تازہ تر ین

سرائیکستان کے حامیوں کے نام

رانا تصویر احمد….بحث ونظر
جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لیے ایک طویل عرصہ سے بحث و مباحثہ چلتا آ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسلم اکرام زئی کے کالم ”سرائیکستان خبریں کے نام ایک کھلا خط“ سے اس بحث کا پھر گرما گرم آغاز ہوگیا ہے۔ اس کے جواب میں ظہور دھریجہ کا کالم ”جواب حاضر ہے“ بھی منظر عام پر آ گیا۔ اگر دونوں کالموں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو دونوں مضامین میں دونوں مصنفیں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے۔ اور بات کسی حد تک مغلظات تک بھی جا پہنچی ہے۔ ہوسکتا ہے ان دونوں کالموں کا سبب ان دونوں اصحاب کا کوئی ذاتی مسئلہ ہو لیکن صوبہ کے حصول کے لیے غیر سنجیدہ رویہ بالکل ناقابل برداشت ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ صوبہ کا حصول کس بنیاد پر مطالبہ بن گیا اور تحریک بنتا چلا گیا اور ہمیں ان تمام پہلوﺅں پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ہمیں علیحدہ صوبہ کیوں چاہیے۔ یہ تو طے شدہ بات ہے کہ کہ بہت سے انتظامی امور اور حقوق کی پامالی ہونے کی وجہ سے اس خطے کا ہر شخص الگ صوبہ کے قیام کا متمنی ہے۔ لیکن معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ مجھ سمیت تمام لیڈر شپ صوبہ کے حصول کے لیے سنجیدگی سے کام کے بجائے اپنے گندے کپڑے چوک میں دھونا شروع کردیتی ہے جس کی وجہ سے جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
میرا مخاطب ظہور دھریجہ صاحب خاص طور پر اس لیے ہیں کہ وہ بھی صوبہ کے حصول کے سلسلے میں ایک تحریک کے صف اول کے قائد ہیں۔ ان کے اپنے نظریات ہیں، اپنا نقطہ نظر ہے، اپنا موقف ہے۔ جس سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن یہ حق کسی کو بھی نہیں کہ وہ کسی کے بھی نظریہ یا موقف سے انکار کردے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔
آبادی میں اضافہ، انتظامی امور، اور حقوق کی پامالی بلاشبہ ایسے مطالبات ہیں جن سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ بحث کا آغاز ہوتا ہے، صوبہ کا نام رکھنے سے۔ ظہور دھریجہ اور دیگر دوستوں کا موقف ہے کہ صوبہ کا نام سرائیکستان ہونا چاہیے اور اس کے لیے ان سب کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ چونکہ سندھ، پنجاب، پختونخواہ، بلوچستان میں ہی اس کا جواب موجود ہے۔ صوبہ کا نام رکھنے کے کچھ بنیادی اصول و ضوابط ہیں اور آج تک کی سماجی تاریخ میں ہمیں بے شمار جگہ اس کی مثال ملتی ہے۔ اگر ان اصول و ضوابط کا توازن کہیں بھی بگڑا ہے تو معاملات خراب ہی ہوئے ہیں۔ کسی بھی صوبہ کا نام تجویز کرنے کے لیے ان چیزوں کا خیال ہر صورت رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہیے۔
وادی ، دریا، جنگل، پہاڑی سلسلہ، تہذیب و ثقافت، اکثریتی قبائل، تاریخ ، بودوباش، مذہب اور لسانی حوالے۔ اب میں ”ثناءخوان تقدیس مشرق“ سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کرسکتا ہوں کہ کیا لفظ ”سرائیکستان“ ان میں سے کسی بھی ایک مسلمہ اصول پر پورا اترتا ہے؟ کیا کوئی دریا، کوئی جنگل، کوئی پہاڑی سلسلہ، کوئی تہذیب و ثقافت، کوئی اکثریتی تو دور کی بات ایک بھی قبلہ ایسا ہے جو خود کو سرائیکی لکھتا ہو؟ ریونیو کے ریکارڈ میں کہیں بھی آج تک میری نظر سے نہیں گزرا جہاں لکھا ہو فلاں ولد فلاں قوم سرائیکی۔ اگر ایسا کوئی قبیلہ کہیں وجود رکھتا ہے تو مجھے ضرور آگاہ کیجئے گا۔
سندھ کا نام سندھ دریا اور تہذیب کی بنیاد پر رکھا گیا ہے اور اس کی قدامت کے گن بہت سی جگہوں پر آپ گاتے بھی رہے ہیں اور قائل بھی ہیں۔ قدیم تاریخی حوالوں میں جب ویدوں کا دور تھا جب پہلے پانچ اور پھر سات ریاستوں کا ذکر آتا ہے تو اس میں سندھ ہمیں نظر آتا ہے۔ پنجاب کو بھی پنجاب ن لیگ والوں نے نہیں بنایا اس کے پیچھے بھی صدیوں کی تاریخ موجود ہے۔ پختون اور بلوچ مذکورہ صوبوں کے اکثریتی قبائل ہیں۔ بلوچستان کا نام محض اس وجہ سے رکھا گیا تھا کہ وہاں بلوچوں کے ایک سو بیس قبائل آباد ہیں۔ لیکن یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ان ہی عوامل کی بنیاد پر وہاں پرموجود ہزارہ کمیونٹی اور پشتون کمیونٹی کا زندگی گزارنا محال ہے۔ اگر صرف اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی قوم راجپوت اکثریتی قبیلہ ہونے کا دعویٰ کردے کہ صرف جنوبی پنجاب میں راجپوتوں کے 360 قبائل آباد ہیں تو کیا آپ ان کا یہ حق تسلیم کرلیں گے؟ آپ نے بلتستان کا ذکر بھی اسی پیرایہ میں کیا ہے۔ آپ یقینا بلتیوں کی تاریخ سے واقف ہوں گے۔ اگر نہیں تو فوراً ہنزہ وادی جائیں وہاں آپ کو بلتت اور التت نام کے دو قلعے ملیں گے وہاں پر موجود گائیڈ آپ کو تمام تاریخی حوالے بتادیں گے کہ ان دو قلعوں کی اور ان کے باسیوں کی کیا داستان ہے اور کیوں اسے بلتستان کہا جاتا ہے۔
آپ کو اختیار حاصل ہے کہ آپ اپنے مطالبہ اور صوبہ کا نام جو مرضی رکھیں لیکن کچھ زمینی حقائق کو ضرور مد نظر رکھیں۔ پہلے تو آپ یہ ثابت کریں کہ آپ سرائیکستان نام اس وجہ سے تجویز کر رہے ہیں کہ بقول آپ کے اس خطہ میں رہنے والے تمام لوگ سرائیکی ہیں۔ اگر نہیں ہیں تو انہیں سرائیکی بننا پڑے گا۔ اگر وہ سرائیکی بننے پر راضی نہیں ہیں تو وہ یہاں سے ہجرت کر جائیں۔ یہاں تک کہ اپنی قبریں بھی اکھاڑ کرلے جائیں۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ یہ الفاظ آپ کی ایک تقریب میں کہے گئے جو پریس کلب ملتان میں ہوئی تھی۔ اس تقریب میں میں بھی بطور مہمان موجود تھا۔ یہ انداز گفتگو اور لہجہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوتا لیکن عوام اور خطہ کے بہترین مفاد میں برداشت کرنا پڑ جاتا ہے۔
آپ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر زکریا یونیورسٹی میں سرائیکی ریسرچ سنٹر قائم کروا لیا۔ آپ گزشتہ پانچ سال کا ڈیٹا قارئین کے سامنے رکھیں گے کہ اس سنٹر نے ریسرچ کا کام کیا ؟ یا یہ بھی کسی وقت میںہی قارئین کے سامنے رکھوں؟ اس خطہ میں دو یونیورسٹیاں ہیں۔ ایک میں علاقائی زبانوں کی ترقی‘ تحقیق اور تخلیق کیلئے جو ادارہ قائم کیا گیا اس کو ایک زبان تک محدود کیوں کر رہے ہیں جبکہ اس خطہ میں 20 سے 26 زبان اور لہجوں پر مشتمل تہذیب وثقافت موجود ہیں۔ ان کا تحقیقاتی کام کون کرے گا یا آپ بزور بازو ان تمام تہذیب وثقافت کو سرائیکی بنا دینا چاہتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کہ آپ ملتان کی تمام قدامت اور تمام تاریخ کو محض اپنے تصوراتی دنیا میں رہتے ہوئے ملتانی کی جگہ سرائیکی لکھ کر سنگین تاریخی غلطی کر رہے ہیں جس کیلئے آپ جوابدہ ہیں۔
1947ءسے آج دن تک بالخصوص پنجاب اور بالعموم وفاق کے تمام اقتدار والے لوگوں کی لسٹ سامنے رکھیں اور بغور مطالعہ فرمائیں۔ وزیراعظم ‘ صدر‘ وزیراعلیٰ‘ گورنر‘ سپیکر اور لاتعداد وزراءاہم وزارتیں‘ اداروں کے سربراہ اسی خطہ سے تعلق رکھتے تھے او ر ہیں وہ سب الگ صوبہ یا خطہ کیلئے کیا کچھ کرسکے۔
کیا آپ ہی بتانا پسند کریں گے کہ اس خطہ سے کل کتنے ممبران قومی صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں؟ یہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ کیا انہیں صوبہ نہیں چاہیے؟ خواہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ وہ ایسا کردار کیوں ادا نہیں کرتے۔ کیا ان منتخب نمائندوں نے کبھی ایک جگہ اکٹھا ہوکر صوبہ کے حصول کی بات کی؟
اب آتے ہیں آبادی کی تقسیم پر آپ حضرات کے مضامین تقاریر میں سات سے آٹھ کروڑ سرائیکی کا راگ الاپا جاتا ہے۔ کونسی مردم شماری یا ریفرنڈم کے تحت آپ نے یہ آبادی کا تخمینہ لگایا ہے۔ نئے صوبے کے حصول کیلئے تین ڈویژن ملتان‘ بہاولپور اور ڈی جی خان تو ہر تحریک کا مطالبہ میں شامل ہے۔ آپ کی ہی بات بڑی کرتے ہیں۔ چلو مان لیا کہ اس خطہ کے رہنے والے لوگوں میںاکثریت بقول آپ کے سرائیکی بھائیوں کی ہی ہے۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟بہاولپور ڈویژن جس کے تینوں اضلاع رحیم یار خان‘ بہاولنگر اوربہاولپور میں تمام سرائیکی ہیں؟ پوری تسلی سے جواب دیجئے گا۔ ملتان ڈویژن اور ڈی جی خان کی صورت حال بھی قطعاً مختلف نہیں ہے۔
کوئی ایک ضلع تحصیل ٹاون کمیٹی ایسا نہیں ہے جس کے رہنے والے لوگوں میں مکمل طور پر آپ کے ہم خیال ہی رہتے ہوں یا کم ازکم پچاس فیصد ہی لوگ آپ کے ہم خیال ہوں۔ بقول آپ کے سات کروڑ آبادی کا پچاس فیصد بھی ساڑھے تین کروڑ لوگ رہتے ہیں۔ کتنے لوگ آپ کے ساتھ ہیں؟ جو کہتے ہیںہمیں صوبہ زبان کی بنیاد پر چاہیے کیونکہ زبان کے علاوہ تو کوئی دلیل آپ کے پاس ہے نہیں۔ آپ یہ بات کسی صورت بھی تسلیم نہیں کریں گے کہ آپ کے اس مطالبہ کے ساتھ خود آپ کی زبان بولنے والے 98 فیصد لوگ بھی آپ سے متفق نہیں ہیں۔
یادش بخیر10 جون 2012ءکو ملتان کے ایک مقامی ہوٹل میں ہم نے آل پارٹیز کانفرنس کروائی تھی۔ تمام سیاسی پارٹیاں‘ نمائندہ تنظیمیں‘ وکلائ‘ کلرکس ایسوسی ایشن‘ اقلیتی جماعتیں اور صوبہ کے حصول کیلئے کام کرنےوالی تمام جماعتیں بھی اس کانفرنس میں شامل تھیں۔ تمام 45 جماعتوں میں سے صرف 2 جماعتیں ایسی تھیں (جن میں ایک جماعت دھریجہ صاحب کی تھی) جنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں صوبہ زبان کی بنیادپر چاہیے۔ اسی گول میز کانفرنس کی ویڈیو اور دستخظ شدہ دستاویز جو ”اعلان ملتان“ کے نام سے ترتیب دی گئی تھی موجود ہے۔ جب حکم کریں گے پیش کردوں گا۔ ایک اور پہلو جو اکثر آپ کی جانب سے ریکارڈ کا حصہ ہے وہ یہ کہ شخص یا پارٹی آپ کے حق میں بیان دیتی ہے تو وہ ٹھیک ہے اوراگر آپ کی رائے سے اختلاف کرلے تو اس کو تبرا آپ وقتًا فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ اپنے مخالفین کو ایجنسیوں کا نمائندہ قرار دیتے رہتے ہیں لیکن کبھی غور کیا گیا کہ آپ پر بھی کبھی ملکی ایجنسیوں کا نمائندہ ہونے کا الزام کسی نے لگایا؟ جب بھی لگا غیر ملکی ایجنسیوں کا نمائندہ ہی کہا گیا۔ الزام میں نہیں لگا رہا یہ الزام بھی متعدد بار ریکارڈ میں ہی ملتا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا میری جماعت کے سینئر وائس چیئرمین اختر قریشی نے وفات سے محض تین دن پہلے ایک دعوت کی تھی جس میں دھریجہ صاحب آپ موجود تھے اور آپ نے تسلیم کیا تھا کہ صوبہ کے حصول کے لئے اس خطہ میں رہنے والے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ پر اکٹھا ہونا ہوگا اور ہم سب کو مل کر صوبہ کے حصول کیلئے کاوش کرنا ہوگی۔ خدا را یہ نفرتوں کے بیج بونا بند کریں۔ ہم لوگ مزید تعصبات کا شکار نہیں ہوسکے۔ اس خطہ میں رہنے والے تمام لوگ آپس میں بھائی ہیں یہاں کوئی سرائیکی ‘ پنجابی‘ آباد کار‘ مہاجر‘ پناہ گیر یا کسی دیگر شناخت کا حامل نہیں ہے۔ ہم سب ایک ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں۔ ایک نیا معاشرہ تشکیل پاچکا ہے۔ سب کی خوشی غمی ایک ہے۔ آپس میں رشتہ داریاں ہوچکی ہیں۔ سب مل جل کر رہتے ہیں آپ اپنے مطالبات پر غور فرمائیں اور آئیں مل جل کر ہر تعصب سے پاک نئے انتظامی صوبہ کے حصول کی تحریک کا حصہ بنیں۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved