All posts by mujahid raza

باکسر عامر کی اہلیہ کا ایسا بیان کہ سب حیران

لندن (این این آئی)برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ عامراورفریال ایک دوسر ے سے بات چیت کرنے لگے مگررشتہ ختم ہوچکا ہے ۔ فریال کے مطابق مجھے عامرکی ضرورت نہیں ¾آنے والے دوسرے بچے کی پرورش تنہا کروں گی۔ان کا کہنا ہے کہ خود کو کتنا ہی پڑھا لکھا ¾ذہین اورامیر سمجھیں ¾اصلیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کا برتاﺅ کیسا ہے؟۔فریال نے کہا کہ دیانت داری ہی سب کچھ ہے۔

دنیا سے رخصت ہوئے 20برس بیت گئے

لندن (این این آئی) کروڑوں دِلوں پر راج کرنے والی برطانوی شہزاد ی لیڈی ڈیاناکو دنیا سے رخصت ہوئے 20 برس گزر گئے۔یکم جولائی 1961کو نورفوک انگلینڈ میں جنم لینے والی شہزادی پیکر ڈیانا کی زندگی خوشیوں اور غم کا ملاپ تھی جو مسکرائیں تو ہزاروں دیکھنے والوں کے چہرے کھل اٹھتے اور جب روئیں تو ان کے چاہنے والے بھی ان کے ساتھ غمزدہ ہوگئے۔کسے معلوم تھا کہ برطانیہ کے قدامت پسند نظام میں پیدا ہونیوالی ڈیانا فرانسس اسپینسر ایک دن دنیا کی معروف اور مقبول ترین شخصیت بن جائیں گی۔ڈیانا کی شہرت کا سورج برطانوی شہزادہ چارلس سے منگنی کے بعد طلوع ہوااورپھر شادی سے شاہی سفر کا آغاز کیا تو لوگوں نے اسے خوشیوں اور خوابوں کے سفر سے تعبیر کیا۔دو بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کی ولادت ہوئی اور وہ تخت و تاج کو مستقبل کے بادشاہ دینے میں کامیاب ہوگئیں۔ بظاہر سب صحیح لگ رہا تھا لیکن شہزادی ڈیانا اپنی ازدواجی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار نہ کر پائی۔پہلے تو شہزادہ چارلس کی بے وفائی نے ڈیانا کا دل توڑا اور پھر ڈیانا نے خود بھی بے وفائی کر ڈالی۔ ڈیانا اور چارلس کی زندگی میں کمیلا پارکر، جیمز گبلی، جیمز ہیوئیٹ اور لیگی بورک جیسے رقابت دار آئے۔ڈیانا نے برطانوی نشریاتی ادارے( بی بی سی) کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ناکام ازدواجی زندگی کا اعتراف بھی کیا۔ لیڈی ڈیانا نے اپنی ذاتی زندگی کی ناچاقیوں سے دل برداشتہ ہو کر خود کو فلاحی سرگرمیوں میں مصروف کر لیا اور کبھی بارودی سرنگوں کا معاملہ اٹھایا تو کبھی ایڈز کے خاتمے پر لب کشائی کی۔ڈیانا کی زندگی کی طرح موت بھی میڈیا کےلئے سب سے بڑی خبر بن گئی جب 31 اگست 1997 کو ڈیانا پیرس کے ہوٹل سے اپنے دوست دودی الفائد کے ساتھ روانہ ہوئی تو ایک بار پھر میڈیا کی زد میں تھیں۔سفر شروع تو ہوا لیکن ڈیانا منزل تک نہ پہنچ سکی اور ان کی گاڑی خطرناک حادثے کا شکار ہوکر مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ حادثے میں شہزادی کے ساتھ ان کے دوست بھی جان کی بازی ہار گئے۔

کرینہ کے بیٹے تیمو ر کی نئی تصاویر نے سب کو حیران کر دیا ،سوشل میڈیا پر وائرل

ممبئی: بالی ووڈ کے چھوٹے نواب تیمورعلی خان کی اب تک ہنستی مسکراتی ہوئی تصاویرہی سامنے آئی ہیں تاہم پہلی بار انہوں نے روتے ہوئے بھی لوگوں کی توجہ کھینچ لی۔بالی ووڈ کی نوابی جوڑی سیف علی خان اور کرینہ کپورکے بیٹے تیمورعلی خان اپنی پیدائش کے بعد سے ہی میڈیا کی توجہ مرکز بنے ہوئے ہیں۔

تیمور سنہری بالوں اور نیلی آنکھوں کے باعث کسی پٹھان سے کم نظر نہیں آتے ، تیمور کی اب تک جتنی بھی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں ان میں وہ ہنستے مسکراتے ہی نظرآئے ہیں۔

اپنی پر کشش مسکراہٹ کے باعث ہی تیمور میڈیا سمیت تمام لوگوں کی توجہ مرکز بنے رہتے ہیں، سیف اور کرینہ نے بھی کبھی اپنے بیٹے کو میڈیا سے چھپانے کی کوشش نہیں کی۔گزشتہ روز تیموراپنی والدہ کرینہ کپور خان کے ہمراہ ائیرپورٹ پر نظرآئے لیکن اس بار وہ ہنسنے کے بجائے رو رہے تھے، تاہم تیمور کا روتا ہوا یہ روپ بھی میڈیا پر مقبول ہوگیا،

کرینہ تیمور کو گودمیں لیے مسلسل چپ کرانے کی کوشش کررہی تھیں لیکن وہ چپ ہونے کے موڈ میں نظر نہیں آرہا تھا، کرینہ اپنے بیٹے کے رونے سے بالکل بھی پریشان نظر نہیں آئیں۔

سعودی عرب سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں عید الاضحی منائی جارہی ہے

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک، امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور مشرق بعید میں کروڑوں مسلمان عید الاضحیٰ کا تہوار مذہبی جوش و جذبے سے منارہے ہیں۔سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک، افریقا، امریکا، یورپ، آسٹریلیا اورمشرق بعید کی مختلف ریاستوں میں آباد کروڑوں مسلمان عید الاضحیٰ کا تہوار مذہبی جوش و جذبے سے منارہے ہیں۔ سعودی عرب میں نماز عید کے سب سے بڑے اجتماعات مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہوئے، جس کے بعد مسلمانوں نے سنت ابراہیمی علیہ السلام پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی رضا کے لیے جانوروں کی قربانی کی اوردنیا بھر میں  نماز عید کے اجتماعات میں مسلمانوں نے امت مسئلہ کے اتحاد اور سربلندی کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں بھی پورے جوش و جذبے کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی جارہی ہے۔ سعودی عرب میں عید الاضحی کے بڑے اجتماعات مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہوئے، جہاں دنیا بھر سے آئے لاکھوں حاجیوں نے نمازعید ادا کی۔ انڈونیشیا میں نماز عید کے سب سے بڑے اجتماعات جکارتہ اور جاوا میں ہوئے۔اس کے علاوہ ملائیشیا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات، افغانستان، عراق، مصر اور دیگر ممالک میں بھی نماز عید کے بعد قربانی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

میں خانہ کعبہ میں اس شخص کی بیگناہی کی قسم کھا سکتا ہوں ،اہم شخصیت کا بیان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے کہا ہے کہ میں ایس ایس پی راول ٹان خرم شہزاد کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور وہ ایک فرشتوں کے کردار جیسا پاکیزہ انسان ہے، ان کی بے گناہی کے لئے میں خانہ کعبہ میں بھی قسم کھا سکتا ہوں۔ سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کیس میں سنایا جا نے والے فیصلہ ایک انتہائی غیر منصفانہ فیصلہ ہے جس میں انصاف کے تمام اصولوں کو روند دیا گیا ۔ ایس ایس پی راول ٹان خرم شہزاد انتہائی دیانت دار آفیسر ہیں انہیں آئی جی، وزیر اعلی ، چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان بھی غیر قانونی کام کہے گا تو وہ انکار کردیں گے۔ ان پر الزام عائد کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد انہوں نے جائے وقوعہ کو دھویا تھا، حالانکہ وقوعہ کے بعد ہر جگہ سے خون دھلوا دیا جاتا ہے، انہوں نے اس وقت خون دھلوایا جب پولیس نے جائے وقوعہ سے تمام تر متعلقہ ثبوت اکٹھے کر لئے تھے جبکہ انہوں نے حادثے کے ایک گھنٹے بعد خون دھلوایا تھا جبکہ پولیس نے وہاں سے29متعلقہ ثبوت اکٹھے کئے تھے جبکہ عام طور پر جائے حادثہ سے8 سے 10ثبوت اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ میں خانہ کعبہ میں جا کرخرم شہزادکی بے گناہی کی قسم کھا سکتا ہوں۔میرا خیال ہے کہ سعود عزیز کا بھی بے نظیر بھٹو کے قتل سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی سبکی مٹانے کے لئے ان پولیس افسران کو مقدمے میں نامزد کیا۔

بے نظیر قتل میں بری ہونیوالوں بارے جامع رپورٹ،دیکھئے خبر

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) عدالت نے اڈیالہ جیل میں بے نظیر بھٹو قتل کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا ہے جس میں ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی راول ٹاﺅن خرم شہزاد کو 17,17سال قیدکی سزا سنائی گئی جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں گرفتار پانچ ملزموں کو بری کردیا جن میں رفاقت،حسنین ،اعتزاز شاہ، شیر زمان اور رشید اعوان کے نام شامل ہیں۔ ان افراد کو نو سال قبل سی ٹی ڈی پنجاب نے گرفتار کیا تھا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ بے نظیر بھٹوکے قتل سے قبل ان افراد نے دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری کا کام کیا تھا، ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ افراد خود کش حملہ آورکو موقع واردات پر لے کر آئے تھے، انہوں نے دہشت گردوں کو سہولت اور رہائش بھی دی تھی تاہم عدالت میں ان پر لگائے گئے الزامات کے شواہد پیش نہ کیے جا سکے اور نہ ہی ان افراد پر کچھ ثابت ہو سکا جس کے بعد عدالت نے انہیں بری کردیا ۔

کس نے محترمہ کے قتل کی تحقیقات ہونے نہ دیں؟

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قریبی ساتھی ناہید خان نے کہاہے کہ آصف علی زرداری
نے بینظیر کے قتل کی تحقیقات کروائیں ہی نہیں۔ بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ناہید خان نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے باعث بینظیر بھٹو کو گاڑی سے باہر نکلنے سے متعدد بار منع کیا لیکن انھوں نے کسی کی نہ سنی ¾وہ عوامی لیڈر تھیں اور عوام کےلئے ہی جان دےدی ¾ وہ لیڈر تھیں ہم ان کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتے تھے ¾ ان کو کئی بار سکیورٹی رسک کے بارے میں بتایا لیکن وہ ہمارے ساتھ جھگڑتی تھیں اور کہتی تھیں کہ اس سے بہتر ہے کہ میں بھی سیاست چھوڑ دوں اور تم لوگ بھی چھوڑ دو ¾میں یہ بزدلوں والی سیاست نہیں کر سکتی ¾وہ کہتی تھیں کہ میرے کارکن کیا سوچیں گے کہ ہماری لیڈر اتنی بزدل ہے کہ ہم باہر کھڑے ہیں صبح سے شام تک اور یہ ہمیں اپنی شکل بھی نہیں دکھاتی۔اس شام کو یاد کرتے ہوئے ناہید خان نے بتایا کہ جلسے کے بعد بینظیر بھٹو گاڑی میں آ کر بیٹھیں تو بہت خوش اور پرجوش تھیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی انھوں نے مجھے گال پر چوما تو صفدر صاحب نے کہا کہ جلسے کی کامیابی کا تھوڑا سا کریڈٹ آج مجھے بھی دے دیں اس پر بے نظیر صاحبہ نے کہا کہ نہیں صفدر آج کی کامیابی صرف ناہید کے باعث ہے ¾میں نے بھی جوابا بی بی کو گلے لگایا۔ جیالے اتنے پرجوش تھے کہ گاڑی کو گھیر لیا اور نعرے لگانے لگے۔ بی بی نے ڈرائیور کو کہا میگا فون دو ¾جو انہوں نے صفدر کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ کیوں نہ کچھ نعرے لگائیں؟ خود بھی انھوں نے جیو بھٹو کے نعرے لگائے اور نعرے لگاتی ہوئی گاڑی کی چھت سے سر باہر نکال لیا۔بے نظیر بھٹو کے انتقال سے قبل کیا انھوں نے کوئی غیر معمولی بات کہی یا اشارہ دیا جب یہ سوال ناہید خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے 23 دسمبر کو گڑھی خدا بخش قبرستان میں پیش آنے والا واقعہ سنایا۔پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ میں جلسہ تھا تو اس سے قبل بینظیر بھٹو گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کے قبرستان میں گئیں۔ وہاں وہ اپنے والد اور بھائیوں کے قبر کی بجائے پہلے خاندان کے باقی تمام لوگوں کی قبر پر گئیں۔ بھٹو خاندان کے افراد کی عموما زندگی پچاس سال تک ہی ہوتی ہے، ایسا کہا جاتا ہے، ذوالفقار بھٹو اور ان کے بھائی کو ہی دیکھ لیں۔ تو اس بات پر بینظیر صاحبہ نے بے اختیار بولا لیکن ناہید میری عمر تو 54 سال ہے۔ میں بالکل خاموش ہو گئی کہ یہ کیا بات کی ہے انھوں نے۔پھر قبرستان سے باہر جاتی ہوئی بی بی واپس مڑیں اور اسی مقام پر آ کر رک گئیں جہاں ان کی اب قبر ہے۔ اس جگہ کو دیکھ کر بولیں، ناہید ایک دن ہم نے بھی تو یہیں آنا ہے۔ تب مجھے یہ سب بہت عجیب لگا تھا لیکن آج سمجھ آ رہا ہے کہ بی بی کو ان کو آخری وقت کا احساس ہو گیا تھا۔ستائیس دسمبر کے لیاقت باغ کے جلسے کے حوالے سے ناہید خان نے بتایا کہ بینظیر بھٹو بہت پرخوش تھیں لیکن ان کو وہاں کچھ ایسا دکھائی دیا جو اور کسی نے نہیں دیکھا۔جب وہ سٹیج پر گئیں تو مسلسل سامنے دیکھ رہی تھیں، میں نے سوچا شاید لوگوں کا ہجوم دیکھ رہی ہیں۔ یکدم مجھے بلا کر کہتی ہیں دیکھو وہ جو دو درخت ہیں ان کے درمیان کچھ کالا سا ہے۔ روالپنڈی میں تو سردیوں میں دھند اتنی ہوتی ہے لیکن غور سے دیکھنے پر میں نے کہا بی بی وہاں کچھ نہیں ہے۔ تو انھوں نے کہا اچھا مخدوم بھی یہی کہہ رہے ہیں ¾شاید میری نظر کمزور ہو گئی ہے ¾میں نے اس وقت تو نظر انداز کر دیا لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ ان کو کچھ پتا چل گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بینظیر قتل کیس کی پیروی صحیح سے نہ کئے جانے پر ناہید خان برہم ہوئیں اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے علاوہ کوئی اور پارٹی ہوتی تو شاید بی بی کے قتل کیس کے ساتھ اتنا ظلم نہ ہوتا۔ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر صرف بینظیر کے انتقال کے باعث بنے ¾ ان کی اپنی کوئی قابلیت نہیں تھی ¾تمام ایجنسیاں ان کے ماتحت کام کر رہے تھیں لیکن انھوں نے تحقیقات کروائی ہی نہیں۔بینظیر قتل کیس سے متعلق جب بھی پیپلز پارٹی پر تنقید ہوئی تو دفاع میں انھوں نے کہا ہے کہ گرفتار ملزمان صرف فرنٹ مین ہیں ¾اصل قاتل کوئی اور ہے۔ اس حوالے سے ناہید خان کا کہنا تھا کہ اصل قاتل ڈھونڈنا پیپلز پارٹی کا کام ہے۔یہ اب پیپلز پارٹی رہی ہی نہیں ہے ¾یہ اب زرداری لیگ بن گئی ہے ¾ اگر یہ پیپلز پارٹی ہوتی تو سب سے پہلے اپنے قائد کے قتل کی کھوج لگاتے ¾میں، صفدر اور مخدوم عینی شاہد تھے لیکن ہمیں تو کبھی عدالت نے بلا کر نہیں پوچھا ¾بہت سارے سوال ہیں جن کے جواب نہیں ہیں ¾اگر تحقیقات ہوئیں تو نشانات بہت دور تک جائیں گے ۔

بے نظیر کے قتل کیس کے دوسرے بمبار بارے سنسنی خیز خبر

اسلام آباد (صباح نیوز) پیپلز پارٹی کی رہنما اور دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والی بینظیر بھٹو کو قتل کرنے والا شخص ایک نوجوان سعید عرف بلال تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے لیاقت باغ میں بینظیر کی گاڑی کے قریب پہلے گولی چلائی اور اس کے فورا بعد خود کو بم سے اڑا دیا۔ تاہم اس واقعے کی تحقیقات کرنے والوں کو یقین ہے کہ بینظیر کے قتل کے لیے ایک نہیں بلکہ دو خودکش حملہ آور بھیجے گئے تھے۔ اس دوسرے حملہ آور کا نام اکرام اللہ محسود بتایا گیا لیکن وہ زندہ ہے یا ہلاک ہوچکا ہے اس بارے میں خود تمام حکومتی تحقیقاتی اداروں کو بھی واضح نہیں ہے۔ پنجاب پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات میں ایک فرق یہ بھی ہے۔ ایف آئی اے کی تفتیش کے مطابق بینظیر پر حملے کے وقت دو مختلف شدت کے دھماکے ہوئے جبکہ پنجاب پولیس کے خیال میں دھماکہ ایک ہی تھا جو بلال نے کیا تھا۔ایف آئی اے کے تحقیقات کاروں کے خیال میں اکرام اللہ دوسرا بمبار تھا جس نے لیاقت باغ کے گیٹ کے قریب خود کو اڑایا تھا۔ بینظیر بھٹو کے مقدم قتل کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق دو دھماکوں کی تصدیق لیبارٹری رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔ چوہدری محمد اظہر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کی چھان بین کے مطابق اکرام اللہ محسود ہلاک ہو چکے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انھیں جو رپوٹس ملی ہیں ان کے مطابق اکرام اللہ ہلاک ہوچکے ہیں۔ ‘ان افراد کے اہل خانہ اور مقامی پولیٹکل انتظامیہ کی رپورٹس میرے پاس ہیں جن میں اکرام اللہ کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔’ ان کے بقول یہ رپورٹس چالان میں شامل نہیں ہیں لیکن ان کے پاس موجود ہیں۔لیکن اس کے برعکس پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں میڈیا کو جاری کی گئی انتہائی مطلوب افراد کی ایک فہرست میں اکرام اللہ محسود کا نام بھی موجود ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اکرام اللہ محسود کی گرفتاری یا ہلاکت کی صورت میں 20 لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا ہوا ہے۔ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہونے کا مطلب ہے کہ کم از کم حکومتِ پنجاب ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر رہی ہے۔ قبائلی علاقے کے صحافی اشتیاق محسود کی تحقیقات کے مطابق بھی اکرام اللہ محسود زندہ ہیں اور افغانستان میں روپوش ہیں۔’وہ اس وقت افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان شہریار گروپ کے پاس ہے۔ اس پر گذشتہ دنوں ماہ رمضان میں افغانستان میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گیا تھا۔’ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستانی حکام نے اس کی گرفتاری کے لیے گذشتہ دنوں اس کے خاندان کے کئی لوگوں کو جن میں اکرام اللہ محسود کا دس ماہ کا بچہ اور سسر شامل ہیں حراست میں لیا تھا۔اشتیاق محسود کے مطابق انھیں بعد میں اس تنبیہ کے ساتھ چھوڑ دیا گیا کہ وہ اکرام کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہیں گے۔ اکرام اللہ مسحود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے ہے۔ وہ بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے اور سنہ دو ہزار سات میں قائم ہونے والی تحریک طالبان کے سرگرم رکن بھی تھے۔وزارت داخلہ نے بینظیر بھٹو کے قتل کے فورا بعد بیت اللہ محسود کی ایک نامعلوم شخص کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو ٹیپ کی جو میڈیا کو جاری کی گئی تھی۔ اس میں بھی وہ شخص بیت اللہ کو بتا رہا ہے کہ کارروائی کرنے والے بلال اور اکرام تھے ۔وزارت داخلہ کے مطابق بینظیر بھٹو پر حملے کی سازش پر عمل کے لیے پانچ رکنی ٹیم تیار کی گئی تھی اور گرفتار ملزمان کے ابتدائی بیانات کے مطابق ان میں سے دو خودکش حملہ آور تھے۔مبصرین کو امید ہے کہ دس سال کی تحقیقاتی اور قانونی کوششوں کے بعد اکرام اللہ محسود کے زندہ یا ہلاک ہونے کے بارے میں صورتحال پر بھی حکام توجہ دیں گے اور ریکارڈ درست کرنے کی کوشش کریں گے۔

آپریشن کامیاب اہلخانہ اور متوالے خوشی سے نہال

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے گلے کی سرجری مکمل کر لی گئی ہے۔ نجی ٹی وی نے شریف فیملی کے ذرائع کے حوالے سے کہاہے کہ بیگم کلثوم نواز کی گلے کی سرجری مکمل کر لی گئی ہے اور انہیں آپریشن تھیٹر سے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیاہے جہاں ڈاکٹرز کی حالت کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بیگم کلثوم نواز کے گلے میں گلٹی بنی تھی جس کا چیک اپ کروایا گیا تو کینسر کی تشخیص کی گئی ،ڈاکٹرز کا کہناتھا کہ ان کے گلے کے کینسرکی تشخیص ابتدائی سٹیج پر ہی کر لی گئی تھی جس کا علاج ممکن ہے اور پیچیدہ بھی نہیں ہے۔نوازشریف گزشتہ روز لند ن کیلئے روانہ ہو ئے تھے اور وہ اس وقت اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہیں۔

مریم نواز نے قوم سے دعا کی اپیل کر دی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مریم نواز کا کہنا ہے کہ والدہ کی سرجری ہو گئی ہے آپ ان کے کئے دعا کریں ۔ تفصیلات کے مطابق مریم نواز شریف کا سوشل میڈیا اکانٹ پر کہنا تھا کہ میری والدہ کی سرجری شروع ہو چکی ہے ،سب ان کے لئے دعا کریں ۔واضح رہے کہ نواز شریف بھی لند ن کے اس ہسپتال میں موجود ہیں جہاں ان کی اہلیہ کی سرجری کی جارہی ہے ،نواز شریف کل ہی لندن پہنچے تھے ۔