All posts by Faaiez Umaid

ڈاکٹر شاہد مسعود سپریم کورٹ میں تفصیلات سامنے لے آئے

لاہور(ویب ڈیسک )زینب قتل کیس میں ملزم عمران کے بینک اکاو¿نٹس کے دعوے کرنے والے نجی ٹی وی کے اینکرڈاکٹر شاہد مسعود عدالت میں بھی مکر گئے صحافیوں سے کہنے لگے کے تحقیقات کے لئے معلومات دی تھیں۔تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس میں ملزم عمران کے بینک اکاو¿نٹس پر سپریم کورٹ عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو طلب کیا گیا تھا جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیوز میں نے نہیں دی تھی میں نے صرف معلومات دی تھی کہ تحقیق کی جائے ان کا کہنا تھا کہ سب نے میرا تماشہ بنایا تھا اگر بچی کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی تو کون ذمہ دار ہو گا۔جبکہ ڈاکٹر شاہد مسعود عدالت کے دوران اپنے دوست صحافیوں سے مشورہ بھی کرتے رہے ایسا نہیں کہ میرے پاس ثبوت نہیں ہیں لیکن فی الحال نہیں ہیں جو میں عدالت میں پیش نہیں کر سکتا۔

فاٹا اصلاحات

وسیم امجد……..اظہار خیال
فا ٹا(Federally Administrated Tribal Areas)ایک قبا ئلی علا قہ ہے اور قبا ئلی علا قوں کو وفا قی حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ ان پر آئین اور پارلیمنٹ کی کوئی چیز عمل درآمد نہیں ہوتی اور اس کی ایگزیکٹیواتھارٹی پریذیڈنٹ کے پاس ہوتی ہے اور پریذیڈنٹ گورنرکو اختیارات دیتا ہے اور گورنر پولیٹیکل ایجنٹ کو اس طرح ہر ایجنسی میں دو سے تین پولیٹیکل ایجنٹ اور پانچ سے دس اسسٹنٹ پو لیٹیکل ایجنٹ مقر رکئے جا تے ہیں فاٹا کی تاریخ کافی پرانی ہے۔یہاں عظیم الیگزینڈر ، سلطان محمود غزنوی اور برٹش بھی آئے اور برٹش نے دو جنگیں بھی لڑیں 1834 اور 1878میں کابل کے خلاف ۔
فاٹا کی ٹوٹل آبادی پچاس لاکھ کے قریب ہے اس کے تین بارڈر ہیںافغانستان ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان۔ خیبر پختونخوا کا فاٹا سے 90 فیصد سے زیادہ رقبہ ملتا ہے۔فاٹا کے سات ضلعے ہیں جنہیں ایجنسی بھی کہتے ہیں۔ ان سات ضلعوں میںبارہ MNAاور آٹھ سینٹرز ہیں۔ باجوڑ ایجنسی،خیبر،اورکزئی، کرم ،جنوبی وزیرستان،شمالی وزیرستان اور مہمند ایجنسی یہ فاٹا کے سا ت ضلعے ہیں ان سات ضلعوں میں سے چھ شہر خیبر پختونخوا کے شہروں سے ملتے ہیں جنہیںFrontier Regionبھی کہتے ہیں۔یہاں ایجوکیشن ریٹ تقریباً33.7 ہے۔یہاں صحت کا نظام بہت حد تک خراب ہے۔ ہسپتال میں ہر 2179لوگوں کے لیے ایک بیڈ اور 7670لوگوں کے لئے ایک ڈا کٹر موجود ہے۔یہاںآئی ڈی پیزکی تعداد 2014میں ایک رپورٹ کے مطابق 800000کے قریب پہنچ گئی تھی لیکن اب پاک فوج کے جاری کئے گئے آپریشنز کی وجہ سے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اور دہشتگردی کا مکمل خا تمہ کر دیا ہے۔ا ب90 فیصد لوگ اپنے گھروں میں واپس منتقل ہو چکے ہیں۔
1970 سے لے کر 2017 تک فاٹا کے مسائل کے حل کے لئے 15کمیٹیاں اور کمیشن بنائے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک وہاں مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی جیسوں نے اس مسئلے کو تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا۔فاٹا کے کل بارہ منتخب نمائندوں میں سے ایک فضل الرحمن کی پارٹی سے ہے با قی گیارہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے لئے رضامند ہیں وہاں کی یونینز اور جرگے بھی فا ٹا کا خیبرپختونخواہ میں شمولیت کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن یہ مولانا صا حب کہتے ہیں کہ فیصلہ فاٹا کی قبائلی عوام کر ے گی۔ مولانا صاحب کو نسی عوام کی بات کر رہے ہیں 99.9تو یہی چاہتے ہیں۔
بڑٹش امپیریلزم اِن اِنڈیا سب کانٹینینٹ۔
MORسےFCR تک۔
(Murderous Outrages Regulation)یہ قانون برٹش نے 1867 میں ان لو گوں کے خلاف بنایا جو برٹش سے آزادی کے لئے لڑ رہے تھے ۔پھر 1877 میں اس میں ترمیم کی گئی اور اس کا نام غازی ایکٹ رکھ دیا گیا پھر1901 میں اس کا نام FCRرکھ دیا۔ پھر پاکستان بننے کے بعد بھی اس کا نام FCRہی رہا لیکن اس میں کچھ ترمیم کی گئیں۔
FCRکیا ہے ؟
Frontier Crime Regulationجسے کالا قانون بھی کہتے ہیں اس کے اہم نکات یہ ہیں۔
یہاں دلیل کا کوئی حق نہیں ہے یعنی یہاں اگر کوئی شخص پکڑا جاتا ہے تو اُسے یہ پوچھنے کا حق نہیں کے مجھے کس جرم میں پکڑا ہے۔
اور ناہی وکیل رکھ سکتا ہے اس کی بھی اجازت نہیں۔
اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اس کے پو رے خاندان کو سزا دی جا تی تھی لیکن یہ آصف علی زرداری نے 2011 میں ترمیم کر کے کو لیکٹیو سزا کو ختم کر دیا اور بچوں اور بوڑھوں کو تحفظات دیئے۔
کسی بھی شخص کو بغیر بتائے گرفتا ر کیا جا سکتا ہے اس کو ایڈ منسٹر یٹ کرنے کے لئے ایک شخص ہوتا جسے پولیٹیکل ایجنٹ کہتے ہیں اسے آرٹیکل 247 کے تحت اَن چیکڈ پاور دی جا تی ہے۔
سب سے پہلے اسے پاکستانی پارلیمنٹ اور قانون سازی میں شامل کر دیا جائے۔
فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کیاجائے۔
پولیٹیکل ایجنٹ کی اتھارٹی کوختم کر دیا جائے۔
لوگوں کو روزگار دئیے جائیں سوشل اکنامی کے پروجیکٹ لگائے جائیں تا کہ لوگ ہتھیاروں کے کاروبار کو چھوڑ کر بہتر ذریعے سے آمدنی حاصل کر سکیں۔بینک اور بینک لون سسٹم لایا جائے۔
Arms Investmentکو ختم کیا جائے۔ Local Govtکو بھی متعارف کروایا جائے تاکہ لوگ لوکل لیول پر بھی اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔ Association بنانے کا حق دیا جائے۔فاٹا کو عام پاکستانیوں والے حقوق دئیے جائیں۔FCRکو ختم کیا جائے اس کی جگہ Fata Regulatory Authorityتشکیل دی جائے۔فاٹا کو پاکستان کا صوبہ کیوں نہیں بننے دیا جا رہا؟
انٹرنیشنل فورسز امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا و غیرہ یہ چاہتے ہیں کہہ فاٹا کو خیبرپختونخوا سے علیحدہ کرکے افغانستان سے ملا دیا جائے اور پھر یہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کروائی جائے اور پا کستان کو کمزور کر کے دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔ یا د رہے اس سے پہلے محمود اچکزئی کہہ چکا ہے کہ فاٹا افغانستان کا حصہ ہے۔
ہم کبھی اپنے قبا ئلی بھائیوں سے اس سے زیادہ نا انصافیاں نہیں ہونے دیں گے۔
ہماری گورنمنٹ سے اپیل ہے کہ فاٹا کا معاملہ جلد از جلد حل کیا جائے۔
(کالم نگار قومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

قلم چہرے اور ہم

حیات عبداللہ……..انگارے
لفظوں کی مالا پرونے اور کسی بھی شخصیت کے خاکوں میں حقیقی رنگ بھرنے کے فن میں ضیا شاہد کا قلم اتنی کمال مہارت رکھتا ہے کہ قاری کے تخیلات کو اپنی انگلی تھما کر مختلف شخصیات سے یوں ملاقات کروانے لے چلتا ہے کہ جیسے یہ ملاقات تصوراتی نہیں بلکہ مبنی برحقیقت ہے۔ یقینا اوراق گزشتہ اور عہد پارینہ سے پرانی یادیں کھوج لانا اتنا آسان نہیں ہوتا، مختلف شخصیات کے قد کاٹھ سے لے کر چہرے مہرے تک، جسمانی ساخت سے لے کر تکیہ کلام تک اور پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات تک کی یاد داشتوں کو مکمل دیانتداری کے ساتھ صفحات قرطاس پر منتقل کر دینا، بالخصوص جو شخصیت جیسی تھی ویسی ہی سپرد قلم کرنا، کسی بھی صاحب قلم کے لئے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے مگر ضیا شاہد کا قلم ان کھٹنائیوں سے بڑے ہی علمی اور ادبی انداز میں سرفراز ٹھہرتا ہے۔
آپ فرصت کے لمحات میں ”قلم چہرے“ اٹھایئے، تحریر کے دل نشیں نین نقش،الفاظ کی دل گداز رنگت اور جملوں کے شیریں لب و رخسار، فطری حسن سے مالا مال ملیں گے۔ اشفاق احمد خاں نے پیش گوئی کی تھی کہ ضیا تم صحافت کے میدان میں بہت آگے جاﺅ گے، اگرچہ اشفاق احمد خان نے اپنی زندگی میں اس جملے کو حقیقت میں بدلتے دیکھ لیا تھا کہ ضیا شاہد آسمان صحافت کا درخشندہ ستارہ بن چکا ہے، لیکن اگر آج اشفاق احمد خان زندہ ہوتے تو اس ضیائے صحافت کی چہار سو پھیلی مزید چمک دمک بھی دیکھ لیتے کہ کس طرح ایک طویل جدوجہد سے عبارت سفر طے کر کے صحافت کی یہ ضیا اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ جلوہ فگن ہے۔
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا
”قلم چہرے“ کا سفر آغا شورش کاشمیری سے شروع ہوتا ہے، شورش کاشمیری کی حیات کے تمام محاسن کے ساتھ ساتھ ان کے اندر ایک شریر بچے کو شاید کسی بھی صاحب قلم نے آج تک بیان نہیں کیا، لاریب تفنن طبع کے بغیر انسان کی شخصیت میں ایک خول اور کمی کجی سی رہتی ہے۔ ضیاشاہد نے شورش کاشمیری کی طبیعت میں اس خوبی کو محسوس کیا، کتاب میں ان کے نثرپاروں کے ساتھ ساتھ کچھ نظمیں بھی شامل ہیں۔ ”بڑے میر صاحب“ کی کفایت شعاری کے واقعات ہوں یا سید ضمیر جعفری کی ضیا شاہد کے ساتھ محبت اور التفات کی باتیں کہ وہ اپنے بیٹے احتشام ضمیر کے دباﺅ کے باوجود خبریں اخبار چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اور بیٹے کو صاف جواب دے دیا کہ میں ضیا شاہد کو نہیں چھوڑ سکتا، یہ ساری یادداشتیں دلوں کو چھو کر گزرتی ہیں۔ مختار مسعود کی کتابوں کے اقتباسات، انسانی احساسات کو سوندھی سوندھی جلا بخشتے ہیں۔ بعض تحریروں کی شروعات انتہائی بے ساختہ اور بے دھڑک ہے۔مختار مسعود کے متعلق ضیا شاہد یوں شروع کرتے ہیں ” مختار مسعود اُف خدایا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مختار مسعود کے بارے میں قلم اٹھاﺅںگا“۔ یقینا بہت سے لوگوں کو پتا بھی نہیں ہو گا کہ نسیم حجازی کے ناولوں کا ایک بہت بڑا حصہ دراصل ان کی تقاریر پر مشتمل ہے جو انہوں نے کمال مہارت سے ناولوں میں ڈھال دیں۔
قلم چہرے میں موجود خاکوں کو اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ 20 شخصیات کی حیات کے لمحات ہیں مگر میرے نزدیک 21 علمی اور ادبی شخصیات کے متعلق یادداشتیں ہیں۔ اگرچہ کتاب کی فہرست میں آغا شورش کاشمیری سے لے کر مجید نظامی تک 20 شخصیات کے نام ہی تحریر ہیں لیکن اگر آپ اسے 20 شخصیات کی خاکہ نگاری سمجھتے ہیں تو آپ غلطی پر ہیں کیونکہ میں نے ان تمام خاکوں میں ایک ایسی شخصیات کو بھی تلاش کیا ہے جو عہد رواں کے سب سے بڑے صحافی اور ادیب ہیں اور اس دل گداز شخصیت کا نام ضیا شاہد ہے۔ قلم چہرے کے ہر خاکے میں جناب ضیا شاہد کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔ میں نے کتاب میں ضیا شاہد کی پسند اور ناپسند تک کو کس طرح تلاش کیا ہے آپ بھی پڑھیے اور لطف اٹھایئے۔
جناب ضیا شاہد مختار مسعود کے شیدائی ہیں، ارشاد حقانی کو بڑا صحافی، پسندیدہ کالم نگار اور تجزیہ نگار سمجھتے ہیں۔ میرخلیل الرحمن سے متاثر ہیں۔ مجید نظامی کو اپنا استاذ سمجھتے ہیں، خواجہ محمد سلیم اور ڈاکٹر سید عبداللہ ان کے باقاعدہ استاذ ہیں۔ روزنامہ مشرق کے بانی عنایت اللہ ربانی کو صحافت کا جادوگر سمجھتے ہیں۔ ریاض بٹالوی کا سب سے زیادہ احترام کرتے ہیں۔ اشفاق احمد خاں سے عشق فرماتے ہیں۔ مقبول جہانگیر، اسد اللہ غالب اور ایس ایچ ہاشمی کو اپنا سمجھتے ہیں اور ارشاد حقانی کے جنازے میں صرف اڑھائی سو آدمیوں کی شرکت پر ضیا شاہد بڑے ملول اور رنجور ہیں۔
قلم چہرے میں حالات کی کسمپرسی بھی شامل ہے تو دل گرفتگی بھی، کتاب میں تفنن طبع کا انتظام بھی ہے اور ادیبوں کی سنجیدہ اور متعین اسلوب نگارش کا انصرام بھی۔ کتاب میں نثرپاروں کا اہتمام بھی ہے، تو منتخب شاعری کا التزام بھی، نہ جانے ضیا شاہد اپنی یادوں کے طاقچے میں کیسے چراغ روشن کیے بیٹھے ہیں کہ جب بھی قلم کشائی کرتے ہیں حقائق کی روشنی سے زمانے کو منور کر جاتے ہیں۔ واقعی ضیا شاہد ایک ایسی ضیا ہیں کہ جن کا شاہد یہ سارا زمانہ ہے۔
دعا کرو سلامت رہے میری ہمت
یہ چراغ کئی آدمیوں پہ بھاری ہے
میں کتاب کے پبلشر اور انتہائی دھیمے لب و لہجے کے انسان جناب عبدالستار عاصم کی مستقل مزاجی اور جاں فشانی کا بھی قائل ہو گیا ہوں کہ حالات کی مطابقت اور ضرورت کے تحت کوئی ادبی شہ پارہ کھوج کر بڑ ی نفاست کے ساتھ کتابی شکل میں لوگوں کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں۔ میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میرے جیسے خاکوں کے شوقین کے لئے قلم چہرے سے بڑھ کر خاصے کی چیز کوئی اور ہو نہیں سکتی۔ آپ بھی 0300-0515101 پر ایک فون کال کر کے اپنے ذوق کی تشنگی مٹا سکتے ہیں۔
خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا، جلا کے رکھنا کمال یہ ہے
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

گل پھینکے ہیں غیروں کی طرف!

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
راولپنڈی ضلع کی قومی اسمبلی کی چھ نشستیں ہیں ۔ راولپنڈی کے حلقہ این اے 50 سے نوازلیگ کے شاہد خاقان عباسی ،حلقہ این اے 51 سے نواز لیگ کے راجہ جاوید اخلاق ،حلقہ این اے 52سے نوازلیگ کے چوہدری نثارعلی خان،،حلقہ این اے53 سے تحریک انصاف کے سرور خان ،حلقہ این اے 54نوازلیگ کے ملک ابرار، حلقہ این اے55 سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید جبکہ حلقہ این اے 56 سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کامیاب ہوئے تھے۔اس طرح راولپنڈی کی چھ نشستوںمیں سے تین سیٹیں تحریک انصاف اورعوامی مسلم لیگ کے پاس ہیں جبکہ اتنی ہی نوازلیگ نے سنبھال رکھی ہیں۔ حکومت بنانے کا مرحلہ آیاتو نوازشریف نے راولپنڈی کے ان تین کامیاب لیگی امیدواروں میں سے دوارکان اسمبلی شاہد خاقان عباسی اور چودھری نثارعلی خان کو کابینہ میں لیا۔بعدازاں نوازشریف کی سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بحیثیت وزیراعظم نااہلی کے بعدشاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم نامزدکیاگیا۔ مطلب نوازشریف نے اپنی نااہلی کے بعد راولپنڈی کے رکن قومی اسمبلی کو وزیراعظم ہاوس کیلئے موزوں سمجھا۔
دوسری طرف نارووال کے قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں بھی لیگی امیدوار کامیاب ہوئے تھے جن میں حلقہ این اے 115 سے میاں محمد رشید ،حلقہ این اے 116سے دانیال عزیز جبکہ حلقہ این اے 117سے پروفیسر احسن اقبال کامیاب ہوئے تھے۔نارووال کے لیگی کامیاب امیدواروں میں سے پروفیسراحسن اقبال اوردانیال عزیز وفاقی وزیرہیں ۔حا فظ آباد ضلع کے حلقہ این اے 102 سے سائرہ افضل تاڑر جبکہ حلقہ این اے 103 سے شاہد حسین بھٹی کامیاب ہوئے تھے ۔ قومی اسمبلی کی دونشستیں رکھنے والے ضلع حافظ آباد کو سائرہ افضل تارڑ کو وفاقی کابینہ میں شامل کرکے نمائندگی دی گئی ہے۔اٹک ضلع کی تین نشستوں میں سے دو پرنواز لیگی امیدوار کامیاب ہوئے تھے، جن میں سے حلقہ این اے 57 سے شیخ آفتاب احمد کامیاب ہوئے تھے جبکہ حلقہ این اے 58 سے ملک اتبار خان میدان مارگئے تھے جبکہ حلقہ این اے 59 محمد زین الہٰی آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے۔ اٹک سے کامیاب ہونیوالے دوامیدواروں میں سے شیح آفتاب احمد کو وفاقی وزیر بنایاگیاہے۔اسی طرح لاہور کو بھی وزیراعظم، وزیروں اور اسپیکر قومی اسمبلی کے اہم عہدے کیساتھ لاد یاگیا۔
اب ذرا تھل کے (6)اضلاع خوشاب ،میانوالی ،بھکر ،لیہ ،مظفرگڑھ اور جھنگ کی طرف بڑھتے ہیں ، تھل کے6) ( اضلاع کی قومی اسمبلی میں کل (19) نشستیںبنتی ہیں جن میں مظفرگڑھ کی پانچ ،جھنگ کی 6 جبکہ خوشاب ،میانوالی ،بھکر ،لیہ ضلع کی دودونشستیں شامل ہیں۔ خوشاب کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 68 پر سردار شفقت حیات خان منتخب ہوئے تھے جبکہ این اے 69 کی سیٹ ملک عزیرخان کامیاب ہوئے تھے اور ان دونوں کا تعلق نوازلیگ سے ہے۔میانوالی کی دو قومی اسمبلی سیٹیں ہیں۔این اے 70 تحریک انصاف کے پاس ہے جبکہ این اے 71 نواز لیگ کے امیدوار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔بھکر کی دونوں نشستیں نوازلیگ کے پاس ہیںجن میں این اے 73 عبدالمجید خان کامیاب ہوئے جبکہ این اے 74پرڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ جیت گئے تھے ،یوں بھکر کی دونوں سیٹیں بھی نواز لیگ کے پاس ہیں۔لیہ کی دو قومی اسمبلی کی نشستوں پر نوازلیگ کے امیدوارثقلین بخاری اورصاحبزادہ فیض الحسن کامیاب ہوئے تھے ۔دوسری طرف تھل کے اہم ضلع مظفرگڑھ کی پانچ نشستوں میں سے تین پر لیگی امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ان لیگی ارکان اسمبلی میں سلطان ہنجرا ، باسط بخاری اور عاشق گوپانگ شامل ہیں۔ تھل کے ضلع جھنگ کی قومی اسمبلی میں چھ نشستیں ہیں ،جھنگ نوازشریف کیساتھ لاہور سے آگے بڑھ کر یوں کھڑا ہواکہ لاہور میں تو نوازلیگ ایک سیٹ تحریک انصاف کے امیدوار سے ہارگئی تھی لیکن جھنگ کی ساری سیٹوں پر نوازلیگ کے امیدوار میدان مارگئے ۔ یوںتھل کے 6) ( اضلاع کی قومی اسمبلی کی 19 نشستوں میں سے صرف ایک نشست میانوالی سے تحریک انصاف کے امیدوار امجد خان کے پاس گئی اور مظفرگڑھ کی دونشستیں جمشید دستی اور ربانی کھر جیت گئے ،باقی 16 قومی اسمبلی کے حلقوںمیں نوازلیگ میدان مارگئی ۔کیساہے ؟ اب تھل کے (6)اضلاع خوشاب ،میانوالی ،بھکر ،لیہ ،مظفرگڑھ اور جھنگ میں مل کر وفاقی وزیر ڈھونڈتے ہیں ،وہاں نہ ملاتو وزیرمملکت کی فہرست کی طرف چلیں گے ،شاید تھل کے قومی اسمبلی کے ارکان کو وہاں کھپایاگیاہو امگر وہاں پر بھی ان بادشاہ لوگوں کی جگہ نہ بنی ہوتو پھر پارلیمانی سیکرٹریزکی فہرست میں تابعداروں کے ہونے کی نشانی ڈھونڈیں گے۔
قومی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق وفاقی وزیروں کی اس وقت تعداد 29ہے۔یہ فہرست جوکہ وفاقی وزیربرائے موسماتی تغیرمشاہد اللہ خان کے نام سے شروع ہوتی ہے اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل جاوید علی شاہ کے نام پر ختم ہوتی ہے ۔ ان وفاقی وزیروں میں تھل سے منتخب ہونیوالے (16)لیگی ارکان اسمبلی میں سے کوئی بھی وفاقی وزیر کے منصب کیلئے اہل اور لائق نہیں سمجھاگیاہے۔وفاقی وزیروں کی فہرست کے بعد جووزیر مملکت کی فہرست قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر دی گئی ہے ، اس کے مطابق اس وقت (19) وزیرمملکت ہیں ۔اس فہرست کا آغاز وزیرمملکت محسن شاہ نوازرانجھا کے نام سے شروع ہوتاہے اور وزیرمملکت غالب خان پر ختم ہوتا ہے۔ان (19 ) بنائے گئے وزیرمملکت میں سے ایک بھی وزیرمملکت تھل کے (6)اضلاع میں سے نہیں لیاگیاہے ۔جیسے راقم الحروف نے عرض کیاہے ،نوازلیگ کے (16) ارکان اسمبلی تھل کے قومی اسمبلی کے (19) حلقوں سے کامیاب ہوئے تھے ۔
وزیرمملکت کی فہرست کے بعد مشیروں کی جو فہرست قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود ہے ،اس کے مطابق اس وقت وفاقی حکومت کے چار مشیر ہیں۔ان مشیروں کی فہرست کا آغاز سردار مہتاب احمد خان سے شروع ہوتاہے اورامیر مقام پر مقام پذیر ہوتاہے لیکن اس میں بھی تھل کا کوئی صحرا نوارد شامل نہیں ہے ۔یوں لگتاہے کہ تھل کی اتنی بڑی آبادی میں کوئی بھی سیاسی ورکر ایسا نہیں تھا جوکہ نواز حکومت کا مشیر بنایاجاسکتا۔اسی طرح خصوصی معاون برائے پرائم منسٹر کی فہرست بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ تھل کے( 6)اضلاع خوشاب ،میانوالی ،بھکر،لیہ ،مظفرگڑھ اور جھنگ کا کوئی سیاسی ورکر یا سمجھدار اس قابل نہیں تھاکہ اس کووزیراعظم کا معاون خصوصی بنایاجاتا۔ اب قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر جو آخری فہرست دی گئی ہے وہ پارلیمانی سیکرٹریز ہے ۔بہرحال اس وقت پارلیمانی سیکرٹریز کی کل تعداد33 ہے ۔ان پارلیمانی سیکرٹریز کی فہرست کا بغور جائزہ لیاہے تو پتہ چلتا ہے کہ تھل جہاں سے نواز لیگ نے قومی اسمبلی کی 19 نشستوں میں سے 16سیٹیں جیتی ہیں ،وہاں صرف تین پارلیمانی سیکرٹریز بنا کر عوام کے ووٹوں کی تذلیل کی گئی ہے۔اب آپ اندازہ کریں کہ وفاقی وزیر،وزیرمملکت ،مشیر ،معاون خصوصی کی بندر بانٹ میں لیگی لیڈروں کو ایک بھی تھل کا رکن قومی اسمبلی یابندے پر نظرنہیں پڑی کہ جو کہ متذکرہ عزت افزائی کا اہل ہوتا۔نوازشریف نے بحیثیت لیگی لیڈر تھل کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے لیکن یہاں اس بات کی جائے جو تھل کے ارکان اسمبلی اس وفاقی کابینہ میں امیتازی سلوک پر دولے شاہ کے چوہے بن کر ،تھل کے سیاسی حقوق کے نمائندہ بننے کی بجائے اسمبلیوں میں شریف برادران کے حاشیہ برادربنے ہوئے ہیں ۔راقم الحروف تھل سے منتخب( 16) ارکان اسمبلی کو وفاقی وزیر خواجہ آصف کے وہ یادگار الفاظ یاددلانا چاہتاہے جوکہ انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی شان میں اداکیے تھے کہ ” کوئی شرم ہوتی ہے ،کوئی حیاہوتی ہے ،کوئی گریس ہوتی ہے۔“بس آپ کی اوقات اتنی تھی کہ آپ (19) ارکان اسمبلی میںسے تین کو پارلیمانی سیکرٹری بنادیاگیا تاکہ آپ سرکاری گاڑیوں میں گھوم سکیں کیونکہ عوامی معاملات میں تو آپ کی آوازیں گنگ ہیں ؟ ذرا لب کھولیں اور بتائیں آپ تھل کیلئے بوجھ کیوں بن گئے ہیں ؟ تھل کی بے پایاں محبتوںکے جواب میں لیگی قائد نوازشریف کے سیاسی فیصلوں کے بعد تو ان کے حضور ہم تو صرف مرزا محمد رفیع سودا کا یہ شعرپیش کرسکتے ہیں۔
گل پھینکے ہے غیروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی
(کالم نگار قومی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

لاہور ملتان کا مضافات؟

چودھری ظفر محمود….بحث ونظر

19 جنوری 2018ءکی اشاعت میں حمید اصغر شاہین نے لاہور ملتان کا مضافات؟ کے عنوان سے کالم لکھا ہے۔ سوالیہ نشان میں ہی جواب موجود ہے کہ وہ آبادی میں ملتان سے 4 گنا زیادہ بڑے شہر کو ملتان کا مضافات کس طرح قرار دے رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ عمر کے اس حصے میں ہوں کہ جہاں ہر چیز کی خواہش ختم ہو جاتی ہے، بڑھاپے کے ساتھ ساتھ بیمار رہتا ہوں لیکن میرے لئے دوائی کی طرح اخبار کا مطالعہ بھی ضرور ی ہے۔ ”خبریں“ میں سب سے پہلے مضامین والے صفحے کو دیکھتاہوں، عمر کے اس حصے میں دعا کے سوا کسی کو کیا دے سکتاہوں۔ ضیا شاہد کی ستلج والی مہم پڑھتا رہا ہوں وہ قابل تحسین ہے۔ اب لاہور، ملتان کا مضافات والی بحث چل رہی ہے یہ بحث خوب ہے کہ مکالموں سے ہی نئی چیزیں سامنے آتی ہیں، ازھر منیر صاحب نے بحث شروع کی ہے اُن کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے اُس کا جواب ظہور دھریجہ کی طرف سے آیا۔
حمید اصغر شاہین کہہ رہے ہیں کہ عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں ہر چیز کی خواہش ختم ہو جاتی ہے، ان کے تعصب کی خواہش تو ختم نہیں ہوئی، جیسے جل جانے کے باوجود رسی کابل ابھی تک نہیں گیا، موصوف وہ ہیں کہ جب یہ چلتے پھرتے تھے ہر جگہ آگ بھڑکائی رکھتے تھے ہر جگہ تعصب اور نفرت کی تقریریں، یہ لوگ ڈی آئی خان بھی سرائیکی نفرت کے سوداگر بن کر گئے ۔ ظہوردھریجہ اور ان کو ڈی آئی خان سے نکال دیا گیا، پھر آج تک وہاں نہیں گئے۔
حمید اصغر شاہین سے میں نے سوال کئے تھے کہ تمہارے جاگیرداروں نے آج تک کیا کارنامے سر انجام دیئے۔ یہ کہتا ہے جاگیردار ہمارے نہیں اس کی برادری کے لوگ بھی اسمبلیوں میں جاتے ہیں، کیا وہ بھی ان کے نہیں ؟ کیا ان کی رشتہ داریاں ختم ہو گئیں؟ لوگوں کو بے وقوف بنانے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں، ہم تو بات مان لیتے ہیں، ہم کہتے ہیں رنجیت سنگھ پنجابی تھا مگر ان کو لانے والے ان کے اپنے سرائیکی جاگیردار تھے۔
یہ لوگ کہتے ہیں عطاءاللہ نیازی ہمارا ہیرو، عمران خان بھی سرائیکی ہے مگر یہ اس نیازی کی بات نہیں کرتے جس نے 1971ءکی جنگ میں ایک پنجابی جرنیل اروڈ کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے، ڈان میں شفقت تنویر مرزا مرحوم نے ظہوردھریجہ سے جنرل اے کے نیازی کے بارے سوال کیا تو دھریجہ دڑوٹ گیا، یہ سارا فتنہ اس کا پھیلایا ہوا ہے، حمید اصغر شاہین اگر مگر نہ کریں میرے اٹھائے گئے پچھلے سوالات کا جواب دیں۔
جناب ازھر منیر صاحب نے روزنامہ خبریں میں دھریجہ کو بہت ہی خوب جواب دیا ہے۔ ظہور دھریجہ جنوبی پنجاب کا شیخ مجیب ،سرحدی گاندھی اور جی ایم سید بن کر فساد پھیلا رہا ہے۔ اس کے ایک سرائیکی محقق مجاہد جتوئی نے اپنی تحقیق کے ذریعے ثابت کیا کہ خواجہ فرید کی کافی کا شعر
میں تے یار فرید منڑیسوں
رل مل شہر بھنبھور
کی بجائے اس طرح ہے کہ
میں تے یار فرید منڑیسوں
رل مل تخت لہور
اس پر ظہور دھریجہ، مجاہد جتوئی کے پیچھے پڑ گیا ہے، مجاہد جتوئی نے پچھلے دنوں اپنی فیس بک پر پوسٹ لگائی ”سرائیکی پنجابی بھائی بھائی“ اس وقت بھی یہ لوگ اس کے پیچھے پڑ گئے اور اس کو اپنی پوسٹ اتارنا پڑی۔ میرے چند سوال یہ ہیں جواب دیجئے۔
٭….جنوبی پنجاب سرائیکی خطہ کس طرح ہو گیا، صرف ایک شہر ملتان میں دکانوں کے سینکڑوں نام پنجاب کے نام پر ہیں کوئی ایک نام نہیں جو سرائیکی یا سرائیکستان کے نام سے ہو۔
٭….خواجہ فریدکے حوالے سے تخت لاہور کے انکشاف سے پہلے مجاہد جتوئی ”خبریں “میں قدیم سرائیکی شاعر مولوی لطف علی صاحب کے شعر (ساڈے دیس پنجاب اتے ہے پنجتن پاک دا سایہ) کی بحث کرکے ثابت کر چکے ہیں کہ یہ خطہ پنجاب ہی ہے۔ اس پر بھی دھریجی سوچ والوں کو بہت تکلیف ہوئی اور وہ چیخے چلائے۔
٭….خواجہ فرید نے تخت لاہو رکی تعریف کی موجودہ سجادہ نشین بھی (ن) لیگ کے ہیں اور انہوں نے دیوان فرید کا خود افتتاح کیا اور مجاہد جتوئی کے مرتب کردہ تخت لاہور دیوان کی تعریف کی اب انہیں کیوں تکلیف ہے؟ خواجہ فرید سجادہ نشین کا باپ ہے یا دھریجی سوچ والوں کا۔
٭…. یہ لوگ ملتان کو سات ہزار سال پرانا شہر کہتے ہیں کس کتاب میں لکھا ہے؟ اس کی وضاحت کریں لاہور کو گالیاں نہ دیں۔
(بحث و نظر میں حصہ لینے والے کالم نگاروں سے
گزارش ہے کہ اپنی تصویر ہمراہ بھیجیں)
٭….٭….٭

تالیاں اور گالیاں

شرمیلا فاروقی….خصوصی مضمون
سن2018ءکا سورج کیا طلوع ہوا، پاکستان کے عوام کو ایک ایسے لرزہ خیز واقعے کا سامنا کرنا پڑا جو زمین کے پھٹنے اور آسمان کے گرنے کے برابر تھا، جس سے انسانیت شرمسار ہو کر رہ گئی، ارباب اختیار خود کو بے بس ثابت کرنے لگے، زمین اپنے محور سے ہٹ گئی لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی جب 4 جنوری کو ایک معصوم ننھی پری زینب پنجاب کے ضلع قصور سے لاپتہ ہوئی اور پھر سفاکی کی وہ مثال سامنے آئی کہ اِس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ درندہ صفت انسان نے پہلے اُسے اغوا کیا، ہوس کا نشانہ بنایا اور اُس پر ستم یہ کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایسا واقعہ کہ ماتم بھی کیا جائے تو مداوا نہ ہو سکے اور پھر 9 جنوری کو کچرے کے ڈھیر سے اُس معصوم زینب کی لاش ملی جس پر قصور سمیت پورے ملک کے عوام کے دل خون کے آنسو رونے لگے۔ قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور اسی ہنگامہ آرائی میں قصور کے دو شہری پنجاب پولیس کی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے۔ اس تمام واقعے پر سب سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے صدائے احتجاج بلند کی، حکومت پنجاب سے قانون کے مطابق مجرم کی گرفتاری اور اسے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا، یہی نہیں پاکستان پیپلزپارٹی اور اس سے پہلے بھی ملک میں ایسی ہونے والی زیادتیوں اور ناانصافیوں پر آواز بلند کرتی رہی ہے، پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو انسانیت کے دکھ میں شریک ہونے اور عوام کے درد کو محسوس کرنے کا ہنر اپنے نانا قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اپنی والدہ دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے وراثت میں ملا، جن کے خون میں انسانیت کی خدمت کا درد رچا بسا تھا۔ جن کا دل عوام کے لئے دھڑکتا تھا، جن کے سینوں اور سوچ میں صرف اور صرف پاکستان کے لئے بھلائی تھی، ان کی شہادتیں اس کا ثبوت ہیں، جان دے دی لیکن جمہوریت کی جان بچا لی، جمہوریت کو پروان چڑھایا اور اب یہ ذمے داری چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے سپرد ہے۔
زینب واقعے کو عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج دی جس سے ساری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی۔ بچوں کی حفاظت صوبائی مسئلہ ہے، قومی یا ذاتی مسئلہ نہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کا موقف زینب جیسے واقعات کے بعد مجرم کو صرف سزا دینا ہی کافی نہیں ہے، بچوں میں تعلیم اور آگاہی کے حوالے سے بھی اقدامات ضروری ہیں۔ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے بچوں کا کسی حد تک تحفظ ممکن ہے، اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سندھ حکومت نے بچوں کے تحفظ کے لئے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا، جس کے تحت سندھ کے 29 اضلاع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کئے گئے ہیں اور سندھ کے تقریباً 200 اسکولز میں child sexual abuse programme شروع کر دیئے گئے تا کہ سندھ کی طرح دوسرے صوبے بھی اس ایکٹ کی تقلید کر سکیں۔ بچوں سے زیادتی اور ناانصافی قصور میں ہو یا مردان میں، سندھ میں ہو، خیبرپختونخوا میں یا ملک کے کسی بھی حصے میں، اس پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔ زینب واقعے پر پنجاب حکومت کی غیر سنجیدگی، لاپرواہی اور نااہلی سب کے سامنے ہے۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ پنجاب میں لوگوںکی عزتوں کے ساتھ کیسا مذاق کیا جاتا ہے، اس پر پنجاب کی پولیس گردی، معصوم عوام پر ظلم و ستم، خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور بدتہذیبی، سرکوں پر گھسیٹنا، انہیں گالیاں دینا اور پھر اپنی ترقی اور حاکم اعلیٰ کی خوشنودی کے لئے کچھ بھی کر گزرنا پنجاب پولیس کے شاید ایمان کا حصہ ہے۔
ن لیگ ملک کو کھانے میں اتنی مصروف ہے کہ ہر طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں اور چھوٹے میاں سبحان اللہ، واقعی سبحان اللہ ہیں، کوئی کچھ کہہ لے، کوئی کچھ کر لے، کوئی کچھ سنا دے، حضرت شہباز شریف، اپنی شرافت کے طبل بجانے میں مصروف رہتے ہیں، ساری قوم جانتی ہے شریف خاندان کی شرافت کے چرچے کیا ہیں، ن لیگ سی پیک پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے، لیکن یہ وہ خواب ہے جو، ن لیگ کی نیند تو کیا پلکیں بھی جھلسا کے رکھ دے گا۔ ن لیگ عوام کی آنکھوں میں دھول تو جھونک سکتی ہے، عوام کی سوچ نہیں بدل سکتی،جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش تو کر سکتی ہے، جمہوریت کو مٹا نہیں سکتی، کیونکہ اس جمہوریت کی آبیاری میں مزدور، کسان، محنت کش، دہقان، خواص اور عوام کا خون شامل ہے، جن کی بنیادوں میں شہیدوں کا لہو شامل ہو وہ دیواریں کبھی نہیں گرتیں، وہ عمارتیں کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو جائیں ان سے کوئی چھوٹا دکھائی نہیں دیتا سب برابر نظر آتے ہیں۔
نواز حکومت کی قلعی پوری دنیا میں اچھی طرح کھل چکی ہے، جس حاکم کے دور میں معصوم بچیوں کو اغوا کیا جائے، ان کے ساتھ زیادتی ہو، انہیں درندگی کا نشانہ بنایا جائے اور پھر ان کو گرفتار بھی نہ کیا جا سکے تو ایسے حکمرانوں کو خلق، خدا اور تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔ ن لیگ نے بیرون ملک جائیدادیں بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، آج ن لیگ کی شطرنج کے سارے مہرے ایک ایک کر کے گرتے جا رہے ہیں، شکست اور رسوائی ان کے قدموں اور مقدر سے کچھ زیادہ دور نہیں، لیکن عوام کو گمراہ کرنے اور خود کو مظلوم ثابت کرنے میں یہ حکومت کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے۔ ”مجھے کیوں نکالا گیا“ کا راگ سنتے سنتے عوام کی سماعتیں پتھرا گئیں لیکن ن لیگ کا حلق خشک نہیں ہوا۔ عوام غربت تو شاید برداشت کر لیں لیکن عزتوںکا تحفظ مانگتے ہیں اور قصور کی زینب، مردان کی عاصمہ اور ایسی ماضی کی بے شمار مثالیں نواز حکومت کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ ن لیگ ناکامیوں کا مینار بن چکی ہے، عوام سکون کی زندگی گزارنا اور چین کی نیند سونا چاہتے ہیں اور ان کی یہ امید 2018ءکے الیکشن میں عوام کی بھرپور حمایت سے پاکستان پیپلزپارٹی کی کامیابی کی صورت میں ممکن ہو گی۔ آنے والے وقت کے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری سے عوام کی توقعات پوری ہو سکیں گی۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پی پی پی حکومتوں میں امن، بے روزگاری کا خاتمہ، تعلیم کا فروغ اور ترقی کی راہیں ہمیشہ روشن نظر آتی ہیں۔ عوام اب ن لیگ حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں، ن لیگ نے ساری ریوڑیاں اپنوں کو بانٹ کر ختم کر دی ہیں۔
زینب کا واقعہ پنجاب حکومت کے لئے کوئی نیا نہیں، قصور میں اس سے پہلے بھی کوئی 8 بچیوں کے ساتھ ایسے شرمناک واقعات پیش آ چکے ہیں، یہی نہیں 2015ءسے پنجاب کی سرزمین پرایسے درندے دندناتے پھر رہے ہیں، جن کو کوئی پکڑنے والا نہیں، لگتا ہے پنجاب حکومت کی نظر میں یہ جرم کوئی جرم ہی نہیں ہے، اسی لئے نہ ان کو گرفتار کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جاتی ہے، زینب واقعے کے بعد عوام کے دلوں کی آواز جب شور بن کر اٹھی تو عوام سڑکوں پر نکل آئے، مجرم کی گرفتاری کے مطالبے اور حکومت مخالف نعروں سے شہر کی دیواریں سج گئیں، تو عوام کو بہلانے کے لئے عمران نامی ایک شخص کو گرفتار کر کے اسے زینب کا قاتل بتایا گیا، اس کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی میچ کر گیا، چھوٹے میاں خوشی سے دیوانے ہوگئے کہ شاید اب ان کی حکومت بچ جائے گی، عوام کی آنکھوں میں ایک بار پھر دھول جھونکنے کے لئے ایک پریس کانفرنس بھی کر ڈالی، میڈیا اور عوام کو ایک بار پھر بے و قوف بنانے کی کوشش کی گئی، اس پریس کانفرنس میں جو کچھ ہوا وہ ساری قوم نے دیکھا، زینب کے والد کو صوبے کے وزیر قانون نے پریس کانفرنس سے پہلے کس طرح دباﺅ میںلیا، وزیراعلیٰ پنجاب حصرت شہباز شریف نے کس طرح معصوم زینب کے والد کا مائیک بند کیا اس کے بعد فاتحانہ انداز میں تالیاں بجا کر زینب کے والد اور قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا، آخر یہ تالیاں تھیں کس لئے، زینب کے قاتل کی گرفتاری پر؟ ن لیگ کی حکومت کی کامیابی کی خوش فہمی پر؟ یا پھر قوم کو بے قوف بنانے پر؟ اور پھر یہی تالیاں پنجاب حکومت کے لئے گالیاں بن گئیں، میڈیا ہو یا سوشل میڈیا وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے اس حوالے سے جو کچھ لکھا اور کہا گیا وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس دنیا کی دوسری بڑی فورنزک لیب موجود ہے، تو اس سے پہلے جو اتنی بچیوں کے ساتھ زیادتی اور ان کا قتل ہوا انہیں اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟ قصور میں تواتر کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہونے پر تو وزیراعلیٰ پنجاب کا سرشرم سے جھک جانا چاہئے تھا اور وہ تالیاں بجا رہے ہیں، اس سے زیادہ افسوس کا مقام اور کیا ہوگا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا ہے، زینب واقعے پر قوم جس بے چینی کا شکار ہے اور اس کے قاتل عمران کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پنجاب حکومت عوام کے غم و غصے کو کامدوا کرتی ہے، قاتل کو پھانسی سے بچاتی ہے یا تختہ دار پر لٹکاتی ہے!!!
(کالم نگار پیپلزپارٹی کی مرکزی رہنما ہیں)
٭….٭….٭

ہمیں ہرحال کا پاکستان قبول ہے

عبدلودود قریشی

پاکستان لاکھوں لوگوں کی قربانیوں سے بنا اور لاکھوں لوگ بھارت سے اس وقت ہجرت کرکے آئے جب انکی اپنی کرنسی نہیں تھی ، انکا اپنا سکہ نہیں تھا، ڈاک کی ٹکٹیں نہیں تھیں ، اسٹامپ پیپر نہیں تھے اور انڈیا کے نوٹوں، سکوں اور ٹکٹوں پر پاکستان لکھ کر سفر شروع کیا گیا، دفاتر میں پیپر پن کی جگہ درختوں کے کانٹوں سے کام چلایاجاتا تھا، جب پاکستان بن گیا اسکا قائد بیمارتھا تواسے ہسپتال لےجانے والی ایمبولنس میں پٹرول نہیں تھا ۔
پاکستان کی کہانی سے تو پوری طرح وہ لوگ بھی واقف نہیں جو قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کررہے تھے ، مگر پاکستان کے علاقوں میں پہلے سے مقیم تھے ، انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت قیام پاکستان کے وقت ہوئی مگر ہر ایک کی زبان پر نعرہ تھا ”لے کے رہیں گے پاکستان ، بن کے رہے گا پاکستان “ ۔
مگر حکمرانوں کے گھر منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہونے والی نسل یہ نعرے لگوارہی ہے اور وہ نعرے بھی سوالوں کے جواب میں ہمارے باپ کو وزیراعظم ہاو¿س سے نکال دیاجائے ، آپکو ایسا پاکستان چاہئے اور پھر سٹیج سے ”نہیں نہیں “ کے نعرے لگوائے جائیں ، ہمیں عدالتوں میں ہر ہفتے بلایا جائے ، آپکو ایسا پاکستان چاہئے…؟، جبکہ اس ملک میں بانی ایم کیو ایم نے لندن سے کچھ عرصہ تک اس طرح کے سوالات کا جواب نفی میں طلب کیا ، پھر ایک رات لندن سے بیٹھ کر پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاکر انجام کو پہنچا ، اس وقت بھی حاضرین نے اسکاساتھ دیااورپھر چند ہفتوں بعد لاتعلقی کرلی۔
جلسوں جلوسوں میں ایک مزاج ہوتا ہے ، لوگ بہتے پانی کی طرح اس کے ساتھ رواں ہوتے ہیں ، وہ ہر سچ جھوٹ پر آواز ملاتے رہتے ہیں اور جہاں انکو وقفہ ملتا ہے اور اس جم غفیر سے الگ ہوتے ہیں صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں اور ٹھنڈے دل و دماغ سے ذہن جدا کرلیتے ہیں۔
پاکستان سے ہماری محبت وابستگی او روفاداری مشروط نہیں، یکطرفہ ہے مگر پاکستان نے ہمیں بہت کچھ دیا ، یہ پاکستان ہی ہے جہاں ہم بدعنوانی کرنے کے باوجود سرکاری گاڑیوں اور پروٹوکول لیکر بھی پاکستان میں کیڑے نکال رہے ہیں کہ ہمیں ایسا پاکستان قبول نہیں، ویسا پاکستان قبول نہیں ۔
فٹ پاتھ پر بھیک مانگنے والے لوگوں نے بیروزگار نوجوانوں اور ان محروم طبقات نے جنکا مینڈیٹ ووٹ کے نام پر چرایا جاتا ہے کبھی یہ کہا کہ ہمیں ایسا پاکستان قبول نہیں ، پاکستان کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا ذکر وہی کررہے ہیں جو اس ملک میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوئے، قیام پاکستان اور ہجرت میں انکی انگلی سے ایک بوند خون بھی نہیں ٹپکا ، انہوں نے پاکستان کے خزانے کو بے دردی سے کمیشن لیکر لوٹا ، سرکاری خرچ پر ساری دنیا کی سیروتفریح کی اور اپنا مستقبل اورخاندان بھی پاکستان کے خزانے سے بننے والے محلات میں بنایا، جنہیں انصاف کئی دہائیوں کے بعد اس وقت یاد آیا جب قانون کا شکنجہ انکی گردن کے قریب پہنچا، انہیں تو ابھی بھوک ، افلاس ، بیروزگاری، بنکوں میں بجلی اورگیس کے بل جمع کراتے گھنٹوں چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ہوکر بنکوں کے عملے کی بدتمیزی کا احساس تو کجا علم ہی نہیں۔
چھ پاو¿نڈ کے جس بچے کو ماں چوم چوم کر پالتی ہے اسے گریجویشن کرواکر بڑھاپے کا سہارا بنانے کے خواب دیکھ رہی ہوتی ہے کہ ریاست سے تنخواہ لینے والا راو¿ انوار اسکے سر اور کنپٹی پر بھتہ نہ دینے پر گولیاں ماردیتا ہے اوراسکا سارا خاندان سہم سہم کر زندگی گذاردیتا ہے کہ اس نوجوان پر جھوٹا الزام چور ، ڈاکو ، دہشتگرد کا لگادیا جاتا ہے ، مگر وہ بھی یہ لفظ ادانہیں کرتے کہ ہمیں ایسا پاکستان نہیں چاہئے ۔
کراچی میں اپنے خاندانوں اور پاکستان کے خزانے کو بھرنے کیلئے جو محنت مزدوری کرتے ہیں اس میں سے تیس چالیس فیصد بھتہ لیا جاتا ہے ، غریبوں کی وراثتی زمینوں اور بچوں کے مستقبل پر پراپرٹی ڈان قبضہ کرلیتے ہیں جو ہر حکمران کے محلات کی ہر ہفتے زینت بنتے ہیں اور ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں خاندان ہیں زمینداروں ، جاگیرداروں ، چینی مافیہ ، پارلیمانی مافیہ، بیوروکریسی کی نسلوں کی خوشحالی کیلئے روزانہ جیتے اور روزانہ مرتے ہیں، سارا خاندان ایک نوجوان کو پالتا اور پڑھاتا ہے ، اسکی تعلیم کے مکمل ہونے پر سولہ سال ایک ایک دن گن کر گذارتا ہے اور پھر وہ تعلیم مکمل کرکے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے ، مگر اسے روزگار نہیں ملتاجبکہ سیاست ، اقتدار اور بیوروکریسی سے متعلق افراد کے خاندان کا کوئی شخص بھی بیروزگار نہیں ہوتا۔
مجھے یہ جان کر تعجب ہوا کہ ایک بیوروکریٹ کا بیٹا جسکی عمر ابھی 24سال ہے گریڈ 22کا افسر ہے ، حکمران بی اے پاس اپنے مصاحب کو پیمرا میں لگاتے ہیں تو دیگر سہولیات اور انکم ٹیکس بھی حکومت کی ادائیگی کے بعد 15لاکھ ماہانہ دیا جاتا ہے ، لوگ اس ملک میں 15ہزار ماہانہ کی نوکری کیلئے دھکے کھاتے ہیں اور یہ نوکری سارے خاندان کا خواب ہوتا ہے ۔
کاش حکمرانوں کے گریبانوں تک ان حالات کاشکنجہ بھی پہنچے تاکہ انہیں اسکی بھی فکر لاحق ہو، حیرت ہے وزیراعظم ہاو¿س سے جھوٹ بولنے اور صادق و امین نہ ہونے کے باوجود براجمان رہنے کا خبط سوار ہے ، اعلیٰ عدلیہ ہو ، فوج ہو ، احتسابی ادارے ہوں ، سب سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر پاکستان نامنظور کا نعرہ باعث شرم ہے چونکہ کچھ ان لوگوں کا نام نہیں لے سکتے جو ان کے ساتھ ہرجائز اور ناجائز تعاون سے انکاری ہیں، اور اگر انکے نام لیں تو قانون حرکت میں آسکتا ہے ، تو وہ پاکستان کو لاوارث سمجھ کر پاکستان کو گالی دیتے ہیں ۔
پاکستان اللہ کا دیا گیا عطیہ ہے ، حکمران اور حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے ، دنیاوی خداو¿ں کو ایک نہ ایک دن اس دنیا میں رسوائی کا سامنا ہونا ہے ، 70سال گذرنے کے باوجود آج بھی پاکستان میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نظر نہیں آرہی جسے قیام پاکستان اور پاکستانی عوام کے حقیقی مقاصد اور ضروریات کا ادراک ہو اور وہ اسے سنوارنے کیلئے کوشاں ہوں، منزل مقصود ، حصول اقتدار اور پھر شاہانہ زندگی ، شادیاں ، بیرون ملک کمپنیاں اور جائیدادیں ہیں، عوام اپنے سے کوئی اپنا حکمران چننے کیلئے آمادہ ہی نہیں، جب تک انکے پاس رہنما حکمران نہیں ہوگا جو ان میں سے ہو یہ ان حکمرانوں کی تفریح طبع کا سامان بنے رہیں گے ۔
پاکستان پر ایوب خان ، یحییٰ خان ، سکندر مرزا ، ضیاءالحق، پرویز مشرف، آصف علی زرداری ، ذوالفقار علی بھٹو ، بےنظیر بھٹو ، نصراللہ خان اور نہ جانے کون کون حکمران رہے، سب کو یہی زعم ہوگیاتھا کہ وہ پاکستان کیلئے ناگزیر ہیں، مگر وقت نے ثابت کردیا کہ پاکستان ہے اور رہیگا اور سب کو ہر حال کا پاکستان قبول ہے ، یہ دل دل اور جان جان ہے جنہیں برطانیہ پسند ہے وہاں چلے جائیں ، سعودیہ چلے جائیں ، فرانس چلے جائیں ، قطر چلے جائیں مگر پاکستان سے وابستگی کو مشروط نہ کریں ، پاکستان بہت کچھ دے چکا ہے ۔
٭٭٭

ٹرمپ اور سیاسی دنیا میں سوچ کی تبدیلی

ثاقب رحیم….خودکلامی
آج ہر طرف ٹرمپ کا نام ہرگھر اور ہر محفل میں ایک ایسا نام بن چکا ہے جس کے ذکر کے بغیر دنیائے سیاست کی تمام گفتگو پھیکی لگتی ہے، یا نامکمل سی رہتی ہے۔ ٹرمپ نے سیاست میں قدم رکھنے ، الیکشن میں جیتنے کیلئے داﺅ پیچ کا جس ہنر مندی سے استعمال کیا اس پر پوری دنیا ورطہ حیرت میں مبتلا ہے۔ انکی متنازعہ شخصیت اور سیاستی چالوں نے آج بھی امریکی عوام، سیاستدانوں اور پوری دنیا کو ایک غیر یعنی صورتحال سے دوچار کیا ہوا ہے۔ امریکہ میں ہر روز ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جیسے وہاں کے ماحول اور حالات نے کبھی نہیں دیکھے۔ ٹرمپ نے جب صدارتی امیدوار بن کر الیکشن میں حصہ لینے کا اظہار کیا اس روز سے امریکی عوام میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔ امریکی عوام کے علاوہ امریکہ میں آباد دنیا بھر کے امیگرینٹس کو ٹرمپ کی شخصیت میں عجیب سی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ ٹرمپ کی وہ نجی زندگی ہے جو انہوں ایک امیر کبیر کاروباری شخص ہونے کی حیثیت سے گزاری تھی۔ ان سے پہلے امریکہ کے تمام صدور مختلف النوع کردار کے مالک رہے ہیں اور وہ تقریباً سب کے سب اپنی اپنی ذات اور حیثیت میں کافی حد تک سنجیدہ اور بردبار نظر آتے تھے۔ ان سب کے انداز بودوباش اور گفتگو کے طور طریقے مہذب اور ٹھہراﺅ والے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں ٹرمپ کی طبیعت میں بلبلا پن، گفتگو میں اداکاری سے بھرپور کھنڈرا پن اور جسمانی اور چہرے کی حرکات و سکنات میں غیر سنجیدگی دیکھی جا سکتی تھی۔ ٹرمپ کی اسی شخصی بے چینی نے امریکی عوام کے دلوں میں بھی ایک طرح کی بے چینی پیدا کردی اوروہ بھی عجیب انداز سے سوچنے پر مجبور ہوگئے۔
امریکہ میں سیاستدان اور ان کیلئے کام کرنے والی ٹیمیں دنیا کے تناظر کو سامنے رکھ کر معاملات کو ترتیب دے کر اپنے اپنے سیاسی یا انتظامی لیڈر کو حالات کے مطابق مناسب عمل کی راہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کو ممکنہ غلطیوں سے بچائے رکھتی ہیں ۔جس کی وجہ سے وہاںکے سیاستدان اپنی ذاتی حیثیت میں امریکہ کے کیلئے بہت کم غلط اقدام کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لیکن ٹرمپ کی حکومت آنے کے بعد امریکیوں کی سوچ میں کچھ واضح تبدیلی دیکھی جاسکتی ہے۔
امریکی عوام نے اپنے انداز فکر میں غیر ملکی رہائشیوںکیلئے الگ طریقے سے تجزئیے شروع کردئیے۔ انہوں نے اپنے طور طریقوں سے ہٹ کر آبادکاروں کے طور طریقوں پر غور کرنا شروع کیا اور انہیں پتہ چلا کہ ان کے دلوں میں سیاستدان منافرت پھیلاتے رہے ہیں وہ یکسر غلط تھا۔انہیں معلوم ہوا کہ غیر ممالک کے افراد بے شمار حالات اور کارکردگی میں ان سے کہیں بہتر ہیں۔ غیر امریکی بیشتر معاملات میں ان سے مختلف بلکہ کامیاب ہیں۔ خاص طور پر وہاں کے مسلمانوں کے بارے میں جب انہوں نے غور کیا تو انہیں سیاسی بیانات اور مسلمانوں کی اصل حقیقت میں زمین و آسمان کا فرق نظر آیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر ہندوکج ذہنی کی وجہ سے امریکی حکومت کا نکتہ نظر ناجائز اورغیر حقیقت پسندانہ ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکی عوام کا عمومی طور پر مسلمانوں سے رویہ بہتر ہوگیا ہے اور ٹرمپ کی مودی حکومت پر نوازشات اور بے جا اعتماد کے پیچھے کم ظرفی اورکن رسی شامل ہے اور سیاسی بالیدگی کی کمی ہے۔
امریکہ میں ہندو لابی بڑی خوبی اور ذہانت سے اپنا کام کرتی ہے اور ”را“ ئے عامہ کو ہندوﺅں کے حق میں استوار رکھنے کیلئے بڑی متعددی سے عمل پیرا ہے۔ جس کی وجہ سے ہندو کمیونٹی کو وہاں بہت مدت سے ایک اہم مقامل حاصل ہے اور ویسے بھی ہندو، مسلمانوں کی نسبت بہت عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کے معاشرے میں اسی طرح گھل مل گئے ہیں کہ ان کے رہن سہن میں یکسانیت پیدا ہوچکی ہے۔ ہندو ایسے میں خود کو حالات اور ماحول کے مطابقبہت جلد ڈھال لیتے ہیں۔ جبکہ مسلمان اپنی کم علمی اور مذہبی بندشوں کی وجہ سے دوری کا شکار ہیں۔ بہت گھرانے امریکیوں کی سی بود و باش اختیار کرتے ہیں ،جس کی وجہ سے امریکیوں اور مسلمان کمیونٹی کے درمیان ہندوﺅں کی نسبت فاصلے کم نہیں ہوسکے۔ اس معاشرتی اور تہذیبی یا مذہبی دوری کے باوجود اب امریکی عوام، مسلمانوں کو ان کی سادگی، محبت اور بھائی چارے اور تہذیبی دائرے میں زندگی بسر کرنے کے انداز سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور ان کو تمام تر سیاسی پراپیگنڈے کے باوجود قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ مسلمانوں کے امریکہ میں اسلامی طریقے سے رہنے کے اندازنے امریکی معاشرے پر اسلام کی آفاقیت اور رہن سہن اور اخلاقی بندشوں کے فوائد نے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اب وہ لوگ بھی معاشرتی طور پر خاندانی رہائش‘ میل ملاپ اور مل جل کر رہنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ ان میں بھی اب بڑے بزرگوں کو اپنے ساتھ رکھنے اور ان کی تیمارداری کا احساس پیدا ہوتا جارہا ہے۔ بچوں کو اور والدین کو اپنی اپنی زندگیاں الگ الگ گزارنے کی روایات کی خرابیاں نظر آنے لگی ہیں۔ لوگ بھی اب اپنے اپنے بزرگوں کے ساتھ بچوں کو رکھنا اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کی افادیت سے واقف ہوتے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں کی وجہ سے منفی بیانات کے بعد ہوا ہے‘ جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے خوش آئند ہے کہ امریکی عوام کو اسلام اور مسلمانوں کی زندگی پر غور کرنا آیا اور جس کے نتیجے میں ان کی سوچ میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ نفرتیں بڑھنے کی بجائے معاشرتی اور تمدنی دوریاں کم ہوتی نظر آرہی ہیں اور یہ بات ہندو ذہنیت نے بھی محسوس کرلی اور جلد ہی سیاسی دنیا میں ہندو ذہنیت میں بھی تبدیلی دیکھی جائے گی کہ وہ لوگ دنیا بھر میں امریکی دوستی کے حوالے سے بدنام ہورہے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کا امیج خراب کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ مسلمانوں کا اپنا ہے۔ ہم اخوت اور بھائی چارے کی پوری تعلیم رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے قومیت کی بنیاد پر نفرت کرتے ہیں۔ عجمی کو عربی پر اور کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں‘ ماسوائے تقویٰ کے‘ کا سبق پڑھنے کے بعد بھی ہم دلوں میں نفرتوں کو جگہ دیئے بیٹھے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو دولت کی کمی بیشی کے حوالے میں ملتے ملاتے ہیں جبکہ ہماری بنیاد‘ ہمارا عقیدہ‘ اخوت اور بھائی چارے پر قائم ہے جسے ہم یکسر بھول چکے ہیں اور اسی کا فائدہ اسلام کے دشمن اٹھا رہے ہیں۔مسلمان جغرافیائی طور پر بہت سے ممالک میں بستے ہیں جبکہ ہندو کا صرف اور صرف ایک ہی ملک ہے اور وہ جانتے بھی ہیں کہ ان کی پہچان اور عافیت ہندوستان کی اکیلی سرزمین ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی جائے پناہ نہیں جبکہ مسلمان اس دنیا میں بے شمار ممالک میں ہیں اور وہ عقیدے کے اعتبار سے کہیں بھی رہ سکتے ہیں یا سما سکتے ہیں۔
ہندو اور مغربی ذہنیت نے مسلمانوں کی جغرافیائی تقسیم کو ذہنی تقسیم میں بدل دیا ہے اور وہ اپنی اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ جغرافیائی اور تمدنی تقسیم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دلوں کی دوری میں بدل دیا جائے۔Divide and Rule کے فارمولے کے تحت ان کو اکٹھا نہ ہونے دیا جائے اور انہیں مختلف دینی‘ معاشرتی اور طبقاتی دشمنیوں میں مبتلا رکھا جائے اور ان پر کسی نہ کسی طرح کی بالادستی قائم رکھی جائے۔
ٹرمپ حکومت بہت جلد اپنی پالیسیوں اور اس ہندو دباﺅ کو محسوس کرے گی اور اس کو ہندو چالاکی اور مفادپرستی کا علم ہوجائے گا تب ہندوستان کی مطلبی دوستی کا بھانڈا ان پر اس طرح پھوٹے گا جس طرح چین اور ہندوستان کا ”ہند چینی بھائی بھائی“ اور روس ہند اٹل دوستی کے بھانڈے پھوٹ چکے ہیں۔ پٹھان ہمارے دلیر اور معصوم و پشین کے بھائی ہیں وہ بھی ہندوستان کی چالوں اور ارادوں کو جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چل رہے ہیں‘ جلد سمجھ جائیں گے اور بہت جلد وہ ہم مسلمان بھائیوں کی ہندو دشمنی سے بچ کر ہم سے آملیں گے۔
ہمیں ٹرمپ کا مشکور ہونا چاہئے کہ اس نے مسلمانوں کی سوچ کو ایک کردیا ہے جو شاید کسی اور طرح ممکن نہ ہوتا۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

زینب قتل کیس اور جدید ٹیکنالوجی

سجادوریا……..گمان
23 جنوری کو خادم پنجاب شہباز شریف لیہ کے عوام سے لائیو خطاب کر رہے تھے اور اپنی خدمات گنوا رہے تھے اور آئندہ انتخابات کے لئے ان سے وعدے لے رہے تھے کہ وہ ان کو ہی ووٹ دیں گے۔ بظاہر لیہ چوک اعظم ڈبل روڈ کی تکمیل کا کریڈٹ بھی لے لیا اور اس کی لاگت بھی پانچ ارب روپے بتا دی‘ حالانکہ 24 کلومیٹر میں سے صرف 6 کلومیٹر بنی ہے اور باقی کے لئے دوبارہ ووٹ مانگ لئے ہیں ۔ ساڑھے نو سال کی حکومت کے بعد پھر کہا کہ اگر آپ نے ووٹ دیا تو لیہ کو پیرس بنا دیں گے۔یہ تو ماننا پڑے گاکہ یہ ان ہی کا انداز ہے کہ میڈیا میں بیانات سے ہی پیرس بنا دیتے ہیں‘ اس دوران یہ خبر بھی میڈیا پر چلنے لگی کہ قصور میں پیش آنے والے واقعہ کا ملزم پکڑا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب پریس کانفرنس میں اعلان کریں گے ۔ عوام کی نظر اس گرفتاری پر مرکوز ہو گئی‘ عوام و خواص یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ کون ہے؟ کیا رشتہ دار یا محلے دار ہے؟
بہر حال اہل قصور کے لیے بلخصوص اور پاکستان کے عوام کے لئے بالعموم یہ خبر بہت خوشگوار اور حوصلہ افزا ثابت ہوئی کیونکہ بدقسمتی سے عمومی تاثر یہ بن چکا ہے کہ “ہونا کج وی نہیں” لیکن میڈیا اور عوامی دباو¿ نے یہ ممکن بنا دیا ورنہ پولیس پہلے اس قاتل کو پکڑنے میں سنجیدگی سے کام نہیں کر رہی تھی۔
پنجاب حکومت کے اداروں نے اس ملزم کو گرفتار کرکے کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب حکومت کو سراہا جانا چاہئے اور اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔ حالات یہی بتا رہے ہیں کہ ملزم کو زینب کے رشتے داروں نے گرفتار کروایا تھا اور ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد کنفرم بھی ہو گیا‘ لیکن اس بات کوپنجاب حکومت نے یہ ایسے پیش کیا کہ 1150 ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے بعد یہ ملزم کنفرم ہو گیا‘ اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی گئی تالیاں بجائی گئیں اور انعامات بانٹے گئے‘سیاسی مخالفین کو طعنے دئیے گئے کہ ایسے فرنزک لیب بناو¿ اور مجرمین کو پکڑو‘ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ملزم پہلے گرفتار ہوا ‘ بعد میں ڈی این اے ٹیسٹ سے کنفرم ہوا۔پریس کانفرنس میں ایسے پیش کیا گیا کہ پنجاب فرنزک لیب کے بغیر تو اس ملزم کو گرفتار کرنا ممکن نہیں تھا‘کیونکہ یہ انتہائی حساس معاملہ تھا اور اس میں کسی بھی معصوم فرد کو اگر گرفتار کیا جاتا تو اس کے لیے اور اس کے خاندان کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہوتا ایک تو اس کو سزاوار ٹھہرایا جاتا اور پھر اس کا خاندان دنیا بھر میں شرمندگی کا سامنا کرتا اور صفائیاں پیش کرتا رہتا‘ لہٰذا وقت کے جدید تقاضے کے مطابق جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے بعد اعلان کیا گیا جو کہ بہت ذمہ دارانہ رویہ ہے۔آج کل جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اسمارٹ فونز بھی فنگر پرنٹس اور آنکھوں کے کنٹیکٹ سے کھلتے ہیں اور کئی ترقی یافتہ ممالک نے ائرپورٹس پر آنکھوں کی ریڈنگ کی مشینری نصب کر دی ہے جبکہ فنگر پرنٹس تو ہر جگہ موجود ہے‘مطلب کہ اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال معمول کی بات ہے اور اس کے بغیر زندگی کا چلنا نا ممکن ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ دنیا کی جدید ترین ایجاد ہے اس میں ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کرنا بلاشک و شبہ قابل قبول اور قابل یقین عمل ہے‘ لیکن اس میں ایک مشکل دکھائی دے رہی ہے کہ مذہبی طبقہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خائف نظر آتا ہے‘ابھی حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈی این اے ٹیسٹ کو قانونی اور عدالتی ثبوت تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے‘جو کہ ایک روائتی انداز ہے کیونکہ یہی لوگ لاوڈ اسپیکر، ریڈیو، ٹیلی ویڑن اور ڈش انٹینا کو طرح طرح کے القابات سے نوازتے رہے ہیں اور لاو¿ڈ اسپیکر میں سب سے زیادہ یہی لوگ بولتے ہیں۔جدید ترین ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کامیابی اور خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ منہ زور گھوڑے کی طرح سب اعتراضات اور تنقیدی نظریات کو روندتے ہوئے اپنی جگہ بنا لیتی ہے. اور پھر یہی معترضین بھی اس کے استعمال کے لئے اصرار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان ایک غریب ملک ہے اس کے مسائل زیادہ ہیں ‘ اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئے سرے سے اپنے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔پولیس کے پاس وسائل نہیں ہیں اور وزارتیں بھی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے محتاج ہیں ۔ ادارے سیاست سے بالاتر ہو کر اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کریں گے تو نتائج برآمد ہو سکیں گے۔ اس کیس میں بھی شہباز شریف نے کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش میں جگ ہنسائی کا سامنا کیا اور تالیاں بجانے قہقہے لگانے پر تنقید ہوئی‘ وزیر اعلیٰکو پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں تھی ایک صوبائی وزیر یا آئی جی پولیس یا ڈی پی او صاحب کو حکم دیا جاتا کہ وہ تفصیلات میڈیا اور عوام کے سامنے پیش کر دیتا‘ لیکن دوسروں کو سیاست نہ کرنے کے مشورے بھی دیتے رہے اور خود آغاز ہی سیاست سے کیا جو انتہائی قابل افسوس عمل ہے۔ ان مسائل کا حل یقینی طور پر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور نفاذ میں ہے‘اس لئے حکومت اور ماہرین میڈیا کی مدد سے قانونی حیثیت منظور کروانے میں کردار ادا کرے۔اب تو یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کو لانے کا سہرا چودھری پرویزالٰہی کے سر ہے۔
(کالم نگارسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

سوکھے دریاﺅں کی دھول اورنئی کتاب

پروفیسر فاروق عزماظہار خیال
پانی زندگی ہے ۔برسے تو بارش ،جم جائے تو برف،اُڑے تو بھاپ ،آنکھ سے ٹپکے تو آنسو ،کلیوں کا منہ دُھلائے تو شبنم ،نہ ملے تو پیاس ،اور سوکھ جائے تواب ستلج ،راوی اور بیاس ،کسی شاعر نے کہا تھا ،
پانی رے پانی تیرا رنگ کیسا
دنیا بنانے والے رب جیسا
اسی مہربان رب نے اپنی نعمتوں میں ایک عظیم نعمت پانی بھی انسان کو عطا فرمایا ،لیکن نا قدر ے اور ناشکرے انسان نے کون سی نعمت کی قدر کی تھی ،جو اس نعمت لاثانی کی قدر کرنی تھی ،پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا اور رحمتوں سے نوازا ہے ،یہاں قدرتی وسائل کی قطعاً کمی نہیں لیکن ہم نے اس بے بہا قیمتی ”اثاثے “کی قدر کی نہ پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی معقول بندوبست کیا اور نہ یہ سوچا کہ مستقبل میں اگر یہ نعمت نہ رہی یا چھین لی گئی تو ہم کیا کریں گے اور زندگی کے خشک ہونٹ کیونکر تر ہو سکےں گے ۔آج ہمارے تین دریا ستلج،راوی اور بیاس ہماری اور حکمرانوں کی اس نا شکری کی نذر ہو گئے ہیں کہ جس کے باعث ان دریاو¿ں سے وابستہ انسانی زندگی ،آبی حیات اور نباتاتی حیات ©©”زندگی و موت “کی کشمکش میں مبتلا ہے منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ ان کا ایک شعر بے تکی سی ترمیم کے ساتھ درج کرنے کو جی چاہ رہا ہے جو یوں ہے ۔
آنکھوں میں اڑ رہی ہے سوکھے دریاو¿ں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
میرے ہاتھوں میں جناب ضیا شاہد صاحب کی نئی کتاب”ستلج راوی اور بیاس کا سارا پانی بند کیوں“ہے ضیا شاہد صاحب گذشتہ کچھ عرصے سے اس انتہائی اہم مسلئے پر بڑی لگن خلوص دل اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ وہ 20بائیس کروڑ پاکستانیوں میں جناب ضیا شاہد وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس انتہائی اہم اور سنگین مسئلے کی حساسیت کو سمجھا اور یہ ایشو ریز کیا ،اور اس سلسلے میں ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا ،یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔
ستلج راوی اور بیاس سوکھ رہے ہیں بلکہ سوکھ گئے ہیں ،لیکن اس عظیم نقصان کو اور آئندہ چند برسوں میں اس سے ہونے والی مزید تباہی اور بربادی کو مقتدد حلقوں نے بھی محسوس نہیںکیا،اور پانی کی عدم دستیابی سے پیدا ہونے والے سنگین بحران کا اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی ،یہ تو فیق اللہ تعالیٰ نے ضیا شاہد صاحب کو دی ۔اور انہوں نے اس مسئلے پر کام کا آغاز جہاد سمجھ کر کیا یہ ان کی پاکستان سے محبت کا ثبوت ہو اور اس بات کا اظہار بھی کہ وہ ایک دردِدل رکھنے والے انسان ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں ایک بہت مشکل لیکن انتہائی اہم ”مشن“ کا بیڑا اٹھایا ہے ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
پانی اللہ تعالیٰ کی بے بہا نعمت اور انمول تحفہ ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور نا ممکن ہے ۔پاکستان چونکہ بنیادی طور پرزرعی ملک ہے اور زراعت کا سارا انحصار پانی پر ہوتا ہے ۔زرعی زمینوں کی سیرابی کیلئے پانی بے حد ضروری ہے ،ہمارے ملک کا آبپاشی کا نظام بہت بہترین ہوا کرتا تھا ،لیکن گذشتہ چند سالوں میں پانی کے ذخائر بہت سرعت سے ختم ہو رہے ہیںاور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں پانی محفوظ کرنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ،ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آئندہ برسوں میں شدید قحط سالی کی صورت ِ حال کا سامنا ہوسکتا ہے اس متوقع سنگین صورت حال کا ادراک ضیا شاہد صاحب نے کیا اور سب سے پہلے اس مسئلے کی طرف ارباب اختیار اور پاکستانی عوام کی توجہ دلائی اور ایک آگاہی مہم کا آغازکیا اس ضمن میں مختلف فورم پر آواز اٹھائی حکومت کو بھی اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلانے ،بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ حکمرانوں کو خواب غفلت سے جھنجھوڑ کر جگانے کی بھر پور کوشش شروع کی اور اسکے لئے مختلف تقریبات کا انقعاد کیا وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی سے اسلام آباد جا کر ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پانی کی کمی سے پیدا ہونے والا بحران کس قدر خطر ناک اور تباہ کن صورت حال سے دوچار کر سکتا ہے ،انہوں نے مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ،آواری ہوٹل لاہور میں ایک سمینار بھی کرایا گیا ،اس کے علاوہ دریائے ستلج کے پانی کی مکمل بندش کے حوالے سے روز نامہ خبریں گروپ آف نیوز پیپر ،چینل ۵ کے تعاون سے تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے صدر خدایا ر چنڑ کے ساتھ مل کر ایک تاریخی ریلی نکالی گئی جس میں ”وسیب “کے زندگی کے ہر شعبے سے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ،کیونکہ جناب ضیا شاہد صاحب کا تعلق بھی وسیب کی اسی دھرتی سے ہے لہذا اس دھرتی کا دکھ وہ دوسروں سے زیادہ سمجھتے بھی ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں حاصل پور ،بہاولپور ،ناروال میں بھی سمینار منعقد کرائے گئے ضیاشاہدنے وفد کے ہمرا ہ مختلف شہروں کے طوفانی دورے کیے اور لوگوں کو پانی نہ ہونے سے پیدا ہونے والے بحران کی نوعیت اور سنگینی سے آگاہ کیا ،انہوں نے خود گنڈھا سنگھ والا کا دورہ کیا اور موقع پر جا کر دریا کا جائزہ لیا ۔
پاکستان کو بنجر اور خشک کرنے کی بھارت کی گھناونی سازش اور اس آبی دہشت گردی سے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے ضیا شاہد صاحب کی کوششیں قابل صد ستائش ہیں ۔انہوں نے دریائے ستلج کے پل پر کسان عوامی اکٹھ کا انعقاد بھی کیا جس میں سابق سینٹر محمد علی درانی نے بھی شرکت کی ،انڈس واٹر کمشنر سے ملاقات ،اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہال میں دو دفعہ لیکچر بھی انہی کوششوں کا حصہ ہیں ۔
پانی زندگی کی علامت ہے 1960ءمیں پاکستان اور بھارت کے مابین دریائی پانی کی تقسیم کے حوالے سے سندھ طاس معائدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان نے تین مشرقی دریاﺅں ستلج ،راوی اور بیاس کے زرعی پانی کا معائدہ بھارت سے کیا ۔جس کی رو سے بھارت صرف زرعی پانی روکنے کا مجا ز ہے ،لیکن تنگ نظر ہندوبنیے نے دو قومی نظریے کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا اور جہاں جہاں اور جیسے جیسے بھی ممکن ہو ا پاکستان کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہا۔لہٰذا بھارت نے زرعی پانی کی بندش کے ساتھ ساتھ ان تینوں دریاﺅں کا گھریلو استعمال ،آبی حیات اور ماحولیات کیلئے درکار پانی بھی روک لیا ،جبکہ معائدئے کی رو سے وہ ایسا کرنے کا ہرگز ہرگز اختیار نہیں رکھتا ۔ایک اور غلط فہمی پھیلتی چلی گئی کہ پاکستان نے سندھ طاس معائدے کی رو سے سارا پانی بیچ دیا جبکہ ایسا نہیں ہے۔
زیر نظر کتاب ”ستلج راوی اور بیاس کا سارا پانی بند کیوں ؟“اس اہم اور سنگین مسئلے کو اجاگر کرنے اور بھارت سے اپنا حق وصول کرنے کی کوشش اور سعی کے سلسلے میں ایک اہم قدم ہے ،میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب پاکستان کے ہر اُ س شخص کو پڑھنی چاہیے جو پڑھنا جانتا ہے ۔کتاب مذکورہ میں اس ضمن میں ہونے والے مباحثے مذاکرے تقریر یں ،ملاقاتیں اور انٹر ویو ز کا مکمل حال درج ہے ۔اور تمام قومی اخبارات میں لکھنے والے ملک کے چوٹی کے کالم نگار وں کی تحریر یں ہیں ۔
ناشر قلم فاو¿نڈیشن کے روح رواں علامہ عبد الستار عاصم صاحب نے بہت مختصر عرصے میں یہ کتاب چھاپ کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ اس مسلئے کی سنگینی کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ارض وطن کی اس دھرتی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔
ضیا شاہد صاحب جلد ہی انڈس واٹر ٹریٹی کا ترجمہ بھی شائع کر رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو بھی اس معائدے کے مندرجات سے آگاہی حاصل ہو۔ہمیں یقین ہے کہ جناب ضیا شاہدصاحب کی یہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی اور وہ ایک دن بھارت کی مذموم سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے بھارت کو مجبور کردیں گے کہ وہ معائدے سے زیادہ پانی نہ روکے ۔اور انشااللہ ایسا ضرور ہو گا ۔پاکستان کو اس کے حصے کا گھریلو آبی حیات اور ماحولیات کے لیے درکار پانی ضرور ملے گا ۔قدم بڑھاو¿ ضیا شاہد ،سارا پاکستان تمہارے ساتھ ہے ۔انشا اللہ
(کالم نگارسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭