All posts by mujahid raza

دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر

لا ہور(خصوصی رپورٹ)حکومت نے دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے امریکہ ، برطانیہ اور خلیجی ممالک سے آنے والے دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں آمد ورفت کی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض ممالک کے انٹیلی جنس ادارے علیحدگی پسندوں کو مالی امداد، اسلحہ اور تربیت بھی دے رہے ہیں، جس کے لئے افغانستان اور خلیجی ممالک کی سرزمین استعمال کی جارہی ہے ۔ پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے کئی مرتبہ اس نیٹ ورک کو ڈی کوڈ کیا مگر یہ اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ بیک وقت کئی ممالک کے سلسلے وار گروپ کام کر رہے ہیں جن کا رابطہ زمینی بھی ہے اور یہ لوگ جدید ترین مواصلاتی ذرائع بھی استعمال کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بلوچستان دنیا کی بڑی طاقتوں کی گریٹ گیم کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں 20 ممالک کے سراغ رسانی کے ادارے اپنا اپنا مفاد حاصل کرنے میں مصروف ہیں، جن میں امریکہ، روس، بھارت، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور بعض خلیجی ممالک بھی شامل ہیں۔بلوچستان کی جیو سٹریٹجک اہمیت اور وہاں موجود تیل و معدنیات کے بھاری ذخائر کی وجہ سے دنیا کی اہم طاقتوں نے بلوچستان پر گزشتہ 12 برسوں سے فوکس کر رکھا ہے مگر حالیہ برسوں میں جب سے گوادر کا انتظام چین کو دیا گیا ہے اس کے بعد سے صوبے میں” را“ سمیت عالمی انٹیلی جنس اداروں کی سرگرمی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس بات کا اعتراف وقتاً فوقتاً سکیورٹی اداروں، سیاست کے ایوانوں اور اعلیٰ عدالتوں میں بھی سننے میں آتا رہا ہے جبکہ اس ضمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چند برس قبل امریکی سی آئی اے نے بلوچستان میں اپنے نیٹ ورک کو وسعت دینے کیلئے 500 سے لیکر 1000ڈالر ماہانہ پر اپنے ایجنٹ بھرتی کئے تھے ان میں اکثریت بلوچوں، بروہی اور پشتون پر مشتمل ہے۔ ان بھرتیوں میں دوہری شہریت کے حامل افراد کو خاص ترجیح دی گئی تاکہ وہ باآسانی پاکستان سے آ جا سکیں۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے کئی بار کامیابی سے بیرونی ممالک سے لایا گیا اسلحہ اور پیسہ پکڑا اور ان شرپسندوں پر بھی ہاتھ ڈالا گیا جو مقامی سطح پر ان کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیر داخلہ بلوچستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کافی عرصے سے ہو رہی ہے جس میں بھارتی ”را“ اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایف سب سے زیادہ مسائل پیدا کر رہی ہیں جبکہ بھارت کے افغانستان میں کونصلیٹس سے سارے معاملات کو چلایا جا رہا ہے، چنانچہ ان حالات میں باہر سے آنے والے ہر فرد کی نگرانی کرنا ہماری سلامتی کیلئے لازم ہو چکا ہے، پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ بلوچستان میں کئی ممالک کے انٹیلی جنس ادارے کام کر رہے ہیں جن میں بعض دوست ممالک کے نام بھی آتے ہیں۔ آئی جی پو لیس پنجا ب نے اس با رے میں مو قف اختیا ر کیا ہے کہ حکومت نے دہشت گردوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے امریکہ ، برطانیہ اور خلیجی ممالک سے آنے والے دوہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کی پنجاب اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں آمد ورفت کی کڑی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اور اس کا م کے لیے سپیشل برا نچ کے اہلکا رو ں کی ایک ٹیم کو نگرا نی کے لیے ما مو ر کیا گیا ہے ۔

کھانے والی اشیاءکھلی فروخت کرنے پر پابندی لگانے کی تیاریاں

لاہور (خصوصی رپورٹ)ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نور الامین مینگل نے کہا ہے کہ قواعد و ضوابط میں ضروری تبدیلیاں کردگئی گئی ہیں جن کے تحت ڈیڑھ سال کے اندر کھلی فوڈ آئٹمز کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ اس سے ملاوٹ کا خاتمہ ہوگا اور لوگ بیماریوں سے بچیں گے۔ انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط اور نائب صدر ناصر حمید خان سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر بتائی۔ نور الامین مینگل نے کہا کہ کھلی آئٹمز کی فروخت پر پابندی سے فوڈ انڈسٹری کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد اسے اپنے ریڈار میں لانا ہے تاکہ ملاوٹ و جعلسازی کا خاتمہ کیا اور ا±ن کالی بھیڑوں کا محاسبہ کیا جاسکے جو انسانی جانوں کے ساتھ ایماندار تاجروں اور صنعتکاروں کو بھی نقصان پہنچارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو وزیراعلیٰ پنجاب کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے، ابھی یہ پانچ اضلاع میں کام کررہی ہے جبکہ 31دسمبر تک اس کا دائرہ کار پنجاب بھر میں پھیل جائے گا۔ گلی محلوں میں موبائل ٹیمیں کام کریں گی ۔ ڈویژن کی سطح پر سکول بنائے جارہے ہیں۔ صنعتی ورکرز کے لیب ٹیسٹ کے لیے موبائل ٹیمیں فیکٹریوں میں ہی ٹیسٹنگ کی سہولت مہیا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ سلاٹرنگ ہاﺅس فوڈ پراسیسنگ کی جگہ ہیں لہٰذا انہیں ریگولیٹ کرنا اتھارٹی کا کام ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ اتھارٹی کا کوئی نمائندہ اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کا عالمی حجم 300ارب ڈالر ہے جس کا دس فیصد حصہ پاکستانی برآمدات میں 30ارب ڈالر اضافہ کرسکتا ہے لیکن فوڈ فیکٹریوں اور ریستورانوں وغیرہ کی چیکنگ کو چھاپوں کا نام دینے اور میڈیا کوریج سے فوڈ انڈسٹری کی ساکھ خراب ہورہی ہے اور فوڈ انڈسٹری کی برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ساکھ بنانے میں دہائیاں صرف ہوتی ہیں جبکہ خراب ہونے میں تھوڑی ہی دیر لگتی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں لاہور چیمبر کو نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے تعاون سے سیمینارز اور ٹریننگ پروگرامز منعقد کرنے کو تیار ہے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر محمد ناصر حمید خان نے کہا کہ محکمہ خوراک مختلف چیمبر آف کامرس کے تعاون اور وساطت سے اس سلسلے میں ضابطہ اخلاق اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے آگاہی مہم کا آغاز کرے۔
کھلی فوڈ آئٹمز پابندی

لاہور بڑی تباہی سے بچ گیا ، رینجرز کی بڑی کامیابی

لاہور (خصوصی رپورٹ) رینجرز اہلکاروں نے شیرا کوٹ بند روڈ کے علاقہ میں کارروائی کرتے ہوئے گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرکے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ذرائع کے مطابق رینجرز اہلکاروں نے خفیہ اطلاع ملنے پر شیرا کوٹ کے علاقے میں بند روڈ پر کارروائی کی جہاں ایک مشکوک کار کو روکا گیا جس میں سے دوران چیکنگ بھاری مقدار میں اسلحہ اور ہزاروں گولیاں برآمد ہوئیں۔ رینجرز اہلکاروں نے کار میں سوار پانچ ملزمان کو بھی حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق ملزمان سے 35 پستول، 10 پستول نائن ایم ایم، 2 دیسی ساختہ کلاشنکوف، 20 پمپ ایکشن اور 7500 سے زائد گولیاں شامل ہیں۔ رینجرز ذرائع کے مطابق ملزمان کو مزید تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ گنگارام ہسپتال کے قریب رات گئے کار سوار پولیس ناکے پر اہلکاروں کو ٹکرمار کر فرار ہوگئے۔ پولیس اہلکاروں کے تعاقب کرنے پر گاڑی جیل روڈ پر درخت سے ٹکرا گئی۔ تینوں کار سور زخمی ہوگئے۔ پولیس نے تینوںکو حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق گاڑی تیز رفتاری کے باعث درخت سے ٹکرائی۔ گرفتار ہونے والوں میں آصف‘ بابر اور مجتبیٰ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق تینوں افراد مشکوک ہیں۔ تفتیش جاری ہے جبکہ پولیس نے جعلی اے ٹی ایم کارڈ سے کروڑوں کی رقم لوٹنے والے گروہ کے پانچ ارکان کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سی آئی اے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جعلی اے ٹی ایم کارڈز تیار کرکے رقم لوٹنے والے گروہ کے ارکان نوید گجر اور حفیظ کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے جعلی اے ٹی ایم کارڈ برآمد کرلئے۔ ملزموںکی نشاندہی پر کراچی سے نیٹ ورک کے اہم رکن سمیت تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان سے جعلی کارڈ تیار کرنے والی مشین‘ سینکڑوں کارڈ اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔ جعل ساز جعلی کارڈ تیار کرکے ملکی و غیرملکیوں کے اے ٹی ایم کے پاس ورڈ ہیک کرتے اور پھر ملک بھر کے مختلف بینکوں سے رقم نکلوا کر خریداری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ نیٹ ورک کے ہیکرز دبئی سمیت دیگر ممالک میں کام کرتے ہیں۔

پاکستان میں ایڈ کے مریضوں کی تعداد جان کر آپ حیران رہ جائینگے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی وزارت قومی خدمات نے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد میں ایڈز کا مرض پایا گیا ہے جن میں 30فیصد خواتین ہیں۔ مجموعی طور پر ان مریضوں میں سے صرف 18ہزار کا علاج قومی ادارہ صحت میں ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ طبی شعبوں میں احتیاطی تدابیر کا نہ ہونا بھی ہے‘ جبکہ خدشہ یہ ہے کہ مریضوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے‘ کیونکہ ملک میں ایڈز کے مرض کی تشخیص کی سہولیات بہت کم ہیں۔ وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ایڈز کے علاج کیلئے امدادی رقم فراہم کرنے والے ادارے بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ مریضوں کی اتنی بڑی تعداد میں سے محض چند ہزار کا ہی علاج ہو رہا ہے۔ اگر باقی مریضوں کا علاج نہیں ہوا تو ایڈز کا مرض بڑی تیزی کے ساتھ پھیل بھی سکتا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت اپنے طور پر کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی‘ کیونکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور بدقسمتی سے صوبے اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ وزارت صحت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال چانڈکا میڈیکل کالج ہسپتال لاڑکانہ میں ایڈز کے 1329کیسز رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر کو یہ مرض استعمال شدہ سرنجوں اور ایڈززدہ خون لگانے کی وجہ سے لاحق ہوا ہے۔ سندھ میں ایڈز کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے میں جگہ جگہ غیرقانونی بلڈ بینک موجود ہیں جہاں سے مریضوں کو غیرمحفوظ خون فراہم کیا جاتا ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول کے اعدادوشمار ے مطابق 2015ءتک سندھ میں ایڈز کے 45ہزار سے زائد مریض رجسٹرڈ کئے گئے تھے۔ علاج کیلئے لائے جانے والے سب سے زیادہ مریض لاڑکانہ سے آئے تھے جن کی تعداد 656تھی۔ اس کے علاوہ قمبر‘ شہدادکوٹ میں 189‘ دادو میں 130اور خیرپور میرس میں 120مریض پائے گئے۔ ان مریضوں کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ وہ کس خوفناک مرض کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح کراچی میں بھی خواجہ سراﺅں کے ساتھ تعلقات اور نشے کیلئے ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال کی وجہ سے ایڈز کا مرض عام ہو رہا ہے۔ ریلیف ویب کی رپورٹ کے مطابق 2016ءمیں پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد 18سے 30سال کی عمر کے لوگوں کی تھی۔ اس کے بعد 31سے 40سال کے لوگ ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق 2005ءاور 2015ءکے درمیان پاکستان بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں 17.6فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2005ءکی نسبت ایڈز سے مرنے والوں کی شرح میں 14.41فیصد اضافہ ہوا۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں ایڈز کے 42ہزار مریضوں کے علاج کیلئے فنڈز ہی نہیں ہیں۔ ان مریضوں کو دوسرے شہروں سے علاج کیلئے کراچی لایا گیا ہے۔ ایڈز کے پھیلاﺅ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک خاتون ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ ”ہمارے ہاں آج کل دینی تعلیم کو انتہاپسندی کہہ کر اس کی راہ روکی جا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنسی بے راہ روی پر اسلامی تعلیم ہی قدغن لگاتی ہے‘ جبکہ ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ پر فحش مواد نوجوانوں کو ہی نہیں‘ بڑی عمر کے لوگوں کو بھی بے راہ روی کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔“ پاکستان گلوبل ایڈز رسپانس پروگریس رپورٹ کے مطابق ملک میں یہ مرض 1980ءکی دہائی میں بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے ذریعے داخل ہوا تھا۔ دو دہائیوں تک اس کے بڑھنے کی شرح بہت کم تھی لیکن اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں سرنجوں کے ذریعے نشہ کرنےوالوں میں اس مرض کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں استعمال شدہ سرنجوں کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے 27.2فیصد ہیں۔ طوائفوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے مریض ہونے والے 5.2اور ہم جنس پرستی کی وجہ سے ایڈز میں مبتلا افراد 1.6فیصد ہیں۔ مریضوں میں 70فیصد مرد اور 30فیصد عورتیں ہیں۔

پرائیویٹ یونیورسٹیز کے طلباءکیلئے اہم خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے لاہور سمیت صوبے بھر کی 24پرائیویٹ یونیورسٹیز کو وارننگ دی ہے کہ وہ غیرمنظورشدہ ڈگری پروگرامز کو رجسٹرڈ کروائیں۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق غیرمنظور شدہ ڈگریوں میں داخلوں پر یونیورسٹیز کے خلاف کارروائی ہو گی۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے فی ڈگری پروگرام کی منظوری کیلئے پراسیسنگ فیس 40ہزار روپے مقرر کردی۔ ڈگری پروگرام کی منظوری ماہرین کی کمیٹی دے گی جس میں وائس چانسلرز‘ ڈینز اور سابق وائس چانسلر شامل ہوں گے۔ ماہرین کی ٹیم ڈگری پروگرامز کی حتمی منظوری کیلئے متعلقہ یونیورسٹیز کا دورہ بھی کرے گی۔ چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نظام الدین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ یونیورسٹیز کے غیرمنظور شدہ ڈگری پروگرامز کی سخت مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔ پی ایچ ای سی ایک ماہ میں ان یونیورسٹیز کی رپورٹ کو حتمی شکل دے گا۔ کمیشن نے یونیورسٹیز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صرف ان پروگرامز میں داخلے کئے جائیں جو کمیشن کی جانب سے منظورشدہ ہوں۔ خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی۔

لاہور کو تقسیم کرنیکا کا فیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ) تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر لاہور کو حکومت نے 4 اضلاع میں تقسیم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ لاہور شہر کی آبادی دو کروڑ سے تجاوز کرنے کے بعد انتظامیہ طور پر شہر کو چار حصوں میں تقسیم کئے جانے کا امکان قومی ہوتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے حکام اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کی سفارشات پیش کریں گے۔ اس سلسلے میں بننے والی کمیٹی کے کنوینر کمشنر لاہور جبکہ ڈپٹی کنوینر میئر لاہور ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں کیپٹل سٹی پولیس افسران‘ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور لوکل گورنمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ایک میگا بورڈ بنایا جائے گا اور معاملے کو حتمی شکل دے گا۔ اس سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں ڈی آئی جی چودھری سلطان نے اس سکیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تاحال شہر کو 6 ڈویژن کو صدر‘ سٹی کینٹ‘ سول لائن‘ اقبال ٹاﺅن‘ ماڈل ٹاﺅن اور کینٹ سٹی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر کو مربوط منصوبہ بندی سے ہی بہتر کیا جاسکتا ہے۔ میئر لاہور کے مطابق لاہور کو تقسیم کرنے سے قبل تمام تحفظات کو باہم مل کر دور کیا جائے گا۔ لاہور کو چار اضلاع میں تقسیم کرنے کیلئے کیمٹی کی حتمی سفارشات کابینہ کمیٹی کے سامنے منظوری کے لئے پیش کی جائیں گیں۔
چار اضلاع

”جھوٹا“

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے عمران خان کو 10ارب والی بات کے الزام پر ایک لفظ میں جواب دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق مریم نوازنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کے 10ارب کے بیان ردعمل کااظہار کرتے ہوئے ان کے بیان کی تردید کر دی اور عمران خان کے متعلق ایک لفظ جھوٹا لکھ دیا ۔واضح رہے کہ عمران خان نے الزام عائد کیا تھاکہ انہیں پانامہ کیس پر خاموش رہنے کیلئے حکومت نے10ارب کی پیش کش کی تھی۔

ہیری اسٹائلز نے گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ سے محبت کا اعتراف کر لیا

لاس اینجلس (شوبز ڈیسک) ہالی وڈ گلوکار ہیری اسٹائلز نے گلوکارہ ٹیلر سویفٹ سے محبت کا اعتراف کر لیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ہالی وڈ گلوکار ہیری اسٹائلز نے حال میں میڈیا پر یہ اعتراف کر لیا ہے کہ انہیں گلوکارہ ٹیر سویفٹ سے محبت ہے اور وہ جلد ٹیلر سے منگنی کا بھی اعلان کریں گے فی الحال دونوں کی توجہ کیرئیر پر مرکوز ہے،دونوں کو مختلف تفریحی مقامات پر اور ہوٹلوں میں بھی اکٹھے دیکھا گیا ہے۔

سلمان خان پنجابی فلم میں کام کرنے کے خواہشمند

لاہور (شوبز ڈیسک) لگتا ہے کہ بالی ووڈ کے خانز کو ہالی ووڈ میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ، اس حوالے سے سلمان خان کا کہنا ہے کہ وہ ہالی ووڈ کیلئے اپنا گھر (ہندوستان )نہیں چھوڑیں گے۔ ایک تقریب میں جب سلمان خان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ہالی ووڈ جانے کے بارے میں سوچیں گے تو ان کا کہنا تھا نہیں ہالی ووڈ بہت دور ہے ، مجھے تو کام کے دوران اپنا گھر چھوڑنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ جب سلمان خان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ پنجابی فلموں میں کام کرنا پسند کریں گے تو ان کا کہنا تھا یہ ان کی ایک بڑی خواہش ہے ، میں نے ایک فلم ہیروز کی تھی جس میں میں نے ایک سردار کا کردار ادا کیا تھا۔ میں نے بہت سے پنجابی کردار ادا کیے ہیں لیکن کبھی کسی پنجابی فلم میں کام نہیں کیا اگر مجھے موقع ملا تو میں ضرور پنجابی فلم کروں گا ، یہ بہت تیزی سے بڑھتی ہوئی انڈسٹری ہے اور میں اس کا حصہ بننے میں خوشی محسوس کروں گا۔

شردھا کپور کے بغیر فلم ”ہاف گرل فرینڈ“ کی تشہیری مہم شروع

ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی وڈ اداکار ارجن کپور نے ساتھی اداکارہ شردھا کپور کے بناءہی فلم ہاف گرل فرینڈ کی تشہیری مہم کا آغاز کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بالی وڈ اداکار ارجن کپور نے ساتھی اداکارہ شردھا کپور کے بناء ہی فلم ہاف گرل فرینڈ کی تشہیری مہم شروع کر دی،اداکارہ شردھا کپور کی غیر موجودگی کی وجہ اداکار ارجن کپور سے اختلاف نہیں بلکہ ان کی بیماری ہے،شردھا کپور کو شدید نوعیت کا نزلہ و کھانسی ہے اس لئے ارجن نے خود ان کے ساتھ تعاون کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی وہ گھر پر آرام کریں۔وہ فلم کی تشہیر کی تب تک ذمہ داری اکیلے ہی سنبھال لیں گے۔