تازہ تر ین

بکرا عید کی باقیات

زاہد مسعود …….. نمکپارے
عید قربان تو گزر گئی مگرگھر گھر اپنی کہانیاں چھوڑ گئی ہے۔ لوگوں نے عید کے بعد بھی دو دن بکروں کی تلاش میں صرف کئے کہ ان کے ریٹ آسمان سے زمین پر آ گئے تھے۔ ویسے آہستہ آہستہ بکروں کی جگہ ویہڑیوں اور ویہڑوں نے لے لی ہے کہ تین آدمی مل کر بھی خریدیں تو بکرے سے پھر بھی کم قیمت پر فریضہ ادا ہو جاتا ہے۔ اگر سات حصوں والی گائے میں شمولیت ہو تو پھر کمال ہی ہے۔ کم خرچ بالانشیں!!
اس مرتبہ مولانا حضرات نے قربانی کے پیسے ضرورتمندوں کو دینے کے تصور کی سخت نفی کی اور جواز یہ فراہم کیا کہ اللہ کو آج کے دن خون بہانا بہت پسند ہے۔ اس لئے قربانیوں کے جانوروں پر چھری چلانے کے مناظر کی فلمیں موبائل فونز پر بنا کر کثرت سے اپ لوڈ کی گئیں تاکہ اللہ کی راہ میں خون بہانے کی گواہی دی جا سکے۔ مگر یہ رجحان یعنی تڑپتے ہوئے اور گلا کٹاتے ہوئے جانداروں کے مناظر کی فلمیں بنا کر اپ لوڈ کرنا کس قدر اسلامی فعل ہے یہ تو ماہرین مذہبیات ہی بتا سکتے ہیں مگر اس کے سماجی خطرات بہت زیادہ لاحق ہو سکتے ہیں…. کہ بکرا نہ ملنے کی صورت میں چھری کا رخ معصوم انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے جو کافی آسانی سے دستیاب ہیں اور بکروں جتنے گراں بھی نہیں!!
عید قربان کے بعد قربانی کے جانوروں کی باقیات کو ٹھکانے لگانا ہمیشہ سے اہم مسئلہ رہا ہے مگر اس بار حکومت نے صوبائی دارالحکومت کی حد تک تو بہت جانفشانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بکروں کی باقیات سڑکوں یا گلیوں میں نہایت کم نظر آئی ہیں اور صفائی کا عملہ بھی چست اور متحرک رہا ہے۔ لائیوسٹاک کے محکمہ نے حفاظتی اقدامات کے اشتہار بھی دیئے اور شہر کے اہم مقامات پر ایسے کارنر بنا دیئے جہاں پر لوگ آسانی سے باقیات رکھ سکتے تھے‘ مگر نہ معلوم چھوٹے شہروں یا قصبوں میں یہ اہتمام تھا کہ نہیں۔ اگر نہیں تو ضرور ہونا چاہئے تھا کہ وہاں بھی انسان ہی بستے ہیں۔
باقی اس عید پر اس بار لاہور پر پروفیشنل غریب غرباءکا مسئلہ بھی کم تھا‘ البتہ موٹرمکینک قسم کے قصائی حضرات کو روکنا ابھی بھی مشکل ہے۔ اس کو جو عمل روک سکتا ہے وہ اجتماعی قربانیوں کا تصور ہے۔ اس کے علاوہ ایسے ادارے بھی معرض وجود میں آ چکے ہیں جہاں صبح صبح چھری پر دست شفقت پھیرنے کیلئے جانا پڑتا ہے یا پھر صاف ستھرا گوشت وصول کرنے کیلئے۔ جوں جوں یہ ادارے ترقی کریں گے‘ ویلڈر اور موٹرمکینک قسم کے برساتی قصائی ختم ہو جائیں گے۔ فی الحال تو وہ بکروں اور لوگوں دونوں کا استحصال کرنے میں آزاد ہیں‘ یعنی اجرت کے ساتھ ساتھ ران بھی چھپا کر غائب کر دیتے ہیں اور گھر والوں کو وہ بکرے کی قیمت میں ہی پڑتے ہیں کیونکہ ان کا بنایا ہوا گوشت دوبارہ کسی سے بنوانا پڑتا ہے‘ جس کیلئے اس مقدس دن کے روز مزید خواری اٹھا کر مزید ثواب دارین حاصل کرنے کا موقع بہرحال دستیاب ہے۔ ثواب کے حوالے سے بھی تصورات مزید کلیئر کر دیئے جائیں تو قوم کا بھلا ہو گا‘ مثلاً حج پر جا کر زیادہ تکلیف اٹھانے کا کیا واقعی زیادہ ثواب ہے؟ اور کیا جو لوگ سہولتیں خرید سکتے ہیں وہ ثواب سے محروم رہیں گے۔ اسی طرح قربانی کے معاملے میں بھی لوگوں کو گائیڈ کیا جانا ضروری ہے۔
بکرا عید کی باقیات میں سے ناقابل خوردونوش باقیات کو کارپوریشن ٹھکانے لگاتی ہے مگر قابل خوردونوش باقیات میں سے سری پائے اور اوجھڑی وغیرہ گھر والے خود ہی ٹھکانے لگا دیتے ہیں‘ چنانچہ اگلے روز ہی صبح صبح سری پائے بوری میں ڈال کر سڑک کنارے سلنڈر لگا کر بیٹھے انجینئر حضرات سے بھنوانے نکل پڑتے ہیں۔ یہ کام کسی زمانے میں سوختہ لکڑی جلا کر اس کے کوئلوں پر کیا جاتا تھا مگر اب سائنس نے ترقی کر لی ہے لہٰذا ویلڈر حضرات اپنے اپنے گیس سلنڈر اور عینکیں اٹھا کر روزگار کی تلاش میں سڑکوں پر ڈیرا لگا لیتے ہیں‘ جہاں قطع نظر اس بات کے کہ اہل محلہ اور قریبی آبادی پر کیا گزرتی ہے‘ وہ سری اور پائے کو گیس سلنڈر کی مدد سے بھون کر پکانے کیلئے تیار کر دیتے ہیں اور پھر عید کے بعد اگلے چند روز لوگ سری پائے کا زود ہضم شوربہ پی کر اپنی گوشت خوری کا علاج کرتے ہیں۔
اوجھڑی کی صفائی سب سے مشکل کام ہے جس کو گھر کے کسی تیسرے درجے کے اقلیتی ملازم کے ذمہ لگا دیا جاتا ہے جو اس نیک کام کے عوض ایک دو پلیٹیں اوجھڑی لے جا کر گھر والوں پر کارروائی ڈالتا ہے۔ اوجھڑی بکرا عید کی باقیات میں آخری آئٹم کی حیثیت رکھتی ہے‘ اس کے بعد گھر والے اوقات پر آ جاتے ہیں اور سبزیوں اور دالوں پر گزارا کرنے کی فکر کرتے ہیں کیونکہ جمع شدہ گوشت ایک ہفتے میں ختم ہو جاتا ہے یا لوڈشیڈنگ کے باعث فریزر ناکارہ ہونے کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے۔
عید کے بعد کے کچھ دن ویسے بھی گھریلو لڑائی جھگڑے میں صرف ہوتے ہیں کیونکہ مہنگا بکرا خریدنے اور بال بچوں کی سالانہ خوشیاں پوری کرنے پر اخراجات زیادہ اٹھ جاتے ہیں اور تنخواہ آنے میں ابھی کافی دیر ہوتی ہے لہٰذا میاں بیوی کی اخراجات پر لڑائی کو بھی عید کی باقیات میں ہی شمار کیا جاتا ہے۔ بچے اور اہل محلہ حیران ہوتے ہیں کہ آخر پیارومحبت سے پورا سال رہنے والے میاں بیوی پر کیا افتاد پڑی ہے‘ مگر یہ سخت دن گزرنے کے بعد بھی باقی سال پھر اللہ کا شکر ہے کہ تکیہ کلام کے سہارے گزرتا ہے۔
اب چونکہ عید گزر چکی ہے اور اپنا دورانیہ بھی پورا کر چکی ہے لہٰذا صورتحال نارمل ہے۔ زندگی معمول پر آچکی ہے۔ سکول کھل چکے ہیں‘ دفاتر کی حاضری ماسوائے وفای ملازمین کے کافی بہتر ہو چکی ہے لہٰذا عید کے تمام مراحل ایک سہانی یاد کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ مناسب موقع ہے کہ ان سنہری یادوں کو ذہن میں تازہ رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں اور جو جو مسائل سامنے آئے ہیں ان کا تجزیہ کر کے مستقبل کیلئے نئی منصوبہ بندی کریں۔
مگر ہم پاکستانی ہی کیا ہوئے جو ماضی سے سبق سیکھیں یا آئندہ کیلئے کوئی منصوبہ بندی کریں۔ ہم جہاں تباہی کے ستر سال بھول چکے ہیں اور ان کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں یہ ایک دو عیدیں ہمارا کیا بگاڑ لیں گی۔ مگر ہم کو کم از کم یہ تو کرنا چاہئے کہ اپنے آپ سے عہد کر لیں کہ آئندہ بکروں اور ویہڑوں کے گلے پر چھری چلا کر ان کے تڑپنے کی ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ ویڈیوز ہماری بے حسی اور سفاکی میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہی ہیں۔ ہم کہیں اس خوشگوار فریضے میں چھپی لذت کے عادی نہ ہو جائیں اور جب بکرے اور ویہڑے دستیاب نہ ہوں تو ہم کہیں اپنے اردگرد بسنے والے انسانوں پر چھری چلا کر خون بہانے کی عادت کو بروئے کار نہ لے آئیں۔
ہماری نوجوان نسل اور بچوں کو پہلے ہی دہشت گردی کے حوالے سے کافی نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ آئے روز میڈیا پر بم دھماکوں کے نتیجے میں بہنے والے خون کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر نوجوان پہلے ہی اپنا نفسیاتی توازن کھو رہے ہیں لہٰذا میڈیا والے اور عوام الناس جن کے پاس اچھے کیمروں والے موبائل ہیں اس کی سنسنی خیزی سے معاف فرمائیں‘ کیونکہ داعش والے اپنی پھرتی کیلئے ایسی بے حسی کو شرط اول سمجھتے ہیں‘ جن لوگوں نے کوئٹہ میں بم دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں موقع پر بنائی گئی ویڈیو دیکھی ہے ان کیلئے بکروں کی قربانی کی ویڈیوز اور انسانوں کی قربانی کی ویڈیوز میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ غیرت کے نام پر ٹوکے سے قتل کی گئی بچیوں کے خون اور قربانی کے ویہڑوں کے خون کا رنگ بھی ایک جیسا نظر آ رہا ہے۔ اس طرح کے خدشات سے نبٹنے کیلئے ایسی قربانیوں کی لائیوکوریج پر پابندی لگنی چاہئے اور الیکٹرانک میڈیا میں موجود مثبت سوچ رکھنے والوں کو سامنے آنا چاہئے۔
اس کے علاوہ قربانی کو ایک اجتماعی جگہ پر کرنے کے رجحان میں اضافے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو کم مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسے پرائیویٹ ادارے جو معقول اجرت اور قیمت پر نیک نیتی سے اور اسلامی شعائر کے مطابق اگر قربانی کر کے لوگوں تک گوشت پہنچا سکیں تو یہ بزنس بھی کافی مسائل کو دور کر سکتا ہے۔ ناقابل خوردونوش باقیات کی نکاسی اب کمپنیوں کا مسئلہ ہے‘ اگر ان کو اس میں کوئی فائدے کا پہلو نظر آ رہا ہے تو یقینا وہ اس کی طرف آئندہ زیادہ توجہ دیں گی ورنہ حکومت جو ان کے ساتھ ٹھیکیداری نظام میں منسلک ہے‘ ان کو اپنے اقدامات بہتر کرنے کی شرائط عائد کر سکتی ہیں‘ باقی بکرے اور ویہڑے تو سال بہ سال قربان ہوتے رہیں گے۔ افسوس کہ ہم ان کی قربانی کے پیچھے چھپے آفاقی پیغام کو بھول جاتے ہیں اور یہ سارا مذہبی فریضہ اپنی نمودونمائش اور دولت کی تشہیر پر صرف کردیتے ہیں کہ اب معاشرے میںعزت کا معیار دولت ہے اور کوئی یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ یہ دولت نودولتئے حضرات نے کتنے ناجائز ذرائع سے کمائی ہے۔ ٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved