تازہ تر ین

جناب ضےاءشاہدکے نام کھلا خط

عابدہ بخاری …. اظہار خیال
انتہائی قابل احترام جناب ضےاءشاہد صاحب
مےں نے17ستمبر کے روزنامہ خبرےں کے ادارتی صفحے پر سرائےکستان ‘نان سرائےکی نقطہ نظر کے عنوان سے اےک مضمون پڑھا جس کے لکھاری جناب اسلم اکرام زئی نے اپنی روزنامہ خبرےں سے وابستگی کا خوبصورت نقشہ پےش کےا جو ےقےنا آپ کے ادارے کا معاملہ ہے مجھے صاحب موصوف نے اےک دھرےجی خاتون دانشور لکھا ہے حالانکہ نہ تو مےں دانشورہوں اور نہ ہی مےں نے اپنے مضمون مےں دانشور ہونے کا دعویٰ کےا ہے ےقےنا جناب ظہور احمد دھرےجہ اور دےگر تحرےکی ساتھےوں نے سرائےکی تحرےک کے حوالے سے جو کچھ لکھا ےہ ان کا حق تھا لےکن مےں نے تو اپنی ٹوٹی پھوٹی تحرےر مےں آپ کے موقف کی تائےد و حماےت کی اور اصل حقےقت بےان کی کہ سرائےکی تحرےک کے لوگ ےقےنا جتنا اپنی ماں دھرتی سے پےار کرتے ہےں اس سے زےادہ ےہاں کے رہنے والوں سے ان کا رشتہ قائم ہے اس سے بڑھ کر اور کےا ہوگا کہ اب تو سرائےکی اور نان سرائےکی مےں رشتے بھی ہوچکے ہےں ۔
جناب ضےاءشاہد صاحب۔
اسلم اکرام صاحب خبرےں کا حصہ تھے اب ہےں ےا نہےں مجھے اس سے کوئی سروکار نہےں ےہ آپ کے ادارے کا اندرونی معاملہ ہے کہ جناب اسلم اکرام زئی کے بقول کہ جب ان کا جی چاہے وہ ادارے کی کسی سےٹ پر جا کر بےٹھ سکتے ہےں لےکن انہےں اس بات کا حق حاصل نہےں ہے کہ وہ کسی خاتون کا نام اور اس کی شناخت کو تبدےل کرےں مےں دھرےجی خاتون نہےںہوں بلکہ بخار ی خاندان سے تعلق رکھتی ہوں مےرے خاوند سےد مطلوب حسےن بخاری خود بھی سرائےکی تحرےک سے وابستہ ہےں ہم دونوں مےاں بےوی کوےہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے بابائے سرائےکستان تاج محمد لنگاہ کی قےادت مےں ان کے ساتھ سرائےکی تحرےک کا آغاز کےا اور آج ہم دونوں سرائےکستان ڈےموکرےٹک پارٹی سے وابستہ ہےں ہمےں ےہ بھی فخر ہے کہ جب ہم نے سرائےکستان ڈےموکرےٹک پارٹی کی رکنےت سازی کی تو اس مےں ہم نے کبھی سرائےکی اور نان سرائےکی کا فرق نہےں رکھا اور مجھے ےہ بات لکھتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ ہماری دن رات کی محنت سے آج بہت بڑی تعداد مےں نان سرائےکی بھی سرائےکستان ڈےموکرےٹک پارٹی کے ممبر ہےں مجھے ےہ لکھتے ہوئے بھی فخر محسوس ہورہا ہے کہ سرائےکستان ڈےموکرےٹک پارٹی کی تنظےمےں پورے سرائےکستان خصوصاً ڈےرہ اسماعےل خان‘ٹانک اور کراچی سمےت سندھ کے مختلف علاقوں مےں کام کررہی ہےں اور ہمارے جگہ جگہ دفاتر بھی قائم ہےں ہمےں اس بات پر فخر ہے کہ روزنامہ خبرےں اس وقت واحد قومی اخبار ہے جس مےں سرائےکی تحرےک سے وابستہ لوگوں کی سرگرمےوں کو نماےاں طور پر شائع کےا جاتا ہے اور مےں نے اپنے سابقہ مضمون مےں لکھا ہے کہ جب بھی سرائےکی صوبہ بنے گا تو ہم اس کی پہلی دستار ضےاءشاہد صاحب کے سر پر رکھےں گے لےکن مےں اسلم اکرام صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے اپنے مضمون مےں لکھا ہے کہ کاش سرائےکستان پارٹی کی عہدےدار اےک خاتون نہ ہوتےں اور کوئی مرد سامنے آتا تو مےں اس کو جواب دےتا۔
جناب اسلم اکرام صاحب مجھے 17ستمبر کا آپ کا مضمون پڑھ کر ےہ خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے بھی جگہ جگہ لفظ سرائےکستان اور سرائےکی استعمال کےا ہے اور آپ نے جوخبرےں اور جناب ضےاءشاہد صاحب کی خدمات کا ذکر کےا ہے اس کے تو ہم پہلے دن سے معترف ہےں آپ کو اےک اور کالم لکھ کر اس بات کا عتراف کرناہوگا کہ ہم اس خطے کو بنگلہ دےش نہےں بنانا چاہتے اور سرائےکی کے علاوہ دےگر زبانےں بولنے والوں کو بھی ساتھ لےکر چلتے ہےں آپ کو ےہ بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ اس پورے خطے مےں سرائےکی بولنے والوں کی اکثریت ہے کےونکہ صو فےاءکرام کی اس سرزمےن پر نفرتےں بانٹنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہےں اور سرائےکی تحرےک اس لئے زندہ ہے کہ ہم خواجہ غلام فرےد کے مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہےں۔
آپ خبرےں مےں کام کرےں ےا نہےں ےہ مےرا مسئلہ نہےں ہے مےری آپ سے گزارش ہے کہ آپ حقائق لکھےں ۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم صوبہ سرائےکستان کے قےام تک اپنی جدوجہد جاری رکھےں گے مےرے لئے عملی سےاست مےں آنا ےا کسی رواےتی اور بڑی سےاسی جماعت مےں شامل ہونا کوئی مسئلہ نہےں تھا مےںچاہتی تو پاکستان پےپلز پارٹی مےں شامل ہوسکتی تھی کےونکہ محترمہ بے نظےر بھٹو شہےد نے سب سے پہلے سرائےکی وسےب کی حقےقت کو تسلےم کےا اور اسی جماعت کے وزےراعظم سےد ےوسف رضا گےلانی نے قومی اسمبلی مےں کھڑے ہو کر سرائےکستان صوبے کی حماےت کی قومی کمےشن قائم کےا لےکن مےں نے سرائےکی تحرےک کا راستہ اس لئے اختےار کےا کہ ےہ خطہ آج بھی محرومےوں کا شکار ہے اس مےں کوئی شک نہےں کہ ےوسف رضا گےلانی نے ملتان مےں فلائی اوور بنائے اور اب وزےراعلیٰ پنجاب ملتان مےں مےٹرو منصوبہ لارہے ہےں مےں اس بحث مےں نہےں جاتی کہ فلائی اوور ز اور مےٹرو ہماری ضرورت ہےں ےا نہےں بلکہ اتنا ضرور کہتی ہوں کہ ہمارے خطے کے ہزاروں نوجوان آج بھی بےروزگار ہےں پورے ملک مےں بچے فروخت کرنے کا آغاز بھی ملتان کی اےک غرب خاتون نے چوک قذافی سے کےا آج بھی ڈےرہ غازی خان شہر جو سابق صدر فاروق احمد خان لغاری کا حلقہ انتخاب تھا مےں زےر زمےن پانی کڑوا ہے جو کھانے پےنے کے کام نہےں آتا اسی طرح راجن پور کے نواحی علاقوں مےں انسان اور جانور اےک ہی گھاٹ پر پانی پےتے ہےں ےہاں کے جاگےردار اور وڈےرے آج بھی اپنے مزارعےن پر سندھ کی طرح ظلم کرتے ہےں ےہاں چولہے سے جلائی جانے والی خواتےن کی تعداد زےادہ ہے جسے بعد مےں چولہا پھٹنے کا نام دےا جاتا ہے پنچائےتوں کے ذرےعے لڑکےوں کو ونی کردےا جاتا ہے اور بڑی جاگےروں کی خاطر لڑکےوں کی قرآن پاک سے شادی کردی جاتی ہے تاکہ ان کی جاگےر تقسےم نہ ہو مےں ےہ باتےں سماجی تنظےموں اور خاص طور پرسرائےکی تحرےک کے بزرگوں سے سنتی تھی تو مےرے دل مےں بھی خےال پےدا ہوا کہ مےں بھی اپنے خطے کے حقوق کی آواز بلند کروں پھر جب مےرے والد نذےر حسےن کو چوک دہلی گےٹ مےں برسر عام دہشت گردی کا نشانہ بناےا گےا تب مےں نے پختہ عزم کےا کہ مےں اس خطے کی خواتےن اور لوگوں کے حقوق کی آواز بلند کروں گی ےہی وجہ ہے کہ مےں نے متعدد بار پنجاب اسمبلی کے سامنے کھڑے ہو کر بھی سرائےکی صوبے کی بات کی اور مےرا ےہ عزم ہے کہ جب تک مےری جان مےں جان ہے مےں اپنے خطے کا مقدمہ لڑتی رہوں گی اور اگر اللہ تعالی نے مجھے وسائل دےئے ےا پھر جاگےردارانہ نظام تبدےل ہوا تو مےں الےکشن لڑ کر اسمبلی مےں پہنچوں گی اور اپنے صوبے کا حق لے کر رہوں گا ۔
جناب ضےاءشاہد صاحب۔
اسلم اکرام زئی نے جو کچھ لکھا ہے ےہ مےرے نزدےک خبرےں کا اندرونی معاملہ ہے مےرا مشن سرائےکی صوبہ و سرائےکی تہذےب و ثقافت کو اجاگر کرنا ہے مگر ےہ حقےقت ہے کہ ہم لفظ جنوبی پنجاب کو تسلےم نہےں کرتے کےونکہ سرائےکی صوبے مےں آج بھی ڈےرہ اسماعےل خان اور ٹانک کے لوگ شامل ہونا چاہتے ہےں اس مےں کوئی سچائی نہےں کہ ہماری تحرےک سے نان سرائےکی خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کرنے لگے ہےں اگر گزشتہ40سالوں کے دوران اےسا کوئی واقعہ سامنے نہےں آےا تو آئندہ بھی اےسا کچھ ہونے والا نہےں انشاءاللہ سرائےکی صوبہ بن کر رہے گا کےونکہ ےہ صرف مےری نہےں سب کی آواز ہے۔
٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved