All posts by mujahid raza

گوگل کا نیا منصوبہ ،پاکستانی عوام کو بڑی خوشخبری دیدی

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ گرو کمپنی گوگل نے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کے لیے نئے منصوبے کا آغاز کردیا۔ لاﺅنچ پیڈ ایکسیلیٹر نامی اس منصوبے میں گوگل ان افراد یا نوجوانوں کو مفت تربیت دینے سمیت مالی مدد فراہم کرے گا، جو انٹرنیٹ پرنئے منصوبے بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان سمیت ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا و یورپ کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے ان افراد کو گوگل کے ہیڈ کوارٹر میں تربیت فراہم کی جائے گی، جنہوں نے کسی بھی طرح کی سماجی اور معاشرے کی بھلائی سے متعلق کوئی ویب سائٹ بنائی ہوگی، یا پھر انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کا کوئی منصوبہ شروع کیا ہوگا۔ ڈان کو موصول ہونے والے گوگل کے بیان کے مطابق پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اس منصوبے کا آغاز 31 اگست 2017 کو ہوچکا، جس کے بعد کوئی بھی ویب سائٹ یا نیا منصوبہ شروع کرنے والے افراد اپنے منصوبے کی بنیاد پر آن لائن اپلائی کرسکتے ہیں۔ نئی ویب سائٹ یا منصوبہ شروع کرنے والے افراد کو شارٹ لسٹ کیے جانے کے بعد انہیں سان فرانسسکو میں موجود گوگل ہیڈ کوارٹرز میں تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی۔

معاملہ عوام کی عدالت اور جے آئی ٹی میں آگیا ،دوٹوک فیصلہ ہو گا،مریم نواز

لاہور: سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کا فیصلہ کوئی عدالت نہیں بلکہ عوام کریں گے۔لاہور میں خواتین ورکرز کنونشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آپ کے لیڈر کو انصاف نہیں ملا، اب عوام کی عدالت میں معاملہ آچکا ہے، میں نواز شریف کا مقدمہ لے کر آپ کی عدالت میں آئی ہوٕں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جے آئی ٹی اور عدالت میں معاملہ آگیا ہے،اب دوٹوک فیصلہ کرنا۔مریم نواز نے کہا کہ لاہور کی مائیں اور بہنیں سازشوں کے خلاف دیوار بن کر کھڑی ہوں گی، 17ستمبر کو لاہور ساڑھے چار سال سے ہونے والی سازشوں کا جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ مہرہ بننےوالوں کو بتادو،عوام کافیصلہ نواز شریف ہے،فیصلہ ماننا پڑے گا، نااہلی اور اہلیت کا فیصلہ عوام کریں گے۔

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے کہا کہ میٹرو بس کو جنگلا بس کہنے والوں اور ڈینگی بیماری کا مذاق اڑانے والوں کو ووٹ نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ کے پی پر جب ڈینگی کی مصیبت آئی تو وہ لوگ شہباز شریف کو آواز دے رہے ہیں۔

کراچی میں موسلا دھار بارش، 3 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

 کراچی: شہر قائد میں موسلادھار بارش کے باعث چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 3 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ متعدد علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہوگیا۔ کراچی میں وقفے وقفے سے تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ متعدد علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا ہے جس کے باعث شہریوں کو دفاتر اور کام پر جانے میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ خراب موسم کے باعث کراچی سے شیڈول متعدد پروازیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں اور اسکولوں کی چھٹی کا اعلان کردیا گیا۔کراچی میں کے الیکٹرک اور بلدیہ عظمی کی جانب سے ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جاسکے۔ بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ لیاری ، نارتھ کراچی اور بلدیہ ٹاون میں 3 کمسن بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ بلدیہ ٹاؤن میں محمد عظیم ، لیاری میں جاوید احمد ، اورنگی ٹاؤن میں نصیر اور پرانی سبزی منڈی میں یسین نامی شخص جاں بحق ہوئے۔

روس نے پاکستان کو 4 گن شپ ہیلی کاپٹر فراہم کردیئے

 اسلام آباد: روس نے پاکستان کو چار ایم آئی 35 گن شپ ہیلی کاپٹر فراہم کر دیئے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر فوجی تعاون کی راہ ہموار ہوگئی۔پاکستان ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے مطابق روس نے معاہدے کے تحت پاکستان کو چار ایم آئی 35 گن شپ ہیلی کاپٹر فراہم کر دیئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 15 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا یہ معاہدہ رواں برس ماسکو میں ہونے والے انٹرنیشنل ملٹری ٹیکنیکل فورم میں طے پایا تھا جس پر جون 2016 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ ماسکو کے دوران اتفاق رائے ہوا تھا۔پاکستان ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن کے بریگیڈیر جنرل وحید ممتاز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاک فوج روس سے مزید اسلحہ خریدنے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ تین سال قبل روس نے پاکستان کو اسلحے کی فروخت پر عائد پابندی ختم کی تھی جو سوویت افغان جنگ دور سے نافذ تھی۔

روسی دفاعی ٹیکنالوجی میں پاکستان کی دلچسپی رواں سال کے شروع میں اس وقت زیادہ واضح ہوگئی تھی جب یہ خبر سامنے آئی کہ پاکستان حکومت روسی ایس 400 میزائل دفاعی نظام خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لندن میں کلثوم نواز کی آج سرجری، نواز شریف بھی اسپتال میں موجود

لندن: سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کی آج سرجری ہوگی جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اسپتال میں موجود ہیں۔نواز شریف کی اہلیہ وسطی لندن کے ایک اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں ڈاکٹروں نے ان کے حلق میں کینسر تشخیص کیا ہے جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی آج سرجری ہوگی۔سابق وزیراعظم نواز شریف بھی لندن کے اسپتال میں موجود ہیں اور سرجری سے قبل انہوں نے کلثوم نواز کی ہمت بڑھائی۔

ڈاکٹرز کے مطابق بیگم کلثوم نواز کے گلے کا کینسر ابتدائی اسٹیج پر ہے جو قابل علاج ہے اور وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج گھر پہنچ گئے

لاہور (خصوصی نامہ نگار) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی منگل کے روز پی آئی سی میں انجیو پلاسٹی کی گئی تھی۔ پی آئی سی کی انتظامیہ نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی گھر روانگی سے انہیں نئی ایمر جنسی کا دورہ بھی کرایا ۔ڈاکٹرز نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کو چند روز مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے ۔

ڈاکٹر قدیر خان سمیت مایہ ناز سائنسدان گوجرانوالہ کے بوڑھے لوہار کے پاس کیو ں گئے؟؟؟

لاہور (خصوصی رپورٹ) پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور شاہین میزائل کی تیاری میں آنے والی ایک بڑی رکاوٹ کو گوجرانوالہ کے ایک بوڑھے لوہار نے دور کی تھی؟ یہ رکاوٹ کیا تھی، جو دور کروانے ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود چل کر اس لوہار کے پاس گئے تھے۔1972ءمیں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ڈاکٹر منیر احمد خان کی سربراہی میں شروع ہوا اور پہلا کام پاکستانی سائنسدان نے ایٹمی ایندھن کی تیاری کیلئے کارآمد تابکار مواد بنانے والی مشین Gas Centrifuge (مرکز گریزہ قوت، کسی گھومنے یا چکر کھانے والے نظام میں مرکز سے دور ہٹانے والی قوت) پر تحقیق کا کام رشوع کیا۔یہ مشین مدھانی کے اصول پر کام کرتی ہے اور جیسے مدھانی دودھ میں مکھن نکالتی ہے۔ Gas Centrifugeتابکار موادکو انتہائی تیزی سے گول سلنڈر کے اندر گھما کر کارآمد اور غیر کارآمد ایٹموں کو الگ کرتی ہے۔ مشین جتنا تیز گھومے گی اتنا اچھا کام کریگی۔ ایک پاکستانی سائنسدان جی اے عالم نے اپنے طور پر 1975ءمیں Gas Centrifuge بنا کر تیس ہزار چکر فی منٹ پر گھمائی جی اے عالم نے پہلے کبھی یہ مشین نہ دیکھی تھی صرف اپنے عالم کے باعث اتنی پیچیدہ مشین بنا کر کامیابی سے چلا دی۔ اس حوالہ سے سال پہلے 1974ءمیں خلیل قریشی نامی پاکستانی ریاضی دان نے Gas Centrifuge کے مکمل ریاضی کلیہ کا حساب لگا کر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کر رہا تھا۔1975ءمیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی شمولیت اختیار کی اس سال انہوں نے جی اے عالم سے ملاقات کی ان کی بنائی ہوئی Gas Centrifuge دیکھی۔ پاکستان آنے سے پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر نے ہالینڈ کی کمپنی Urenco میں کام کیا تھا۔URENCO کمپنی آج بھی موجود ہے اور دنیا بھر کے ایٹمی بجلی گھروں کو اپنے Gas Centrifuge پر مزید تحقیق کرکے کارکردگی مزید بہتر کی تھی اور یہی تجربہ ہے کہ پاکستان آئے جی اے عالم کا ڈیزائن کام کو کرتا تھا مگر فی منٹ تیس ہزار چکرکم تھے اور اس رفتار سے ایٹمی ایندھن بنانے میں بہت طویل عرصہ لگتا تھا۔ ساتھ ہی ریاضی دان خلیل قریشی کی کیلکولیشنز رہنمائی کیلئے موجود تھی اور اسے دیکھتے ہوئے حساب لگایا گیا۔ Gas Centrifugeکو کم از کم ساٹھ ہزار RPM پر گھمانا ہوگا۔ تجربات کیے گئے اور جب بھی Gas Centrifuge مشین کے اندرونی پنکھوں کو زیادہ تیز گھمایا جاتا۔ مشین ٹوٹ پھوٹ جاتی جیسے کچی روٹی کو تیز گھمایا جائے تو پہلے اس کی گولائی بڑھتی ہے اور پھر ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جاتی ہے۔ پاکستانی Gas Centrifuge کے اندرونی پنکھوں کا یہی حال تھا۔ پاکستان کے تمام بڑے سائنسدان مسئلہ حل کرنے کیلئے سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور سب اس بات پر متفق ہوئے کہ المونیم دھات کا جو مرکب Alloy پنکھے بنانے میں استعمال ہو رہا ہے وہ کمزور ہے اس لیے نیا مرکب بنانا ہوگا، کئی مہینوں کی جدوجہد کے بعد ایک نیا المونیم مرکب بنایا گیا جو حساب کے مطابق پنکھے کی شکل میں ڈھال کر ایک منٹ میں ساٹھ ہزار بار گول گھمایا جائے تو نہیں ٹوٹے گا۔ نئی Gas Centrifuge بنائی گئی جس کے اندر کے پنکھے اس نئے المونیم مرکب سے بنائے گئے اور جب تجرباتی طور پر مشین چلائی گئی تو کچھ دنوں تک تو کچھ نہ ہوا مگر کچھ دن مسلسل چلنے کے بعد یہ مشین بھی پہلے والے ڈیزائن کی طرح زور برداشت نہ کرپائی اور ٹوٹ پھوٹ گئی، سب سائنسدان حیران رہ گئے کیونکہ حساب کے مطابق ایسا ہونا ناممکن تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر جو خود دھاتوں کے ماہر تھے وہ بھی حیران رہ گئے کہ اتنے مضبوط دھات کیسے ٹوٹ گئی اور سائنسدانوں کا ہنگامی اجلاس بلا لیا۔ مسئلہ وقت کا تھا بھارت 1974ءمیں ایٹمی دھماکے کر چکا تھا اور اس کے سال بعد کوشش کے باوجود ہماری ایٹمی ایندھن بنانے والی Gas Centrifuge کو مسائل درپیش تھے، مسئلہ جل حل کرنے والا تھا، اجلاس میں پاکستانی ریاضی دان، دھاتوں کے ماہر اور ایٹممی سائنسدان سب شریک تھے اور سب مشین کے نقشے، کیلکولیشن، دھاتی مرکب اور ہر چند کا جائزہ لیا مگر مسئلہ حل نہ ہوا، اجلاس میں موجود چند افراد نے ایک عجیب بات کہہ ڈالی پہلے مثال دی کہ جس طرح لاعلاج مریض کو جب ڈاکٹر کی دوائی سے آرام نہیں آتا تو وہ حکیم، نجومی، عامل یا کسی اور کے پاس جانے سے بھی گریز نہیں کرتا، اسی طرح ہمیں گوجرانوالہ کے ایک لوہار کا پتہ ہے جو جدی پشتی لوہار ہے اور دھات کے ہر کام میں ماہر ہے، کچھ تذبذب کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ رازداری رکھتے ہوئے ڈاکٹر قدیر اور چند دوسرے سائنسدان خود لوہار کے پاس جائیں گے اگلے دن ڈاکٹر عبدالقدیر چند ساتھیوں کے ہمراہ لوہار کے پاس پہنچ گئے۔ ورکشاپ میں پہنچ کر بوڑھے لوہار جو کام کر رہا تھا اس کے کام ختم کرنے کا انتظار کیا گیا۔ جب لوہار فارغ ہوا تو اس نے پہلا سوال کیا۔ صاحب کیا درانتیاں بنوانے آئے ہو، فصلوں کی کٹائی کی وجہ سے آج کل ہم درانتیاں خوب فروخت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر نے اپنا تعارف کرایا مگر اسے کچھ سمجھ نہ آیا اور نہ ہی اسے ایٹمی پروگرام کا پتہ چلا۔ صاحب اصل مسئلہ بتاﺅ میں مجھے صرف یہ سمجھ آئی ہے کہ آپ نے کوئی مشین بنوانی ہے۔ لوہار نے معصومیت سے کہا ڈاکٹر قدیر نے اسے آسان الفاظ میں سمجھایا کہ ہم ایک پنکھا بنانا چاہتے ہیں جو ہلکا ہو اور تیز گھومے۔ لوہار نے پوچھا جیسا کچھ گاڑیوں کے انجن میں لگا ہوتا ہے وہ میں نے ایک گاہک کیلئے بنائے تھے، دھات بھی خود بنائی تھی اور میرا پنکھا آج بھی چلتا ہے۔ڈاکٹر قدیر سمجھ گئے Turbo Charger کی بات کررہاہے جس میں پنکھا لگتا ہے جو منٹ میں ایک لاکھ بار گھومتا ہے مگر چند منٹوں کیلئے Gas Centrifuge کے پنکھے اسی رفتار سے کئی مہینے مسلسل گھومتے ہیں۔ لوہار نے مزید تفصیل پوچھی جو اسے بتائی گئی لوہار تھوڑا سوچ کر بولا کہ مجھے اپنی بھٹی پر لے چلو جہاں آپ پنکھا بناتے ہو، مسئلہ میں وہاں سمجھوں گا اور امید ہے حل بھی بتادوں گا۔ لوہار کو اس دن اٹامک انرجی کمیشن لایا گیا۔ لوہار نے کہا پہلے بنائے گئے پنکھے دکھائے جائیں۔ ایک نمونہ اسے دیا گیا۔ لوہار نے نمونے کو غور دیکھا پھر ہتھوڑی سے ہلکا سا ٹھوکا اور آواز سنی اور ہلکا سا مسکرایا۔ بولا صاحب مسئلہ سمجھ آ گیا ہے اب آپ میرے سامنے ایک پنکھے کی اسی طرح سانچے میں ڈھلائی کریں جسے آپ کرتے ہیں، شام کا وقت ہو چکا تھا اور عملہ کو اپنے اپنے گھرجانا تھا۔ مگر اس دلچسپ صورتحال کو دیکھنے کیلئے عملہ رک گیا، دھاتی مرکب کو بھٹی میں ڈال کر پگھلایا گیا اور لوہار کے سامنے سانچے میں ڈالا گیا، لوہار کھڑا دیکھتا رہا پھر بولا صاحب مسئلہ یہی ہے کہ آپ سانچے میں دھات بہت آہستہ آہستہ ڈال رہے ہیں۔ سانچے میں پہلے جانے والی دھات ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور پیچھے آنے والی نسبتاً گرم دھات اس کے ساتھ جڑ نہیں پا رہی ہے اور آپ کا پنکھا اسی لئے کمزور بن رہا ہے۔ سانچے میں ڈھلائی تیز کرو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پنکھے کی آواز سن کر ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے اندر ڈھانچہ درست نہیں۔ ڈاکٹر قدیر اور وہاں موجود تمام انجینئر لوہار کی مہارت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اگلے دن Flow rate کا دوبارہ سے حساب لگایا گیا اور جیسا لوہارنے کہا تھا اس کیلکولیشن میں غلطیاں پائی گئیں اور پھر تیز ڈھلائی سے بنے پنکھے جب چلائے گئے تو پہلے ساٹھ ہزار چکر فی منٹ پر کئی دن گھمائے گئے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوئے، پنکھے کی مضبوطی دیکھ کر پھر انہیں 80 ہزار چکر فی منٹ پر چلایا گیا جو بغیر نقصان چلتے رہے اور یوں پاکستان کی پہلی Gas Centrifuge کا حتمی نقشہ بنا کر بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہوئی۔ اس مشین کا سرکاری نام P-1 تھا مگر انجینئرز نے لوہار کی یاد میں اس مشین کو بابے کی مشین کہا، اور بعد میں اس میں مزید بہتری لا کر رفتار اور بڑھائی گئی اور آج کی P-4 دو لاکھ چکر فی منٹ پہ گھومتی ہے۔

خالص سونے ،چاندی سے بنے غلاف کعبہ کی آ ج تبدیلی ،لاگت 2کروڑ ریال

مکہ مکرمہ (این این آئی) بیت اللہ کا غلاف آج (جمعرات) تبدیل کیا جائے گا ۔ ا س سلسلے میںکام نماز فجر کے بعد شروع ہو گا جو تقریبا چار گھنٹے جاری رہے گا – پہلے نئے غلاف کو پرانے غلاف کے اوپر لٹکایا جائے گا پھر پرانے غلاف کی رسیاں ڈھیلی کر کے اسے نئے غلاف کے نیچے سے اتار لیا جائے گا -نیا غلاف دو کروڑ ریال کی لاگت سے670کلوگرام خالص ریشم سے تیار کیا گیا ہے- غلاف کی تیاری میں 150کلو گرام خالص سونا اور چاندی بھی استعمال کی گئی ہے اور اس پر بیت اللہ کی حرمت اور حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ کی گئی ہےں-اس کا سائز658مربع میٹر ہے اور یہ 47حصوں پر مشتمل ہوتا ہے -ہر حصہ14میٹر طویل اور 95سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے- زمین سے تین میٹر کی بلندی پر نصب کعبہ کے دروازے کی لمبائی چھ میٹر او رچوڑائی تین میٹر ہے -غلاف کعبہ چار دیواروں کے علاوہ دروازے پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے-اتارے جانے والے غلاف کے ٹکرے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے سربراہان مملکت اور دیگر معززین کو بطور تحفہ پیش کر دئیے جاتے ہیں- یہ غلاف ہر سال 9 ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ کعبہ کو غسل ہر سال دو مرتبہ شعبان اور ذوالحجہ کے مہینوں میں دیا جاتا ہے -مکہ مکرمہ کے قریب غلاف کعبہ تیار کرنے کی فیکٹری 79سال قبل قائم کی گئی تھی جہاں 200سے زائد ہنر مندمسلسل آٹھ ماہ کی محنت سے اسے تیار کرتے ہیں۔

ن لیگی کارکنوں کی ہنگامہ آرائی ،نواز شریف نے کیا کیا،دیکھئے خبر

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) سابق وزیراعظم نواز شریف اہلیہ کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے نااہلی کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر لندن پہنچ گئے، طیارے میں سوار ہونے سے قبل وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے ان کو رخصت کیا۔بدھ کوسابق وزیراعظم نواز شریف نااہلی کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر لندن روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ اپنی علیل اہلیہ کلثوم نواز کی تیمارداری کریں گے ۔لندن آمد پر کارکنوں کی ہنگامہ آرائی کے باعث نواز شریف کارکنوں سے خطاب نہ کرسکے۔قبل ازیں لندن روانگی کے لیے طیارے میں سوار ہونے سے قبل وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے نوازشریف کو رخصت کیا۔واضح رہے کہ نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر پرویز رشید نے گذشتہ روز سابق وزیراعظم کے دورہ لندن کی تصدیق کرتے ہوئے نواز شریف کے جلد وطن واپس نہ لوٹنے کی خبروں کی تردید کی تھی۔پرویز رشید کا کہنا تھا کہ نواز شریف اس وطن سے دور رہنے کا انتخاب کیوں کریں گے جہاں لوگ ان سے بےپناہ محبت کرتے ہیں؟ موجودہ حالات 2007 سے مختلف ہیں جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف حکمران تھے، اس وقت بھی نواز شریف وطن واپس آنا چاہتے تھے لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔سینیٹر پرویز رشید کے مطابق نواز شریف لندن میں کم از کم 10 دن قیام کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاہم بیگم کلثوم کی رپورٹس پر منحصر ہے، شاید وہ اپنا قیام چند مزید دن بڑھادیں۔ واضح رہے کہ نواز شریف کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین اور بیٹی عاصمہ لندن میں بیمار والدہ کے ساتھ موجود ہیں جبکہ مریم نواز این اے 120 میں بلاتعطل مہم جاری رکھنے کے لیے اپنا لندن کا دورہ منسوخ کرچکی ہیں۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(نواز) کی حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ نواز شریف نیب مقدمات کے سامنے کے لیے پاکستان واپس لوٹ آئیں گے۔پی ٹی آئی ترجمان فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ نواز شریف وطن واپس نہ آئیں اور نیب میں اپنے خلاف دائر ہونے والے کرپشن ریفرنسز کا سامنا نہ کریں جن میں وہ سزا سے نہیں بچ سکتے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیب تحقیقات کا حصہ بنے بغیر نواز شریف کو وطن سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف کے ساتھ خصوصی برتا ﺅکیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ شریف خاندان واضح کرچکا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے پر دائر کی جانے والی نظرثانی پٹیشنز کا فیصلہ ہونے کے بعد وہ نیب تحقیقات میں شامل ہوں گے۔ادھر نیب یہ اعلان کرچکا ہے کہ شریف خاندان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف عید الاضحی کے بعد چار ریفرنسز دائر کیے جائیں گے۔

خورشید شاہ کا امریکی الزامات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پر امریکی الزامات پرپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ آج کے سیشن کا آغاز وزیر خارجہ کی تقریر سے ہونا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا، ہم جان بوجھ کر الزام نہیں لگا رہے لیکن سچائی کو چھپانا نہیں چاہیئے کہ بھارت میں پاکستان کا سفیر امریکا میں سفیر کو خط لکھتا ہے۔ کیا یہ خط واشنگٹن اور نئی دلی والوں کو نہیں ملا ہوگا نواز شریف کی حکومت میں خارجہ پالیسی لاوارث تھی، یہ گورننس کی ناکامی ہے، نوازشریف نے بطور وزیر خارجہ 4 سال میں کیا کیا، انہوں نے 4 سال میں چھوٹی چھوٹی باتوں پربھی توجہ نہیں دی، مسلم لیگ (ن) میں بہت قابل لوگ موجود ہیں لیکن انہیں ایک وزیرخارجہ ہی نہیں ملا۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کو بریفنگ دی، عسکری قیادت نے 8 گھنٹے طویل بریفنگ دی، نواز شریف اگر عابد شیر علی کو بھی وزیر خارجہ بنالیتے تو ہم اسے بھی سن لیتے۔خورشید شاہ نے کہا کہ ہم اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اسٹریٹیجک افادیت کھو چکے ہیں، ہمارے اپنے ہمسایوں سے بھی تعلقات ٹھیک نہیں۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے وطن پر کوئی آنچ نہ آئے لیکن ہمیں جذبات کے بجائے ٹھنڈے ذہن کے ساتھ معاملات کو دیکھنا چاہئے۔ 1971 میں ہم نے ہتھیاروں کی جنگ ہاری ،5 ہزارمربع میل زمین چلی گئی، سفارتکاری کے ذریعے یہ جنگ جیتنی چاہیے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم امریکی الزامات بھی تسلیم کریں گے مگروہ ثبوت تودے۔ امریکا صرف الزام لگاتا ہے لیکن ثبوت کوئی نہیں دیتا، ہمیں ایسے الزامات کے خلاف اب ڈٹ جانا چاہیئے۔ یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا وقت نہیں ہے۔ عید الاضحیٰ کے بعد مشترکہ اجلاس بلایا جائے، ہمیں ایک مضبوط قرارداد لانی چاہیئے۔خورشید شاہ نے کہا کہ امریکی ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ افغانستان جاتے ہیں اورکارروائی کر کے واپس آجاتے ہیں لیکن انہیں ڈرون کے ذریعے گھرمیں بیٹھا ایک دہشتگرد بھی نظرجاتا ہے، ہم کیوں کسی دہشتگرد کو پناہ دیں گے، ہم پر الزام نہ لگائیں بلکہ ہمیں ثبوت دیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آج کوئی نہیں ہے جو آپ کی مدد کو آئے، چین آپ کا دوست ہے لیکن وہ دور ہے، یہ فکر کرنے کی اورسوچنے کی بات ہے.