All posts by Abid Malik

انتخابات اگست میں، کسی سے اتحاد نہیں کرینگے

جھنگ (ویب ڈسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ انتشار سے بچنے کےلئے وقت پر انتخابات کا انعقاد ضروری ہے، فیصلے کا اختیارعوام کے پاس ہے،سی پیک جنرل مشرف اور زرداری دونوں کرا سکتے تھے، سی پیک نواز شریف کے دور میں اس لئے آیا کیونکہ انہیں عوام کی حمایت حاصل تھی، یہ کام ٹیکنو کریٹ یا این آر او کرنے والے نہیں کر سکتے،ہمارے اتنے منصوبے ہیں کہ ہر ہفتے دو افتتاح کریں تب بھی الیکشن تک مشکل سے ختم ہوں گے،گیس سے چلنے والے یہ چار پلانٹ اگر نہ بنتے تو ملک میں لوڈشیڈنگ کو ختم نہ کر سکتے،شہباز شریف کے پاس ایک ایسی ٹیم ہے جو مہینوں میں صوبے مکمل کرتے ہیں جو دنیا کا ریکارڈ ہے،اگر ایک شخص شہباز شریف نہ ہوتا تو یہ منصوبے کبھی مکمل نہ ہوتے، پاکستان میں 20مہینے میں 3منصوبے مکمل کئے گئے، پیپلز پارٹی رینٹل منصوبہ لائی جس سے ایک میگاواٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی، تنقید کرنے والوں کو آمر کا منصوبہ دکھاﺅں گا جس میں دگنی قیمت لگائی گئی لیکن منصوبہ مکمل نہ ہو سکا، یہ فرق ہے جمہوریت اور آمریت میں،ہر صوبائی حکومت سے تعاون کیا، اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیارات ان کو دیئے،ہماری گالم گلوچ والی سیاست نہیں ہے،کبھی مخالفین بارے الزام نہیں لگائے نہ دل آزاری کی،زیرو جمع زیرو رہتا ہے، سیاسی الائنس بن رہے ہیں جنہوں نے زیرہ ہی رہنا ہے، جون میں فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں گے،جہاں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں بجلی دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔وہ ہفتہ کو پاور پلانٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سردار اویس لغاری، چینی سفیر، جرمن سفیر اور عابد شیر علی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مجھے آج خوشی ہے کہ ہم گیس سے چلنے والے چوتھے پاور پلانٹ کا افتتاح کر رہے ہیں، اگر یہ چار نہ بنتے تو ملک میں لوڈشیڈنگ کو ختم نہ کر سکتے،یہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پہلی حکومت ہے جو منصوبے شروع اور مکمل بھی کرتی ہے، 14ماہ بعد جب بھی یہ منصوبہ مکمل ہو گا، اس وقت امید ہے کہ (ن) لیگ کی حکومت ہو گی، بہت سی باتیں کی گئیں جن میں کوئی صداقت نہیں تھی، پاکستان میں 20مہینے میں 3منصوبے مکمل کئے گئے، یہ واضح فرق ہے، پیپلز پارٹی رینٹل منصوبہ لائی جس سے ایک میگاواٹ بجلی بھی حاصل نہیں ہوئی، اگر ان منصوبوں کی افادیت کے بارے میں بات کریں تو ہم اس پلانٹ کی بجلی کی بات کریں تو ہر سال ملک میں 30ارب روپے کی بجت ہوگی، نواز شریف کی قیادت میں میٹنگز میں کوئی حل نظر نہیں آتا تھا ،ہمیں 10ہزار میگاواٹ کی ضرورت تھی، یہ چار سال میں کرنا تھا، ہم نے چیلنج مکمل کیا اور 2030تک پاکستان کی بجلی کی ضروریات پر کام شروع ہو چکا ہے، اگر ایک شخص شہباز شریف نہ ہوتا تو یہ منصوبے کبھی مکمل نہ ہوتے، پنجاب حکومت نے منصوبے پر سرمایہ کاری خود کی، ہم نے منصوبوں میں شفافیت رکھی، تنقید کرنے والوں کو آمر کا منصوبہ دکھاﺅں گا جس میں دگنی قیمت لگائی گئی لیکن منصوبہ مکمل نہ ہو سکا، یہ فرق ہے جمہوریت اور آمریت میں،جمہوریت میں جواب دہی ہوتی ہے، ہم جواب دیتے ہیں ہر بات کا، ہمیں یقین ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے، اگر بجلی چوری ہوتی ہے تو ملک کی ذمہ داری نہیں کہ چوروں کو بجلی فراہم کرے، ہم نے ہر صوبائی حکومت سے تعاون کیا، اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیارات ان کو دیئے گئے ، ہر بڑی جماعت کے پاس صوبے کی حکومت موجود ہے، ہم نے سب کو اختیارات دیئے، ہماری گالم گلوچ والی سیاست نہیں ہے، ہم نے سیاسی نواز شریف سے سیکھی ہے، ہم نے کبھی مخالفین کے بارے میں الزام نہیں لگائے اور نہ دل آزاری کی، ایسی باتیں آج اسٹیج کا حصہ بنائی جا چکی ہیں، زیرو جمع زیرو رہتا ہے، سیاسی الائنس بن رہے ہیں جنہوں نے زیرہ ہی رہنا ہے، جون میں فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالفین الیکشن سے بھاگنا چاہتے ہیں، (ن) لیگ کے علاوہ ہر جماعت قبل از وقت انتخابات چاہتی ہے،آئینی ترمیم میں ووٹ ڈالنے کوئی جماعت قومی اسمبلی میں نہیں آئی، آمروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ہمارے اتنے منصوبے ہیں کہ ہر ہفتے دو افتتاح کریں تب بھی الیکشن تک مشکل سے ختم ہوں گے،آج پاکستان کے ہر صوبے میں اربوں ڈالرکے منصوبے مکمل ہو رہے ہیں، ہم اپنی کارکردگی پر کھڑے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ جمہوریت کےلئے سب مل کر کھڑے ہوں، سیاسی جماعتیں ہی اگر جمہوریت پر شب خون مارنا چاہیں تو ان کا کیا ہو سکتا ہے، انتخابی اصلاحات بل کو سینیٹ سے پاس ہونا چاہیے تا کہ انتخابات وقت پر ہوں، آمروں نے کبھی ملک کے مسائل کو حل نہیں کیا، ملک میں ٹیکنو کریٹ حکومت کی بات کرنے والے بتائیں کہ 1990سے 2008تک ملک میں جو ٹیکنو کریٹ تھے انہوںنے ملک کےلئے کیا کرلیا،انہوں نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے ملک میں، سی پیک جنرل مشرف بھی کرا سکتا تھا اور زرداری بھی کرا سکتا تھا، سی پیک نواز شریف کے دور میں آیا کیونکہ نواز شریف کو عوام کی حمایت حاصل تھی، یہ کام ٹیکنو کریٹ یا این آر او کرنے والے نہیں کر سکتے، آج بجلی کا منصوبہ بہت سے منصوبوں کی ایک کڑی ہے، خوشی ہے کہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے منصوبے لگا رہی ہے، دوسرے صوبوں کو بھی ہم نے کہا کہ منصوبوں پر اپنے کردار بھی ادا کریں، اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں اور وفاق کو مل کر عوام کے مسائل کو حل کرناہے، ہمیں مل کر بجلی چوری کو ختم کرنا ہے، دوسرے منصوبوں کےلئے ہمیں نوجوانوں کی ضرورت ہے، شہباز شریف کے پاس ایک ایسی ٹیم ہے جو مہینوں میں صوبے مکمل کرتے ہیں جو دنیا کا ریکارڈ ہے، میں پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں، جس مشن کو ہم لے کر چلے اس کو ہم نے پورا کر دیا، الیکشن میں فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ حکومت کی کی ہو۔

 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی جائے: طاہرالقادری

لاہور (ویب ڈسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے حکم پر 5رکنی وفد وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ادارہ منہاج القران پہنچا جہاں انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری سے مذاکرات کے بعد اُن کے موقف کی مکمل ائید کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف پہلے سے واضح ہے آج تجدید کے لئے آئیں ہیں ، وفد میں مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین ، وسطی پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان، مرکزی رہنماءاعجازاحمدچوہدری ، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید شامل تھے ۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری جدوجہد ہمیشہ پُرامن رہی لیکن حکومت نے تشدد کا سہارا لیا، ماڈل ٹاﺅن رپورٹ کے بعد کوئی ابہام نہیں رہاہے ، شہبازشریف اور رانا ثناءاللہ فوری استعفیٰ دیں، ذمہ داروں کا عہدوں پر برقرار رہناانصاف کے منافی ہے ، طاہرالقادری کے تین نکاتی ایجنڈے کی مکمل تائید کرتے ہیں ،طاہر القادری کا جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ درست ہے ، چیئرمین عمران خان نے طاہر القادری سے ٹیلی فون پر رابطہ بھی کیاہے ، طاہر القادری جو بھی لائحہ عمل مرتب کریںگے تحریک انصاف ساتھ دے گی، انصاف کا حصول طاہر القادری کا حق ہے ،شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے کنٹینر کومنفی اندازمیںدیکھا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ جمہوریت کو ڈی ریل کیاجا رہا ہے ،مجھے کیوں نکالا کے لئے بھی کنٹینر نکالا گیا تو پھر یہ منفی نہیں رہا ؟، جہانگیرخان ترین نے کہاکہ طاہر القادر ی جوبھی قدم اٹھائیںگے ان کے ساتھ ہیں، پنجاب حکومت نے نجفی رپورٹ چھپانے کی ہرممکن کوشش کی ، طاہر القادر ی نے کہاکہ باقر نجفی رپورٹ نے شہبازشریف ، رانا ثناءاللہ کو ذمہ دارٹھہرایا ، وزیراعلیٰ پنجاب اور رانا ثناءاللہ فوری مستعفیٰ ہوں، اگر یہ مستعفیٰ نہ ہوئے تو کسی بھی حد تک جائیںگے ، پانامہ کیس کی طرز پر آزادانہ جے آئی ٹی بنائی جائے ، ماڈل ٹاﺅن میں بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، اس موقع پر سربراہ پاکستان عوامی تحریک طاہر القادر ی نے تحریک انصاف کے وفد اور چیئرمین تحریک انصاف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ زندہ سیاسی جماعتیں قاتلوں نہیں مقتولوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیںاگر قاتلوں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا گیا تو اس کا دوسرا مطلب قاتلوں کو مزید قتل کی اجازت دینا ہوگا انشاءاللہ پاکستان میں امن اور انصاف کا راج قائم ہو کر رہے گا ، قاتلوں کو ہر حال میں قصاص ادا کرنا ہوگا۔ عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تحقیقات کیلئے ججز پرمشتمل جے آئی ٹی بنانے کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی شہبازشریف اور رانا ثنا اللہ فوری مستعفی ہوںاور خود کو قانون کے سامنے پیش کریں‘ سانحہ ماڈل ٹاﺅن آپریشن کا فیصلہ کرنے والے 125 بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کو بھی عہدوں سے ہٹایا جائے‘ انشااللہ ہم انصاف لے کر رہیں گے اور اس کیلئے قانونی اورسیاسی جنگ لڑتے رہیں گے‘اب کےنےڈا جانے کا سوال ہی پےدا نہےں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لےں گے ۔ پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہناتھا کہ ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں،رانا ثنااللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹان رپورٹ میں آ چکا ہے ،سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے دارخود کو قانون کے حوالے کردیں ،انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمے داربے قصورہوئے توعدالت سے چھوٹ جائیں گے،مصطفی کمال کا کہناتھا کہ طاہرالقادری کی کوشش سے رپورٹ منظرعام پرآئی اورسچ سامنے آگیا۔ان کا کہناتھا کہ بلدیہ فیکٹری میں آگ کاواقعہ حادثہ تھا آج بھی یہی کہتاہوں۔

 

عدلیہ نے زرداری کا احتساب نہ کیا تو عوام حساب لے گی: شہباز شریف

لاہور(ویب ڈسک)وزےراعظم شاہد خاقان عباسی اوروزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے جھنگ کے قرےب حوےلی بہادر شاہ مےں 1263مےگاواٹ کے پنجاب گےس پاور پلانٹ کا سنگ بنےاد رکھا۔ےہ منصوبہ 26ماہ مےں مکمل ہوگا اور پہلے مرحلے مےں 810 مےگاواٹ بجلی 14ماہ مےں حاصل ہوگی۔وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے پنجاب گےس پاور پلانٹ کے سنگ بنےاد رکھنے کی تقرےب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لےگ(ن) کی حکومت کی انتھک محنت اور دن رات کی کاوشوں کے باعث ملک سے ہمےشہ کےلئے بجلی کی لوڈ شےڈنگ کا خاتمہ ہوگےاہے ۔توانائی منصوبوں کی تکمےل سے ملک کی صنعتوں،کھےتوں، سکولوں،ہسپتالوں،دفاتر اور گھروںکو بجلی مل رہی ہے ۔ہم نے ملک سے لوڈ شےڈنگ کو ہمےشہ کےلئے بھگا دےا ہے اوراب لوڈ شےڈنگ کبھی پاکستان لوٹ کر نہےں آئے گی۔پاکستان مسلم لےگ(ن) کی حکومت نے اپنے غرےب ملک کی پونجی سے گےس کی بنےاد پر 3600مےگاواٹ کے منصوبے لگائے ہےں اوراب پنجاب حکومت 1263مےگاوا ٹ کا اےک اور گےس پاور پلانٹ لگارہی ہے اورےہ منصوبہ پہلے لگائے گئے منصوبوں سے 10ارب روپے کم لاگت مےں لگاےا جارہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ےہ محنت ،عزم اوراےمانداری کی کہانی ہے،جو کچھ سال قبل چےنی صدر کے دورہ پاکستان سے شروع ہوئی۔ انہوںنے کہا کہ مےں عوام سے کہتا ہوں کہ اگر ان منصوبوں مےں کرپشن ثابت ہوئی تو مجھے کبھی معاف نہ کرنا ۔مےرے تمام ادوار حکومت مےں اگر حکومتی سطح پر مےرے خلاف اےک پائی کی بھی کرپشن ثابت ہوجائے توعوام کا ہاتھ اورمےرا گرےبان ہوگا۔ اگر مےرے خلاف کسی بھی منصوبے مےں اےک دھےلے کی کرپشن سامنے آجائے تواگر مےں زندہ نہ رہا تو مجھے قبر سے مےری لاش نکال کر کھمبے پر لٹکادےنا۔انہوںنے کہاکہ نندی پور پاور پراجےکٹ مےں بدترےن ڈاکہ زنی ہوئی ہے ،ےہ منصوبہ تےن سال تک کراچی کی بندرگاہ پر گلتا سڑہتا رہا۔سپرےم کورٹ کے جج کا فےصلہ تھا کہ بابر اعوان نے اس مےں خےانت کی اورانہوںنے انہےں اس منصوبے کی تباہی کا ذمہ دار قراردےتے ہوئے نےب کو ان کے خلاف کارروائی کی ہداےت بھی کی۔اس منصوبے مےں غرےب قوم کے اربوں روپے لوٹے گئے۔کوئی ہے جو نندی پور مےں کی گئی لوٹ مار کی تحقےق کرے؟نندی پور پاورپراجےکٹ کے منصوبے مےں اس زمانے کی حکومت نے بڈنگ نہ کرائی اور50ارب روپے کا ےہ منصوبہ بغےر ٹےنڈرنگ کے اےوارڈ کےا گےا۔اس سے بڑاسکےنڈل اورکرپشن کا مےنار کوئی اور ہونہےں سکتا۔چےچو کی ملےاں سابق حکمرانوں کی کرپشن کی اےک اورمثال ہے ،ےہاں 5سومےگاواٹ کا منصوبہ لگانے کےلئے دس سال قبل اےک کمپنی کو اڑھائی ارب روپے اےڈوانس دے دےئے گئے اور آج تک اس منصوبے کی اےک اےنٹ بھی نہےں لگائی گئی۔آج احتساب کی بات ہوتی ہے ۔پہلے ےہ لوگ اپنے گرےبانوں مےں جھانکےں اورپھر بات کرےں ۔رےنٹل پاور پراجےکٹ مےں بھی غرےب قوم کا پےسہ لوٹا گےا۔زرداری صاحب نے غرےب قوم کے 60ملےن ڈالر لوٹ کر سوئےس بےنکوں مےں رکھوائے اورسرے محل خرےدا۔کون اس کا حساب لے گا؟اگر ےہ 60ملےن ڈالر غرےب قوم کے لوٹے نہ جاتے تو ان پےسوں سے غرےب عوام کو تعلےم اورصحت کی سہولےات مل رہی ہوتیں اورغرےب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کے اندھےرے تھپےڑوں کے حوالے نہ ہوتا۔زرداری صاحب سن لےں ےہ قوم احتساب کرے گی ،اگرعدالت اورنےب نے کچھ نہ کےا تو عوام کی عدالت احتساب ضرور کرے گی۔بابر اعوان کو عدالت عظمی نے نندی پور منصوبے مےں کرپشن کا ذمہ دار ٹھہراےا،ان سے کون حساب لے گا؟انہوںنے کہاکہ بابراعوان آج کل ٹی وی پر بےٹھ کر قرآنی آےات پڑھتے ہےں اورکرپشن کے خلاف بھاشن دےتے ہےں۔انہےں بھی نندی پور کے منصوبے مےں ڈاکہ زنی کا حساب دےنا ہوگا۔ جنہوںنے اس غرےب قوم کا خون نچوڑا،قرضے معاف کرا کے جہاز خرےدے جن مےں نےازی صاحب سفر کرتے ہےں ۔ انہےں اپنے گرےبان مےں جھانکنا چاہےے اورپھر کرپشن کےخلاف بات کرنی چا ہےے۔نےازی صاحب نے اورنج لائن مےٹروٹرےن کے منصوبے مےں 22ماہ تاخےر کر کے قوم کا قےمتی وقت ضائع کےا ہے ۔پرانے شراب کو نئی بوتل مےں بند کرنے کا وقت چلا گےا۔قوم باشعور ہے اورجانتی ہے کہ نےازی صاحب نے مےٹروٹرےن کے منصوبے کو 22ماہ تک التواءمےں ڈال کر غرےب قوم سے انتقال لےا ہے ۔انہوںنے ہمےشہ غرےب عوام کے منصوبوں کی مخالفت اسی لئے کی ہے کہ غرےب انہےں ووٹ نہےں دےتے۔اےسا لےڈر جو چار سال تک مےٹروبس کے عوامی منصوبے کی مخالفت کرتا رہا اورجب نتھےا گلی سے پہاڑ سے نےچا اترا تو ا سے اپنے صوبے مےں اس منصوبے کا خےال آےالےکن آج تک وہ اس منصوبے کی اےک اےنٹ بھی نہےں لگاسکا۔ اگر بلاامتےاز احتساب نہ ہوا تو خدانخواستہ اےسا خونی انقلاب آسکتا ہے جوہرچےز خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔خدارا ہوش کے ناخن لےں ،اگر پاکستان کو قائدؒ واقبالؒ کا پاکستان بنانا ہے توسےاستدانوں،ججز، جرنےلز، انتظامےہ اورتمام سٹےک ہولڈرز کو مل بےٹھ کر نےاعمرانی معاہدہ تحرےر کرنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس دن کو منانے کا مقصد انسانی حقوق کی قدرواہمیت کا اجاگر کرنا ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺنے پوری انسانیت کیلئے انسانی حقوق کا ابدی اور لافا نی پیغام دیا ہے۔

 

نیب نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا

اسلام آباد (ویب ڈسک) قومی احتساب بیورو(نیب) نے عدالتی ہدایت پر حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کا ریکارڈ عدالت عظمی میں جمع کراتے ہوئے کیس کی پیر کو سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی ہے۔ ہفتہ کو نیب نے حدیبیہ کیس کے ریکارڈکے ساتھ ایک متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ حدیبیہ کا مقدمہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اس لئے مناسب ہو گا کہ مقدمہ میں پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں دلائل میں دیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب کا عہدہ خالی ہے تاہم پراسکیوٹر جنرل کی تقرری کی سمری صدرمملکت کو بھیجی جا چکی ہے اورسمری پر جلد نوٹی فیکیشن جاری ہونے کا امکان ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر مقدمہ کی سماعت ملتوی کی جائے، نیب کی متفرق درخواست میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ نواز شریف نو مرتبہ عوامی عہدے پر رہ چکے ہیں۔ نواز شریف ایک مرتبہ صوبائی وزیر خزانہ، تین مرتبہ وزیر اعلی پنجاب رہے، نواز شریف تین مرتبہ وزیر اعظم ایک مرتبہ اپوزیشن لیڈر رہے، نواز شریف دسمبر 2000میں جلاوطن ہوئے نواز شریف کی نومبر 2007میں سعودی عرب جلاوطنی سے واپسی ہوئی، متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس میں تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں حدیبیہ پیپرز ریفرنس میں اپیل دائر کی گئی ہے اور یہ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ سابق چیئرمین نیب کی صدارت میں ایک اجلاس میں ہوا۔ عدالت عظمی میں جمع کرائے گئے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کے ریکارڈ میں حدیبیہ مل کا عبوری اور حتمی ریفرنسز، گواہان کی فہرست، ریفرنس سے متعلق تحقیقات، احتساب عدالت کی ڈائری، حکم نامے، لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ، جے آئی ٹی رپورٹ اور والیم آٹھ بھی شامل ہے نیب کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ حدیبیہ ریفرنس کے ریکارڈ کو عدالتی کاروائی کا حصہ بنایا جائے۔ یادرہے کہ اس کیس کی سماعت سوموار کو جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو ہوگی۔

 

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو قریب لانے کیلئے طاہر القادری پل کا کردار ادا کرنے کیلئے رضا مند

اسلام آباد (ویب ڈسک) آئندہ سینٹ الیکشن سے قبل مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے چھٹکارے کے لئے اپوزیشن جماعتیں ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف سے گٹھ جوڑ کے لئے علامہ طاہر القادری کو ذمہ داریاں سونپ دیں۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان علامہ طاہر القادری پل کا کردار ادا کرنے پر رضامند ہو گئے۔ اپوزیشن نے ”ہیپی نیوایئر“ حکومتی رخصتی کے لئے ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک نکاتی ایجنڈے پر اتحاد کے لئے متحرک کردار ادا کرنے والے سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین کی علامہ طاہر القادری سے ملاقات صرف جسٹس باقر نجفی رپورٹ پر تبادلہ خیالات کے لئے نہیں تھی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے علامہ طاہر القادری کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے درمیان فاصلوں کو ختم کرانے کے لئے موثر کردار ادا کریں تاکہ یکم جنوری سے پہلے یک نکاتی ایجنڈے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رخصتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو بنیاد بنا کر عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری لاہور میں دھرنا دینے کے لئے تیزی سے ہوم ورک کر رہے ہیں۔ اس دھرنے میں تعاون کے لئے پیپلزپارٹی نے علامہ طاہر القادری کو دام‘ درمے‘ سخنے خدمت کا یقین دلایا ہے۔ لاہور کے دھرنے میں علامہ طاہر القادری کے ایک پہلو میں پیپلزپارٹی اور دوسرے پہلو میں پی ٹی آئی کے ورکر موجود ہوں گے۔ اپوزیشن کے لائحہ عمل کے مطابق اسلام آباد میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکے لئے قصاص تحریک کے نام پر پی ٹی آئی دھرنا دینے کے لئے تیاریاں شروع کر چکی ہے۔ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کو علامہ طاہر القادری اور پیپلزپارٹی سپورٹ کریں گے جبکہ پیپلزپارٹی کراچی کا مورچہ سنبھالنے کے لئے کام کا آغاز کر چکی ہے اور پشاور میں یہ کام عوامی نیشنل پارٹی کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کو یقین ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود سینٹ کے انتخابات مارچ میں کروا کر ایوان بالا میں عددی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی کیونکہ حلقہ بندیوں میں تاخیر بھی مسلم لیگ (ن) کے لئے درحقیقت ایک غیبی مدد سمجھی جار ہی ہے۔ حلقہ بندیوں میں تاخیر پر تمام سیاسی جماعتیں دانستہ لاپرواہی برت رہی ہیں لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان اس حوالے سے کافی پریشان ہے کیونکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں عام انتخابات سے پہلے کروانے کے لئے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں حلقہ بندیوں سے متعلق جو ترمیم سینٹ میں لا رہی ہیں اس میں بھی آئندہ انتخابات عبوری حلقہ بندیوں کے تحت کروانے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور آئندہ عام انتخابات پر 18 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ حلقہ بندیوں کو حتمی شکل دینے کے لئے 3 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ حلقہ بندیوں کا معاملہ اب پارلیمنٹ کی عدم دلچسپی اور سیاسی جماعتوں کی رضاکارانہ تاخیر کے باعث کسی بھی وقت عدالت میں چلا جائے گا۔ پیپلزپارٹی‘ پی ٹی آئی‘ عوامی تحریک اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں حلقہ بندیوں کے جھنجھٹ سے زیادہ سینٹ الیکشن کے لئے فکر مند ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) اگر سینٹ میں اکثریت حاصل کر لے گی تو پھر آئندہ پانچ سال کے لئے منتخب ہونے والی حکومت کے لئے اقتدار بے معنی ہو جائے گا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت کا موقع دینا ایسا ہی کہ سارے سسٹم کے خلاف ایوان بالا میں ایک پارٹی کو دھرنے کی اجازت دے دی جائے۔ پیپلزپارٹی‘ عوامی تحریک‘ تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی یکم جنوری سے پہلے دھرنوں کی تیاری میں مصروف ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) سینٹ الیکشن جیت کر سینٹ میں ہر قانون سازی کے خلاف دھرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ راہنماﺅں کو یقین ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نئے سال کے آغاز میں ہی ختم ہو جائے گی جبکہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہمارے مخالفین اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے شیطان سے بھی اتحاد کر سکتے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے ان کی خواہشات کی تکمیل نہیں ہو سکے گی۔

 

فاٹا کل تک خیبر پختونخوا میں شامل نہ ہوا توسڑکوں پر آئینگے، عمران خان

اسلام آباد (ویب ڈسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں فاٹا کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی بھایﺅں کو خوش آمدید کہتا ہوں، زیادہ تر پاکستانیوں کو قبائلی علاقوں کے بارے میں پتا ہی نہیں، نائن الیون شروع ہونے سے قبل قبائلی علاقے سب سے زیادہ پرامن علاقے تھے، قبائلیوں کا انصاف کا نظام ٹھیک چل رہا تھا، 74 کے بعد فاٹا میں پاکستان کا قانون لاگو ہوا لیکن پاکستان کا انصاف کا نظام فاٹا کے لوگوں کو انصاف نہیں دے سکا، قبائلیوں نے کشمیر میں اپنی جانیں قربان کیں، قبائلی رہنماں نے 1948 میں خود پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا تھا، قبائلی علاقوں کو پاکستانی فوج نے فتح نہیں کیا تھا۔ عمران خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت 2018 کے الیکشن تک فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرے، فاٹا انضمام کے لئے ساری چیزیں حل ہو چکی ہیں، ہم پیر تک دیکھیں گے، اگر حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو سڑکوں پر آنے کی بڑی پریکٹس ہو چکی ہے، پیر کے بعد قبائلیوں اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کو اسلام آباد بلائیں گے، حکومت مان گئی ہے، فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کیوجہ سے بات آگے نہیں بڑھ رہی، باقی صوبوں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے، جیسے ایسٹ اور ویسٹ جرمنی کا انضمام ہوا ویسے ہی فاٹا کا انضمام ہو گا، قبائلیوں کو بھی دوسرے پاکستانیوں جیسے حقوق دلوائیں گے۔کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں آج تباہی مچی ہوئی ہے، ان علاقوں میں ڈویلپمنٹ ضروری ہے، ان کا نظام ختم ہو گیا ہے، اگر اس خلاءکو پر نہ کیا گیا اور کے پی کے کا حصہ نہ بنایا گیا تو دہشت گردی پھر واپس آ سکتی ہے، کے پی کے کی اسمبلی کا قبائلیوں کو حصہ بننا چاہیے، ان کی آواز ہو جائے گی اسمبلی میں، قبائلیوں کا پرانا بلدیاتی نظام ہے، ہر گاﺅں میں انصاف ہے،کبھی کسی کو قبائلیوں کے پیار پر شک نہیں ہونا چاہیے، وزیرستان میں تانبہ، گیس، تیل کے وسیع ذخائر ہیں، آج یہ حال ہے کہ 73فیصد قبائلی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت سارے قبائلی علاقوں میں لشکر تیار ہوئے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد کرنے کےلئے، جب پختونستان کی تحریک چلی تو قبائلی علاقے نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، امریکیوں کے کہنے پر ہم نے قبائلی علاقوں میں فوج بھیجی جو سب سے بڑی حماقت تھی، سب سے زیادہ انگریز فوجی وزیرستان میں مرا تھا، انگریز ان پر قابو نہ پا سکا تو ہم نے اپنی فوج وہاں بھیج دی،فوجی آپریشن کے بعد وہ لوگ بدلہ لینے کےلئے کھڑے ہو گئے، ہم نے فوج اور قبائلیوں کو لڑا دیا، یہ بہت بڑا جرم کیا گیا،وہ ہفتہ کو یہاں فاٹا کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ اپنے قبائلی بھائیوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے، ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ جب تک میں نہ کہوں نعرے نہیں مارنے، زیادہ تر پاکستانیوں کو قبائلی علاقے کی سمجھ نہیں ہے، قبائلی علاقہ 1948میں قائد اعظم کو قائلیوں نے پشاور ہاﺅس آ کر ملے اور فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان کا حصے بنے، فوج نے قبائلی علاقے کو فتح نہیں کیا تھا، انہوںن ے فیصلہ کیا کہ 44پاکستانی قانون قبائلی علاقے میں لاگو ہوں گے، جب تک نائن الیون نہیں ہوا، قبائلی علاقہ پاکستان کا سب سے پر امن علاقہ تھا، 1935سے انگریز گورنر نے کہا کہ جتنے پشاور میں ایک ہفتے میں جرم ہوتے ہیں اتنے قبائلی علاقوں میں سارے سال میں نہیں ہوتے، ان کا انصاف کا نظام ٹھیک تھا، اس لئے جرم نہیں تھے، جب سوات اور دیر پاکستان کا حصہ بنے تو سال کے قتل دس سے بھی کم تھے، جب پاکستان کے قانون وہاں لاگو ہوئے تو قتل بڑھ گئے، پھر نفاذ شریعت کی تحریک چلی جس میں وہ پرانا سسٹم مانگ رہے تھے قبائلی، قبائلیوں نے کشمیر میں اپنی جانیں دی تھیں، پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت سارے قبائلی علاقوں میں لشکر تیار ہوئے بارڈر پر مسلمانوں کی مدد کرنے کےلئے، جب پختونستان کی تحریک چلی تو قبائلی علاقے نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، کبھی کسی کو قبائلیوں کے پیار پر شک نہیں ہونا چاہیے، اس علاقے کو پاکستان کو حصہ بننا چاہیے تھا اور وہاں ترقی ہوئی، وزیرستان میں تانبہ، گیس، تیل کے وسیع ذخائر ہیں، آج یہ حال ہے کہ 73فیصد قبائلی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، یہ علاقہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے، حکومتوں کی یہ ناکامی ہے، نائن الیون کے بعد جوان لوگوں سے ہوا اس کی مثال نہیں ملتی، قبائلیوں کا پورا نظام تھا، ہم نے امریکیوں کے کہنے پر وہاں فوج بھیجی جو سب سے بڑی حماقت تھی، سب سے زیادہ انگریز فوجی وزیرستان میں مرا تھا، انگریز ان پر قابو نہ پا سکا تو ہم نے اپنی فوج وہاں بھیج دی، ہم نے اپنی قوم اور قبائلیوں پر ظلم کیا، فوجی آپریشن کے بعد وہ لوگ بدلہ لینے کےلئے کھڑے ہو گئے، ہم نے فوج اور قبائلیوں کو لڑا دیا، یہ بہت بڑا جرم کیا گیا، لاکھوں لوگ نقل مکانی کر گئے جن کو ہر صوبے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا،ان کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا، ان کے شناختی کارڈ اپنے ملک میں بلاک کر دیئے گئے، ان کی کوئی آواز نہ تھی، اس ظلم کے بعد آج کا کنونشن ضروری ہے، لوگوں سے جھوٹ بولا گیا کہ ڈورن حملے میں دہشت گرد مر رہے ہیں، بیرون ملک سے لوگ آئے جن کے ادارے ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے قبائلیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کےلئے ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں آج تباہی مچی ہوئی ہے، ان علاقوں میں ڈویلپمنٹ ضروری ہے، ان کا نظام ختم ہو گیا ہے، اگر اس خلاءکو پر نہ کیا گیا اور کے پی کے کا حصہ نہ بنایا گیا تو دہشت گردی پھر واپس آ سکتی ہے، کے پی کے کی اسمبلی کا قبائلیوں کو حصہ بننا چاہیے، ان کی آواز ہو جائے گی اسمبلی میں، قبائلیوں کا پرانا بلدیاتی نظام ہے، ہر گاﺅں میں انصاف ہے۔محموداچکزئی اور فضل الرحمن فاٹا کے دشمن ہیں۔ پاکستان تحرےک انصاف کے چےئر مےن عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سندھ کو زرداری اور اسکے کرپٹ چیلوں کے چنگل سے چھڑوائے گی اور نواز کوکٹہرے میں لے آئے اب زرداری کی باری ہے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے مرکزی سینئرنائب صدرعلی زیدی کی ملاقات ہوئی، جس میں علی زیدی کی جانب سے سندھ خصوصاً کراچی کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل پربریفنگ دی گئی۔ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ اگلے ہفتے کراچی آرہا ہوں، عوام سے مل کرزرداری اورٹولے کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے، سندھ میں پیپلزپارٹی کی حیوانیت کی حد تک لوٹ کھسوٹ ناقابل قبول اورناقابل برداشت ہے، تحریک انصاف سندھ کوزرداری اوراسکے کرپٹ چیلوں کے چنگل سے چھڑوائے گی، نوازکو کٹہرے میں لے آئے اب زرداری کی باری ہے، سندھ پرخصوصی نظرہے، تبدیلی لائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے اورپاکستان اور سندھ کے وجود کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے کرپشن کے امام کا تعاقب کریں گے۔رہنما تحریک انصاف علی زیدی نے کہا کہ سندھ پیپلز پارٹی کی بدترین انتظامی کارکردگی کی بھینٹ چڑھ رہا ہے، سندھ کے ظالم حکمران عوام سے پینے کے صاف پانی جیسا بنیادی حق بھی ہتھیا چکے ہیں، “روٹی، کپڑا، مکان” اور “جئے مہاجر”جیسے کھوکھلے نعرے لگا کر سندھ کے عوام کی رگوں میں زہر اتارا جا رہا ہے، محنتی، مخلص اور محب وطن سندھی عوام پر بدترین اور کرپٹ ترین ٹولہ مسلط ہے اسلیے شہری اور دیہی سندھ کی امیدوں کا واحد مرکز “تبدیلی” کا پیغام ہے۔

 

سردیوں کی چھٹیوں کا اعلان ہو گیا

کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں کااعلان کردیا گیا اور نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔محکمہ تعلیم سندھ نے موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سرما کی چھٹیاں شیڈول کے مطابق 22 تا 31 دسمبر تک ہوں گی۔ صوبہ بھر میں سرکاری و نجی تعلیمی ادارے 10 روز کیلئے بند رہیں گے اور نوٹیفکیشن تعلیمی اداروں کو بھیج دیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں سردی کی شدت میں اضافے کی پیشگوئی کی ہے جس کے باعث تعطیلات میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ سال بھی موسم کی شدت کے باعث سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں اضافہ کردیا گیا تھا۔

کسان آج مطالبات کے حق میں پنجاب بھر میں دھرنا دینگے

لاہور(خبر نگار)کسانوںکے مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے پر آج کسان پنجاب بھر کی سڑکوں پر غیر معینہ مدت تک دھرنا دیں گے سڑ کوں کے ساتھ ساتھ ریلوے ٹریک بھی بند کر نے کا اعلان حکومت پنجاب نے 30 نومبر کو شوگر ملز کو چلانے کی یقین دہانی کروائی ‘ہمیشہ کی طرح وعدوں پر پورا نہ اتر سکی‘ مطالبات کی منظوری تک سڑکیں بند رکھیں گے،کسان حقوق کے حصول کی جنگ لڑتے رہیں گے کسان اتحاد نے صوبائی حکومت کی طرف سے مطالبات کی منظور ی کے بعد عملدرآمد نہ ہونے پر 10 دسمبر کو پنجاب کی سڑکوں کو جام کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بارے کسان اتحاد کے چیرمین خالد کھوکھر روزنامہ خبریں سے خصوصی گفتگو کرتئے ہوئے کہا کہ پاکستان کسان اتحاد نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا جس پر حکومت نے کسانوں کو احتجاج سے روکتے ہوئے مذاکرات کے لئے بلوایا اور مذاکرات کے دوران مطالبات کو تسلیم تو کر لیا گیا مگر وقت گزرنے کے باوجود ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا جس پر کسان اتحاد نے 10 دسمبر کو پنجاب کے تمام اضلاع جن میں قصور ،پاکپتن خانیوال ،ملتان ،ڈیرہ غازی خان ،مظفر گرھ ،کوٹ ادو ،جتوئی ،علی پور ،خان پور ،رحیم یار خان ،بہاولپور ،و دیگر اضلاع میں سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت پنجاب نے 30 نومبر کو شوگر ملز کو چلانے کی یقین دہانی کروائی تھی مگر شوگر ملز مافیا معاہدے والے نرخ سے ہٹ گیا ہے غریب کسانوں کو لوٹنے کےلئے وزن میں کٹوتی کی جارہی ہے ریٹ 180روپے طے ہوا لیکن کٹوتی کر کے 100روپے میں خریدا جارہا جو کسانوں کا معاشی قتل ہے اس پر حکومت بھی خاموش ہے اور اپوزیشن بھی یہ سب اسی لئے خاموش ہیں کیونکہ اسمبلیوں میں بیٹھے اکثر ایم این اے اور ایم پی ایز کی اپنی شوگر ملیں ہیں وہ عوام کی بھلائی کا کیا سوچیں گے ان کا کہنا تھا کہ اب کسان اپنی گنے کی فصل کو فروخت کر نے کی بجائے آگ لگا رہا ہے انہوں نے یہ بھی کہا اگر یہی رہا تو پنجاب میں اگلے سالوں میں کسان گنے کی فصل کاشت نہیں کرے گا پھر یہ شوگر مالکان کیا کریں گے اور اس سے چینی کی قلت میں بے شمار اضافہ ہوگا اور یہی تو شوگر ملز مالکان چاہیتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ دھرنا اس وقت تک رہے گا جب تک ان مطالبات پر عمل نہیں ہوتا ہم ٹرینیں بھی بند کر یں گے ہم پنجاب کو جام کر دیں گے ۔

چودھری نثار کی طرح ضیاء الحق، نواز شریف کے جوتے نہیں چاٹے: شیخ رشید

اسلام آباد (آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل ملک سے کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کرنا ہے، 30 مارچ تک کرپٹ حکومت نہیں رہے گی زرداری سے کوئی اتحاد نہیں ہو رہا آصف زرداری گنگا کے نہائے ہوئے نہیں ان پر بھی کرپشن کے مقدمات ہیں چوہدری نثار کی طرح ضیاءالحق اور نواز شریف کے جوتے نہیں چاٹے میرا کردار سب سے مختلف ہے آصف زرداری تحریک انصاف سے نہیں (ن) سے سیٹیں مانگیں گے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس تمام مقدمات کی ماں ہے امید ہے گیارہ دسمبر کو لگ جائے گا سپریم کورٹ نے شریف برادران کا لحاظ کیا اور 19 کمپنیوں کا ذکر نہیں کیا آصف علی زرداری بھی گنگا کے نہائے ہوئے نہیں ان پر بھی سرے محل اور کرپشن کے مقدمات ہیں عمران خان اور شیخ رشید کا آصف زرداری سے اتحاد نہیں ہورہا انہوں نے کہا کہ طاہر القادری سے دل ملا ہوا ہے طاہر القادری کے کارکنوں پر ظلم ہوا مادل ٹاﺅن رپورٹ مÊن سب واضح ہوچکا، ظلم و بربریت کے خلاف طاہر القادری کے ساتھ ہوں۔ پتہ نہیں آصف زرداری طاہر القادری سے کیوں ملنے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے کیوں رابطہ نہیں الیکشن سے پہلے ملک سے کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کرنا ہے، 30 مارچ تک کرپٹ حکومت نہیں رہے گی جو بھی ہوگا آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ چین میں کرپشن پر 10 ہزار کو سزا ہوئی۔ یہاں 10 لوگ جیل چلے گئے تو کوئی بھونچال نہیں آئے گا انہوں نے کہا کہ جس نے جان بوجھ کر پارٹی کو چھوٹا رکھا ہوا ہے صرف پنڈی کو دو سیٹوں پر انتخابات لڑوں گا انہوں نے کہا کہ میں اکیلا ضرور ہوں خدا کے فضل سے اٹھارہ کروڑ افراد میری آواز سنتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سچا آدمی ہے چاہتا ہوں میری وجہ سے عمران خان کو فائدہ ہوا انہوں نے کہا کہ میں نے چوہدری نثار کی طرح ضیاءالحق اور نواز شریف کے جوتے نہیں چاٹے۔

 

شیخ رشید کی کیا حیثیت، وہ عمران خان کا چپڑاسی ہے: چودھری نثار

ٹیکسلا (آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دھرنے بند نہ ہوئے تو ملک میں جتھوں کی حکومت ہوگی،دھرنوں کا باب ہمیشہ کے لیے بند کرنا فوج سمیت تمام اداروں کی ذمہ داری ہے،میرے دور میں دھرنوں سے کامیابی سے نمٹا گیا، فرق یہ تھا اس وقت کا وزیر داخلہ پولیس اور ایف سی کے ساتھ وہاں کھڑا تھا، مسلم لیگ (ن) پرمشکل وقت ہے اس سے نکلنے کےلئے جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا چاہیے،حکومت کو تجویز دیتا ہوں کہ اداروں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں،پوری توجہ 2018کے الیکشن پر دیں، میں نہ پارٹی چھوڑ رہا ہوں اور نہ فارورڈ بلاک موجود ہے، (ن)لیگ نے اپنے موجودہ سیاسی بیانیے کو اگر جاری رکھا تو انہیں آئندہ الیکشن میں سخت نقصان ہو گا،ڈیڑھ سال سے اس کوشش میں ہوں کہ جاوید ہاشمی کےلئے پارٹی کے دروازے کھل جائیںوہ میری وجہ سے نہیں قیادت اختلافات کی وجہ سے گئے، غیب کا علم شیخ رشید کے پاس ہے میرے پاس نہیں، سینیٹ الیکشن ہو بھی گیا تو مسلم لیگ (ن)کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی، سینیٹ الیکشن کو روکنے کی روایت پڑنا ملک کےلئے تباہ کن ہو گا، میری تمام حمایت اور نیک خواہشات اپنی پارٹی کے ساتھ ہیں،میں کوئی پناہ گزین نہیں کہ کوئی آئے اور میرے گھر پر حملہ کرے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فیض آباد دھرنے پر بات کی اور ان سے وزیراعظم بننے کے بعد ملاقات کا وقت مانگا۔ ہفتہ کو ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میرے دور میں اسلام آباد میں دو دھرنے ہوئے، کہا تھا روایت ڈالی گئی تو ہر چند ماہ بعد ایک دھرنا ہو گا، ماضی میں بھی دھرنے کی اجلاس وزارت داخلہ نے نہیں بلکہ حکومت نے دی، اگر کسی ملک نے آگے بڑھنا ہے تو دھرنوں کا باب بند کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دو دھرنوں کے وقت وزارت نے بہت خوش اسلوبی سے معاملہ حل کرلیا، پولیس اور ایف سی نے خیبرپختونخوا سے آنے والے مظاہرین کو روکا، فرق یہ تھا کہ اس وقت کا وزیر داخلہ وہیں موجود تھا جو کہتے ہیں ہماری پولیس اور ایف سی اہل نہیں ماضی دیکھیں، پولیس اور ایف سی کوئی اقدام کرتی ہے تو سپورٹ کرنا چاہیے، فیض آباد انٹرچینج پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، فیض آباد انٹرچینج پر قبضے کا مطلب دونوں شہروں پر قبضہ ہے، پولیس اور ایف سی میں دھرنوں کو روکنے کی پوری صلاحیت ہے، حکومت سے درخواست ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ کھڑی ہو، رانا ثناءاللہ کے بارے میں جواب وہ خود دے سکتے ہیں،میرے گھر کے اندر سے فائرنگ نہیں ہوئی، میرے گھر کی دیواریں بہت اونچی ہیں، دھرنے نہ روکے گئے تو پھر جتھوں کی حکومت ہو گی، بدقسمتی سے دھرنے سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات درست نہ تھے، میں کوئی پناہ گزین نہیں کہ کوئی آئے اور میرے گھر پر حملہ کرے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے فیض آباد دھرنے پر بات کی، شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد ان سے ملاقات کا وقت مانگا۔ انہوں نے کہا کہ میرے دور میں دھرنوں سے کامیابی سے نمٹا گیا، پوری عدلیہ کو ہمیں ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے، اگر ایک بینچ سے ہمارے حق میں فیصلہ نہیں آیا تو دوسرے بینچ سے رابطہ کرنا چاہیے،مجھے فوج سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی میں نے فوج سے تمغہ لینا ہے، مگر ہمیں بلاوجہ فوج کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے، یہ میاں نواز شریف اور پارٹی کے فائدے میں ہے، ریاست میں ہر قسم کے لوگ حکومتیں اور ادارے ہوتے ہیں، دھرنوں کے باب کو ختم کرنا ہر سیاسی پارٹیوں اور تمام اداروں کی ذمہ داری ہے، یہ جمہوری ملک ہے ،ہمارے دھرنے ہو سکتے ہیں لیکن وہ دھرنے جو عام زندگی میں خلل پیدا نہ کریں ایسا دھرنا قابل قبول نہیں ہو گا جس سے کسی مزدور کی روزی میں خلل آئے یا کسی کی آمدورفت کا راستہ بند ہو جائے، دھرنے ضرور دیں اور پوری طاقت سے دیں لیکن روزمرہ کی معمولات زندگی میں خلل نہ پیدا کریں، حکومت کو تجویز دیتا ہوں کہ اداروں کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں اور پوری توجہ 2018کے الیکشن پر دیں، میں ڈیڑھ سال سے اس کوشش میں ہوں کہ جاوید ہاشمی کےلئے پارٹی کے دروازے کھل جانے چاہئیں، جاوید ہاشمی میری وجہ سے پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے بلکہ انہیں قیادت سے اختلافات تھے، مسلم لیگ (ن) پر اس وقت مشکل وقت ہے اس سے نکلنے کےلئے جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہ پارٹی چھوڑ رہا ہوں اور نہ فارورڈ بلاک موجود ہے، مسلم لیگ (ن) نے اپنے موجودہ سیاسی بیانیے کو اگر جاری رکھا تو انہیں آئندہ الیکشن میں سخت نقصان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ غیب کا علم شیخ رشید کے پاس ہے میرے پاس نہیں ہے، سینیٹ الیکشن اگر ہو بھی گیا تو مسلم لیگ (ن)کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی، سینیٹ الیکشن کو روکنے کی روایت پڑنا ملک کےلئے تباہ کن ہو گا، (ن) لیگی حکومت کو اس وقت وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے، میری تمام حمایت اور نیک خواہشات اپنی پارٹی کے ساتھ ہیں، قوم دیکھے کہ زرداری اور طاہر القادری پہلے ایک دوسرے کو کیا کہتے تھے اور آج ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔