تازہ تر ین

ڈاکٹر فاروق ستار کا امتحان

مختار عاقل …. دوٹوک
کراچی میں ”آپریشن کلین اپ“ کے ذریعے شہر قائد کو رگڑ رگڑ کر دھویا جارہا ہے۔ پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر اور اقتصادی حب کا چہرہ نکھارا جارہا ہے۔ عروس البلاد کہلانے والے اس شہر کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنایا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے۔ پاکستان کے عظیم اور قدیم دوست ملک چین کے ساتھ ”سی پیک“ کی تکمیل کے لئے راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ اور جلیل القدر فرزند جنرل راحیل شریف نے سی پیک کی تکمیل کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ کراچی کو صاف کرنا اور جرائم‘ دہشت گردی‘ بدامنی سے پاک کرنا بھی اس پلان کا حصہ ہے ‘ ماضی میں حکمرانوں کی ضرورت نے سیاسی جماعتوں میں جرائم پیشہ افراد کی شمولیت کو کھلا راستہ فراہم کیا تھا۔ جنرل ضیاءالحق نے 1977 ءمیں 90 دن کے لئے اقتدار سنبھالا تو حکمرانی کی دلفریب رنگینیوں نے انہیں اپنے جال میں جکڑلیا۔ نیت بدل گئی۔ اقتدار کو طول دینے کا منصوبہ بنا تو سب سے پہلے کراچی کو نشانہ بنایا۔ پورے شہر کی آبادی کو لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرکے خون میں نہلا دیا۔ 1982ءمیں کراچی کے ایک صنعتکار کی رہائش گاہ پر انتہا پسند علماءکو جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اہلسنت کے نام سے تنظیم بنائی گئی جس کے ذریعے شیعہ سنی فسادات کرائے گئے۔ کراچی کے ڈی ایم ایل اے اس تنظیم کی سرپرستی میں پیش پیش تھے۔ پھر لسانی تقسیم شروع ہوئی اور 1985 ءمیں سرسید گرلز کالج کی طالبہ بشریٰ زیدی کی ٹریفک حادثہ میں ہلاکت کے بعد لسانی فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہا حتیٰ کہ 17 اگست 1988 ءکو اس خونی پالیسی کے سب سے بڑے محرک ضیاءالحق طیارہ کے حادثہ میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے بعد آنے والی حکومتیں بھی سیاسی مصلحتوں اور مفادات کی شکار رہیں اور کراچی میں سیاسی جماعتوں کی آڑ لے کر جرائم پیشہ دندناتے رہے۔ لیاری‘ ملیر اور گڈاپ کے علاقے ٹیکساس بنے تو شہر کے دیگر علاقے بھی گیلی لکڑی کی طرح دھواں دیکر آلودگی پھیلاتے رہے۔
جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنے‘ سی پیک شروع ہوا تو پالیسی بدل گئی۔ اب اصل ہدف جرائم ‘ دہشت گردی اور کرپشن کا صفایا بن گیا۔ وفاق اور صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں بن گئیں جن میں علاقائی کورکمانڈر اور رینجرز کے سربراہان بھی شریک ہیں۔ برسراقتدار پارٹیوں کی بجائے ایپکس کمیٹیاں فیصلے کرنے لگیں۔ سندھ میں اختیارات حاصل کرنے کے لئے رینجرز کو بڑی جدوجہد کرنا پڑی لیکن عسکری قیادت کے عزم صمیم کے آگے سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو ہتھیار ڈالنا پڑے۔ کراچی کے بعد اب پنجاب میں بھی جرائم اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے ”کومبنگ آپریشن“ کامیابی سے جاری ہے۔ کراچی آپریشن کا ہدف صرف جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ہی نہیں ہے بلکہ ان نفسیاتی اور سیاسی عوامل کا خاتمہ بھی ہے جن کی آڑ میں جرائم پیشہ فائدہ اٹھا کر سیاسی جماعتوں کی ضرورت بن جاتے ہیں۔ 1980 ءکی دہائی میں شروع ہونے والے لسانی فسادات کا ایک بڑا سبب ”مہاجر۔ پختون تضاد“ بھی تھا۔ حالانکہ ان دونوں برادریوں میں کوئی معاشی ٹکراﺅ نہیں ہے۔ دونوں الگ الگ پیشوں سے وابستہ ہیں لیکن بعض واقعات کے ذریعے دونوں برادریوں میں عدم تحفظ کا احساس جگایا گیا اور دونوں اپنے تحفظ اور بقا کے لئے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوئے۔ نئی عسکری قیادت اور تھنکرز نے ساری صورتحال کا جائزہ لے کر ”مہاجر پختون مخاصمت“ کے خاتمہ کا بیڑہ اٹھایا۔ سب سے پہلے لیاقت بنگش جیسے خطرناک گینگسٹرز کا خاتمہ کرکے مہاجر آبادی میں احساس تحفظ پیدا کیا گیا ۔ لیاقت بنگش جیسے لوگ اے این پی کی آڑ میں جرائم کی سلطنت چلا رہے تھے۔ اے این پی کے سینیٹر شاہی سید نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ اے این پی کے بعد ایم کیو ایم کا نمبر آگیا۔ اس آپریشن میں ایک جانب نچلی سطح تک صفائی کا آغاز ہوا تو دوسری طرف سابق میئر کراچی مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی سربراہی میں پاک سرزمین پارٹی وجود میں آگئی۔ آپریشن سے بچنے کے لئے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو متبادل پلیٹ فارم میسر آگیا۔ رضا ہارون اور ڈاکٹر صغیر صدیقی جیسے ایم کیو ایم کے کئی دیوقامت رہنما پی ایس پی میں شامل ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے لئے آخری جھٹکا ایم کیو ایم کے بانی و قائد کا 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر کارکنوں سے خطاب ثابت ہوا جس میں پاکستان کے خلاف باتیں شامل تھیں کارکنان نے اسی نوعیت کے نعرے بھی لگائے جس پر ہنگامہ ہوا۔ مشتعل کارکنوں نے دو ٹی وی چینلز پر حملہ کیا۔ ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستاراورسندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری عمل میں آئی جنہیں دوسرے دن ہی رہا کردیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے ایم کیو ایم کو بچانے کا فیصلہ کیا اور اعلان کردیا کہ اب ایم کیو ایم لندن سے کوئی ہدایت نہیں لے گی۔ سارے فیصلے پاکستان میں کرے گی۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے بانی کے خطاب سے بھی اظہار لاتعلقی کردیا۔
ابھی عوام الناس ان کے اعلان کی صداقت جاننے کے لئے بحث مباحثہ میں ہی الجھے ہوئے تھے کہ 16 ستمبر کی شام خواجہ اظہار الحسن کو پھر گرفتار کرلیا گیا ان پر 12 مئی 2007 ءکے واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے جب سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کی حمایت میں کراچی کو بند کرکے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا تھا اور متعدد ہلاکتیں ہوئی تھیں‘ ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار اس کیس کی تحقیقات کررہے تھے لیکن کراچی کے پسماندہ اور زرعی ضلع ملیر کے ایس ایس پی راﺅ انوار سے کس نے کہا تھا کہ جاکر ایم کیوایم سے ہاتھاپائی کرو۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کو ہتھکڑیاں پہناﺅ اور معطل ہوجاﺅ۔ 16 ستمبر کی شام کراچی کی سیاست میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب ایس ایس پی راﺅ انوار نے خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر ایک ہی دن میں دوسرا چھاپہ مار کر ایم کیو ایم رہنما کو نہ صرف گرفتار کرلیا بلکہ ہاتھوں میں رسی باندھ کر کافی حد تک سڑک پر گھسیٹا بھی گیا۔ قبل ازیں ایم کیو ایم کے ایک رہنما عامر خان کو بھی اسی طرح ہاتھوں میں رسی باندھ کر کھینچا گیا تھا۔ ریاستی اداروں کی جانب سے سیاستدانوں اور پارلیمنٹرینز سے اس نوعیت کا سلوک عموماً منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور متاثرہ فریق کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کرتا ہے عوام کی غالب اکثریت ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہوتی ہے۔ خواجہ اظہار الحسن کو تو 5 گھنٹے بعد ہی رہائی مل گئی لیکن ایم کیو ایم کو سیاسی طورپر خوب فائدہ ہوا وزیر اعظم میاں نواز شریف‘ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد‘ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سب حرکت میں آگئے۔ خواجہ اظہار الحسن کو رہائی اور راﺅ انوار کو رسوائی ملی ایس ایس پی نہ رہے معطل ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے خلاف 1991 ءمیں بھی آپریشن ہوا تھا۔ اس وقت مرحوم صدر ایوب خان کے فرزند گوہر ایوب خان کا ایک بیان تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”اگر حکومت سنجیدگی سے کراچی کے مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو سندھ کی وزارت اعلیٰ ایم کیو ایم کے سپرد کردی جائے۔ حکومت مہاجروں کی نمائندگی کے نام پر مذاق کررہی ہے۔ این ڈی خان‘ رضا ربانی اور کمال اظفر کو عہدے دیکر مہاجروں کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کو حقائق سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے۔ آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ سندھ کا وزیر اعلیٰ سندھی ہی ہوگا۔ کراچی کے مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا“۔ گوہر ایوب خان نے یہ بات محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران کہے تھے۔ اس وقت وہ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر تھے۔ انہوں نے سندھ کے شہری علاقوں میں آباد (اردو برادری) مہاجروں کے احساس محرومی اور اس کے بطن سے پھوٹنے والی ایم کیو ایم کی تحریک کے پس منظر میں یہ بیان دیا تھا۔ خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری و رہائی نے ایم کیو ایم کو نئی قوت اور پذیرائی بخشی ہے۔ ایم کیو ایم کے نئے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو نئی توانائی عطا کی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح ایم کیو ایم کی دھڑوں میں تقسیم کا عمل جاری ہے تو دوسری طرف ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی کو بیرونی اور اندرونی حملوں سے بچانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایم کیوایم کے 200سے زائد دفاتر گرانے کے بعد پیپلزامن کمیٹی کے4 دفاتر بھی منہدم کردیئے ہیں۔ گینگ وار سربراہ عذیر بلوچ کا فارم ہاﺅس بھی تہس نہس کردیاگیا ہے۔ یہ سب سندھ میں قانون کی حکمرانی اور حکومت کی رِٹ قائم کرنے کیلئے کیاجارہا ہے اور سی پیک کیلئے ”پرامن پاکستان“ کی شرط پوری کی جارہی ہے۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved