تازہ تر ین

پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش شروع 15

ضیا شاہد
عبدالصمد خان اچکزئی آج کے بلوچستان کے پختونخوا ملی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی کے والد تھے۔ انہیں بلوچی گاندھی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ 7 جولائی 1907 کو پیدا ہوئے اور 2 دسمبر 1973 کو کوئٹہ میں فوت ہوئے۔ انہیں خان شہید بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی موت گرنیڈ پھٹنے سے ہوئی تھی۔ آبائی شہر کوئٹہ تھا۔ عبدالصمد خان اچکزئی نے 13 سال کی عمر میں سکول کے بچوں کا جلوس نکالا جو بلوچستان میں انگریزی راج کےخلاف احتجاج تھا۔ وہ اس دور کی تحریک خلافت سے بھی متاثر تھے۔ عبدالصمد خان نے زندگی بھر گاندھی کے فلسفہ عدم تشدد پر عمل کیا اس لئے ان کو بلوچی گاندھی بھی کہا جاتا ہے۔ طلبہ کے اس جلوس کی کامیابی پر کوئٹہ سے پولیٹیکل ایجنٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور عبدالصمد کے سمن جاری کر دئیے۔ عبدالصمد خان کے والدین کو بھی ان کی سیاسی سرگرمیوں پر وارننگ دی گئی۔ عبدالصمد خان کو 28 دن تک کوئٹہ جیل میں رکھا گیا۔ بعد ازاں وہ انجمن وطن کے علاوہ نیشنل عوامی پارٹی میں بلوچستان کے پختون نمائندے کی حیثیت سے سرگرم رہے۔ انہیں برطانوی حکومت اور پاکستان میں 35 برس تک مختلف وقفوں کے ساتھ قید کیا گیا۔ تقسیم ہند کے وقت عبدالصمد خان کی ”انجمن وطن“ بلوچستان کی پہلی سیاسی جماعت کے روپ میں سامنے آئی۔ عبدالصمد خان اچکزئی کانگرس پارٹی بلوچستان کے سرگرم رکن تھے اور انہوں نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی۔ وہ بلوچستان کی مکمل آزادی کے علمبردار تھے بالکل اسی طرح جیسے غفار خان عرف باچا خان سرحد میں آزاد پختونستان کی ریاست کے حامی تھے۔ عبدالصمد گاندھی کے مداح تھے۔ پہلے وہ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور بعدازاں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر رہے۔ وہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے۔ جب انہیں ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعہ دسمبر1973 میں پیش آیا جب بھٹو صاحب وزیراعظم پاکستان تھے۔
عبدالصمد اچکزئی کے بعد ان کے صاحبزادے انجینئر محمود خان اچکزئی پختونخوا ملی پارٹی کے صدر بنے۔ محمود خان کے علاوہ عبدالصمد خان اچکزئی کے دو بیٹے اور تھے جن کے نام یہ ہیں محمد خان اچکزئی، حمید خان اچکزئی۔ محمد خان اچکزئی(جو آج کل بلوچستان کے گورنر ہیں) ، حمید خان اچکزئی (ایم پی اے) ہیں، بیٹی کا نام بی بی خُور ہے۔ محمود اچکزئی آج کل قومی اسمبلی کے رکن اور نواز حکومت کے حامی سیاستدان سمجھے جاتے ہیں۔ عبدالصمد اچکزئی کو بلوچستان کا قوم پرست لیڈر کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں پختون آبادی کےلئے آواز اٹھائی۔ تقسیم ہند سے بھی پہلے وہ ہمیشہ پشتونوں کی آزاد ریاست کے حامی رہے۔ انہوں نے پاکستان میں اسلام آباد کی ”آمریت“ کےخلاف کوشش کی۔ اس لئے الگ پاکستان کے حامیوں نے ہمیشہ انہیں وطن دشمن سمجھا۔ عبدالصمد خان اچکزئی کی وفات ان کے سونے کے کمرے میں دو بم نصب کر کے پورے کمرے کو اڑانے سے ہوئی تھی۔ عبدالصمد خان پاکستان کی مرکزی حکومت کو امپیریلسٹ قرار دیتے تھے۔
ان کا مو¿قف ہمیشہ سے وہی رہا جو غفار خاں کا صوبہ سرحد میں تھا۔ یعنی یہ کہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ ساتھ آزاد پختونستان کےلئے بھی رائے شماری ہونی چاہیے تھی جن میں صوبہ سرحد اور بلوچستان کا پختون ایریا شامل ہو۔ بلوچی گاندھی کا مو¿قف یہ تھا کہ بلوچستان اور سرحد دونوں افغانستان کا حصہ ہیں جس پر انگریزوں نے زبردستی قبضہ کیا تھا۔ اس قبضے کو پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رکھا گیا لہٰذا غفار خان عرف باچا خان کی طرح عبدالصمد بھی بلوچستان کو افغانستان کا حصہ قرار دیتے تھے ۔ اور یہی سوچ لیکر ان کے بیٹے محمود اچکزئی نے گزشتہ دنوں بیان دیا تھا کہ پختونخوا افغانستان کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے پختون ایریا کو محمود اچکزئی خیبرپختونخوا اور افغانستان کا حصہ سمجھتے آ رہے ہیں۔
عبدالصمد خان اچکزئی گلستان تحصیل ضلع کیالہ افغانستان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام نور محمد اچکزئی تھا۔ عبدالصمد خان نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔
1930 میں عبدالصمد کو آزاد ریاست کے لئے منظم سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ 1931ءمیں رہا ہوئے تو عبدالصمد بمبئی چلے گئے۔ جہاں ان کی ملاقات گاندھی سے ہوئی۔ جو لندن جا رہے تھے تاکہ گول میز کانفرنس میں شرکت کر سکیں۔
عبدالصمد خان نے بلوچستان کی پختون آبادی کی نمائندگی کرتے ہوئے سرحد کی خدائی خدمت گار پارٹی سے اشتراک عمل کیا۔ 1938ءمیں اخبار استقلال کوئٹہ میں عبدالصمد کے خیالات پر مبنی انٹرویو شامل ہے۔
1939ءمیں عبدالصمد اچکزئی نے عبدالغفار خان عرف باچا خان سے مل کر دورے شروع کئے اور پختون آبادی کےلئے پختون آزاد وطن کی تحریک چلائی۔ 1942ءمیں کانگرس نے انگریز کےخلاف مہم شروع کی تو عبدالصمد نے بلوچستان سے اور غفار خان نے سرحد سے اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس سے قبل 1932ءمیں عبدالصمد خان نے آل انڈیا بلوچ کانفرنس بھی بلائی تھی جو حیدرآباد میں منعقد ہوئی اور بعدازاں کراچی میں بھی اجلاس ہوا۔ 1938ءکے دوران ہی عبدالصمد نے کوئٹہ سے ہفت روزہ اخبار استقلال شروع کیا جو پختون آبادی کا ترجمان تھا۔ یہ اخبار 1950ءمیں حکومت پاکستان نے نفرت انگیز مواد کی اشاعت کی بنا پر بند کر دیا۔ انہوں نے جرگہ اور سرداری نظام کے لئے بڑی جدوجہد کی۔ 1929ءمیں قائداعظم نے بلوچستان کے الگ صوبے کی حمایت کی اور 14 نکات پر مشتمل پروگرام پیش کیا۔ بلوچستان میں 39ءمیں مسلم لیگ قائم کی گئی جس کے سربراہ قاضی عیسیٰ تھے۔ جب سرحد میں پاکستان کےلئے ریفرنڈم ہوا تو بلوچستان میں شاہی جرگہ کو یہ فیصلہ کرنا تھا۔ عبدالصمد خاں کوئٹہ میونسپلٹی کے غیرسرکاری ممبر تھے جنہوں نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی اور اجلاس میں پاکستان کےخلاف ووٹ دیا۔ غوث بخش بزنجو نے بھی ان کا ساتھ دیا جبکہ مسلم لیگ کیمپ کو نواب جوگزئی ، میر جعفر خان جمالی اور قاضی محمد عیسیٰ لیڈ کر رہے تھے۔ اس طرح بلوچستان کا صوبہ ہی پاکستان میں شامل ہوا۔ عبدالصمد اچکزئی کو افغانستان کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں 48ءمیں گرفتار کیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے غفار خاں اور جی ایم سید سے ملاقاتیں کیں۔
(جاری ہے)


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved