تازہ تر ین

کرپشن کا ناسور

سی ایم رضوان….جگائے گا کون
پچھلے دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ کہا تھا کہ کرپشن اور جرائم کا گٹھ جوڑ ختم کئے بغیر دہشت گردی ختم نہیں کی جاسکتی ان کی یہ با ت سو فیصد درست ہے لیکن افسوس کہ یہ بات ہی رہی اس کے ساتھ اقدامات کوئی نہیں ۔اور بس انہوں نے چند ماہ قبل بھی جب پاناما لیکس کا ایشو پوری قوم کے سر چڑھ کر بول رہا تھا توکرپشن سے متعلق ایسے ہی ریمارکس دے دئیے تھے اور قوم کو ان کے ان الفاظ سے ہی چند دنوں تک افاقہ رہا تھا مگر پھر بعدازاں جو پانامالیکس پر کام ہوا اس پر قوم مایوس ہوئی کہ کوئی بھی بااثر پاکستانی ملک کی دولت جب چاہے آسانی سے ملک سے باہر لے جاسکتا ہے اور اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ایک اور بڑی تلخ حقیقت ہے کہ پانا مالیکس کا ایشو سامنے آنے کے بعد بھی ملک سے 6 سو ارب روپیہ بیرون ملک جا چکا ہے اور کسی نے اس کو روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں ۔
آج جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے پاکستان کے تمام ذمہ داران یا تو کرپشن کر رہے ہیں یا کرپشن ہوتی دیکھ رہے ہیں ۔ ان حالات میں کرپشن کے متعلق بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے چند الفاظ یہاں تحریر کررہے ہیں ہو سکتا ہے کسی ذمہ دار کو اپنے قائد سے عقیدت کی بناءپر کرپشن کے خاتمہ کے لئے عملی اقدام کرنے کی توفیق ہوجائے ۔ 11 اگست 1947ءاسمبلی کو خطبہ صدارت دیتے ہوئے قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ © ”سب سے بڑی لعنتوں میں سے ایک لعنت جس میں ہندوستانی گرفتار ہیں وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے ممالک اس سے محفوظ ہیں میرا خیال تو یہ ہے کہ ہماری حالت ا ن سے بھی بدتر ہے ۔ یہ لعنت حقیقتاً ایک زہر ہے ۔ہمیں اس لعنت کا خاتمہ فولادی عزم سے کر دینا چاہیے ۔ چور بازاری دوسری لعنت ہے اس خوفناک عفریت سے بچنا ہوگا ۔جو آج معاشرے کے خلاف انتہائی جرم ہے ۔میری رائے میں جو شہری چور بازاری کاا رتکاب کرتا ہے وہ سب سے بڑے مہلک جرم سے بھی زیادہ بڑے جرم کا ارتکاب کر تا ہے ۔ اس قسم کی دوسری چیزوں کے ساتھ قرابت مندوں کی جانبداری ،بدعنوانی اور بد اعمالی بھی در آئی ہے ۔لازمی ہے کہ اس بدی کو پوری بے رحمی سے کچل دیا جائے میں یہ بات یہاں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کسی قسم کی دلالی اور قرابت مندو ں کی طرف داری یا کسی طرح بھی براہ راست یا بالواسطہ اثر انداز ہونے کی کوئی صورت میرے سامنے آئی تو میں ہرگز ہرگز برداشت نہیں کروں گا ©“ قائد اعظم ؒ کا یہ طویل فرمان لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے کرپٹ مافیا کو قائداعظم کی بصیرت افروز باتوں کا احساس دلایا جائے اور ان کو شرم دلوائی جائے اور اگر کرپٹ عناصر کو شرم نہ بھی آئے تو کم ازکم آج کے پاکستان کے ذمہ دارو ں کویہ یاد کروادیا جائے کہ اس ملک کے بانی نے رشوت ستانی، بدعنوانی اور اقرباءپروری کو کس حد تک ناپسند کیا ہے اور اس کے خاتمے کو کس قدر ضروری اور اہم قرار دیا ہے ۔
آج دنیا بھر میں کرپشن ہورہی ہے اور پاکستان میں تو اس نوعیت کی کرپشن ہورہی ہے کہ اس ملک کے مقتدر طبقے خود اس میں اس طرح ملوث ہیں کہ وہ ملک کا سرمایہ ہی ملک سے باہر لے جارہے ہیں اور اوپر سے انتہائی ڈھٹائی سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اپنی نیک کمائی وہ جہاں چاہے لے جاسکتے ہیں وہ کوئی قانوناً جرم نہیں کر رہے ۔کبھی کبھی بوکھلا کر تردید بھی کر دیتے ہیں ۔کرپشن کی وجہ سے بڑے بڑے عہدوں، اہم آسامیوں پر نااہل اور یہاں تک کے فرض نا شناس اور ملک دشمن براجمان ہو چکے ہیں ۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں جعلی شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں ۔ان کارڈوں کی مدد سے جعلی بھرتیاں ہو چکی ہیں ۔غیر پاکستانی ،پاکستانی بن چکے ہیں ۔مجرم اور دہشت گرد شرفاءمیں شامل ہو کر جرم بھی کر رہے ہیں اور دہشت گردی بھی ۔ ملکی خزانے کو بھی لوٹا جارہا ہے اور مقدس ترین قومی اخلاقی روایات کا جنازہ بھی نکالا جارہا ہے ۔ سرکاری اداروں میں روز انہ کروڑوں کی کرپشن ہورہی ہے ۔قیام پاکستان سے کر آج تک جاری کرپشن کے اس مکروہ کھیل کا نتیجہ دہشت گردی کی صورت میں قوم بھگت رہی ہے ۔ اس کھیل کے نتیجہ میں ایک اور ظلم یہ ہورہا ہے کہ ملک کا اعلیٰ ترین اور قابل دماغ یعنی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ طبقہ ڈاکٹر ، انجینئر ،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ، علم و ہنر کے اکثر درخشندہ ستارے جو کہ پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہیں ملک سے باہر جاکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ کیونکہ وہ ملک میں موجود کرپشن ،بدعنوانی ،اقرباءپروری اور سفارشی کلچر سے سخت مایوس ہو کر یہاں سے جارہے ہیں اور اگر پچھلے دس سالوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ اس عرصہ میں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہنر مند اور قابل فخر دماغ ملک سے باہر جا چکے ہیں ۔ گو کہ وہ نام تو ملک کا روشن کر رہے ہیں لیکن کام وہ دوسرے ملکوں کے لئے کر رہے ہیں جو ملک انہیں ان کی قابلیت اور اہمیت کے مطابق معاوضہ اور مراعات دے رہے ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ خاکروب سے لے کر اعلیٰ ترین حکومتی عہدیدار تک کوئی بھی اہلکار اور صاحب اختیار اس امر سے انکار نہیں کر سکتا کہ ملک کرپشن کے عفریت میں جکڑ چکا ہے اور اگر کوئی ایک اہلکار یا صاحب اختیار خود کو ذاتی طور پر کرپشن سے پاک ثابت کر بھی دے تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ایک رشوت خوردہ نظام میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے جہاں ایک سرکاری ٹیبل سے اگر فائل رشوت کے بغیر دوسرے سرکاری ٹیبل تک چلی گئی ہے تو دوسرے یا تیسرے سرکاری ٹیبل کو عبورکرنے کے لیے اسے کرپشن کا پہیہ لازمی لگانا پڑتا ہے ۔ یہاں قانون بھی عام آدمی اور خاص آدمی کو علیحدہ علیحدہ سمجھتاہے بااثر طبقے قانون کو ہاتھ میں اسی لئے لیتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ بالآخر قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے ۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved