Tag Archives: zia-shahid

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر مملک برائے داخلہ امور شہر یار آفریدی اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی موجود ہیں۔اجلاس میں ملکی اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال سمیت چین، روس اور امریکا کے ساتھ تعلقات کی صورتحال بھی زیر غور ہے، اس کے علاوہ اجلاس میں احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بلوچستان میں فورسز کی گاڑی کو حادثہ ، 4 اہلکار شہید

خضدار(ویب ڈیسک) ضلع واشک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقے واشک میں فورسز کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ 6 افراد زخمی بھی ہوئے۔سیکورٹی اہلکاروں نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں اور لاشوں کو سی ایم ایچ خضدار منتقل کردیا۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایف سی کا دو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جارہا تھا کہ ایک گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر الٹ گئی۔

اٹک: سرکاری بس کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی

اٹک (ویب ڈیسک) اٹک کے علاقے بسال روڈ پر ڈھوک گاما میں ایک بس کے قریب دھماکے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق اٹک کے علاقے بسال روڈ پر ڈھوک گاما کے قریب دو موٹر سائیکل سواروں نے سرکاری بس کو نشانہ بنایا اور دھماکا کر کے فرار ہو گئے۔ دہشتگردی کے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی بس میں سویلین ملازمین سوار تھے۔ اٹک دھماکے میں ایک شہید اور 13 افراد زخمی ہوئے۔ موٹر سائیکل سواروں نے تعاقب کرنے کے بعد بس کو نشانہ بنایا۔امدادی ٹیموں نے ایمبیولینسوں کے ذریعے دھماکے میں زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کیا جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں ایک شخص جاں بحق ہو چکا ہے جبکہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

کامن ویلتھ گیمز, ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کیلیے پہلا میڈل جیت لیا

آسٹریلیا(ویب ڈیسک ) کامن ویلتھ گیمز میں ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کے لیے پہلا میڈل جیت لیا۔گولڈ کوسٹ میں جاری 21 ویں دولت مشترکہ گیمز میں طلحہ طالب نے ویٹ لفٹنگ کی 62 کے جی کیٹگری کے سنیچ ایونٹ میں حریف ویٹ لفٹرز سے 5 کلو زائد ریکارڈ 132 کلو وزن اٹھایا جب کہ کلین اینڈ جرک میں 151 کلوگرام سمیت مجموعی طور پر 283 کلوگرام وزن اٹھاتے ہوئے برانز میڈل کے حقدار قرار پائے۔ واضح رہے کہ یہ کامن ویلتھ گیمز 2018 میں پاکستان کا پہلا میڈ ل ہے۔

سوشل میڈیا پر بھارت کا نیا وار ،پاکستانی نوجوانوں کو پھانسنے کیلئے خوبرو ہندو لڑکیوں کا جال ڈال دیا :ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اپنی صحافتی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ ایک نااہل وزیراعظم عدلیہ کے خلاف تحریک چلانے جا رہا ہے۔ زرداری دور میںوزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجا گیا۔ نہ تو انہوںنے اور نہ ہی ان کی پارٹی نے کوئی تحریک چلائی اور ”عدلیہ مخالف بیانات دیئے۔ ایک مرتبہ فاروق احمد خان لغاری جب صدر ہوتے تھے۔ نوازشریف صاحب وزیراعظم تھے۔ دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ جسٹس (ر) سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے ان کے پاس کچھ مقدمات لگے ہوئے تھے۔ جو کہ نوازشریف کے خلاف تھے۔ اس وقت لاہور سے کچھ لوگ اسلام آباد لے جائے گئے۔ ان لوگوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا اور جسٹس (ر) سجاد علی شاہ نے بھاگ کر دوسرے کمرے میں کنڈی چڑھا کر اپنی جان بچائی۔ جسٹس سجاد علی شاہ کے دو ساتھیوں نے کوئٹہ رجسٹری میں بیٹھ کر انہیں آﺅٹ کر دیا۔ لہٰذا انہیں گھر جانا پڑا۔ دو ایم این ایز طارق عزیز اور میاں منیر صاحب (جو اچھرے سے ایم این اے تھے) نے سپریم کورٹ پر اس حملے کی قیادت کی تھی۔ ان کے خلاف کیس چلا اور دونوں کو نااہل کر دیا گیا۔ لہٰذا ان کا سیاسی کیریئر بالکل ختم ہو گیا۔ موجودہ صورتحال میں ہمیں تحمل اور برداشت سے کام لینا چاہئے عدالتوں سے خلاف فیصلے آنے پر دوسری عدالتوں میں اپیلیں کرنی چاہئے۔ نظرثانی کی درخواست کرنی چاہئے۔ جب ملک کی اعلیٰ ترین کورٹس کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے وہاں نظام نہیں چل سکتے اب نوازشریف صاحب نے اپنی تحریک کو بدل کر ”عدل کی تحریک“ کا نام دے دیا ہے۔ انہوں نے بیان دیا ہے کہ عدلیہ کے خلاف نہیں چلیں گے۔ بلکہ ”تھنک ٹینکس“ بنائیں گے جو خراب قوانین کو درست کرے گا۔ ملک میں (ن) لیگ کی حکومت ہے۔ شاہد خاقان عباسی بھی نوازشریف ہی کے وزیراعظم ہیں میاں نوازشریف کے سعودی عرب چلے جانے کے بعد 8 سال تک چوہدری نثار علی خان نے لیڈر آف اپوزیشن کا کردار بڑی جرا¿ت اور ہمت سے نبھایا۔ وہ بھی بار بار کہتے رہے ہیں کہ عدلیہ کے خلاف تحریک نہ چلاﺅ۔ ظفر اللہ جمالی صاحب نے اس طرز عمل پر پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ لہٰذا (ن) لیگ کے اپنے اندر بھی ”ہاکس“ کی کمی نہیں ہے۔ لیکن قیادت یعنی نوازشریف صاحب ذہنی طور پر عدلیہ کے فیصلے کو قبول نہیں کر رہے وہ اب بھی پوچھتے ہیں ”کیوں نکالا“۔ مریم نواز نے 120 میں الیکشن مہم کے دوران اداروں پر بہت الزامات لگائے۔ اس طرح سعد رفیق بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ مسلم لیگ (ن) کا مزاج ہی ایسا ہے کہ قیادت کی مخالفت کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ بادشاہ کا جو حکم ملا اس کی تعمیل ضروری ہوتی ہے۔ دانیال عزیز اور طلال چودھری نے اسے ثابت بھی کر کے دکھایا۔ دانیال عزیز جو مشرف کے بھی وزیر تھے۔ نوازشریف کے آنے کے بعد ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ انہوں نے جی بھر کر اپنی بڑھاس نکالی، عمران خان کے متعلق تو انہوں نے اخبار نویس کو یہ کہہ دیا کہ وہ تیرا ”جوائی“ لگتا ہے۔ اس پر احتجاج ہوا طلال چوہدری اور دانیال عزیز پارٹی کے ”ہاکس‘’ ہیں۔ خواجہ آصف جب سے خارجہ کے وزیر بنے ہیں اب دھیمے ہو گئے ہیں۔ ایک اور بڑی تبدیلی آئی ہے۔ خواجہ سعد رفیق صاحب اٹھتے بیٹھتے بھٹو صاحب کی تعریف کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ دیگر ارکان بھی اب بینظیر شہید کی تعریف کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تاریخ نئے سرے سے لکھی جا رہی ہے۔ نیا انداز یہ ہے کہ بھٹو صاحب بالکل ٹھیک تھے۔ اور ضیاءالحق نے بالکل غلط کیا تھا۔ ضیاءالحق دور کے وزیراعلیٰ، وزیراعظم وزراءاب انہیں گالیاں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ صحافیوں کو خصوصی طور پر بتایا جاتا تھا کہ آپ اسلام، عدلیہ اور فوج کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتے۔ فوج سپاہی کاحب الوطنی اور اپنے سپہ سالار کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے سپہ سالار کا حکم فوراً پورا کرتے ہیں لہٰذا فوج کے خلاف تنقید کو خلاف آئین تصور کیا جاتا ہے۔ نواز شریف آٹھ سال سعودیہ رہے۔ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ اب بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب، جس نے بے شمار دفعہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ تیل کے ذریعے، تیل ادھار دینے کے سلسلے میں ہماری اکنامی کو بچایا ہے۔ وہ میاں شہباز شریف کے سلسلے میں ملک میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایک اور این آر او کروا دیا جائے جس کے ذریعے نوازشریف پر تمام مقدمات کو ختم کروا دیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کو اسی مقصد کے لئے آگے لایا گیا ہے تا کہ وہ فوج اور عدلیہ کو بھی خوش رکھے۔ اور اپنی فیملی کے خلاف دائر مقدمات کو رفتہ رفتہ ختم کروانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ کوشش ہے کہ شہباز شریف سعودیوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ طیارہ بھیج کر بلوانے کا مطلب یہ لگتا ہے کہ انہیں طلب کیا گیا ہے۔ نیم عریاں لڑکیوں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو پھانسنے کا ”را“ کی نئی کارروائی ہے۔ ایک صحافتی حملہ نہیں ہے بلکہ سیاسی وار ہے۔ اس سارے عمل کے پیچھے ایک سازش چھپی ہوئی ہے۔ جتنی لڑکیوں کے نام اس میں سامنے آئے ہیں وہ سب کی سب ”ہندو نام رکھتی ہیں۔ان میں درج ذیل نام شامل ہیں۔مثلاًپائل پٹیل، پنکی کماری، ریکھا سنگھ، اینجل چاندنی، پریا سنگھ پریہار، سمن سسرا، ریشماں پروین، پوجا سنگھ، کاویتا سنگھ، پوجا گاﺅتھ، نیتوکماری، نیشا کماری، پٹیل شیتل، سنیتا کماری، دیوسینی، کانیکاورشے، سیرارانی، سنگھیتا وگھانی، سونو سونانی، ریتو شرما وغیرہ۔ سوشل میڈیا پر ایسی لڑکیوں کی روزانہ کی بنیاد پر 30,20 تصاویر آ رہی ہیں۔ تصاویر کے نیچے ای میل ایڈریس اور بعض کے ساتھ تو ٹیلی فون نمبر بھی لکھے ہوئے ہیں۔ 70ءاور80ءکی دہائی میں روس کی خفیہ ایجنسی کے بی جی نے لڑکیوں کے ذریعے جاسوسی کا نظام پھیلایا۔ روس سے 10 ہزار لڑکیاں ٹرینڈ کر کے افغانستان بھیجی گئیں۔ جو اہم لوگوں کو قابو کر کے ان کے بارے معلومات ماسکو پہنچاتی تھیں دوسری جنگ عظیم میں جاسوسی کے لئے سب سے زیادہ لڑکیاں استعمال کی گئیں۔ اٹلی کے ایک دانشور نے ”دی پرنس“ کے نام سے کتاب لکھی جس میں حکمرانی کے اصول لکھے۔ ضیاءالحق نے بھی ہر طریقہ اختیار کیا۔ پانچ دنوں تک ٹی وی پر کرکٹ میچ دکھایا جاتا رہا۔ تا کہ لوگ سیاسی معاملات سے دور رہیں۔جنرل مجیب الرحمن نے مجھے بتایا کہ یہ فوج کی پالیسی ہے کہ لوگوں کا دھیان دوسری طرف لگا دو۔ ”دی پرنس“ میں لکھا ہے کہ جب عوام بادشاہ کے خلاف ہو جائیں تو میلے ٹھیلے اور کھیلوں کا انعقاد کرو۔ تا کہ لوگ دوسری طرف متوجہ ہو جائیں اور سب کچھ بھول جائیں۔ بھارت ایک قدم آگے ہے۔ بھارتی گورو جس کا نام ”چانکیا“ تھا اس نے کتاب میں لکھا مخالف راجہ کے محل میں خوبصورت لڑکیاں داخل کر دو۔ کوشش کرو خوبصورت لڑکی راجہ کے بستر تک پہنچ جائے۔ پھر تمہیں راجہ کی ایک ایک بات معلوم ہوتی رہے گی۔ ”را“ کی کوشش فحاشی نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے۔ جو ننگ دھڑنگ لباس میں دوستوں کو مدعو کر رہی ہے۔ اور دوستی کرنے کے لئے دعوت دے رہی ہے۔ اگر پانچ دس ہزار ہی مرد اس طرف راغب ہو جاتے ہیں اور کچھ بھارت بھی ہو آتے ہیں۔ تو وہ اپنے رابطوں کے حساب سے 50 ہزار اور لاکھ تک پھیل جائیں گے اور آسانی سے ”را“ کے لئے مخبری کریں گے۔ عشق محبت اور چیٹنگ میں وہ سب کچھ بھلا دیں گے۔ یہاں بیٹھ کر وہ ”را“ کے ایجنٹ بن جائیں گے۔ اسی ”را“ نے 50 بلین بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے مختص کئے ہیں ہماری آئی ٹی نے ایک مرتبہ ”گوگل“ پر پابندی لگا دی تھی۔ آئی ٹی منسٹری کو اس معاملے کو فوری طور پر پکڑنا چاہئے۔ دنیا ہماری فوج اور آئی ایس آئی کو مانتی ہے۔ یہ بہت اہل اور سمجھدار لوگ ہیں اسے فوری طور پر ”بلاک“ کریں۔

بھارت کا گھناﺅنا چہرہ چیف ایڈیٹر خبریں نے بے نقا ب کر دیا ۔۔۔ بھارت نے اپنے سیوریج اور صنعتی فضلے کے 7نالے پاکستان میں داخل کر دئیے

لاہور(وقائع نگار/خبر نگار)بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریاﺅں پر57 برس سے جاری آبی دہشت گردی کے حوالے سے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام سیمینار کا اہتمام کیا گیا،سیمینار میں چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد کو ملک کے اس حساس موضوع پر تکنیکی اور قانونی پہلوﺅںپرخطاب کے لیے مدعو کیا گیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں رہ کر پاکستان کی خاطر کسی عظیم مقصدکو حاصل کرنے کےلئے جدوجہد کی جائے تو اللہ پاک کی نصرت اور رحمت انسان کو ملتی ہے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آج سے تین ماہ پہلے جس کام کا آغازنظریہ پاکستان ٹرسٹ سے کیا گیاتھااس کو اتنی پزیرائی ملے گی اور آج یہ آواز یورپی یونین اور برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ مغربی ممالک کی سب سے طاقتور تنظیم یورپی یونین اور برطانوی پارلیمنٹ کے آبی مسئلے بارے خطوط آنے شروع ہوگئے ہیں جس کےلئے ہم راوی ستلج واٹر فورم کے زیراہتمام تیاری کر رہے ہیں اور جلد اپنے مندوبین یورپ بھیجیں گے یہ سب کچھ اس ادارے سے شروع کیاگیا۔ درحقیقت یہ صرف دریائی پانی کے استعمال کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا براہ راست تعلق خطے کی ماحولیات سے ہے اور یہی ہمارا کیس ہے جو ہم دنیا کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ میری صحت تو اجازت نہیں دیتی لیکن میں پاکستان کے لیے یہ کام کو مکمل کرنا چاہتا ہوں اوربھارتی آبی دہشت گردی میرا آخری بڑا کام ہے جو میرے اور میرے ملک کے لئے اہم ہے میں نے اس حوالے سے پاکستان بھر میں پچھلے تین ماہ میں دریاﺅں کی صورت حال بارے مختلف علاقوں کے دورے کئے اور کئی اجتماعات سے اس بارے خطاب بھی کئے ان خطابات کے دوران جو مجھے محسوس ہو ا کہ اس لفظ کوآبی دہشت گردی کی بجائے بھارت کی دریائی دہشت گردی کانام دیاجائے کیونکہ ہمارے دریا اسکی دہشت گردی کے شکار ہیں ۔جس پر آج تک کسی نے صحیح معنوں میں کام ہی نہیں کیا میں نے اس پر کام کر نے کےلئے سب سے پہلے انڈس واٹر کمیشن کی دستاویز کا مطالعہ کیا اور اب موجودہ کمشنر مرزا آصف بیگ اور کچھ وکلاءجن میں سے ایک وکیل جو عالمی عدالت میں پانی کا کیس لڑ چکے ہیں سے ملا اور تمام تر معلومات حاصل کر نے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا آج تک جو ہمیں تاثر دیا جاتا رہا کہ 1960میں سند ھ طاس معاہدے کے تحت ہم نے اپنے تین دریا ستلج ،بیاس،روای فروخت کردئے گئے یہ تاثر ہی غلط ہے۔ 1960میں جو معاہدہ ہوا اس کے مطابق ہندوستان سے صرف زرعی پانی کا معاہد ہ ہوا تھا نہ کہ سارے پانی کے استعمال کا معاہدہ ہوا تھا ۔اس میں طے ہونے والی شقوں کو چھپایا جارہا ہے کیوں کہ اس میں ہمارے لیڈروں ،بیورکریٹس اور ماہرین کی نا اہلی تھی اور اس نااہلی کو آج تک ہماری قوم نے بھی نہیں سمجھا کیونکہ یہ کتاب انگریزی میں شائع ہوئی ہے اب میں اس کا ترجمہ کروایا ہے اردو میں شائع کروانگا انشااللہ تاکہ ہماری قوم اس کو پڑھے اور سمجھے کہ بھارت نے تو جو ہمارے ساتھ کیا۔ 1960سندھ طاس معاہدے کے مطابق خطے کے تین دریا چناب ،جہلم اور سندھ ہمارے حصے میں اور ستلج ،بیاس اور راوی بھارت کے حصے میں آئے اسی معاہدے میں بھارت نے ایک شق رکھوائی اور اس کو باور کراتے ہوئے پاکستان سے دستخط بھی کروائے اس شق کے مطابق تین دریا جن میں چناب ،جہلم اور سندھ جو پاکستان کے حصے میں آئے ہیں وہ بھارت کے جس حصے میں بہتے ہیں ان پر زرعی پانی کے علاوہ باقی تینوںطرح کے استعمال پراس کا حق ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔لیکن ہمارے نااہل لوگوں نے بھارت سے یہ باور نہ کرایا کہ تین دریا جو بھارت کے حصے میں آئے ہیں ان پر بھی پاکستان کا ویسا ہی حق ہوگا جیسے بھارت کا ہے اور نہ اس بارے دستخط کراوئے گئے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ زرعی پانی کے علاوہ پانی کے تین استعمال اور بھی تھے پہلا استعمال گھریلو پانی جس سے گھریلو استعمال کےلئے پانی دوسرا آبی حیات جن میں دریائی مخلوق جانور ،مویشی ،چرند پرندوغیرہ اوراس پانی کا تیسرا استعمال ماحولیات کا تھاتاکہ پانی کے بہاﺅ کے اردگرد درختوں کا اگنا سبزہ کا اگتا رہے ۔ انہوں نے 1961-62کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ دریا بند کر دیئے گئے تو ستلج جو ہیڈ سلمانکی سے شروع ہوکر پنجندتک جاتا تھا اس کے کنارے 72ہزار ماہی گیر آباد تھے جن کا ذریعہ معاش صرف مچھلی پکڑنا تھا وہ بے روزگا ر اور بے گھر ہوکر رہے گئے اسطرح بھارت نے پاکستان کا معاشی قتل کیا اسکو دہشت گردی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ ستلج کی صورتحال دیکھنے کےلئے قصور گیا وہاں گنڈاسنگھ کے علاقے میں گیا جہاں پر بھارت نے ستلج کو لکڑی کے پشتوں سے بند کیا ہوا ہے تاکہ پانی پاکستان نہ جائے صاف پانی تو بند کر دیا ہے لیکن بھارت نے صنعتی علاقے کا گندہ زہریلا کیمیکلز زدہ پانی پاکستان میں چھوڑ رہا ہے یہ پانی گنڈاسنگھ ستلج میں اور ہڈیارہ نالے سے راوی میں آرہا ہے جو انتہاہی خطرناک اور مضر صیحت پانی ہماری طرف چھوڑ رہا ہے اور یہ زہریلا پانی راوی کے ذریعے بھی دوسرے دریاﺅں میں جارہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہٹ کر میں نے سالانہ نیشنل ہیلتھ رپورٹ کا بھی بغور جائزہ لیا اس رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب کا خاص کر ضلع بہاولنگر اس پانی آبی دہشت گردی کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوا ہے اس سے وہاں کے لوگ مہلک امراض جن میں گردوں کا ناکارہ ہونا ،جگر کا ختم ہونا ،کینسر اور ہیپاٹایٹس سی جیسی امراض میں مبتلا ہیں اس کی وجہ جو ماہرین بتاتے ہیں وہ یہ کہ پانی کی سطح اپنے لیول سے کم ہورہی ہے پانی کی کمی کی وجہ سے آرسینک زہر کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اس بارے پاکستان کے وزیراعظم سے بات کی جائے تو میں نے سی پی این ای کے پلیٹ فارم سے اپنے ایڈیٹرز کے ساتھ موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں سب سے پہلے یہی پانی کا مسئلہ اٹھا یا اور وزیراعظم سے اپیل کی کہ اس بارے توجہ دیں اس بارے آپکے کمشنر انڈس واٹر بھی انٹرویو دے چکے ہیں اور کمشنر کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبی مسئلے بارے وزرات پانی کو بھی لکھ چکے ہیں جس کو سات سال ہوگئے ہیں جس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ میں نے اس آبی مسئلے کے حل کےلئے اپنے اخبار میں شائع ہونے خبروں کے تراشوں اور اس مسئلہ کے حوالے سے خط کے ساتھ ایک ہزار کاپیاں پنجاب اسمبلی ممبران اور قومی اسمبلی اور سینٹرزکو ارسال کیں جن میں سے صر ف چار اراکین کے جواب موصول ہوئے ہیں ان سے میں نے بات کی ہے کہ وہ اس بارے اپنے ایوانوں میں تحریک التو جمع کروائیں تاکہ اس مسئلے کا حل پارلیمان کے ذریعے تلاش کیا جائے ۔ضیاشاہد نے سیمینارکے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں پر محمد علی درانی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا انہوں نے اس کام میں میرا بہت بڑا ساتھ دیا ہے وہ بھی جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور کے رہائشی ہیں وہ بھی اس آبی دہشت گردی کے مسائل سے دوچار ہیں ہم نے سوچ بچار کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ہم اس مسئلے پر ہزاروں کی تعداد میں متاثرہ لوگوں سے خطاب بھی کر چکے ہیں چولستان کے متاثرہ لوگوں سے بھی مل چکے ہیں اب اس آواز کو بیرونی ممالک تک پہنچانا چاہیے جس پر محمد علی درانی نے کا مشورہ تھا کہ آج کل پوری دنیا میں ماحولیات کے بارے شعور اجاگر ہورہا ہے اور اس پر انٹرنیشنل سطح پر کانفرنسزبھی ہورہی ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ چین ماحولیات کی وجہ سے اپنی دوسو فیکٹریاں بند کر چکا ہے جن میں 130فیکٹریاں زرعی ادویات بنانے والی ہیں صرف اپنے ملک کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کےلئے کیوں نہ ہمیں ایسے پلیٹ فارموں سے اس آواز کو اٹھانا چائیے ہم نے اس بارے یورپی یونین اوردیگر بیرونی این جی اوز کو خطوط ارسال کئے ۔وسیم اخترجو جماعت اسلامی سے رکن پنجاب اسمبلی ہیں نے بھی ہمارا ساتھ دیا وہ بھی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے WWFکے سربراہ شہزادہ فلپ کو خط لکھا کیونکہ WWFبنیادی طور جنگلی حیات پر کام کر رہی ہے وسیم اختر نے ان کو لکھا ہے کہ ہمارے ہاں پانی کی بندش کی وجہ سے جنگلی حیات ختم ہورہی ہے۔ جس کے بعدWWFنے پانی بندش بارے بھارت سے جواب بھی مانگ لیا ہے۔ ان کی جانب سے پوچھا جارہا ہے کہ آپ کب آنا چاہتے ہیں کس موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیںہمیں بتائیں۔اب اس کیس بارے ہم تمام شواہد اکٹھے کرہے ہیں تاکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ جائیں اور بھارت کا اصل چہرہ انکے سامنے رکھیں کہ جوپاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی پھیلا رہا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے اب یہ مسئلہ حل ہوگا اور بھارت کی آبی جارحیت ختم ہوگی اور ستلج ،راوی کا ماحولیات کی ضرورت کاپانی کھولنے پر مجبور ہوگا ۔آخر میں ضیا شاہد کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ملک کے کسی بڑے لیڈر نے اس مسئلے پر کام نہیں کیا جو ہمارے ملک کےلئے سب سے بڑا مسئلہ ہے یہ میرا مسئلہ نہیں ہے یہ ساڑھے تین کروڑ عوام کا مسئلہ ہے جو اس عذاب سے دوچار ہے ہم نے اس مسئلے پر آواز بلند کردی ہے اور انشااللہ یہ مسئلہ اب حل بھی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ میں نے پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات کی ہے اوران سے درخواست کی ہے کہ ہمیں معاہدے کے مطابق آبی حیات اورماحولیات کے لئے ستلج اورراوی کے پانی میں سے اپنا حصہ وصول کرناچاہئے اوربین الاقوامی عدالت میں جاناچاہیے۔ چیف جسٹس صاحب نے میری بات غورسے سنی اورکہاکہ یہ مسئلہ بہت اہم ہے اورہمیں جائزہ لیناہوگا کہ کیا قانونی طورپر اس کی ٹھوس گنجائش نکلتی ہے۔

تقریب میں وائس چیرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر رفیق احمد اور سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید کے علاوہ بڑی تعداد میں دانشوروں اور طالب علموں نے بھی شرکت کی۔

 

چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد کی چیف جسٹس سے ملاقات، بھارت کی جانب سے پانی کی بندش کی طرف توجہ دلائی

لاہور (خصوصی رپورٹر) جمعہ کی صبح سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد نے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انہوں نے چیف جسٹس صاحب سے بھارت کی طرف سے پاکستان کے اہم ترین مسئلے یعنی مشرقی دریاﺅں ستلج اور راوی میں پانی کی سو فیصد بندش کی طرف ان کی توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان اور بھارت میں انڈس واٹر ٹریٹی 1960ءکے باوجود بھارت سال بھر ہمارا سارا پانی بند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ معاہدہ زرعی پانی کا ہے اور انٹرنیشنل واٹر کنونشن 1970ءکے مطابق پانی کے دیگر تین استعمال یعنی گھریلو پانی، آبی حیات اور ماحولیات کیلئے مخصوص پانی کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی حکومت اور متاثرہ عوام اس ضمن میں انٹرنیشنل کورٹ میں جا سکتے ہیں۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بڑی توجہ سے ان کی معروضات سنیں اور کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں ماحولیات پر بہت زور دیا جارہا ہے۔ میں نے خود کئی برس پہلے نوائے وقت میں محترم مجید نظامی مرحوم کا تفصیلی بیان پڑھا تھا جس میں سیلاب کے زمانے کے سوا بھارت کی طرف سے ہمارے دو دریاﺅں کے پانی کی مکمل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں پانی کی کمی کے مسئلے سے بخوبی واقف ہوں اور پاکستان کو اس امر کاجائزہ لینا ہو گا کہ کیا ٹریٹی 1960ءکے اندر ایسی کوئی قانونی گنجائش ہے کہ ہم اس کی رو سے ستلج اور راوی کیلئے بھی کچھ پانی کا مطالبہ کر سکیں۔ اس مسئلے کا قانونی پہلو سے جائزہ لینا ہو گا۔ تاکہ کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ انہوں نے چیف ایڈیٹر خبریں کی کاوشوں کو سراہا جن کی تفصیل ان کے سامنے بیان کی گئی تھی اور کہا کہ آپ اس ایشو پر ضروری مواد جمع کریں میں بھی ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس پر غور کروں گا۔ انہوں نے جناب ضیا شاہد کو دعوت دی کہ اس مسئلے پر آپ بھی تیاری کریں، قانون کے ماہرین اور آبی ماہرین سے مشورے مکمل کریں اور دو ہفتے بعد ہم ایک بار پھر ملیں گے۔ خدا کرے کوئی قانونی شکل نکل آئے تاکہ مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے پیش نظر ہماری آنے والی نسلوں کو تکلیف دہ مسائل سے دوچار نہ ہونا پڑے۔

 

بھارتی آبی جارحیت کیخلاف للکار ، یورپی یونین نے ضیا شاہد اور محمد علی درانی کو بلا لیا

ملتان(رپورٹ: مہدی شاہ، طارق اسماعیل، تصاویر: خالد اسماعیل) ستلج راوی بیاس کا سارا پانی بند کیوں؟ پاکستان کو خشک اور بنجر کرنے کی گھناﺅنی بھارتی سازش اور بھارت کی آبی دہشت گردی کے حوالے سے ستلج پل کے ساتھ دریا کے اندر روزنامہ خبریں کے زیراہتمام عوامی اکٹھ ہوا۔ عوامی اکٹھ میں چیف ایڈیٹر ”خبریں“ جناب ضیاشاہد نے خصوصی طور پر شرکت کی اور بھارت کی آبی دہشت گردی پر بھارت اور غلط معاہدہ کرنے والوں کو للکارا۔ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر وسیم اختر، سابق سنیٹر محمد علی درانی، دانشور، کالم نگار اور تجزیہ نگار مکرم خان، اجمل ملک، جام حضور بخش سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ پانی کی بندش اور بھارت کی آبی دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے سابق سنیٹر محمدعلی درانی نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے اپنے صحافتی کیریئر کی گولڈن جوبلی پر ستلج، راوی، بیاس کو ریت میں تبدیل کرنے کے جرم کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی طرف سے بھارت کی آبی دہشت گردی اور خطے کے 3کروڑ سے زائد عوام کو پیاس سے مارنے کی سازش کو بے نقاب کئے جانے پر انہیں برطانیہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ کی طرف سے دعوت نامے ملے ہیں اور وہاں جا کر بھارت کی آبی دہشت گردی بارے بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی دہشت گردی پر بڑے بڑے سیاستدان اور ذمہ دار کیوں خاموش ہیں؟ بہاولنگر کے ایک سپوت نے خطے کے مظلوم عوام کی آواز بن کر دنیا کو باور کرایا ہے کہ ستلج راوی کے واسی، وادی ستلج کو ہاکڑہ نہیںبننے دیں گے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت پاکستان اپنی ذمہ داری سمجھے اور سندھ طاس معاہدے سے ملنے والی رقم سے دریائے ستلج میںپانی کے بہاﺅ کو برقرار رکھنے کے لئے تریموں سے تریموںاسلام لنک نکالے۔ انہوںنے کہا کہ مودی نے پاکستان کا پانی روک کر ثابت کیا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک نہیںبلکہ ایک مذہبی جنونی ملک ہے اور پاکستان کے عوام کو پیاس سے مارنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے کے عوام کے حقوق کے لئے جھکنا اور اقوام متحدہ کو بھارت کو آبی ماحولیاتی دہشت گرد ڈیکلیئر کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے جس طریقے سے آبی دہشت گردی کی ہوئی ہے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عالمی عدالتوں سمیت کوئی بھی اس کی اجازت نہیںدیتا۔ انہوں نے جناب ضیاشاہد کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانی کے حصول کی کاوش اور تحریک کسی سیاست کی غرض سے نہیں چلا رہے بلکہ خطے کی مٹی اور واسیوں سے محبت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان سفارتی سطح پر بھرپور احتجاج کرے کہ بھارت پاکستان کے دریاﺅں کا پانی روک کر عوام کی جانوں سے کھیلنے سے باز رہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میںجماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات اور دوستی نبھانے کے لئے ملک اور قوم کے حقوق کا سودا کیا ہے اور دشمنوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت سے اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لئے جو تحریک جناب ضیاشاہد نے شروع کی ہے اس کے مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں تریموں سے نہر نکالنے کا جو منصوبہ تھا اس پر فوری عمل کیا جائے اور حکومت پانی کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے ، کیونکہ ہم ستلج سے ہیں اور ستلج ہم سے ہے۔ انہوںنے جناب ضیاشاہد کو پانی کے حصول کے لئے شروع کی گئی تحریک پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔ ڈاکٹروسیم اختر نے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی پانی کے حصول کی کاوشوں سے بھارت کی آبی دہشت گردی اور ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں کے حوالے سے شعور وآگہی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں پینے، آبی حیات، جنگلی حیات اور ماحالیات کے لئے بھی پانی دےدے تو اس سے زیرزمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی۔ زراعت کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ زیرزمین پانی کا لیول بہتر ہونے سے پینے کے پانی میں آرسینک جیسے مضرصحت ذرات اور مادے بھی کم ہوجائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ آبی معاہدے کے مطابق بھی ستلج میں 32فیصد پانی آنا ضروری ہے لیکن بھارت پانی پر قبضہ کرکے ہماری زرعی زمینوں کو بنجر بنانے پر تلا ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2018ءکے الیکشن میں بھی ہمیں ایسے فیصلے کرنا ہونگے جو ہمارے حقوق کی بات کریں اور پانی کے حصول کے لئے تحریک میں شامل ہو کر پانی حاصل کرنے کویقینی بنائیں۔ معروف دانشور، تجزیہ نگار اور کالم نگار مکرم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ضیاشاہد کی طرف سے بھارت سے پانی کے حصول کے لئے شروع کی جانے والی تحریک کی گونج اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ چکی ہے۔ انہوںنے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے دریائے ستلج کے پاکستان میں داخل ہونے سے لیکر بہاولپور تک کے علاقوں کا دورہ کیا اورعلاقے میںپانی کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھرپور آواز اٹھائی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ستلج واسی جناب ضیاشاہد کی تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے حصے کے پانی کے حصول کے لئے آواز بنیں اور اپنا حصہ ڈالیں۔ ضلع کونسل لودھراں کے چیئرمین میاں راجن سلطان پیرزادہ نے کہا کہ ہمیں ستلج، راوی اور بیاس کے لئے جنگلی حیات، آبی حیات، جنگلات اور پینے کے مقاصد کے لئے پانی کے حصول کے لئے عالمی عدالتوں میں بھرپور طریقے سے کیس لڑنا چاہےے۔انہوں نے کہاکہ بھارت، ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پرقبضے کے بعد چناب، جہلم اور سندھ کے پانی پر قبضے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو بنیا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہا ہے اور ہمیں جناب ضیاشاہد کی کاوشوں سے دریاﺅں کی بحالی کرانی ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے ہمارے ملک کو مکمل بنجر بنانے کی ٹھان لی ہے اور ہم اپنے پانی کے حصول کے لئے بھارت سے ہر فورم پر دوٹوک بات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ سب ملکر بھارت کی آبی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کریں اوردنیا بھارت پر دباﺅ ڈالے تاکہ بھارت مجبور ہو کر ہمارے حصے کا پانی ستلج سمیت دریاﺅں میں چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔ عوامی تحریک بحالی صوبہ بہاولپور (رجسٹرڈ) کے مرکزی صدر محمد اجمل ملک نے عوامی اکٹھ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے بہاولپور صوبہ کی بحالی اور ستلج کے پانی کے حصول کے لئے آواز بلند کرکے مایوس اور مظلوم عوام میں امید کی کرن پیدا کی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ستلج کے پانی کے حصول سے بہاولپور کے زیرزمین پانی کی سطح بہترہونے سے یہاں زندگی دوبارہ مسکرائے گی اور اس مسکراہٹ اور خوشی کے پیچھے جناب ضیاشاہد کی کاوشیں یاد رکھی جائیں گی۔ تحریک صوبہ بہاولپور کے مرکزی چیئرمین جام حضور بخش لاڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستلج ہماری اور آنے والی نسلوں کی زندگی ہے اور اس کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے علاقے کی زمینوں کے لٹے ہوئے سہاگ کا دکھ بانٹا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہم سب کو اس تحریک میں ساتھ چلنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کو سرتسلیم ختم کرنا پڑے گا اور عوام کو چاہےے کہ وہ جناب ضیاشاہد کا بھرپور ساتھ دیں۔ تقریب میں ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل، دانشور ملک حبیب اللہ بھٹہ، بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدرملک اعجاز ناظم، مرکزی انجمن تاجران کے صدر حافظ محمد یونس، نواب آف بہاولپور نواب صادق محمدخان عباسی کے پوتے میاں محمد یوسف عباسی اور ملک غلام مصطفےٰ چنڑ سمیت شرکاءنے بھی گفتگو کی۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام ہونے والے عوامی اکٹھ میں حافظ آباد سے حسنین اکبر اور محمد اسلم باہو (بابا گروپ) نے بھی شرکت کی اور مخصوص منفرد لباس میں وارث شاہ کی تخلیق ہیر پڑھی۔ پس منظر میں دھیمے میوزک کی دھنوں کے ساتھ وارث شاہ کی ہیر نے ستلج کے بیٹ میںسماں باندھ دیا۔ شرکاءنے ”بابا گروپ“ کو سراہا۔حسنین اکبر اور محمد اسلم باہو نے اس موقع پر کہا کہ وہ جناب ضیاشاہد کی محبت میں حافظ آباد سے بہاولپور آئے ہیں۔ تقریب کے بعد شرکاءبابا گروپ کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے۔ روزنامہ خبریں کے زیراہتمام بھارت کی آبی دہشت گردی کے خلاف دریائے ستلج میں ہونے والے عوامی اکٹھ میں دریا کے بیٹ سے ریت کے ذرات اڑتے رہے۔ رپورٹنگ ٹیم کے کاغذوں پر بھی ریت کے ذرات پڑتے رہے۔دریا میںجس جگہ پانی رواں ہونا چاہےے تھا وہاں سے ریت اڑ اڑ کر شرکاءپرپڑتی رہی۔ عوامی اکٹھ کے شرکاءدریا کے اندر چلے گئے اور ریت کے ڈھیر پر خشک دریا میں تصاویر بناتے رہے۔ شرکاءنے تقریب کو ایک یادگار تقریب قرار دیا۔
عوامی اکٹھ

 

کشن گنگا پر عالمی عدالت کے فیصلہ سے بھارت ہمارا سارا پانی نہیں روک سکتا

لاہور (سیاسی رپورٹر) ”خبریں“ کے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے گزشتہ روز پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز مرزا آصف بیگ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور بھارت اور پاکستان کے مابین انڈس واٹر ٹریٹی 1960کے مختلف آرٹیکلز پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے پانی پر معاہدے کے باوجود اس امر کا جائزہ لیا کہ کیا ہم بھارت کو ماحولیات کے نام پر ستلج اور راوی میں کچھ پانی چھوڑنے کے لئے مجبور کر سکتے ہیں اور اگر وہ نہ مانے تو پہلے کی طرح عالمی عدالت میں جا سکتے ہیں۔ اس موقع پر عالمی آبی قوانین کے ماہر راس مسعود بھی موجود تھے۔ کمشنر مرزا آصف بیگ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ درست نہیں کہ ہم بھارت سے دو مرتبہ مقدمہ ہار گئے تھے بلکہ کشن گنگا جسے پاکستان میں دریائے نیلم کہتے ہیں کے حوالے سے پاکستان مقدمہ جیت گیا تھا اور عالمی عدالت نے بھارت کو ہدایت کی تھی کہ وہ ماحولیات کے لیے دریا میں پانی کو پاکستانی آزاد کشمیر میں آنے دے کیونکہ وہ سارا پانی بند نہیں کرسکتا۔ کمشنر مرزا آصف بیگ نے کہا کہ عالمی عدالت میں جانے کے لیے بھرپور تیاری کرنا پڑتی ہے ہم نے بعض اہم امور کے سلسلے میں تجاویز دی ہیں جس پر مینی پی سی ون تیار کر کے بھیج دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے باوجود اس معاہدے کے تحت بھارت سے مزید پانی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے تاہم اس کے لئے عالمی سطح کے مسلمہ ماہرین سے تحریری رائے لینا پڑتی ہے اور عالمی عدالت صرف بین الاقوامی اور مستند ماہرین کی آرا کو مانتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ محض افواہ تھی کہ سابق کمشنر جماعت علی شاہ بھارتی مفادات کی حمایت کر رہے تھے اس لئے ان کو الگ کیا گیا۔ مرزا آصف بیگ نے کہا کہ میں اس عرصے کے دوران آبی انجینئر کی حیثیت سے سندھ طاس کمیشن کا ایڈوائزر رہا ہوں اور میں نے سارے معاملات کو قریب سے دیکھا ہے۔ متعدد سوالوں کے جواب میں آصف بیگ نے کہا کہ جماعت علی شاہ کی عمر ساٹھ برس ہو گئی تھی اور قواعد کے مطابق انہیں ریٹائر ہونا تھا یا اگر حکومت چاہتی تو انہیں مدت ملازمت میں توسیع دے سکتی تھی شاید اس وقت کچھ مفاد پرست لوگوں نے جو نہیں چاہتے تھے کہ جماعت علی شاہ کو توسیع ملے ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ وہ بھارتی مفادات کا تحفظ کر رہے تھے حالانکہ میرے خیال میں اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں تھی موجودہ کمشنر نے کہا کہ کشن گنگا (پاکستانی آزاد کشمیر کے علاقہ میں اس کا نام دریائے نیلم ہے) کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے عالمی عدالت میں ہمیں کامیابی ملی تھی اور عدالت نے بھارت سے کہا تھا کہ پاکستان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ ماحولیات کے لیے دریا میں پانی چھوڑنا ضروری ہے اور بھارت سارے کا سارا پانی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس نقطے کی بنیاد پر اور اس فیصلے کی روشنی میں ستلج اور راوی کے لیے بھی ہمیں کیس تیار کرنا چاہیے اور بھارت سے ماحولیات کے نام پر پانی طلب کرنا چاہیے کہ وہ ان دریاﺅں کا پانی مکمل طور پر پاکستانی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے نہیں روک سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں مرزا آصف بیگ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ 1970کے بعد جو انٹرنیشنل واٹر کنونشن ہوا اور اس کے فیصلے پوری دنیا میں لاگو ہوئے ان کی روشنی میں ہمارا بھارت کے سامنے کچھ کیس بنتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ لوگوں نے اشارہ کیا ہے کہ بھارت گنڈا سنگھ والا قصور میں دریائے ستلج میں صاف پانی مکمل طور پر بند کرکے اپنی طرف سے ایک سائیڈ سے سیوریج کا پانی دریائے ستلج میں ڈال رہا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ہمیں اس سلسلے میں بین الاقوامی اور مسلمہ آبی ماہرین سے مستند رائے لیکر ہماری ماحولیات کو پراگندہ کرنے اور دریائے ستلج میں سیوریج کا پانی بڑی مقدار میں شامل کرنے سے انسانی صحت کےلئے جو خطرات پیدا ہو رہے ہیں ان پر اپنا کیس تیار کرنا چاہیے کیونکہ آج کی دنیا 1960کی نسبت ماحولیات اور عوام کی صحت کے لئے مضر سیوریج کے پانیوں کی تازہ اور صاف پانی میں ملاوٹ کا سختی سے نوٹس لے رہی ہے۔ مرزا آصف بیگ نے کہا کہ ہمارے دریاﺅں میں مضر صحت صنعتی فضلے کو بغیر صفائی کے ڈال دیا جاتا ہے جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کی صحت کا معیار بری طرح تباہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے دلدوز لہجے میں کہا کہ جب ماحولیات کے محکمے والوں سے بات کرتے ہیں تو اکثر اوقات ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمارے صنعتی اداروں اور فیکٹریوں کے مالکان اس قدر بااثر ہیں کہ وہ سرکاری افسروں ا ور اہلکاروں کو دھمکاتے ہیں کہ ان کے صنعتی فضلے کے بارے میں شکایت اٹھائی تو اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھوگے اور انہیں اپنی زبان بند رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مرزا آصف بیگ کے علاوہ عالمی آبی قوانین کے ماہر راس مسعود نے بھی اس مسئلے کے متعدد پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر خبریں ٹیم کے رازش لیاقت پوری بھی موجود تھے۔

 

حدیبیہ کیس ،صرف میڈیا پر پابندی ،سیاستدانوں پر کیوں نہیں جوروزانہ عدالتوں کی ایسی تیسی پھیرتے ہیں:ضیا شاہد

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ طاہر القادری صاحب کے ساتھ اکٹھے ہونے والے تمام افراد کا مقصد ایک ہے۔ تمام سیاستدانوں کا مقصد یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے وزیراعظم کو نااہل کروا دینے کے باوجود وہ پارٹی کے صدر اور ان کے چھوٹے بھائی پنجاب میں وزیراعلیٰ موجود ہیں۔ لہٰذا عملا تو اقتدار میاں نوازشریف کے پاس ہی رہا۔ اب یہ تمام سیاستدان مشترکہ کاوش کے ذریعے انہیں گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو طاہر القادری کی صورت میں ایک مضبوط سہارا مل گیا ہے جس کے پیروکار دھرنے سے جاتے بھی نہیں۔ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے طاہر القادری کو استعمال کرنا چاہتی ہیں تا کہ حکومت کو نیچا دکھا سکیں۔ طاہر القادری بھی ان افراد کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تا کہ اپنے شہداءکے خون کے بدلے کے طور پر حکومت کو گرا سکیں۔ اس مرتبہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دیئے۔ عمران خان، آصف زرداری کے خلاف دھواں دھار تقاریر کر رہے ہیں۔ آصف زرداری عمران خان کے خلاف ہیں۔ یوں اگر ڈاکٹر صاحب دھرنا دیتے ہیں تو ایک دن آصف زرداری کے ساتھ اور ایک دن عمران کے ساتھ دھرنا دینا ہو گا۔ جو ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ مصطفی کی مثال ایک یوسف بے کارواں جیسی ہے۔ انہوں نے فوج پر الزام لگایا کہ ہمیں ایم کیو ایم سے ملوایا۔ ایم کیو ایم اور پی ایس پی میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ عمران خان کے والد اکرام اللہ خاں نیازی کی کرپشن کے بارے کچھ زیادہ معلوم نہیں کسی دن قمرزمان کائرہ سے اس بارے معلومات لیں گے۔ ضیاءالحق اور خود بھٹو کے دور میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی دونوں پارٹیاں اکٹھی بیٹھتی رہی ہیں۔ بریلوی مسلک کے لوگ مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں اور دیو بند کے پیروکار مفتی محمود کی قیادت میں اکٹھے ہوئے تھے۔ جو ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے تھے۔ وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے اکٹھے ہو گئے تھے۔ یہ بات طے ہے کہ جہاں مصطفی کمال ہوں گے وہاں فاروق ستار نہیں ہوں گے۔ مصطفی کمال کو خیال آیا کہ طاہر القادری سے مل کر وہ مین اسٹریم میں آ سکتے ہیں اس لئے وہ یہاں آ گئے۔ بابر غوری کے لئے ایم کیو ایم کو چھوڑ کر مصطفی کمال کے ساتھ ملنا مشکل ہو گا۔ سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز پر تبصرہ نہ کرنے کا اچھا فیصلہ کیا ہے۔ صحافت کا بھی یہی اصول ہے کہ معاملہ عدالت میں ہو تو اس پر بات نہیں کرنی چاہئے پہلے تو جج صاحبان فوراً ایکشن لے لیتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ایسا ہونا بند ہو گیا۔ اور لوگ خوب خوب اپنی رائے ساتھ ساتھ دیتے رہتے ہیں۔ نوازشریف صاحب کو عدالت نے اس وقت بحال کر دیا جب انہیں صدر نے 58/2B استعمال کرتے ہوئے گھر بھیج دیا تھا۔ محترمہ بینظیر کو فارغ کیا گیا تو عدالت نے انہیں بحال نہیں کیا بلخ شیر مزاری اس وقت نگران وزیراعظم بنے تھے۔ بینظیر بھٹو نے عدالت کے بارے لفظ استعمال کیا کہ ان پر ”چمک کا اثر“ ہے۔ چمک سے مراد”پیسہ“ ہے۔ یوسف رضا گیلانی وہ واحد شخص ہے۔ جس نے نااہلی کے بعد عدالت پر ایک لفظ تک نہیں کہا اور خاموشی سے گھر چلا گیا۔ نوازشریف صاحب جب سے نااہل ہوئے ہیں ان کی بیٹی، داماد اور سارے رشتہ داروں نے کابینہ کے تمام ارکان نے عدالت کو وہ بے نقد سنائی ہیں۔ کھلم کھلا جج کو فیصلوں کو عدالتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ عدالت نے آج میڈیا پر تو قدغن تو لگا دی ہے۔ لیکن یہ پابندی سیاستدانوں پر کیوں نہیں لگائی۔ حدیبیہ کوئی متبرک کاغذ ہیں جن کے بارے بات نہیں کی جا سکتی؟ قانون دان ہی اس بارے میں اچھی رائے دے سکتے ہیں۔ سی پی این ای کے اجلاس میں ہم ملکی اہم اشخاص کو لے کر ان سے بات کرنے ہی اویس لغاری کے بجلی کے معاملے میں بہت کچھ کہا ہے۔ یہ پہلے مشرف دور میں آئی ٹی کے وزیر بھی ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کل ہمیں بتایا کہ اوور بلنگ کرنے پر ایکسین کو تین سال سزا سنائی جائے گی۔ قومی اسمبلی نے تو بل پاس کر لیا تھا۔ لیکن سینٹ میں اسے مسترد کر دیا گیا ہے لگتا ہے کہ میٹر ریڈرز حضرات سے لے کر ایکسین حضرات کے نمائندے وہاں تک پہنچ گئے اور بل کو منظور ہونے سے روک دیا ہے۔ تحریک انصاف کے نعیم الحق نے کہا ہے کہ طاہر القادری کے دھرنوں عوامل کو ہمیں دیکھنا ہو گا کہ پی ٹی آئی ان کے ساتھ اس وقت شریک ہو جس وقت اس میں زرداری صاحب نہ ہوں۔ دھرنا ایک نہیں بلکہ کئی ہوں گے۔ طاہر القادری کا ایک ایجنڈا ہے۔ وہ ماڈل ٹاﺅن سانحہ ہے ہم ملکی دیگر مسائل کے ساتھ نکلے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ زرداری کو ساتھ ملانے کے لئے اپنے اصولوں کی قربانی نہیں دے سکتے۔ عمران خان زرداری کی کرپشن کے پیچھے کھڑے نہیں ہوں گے۔ لیکن جمہوریت بچانے کے لئے انہیں ساتھ ملایا جا سکتا۔ تحریک انصاف کے عمران سمیت بارہ لیڈران اور 200 کارکنوں کے خلاف ججز صاحبان نے فیصلہ لکھا ہے۔ مینجمنٹ میں لکھا ہے کہ صرف امتیازی سلوک روانہ رکھنے کا وجہ سے آج کی درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے۔ آج مشاورت کی ہے کہ اس فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ جانا چاہئے کہ نہیں۔ ماہر قانون جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر بات چیت کرنے سے ذرا پرہیز ہی کرنا چاہئے۔ سیاستدانوں کی طرف آنے والے کئی بیانات ”توہین“ کے زمرے میں آتے ہیں۔ عدالتوں میں آج کل رواداری کا ایک تاثر پایا جاتا ہے جو کہ اچھا عمل ہے۔ حدیبیہ کیس کی بڑی زیادہ اہمیت ہے۔ نیب کورٹ میں معاملات میاں صاحب کے خلاف چل رہے ہیں۔ غلط روش پر چلنے والے دیگر سیاستدانوں پر بھی کیسز چلیں گے۔ ان تمام کیسز میں سب سے اہم حدیبیہ کیس ہے۔ میڈیا کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ بھی اس پر بات نہ کرے۔ ہمارے جج صاحبان نے ابھی اس پر مشاہدہ دیا ہے۔ لگتا ہے مزید فیصلہ بھی آئے گا۔