تازہ تر ین

غفار خان‘ ولی خان اور پختونستان

تحریر: ضیاءالحق
آپ نے پختونستان غفار خان اور ان کی خاندانی سیاست کے حوالے سے جو ریسرچ کی ہے وہ بہت ہی قابل تعریف ہے اور ایک تاریخی حقیقت ہے میری رائے ہے کہ آپ ایسے ایک کتابچے کی شکل دے کر وکلاءکی بار کونسلز اور ملک بھر کی لائبریریوں میں اس کی کاپیاں رکھوائیں۔یہ ایک عظیم قومی خدمت ہوگی۔اس سلسلے میں مجھے بھی کچھ عرض کرنی ہے۔
16 اگست1966ءمیں اور میرا تایا زاد بھائی پشاور میں واقع افغان قونصلیٹ سے صبح ساڑھے آٹھ بجے آ ریانہ بس کے ذریعے کابل کیلئے روانہ ہوئے۔ اس زمانے میں صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شام 5 بجے تک ہر گھنٹے کے بعد ایک بس پشاور سے کابل کیلئے روانہ ہوتی تھی۔ روزانہ ایک ہماری جی ٹی ایس بس پشاور سے کابل جاتی تھی جبکہ ایک دن چھو ڑ کر ایک دن پی آئی اے کی فلائٹ کابل جاتی تھی۔ ان دنوں ساڑھے 9 روپے پاکستانی کے عوض سو افغانی ملتے تھے۔
روانگی کے بعد سب سے پہلے ہم اخراج(EXIT) لگوانے کیلئے طورخم چیک پوسٹ پر رکے۔ سب سے پہلے اخراج میں نے منگوایا کیونکہ یہاں سے افغان سرحد تک کا نظارہ میں پیدل کرنا چاہتا تھا۔ ابھی کوئی دس بارہ قدم آگے گئے تھے کہ رائٹ سائیڈ پر عجیب منظر دیکھا۔ سینکڑوں کی تعداد خچر پہاڑی راستے سے گزرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں داخل ہورہے تھے اور دوسری طرف سے کچھ ادھر نہ آرہا تھا۔ کچھ عرصہ یہ حیران کن منظر دیکھنے کے بعد آگے چل کر میں نے پاکستانی بارڈر فورس کے ایک جوان سے اس یکطرفہ تجارت کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ جناب حکومتی رٹ صرف سڑک پر ہے۔ سڑک کے علاوہ معاملات پر ہمارا کوئی کنٹرول نہ ہے۔ اپنے بھائیوں (گارڈز) کو الوداع کہنے کے بعد افغان فوجیوں کو اسلام علیکم کہا۔ پاسپورٹ دکھائے اور کچھ فاصلے پر موجود افغانی چیک پوسٹ پر آمد اندراج کروا کر چیک پوسٹ پر اپنی بس کا انتظار کیا جو کم ازکم 45 منٹ بعد آئی یہاں سے بس روانہ ہوئی تو پہلا سٹاپ سروبی تھا۔ ویران بے آباد پہاڑی علاقہ اگر کوئی آبادی ہوگی تو پہاڑوں میں کہیں ہو ہمارے سامنے روٹی سٹال ایک سگریٹ اور بوتلوں کی دکان تھی۔
یہاں سے روانہ ہوئے تو اگلا سٹاپ جلال آباد تھا۔ شہر کے ایک چوک میں صرف پندرہ منٹ کیلئے رکے۔ معروف بازار میں ہر ٹی سٹال پر ریڈیو سے ہندوستانی نغمے اونچی آواز میں سنائی دیئے۔ یہاں سے روانگی کے بعد پہاڑی علاقوں سے گزرتے ہوئے رات ساڑھے بارہ بجے کابل پہنچے۔ کابل شہر میں داخل ہوتے ہی عجیب منظر دیکھا۔ لگتا تھا کہ تمام شہر نقل مکانی کر رہا ہے۔ بچے‘ بچیاں‘ جوان‘ بوڑھے مرد اور عورتیں مشرق کی جانب محو سفر ہیں۔ معلوم ہوا کہ صبح آٹھ بجے بادشاہ ظاہر شاہ کو سلامی لے کر جشن کابل کا افتتاح کرنا ہے۔ یہ ہجرت بادشاہ کے پنڈال کے قریب ترین جگہ کیلئے ہورہی ہے۔ شہر کے تمام ہوٹل فل تھے۔ چند افغانی نوجوانوںنے ایک نئے تعمیر شدہ ہوٹل میں اپنے حوالوں سے بکنگ کروا کر ہمیں اس میں داخل کر دیا مگر کوئی واش روم نہ تھا۔ ایک چار دیواری میں ایک تخت پوش جس کے درمیان کوئی آٹھ انچ مربع کا سوراخ تھا اور نیچے ٹین کا ایک کنستر رکھا ہوا تھا۔ یہ جگہ رفع حاجت کیلئے تھی۔
انتظامیہ کے ایک نوجوان کو کہا کہ مجھے صبح ساڑھے چار بجے جگا دینا۔ شاہی تقریب دیکھے جانا ہے اس کے جگانے پر پاسپورٹ تھام کر روانہ ہوئے۔ ایک چیک پوسٹ پر روکا گیا کہ آپ آگے نہیں جاسکتے۔ پاسپورٹ دکھا کر انہیں سمجھایا کہ یہی تو تقریب دیکھنے آئے ہیں۔ اس طرح کرتے کرتے بادشاہ کے انکلوژر سے پہلے وی وی آئی پی انکلوژر ہماری حد تھی۔ شاہ ظاہر شاہ کی آمد ہوئی تو ہم انہیں دیکھ سکتے تھے۔
فوجی پریڈ کی قیادت مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کر رہے تھے۔ لمبی پریڈ کے بعد غالباً4 مگ 17 طیاروں نے شاہ کو سلامی دی تمام شہر تالیوں سے گونج اٹھا۔ کابل شہر ان دنوں دو حصوں میں تقسیم تھا۔ قدیم کابل اور شہر نو قدیم شہر دیکھنے گئے تو آدھی فرلانگ بھی اندر نہ جاسکے۔ اس قدر بدبو تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گند اٹھانے کا یہاں کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ سارا شہر نو گھوما مگر کسی سینما کسی ریسٹورنٹ کسی ہوٹل کسی سرکاری دفتر یا عمارت میں لوٹے کا کوئی تصور نہ تھا۔ فلش سسٹم کے ساتھ صرف ٹشو کا رول موجود تھا۔ شہر نو کا سب سے بڑا چوک پختونستان چوک تھا۔ چوک کے جنوب مشرق میں غالباً چار منزلہ ایک بلڈنگ تھی جس کے گراﺅنڈ فلور پر دو حصوں میں بٹا ہوا خیبر ریسٹورنٹ تھا پہلا حصہ سیلف سروس ہم نے دو سو کچھ افغانیوں میں (2 افراد) کے کھانا کھایا جبکہ ویٹر سروس رائے (Waiter Service) والے حصے میں وہی کھانا ہم نے ساڑھے اٹھارہ سو میں کھایا۔ ویٹرز نے کالی بو، سفید قمیض اور کالی پتلونیں پہن رکھی تھیں مگر سروس نکمی یعنی کھانا ہمیں 50 منٹ بعد سرو ہوا۔ تمام ویٹرز ادب آداب سے ناآشنا تھے۔ معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ یہ ہوٹل ولی خان کی ملکیت ہے اور عمارت کے اوپر جو جھنڈا لہرا رہا ہے وہ پختونستان کا ہے۔
ان دنوں پاکستانی سفیر جنرل یوسف تھے۔ ہمارے پاس فوجی اتاشی کرنل خٹک کیلئے ایک تعارفی خط تھا۔ کرنل صاحب سے ملاقات میں میں نے عرض کی کہ یہ پختونستان کا جھنڈا تو اتروائیں انہوں نے صرف یہ کہا کہ یہ ہمارے لئے ممکن نہیں لہٰذا آپ اس پر مزید بات نہ کریں۔ پاکستانی سفارتخانے کی صورتحال نہایت ابتر تھی۔ اپنے قیام کے پانچویں دن ہم غفار خان سے ملاقات کیلئے واپس جلال آباد آئے۔ پیغام بھجوایا کہ لاہور پاکستان سے سٹوڈنٹ لیڈر اپنے بھائی کے ہمراہ آپ سے ملاقات کا خواہش مند ہے۔ اجازت ملنے پر اندر گئے تو بیٹھتے ہی ایک صاحب نے کہاکہ خان صاحب بات صرف پشتو میں کریں گے اردو میں نہیں۔ میرا تایا زاد بھائی چونکہ نوشہرہ وجہانگیرہ کا رہائشی تھا اس لئے پشتو خوب جانتا تھا مگر وہ میری اس ملاقات کے قطعاً حق میں نہ تھا۔ اس لئے میں نے بولنے کیلئے اسے نہ کہا۔
ہم جانے کیلئے اٹھے تو کہا گیا کہ دو سو روپے (پاکستانی) فی کس دے کر جاﺅ یہ پختونستان فنڈ تھا۔ ہم نے کہا کہ ہم پختونستان کو تسلیم نہیں کرتے جواب ملا پیسے دیئے بغیر باہر نہیں جاسکتے۔ جان چھڑانے کیلئے مجبوراً پیسے ادا کرنے پڑے۔
افغانستان سے واپسی پر لاہور میں ولی خان کے ہر جلسے میں ہم نے ولی خان کو بتانا چاہا مگر انہوں نے توجہ نہ دی۔ لاہور وائی ایم سی اے ہال میں ولی خان کا ایک جلسہ ہوا۔ بھٹو صاحب کا زمانہ تھا ولی خان کے گھٹنے پر چوٹ لگی ہوئی تھی اس لئے انہوں نے45 منٹ کرسی پر بیٹھ کر خطاب کیا۔ ہم نے ہال کے درمیان میں فرنٹ رو سے چوتھی قطار میں بیٹھے ہوئے مسلسل 45 منٹ تک ہاتھ اٹھائے رکھا مگر ولی خان نے توجہ نہ کی۔ جلسہ ختم ہوتے ہی میں نے دو دوستوں کو کہا کہ پیچھے سے میرا خیال رکھیں اور یوں میں نے سٹیج پر چڑھ کر ولی خان کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ خان صاحب مجھے صرف دو منٹ دے دیں۔ ان کے چھ چھ فٹے نوجوان فدائی خدمتگاروں نے ان کا گھیراﺅ کرلیا۔ میں مسلسل شور مچاتا رہا کہ خان صاحب صرف دو منٹ دے دیں۔ ایک خدمتگار نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا فلیٹی ہوٹل کے 62 نمبر کمرے میں آجاﺅ۔ ساتھ ہی ایک دوسرے نے مجھے دھکا دیا۔ اگر میرے دو ساتھی مجھے پیچھے سے اپنے دونوں ہاتھوں اور سروں سمیت سہارا نہ دیتے تو میری اس وقت گرنے سے موت واقع ہوجاتی کیونکہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ۔
اسی جلسے میں ملک سعید حسن ایڈووکیٹ نے ولی خان کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور اس میں حبیب جالب نے محمود علی قصور ی کو پیپلز پارٹی میں شمولیت پر برا بھلا کہا تھا۔ اسی جلسہ میں امین مغل نے ہمیں ولی خان سے توہین آمیز رویہ اختیار کرنے پر برا بھلا کہا تھا۔ ہم نیچے اترے تو پتہ چلا کہ ولی خان وائی ایم سی اے ریسٹورمنٹ میں موجود ہیں۔ ریسٹورنٹ کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہم نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو ولی خان کی پارٹی کے ایک دوست نے ہمیں روکا اور کہا تمہیں قتل کرنے کافیصلہ ہوچکا۔ یہ لمبے جھولے والے تیر ا پیٹ ایک کونے سے دوسرے کونے تک چیرنے کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔ میں تمہیں آگے نہیں جانے دوں گا۔ واپس نکلو دو دوست تمہیں گاڑی میں ڈال کر یہاں سے لے جانے کیلئے تیار ہیں۔ ان دوستوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور باہر لے گئے جبکہ وارننگ دینے والے محترم نے میری طرف بڑھنے والے دو ورکروں کو تکرار میں روکے رکھا۔ اس زمانے میں ولی خان کسی مجلس میں میری باتوں کا جواب دینے کیلئے تیار نہ ہوئے۔
میرے ایک بہت قابل احترام سینئر محمد اشرف صاحب نے 1939ءمیں ایم اے انگلش اور1941 میں ایل ایل بی کیا اور دہلی میں صحافی ہوگئے۔ 1942ءمیں دہلی سے جب ڈان اخبار نکلا تو اس کے پہلے Policital Correspodentمقرر ہوئے۔ وہی بتاتے تھے کہ غفار خان کے والد نے چونگہ 1857ءکی جنگ آزاد ی میں انگریزوں کی بڑی مدد کی تھی اس لئے کئی قسطوں پر انہیں 20 ہزار ایکڑ زمین عطا ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ دیگر بے شمار عنایات الگ تھیں۔ انگریزوں کے ساتھ ہی ساتھ غفار خان چونکہ کانگریس پارٹی کے ساتھی بنے تو ہندو کی نوازشات کے بھی خوب مزے لوٹے۔
وہ بتاتے تھے کہ انگریز ہندو دونوں نے مل کر غفار خان کو جھانسہ دیا اور کچھ اور علاقہ تمہیں دے کر تمہیں یہاں کا بادشاہ بنایا جائے گا اور بہانے کے طور پر غفار خان کا نام بادشاہ خان رکھ دیا گیا اور ان کے گھر کے قریب جو ایک باغ تھا اس کا نام شاہی باغ رکھ دیا گیا۔ یہ باغ تو بہت بعد میں غالباً 60 کی دہائی میں شاہی باغ سے ولی باغ بنا تھا اور آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔ میں تو اپنے شروع ہی سے اس خاندان کو قائداعظم اور پاکستان کا غدار سمجھتا ہوں ہوں۔ اب اسفند یار ولی کہتا ہے کہ میں افغانی تھا افغانی ہوں اور افغانی رہوں گا۔ میری رائے ہے کہ اسفند یار ولی کو بھی افغان مجاہدین کے ہمراہ خاندان سمیت افغانستان بھیج دیا جائے۔
یاد رہے کہ غفار خان جب سے جلال آباد میں دفن ہوئے ہیں آج تک ان کی برسی کے موقع پر کبھی ان کی قبر پر قرآن خوانی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جلال آباد کے شہری چونکہ غفار خاں کو مسلمان ہی نہیں مانتے اس لئے کوئی بھی شخص ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کرتے نہیں دیکھا گیا۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved