All posts by Amber Farid

رانا ثنا اللہ سے استعفی لے لیا گیا,زرئع کا دعویٰ

لاہور (خصوصی رپورٹ) آستانہ عالیہ سیال شریف کے ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت پنجاب نے سیال شریف کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ سے تحریری استعفیٰ لے لیا ہے‘ جس کا باقاعدہ اعلان جلد کردیا جائے گا جبکہ جلد اعلان نہ ہونے کی صورت میں سیال شریف کے ذمہ داروں نے لاہور کی ختم نبوت کانفرنس میں مزید پانچ سے دس اراکین اسمبلی کے استعفے پیش کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں۔ سیال شریف کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کی انتہائی ذمہ دار شخصیت نے انہیں رابطہ کرکے بتایا ہے کہ رانا ثناءاللہ کے معاملے پر پیر حمید الدین سیالوی کا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اس لئے لاہور کے ممکنہ دھرنے سمیت اس حوالے سے مزید احتجاج مو¿خر کردیں‘ تاہم سیال شریف کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وعدہ وفا نہ ہونے کی صورت میں جوابی حکمت عملی کے طور پر لاہور میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں پانچ سے دس اراکین اسمبلی کے استعفے پیش کئے جائیں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن اراکین اسمبلی نے دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ان کی قومی و صوبائی اسمبلی کے سپیکرز کے سامنے پیشی کی حکمت عملی کے بارے بھی اگلے دو روز میں اعلان کردیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رانا ثناءاللہ نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات سکیورٹی معاملات کو بنایا ہے۔ دریں اثنا مسلم لیگ ن کے پانچ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے استعفے کے بعد مزید استعفوں کے آنے کا امکان ہے۔ فیصل آباد میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے اجتماع نے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون پنجاب کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی جبکہ اگلے اجتماع کا لاہور میں منعقد کرنے کا اعلان موجودہ حکومت کے اقتدار میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے پیر حمیدالدین سیالوی کو ٹیلیفون کیا اور سیال شریف آکر ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم شہبازشریف اپنے اس وعدے کو بھول گئے اور سیال شریف کا دورہ کرنے اور پیر حمید الدین سیالوی کو دوبارہ ٹیلیفون کرکے انہیں قائل کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی بلکہ صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناءنے پیر آف سیال شریف پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے بیٹے کیلئے فیصل آباد کی ایک نشست کے لئے ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی طرف سے پیر حمیدالدین سیالوی کے تحفظات کو دور نہ کرنے پر پیر حمیدالدین سیالوی نے اپنے ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن سے اپنے اتحاد کو خیبر باد کہہ دیا اور فیصل آباد میں ختم نبوت کے حوالے سے کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کردیا۔

شکنجہ تیار ،خفیہ افسر برطانیہ روانہ

لاہور (نیا اخبار رپورٹ) قومی احتساب بیورو نیب لاہور کے دو افسر حسن نواز اور حسین نواز کے لندن فلیٹس کے حوالے سے تحقیقات کرنے کے لئے برطانیہ روانہ ہوگئے ہیں۔ دونوں افسروں نے اپنی روانگی کے حوالے سے دفتر خارجہ کو مطلع نہیں کیا۔ نجی ٹی وی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نیب لاہور کے دو افسران وزارت خارجہ کو مطلع کئے بغیر ہی لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ نیب لاہور کے افسران حسن نواز اور حسین نواز کے لندن فلیٹس کے حوالے سے شواہد جمع کریںگے۔ قومی احتساب بیورو نیب لاہور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمران ڈوگر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر نذیر لندن کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔

”مریم پلان“ بارے خاص خبر

اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے) 25 دسمبر میاں نوازشریف کی سالگرہ ملک بھر میں جوش و روش سے منانے کیلئے سب کو خصوصی ٹاسک مریم نواز نے والد کی سالگرہ اس بار زیادہ جوش و خروش سے منانے کا پلان تیار کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق میاں نوازشریف کی 25 دسمبر کو بابائے قوم قائداعظم کے یوم پیدائش کے دن سالگرہ‘ تاہم ارکان سمیت بلدیاتی نمائندوں کو بھی میاں نوازشریف کی سالگرہ بھرپور انداز سے منانے کا ٹاسک دیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے 25 دسمبر کو والد کی سالگرہ بھرپور انداز میں منانے کیلئے اپنے قریبی رفقاءکے ذریعے سوشل میڈیا کا سہارا بھی حاصل کرلیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے 3 ارکان پنجاب اسمبلی باضابطہ مستعفی

لاہور:(ویب ڈیسک ) حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے 3 ارکان پنجاب اسمبلی باضابطہ طور پر مستعفی ہوگئے اور ان کے استعفے اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول ہوگئے۔پیر حمیدالدین سیالوی کے کہنے پر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے 3 ارکان نظام الدین سیالوی، مولانا رحمت اللہ اور محمد خان بلوچ اپنی نشستوں سے مستعفی ہوئے۔ذرائع کے مطابق پیر حمید الدین سیالوی کے نمائندے محمد نواز نے تینوں استعفے اسپیکر آفس کو پیش کیے۔ن لیگ کے 5 ارکانِ اسمبلی نے سیاسی مستقبل کا فیصلہ پیر سیالوی پر چھوڑ دیانظام الدین سیالوی حلقہ پی پی 37 سرگودھا، مولانا رحمت اللہ پی پی 74 چنیوٹ جبکہ محمد خان بلوچ پی پی 81 جھنگ سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ارکان اسمبلی کے استعفوں میں موقف اپنایا گیا کہ ختم نبوت پر گستاخانہ بیان پر پنجاب حکومت نے توجہ نہیں دی، اس لیے ارکان احتجاجاً استعفے دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے کئی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔رواں ماہ 6 دسمبر کو درگاہ سیال شریف کے سجادہ نشین پیر حمید الدین سیالوی نے مسلم لیگ (ن) سے اپنی راہیں جدا کرنے کا اعلان کیا تھا۔پیرحمید سیالوی کا ن لیگ سےتعلق توڑنے کا اعلانخواجہ حمید الدین سیالوی کا کہنا تھا کہ ختم نبوت ? کے معاملے پر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ حتمی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں کہ ہم نے کوئی ڈیل کر لی ہے لیکن اب ہمارا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بعدازاں 10 دسمبر کو فیصل آباد میں ایک جلسے کے دوران مسلم لیگ (ن) کے 2 اراکین قومی اسمبلی اور 3 اراکین پنجاب اسمبلی نے اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کا اختیار درگاہ سیال شریف کے سجادہ نشین پیر حمید الدین سیالوی کے سپرد کردیا تھا۔

جماعت اسلامی کا فاٹا اصلاحات لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ گیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک ) فاٹا اصلاحات کے لیے جماعت اسلامی کا خیبرپختون خوا سے شروع ہونے والا لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت پہنچ گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی فاٹا اصلاحات ریلی فیض آباد پہنچ گئی ہے۔ لانگ مارچ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ جماعت اسلامی فاٹا کو خیبرپختون خوا میں ضم کرنے اور دیگر اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ کررہی ہے۔ لانگ مارچ کے شرکاءڈی چوک پہنچ کر دھرنا دیں گے۔ ریلی اور دھرنے کی وجہ سے وفاقی پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ ڈی چوک میں اور ریڈزون کو جانیوالے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور داخلی راستے بند کرنے کے لیے کنٹینر بھی منگوا لئے گئے۔فیض آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ کس کے اشارے اور کس کے دباوپر حکومت فاٹا اصلاحات کا اپنے وعدہ پورا نہیں کر رہی ہے، ایف سی آر کے ظالمانہ نظام سے نفرت کی وجہ سے قبائلی عوام لانگ مارچ کر رہے ہیں، وہ اپنے علاقوں میں اسکول،اسپتال چاہتے ہیں، قبائلی علاقے کو خیبر پختونخوا میں ضم کیاجائے، تمام جماعتوں کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت نے کل فاٹا بل پیش نہ کر کے قبائلی عوام سے بیوفائی کی ہے، آئین سے دفعہ 247،246 کا خاتمہ ضروری ہے، قبائلی عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کے لیے اللہ نے حکومت کو ایک موقع دیا ہے، لیکن حکومت امریکہ کی طرف دیکھ کر چل رہی ہے۔یہ بھی پڑھیں: فاٹا کو خیبرپختون خوا میں ضم کرنے کیلئے باب خیبر پر دھرناحکومت نے کل پیر کو فاٹا اصلاحات بل قومی اسمبلی میں لانے اور ایف سی آر کا قانون ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم گزشتہ روز بل اسمبلی میں پیش نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید ہنگامہ کیا جب کہ آج بھی فاٹا بل کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے سے نکالنے پر اپوزیشن نے واک آو¿ٹ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے فاٹا کو خیبرپختون خوا میں ضم کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی ہے۔

لاہور میں سانحہ پشاور جیسے حملوں کا خطرہ۔۔۔ سنسنی خیز انکشافات

لاہور (نادر چوہدری سے)صوبائی دارالحکومت سمیت ملک کے دیگر حصوں میں سانحہ پشاور اے پی ایس اور سانحہ گلشن اقبال پارک کی طرز کے حملوں کیلئے افغانستان میں”را”کی جانب سے کالعدم تنظیموں کو کروڑوں روپے فنڈز فراہم کر نے کا انکشاف ، حساس اداروں نے محکمہ داخلہ کو مطلع کر دیا ، قانون نافذ کرنےوالے تمام ادارے متحرک ، لاہور پولیس کو بھی سرچ آپریشنز سمیت اپنے علاقوں میں مشکوک افراد کی نقل و حرکات بارے مکمل طور پر آگاہ رہنے کا حکم ،فٹ پاتھوں اور بس سٹاپوںمیں نشئیوں اور بھکاریوں کے ڈیرے خطرے کی گھنٹی بن گئے،خود کو دھماکے سے اُڑانے والے خودکش بمبار کیلئے نشئی کے روپ میں فٹ پاتھ پر اپنے ٹارگٹ کے قریب رہنا انتہائی آسان،پولیس کی جانب سے ڈویژنوں کی سطح پر بنائے گئے “واٹس ایپ گروپس”کیلئے تصاویر اور وڈیو کلپ بنا کر کارکردگی ظاہر کرنا معمول بن گیا ۔باوثوق ذرائع کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے ایک مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ “را”حکام کی کالعدم تنظیموں کے ساتھ افغانستان میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں “را”کی جانب سے ان دہشتگرد تنظیموں کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردانہ کاروائیوں کیلئے کروڑوں روپے فنڈز فراہم کیئے گئے ہیں جبکہ دشمن کا مقصد سانحہ اے پی ایس پشاور اور سانحہ گلشن اقبال پارک طرز کی دہشتگردانہ کاروائیاں کرنا ہے ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ رواں ماہ یکم دسمبر کو ایگریکلچر یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ پشاور پر برقعہ پوش دہشتگردوں کاحملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔حساس اداروں کی جانب سے دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی (را) اورلعدم تنظیموں کے دہشتگردانہ کاروائیوں کے معاہدے اور فنڈنگ کے متعلق محکمہ داخلہ اور دیگر قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو آگاہ کردیا گیا ہے جس کے بعد پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے ملک کے گلی کوچوں اور حساس ترین مقامات پر نظررکھنی شروع کردی ہے لیکن ڈیڑھ کروڑ کے قریب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے تمام گلی کوچوں ، بازاروں ، مزاروں ، مساجد ، گرجا گھروں ، مندروں، گردواروں ، امام بارگاہوں ،بس اسٹینڈز ، ریلوے اسٹیشنز ، ایئر پورٹس ، پارکس اور تعلیمی اداروں سمیت دیگر حساس عمارتوں اور پبلک مقامات پرسکیورٹی فراہم کرنے اور ملک دشمن عناصر کے قلع کرنے کیلئے لاہور پولیس کو بھی الرٹ کرتے ہوئے تعلیمی اداروں اور گرجا گھروں کے اطراف سرچ آپریشنز کرنے کے احکامات جاری کیئے گئے جس پر پولیس کی جانب سے شہر بھر میں قائم 6ڈویژنز کی کارکردگی میڈیا نمائندوں اور افسران بالا کو دکھا نے کیلئے “واٹس ایپ گروپس” بنا رکھے ہیں جن میں ڈویژنل ایس پی سمیت میڈیا نمائندے ایڈ ہوتے ہیں اور پولیس کی جانب سے کسی بھی تھانے کی حدود میں دو چار شہریوں کو کھڑا کر کے انکی تلاشی لیتے ہوئے یا کوائف چیک کرتے ہوئے چند تصاویر اور وڈیوکلپ بنا کر گروپوں میں سینڈ کردیے جاتے ہیں تاکہ گروپ میں موجود میڈیا نمائندے ان تصاویر کو اخبارات میں جبکہ وڈیو کلپس کو الیکٹرانک میڈیا پر چلائیں اور پولیس کی بہترین کارکردگی دکھائی دے ۔لاہور کے حساس ترین مقامات داتا دربارکے سامنے ،گامے شاہ کے سامنے ،ایس پی سٹی آپریشنز اور انویسٹی گیشن آفس کے سامنے اورپیر مکی دربارکے سامنے میٹرو پل کے نیچے،شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد کے پیچھے ٹیکسالی گیٹ کے علاقہ میں باب علی پارک کے اندر،لاہور ریلوے اسٹیشن کے اطراف، گنگا رام کے اطراف ، ریگل چرچ کے اطراف اورمین فروز پور روڈ پر قرطبہ چوک پر میٹرو پل کے نیچے سینکڑوں افراد نشئی ، بھکاری اور بیرون شہر کے پردیسیوں کے روپ میں مستقل رہائشیں اختیار کیئے ہوئے ہیں جن میں سے بمشکل چند ایک کے پاس کوئی شناخت دستاویز ممکن ہے باقی تمام بغیر شناختی دستاویزات کے ان حساس ترین مقامات پر بغیر چھپے کھلے عام رہائش اختیار کیئے ہوئے ہیں جن کو کبھی کسی تھانے کی پولیس نے چیک کرنے کی شاید اس لئے جرات نہیں کی کہ نامکمل شناختی دستاویزات کی بناءپر ان سے مٹھی گرم ہونا ممکن نہیں جس وجہ سے پولیس گزشتہ کئی سالوں سے انھیں مسلسل نذر انداز کررہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے خود کو بارودی جیکٹ سے اُڑانے کا ٹارگٹ لیکر لاہور میں داخل ہونے والے خود کش بمبارکیلئے رہائشی علاقوں ، ہوٹلوں ، ہاسٹلوں اور دیگر رہائشی جگہوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت انتظامات کرنے کے بعد یہ فٹ پاتھ ، میٹرو بس کے پل، پارکس اور بس اسٹینڈزوغیرہ بہترین رہائش گاہیں ثابت ہوسکتی ہیںجبکہ یہ تمام جگہیں ان دہشتگردوں کے اہداف کے انتہائی نزدیک ترین قائم ہیں ۔

شاہ کوٹ چھت دھماکہ ‘4کمسن بھائی جاںبحق

شاہ کوٹ (نیوز ڈیسک سے) شاہ کوٹ کے نواحی گاﺅں بھورو میں مکان کی چھت گرنے سے 4کمسن بھائی جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق دو روز کی مسلسل بارش کے نتیجے میں غریب شخص کی مکان کی چھت گرنے سے سوئے ہوئے 12سالہ وحید‘ 5سالہ شرجیل‘ 17سالہ اویس‘ 10سالہ نور مصطفی ملبے تلے دب کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ والدہ( 38سالہ ریحانہ)‘ ایک بھائی شدید زخمی ہو گیا جنہیں ملبے سے نکال لیا گیا۔ نواحی گاﺅں میں 4کمسن بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پورے گاﺅں میں صف ماتم بچھ گئی۔
4کمسن بھائی ہلاک

بچے بھوکے سکول جانے پر مجبور،دل دہلا دینے والی خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) ملک بھر میں بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے صارفین مہنگے داموں
لکڑیاں خرید کر جلانے پر مجبور ہو گئے۔ لاہور میں 100فیڈر ڈیڈشارٹ ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق قصور‘ گوجرانوالہ‘ شیخوپورہ‘ اوکاڑہ‘ رینالہ خورد اور نوشہرہ ورکاں سمیت کئی شہروں میں طویل غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ لاہور میں بارش کے بعد لیسکو کے 100 فیڈر ڈیڈشارٹ ہو گئے جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی سپلائی معطل رہی۔ صحافی کالونی گرڈ سٹیشن میں آصف ٹاﺅن فیڈر ڈیڈشارٹ ہونے کی وجہ سے شام 5بجے سے رات گئے تک بجلی بحال نہ ہو سکی۔ لیسکو سسٹم میں پیر کو بجلی کی طلب 2175میگاواٹ رہی‘ سپلائی 1700میگاواٹ اور شارٹ فال 475میگاواٹ رہا۔ شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے جہاں گھریلو خواتین اور طلباءکو سخت پریشانی کا سامنا کرناپڑتا ہے وہاں کاروباری طبقہ بھی شدید پریشانی دکھائی دیتا ہے۔ شہریوں اور تاجروں نے غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوشہرہ ورکاں میں مسلسل 7گھنٹے بجلی کی بندش سے کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر ہو گیا۔ ایس ڈی او واپڈا نے بتایا کہ نقص دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بجلی کی مسلسل بندش اور بارش کی وجہ سے شہریوں کو سخت کوفت کا سامنا رہا۔ دوسری جانب ملک بھر میں بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے جیسے ہی سردی بڑھی کئی شہروں میں گیس یا تو بالکل غائب ہو گئی یا پھر پریشر انتہائی کم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے گھریلو‘ تجارتی اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس غائب ہونے کی وجہ سے صارفین کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے ہیں۔ ہوٹل مالکان اور گھریلو صارفین مہنگے داموں لکڑیاں خرید کر جلانے پر مجبور ہیں۔ گھروں میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے طلباءاور ملازمت پیشہ افراد کو گزشتہ صبح ناشتہ کئے بغیر جانا پڑا۔ سوئی ناردرن انتظامیہ کے گیس کی طلب پوری کرنے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ لاہور کے علاقوں ماڈل ٹاﺅن‘ اقبال ٹاﺅن‘ گارڈن ٹاﺅن‘ ٹاﺅن شپ‘ گرین ٹاﺅن‘ گلبرگ‘ اچھرہ‘ اندرون شہر‘ شادباغ‘ ہربنس پورہ‘ سرحدی دیہات سمیت شہر کے اکثر علاقوں میں گیس مکمل طور پر بند ہے۔ سوئی ناردرن حکام کا کہنا ہے کہ سردی میں اضافے کے بعد گیزر اور ہیٹر چلنے کی وجہ سے گیس پریشر میں مشکلات ہو رہی ہیں تاہم موسم بہتر ہونے کے بعد گیس کی سپلائی معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔ قصور میں گیس کی لوڈشیڈنگ عروج پر پہنچ گئی جس کی وجہ سے لوگوں کے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ کھانا بنانے کے اوقات میں صبح‘ دوپہر اور شام کو گیس بند رہتی ہے جبکہ ایل پی جی کا سلنڈر 3سے 4سو روپے مہنگا ہو گیا۔ لوگ مہنگے داموں سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ گیس اور سلنڈر فروخت کرنے والے دکانداروں کا موقف ہے کہ ایل پی جی پیچھے سے مہنگی کر دی گئی ہے جس کا اثر ایجنسی ہولڈروں پر بھی پڑ رہا ہے۔
گیس‘ بجلی غائب

 

فلسطینی نے اسرائیلی گارڈ کا سینہ پھاڑ ڈالا

مقبوضہ بیت المقدس (نیااخبار رپورٹ) مقبوضہ بیت المقدس میں گزشتہ روز ایک فلسطینی نوجوان نے اسرائیلی گارڈ کو سینے میں خنجر مار کر شدید زخمی کر دیا۔ اس کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ چاقو فوجی کے دل میں لگا۔ 24 سالہ یاسین ابوالقور کو اسرائیلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ اس کا تعلق نابلوس کے قریبی علاقے تالوزہ سے ہے جبکہ اسرائیلی گارڈ یروشلم کے سنٹرل بس سٹیشن پر تعینات تھا۔ یاسین نے حملے سے چند گھنٹے قبل اپنی فیس بک پوسٹ میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی قبضے اور بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت قرار دینے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا اے میرے وطن میرے بیت المقدس اے مسجد اقصیٰ ہمارا خون آپ پر نچھاور ہے۔

ایان علی نے زرداری کو ناچنا سکھا دیا ‘ عمران مرد بنیں عابد شیر

فیصل آباد (نیا اخبار رپورٹ)وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ مخالفین نواز شریف سے خوفزدہ ہیں۔اگر دھرنوں سے حکومت جانے لگی توکوئی پارٹی حکومت نہیں کر سکے گی۔علی بابا چالیس چوروں کا یہ ٹولہ نہیں چاہتا انتخابات وقت پر ہوں۔یہ ٹولہ ملک میں انتشار چاہتا ہے۔یہ چاہتے ہیںکسی طرح بھی مسلم لیگ ن کو کمزور کیا جائے۔اگر ملک میں شفاف انتخابات چاہتے ہیں تو عمران خان اور ان کے لٹیرے اتحادی مردبنیں اور سینٹ میں الیکشن کابل پاس کریں۔یہ الیکشن سے قبل ہی شکست مان چکے ہیں۔ان کو معلوم ہے 2018ءکے انتخابات کے بعد عمران خان کے ہاتھ سے خیبرپختونخوا اور زرداری کے ہاتھ سے سندھ جائے گا۔ دینی معاملات کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہئے۔کوئی ہم سے بڑھ کر عاشق رسول نہیں ہے۔کسی کے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ختم نبوت کا معاملہ پر پیدا ہونی والی صورتحال حساس نوعیت کی ہے، معاملات بات چیت سے حل ہونے کی چاہئیں۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے سدھار سبزی منڈی کے آڑھتی کے ساتھ ڈکیتی کی واردات کے معاملہ پر سی پی او سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔