تازہ تر ین

دشمن کو پہچانیں!

حافظ محمد ادریس….توجہ طلب
جمعہ کے دن اہلِ ایمان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق غسل کرتے ہیں، صاف کپڑے پہنتے ہیں اور خوشبو لگا کر پورے شوق اور عقیدت کے ساتھ اللہ کے گھروں کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ ہر شخص جو مسجد میں آتا ہے، اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے سب مصروفیات اور دلچسپیاں ترک کرکے اللہ کا مہمان بن کر اس کے گھر میں قدم رکھتا ہے۔ اللہ کو اپنے یہ مہمان اتنے عزیز ہیں کہ جمعے کے روز ان کے لیے اس نے ایک گھڑی مختص کر رکھی ہے، جس میں وہ جو بھی دعا کریں، مقبول ہوتی ہے۔ ان اللہ والوں کے درمیان سفید ریش بزرگ بھی تھے، ماں باپ کی تمناو¿ں کا مرکز جوانانِ رعنا بھی اور جنت کے پھول معصوم بچے بھی قیامت کے اس لمحے اللہ کے گھر میں اس کے مہمان تھے۔ ظالموں نے ان عبادت کرنے والے بندگانِ خدا پر بلااشتعال ، بلاسبب بزدلانہ اور دہشت گردانہ حملہ کرکے اللہ کی غیرت کو للکارا ہے۔ یہ سوچیں کہ روزِ حشر جب یہ معصوم خون اللہ کے دربار میں فریاد کناں ہوگا تو ان ظالموں کو کہاں پناہ ملے گی؟ کسی ایک فرد کا قتلِ ناحق پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے ان نمازیوںمیں تین حقیقی بھائی اور تین انتہائی معصوم جنت کے پھول بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور اسلام کے دشمن پاکستان کو ہر جانب سے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔ ان سب کی شیطانی سوچ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اس عظیم ملک کو افراتفری کا شکار بنا کر اس کی ٹوٹ پھوٹ کا راستہ ہموار کیا جائے۔ ان حالات میں پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب کے سب اپنی سلامتی اور بقا، آنے والی نسلوں کی حفاظت اور دیرپا امن و امان کے لیے جملہ اختلافات بھلا کر ایک سوچ اپنالیں۔ قبائلی اور لسانی عصبیتیں ختم کرنا ہوں گی۔ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ ریاستی اداروں میں ہونے والے مظالم، بدعنوانی، لوٹ مار اور اقربا پروری کو زمین میں گہرا دفن کرنا ہوگا، تب جا کر ہم دشمن کو منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ بھارت کی سرزمین پر افغانستان کے صدر اشرف غنی اور بھارتی خونخواردرندے نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے، وہ ہمارے حکمرانوں اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ افغانستان پر پاکستان نے ہمیشہ احسان کیا ہے۔ اسے اپنا برادر ہمسایہ مسلم ملک قرار دے کر اس کے دکھ سکھ میں شرکت کی ہے۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی کے سبب افغانستان بھارتی بنیے کی بولی بول رہا ہے۔ افغانستان بھارت کی کالونی بنتا جارہا ہے۔
کشمیر میں ہندو قابض فوجیں مسلمانوں کو ان کے گھروں میں ، مساجد میں اور برسرعام گولیوں کا نشانہ بناتی ہیں۔ بھارتی بنیا ہمارا کھلا دشمن ہے۔ کفر اور بت پرستی کا یہ علمبردار اوراسلام کا دائمی دشمن جب ظلم کا بازار گرم کرتا ہے تو دکھ ہوتا ہے، مگر اس سے بڑا دکھ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر اہلِ ایمان کا خونِ ناحق گرانے کے لیے جتھے منظم کیے گئے ہیں۔ دشمن کے ایجنٹ وطن کے چپے چپے پر موجود ہیں اور ہماری باخبر اور زیرک ایجنسیاں بھی ملک کے ہر گلی کوچے تک رسائی رکھتی ہیں۔ پھر کیوں اس طرح کے واقعات آئے دن رونما ہوتے ہیں، جس طرح کا سانحہ مہمند ایجنسی کی مسجد میں عین نمازِ جمعہ کے دوران پیش آیا؟ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اگر وہ خدا کو مانتے ہوں تو بخدا ایسی حرکت کرنے کا تصور بھی نہ کرسکیں۔ ملک کے اندر امن و امان قائم کرنے کے لیے ایجنسیوں اور اداروں کو پرامن شہریوں پر ہاتھ اٹھانے کی بجائے ان عناصر کا قلع قمع کرنا چاہیے، جنھوں نے ملک کی رِٹ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ جب بے گناہ لوگ گھروں سے اٹھا کر غائب کر دیے جائیں تو پھر اس طرح کے واقعات پر وہ ردِ عمل سامنے نہیں آتا ، جس کا یہ بھیانک واقعات تقاضا کرتے ہیں۔
متاثرین کے خاندانوں اور شہدا کے ورثا کے ساتھ اظہارِ ہمدردی تو عام آدمی بھی کرسکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری تو اس سے زائد ہوتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو چیک دینا بظاہر ایک اچھی روایت ہے، مگر یہ اشک شوئی ہے۔ مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ملک کے اندر لاقانونیت کا خاتمہ کرنے کے لیے قانون کو شفاف انداز میں نافذ کرنا ہوگا۔ قانون جس طرح ایک عام شہری کو حدود کا پابند بناتا ہے، اسی طرح بااختیار طبقات، حکمران ٹولے اور تمام مقتدر قوتوں کو بھی قانون کی بالادستی قبول کرکے اس کا احترام کرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے ملک میں افراتفری پھیلانے اور دہشت گردی کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، ان کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت برتنا دراصل خودکشی اور انسانیت دشمنی کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ ان بے گناہ شہدا کے پاکیزہ خون کے بدلے اس ملک کو امن و امان عطافرما دے۔
ہم شہدا کے درجات کی بلندی اور جملہ پسماندگان کے لیے صبر جمیل اور اجر جزیل کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے زخمی دلوں پر اپنی رحمت کا مرہم رکھ دے کہ وہی اس بات پر قادر ہے۔ حکمرانوں سے درخواست ہے کہ وہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں آجائیں اور دشمن کو پہچانیں۔ یہ دہشت گردی محض ملک کے اندر سے نہیں ہورہی، اس کے ڈانڈے آس پاس کے ملکوں بالخصوص انڈیا سے ملتے ہیں۔ اے حاکمانِ وقت!
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved