اگر لڑتے رہنا ہے تو اگلے 70 سال بھی لڑتے رہیں، ہم امن کے لیے ہاتھ بڑھا رہے ہیں لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، ہم نے اپنی سنجیدگی اور تمنا ظاہر کردی ہے، ہم غربت کی لکیر سے نیچے دونوں ممالک کے کروڑوں لوگوں کے مفاد کے لیے امن کی بات کررہے ہیں۔ فواد چودھری نے کہاکہ بھارت دنیا میں تنہا ہو رہا ہے، یہ پاکستان ایک فتح ہے، اگر بھارتی قیادت کا رویہ ایسا رہا تو اس پر بات آگے نہیں بڑھے گی، ہم نے ہاتھ بڑھایا ہے آپ کی مرضی ہے جو چاہیں۔

افواہیں ہیں نواز شریف کی رہائی کیلئے کچھ ممالک نے دباﺅ ڈالا: توصیف احمد، ڈیل ہو گئی تو نوجوانوں کو پیغام جائےگا کہ ملک پر کرپٹ لوگ ہی حکمرانی کرینگے: طارق ممتاز، کرپٹ لوگ ذہین ہوتے ہیں جنہیں تمام قانونی حربوں سے نمٹنا آتا ہے: سیف الرحمان ، نواز شریف نے 10 ارب ڈالر ادا کرنے تھے تو بیمار بیوی چھوڑ کر کیوں آتے: علامہ صدیق ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان تجزیہ نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ افواہیں ہیں کہ نواز شریف کی رہائی کےلئے کچھ ملکوں نے دباﺅ ڈالا۔ عمران خان کا سعودی عرب جانے کا مقصد فیوض و برکات حاصل کرنا ہے۔نواز شریف کی سزا معطل کرنا عدلیہ کا اپنا قانونی فیصلہ ہے۔عمران خان کو سعودیہ میں گارڈ آف آنر دیا گیا اور بہت عزت و تکریم دی گئی۔ انہیں بیت المکرم میں نوافل ادا کرنے کا موقع ملا۔جو بڑی سعادت ہے جیسے پرویز مشرف خود کہتے ہیں کہ میں نے خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان بھی دی ہوئی ہے۔سعودی عرب کی حفاظت ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔تجزیہ نگار طارق ممتاز نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کی سزا معطل کی ہے ختم نہیں۔ سپریم کورٹ سے سزا بحال ہونے پر سزا اسی دن سے شروع ہوگی۔تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں سعودی عرب کے این آر او کروانے کی بات بھی نواز شریف ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اب سعودی عرب کے ذریعے پاکستان کو دس ارب ڈالر ملنے سے یہ بات صاف ہو جائے گی کہ نواز شریف سعودیہ کے ذریعے دس ارب ڈالر دینے کو تیار ہوئے ہیں۔ نواز شریف خود کو بچانے کےلئے براہ راست رقم نہیں دینا چاہتے۔ اگر نواز شریف کی کوئی ڈیل ہو گئی تو نوجوانوں کو پیغام ملے گا کہ پاکستان پر حکمرانی کرپٹ لوگوں کی ہی ہوگی،یہاں رہنا ہے تو کرپشن کرو اور ملک کو لوٹو۔ جو جتنا بڑا لٹیرا ہوگا وہ اتنی آزادی سے اس ملک میں رہے گا۔پاکستان میں کسی کو مجرم ثابت کرنا ناممکنا ت میں آگیا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے اس کے لیے میڈیا بھی بھرپورکوریج دیتا ہے اور دباﺅ ڈالتا ہے۔ نواز شریف کے معاملے میں نیب نے کمزوری دکھائی کہ اپنا کیس پیش نہیں کیا۔کالم نگار میاں سیف الرحمان کا کہنا تھا کہ سزا معطلی مجرم کی آدھی جیت ہوتی ہے، ہائی کورٹ اتنے اہم کیس میں آسانی سے سزا معطل نہیں کر سکتا۔کرپشن کرنے والے ذہین لوگ ہوتے ہیں، جنہیں تمام قانونی حربوں سے نمٹنا آتا ہے۔اچھا وکیل کرنے کی سکت ہے تو ملکہ برطانیہ پر حملہ کر دیں، وہ آپکو چھڑوا لائے گا۔تجزیہ کارعلامہ صدیق اظہرنے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ کی جانب سے سزا دیئے جائے پر کہا جاتا ہے کہ یہ این آر او ججز جیسا فیصلہ ہے اور جب سزا معطل کر دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ عدالت آزاد ہو گئی ہے۔ نواز شریف کی سزا کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ سپریم کورٹ کے پانچ ججز پہلے ہی نواز شریف کو نا اہل کر چکے تھے۔اگر نواز شریف نے دس ارب ڈالر ہی واپس کرنے تھے تو وہ اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر ملک واپس نہ آتے؟ پاکستان کا ایک بڑا دوست ملک ایک مجرم کو صاف نکلنے کا راستہ فراہم کر رہاہے ایسی افسانوی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، کیا ہم ایسی باتوں سے اس ملک کو شامل جرم کر رہے ہیں۔

واقعہ کربلاحریت اور حق و باطل کےدرمیان تفریق کا درس ہے : مولانہ مفتی گلزار، قرآن و سنت پر عمل سے پاکستان میں اسلام نافذ ہو جائے تو مسا ئل حل ہو جائینگے : مولانا اشرف، مام حسینؓ نے سر انور نوک نیزہ پر رکھ کر تلاوت قرآن پاک کرکے ثابت کر دیا کہ باطل کےسامنے جھکنا نہیں، قاری عثمان کی چینل ۵ کے پروگرام ” نیوز ایٹ 7“ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام نیوز ایٹ سیون میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا اشرف علی نے کہا ہے کہ اسلام کو دنیا میں بدنام کیا جاتا ہے ، مگر اسلام پیار ، محبت اور اخوت کا مذہب ہے۔ قرآن و سنت پر عمل کے ذریعے پورے ملک میں اسلام نافذ العمل ہوجائے تو مسائل حل ہو جائیں۔ مولانا مفتی گلزار نعیمی نے کہا ہے کہ درس کربلا حریت اور حق و باطل کے درمیان تفریق کا درس ہے۔ درس کربلا میں امام عالیٰ مقام نے ثابت کردیا کہ حق کی آبیاری کے لیے اپنا تن ، من، دھن ، جان و مال سب قربان کر دینا چاہئے۔ دنیا میں مسلمان قوم کا حال کمزور ترین ہے کہ ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم لیڈر طاغوتی قوتوں کی زیر اثر ہیں، اسلام کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں ہے۔ پاکستان اسلام کا مضبوط قلعہ، افغانستان ، روہنگیا کے مسلمانوں سمیت، توہین آمیز خاکوںکے مسئلے پر پاکستان نے آواز اٹھائی۔ریاست اندر ریاست بنا کر جہاد کو پرائیویٹ تنظیموں کے سپرد کر دینے سے ہم دنیا میں بدنام ہوئے ہیں۔ طاقت کے ذریعے سے اسلام کا نفاذ ممکن نہیں، اسلام کا پر امن چہرہ لوگوں کو دکھانے پر ہی لوگ اس طرف آئیں گے۔ سیاسی مذہبی رہنماﺅں نے اسلام کو بدنام کیا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے نکلتے وقت فرمایا کہ میرا خروج میرے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے ہے۔ کربلا کا پیغام واضح ہے کہ ایک دوسرے کی تکفیر کی بجائے امربالمعروف ونہی عن المنکر کا پیکر بنا جائے۔ المیہ ہے کہ کربلا کی قربانیوں کیساتھ صحابہ کی قربانیوں کو جوڑنے کی رسم کچھ سالوں سے چل نکلی ہے۔ کربلا کا پیغام بالکل الگ ہے امام حسین نے حق اور باطل کو ثابت کیا ہے اور راہ دکھائی ہے کہ طاقت کے سامنے مرعوب ہو کراپنی جان کے ڈر سے حق بات کرنے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ ورنہ اہل باطل کہیں گے کہ حق پر وہی ہیں۔دین اور ایمان پر جب حرف آتا ہے تو مومن اسکے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے یہی اسوہ حسینی ہے۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ قاری محمد عثمان قادری نے کہا کہ امام عالی ٰ مقام حضرت سید امام حسین رضی اللہ عنہ اور انکے رفقاءکی میدان کربلا میں شہادت امن و سکون اور محبت کا درس ہے۔ باطل کے سامنے حق ہمیشہ جھکا رہتا ہے۔ امام حسین نے اپنا سر انور نوک نیزہ پر رکھ کے تلاوت قرآن پاک کر کے درس دیا ہے کہ دین اسلام سے دوری اختیار نہیں کرنی ، اللہ اور رسول کی پیروی کرتے ہوئے باطل کے سامنے کبھی جھکنا نہیں۔ انہوں نے پروگرام میں کربلا کے واقعے پر خوبصورت کلام بھی سنایا کہ نہ پوچھئے کہ کیا حسین ہے، ایسا بادشاہ حسین ہے۔ یہ بات کس قدر حسیں جو کہہ گئے معین الدین کہ دین کی پناہ حسین ہے،۔

نواز شریف ، حنیف عباسی کوجیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بیٹھے دیکھ کر حیرت ہوئی : ضیا شاہد روبکار سے پہلے نواز شریف کو جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بٹھانا غیر قانونی : فیاض الحسن عمران سے پارلیمنٹ میں پوچھیں گے سعودیہ کا فوری انصا ف کا قانون پاکستان میں کیسے لائینگے : رحمن ملک کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میں نے فواد چودھری کی پریس کانفرنس نہیں سنی۔ جہاں تک نوازشریف ڈیل کا تعلق ہے جس قسم کی افواہیں اڑی ہیں پچھلے 24 گھنٹے میں کہ دیکھیں جی سعودی عرب نے کہا کہ ہم سے کچھ امداد لینی ہے یا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی مدد کریں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ نوازشریف کو رہا کیا جائے تو میرا خیال ہے کہ جہاں تک نوازشریف کی رہائی کا تعلق ہے یہ فیصلہ عدالتوں نے پہلے کیا ہے اور عمران خان سعودی عرب بعد پہنچے ہیں۔ ان چیزوں کا اثر ضرور پڑتا ہے لیکن اسطرح کی کوئی ممکن نہیں ہوئی جس طرح سے کہا جا رہا ہے اور دوسری بات یہ کہ ساتھ ہی ساتھ افواہ شروع ہو گئی ہے کہ وہاں سے بھی ان کو رہائی دی جائے گی اور وہ عنقریب ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے ہمارے ہاں 10 فیصد بات ہوتی ہے باقی 90 فیصد نتھی کر لی جاتی ہے۔ دوچار دن میں صورتحال کا اندازہ ہو جائے گا۔ ایک بات تو ظاہر ہے کہ وقتی طور پر پاکستان کو جو درپیش مسائل ہیں یقینی طور پر سعودی عرب کوئی نہ کوئی حل نکالے گا اگر انہوں نے نقد پیسے نہ دیئے تو ادھار تیل ضرور دے گا۔ اس بات کا جواب کہ فواد چودھری صرف نواز شریف کی جائیدادوں کا ذکر کیوں کرتے ہیں آصف زرداری کی جائیداد اور بیرون ملک پیسوں کا ذکر کیوں نہیں کرتے۔ اس سوال کے جواب میں ضیا شاہد نے کہا کہ فواد چودھری سے کسی وقت اس بارے میں پوچھیں گے۔ حکومتوں کی طرف سے جب کہا جاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں یہ سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں لوگوں کے کوئی نہیں کھڑا ہوتا نہ لوگوں کے ساتھ لوگ کھڑے ہوتے ہیں لوگ اپنے اپنے کاموں پر لگے رہتے ہیں جو مصائب اور مشکلات ان کو آتی ہیں ان میں پھنسے رہتے ہیں۔ یہ جب کوئی ملک کسی کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکومت کے حکومت کھڑی ہو گی اس کو آپ تسلیم کریں یا نہ کریں اگلے ایک دو روز میں تفصیلات مل جائیں گی۔ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ مریم نواز صاحبہ کو اور نوازشریف کے کیس واپس نہیں ہوئے ہیں شور شرابا زیادہ مچ گیا ہے۔ فیصلہ یہ ہوا ہے کہ جب تک فائنل فیصلہ نہیں ہو جاتا ان کو گرفتار نہ کیا جائے۔ ابھی یہ بات بھی کلیئر نہیں ہے کہ انہیں سیاست میں حصہ لینے کی پوری اجازت ہو گی یا نہیں۔ مثال کے طور پر ابھی یہ کلیئر نہیں ہے کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ الیکشن میں حصہ بھی لے سکتی ہیں یانہیں لے سکتی۔ البتہ کمپین میں مدد کر سکتی ہے میرا خیال ہے کہ فی الحال ان کو شاید خود الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان کے جو مالی حالات ہیں۔ ایک شدید اور خوفناک قسم کا بحران ہے کہ آئی پی پیز کی کمپنیوں نے انکار کر دیا ہے کہ ہم بجلی نہیں دیں گے۔ اس کے لئے حکومت کو فوری طور پر5 ارب درکار ہیں۔ کرپشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ سعودی عرب میں مختلف قوانین ہیں یہ چیز موجود ہے کہ اگر کوئی شخص کرپشن کرتا ہے تو موقع پر ہی بڑی خوفناک سزائیں دی جاتی ہیں۔ عمران خان کا اشارہ اس طرف ہے۔ عمران خان نے بہت پہلے بھی ایک کتاب ٹرائبل سسٹم کے حوالے سے لکھی تھی اس میں ان کا جھکاﺅ اس طرف تھا کہ وہ موقع پر فوری سزاﺅں کے حق میں ہیں اس پر پہلے بھی بڑی بحث ہوتی رہی ہے۔ اس پر بہت سے لوگ اس کے خلاف بھی ہیں لیکن بہت سے لوگ اس کے حق میں بھی ہیں۔ دینی سوچ رکھنے والے کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی طرح سے اگر چٹ منگنی پٹ بیاہ کی طرح سے اگر فوراً سزائیں ملیں تو جرائم کی شرح میں کچھ کمی ہو سکتی ہے۔ بہر حال یہ کچھ ہو گا نہیں میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ مجھے معلوم ہے کہ عمران خان کی جو پہلی کتاب 14,12 برس پہلے آئی تھی جو ٹرائبل ایریا کے حوالے سے انہوں نے لکھی تھی اور وہ پنچایت سسٹم کے حق میں تھی اس وقت بھی اس پر کافی شور مچا تھا۔ اس طرح میڈیا میں بھی دونوں قسم کے لوگ ہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو ویسٹرن سٹائل سے سوچتے ہیں۔ ہر چیز کی خوبیاں اور خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ پنچایت سسٹم اس لحاظ سے تو اچھا سسٹم ہے۔ پنچایت سسٹم بنیادی طور پر یورپ اور امریکہ میں استعمال ہوتا ہے۔ امریکہ میں جس کو جیوری کہتے ہیں وہ یہی ہے۔ جیوری ایک طرح سے پنچایت سسٹم ہے۔ جیوری فیصلہ کرتی ہے کہ بندے نے جرم کیا ہے یا نہیں۔ پاکستان میں بھی جو لوگ ایک زمانے میں مغربی سزاﺅں کے حق میں تھے۔ جب وزیرستان میں بہت شروع میں اسلامی سزاﺅں کے حق میں جن کو بعد میں لوگ دہشت گرد کہتے تھے ان کا پہلا نقطہ نظر یہی تھا کہ ہم اسلامی سزائیں دیتے ہیں جو فوری طور پر نافذ العمل ہوتی ہیں۔ عمران خان کی لوگوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو سسٹم ہو جو عدل و انصاف کا سسٹم ہو ہمارے ہاں سوائے اس کے کہ جو حد ہے کون سا مقدمہ کتنی مدت میں پورا ہو جانا چاہئے وہ نہیں ہے باقی سسٹم تووہی ہے جو چل رہا ہے۔ اگر ہم طے کر لیں گے کہ اتنی مدت میں قتل کے مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا تو یہی سسٹم اپ ڈیٹ ہو جائے گا اس کے رزلٹ فوری طور پر ملنے لگیں۔ عمران خان کے کہنے کا مطلب ہے کہ کم جرائم ایسے ہیں کہ اس ملک میں جن کو فوراً سزا ہو تو فوراً نتیجہ نکل سکتا ہے۔ بڑے بحث مباحثے ہو چکے ہیں کہ فوری سزائیں ہونی چاہئیں یا نہیں۔ مغرب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ سزائیں فوری نہیں ہونی چاہئیں وہ ایک چیز کو لٹکا دیں۔ مغرب میں فلسفہ یہ ہے کہ کم از کم فوری سزا ہو اور زیادہ سے زیادہ عرصہ دیا جائے۔ کچھ لوگ مایوس ہو کر چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ گواہ بیٹھ جاتے ہیں بالکل فوری سزاﺅں کی تیزی میں کمی آ جاتی ہے۔
رحمن ملک نے کہا کہ فوری سزاﺅں کے بارے میں کہا کہ عمران خان نے خود ہی بات کر کے خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ جس نظام کی بات وہ کر رہے ہیں وہ فوری انصاف کی بات کر رہے ہیں۔ اور جو کوئی فیصلہ ہوا تھا کہ دہشتگردی کی عدالتوں کو سپیشل پاورز کرنے کا اس میں عمران خان صاحب بھی تھے ہماری پارٹی اور ن بھی تھی جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ان کو ان پاور کر دیا جائے کہ جتنے دہشتگردی کے کیسز ہیں وہ سپیڈی کورٹ یعنی خود ٹرائل کرے اور ٹرائل کے بعد ایپلٹ اتھارٹی بھی اس آرمی چیف یعنی جنرل جو بھی وقت کے ہوں گے کریں گے اور وہ جس چیز کی بات کر رہے ہیں سپیڈی کورٹ کی وہ اس وقت بھی ملک میں نافذ ہے اب اس کا دوسرا حصہ دیکھ لیں کہ وہ سسٹم جو کہ ایک غریب آدمی کو سپیڈی انصاف دے سکے۔ اس کے لئے پاکستان کا جو قانون ہے آئین نے وہ بالکل سعودی عرب سے محتلف ہے سعودی عرب میں بادشاہت ہے وہاں سے ڈگری ایشو ہوتی ہے کسی کام کو کرنے کی۔ یہاں پر ایسی چیز نہیں ہوتی۔ یہاں ٹرائل کا ایک طریقہ ہے اگر وہ یہ نظام لانا چاہتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا نظام ذہن میں آیا ہو اس دورے کے دوران تو پھر ان کو آئین میں ترمیم کرنا ہو گی۔ پاکستان پینل کورٹ میں تبدیلی لانا ہو گی۔سپیشل قوانین میں تبدیلی لانا ہو گی۔آپ کی وطن واپسی پر عمران سے پوچھیں گے کہ آپ نے یہ سٹیٹ منٹ دی ہے ذرا پارلیمنٹ کو بتائیں کہ آپ کے ذہن میں کیا تھا کہ ہم سعودی عرب کا سپیڈی جسٹس پروگرام پاکستان میں لائیں گے۔ ہر کوئی سپیڈی جسٹس چاہتا ہے ہر کوئی چاہتا ہے انصاف سستا ہو مگر قانون سے بالاتر ہو کر نہ کوئی ٹرائل ہو سکتا ہے نہ کوئی سسٹم یا پروسس کو آگے لے جا سکتا ہے بہتر یہ ہو گا۔ آپ کے اپیل ہے کہ عمران خان واپس آ کر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں کہ اگر انہوں نے اتنی بڑی سٹیٹ منٹ دی ہے تو ان میں وہ ویژن بتائیں جو کہ پاکستانی سسٹم جو آپ کریمنل جسٹس سسٹم ہے پاکستان کا وہ ٹرانسفارم کرتے ہوں گے سعودی عرب جیسا کیسے بنائیں۔ مفروضوں پر بات نہیں کرنی چاہئے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیس میں کنوکشن ہوئی اور کنوکشن کے بعد ہائیکورٹ میں گیا ہائیکورٹ نے ایگزیمن کرنے کے بعد یہ مناسب سمجھا کہ یہ جو کنوکشن ہے کہ اس کی سپینشن کر دیں۔ اس کی سپینشن قانون کے مطابق ہے اور ججز کی نظر میں بھی ہے یہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا اس کا موٹر سائیکل ہے وہ ہائی کورٹ کرے گا۔ بہر حال میں نوازشریف صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں کوئی بھی اچھا کام کسی کی خوشی کے لئے ہوا تو خود اس خوشی میں شامل ہو جانا چاہئے۔ ہمیں مائنڈ سیٹ پاکستان میں یہ بھی کرنا چاہئے۔
رحمان ملک نے کہا کہ ہماری حکومت سمیت سابق حکومتوں نے بھارت سے مذاکرات کئے۔ انڈیا پہلے وعدہ کرتا ہے پھر بعد میں اس کا پاکستان کے خلاف مائنڈ سیٹ واضح ہو جاتا ہے۔ جب تک بھارت کا پاکستان کے خلاف مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہو جاتا اس وقت تک بات آگے بڑھنا مشکل ہے۔ عمران خان نے اچھا کیا جو مذاکرات کی دعوت دینے میں پہل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی نریندر مودی ہے جس نے کہا تھا کہ بلوچستان کے ذریعے سبق سکھائیں گے اور پھر کلبھوشن پکڑ میں آ گیات ھا۔ انڈیا کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے، مذاکرات میں کشمیر اور پانی سمیت تمام مسائل زیر بحث آنے چاہئیں۔ کشمیر اور پانی کا مسئلہ ضرور مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔ دیکھتے ہیں اس بار مذاکرات کا نتیجہ کیا آتا ہے؟
ضیا شاہد نے کہا کہ رحمان ملک بالکل ٹھیک کہتے ہیں پہلے تو بھارت مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتا اگر ہو جائے تو کوئی ایسی کڑی شرط رکھ دیتا ہے کہ بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بات درست ہے عین وقت پر کشمیر پر بات کرتے ہوئے انڈیا بیک آﺅٹ کر جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اگر پاک بھارت مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی چیزوں سے شروعات کرتے ہوئے رفتہ رفتہ کشمیر کے مسئلے کی طرف جانا چاہئے۔ اگر بات کشمیر سے ہی شروع ہوئی تو پہلی ہی میٹنگ میں ختم ہو جائے گی، پانی کے مسئلے پر معاہدہ موجود ہے اس پر بات کرنے کی گنجائش ہے۔ کشمیر پر سلامتی کونسل کی قرارداد کےع لاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں۔ قرارداد یہ تھی کہ دونوں ممالک اپنی فوج کو واپس لے جائیں اور یو این او کی فوج کی نگرانی میں کشمیریوں سے ان کی مرضی پوچھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میرے ایک جاننے والے پچھلے دنوں جیل میں نوازشریف سے ملنے گئے تے، انہوں نے جو بتایا اس کے مطابق جیل کے ایک کمرے میں ایک ٹیبل کرسی پڑی ہے اور چاروں اطراف اس طرح کرسیاں رکھی ہوئی ہیں جیسے گول میز کانفرنس ہو، وہاں حنیف عباسی، مریم نواز اور صفدر وغیرہ موجود رہتے تھے اور سارا دن بحث مباحثہ چلتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور حنیف عباسی کی جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بیٹھے تصاویر پر حیرت ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بیورو کریسی کی طرف سے سابق حکمرانوں سے کون پوچھ پڑتال نہیں۔ امید ہے کہ اس وقاعے کے بعد اب آئندہ حکومت قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرائے گی۔
وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ نوازشریف کی ابھی روبکار نہیں آئی تھی اور ان کو اپنے کمرے میں بٹھایا ہوا تھا۔ حنیف عباسی سیاسی نہیں منشیات کے مجرم ہیں وہ بھی موجود تھے۔ موبائل اندر کیسے گیا جس سے تصویریں اور ویڈیو بنی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے خود جیلر کو فون کر کے سرزنش کی تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور جیل خانہ جات کے ارکان پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ہے، سوموار تک نتیجہ نظر آ جائے گا۔
سابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات اگلے ہفتے ہو گی لیکن یہ کہنا کہ بامقصد و بامعنی مذاکرات شروع ہو جائیں گے قبل از وقت ہے۔ بھارت نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ یہ صرف ایک ملاقات ہے، مذاکرات کی شروعات نہیں ہے۔ اس کے لئے ابھی ایجنڈا طے نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف نے 97ءکے الیکشن کے بعد سیکرٹری خارجہ کی سطح پر پاک بھارت مذاکرات کا سلسلہ شروع کروایا تھا، اس وقت سنجیدہ بات چیت شروع بھی ہوئی تھی۔ بھٹو دور میں بھی مذاکرات ہوئے۔ واجپائی سے سنجیدگی سے بات چیت ہو رہی تھی۔ کارگل کے باعث بات ختم ہو گئی۔ ہر 10 سال کے بعد ہماری پوزیشن مزید کمزور ہوتی گئی جبکہ انڈیا کشمیر پر اپنا کنٹرول مضبوط کر رہا ہے۔ شاید پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کامیاب ہو اور مذاکرات شروع ہو جائیں۔ کشمیر کے حوالے سے ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے وہ ہے کشمیریوں کا جذبہ جو ہمارے حق میں جاتا ہے۔

تلخ کلامی پر 14 افراد کا شہری کو برہنہ کر کے تشدد ، ویڈیو سامنے آ گئی

لاہور (خصوصی ر پو رٹر ) گلشن راوی کے علاقہ میں انسانیت سوز ظلم کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ۔ نونیاریاں کے رہائشی ملک بابر نے ایک شہری کو برہنہ کرکے شدید تشدد کیا اور ویڈیو بھی بنائی گئی، ملک بابر گروپ خون نکلنے کے باوجود زخمی شخص کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا ،اس حوالے سے اےس پی اقبا ل ٹاﺅن کا کہنا ہے کہ شہری پر تشد کا معاملہ پرا نا ہے جو ان جس کی وےڈ ےو ں منظر عا م پر اب آئی ہے ، ملک بابر نے 13 کس نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ ایک اکیلے آدمی پر تشدد کیا ، ملزم کے خلاف تھانہ شیرا کوٹ میں مقدمہ درج ہے ، جبکہ زخمی جمشید ولد اکبر علی مسجد والی گلی لبھا چوک مین بازار شیراکوٹ لاہور کا رہائشی ہے ۔ معلوم ہواہے کہ محمد جمشید اور ملک بابر کی ٹیلی فون پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر با بر گرو پ نے تشد د کا نشانہ بنا ےا ۔ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے ملزم نے چند ماہ قبل شہری پر تشدد کیا تھا۔ ویڈیو منظر عام پر آجانے کے بعد مزید قانونی کارروائی کررہے ہیں۔

بھارتی فوج کی دہشت گردی، بانڈی پورہ میں 5 کشمیری شہید

سری نگر (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت عروج پر پہنچ گئی، بانڈی پورہ میں سرچ آپریشن کا ڈھونگ رچا کر پانچ نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا، قابض فورسز نے متعدد گھروں کو بھی بارود سے اڑا دیا، سری نگر میں یوم عاشور کے جلوس میں شریک درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔دنیا کے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہانے والے بھارت کی ریاستی دہشت گردی انتہا کو چھونے لگی، مقبوضہ کشمیر کے علاقے بانڈی پورہ میں سرچ آپریشن کا ڈرامہ رچا کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ رات سےجاری آپریشن کے باعث علاقے میں موت کا رقص جاری ہے، بھارتی فوج کی گولیوں سے بچنے کے لیے خواتین اور بچے بھی پناہ ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔قابض فورسز نے رہائشی علاقوں میں گھس کر متعدد گھروں کو بارود سے اڑا دیا، سری نگر میں یوم عاشور کے جلوس پر پولیس نے دھاوا بول دیا،اور درجنوں عاشقان حسین کو گرفتار کر لیا۔بھارتی دہشت گردی سے ایک ہفتے کے دوران 23 کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔

ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس اختتام پذیر، شام غریباں برپا

لاہور (ویب ڈیسک) امام بارگاہوں میں شام غریباں کی مجالس، لاہور، کراچی ، فیصل آباد ، ملتان ، پشاور اورکوئٹہ سمیت ملک بھر میں ماتمی جلوس منازل پر پہنچ کراختتام پذیر، دن بھر سخت سیکیورٹی انتظامات، شام ہوتے ہی موبائل فون سروس کی بحالی شروع۔کراچی میں یوم عاشور کی مرکزی مجلس نشتر پارک میں منعقد ہوئی جس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا اور فلسفہ شہادت بیان کیا۔مجلس کے بعد مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا۔ جلوس کی سیکیورٹی کیلئے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ راستوں میں بلند عمارتوں پر اسنائپرز تعینات تھے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں نے جلوس کے راستوں کی سوئپنگ کی۔ ایم اے جناح روڈ، صدر، ریگل چوک سمیت جلوس کی گزرگاہوں کے اطراف گلیوں کو کنٹینرز سے بند کیا گیا تھا۔ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کےلیے وزیراعلیٰ سندھ ، ا?ئی جی سندھ اور دیگر حکام کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوئے۔جلوس کے شرکاءنے تبت سینٹر پر نماز ظہرین ادا کی جس کے بعد جلوس اپنے روایتی راستوں ریڈیو پاکستان، جامع کلاتھ سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔لاہور میں عاشورہ کا مرکزی جلوس نو محرم کی رات نثار حویلی سے برآمد ہوا جس کی سیکیورٹی کیلئے 10ہزار سے زائد پولیس اور رینجرز جوانوں کے علاوہ رضاکار بھی تعینات رہے۔ جلوس کے راستے کنٹینر اور رکاوٹیں لگا کر سیل کئےگئے،،فضائی نگرانی بھی جاری رہی۔ جلوس کے راستے میں مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند،موبائل سروس معطل رہی۔ نماز ظہرین رنگ محل چوک پر ادا کی گئی جس کے بعد جلوس دوبارہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا، جلوس کے راستوں پر جگہ جگہ عزاداروں کے لئے مشروبات کی سبیلیں لگائی گئیں۔ مرکزی جلوس میں شامل ہزاروں عزادار ماتم کرتے اور لبیک یا حسین کی صدائیں بلند کرتے رہے۔ دسویں محرم الحرام کا مرکزی جلوس محلہ شیعاں، چوک نواب صاحب، مسجد وزیرخان، سنہری مسجد، رنگ محل، حکیماں والا بازار اور بھاٹی چوک سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔پشاور میں یوم عاشور کے سلسلے میں مختلف امام بارگاہوں سے چھوٹے بڑے بارہ جلوس برآمد ہوئے ،یوم عاشور کا پہلا جلوس امام آغا سید علی شاہ رضوی سے گیارہ بجے برآمد ہوا ،جلوس کے لیے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ،جلوس میں شامل عزاداروں نے زنجیر زنی،نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی ، ذوالجناح کا ماتمی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ آغا مصطفیٰ شاہ پہنچ کر اختتام پذیرہوا۔ یوم عاشور کا دوسرا جلوس امام بارگاہ علمدار کربلا سے ایک بجے برآمد ہوا،پشاور میں روز عاشور کے سلسلے کے چھوٹے بڑے بارہ جلوس مختلف امام بارگاہوں سے برآمد ہوئے،جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے سخت انتظامات گئے ،اندورن شہر کو مکمل طور پر سیل کیا گیا جبکہ جلوسوں کی گزرگاہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے، پولیس کی جانب سے کے پی کے پانچ اضلاع کوہاٹ ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور پشاور کو حساس ترین جبکہ مردان، ایبٹ آباد،ہری پوراور مانسہرہ کو حساس قرار دیا گیا۔ پشاور شہر سمیت حساس ترین اضلاع میں موبائل سروس معطل رہی ،جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی گئی ،جلوس میں شامل ہونے والے عزاداروں کو سخت چیکنگ کے بعد اندرون شہر داخل ہو نے کی اجازت دی گئی جبکہ جلوسوں کی گزرگاہوں کو بی ڈی یو اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے کلئیر کیا گیا ،پشاور میں جلوسوں کی سیکورٹی کے لیے نو ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔جلوس پر امن طور پر اختتام پذیر ہو گئے۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں قافلہ حسینی کی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس صبح آٹھ بجے علمدار روڈ پنجابی امام بارگاہ سے برآمد ہوا، جس کی قیادت بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید داﺅد آغا نے کی۔ جلوس علمدار روڈ، طوغی روڈ، لیاقت بازار، پرنس روڈ اور میکانگی روڈ سے ہوتا ہوا دوبارہ علمدار روڈ پہنچ کر اختتام پزیر ہوا۔ملتان میں یوم عاشور پر استاد اور شاگر د کے تاریخی تعزیے اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے اختتام پزیر ہو گئے جبکہ ہیرا حیدریہ اور استانہ لعل کا مرکزی جلوس بھی کربلا میں حضرت شاہ شمس سبزواری کے مزار پر پہنچ کر ختم ہو گیا۔

افغانستان کی شاندار بیٹنگ پاکستان کو 258 رنز کاہدف دیدیا

ابو ظہبی(ویب ڈیسک) حشمت اللہ شاہدی کی شاندار بیٹنگ کی بدولت ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ سپر فور مرحلے میں افغانستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 258 رنز کا ہدف دے دیا۔ابو ظہبی کے شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستان کے ابتدائی گیند بازوں کی نپی تلی بولنگ کے باعث افغانستان کے اوپنرز نے اپنی ٹیم کو سست آغاز فراہم کیا اور 31 رنز پر اس کی دو وکٹیں گرگئیں۔اس موقع پر حشمت اللہ شاہدی اور رحمت شاہ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو 63 رنز کی شراکت فراہم کی۔ رحمت شاہ 36 رنز بناکر آﺅٹ ہوئے۔بعدازاں اصغر افغان اور حشمت اللہ شاہدی کے درمیان شاندار 94 رنز کی شراکت قائم ہوئی جس کی بدولت افغانستان کی پوزیشن مستحکم ہوگئی۔اصغر 67 رنز بناکر آﺅٹ ہوئے تاہم حشمت اللہ کی جانب سے رنز بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔ دیگر افغان بلے بازوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ مل کر پاکستانی بولرز کے خلاف گراﺅنڈ کے چاروں طرف شاٹس لگائے۔حشمت اللہ نے 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور ناٹ آﺅٹ رہے۔پاکستانی فیلڈرز نے بھی افغانستان ٹیم کی بھرپور مدد کرتے ہوئے چار آسان کیچ ڈراپ کردیے۔ پاکستان کی جانب سے محمد نواز نے تین، شاہین شاہ آفریدی نے دو جبکہ حسن علی نے ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا۔