Tag Archives: trump

پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔امریکی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف کے بجائے تنقید کی بوچھاڑ کر دی۔القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے والے نیوی کے ریٹائرڈ ایڈمرل ولیم میک ریون سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہیلری کلنٹن اور اوباما کے حمایتی تھے۔امریکی صدر نے کہا کیا یہ اچھا نہیں ہوتا کہ اگر ہم اسامہ بن لادن کو اس سے بہت پہلے پکڑ لیتے۔پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ دیتے تھے۔ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ہم پاکستان کو سپورٹ کر رہے تھے اور اسامہ بن لادن وہاں ملٹری اکیڈمی کے قریب آرام سے رہائش پریز تھا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر کوئی اسامہ بن لادن کے بارے میں جانتا تھا لیکن انہوں نے ہمیں اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے یہ امداد بند کی کیونکہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ امریکی نیوی سیلز کے اہلکاروں نے 2 مئی 2011 کو پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں ایک کمپاؤنڈ پر آپریشن کر کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی دفاعی بجٹ کی منظوری دے دی

 واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے مالی سال کے لیے 716 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے مالی سال کے لیے 7 سو 16 ارب ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ہیں۔ امریکی صدر نے اس بجٹ کو جدید امریکی تاریخ کی اہم ترین سرمایہ کاری قرار دی ہے۔ امریکی سینیٹ نے رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں دفاعی بجٹ کی منظوری دی تھی۔امریکی دفاعی بجٹ محض دفاعی ضروریات کو پورا نہیں کرتا بلکہ خطے کی اہم دفاعی پالیسیوں کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ رواں برس روایتی دفاعی بجٹ میں کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے دفاعی بجٹ کو ’نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ کے نام سے بل کی صورت میں سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل 10 کے مقابلے میں 87 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا تھا۔اس بار دفاعی بجٹ میں امریکا نے پاکستان کے لیے فوجی امداد کی مد میں مختص رقم 75 کروڑ ڈالر میں کمی کرتے ہوئے 15 کروڑ ڈالر کر دی ہے جب کہ دفاعی پالیسیوں میں امریکا کا بھارت کی جانب جھکاؤ واضع نظر آ رہا ہے۔دفاعی بجٹ میں امریکی فوج کے پرانے ٹینکوں، جنگی طیاروں اور پرانے بحری جہازوں کی جگہ زیادہ جدید ماڈلز کی تیاری کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں 2.6 فیصد اضافے کے علاوہ فوجی دستوں میں اضافے کے لیے 15 ہزار 6 سو نئے فوجیوں کو شامل کیا جائے گا۔

بیت المقدس کے معاملہ پر عبرتناک شکست کے بعد ٹرمپ نے توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کر لیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکی رہنماو¿ں کو بے وقوف سمجھتا ہے اور امریکا نے بھی پاکستان کی مدد کرکے بے وقوفی کی۔سماجی رابطے کی ویب ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے گزشتہ 15 سال میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد دے کر بہت بڑی بے وقوفی کی، امداد وصول کرنے کے باوجود بھی پاکستان نے امریکا کے ساتھ جھوٹ بولا۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان امریکی رہنماو¿ں کو بے وقوف سمجھتا ہے اور ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جنہیں ہم افغانستان میں تلاش کررہے ہیں۔

لاہور :چوبرجی میں ڈرون حملے کا خطرہ ۔۔۔امریکہ کا خفیہ پلان

واشنگٹن(خصوصی رپورٹ)امریکہ کی جانب سے ملی مسلم لیگ کو کالعدم قرار دیے جانے کا امکان ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ ملی مسلم لیگ اور پاکستان کی دیگر جماعتوں کو دہشت گردی پھیلانے والی تنظیموں کی فہرست میں شمار کرسکتا ہے۔قبل ازیں بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارت کے پاکستان کی مزید دہشت گرد گروہوں کو عالمی دہشت گردوں کا درجہ دینے کی پیشکش کی منظوری دے دی گئی۔بھارت کی جانب سے یہ پیشکش نئی دہلی میں 18 اور 19 دسمبر کو ہونے والی پہلی بھارت-امریکہ کانفرنس برائے دہشت گردی اور ماسٹر مائنڈز میں کی گئی تھی۔امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے مزید گروہوں کو کالعدم تنظیم کا درجہ دے سکتا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی ترجیحات کے لیے پاکستان امریکہ کا اہم شراکت دار ہے، تاہم اس انتظامیہ نے پاکستان سے اپنی امیدیں واضح کردیں ہیں کہ پاکستان اپنی حدود سے چلنے والی دہشت گردوں اور مسلح تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد چوبرجی جامعہ القادسیہ پشاور روڈ پر جامعہ حقانیہ پر ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کہیں جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف بھی اسامہ بن لادن جیسی کارروائی نہ ہوجائے امریکی دھمکی کو سنجیدہ لینا چاہئے۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ امریکہ کی طرف سے حافظ سعید کے خلاف یکطرفہ کارروائی کے بیان پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ محض اطلاعات کی بنا پر کیسے کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ امریکی صدر اور دیگر حکام نے واضح دھمکی دی ہے جسے پاکستان کو سنجیدہ لینا چاہیےدنیا میںتین انتہا پسندوں کا اتحاد بن چکا ہے ٹرمپ نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس اتحاد میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ نہیں ہو گی ،جنگ صرف سفارتی محاذ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کوئی بیان جاری کرے تو اس کے ساتھ اردو اور انگلش میں ایک فیکٹ شیٹ بھی جاری کرے جس میں تمام تفصیل موجود ہو۔ کمیٹی کے رکن سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اسامہ بن لادن کی طرح حافظ سعید کے خلاف امریکہ کی جانب سے یکطرفہ کارروائی کے بیانات کا معاملہ اٹھایا۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پہلی دفعہ یکطرفہ کارروائی کی بات کی ہے، امریکا نے حافظ سعید کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر لگا رکھی ہے جبکہ اسامہ بن لادن کے سر کی قیمت اڑھائی کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسامہ بن لادن کی طرح کا کوئی آپریشن ہو جائے، سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف کہتے ہیں کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر ٹھیک کام کرر ہے ہیں، تاہم اس سوال پر سیکرٹری خارجہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

 

امریکہ پاکستان کی امداد نہیں روک سکتا

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی ہے جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا درالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ جس کے بعد بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علامتی قرارداد کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ اگر امریکہ نے مخالفت کرنے والے ممالک کی امداد روک لی تو اس کے سنجیدہ نقصانات ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مخالفت کرنے والے ممالک کی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ لیکن کیا وہ ایسا کر پائیں گے؟ اس بارے میں تاحال وائٹ ہاوس سے کوئی بیان تو جاری نہیں ہوا لیکن ماہرین کے بقول ایسا کرنا مشکل ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔ قانونی اعتبار سے امریکہ پر ہرگز لازم نہیں کہ وہ قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنائے لیکن اس سے اسرائیل کے خلاف ایک مرتبہ پر عالمی برادری یکجا ضرور نظر آئی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر مقتدر خان نے کہا کہ ’یہ ایک علامتی قرارداد ہے اس سے کچھ بدلنے والا نہیں ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پالیسی بدلنے والے نہیں۔‘ڈاکٹر مقتدر کا کہنا تھا کہ ’ایک طرح سے ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً ساری دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ یہ بات ظاہر کریں کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ناقابل قبول ہے۔ ایک مرتبہ پر اسرائیل دنیا سے کٹ کر رہ گیا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اسرائیل اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی ہار ہے مگر فلسطین کی جیت بھی نہیں، کیونکہ فلسطینیوں کو اس سے کچھ نہیں ملنے والے اور اگر آپ یروشلم کا نقشہ دیکھیں تو فلسطین پہلے ہی اپنی بہت ساری زمین یہودیوں کے ہاتھوں کھو چکا ہے۔‘خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ عالمی برادری نے بڑی سطح پر اقوام متحدہ میں امریکہ کی مخالفت کی ہے۔ اس سے پہلے بھی جب فلسطین کو ’نان سٹیٹ ممبر‘ کا رتبہ دینے پر رائے شماری ہوئی تھی تو بھی امریکہ کی مخالفت ہوئی اور وہاں بھی امریکہ کی ہار ہوئی تھی۔اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر امریکہ ہمیشہ تنہا رہا ہے۔ عراق کی جنگ کے معاملے میں بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کی محالفت میں قرارداد منظور کی تھی، مگر عراقی جنگ پر بھی ہوئی۔جبکہ اسرائیل کا ساتھ دینے کی ایک وجہ امریکی سیاستدانوں میں مضبوط سیاسی لابی ہونا ہے۔ سابق صدر اوباما بھی جاتے جاتے اسرائیل کو 38 بلین ڈالر کی امداد دے کر گئے تھے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واشنگٹن میں مقیم تجریہ کار کامران بخاری کہتے ہیں کہ اخلاقیات ایک طرف اور طاقت کا سرچشمہ ایک طرف، امریکہ دنیا کا طاقتور ملک ہے اور وہ اپنے ساتھی ممالک کے خلاف کبھی نہیں جائے گا۔کامران بخاری کا کہنا ہے کہ ’امریکی صدر کے لیے اپنی دھمکی پر عمل درآمد کرنا بظاہر مشکل ضرور ہو گا۔ کیونکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا صدر ٹرمپ کا فیصلہ امریکہ میں بھی تنقید کا نشانہ بنا ہے، انہیں خاصی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’کیا ایسے میں وہ اپنے خلاف جانے والے ملکوں کی امداد روکنے کے سلسلے میں حمایت اکھٹی کر پائیں گے؟ لیکن اگر صدر ٹرمپ امداد روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بہت سارے ملک خاصہ نقصان اٹھا سکتے ہیں خصوصاً وہ ممالک جو غریب ہیں۔‘واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے سب سے بڑی فوجی امداد لینے والے چھ ملک ہیں جن میں پاکستان، افغانستان اور عراق سمیت پانچ مسلم ممالک اور ایک اسرائیل ہے، تو کیا پاکستان کی مالی امداد ختم کی جا سکتی ہے ؟اس سلسلے میں ڈاکٹر مقتدر خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان یا دیگر ملکوں کو ملنے والی امریکی فوجی امداد اس لیے دی جاتی ہے کیونکہ وہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ تو وہ تو نہیں ختم کی جا سکتی لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ جو چھوٹے کم امداد لینے والے ایک دو ملک ہیں ان کو نشانہ بنایا جا سکتاہے محض علامتی طور پر۔‘ڈاکٹر مقتدر خان کا کہنا تھا کہ ’اہم چیز یہ ہے کہ امریکہ تقریباً آٹھ بلین ڈالر کی سالانہ امداد اقوام متحدہ کو دیتا ہے یعنی وہ اقوام متحدہ کو ملنے والی ایک چوتھائی سے زیادہ امداد۔ اگر امریکہ وہ امداد کم کرتا ہے تو اس سے اقوام متحدہ کے بہت سارے منصوبوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

پاکستان دہشتگردوں کیخلاف فیصلہ کن کاروائی کرے:ٹرمپ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے نئی نیشنل سکیورٹی پالیسی کا اعلان کر دیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سکیورٹی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی کیخلاف ہماری مدد کرنا ہو گی، پاکستان کو بتا دیا کہ دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہو گی، پاکستان کو کروڑوں ڈالر امداد سالانہ دینے ہیں۔ امریکہ میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن داخل ہوتے ہیں، ماضی کی غلطیوں کو مسترد کر دیا ہے، ہماری پالیسی امریکہ پہلے کی بنیاد پر ہے۔ ہم نے دہشتگردوں کے امریکہ میں داخلے کو مشکل بنا دیا ہے، ایران پر دہشتگردی کی حمایت پر پابندیاں لگائیں، داعش کو شکست دیدی ہے، عراق میں داعش کے قبضہ سے 100 فیصد علاقے واپس لے لئے، دنیا بھر میں داعش کا تعاقب کریں گے۔ اب امریکہ دوبارہ دنیا کی راہبری کرے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم کسی پر اپنا طرز زندگی تھوپنا نہیں چاہتے۔ ٹرمپ نے امریکہ کو درپیش شدید عالمی خطرات کی نشاندہی سے متعلق اپنی حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے، جس میں قومی ترجیحات کا ایک واضح خاکہ پیش کیا گیا ہے۔اپنے خطاب میں پیر کے روز ٹرمپ نے حکمتِ عملی کی حامل اس دستاویز کی رونمائی کی، ایسے میں جب کہ ا±ن کی انتظامیہ کو عہدہ سنبھالے تقریباً 11 ماہ گزرے ہیں۔ پرتشدد انتہا پسندی اور اسلامی قدامت پسندی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے، ا±نھوں نے کہا کہ سماجی میڈیا کے استعمال پر ”خصوصی نظر رکھی جائے گی“۔جنوبی ایشیا کا ذکر کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ ”پاکستان ا±ن دہشت گردوں کا قلع قمع کرے گا جو اس کے علاقے سے دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں“۔ بقول ا±ن کے، ”اپنی کوششیں بڑھا کر وہ ہماری مدد کر سکتے ہیں“۔’سب سے پہلے امریکہ‘ کے اپنے نعرے کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ خوش حالی کے حصول کے لیے قومی سلامتی کو داو¿ پہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ا±نھوں نے کہا کہ ”جو قوم معاشی سکیورٹی کے لیے قومی سکیورٹی کو قربان کرتی ہے، وہ بالآخر دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے“۔ ا±نھوں نے ملکی زیریں ڈھانچے کی از سرِ نو تعمیر کو ترجیح دینے کا اعلان کیا۔ انتظامیہ کے اعلیٰ اہل کاروں کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی کے ذریعے ملک کو ایک ”واضح اور قابل ِ مواخذہ لائحہ¿ عمل“ میسر آئے گا، جس سے انتہائی خطرناک اور تواتر کی بنیاد پر درپیش خدشات کا انسداد ممکن ہوگا۔ انتظامیہ کے سینئر حکام نے کہا ہے کہ ماضی کی حکمتِ عملیوں کے برعکس، اس دستاویز میں ملک کو درپیش خطرات اور چیلنجوں کا ”واضح احاطہ پیش کیا گیا ہے“۔ جس میں امریکی مفادات کی ترجیح طے کی گئی ہے، جو ”سب سے پہلے امریکہ“ کے صدر کی پالیسی کی غماز ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فوج کی قوت بڑھانے کی کوشش کرے گا، روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا سامنا ہے۔ افغانستان میں فوجی انخلا کی مصنوعی ڈیڈ لائن کے پابند نہیں ہیں۔ امیر ممالک کو اپنے تحفظ کی امریکہ کو قیمت ادا کرنا ہو گی۔

 

ٹرمپ نے بڑا منصوبہ تیار کر لیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک )امریکی صدر ٹرمپ اپنے انوکھے بیانات کی وجہ سے دنیا میں خاص شہر رکھتے ہیں نے امریکی ادارے ناسا کو امریکی شہریوں کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے چاند پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنانے کے احکامات دیئے ہیں جبکہ انہوں نے کانگرس سے کہا ہے کہ وہ امریکی امیگریشن پالیسی میں خاندان کی بنیاد پر سلسلہ وار امیگریشن کے نظام کو ختم کردے -نیویارک مین ہٹن پائپ بم دھماکے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رد عمل میں کہا کہ مین ہٹن پائپ بم دھماکے کے بعد فوری ضرورت ہے کہ کانگریس امیگریشن قوانین کی خامیوں کو دور کرے۔پائپ بم دھماکہ امیگریشن قوانین میں جلد اصلاحات کی اہمیت ثابت کرتا ہے،کانگریس خاندان کی بنیاد پر سلسلہ وار امیگریشن کا نظام ختم کرے۔صدر ٹرمپ نے ناسا کو امریکی شہریوں کو چاند پر منتقل کرنے کے منصوبے پر کام کرنے کا حکم بھی دیا۔

ٹرمپ کا اہم اعلان ،پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کا احتجاج

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا نیا دارلحکومت تسلیم کرلیا ہے اور انہوں نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔واشنگٹن میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں موجود امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں ، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہورتوں کا دل ہے اور وہاں پر اسرائیلی پارلیمنٹ موجود ہے۔ یروشلم میں تمام مذاہب کے لوگ بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔اس وقت دنیا کو نفرت کی نہیں بردباری کی ضرورت ہے ، تمام مذہب اقوام کو باہمی احترام کی بنیاد پر ا?گے بڑھنا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کچھ امریکی صدور نےکہا کہ ان میں سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنےکی ہمت نہیں لیکن مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے۔مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اورمیں یقین دلاتا ہوں کہ علاقے میں امن وسلامتی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی۔دوسری جانب پاکستان،سعودی عرب، فلسطین، اردن، مراکش،ترکی، مصر اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خارجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی تھی جبکہ واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے بیت المقدس کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے اسے عبور نہ کرنے کا پیغام دیا تھا جبکہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امن کیلئے مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ وزیر اعظم ہاﺅس کی جانب سے جاری بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے اس طرح کے اقدام سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہو گی۔ بیت المقدس کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی منتقلی کا فیصلہ مقدس شہر القدس الشریف کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کر دے گا۔ امریکہ کے اعلی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکطرفہ طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کی جبکہ سعودی عرب کے بادشاہ سمیت دیگر ہنماﺅں نے انھیں متنبہ کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی صدر نے گزشتہ دنوں متعدد علاقائی رہنماﺅں کو فون کر کے بتایا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سعودی عرب کے شاہ سلمان نے امریکی رہنما کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے۔سعودی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے کہا ایسے فیصلے کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن، سلامتی اور استحکام کیلئے سنگین ہو سکتے ہیں۔اردن کے شاہ عبد اللہ نے کہا یہ فیصلہ امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں کو کمزور کرے گا اور مسلمانوں کو اشتعال دلائے گا۔مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ علاقے کی صورتِ حال کو پیچیدہ نہ کریں۔فرانسیسی صدر امینوئیل میکروں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ انھیں فکر ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت پر کوئی بھی فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بنیادی ڈھانچے میں ہونا چاہیے۔عرب اتحاد کے سربراہ احمد ابول غیث نے متنبہ کیا ‘یہ ایک خطرناک قدم ہے جس کے بالواسطہ اثرات ہوں گے۔سعودی عرب نے کہا ‘اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع میں تاخیری تصفیہ سے پہلے ایسا قدم امن کے قیام کے عمل کو بری طرح متاثر کرے گا۔ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں ا مریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کے مجوزہ منصوبے کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامناہے ،عالمی برادری کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام خطرناک اور خطے میں کشیدگی کوہوادینے کاباعث بن سکتاہے ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ میں کہاکہ ہمیں کشیدگی میں ممکنہ اضافے سے متعلق خدشات لاحق ہیں ،تمام متعلقہ فریقین کوعلاقائی امن اورسلامتی کوذہن میں رکھناچاہئے ،الفاظ اوراقدامات کی صورت میں احتیاط سے کام لیناچاہئے اورفلسطین کے معاملے کے حل کیلئے رکھی جانے والی بنیادپراثراندازہونے سے بچناچاہئے اورخطے میں نیامحاذکھولنے سے گریزکرناچاہئے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے منصوبے پر اسے تشویش لاحق ہے ، وزیرخارجہ بورس جونسن نے بدھ کے روز برسلزمیں نیٹواجلاس میں شرکت کیلئے آمدکے موقع پرکہاکہ ہم ان اطلاعات جوہم نے سنی ہیں کوتشویش کے طورپردیکھتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بیت المقدس کوباالآخراسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حتمی حل کاحصہ ہوناچاہئے ۔برطانیہ کی جانب سے انتباہ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے پریورپی یونین کی چیف سفارتکارفیڈریکارموغرینی کی جانب سے سخت تنقیدکے بعدسامنے آیاہے ،جنہوںنے کسی بھی ایسے اقدام سے متعلق خبردارکیاتھاجوکہ کسی بھی ممکنہ امن عمل کونقصان پہنچاسکتاہو۔ جونسن کاکہناتھاکہ برطانیہ کااپناسفارتخانہ منتقل کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں ہے۔ترک حکومت نے بھی کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے متوقع طورپر مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اقدام سے مشرق وسطیٰ میں چنگاری بھرکنے کے خطرات پیداہوسکتے ہیں اوریہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا، ترک نائب وزیراعظم اورحکومتی ترجمان باکربوزداگ نے ٹوئیٹرپرلکھاکہ تسلیم کرنے سے خطہ اوردنیاآگ کی لپیٹ میں آجائے گی اورکوئی نہیں جانتاکہ یہ کب بجھے گی۔ان کاکہناتھاکہ یہ اقدام ایک بڑاتباہ کن ہوگا،جس سے تباہی ،بدامنی اورفسادات پھوٹیں گے۔ شامی حکومت نے بھی بدھ کے روزامریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ حماس کے سربراہ اسرائیل ہانیہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے اور شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اقدام خطرناک ہے جو ہر ایک ریڈ لائن کو پار کر گیا۔

 

ٹرمپ کا ایف بی آئی پر ہیلری کے کیسز کی تفتیش جانبدار ایجنٹ سے کرانیکا الزام

واشنگٹن(این این آئی ) امریکی صدر اپنے ہی خفیہ ادارے پر برس پڑے، سابق ڈائریکٹر جیمز کومے پر ہیلری کے کیسز کی تحقیقات جانبدار ایجنٹ سے کرانے کا الزام، مائیکل فیلن کو عہدے سے ہٹانے کی وجہ بھی بتا دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی خفیہ ادارے ایف بی آئی کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیئے۔ ٹویٹر پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ جیمز کومے کے دور میں ایف بی آئی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، ہیلری کے کیسز کی تحقیقات ایک جانبدار ایجنٹ سے کروائی گئی۔مائیکل فیلن سے متعلق بیان پر بھی امریکی صدر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مائیکل فیلن نے روسی حکام سے ملاقات سے متعلق ایف بی آئی کے سامنے جھوٹ بولنے کا اقرار کیا تھا جس کے بعد ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ انہوں نے اسی بات پر مائیکل فیلن کو عہدے سے ہٹایا تھا۔

 

ڈومور نہیں ،پاکستان کے تحفظات دور کرینگے

اسلام آباد، راولپنڈی ( وقائع نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی وزیر دفاع سے ملاقات میں بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں افغانستان سمیت خطے کی سیکیورٹی صورت حال اور دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں آرمی چیف نے پاک امریکا تعلقات کی طویل تاریخ بالخصوص خطے میں امن کے لیے موجودہ مثبت کوششوں کو سراہا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے اپنی استطاعت اور وسائل سے زیادہ کام کیا اور ہم بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پ±رعزم ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے افغان مہاجرین کی باعزت طریقے سے جلد واپسی اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کا بھی اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق جیمز میٹس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے موثر کاررائیوں کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جیمز میٹس نے کہا کہ امریکا پاکستان کے حقیقی تحفظات کے تدارک کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد پاکستان سے کوئی مطالبہ کرنا نہیں ہے لیکن ہم مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاکستانی موقف کو سمجھنے پر امریکی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکا سے سوائے معاملات کو سمجھنے کے کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔پاک فوج کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہم نے اپنی سرزمین سے شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا اور جو تخریب کار افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کے جذبہ مہمان نوازی کا غلط فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ہم ان سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف اور امریکی وزیر دفاع نےباہمی خدشات کو دور کرنے کے لیے مخصوص شعبوں میں مستقل تعاون پر اتفاق کیا۔دوسری جانب امریکی سفارت خانے کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جیمز میٹس نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوسراہا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا مل کر افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اعلامیے کے مطابق جیمز میٹس نے پاکستانی حکام سے کہا کہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کے خاتمے کی کوششیں دگنی کی جائیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے پیر کو یہاں وزیراعظم ہاﺅس میں ملاقات کی، امریکی وزیر دفاع کی حیثیت سے جنرل جیمز میٹس کا یہ پہلا دورہ پاکستان ہے، امریکی وزارت دفاع کے سینئر حکام اور پاکستان میں امریکی سفیر بھی ملاقات میں موجود تھے جبکہ وزیراعظم کی معاونت دفاع، خارجہ امور اور داخلہ کے وزراءاور متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے کی۔ امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد پاکستان کے ساتھ دیرپا، مثبت اور مستقل تعلقات کےلئے مشترکہ بنیادیں تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کے تناظر میں وہ پاکستان کی جانب سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور جانوں کے ضیاع کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کی ذاتی طور پر قدر کرتے اور اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جنرل میٹس نے خطے سے دہشتگردی کے خاتمے کے مشترکہ مقصد کےلئے جاری اور قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکہ کے ساتھ دیرپا تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین تعاون کو بڑھانے اور اشتراک کار کو مستحکم بنانے کے لئے وسیع البنیاد مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کا ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر دفاع سے اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار استحکام کےلئے افغانستان میں امن اور سلامتی کا مقصد حاصل کرنے میں پاکستان اور امریکہ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ہے۔ انہوں نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے امریکی عزم کو بھی سراہا۔ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کےلئے انسداد دہشتگردی کی حالیہ کارروائیوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار سال کے دوران حاصل کی گئی اپنی کامیابیوں کو مزید بڑھانے کےلئے ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کو جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں اور پوری قوم دہشتگردی کو کسی بھی صورت میں حتمی طور پر ختم کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے پیر کو یہاں ملاقات کی۔ وزیر دفاع خرم دستگیر خان، وزیرخارجہ خواجہ آصف، وزیر داخلہ احسن اقبال، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ ناصر جنجوعہ ، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر سینئر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ پاکستان میں امریکا کے سفیر ڈیوڈ ہیل بھی اس موقع پر موجود تھے۔