تازہ تر ین

”سی پیک“ کو کالا باغ بنانے کا منصوبہ

ناصر نقوی …. جمع تفریق
بات تلخ ہے لےکن اسفند ےار ولی نے عےدالالضحیٰ کے موقعے پر کارکنوںکے اجتماع مےں اےک بار پھر دوہرا دی ہے کہ اگر پختونوں کا حق چھےنا گےا تو پھر ”سی پےک “منصوبے کو ہی ”پےک “کر دےں گے جس زورو شور سے اس منصوبے پر عملدآمد اور اسکے مستقبل سے امےدےںوابستہ کی گئےں ہےں ان مےں اسفند ےار ولی کا ”عےد قربان “پر جارحانہ خطاب اےک سوالےہ نشان بن کر ابھرا ہے ابھی چند روز پہلے خےبر پختونخوا کے وزےر اعلیٰ پروےز خٹک نے ےقےن دہانی کرائی تھی کہ خدشات اور تحفظات پر دو ٹوک بات چےت اور مسلسل لڑائی سے پختونوں کوان کا جائز حق مل گےا ہے ‘سوچنے کی بات ےہ ہے کہ پھر بھی اسفند ےار ولی نے صدائے احتجاج بلند کردی اس لئے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت اور وزےر اعظم نواز شرےف فوری طور پر اسکا نوٹس لےںکےونکہ قبل ازےں بھی ےہ دھمکی دی گئی تھی کہ سی پےک کو کالا باغ ڈےم بنا دےا جا ئے گا۔اس ڈےم کے منصوبے کو سےاسی سکےنڈل بننے سے جس قدر مملکت پاکستان کو نقصان ہوا اس کا ازالہ ناممکن ہے اس لئے قوم ےہ نقصان برسوں بھگتے گی حالانکہ ”کالا باغ ڈےم “بھی کسی بھی طرح سےاسی مسئلہ نہےں تھا اس انتظامی مسئلے کو مناسب طرےقے سے حل نہےں کےا گےا اور ہمارے چندعاقبت نااندےش سےاستدانوں نے اس کوتا ہی سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اس حد تک متنازعہ بنا دےا کہ آج سندھ اور خےبر پختونخوااسکا نام تک سننے کو تےار نہےں ‘سابق چےئر مےن واپڈا نوشہرہ کے رہائشی شمس الملک اپنی پےر رانہ سالی مےں بھی اس کی وکالت کرتے نہےں تھکتے ‘وہ پوری ذمہ داری اور حقائق کی نشاندہی کرنے کے باوجود اپنی پختون قوم کے رہنماﺅں کو قائل نہےں کر سکے تو پھر انہےں کون منا سکے گا ”کالا باغ ڈےم “کی ابتدائی کارروائےاںہی مکمل نہےں کی جا چکی تھی بلکہ وہاں موجود بھاری مشےنری اور قومی سرماےہ کا نقصان ہماری اجتماعی بے حسی اور بے بسی کی تصوےر بنا ہوا ہے اس لئے مملکت خداداد پاکستان اور ا س مےں بسنے والوں کی ترقی و خوشحالی کے اس نئے منصوبے ”سی پےک “کے خدشات و تحفظات کے خاتمے مےں تاخےری حربے استعمال نہےں ہونے چاہےے ،ہمےں اپنے ماضی سے سبق سےکھنا چاہئے لےکن اےسا لگتا ہے کہ ہم نے اپنی جھوٹی ”انا“اور ضدی طبیعت کے باعث کچھ نہ سےکھنے کا تہےہ کر رکھا ہے ۔
پاک چےن اقتصادی راہداری معاہدہ اور اسکی خطےر سرماےہ کاری سے صرف ”پاکستان “کی خوشحالی وابستہ نہےں بلکہ ےہ پورے خطے کی ترقی کا سنہری خواب ہے اور اسکی تکمےل کے لئے ہمارے آزمودہ دوست ”چےن “بھاری بھرکم رقم خرچ کر رہا ہے ’گوادر “کے گہر ے پانےوں کی بندرگاہ مےں وہ پہلے ہی پہنچ چکا ہے اس لئے پاکستان کو پھولتا پھلتا نہ دےکھنے کے خواہشمند دشمن اس تاک مےں بےٹھے ہےں کہ اسے اندرونی اور بےرونی منصوبہ بندی سے کس طرح ناکام کےا جائے ۔ہم ہرگز اسفند ےار ولی کو دشمنوں کی فہرست مےں شمار نہےں کرتے لےکن خدشات اس لئے لاحق ہو جاتے ہےں کہ ان کے باپ دادا پاکستان سے زےادہ بھارت و افغانستان کے گن گاتے پائے گئے اسی لئے ان کے دادا ابا کو بھارتی سرحدی گاندھی کے نام سے پکارتے تھے اور سونے پر سہاگہ ےہ کہ دادا جی عبدالغفار خان نے وصےت مےں بھی مرنے کے بعد سرزمےن پاکستان کی بجائے ”کابل “افغانستان مےںسپرد خاک ہونے کی خواہش کی اور پھر اےسا ہی ہوا ‘اسی طرح ان کے والد محترم خان عبدالولی خان پاکستانی سےاست مےں بھر پور کردار ادا کرنے اور 1973ءکے آئےن پر دستخط کرنے کے باوجود بہت سے معاملات مےں سرحدی گاندھی کی پےروی کی ےہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی کسی نہ کسی طرح اسفند ےار ولی افغانستان کا راگ ضرور الاپتے ہےں تازہ خطاب مےں بھی طور خم اور چمن باڈر کی بندش کو نفرےتےںبڑھانے کی کوشش قرار دےا ہے انہےںاس بات کی بالکل فکر نہےں کہ ان سرحدوںپر سازش کے تحت نہ صرف پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے گئے بلکہ قومی پرچم کو بھی نذر آتش کےا گےا ۔اس ناپسندےدہ حرکت پر ”باب دوستی “کی بندش پر ہی افغانستان کو مجبوراً معافی مانگنا پڑی پھر بھی وہ اس گھمبےر صورت حال کو سمجھنے کے لئے راضی نہےں ‘انہےں بھی شائد برادرانہ پرسکون تعلقات سے زےادہ تجارت اور بارڈرکی نقل و حرکت کی فکر ہے حالانکہ ہم سب پاکستان کی عزت و حرمت کو مقدم سمجھتے ہےں اس لئے کہ ہماری حقےقی پہچان ہی سبز ہلالی پرچم کے سوا کچھ نہےں‘بہر کےف وزےر اعظم نواز شرےف کو اسفند ےار ولی کے تحفظات ہر صورت مےں دور کرنے چاہئے کےونکہ ان کی دھمکی آمےز تقرےر قابل توجہ ہے اس مےں اسفند ےار نے دو بڑے الزامات ےہ لگائے ہےں کہ پختونوں کا حق چھےن کر پنجاب کو دےا جا رہا ہے اور صوبے کی برسراقتدار پارٹی کے سربراہ عمران خان گونگے ،اندھے بہرے بنے ہوئے ہےں بلکہ پتہ نہےں کےوں؟ وزےر اعلی پروےز خٹک مطمئن ہےں ‘جبکہ ان کا دوسرا الزام ےہ ہے کہ وزےر اعظم اپنے وعدوں سے مکر گئے ہےں اگر انہوں نے سی پےک منصوبے مےں معاہدے کے مطابق حق دےنے کی منظوری نہ دی تو پھر وہ اور ان کی جماعت ،کھل کر ”سی پےک “منصوبے کی مخالفت کرے گی ۔جہاں تک وعدہ کرکے بھولنے کی بات ہے تو وزیراعظم ہمےشہ سے اےسا ہی کرتے ہےں اسفند ےا رولی کو اس وقت انہےں بےماری اور خرابی صحت پر ےہ گلہ نہےں کرنا چاہےے تھا لےکن نواز شرےف کے مکرنے کا رےکارڈ ہی اس قدر توانا ہے کہ اسفند ےار ولی نے ےاد دہانی وقت کی ضرورت سمجھی ‘وزےر اعظم کے پرانے دوست چودھری برادران ‘سابق وفاقی وزےر مشاہد حسےن سےد ،سابق سپہ سالار جہانگےر کرامت ،سابق صدر پروےز مشرف ،محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدےر خان ،سابق وزرائے اعلی سندھ مےر ممتاز بھٹو ،غوث علی شاہ اور پاکستانی قوم ان کے اس فن کی گواہ ہے سب جانتے ہےں کہ وہ پروےز مشرف سے دس سالہ معاہدے پر دوست ممالک کی مداخلت پر سعودی عرب گئے تھے لےکن صرف چند سال کی خاموشی کے بعد وہ اس بات سے مکر گئے کہ انہوں نے کوئی معاہدہ کےا تھا حالانکہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے واحد ضمانتی حمزہ شہباز شرےف پاکستان مےں موجود رہے چونکہ حقےقی ضمانتی سعودی عرب ،برطانےہ ،متحدہ عرب امارات معرفت ”امرےکہ بہادر “بہت تگڑے تھے اس لئے معاہدے کی بنےادی شقوں سے انحراف کے باوجود آٹھ برسوں مےں وطن واپسی ہو گئی اور آج تک تحرےری ثبوت کے باوجود ”شرےف خاندان اور نواز شرےف اپنی خواہش پر کئے گئے سفر سعودی عرب کو ”جلا وطنی “بلکہ خود ساختہ نہےں زبردستی جلاوطنی کہتے نہےں تھکتے ‘اس بڑی اور سچی حقےقت پر ان کی تکرار ہے کہ انہےں بے سرو سامانی مےں آمروقت پر وےز مشرف نے جلا وطن کےا اور انہوں نے عالم جلا وطنی مےں سرزمےن حجاز پر انتہائی مشکل حالات مےں گزر بسر کی جبکہ سب جانتے ہےں کہ وہ ”شاہ “کے مہمان تھے اور وہاں عےد ی امےن بھی اسی اندازمےں زندگی گزار رہے تھے جنہےں کوئی گلہ شکوہ نہےں تھا ۔لےکن ےہ بھی حقےقت ہے کہ صاحب اقتدار ہوتے ہی وہ پرانی کہانی بھول گئے اب کہتے ہےں کہ انہوں نے جلا وطنی مےں دوستوں کی مدد و معاونت سے بہترےن کاروبار کئے ”پانامالےکس “ الزامات کے سوا کچھ نہےں ‘ان کے بےٹوں نے باپ دادا کے روائتی انداز تجارت کو رواج دےا اور آج ہم اور ہماری اولادےں دوسروں سے کہےں زےادہ خوشحال ہےں اس لئے لوگ جلتے کڑہتے اور الزامات لگاتے ہےں۔
ہم سمجھتے ہےں کہ ”سی پےک “ خطے اورپاکستانی قوم کی تقدےر بدلنے کا منصوبہ ہے جس کی کامےابی کے لئے تمام سےاسی پارٹےاں ،رہنمائ،سےاسی و عسکری قےادت متفق ہےں اےسے منصوبے قوموں کی زندگی مےں قسمت سے ہی آتے ہےں اس لئے اےسی کوئی رکاوٹ قابل برداشت نہےں جس مےں سی پےک کی ناکامی کا خدشہ لاحق ہو اس لئے اسفند ےار ولی ہو ں ےا کوئی اور خدشات و تحفظات سب کے دور ہونے چاہئے کےونکہ ےہ ملک ،خطے اور دو آزمودہ دوستوں کی کامےابی کا معاملہ ہے ہم کسی بھی صورت اسے ”کالا باغ“کی طرح کھٹائی مےں پڑتے نہےں دےکھ سکتے اس لئے وزےر اعظم مےاں نواز شرےف کو اپنے انداز بدل کر اےک قدم آگے بڑھ کر ان معاملات کا حل تلاش کرنا ہو گا اس وقت اجتماعی ترقی و خوشحالی کی تکمےل کے لئے ہر کسی کو ساتھ لے کر چلنا ہی عقلمندی ہے اس مسئلے مےں بھی نواز شرےف صاحب کو اےک مرتبہ پھر حضرت مولانا فضل الرحمان کی معاونت حاصل کرکے اسفند ےار کی زبان بندی کرنی ہو گی ۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved