All posts by Faaiez Umaid

پی ایس ایل تھری کا انعقاد خطرے میں پڑگیا

پی ایس ایل (ویب ڈیسک ) فرنچائزز اور بورڈ میں اختلافات کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) تھری کا انعقاد خطرے میں پڑگیا۔ پی سی بی حکام سر جوڑ کر کوئی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔فرنچائزز اور بورڈ میں اختلافات نے پی ایس ایل تھری کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا اور ٹیموں کی جانب سے واجبات ادا نہ کئے جانے پر بورڈ مالی مشکلات سے پریشان ہے۔ ذرائع کے مطابق 6 میں سے 5 فرنچائزز گزشتہ سال نومبر کی ڈیڈ لائن تک واجبات ادا نہیں کر سکی تھیں۔یو اے ای اور پاکستان میں 22 فروری سے 25 مارچ تک شیڈول تیسرے ایڈیشن کیلیے بورڈ کو درکار رقم میں 50 سے 60 لاکھ امریکی ڈالر کم پڑ جانے کا خدشہ ستا رہا ہے۔ اس حوالے سے پی سی بی حکام سر جوڑ کر کوئی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، فرنچائزز کے عدم تعاون کی وجہ سے بظاہر بڑی کامیاب نظر آنے والی پی ایس ایل میں دراڑیں صاف نظر آنے لگی ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر فرنچائزز کا واجبات کے معاملے میں یہی رویہ جاری رہا تو بورڈ قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ٹیموں کی دوبارہ فروخت پر بھی غور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب فرنچائزز کا کہنا ہے کہ پی سی بی سے زرتلافی کا مطالبہ کیا تھا جس پر اس نے دباﺅڈالنا شروع کردیا، ٹی 10 کو سپورٹ کرنے پر بھی پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان ناراض ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بورڈ خود اس تنازع کو میڈیا میں لے آیا اور پی سی بی کے رویہ کی وجہ سے مالی معاملات خراب ہیں۔

 

عدالتی لاڈلا جس اسمبلی سے تنخواہ لیتا اس پر لعنت بھیجتا ہے، نواز شریف کے ہری پور جلسہ میں عمران خان پر سنگین الزامات

ہری پور(ویب ڈیسک )سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کو صادق و امین قرار دینے والے جج صاحبان کو سلام پیش کرتے ہیں جبکہ گالیاں اور لعنت دینے والا جیل جائے گا۔ہری پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی کہ ہری پور سمیت پورے ملک میں سڑکوں کا جال بچھادوں اور موٹروے بناو¿ں، ہم نے عوام کو لوڈشیڈنگ سے چھٹکارا دلایا، دہشت گردی کا خاتمہ کیا لیکن مجھے عوام کی خدمت کا صلہ نہیں ملا بلکہ الٹا بیٹے سے تنخواہ لینے کا الزام لگا کر مجھے نااہل قرار دے دیا گیا۔نوازشریف کا کہنا تھا کہ عدالتی لاڈلہ جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے، وہ جس اسمبلی سے تنخواہ لیتا اور جس کے لیے الیکشن لڑتا ہے اسی پر لعنت بھیجتا ہے، لیکن دوسروں کو گالیاں دینے والا خود جیل جائے گا، عمران خان کہتے تھے ہم پورے ملک کو بدل دیں گے لیکن پاکستان کے ایک صوبے خیبرپختون خوا کو تبدیل نہیں کرپائے، وہ بتائیں کہ 4 سال کے عرصے میں بجلی کے کتنے کارخانے لگائے، کتنے اسکول بنائے، ایک ارب درخت لگانے کا دعویٰ کرنے والے مجھے 200 درخت دکھادیں۔نواز شریف نے کہا کہ آئے روز عمران خان کے حوالے سے اخباروں میں آتا رہتا ہے، ان کا کام سیاسی مخالفین اور قومی ادارے کے عہدیداروں اور سربراہوں کو گالیاں دینا اور بہتان تراشی و الزامات لگانا ہے، جلسوں میں قوم کے اخلاق کو بگاڑا جارہا ہے، دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی آئی جی اور کبھی قومی ادارے کے سربراہوں کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ تمھیں جیل میں ڈال دوں گا، عمران خان کو صادق و امین قرار دینے والے ججز کو سلام پیش کرتا ہوں اور بتا دیتا ہوں کہ دوسروں کو گالیاں دینے والا خود جیل میں جائے گا اور عوام گندی سیاست کرنے والوں کو رد کردیں گے۔

 

راﺅ انوار بُری طرح پھنس گئے تحقیقی کمیٹی نے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کر دیا

کراچی: ماورائے عدالت قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے معاملے پر قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے راو¿ انوار کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مقتول کو بے گناہ قرار دیا ہے۔ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ نقیب کے دہشت گرد ہونے کے ثبوت نہیں ملے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق راو¿ انوار نے نقیب کے غیر شادی شدہ ہونے کا غلط دعویٰ کیا اور دیگر دعوے بھی غلط ثابت ہورہے ہیں۔ راو¿ انوار کی نقیب کے خلاف 2014 کی ایف آئی آر بھی بوگس ہے۔نقیب اللہ کی ‘پولیس مقابلے’ میں ہلاکت: چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے لیاراو¿ انوار، دیگر اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنےکی سفارشادھر ایس ایس پی ملیر کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ حکومت سندھ کو ارسال کردی گئی ہے جس میں راو¿ انوار اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنےکی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں راو¿ انوار کو عہدے سے ہٹانے، گرفتار کرنے اور ان کا نام ای سی ایل میں بھیڈالنے کی سفارش کی گئی۔’تحقیقات میں کوئی دباو¿ نہیں‘نقیب اللہ کی ہلاکت: معاملے کی تحقیقات میں کوئی دباو¿ نہیں، ثناءاللہ عباسیاس سے قبل جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور معاملے پر بننے والی کمیٹی کے سربراہ ثناءاللہ عباسی نے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات میں ان پر کوئی دباو¿ نہیں اور نہ کسی میں اتنی جرات ہے کہ انہیں دباو¿ میں لائے۔نہوں نے کہا کہ پولیس پارٹی سے تحقیقات کی گئیں اور ان کی ٹیم اس سلسلے میں جیل بھی گئی۔

 

ختم نبوت کے معاملہ پر داتادربار کے سامنے دھرنا پیر سیال شریف کے نئے اعلان نے پنجاب حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور، حیدرآباد ٹاﺅن، چنیوٹ، اوکاڑہ، فیصل آباد (نمائندگان) دربار آف سیال شریف کے گدی نشین سابق سنیٹر خواجہ حمید الدین سیالوی نے کہا ہے کہ داتا دربار لاہور میں ہونے والے آج20جنوری کے احتجاج کی تیاریاں مکمل ہیں۔ عاشقان رسول لاکھوں کی تعداد میں قافلے احتجاج اور دھرنے میں شریک ہونگے۔ پیر آف سیال شریف خواجہ حمید الدین سیالوی نے دعوی کیا ہے کے داتا کی نگری میں سینکڑوں کی تعداد میں علما ومشائخ کے علاوہ اہلسنت والجماعت کی 30 تنظیموں کے عہدیداران کارکنان کے علاوہ ملک بھر سے مریدین آج داتا کی نگری میں ھونے والے 20جنوری کے احتجاجی مظاہرہ/دھرنا میں تمام رکاوٹیں توڑکر پہنچیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ختم نبوت کے معاملہ پر متحدہیں اور کسی بھی قسم کی سازش کو کامیاب نہیں ہو نے دیں گے اور صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کو مستعفی ہو ناہوگا اور ہم رانا ثنااللہ کے استعفی تک و ہاں بیٹھے ر ہیں گے۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کے استعفے اور راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق آج 12 بجے کے بعد صوبے بھر سے کارکنوں کی آمد ہو گی اور بعد نماز ظہر کے بعد خطابات شروع ہوں گے۔ اجتماع میں گدی نشین، مشائخ، مریدین اور سنی جماعتوں کے کارکنان شرکت کریں گے۔ اجتماع سے خادم حسین رضوی، ڈاکٹر اشرف ااصف جلالی، صاحبزادہ حامد رضا اور سجادہ نشینوں کا خطاب ہو گا۔ پیر حمیدالدین سیالوی اس سے پہلے لاہور میں 4 جنوری اور 13 جنوری کو احتجاج کی کال ملتوی کر چکے ہیں۔ داتا دربار لاہور میں تاجدار ختم نبوت کانفرنس و مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اس سلسلہ میں چنیوٹ، تونسہ شریف، پاک پتن، چورہ شریف، علی پور، سرگودھا، جھنگ اور پنجاب بھر کے دیگر ضلعوں سے قافلے آج مورخہ 20 جنوری کو داتا دربار لاہور پہنچیں گے اس مارچ میں جماعت اہل سنت، جمعیت علماءپاکستان، تحریک لبیک یا رسول اللہ، سنی تحریک، جانثاران تاجدار ختم نبوت کے مرکزی و صوبائی قائدین اور شمع رسالت کے پروانے شرکت کریں گے۔شاہدرہ چوک، ٹھوکر نیاز بیگ، سگیاں پل، شیرا کوٹ اور دوسرے کئی مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگا دیئے گئے ہیں۔ داتا دربار کے سامنے چوک میں سٹیج بنایا جا رہا ہے اور پنڈال میں ہزاروں کرسیاں لگائی جا رہی ہیں۔ ہفتہ 20 جنوری کو دن ایک بجے جلسہ شروع ہو گا اور رات 9 بجے تک جاری رہے گا۔ اجتماع میں شرکت کے لئے دو سو بسوں پر مشتمل سب سے بڑا قافلہ سرگودھا سے پیر سیال خواجہ حمید الدین سیالوی کی قیادت میں، فیصل آباد سے چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں، پاکپتن سے پیر دیوان عظمت سید محمد چشتی، تونسہ شریف سے پیر مدثر تونسوی، گوجرانوالہ سے علامہ پیر عبدالعزیز چشتی، گولڑہ شریف سے پیر نظام الدین جامی کی قیادت میں لاہور پہنچے گا۔ تمام قافلے مختلف راستوں سے لاہور داخل ہوں گے۔ اجتماع کے انتظامات کے لئے ایک ہزار افراد پر مشتمل پچاس مختلف کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ 20 جنوری کے اجتماع کی تائید و حمایت اور شرکت کا اعلان کرنے والی جماعتوں میں سنی اتحاد کونسل، جمعیت علماءپاکستان نورانی، جماعت اہل سنت، پاکستان سنی تحریک، تحریک لبیک یا رسول اللہ، نظام مصطفی پارٹی، تحریک فیضان اولیائ، انجمن طلباءاسلام، نظام مصطفے متحدہ محاذ، جے یو پی نیازی، پاکستان مشائخ کونسل، جماعت الصالحین، پاکستان فلاح پارٹی، سنی علماءبورڈ، تحریک فدایان ختم نبوت، مرکزی مجلس چشتیہ، انجمن خدام الاولیائ، تحریک فروغ اسلام، تنظیم المساجد پاکستان، سنی یوتھ ونگ، انجمن نوجوانان اسلام اور دوسری اہل سنت جماعتیں شامل ہیں جبکہ گولڑہ شریف، تونسہ شریف، پاکپتن شریف، کیلیانوالہ شریف، شرقپور شریف، دربار حضرت سلطان باہو، بارو شریف، علی پور شریف، سندر شریف، کوٹلہ شریف، معظم آباد شریف، لکھیوال شریف سمیت ہزاروں روحانی درگاہوں کے گدی نشینوں نے پیر سیال شریف کو حمایت کا یقین دلا دیا ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ حکومت نے 20 جنوری کے اجتماع میں رکاوٹ ڈالی تو ہر شہر میں دھرنے دے کر ملک جام کر دیں گے۔کارکنان تیاری کر کے لاہور آئیں گے۔

 

نقیب اللہ کی تدفین تو ہوگئی مگر جنازہ میں ایسی شخصیات بھی شامل ہوئیں کہ سب کو بڑا جھٹکا لگ گیا

کراچی /وانا(ویب ڈیسک ) کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے نقیب اللہ کو جنوبی وزیرستان کے سب ڈویڑن لدھا میں سپرد خاک کردیا گیا۔نوجوان کی میت آبائی علاقے جنوبی وزیرستان پہنچائی گئی جہاں قبائلی عوام کی بڑی تعداد نماز جنازہ میں شرکت کے لئے پہنچی۔نمازجنازہ میں محسود، برکی اور شمالی وزیرستان کے وزیر اور داوڑ قبائل نے بھی شرکت کی۔نقیب کو جنوبی وزیرستان کے سب ڈویڑن لدھا کے علاقہ مکینمیں سپرد خاک کیا گیا۔ نمازجنازہ اور تدفین میں پولیٹیکل انتظامیہ نے بھی شرکت کی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں نقیب اللہ کے کزن نے بتایا کہ نقیبکی نماز جنازہ میں پاک آرمی کے اعلیٰ عہدیدار بھی شریک تھے۔اگر نقیب اللہ کالعدم تنظیم میں ڈرائیور تھا تو پھر پاک آرمی کے افسران کیوں اس کے جنازے میں شریک ہوئے۔ کمال محسود نے کہا کہ نقیب کو ناحق مارا گیا ہے یاد رہے کہ را و¿انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹان میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعوی کیا تھا۔ان میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ بھی شامل تھا۔نقیب اللہ محسود کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیراعلی سندھ معاملے کا نوٹس لیاتھا جس کے نتیجے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے نتیجے میں ا?ج راﺅ انوار کو ایس ایس پی کے عہدے سے برطرف کردیا گیاتھا۔راﺅ انواراپنے دعوے پر قائم ہیں اور جلد ثبوت منظر عام پر لانے کا اعلان کیا ہے۔جس کے نتیجے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے نتیجے میں ا?ج راﺅ انوار کو ایس ایس پی کے عہدے سے برطرف کردیا گیاتھا۔راﺅ انواراپنے دعوے پر قائم ہیں اور جلد ثبوت منظر عام پر لانے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کی پاکستان کیخلاف بد کلامی ، بھارت کو بڑی کاروائی کی ہدایت کیوں دی ، تہلکہ خیز خبر

نئی دہلی (نیٹ نیوز) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے دشمن نہیں لہٰذا پاکستان کو بھی ہم سے دشمن کی طرح برتاو¿ نہیں کرنا چاہیے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے ہیں جب کہ دہلی اور ممبئی سمیت کئی شہروں میں نیتن یاہو کے دورہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔دورہ بھارت کے دوران اسرائیلی وزیراعظم ھی بھارتی زبان بولنے لگے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ بھارت کو لائن آف کنٹرول پر ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی جن کو اقوام متحدہ دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے دشمن نہیں لہٰذا پاکستان بھی ہم سے دشمنوں جیسا سلوک نہ کرے۔نیتن یاہو نے ممبئی میں بھارتی فلم انڈسٹری کے ستاروں سے بھی ملاقات کی، اس دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ بالی ووڈ سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسرائیل میں بھی بالی ووڈ فلم انڈسٹری ہو۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ گجرات کا بھی دورہ کیا، احمد آباد میں مہاتما گاندھی کی رہائش گاہ گئے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ آگرہ میں تاج محل جاکر تصاویر بنوائیں۔واضح رہے کہ نیتن یاہو کے دورے کے دوران بھارت اور اسرائیل کے درمیان سائبر سکیورٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی، ایئر ٹرانسپورٹ، فلم پروڈکشن، تیل اور گیس، سولر تھرمل انرجی، خلائی ٹیکنالوجی اور ہومیوپیتھک ادویات سازی کے 9 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں جب کہ آزادانہ تجارت اور اینٹی ٹینک میزائل کے معاہدوں پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔

 

کلبھوشن بھارت کا حاضر سروس فوجی ،جاسوس اور دہشتگردہے

ٹوکیو (خصوصی رپورٹ) جاپانی جریدے دی ڈپلومیٹ نے کلبھوشن یادیو کو بھارت کا حاضر سروس فوجی جاسوس اور دہشتگرد قرار دیدیا۔ میڈیا رپورٹ میں را کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران اس بات کا اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق بلوچستان اور افغانستان میں بھارتی مداخلت پر پاکستان کے اعتراضات درست ہیں۔ جاپانی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوشن یادیو کو دوہزار سولہ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے گرفتارکیا تھا۔ تاحال بھارت اس سے انکارکرتارہاہےکہ ریٹائرمنٹ کے بعد کلبھوشن کا ریاست سے کوئی تعلق ہے۔ جاپانی جریدہ لکھتا ہے کہ بھارت افغانستان اور بلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ کلبھوشن کی گرفتاری اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان افغانستان و بلوچستان سے متعلق واضح طور پر اعتراضات اٹھا چکاہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان کے اعتراضات درست ہیں۔ بی ایل اے سمیت چند گروپ بھارت کی مدد سے دہشتگرد کارروائی میں ملوث ہیں لیکن پاکستانی سیکیورٹی فورسز ان سے موثر طور پر نمٹ رہی ہیں۔ بھارت اس سے انکارکرتا رہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کلبھوشن کا ریاست سے کوئی تعلق ہے لیکن گزشتہ اتوار کو بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں را کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسروں نے تسلیم کیاکہ کلبھوشن پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جاسوسی کرتا اور دہشتگردوں کا مکمل نیٹ ورک چلاتا تھا۔بھارتی جریدے میں یہ رپورٹ شائع ہوئی تو سوشل میڈیا میں بھارتی شہری، سابق اور حاضر سروس اہلکار اور ذمہ دار متحرک ہوگئے اور رپورٹ کو جھوٹا قراردےدیا، محض تین گھنٹے میں چھپی ہوئی خبر کی جریدے کی کاپیان واپس لے لی گئیں اور سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے بھی اسے ہٹادیا گیا۔

31 جنوری کے بعد کوئی ضمنی الیکشن نہیں ہو سکے گا ، الیکشن کمیشن کا حیرت انگیز بیان

لاہور (خصوصی رپورٹ)الیکشن کمشن کی طرف سے ضمنی انتخابات کیلئے حتمی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی اس بات کا تعین ہو گیا ہے کہ اب ضمنی انتخابات کے انعقاد کی مدت ختم ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کیلئے ضمنی انتخابات کی آخری تاریخ 28 جنوری جبکہ باقی صوبوں کیلئے 31 جنوری مقرر کی گئی ہے۔ اس کے بعد ملک بھر میں اب ضمنی انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔ اگر کوئی رکن اسمبلی مستعفی ہوتا ہے تو وہ نشست عام انتخابات تک خالی تصور کی جائے گی۔ اگر سیاسی جماعتیں مل کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہوتی ہیں تو اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی پھر الیکشن کمشن مروجہ رولز اور آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت نئے انتخابات کرائے گا۔ اگر مستعفی ارکان کی تعداد اسمبلی کے ارکان کی ایک تہائی سے کم ہے تو آئندہ انتخابات تک اسمبلی کی وہ نشستیں خالیتصور کی جائیں گی۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی تاریخ کے بعد اب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ضمنی انتخابات کا مرحلہ گزر چکا ہے۔ اب جب بھی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو اس کے 60 روز کے اندر نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔

 

راﺅ انوار بارے وہ باتیں جو کسی کو معلوم نہیں

کراچی (خصوصی رپورٹ) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے انتہائی متنازع کردار ایس ایس پی راو¿ انوار پہلی بار کسی انکوائری کا سامنا نہیں کر رہے، 35 سالہ کریئر میں انہیں ہر انکوائری سے کلین چٹ ہی ملی ہے۔ اب یہ ان کی قسمت ہے یا تعلقات جو ان پر آنچ آنے نہیں دیتے یہ حقیقت کبھی کھل کر سامنے نہیں آسکی ہے۔ نوجوان نقیب اللہ محسود کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت پر ایس ایس پی ملیر راو¿ انوار کو سپریم کورٹ اور پولیس کی محکمہ جاتی تحقیقات کا سامنا ہے، کاو¿نٹر ٹیررازم محکمے کے چیف ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے روبرو وہ بیان ریکارڈ کراچکے ہیں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے نقیب اللہ کو مطلوب ملزم قرار دیا ہے۔کراچی پولیس کے راو¿ انوار شاید واحد رینکر افسر ہیں جو کسی ضلعے کی سربراہی کر رہے ہیں۔ راو¿ انوار 1980 کی دہائی میں پولیس میں بطور اے ایس آئی بھرتی ہوئے، بطور سب انسپیکٹر ترقی پاتے ہی ایس ایچ او کے منصب پر پہنچ گئے، اس عرصے میں وہ زیادہ تر گڈاپ تھانے پر تعینات رہے۔ 1992 میں جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو راو¿ انوار اس میں بھی پیش پیش تھے، جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب ایم کیو ایم کو قومی دہارے میں شامل کیا گیا تو راو¿ انوار نے ایکس پاکستان لیو پر چلے گئے اور یہ عرصہ انھوں نے دبئی میں گذارا بعد میں انھوں نے بلوچستان کو جوائن کیا۔ 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں اقتدار سنبھالا تو راو¿ انوار نے دوبارہ کراچی کا رخ کیا، گذشتہ دس سالوں میں وہ زیادہ تر ایس پی ملیر کے عہدے پر ہی فائز رہے ہیں۔ ملیر ضلع کی حدود ساحل سمندر پر واقع مچھیروں کی بستی سے لے کر سپر ہائی وے پر موجود افغان بستی تک پھیلی ہوئی ہیں، بحریہ ٹاو¿ن سے لے کر متعدد رہائشی منصوبے بھی اسی حدود میں زیر تعمیر ہیں جبکہ ریتی بجری بھی ملیر ندی سے یہاں سے ہی نکالی جاتی ہے جو کروڑوں کا کاروبار ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر آبادی سندھی اور پشتون ہے۔ سپر ہائی وے پر بڑے تعمیراتی منصوبے کے بعد سہراب گوٹھ کے آس پاس میں مبینہ پولیس مقابلوں کا آغاز ہوا، جن میں ایس ایس پی راو¿ انوار کی قیادت میں درجنوں مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تاہم اس مقابلوں میں پولیس کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔ راو¿ انوار نے 2016 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ 150 سے زائد مقابلہ کرچکے ہیں اگر انہیں ہٹایا نہیں گیا تو وہ اس میں اضافہ کریں گے، اپنے مقابلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ ان کا پہلا مقابلہ ایم کیو ایم کے فہیم کمانڈو کے ساتھ ہوا تھا جس میں وہ مارا گیا۔ کراچی میں گذشتہ دس برسوں میں پولیس اہلکار بھی شدت پسندوں کا نشانہ بنے ہیں، حملہ آور ذمہ داری قبول کرنے ساتھ پمفلیٹ میں اس کی وجہ اپنے ساتھیوں کی مبینہ جعلی مقابلوں میں ہلاکت کو بھی قرار دیتے رہیں کہ ایک سابقہ ایس پی تحقیقات نے حملوں کی ایک وجہ راو¿ انوار کے مقابلوں کو قرار دیا تھا۔ ایم کیو ایم کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد راو¿ انوار ایم کیو ایم پر وار کرتے رہے، 2015 میں انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ پر بھارتی خفیہ ادارے را سے روابط رکھنے کا الزام عائد کیا، انھوں نے یہ الزامات دو ملزمان طاہر لمبا اور جنید کے بیانات کی بنیاد پر عائد کیے تھے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایم کیو ایم پر پابندی عائد کی جائے۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے ان الزامات پر ناراضی کا اظہار کیا جس کے بعد راو¿ انوار کو عہدے سے ہٹادیا گیا لیکن یہ معطلی عارضی رہی۔ 2016 میں راو¿ انوار کو آخری بار اس وقت معطل کیا گیا تھا جب انھوں نے ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کیا، جس پر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے انہیں معطل کرنے کے احکامات جاری کیے تاہم چند ماہ بعد وہ دوبارہ اسی منصب پر بحال ہوئے۔ کراچی کے میئر وسیم اختر کو بھی راو¿ انوار نے ہی گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ متعدد مقدمات میں مطلوب ہیں، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کا خاص الخاص قرار دے چکے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے بلدیاتی انتخابات میں الزام عائد کیا تھا کہ راو¿ انوار نے ان کے لوگوں کو منحرف کرکے پیپلز پارٹی کے ضلعی چیئرمین کو ووٹ کرائے۔ سیاسی رہنماو¿ں کے الزامات میں صداقت ہے یا نہیں یہ ثابت کرنا مشکل ہے تاہم 2015 کی عیدالضحیٰ پر ایک خبر نشر کی جس میں بتایا گیا کہ راو¿ انوار نے زرداری ہاو¿س میں سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ عید نماز ادا کی، بعض تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ راو¿ پاکستان ریاست کے طاقتور حلقوں کے بھی نور نظر ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ اور پولیس محکمے میں راو¿ انوار کے خلاف لوگوں کو ہراساں کرکے زمینوں پر قبضے کرنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے کئی بار وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں، اس صورتحال میں وہ عدالت میں پیش ہوکر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے لہٰذا انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔ ایک سابق ایس پی نیاز کھوسو نے راو¿ انوار کے خلاف ناجائز طریقے سے اثاثے بنانے اور بیرون ملک ملکیت منتقل کرنے کے الزام میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت نوٹس تک ہی محدود رہی ہے۔

یہ ہے ہماری عدالتوں کا انصاف ، قتل کا ملزم 13 سال بعد بیگناہ نکلا ، حساب کون دیگا ؟

اسلام آباد (نیا اخبار رپورٹ) سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم بابر علی کو 13 سال بعد بری کر دیا ہے ،دوران سماعت عدالت نے ماتحت عدلیہ کے ججوں کو اعلیٰ تربیت فراہم نہ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جسٹس دوست محمد نے کہا کہ ڈی ایم جی اور سی ایس ایس کے افسران کو اعلی تربیت دی جاتی ہے، ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان کو اعلی تربیت کی ضرورت ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ انے کہا کہ مجسٹریٹ کی غلطیوں کے باعث ملزمان کو فائدہ ہوتا ہے ۔جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، عدالت نے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ سے عمر قید کی سزا پانے والے ملزم بابر علی کو تیرہ سال بعد بری کردیا ، ملزم بابر علی پر 2005ءمیں ڈکیتی کے دوران 15 سالہ زاہدہ پروین کو قتل کرنے کا الزام تھا،پاکپتن کی ٹرائل کورٹ نے ملزم کو پھانسی کی سزا سنائی، ہائی کورٹ نے سزائے موت عمر میں تبدیل کردی تھی۔