تازہ تر ین

پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش شروع 16

ضیا شاہد
ولی خان اور غفار خان کو 6 سال کی سزا ہوئی اور رہائی ہوئی تو سرحد اور بلوچستان میں ”پشتون برادرہڈ“ کے نام سے تحریک کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے 51ءمیں ون یونٹ کے قیام کی بھی مخالفت کی جس کے تحت بلوچستان، سرحد، سندھ اور پنجاب کو ختم کر کے مغربی پاکستان کو صوبہ بنایا گیا تھا۔ عبدالصمد اچکزئی کو ون یونٹ کےخلاف تحریک چلانے پر14 سال کی سزا ہوئی۔ 1970ءمیں عبدالصمد خان اچکزئی نے الیکشن میں حصہ لیا۔ اس سلسلے میں ملاحظہ کیجئے اوریا مقبول جان کے کالم ”حرف راز“ سے چند اقتباسات: واضح رہے کہ اوریا مقبول جان صحافت میں آنے سے قبل بلوچستان میں ڈپٹی کمشنر بھی رہے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں۔
” 1970ءکے الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست پر محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد خان اچکزئی امیدوار تھے۔ جنہیں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا عبدالحق نے شکست دی تھی صوبائی الیکشن میں چونکہ ابھی دو روز کا وقفہ تھا پشتونوں کے حقوق کے علمبردار عبدالصمد اچکزئی کے لئے ایک مولوی کے ہاتھوں شکست کسی سانحے سے کم نہ تھی۔ قوم پرست سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہ نسل اور زبان سے لیکر انتہائی نچلی سطح پر خاندان قبیلے اور برادری تک پنجے گاڑے ہوئے ہے۔ عبدالصمد اچکزئی کے لئے صوبائی نشست زندگی اور موت کا مسئلہ تھی۔ حاجی بہرام خان اچکزئی قبیلے کے سردار تھے قبیلے کے بڑوں کو جمع کیا اور گوجن اور بادن کے نسلی تعصب کی داستانیں سنانے کے علاوہ قرآن پاک اور دستار کا واسطہ دیکر پشتون قبائلی عصبیت کے نام پر ووٹوں کی بھیک مانگی۔ پشتون معاشرے میں قرآن کی قسم اور دستار کے واسطے کی اس قدر اہمیت ہے کہ عبدالصمد خان صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیت گئے۔ حاجی بہرام خان اچکزئی نے متعدد محفلوں میں اس قصے کی تفصیل بیان کی۔ مگر یہ کہنا نہیں بھولے کہ سب بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ حقیقت میں قبیلے کے باہر کچھ بھی نہیں۔
اوریا مقبول جان مزید لکھتے ہیں۔
” محمود اچکزئی کا حلقہ گلستان سے چمن تک پھیلا ہوا ہے۔ جہاں کی اکثریت کا کاروبار سمگلنگ ہے۔ “
(یاد رہے کہ اچکزئی قبیلے کی مدد کے بغیر کوئٹہ اور دیگر شہروں تک اسمگلنگ کا سامان نہیں پہنچ سکتا جب کبھی اچکزئی قبیلے پر مالی اعتبار سے برا وقت آتا ہے تو ان کے جلسے جلوس، ہڑتال اور گھیراﺅ جلاﺅ کے ماحول میں جو مطالبات ہوتے ہیں ان کی فہرست میں فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹوں کو ہٹانے کا مطالبہ ضرور شامل ہوتا ہے۔(ض ش)
اوریا مقبول جان آگے چل کر لکھتے ہیں ۔
” محمود خان کا تعلق افغانستان کے صدر نجیب اللہ سے تھا، چمن سرحد کے پار افغانستان کے شہر سپن بولدک میں عصمت اللہ اچکزئی نے اغوا برائے تاوان کا مرکز قائم کیا ہوا تھا جسے وہ قرار گاہ کہتا تھا۔ جب کوئی شہری اغوا ہوتا تو وہ اپنے قبائلی سیاستدانوں کے توسط سے رہائی پاتا تھا۔ نجیب اللہ کی حکومت ختم ہوئی تو افغانستان میں اس طرز کی طاقت کا مرکز ختم ہو گیا۔“
آگے چل کر اوریا مقبول جان مزیدلکھتے ہیں
”اب ایک نیا نعرہ بلند کیا گیا۔ واہ بولان تا چترالہ پختونستان، بولان سے چترال تک پشتونستان ہے۔ پنجابی تو وہاں بہت دور تھے۔ لیکن بلوچوں کو خطرہ محسوس ہوا تو اکبر بگٹی، عطاءاللہ مینگل اور خیر بخش مری تمام رنجشیں بھلا کر اکٹھے ہوگئے۔ سریاب روڈ پر اکبر بگٹی نے للکارتے ہوئے کہا تھا کہ چترال پر جو مرضی دعویٰ کرو مگر بولان کی جانب دیکھنا بھی مت۔ لورالائی کے سردار طاہر لونی الیکشن جیتے تو ان کےخلاف عذرداری دائر ہوئی جس میں ان کے قبیلے کے فوت شدہ لوگوں کے ووٹ بھی شامل تھے۔ وہ اکثر مذاق میں کہتے پھرتے کہ میں اپنے قبیلے کا سردار ہوں اور میں اپنے مُردوں کو بھی حکم دوں تو وہ اپنی قبروں سے نکل کرمجھے ووٹ دیں گے۔ دیگر سرداری نظام کے حلقوں میں بھی یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ان کے بقول 75 فیصد پختون آبادی پاکستان کے دو صوبوں میں آباد ہے۔ 1951ءمیں عبدالصمد خان اچکزئی نے بلوچستان کی ریفارمز کمیٹی میں یہ بیان بھی دیا تھا کہ بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں کے برعکس تشدد سے چلایا جا رہا ہے اور میرے اخبار استقلال کو بند کر دیا گیا ہے۔“
قارئین !اوریا مقبول جان کے کالم کے چند اقتباسات آپ نے ملاحظہ کئے۔
واضح رہے کہ مندرجہ بالا حقائق بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ بتایا جائے کہ:
عبدالصمد خان اچکزئی المعروف بلوچی گاندھی نے جو افغانستان میں پیدا ہوئے تھے بلوچستان میں شروع میں اسی طرح ”انجمن وطن“ تنظیم قائم کی جو بلوچستان کے پشتون آبادی کے حقوق کی دعویدار تھی جس طرح سرحد میں عبدالغفار خان عرف باچا خان نے پختون آبادی کے لئے سرحد کو آزاد پختونستان بنانے کا نظریہ پیش کیا جنہیں سرحدی گاندھی بھی کہا جاتا ہے۔ عبدالصمد خان نے مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان دو قوموں بلوچوں اور پختونوں کا صوبہ ہے اس لئے گورنر یا وزیراعلیٰ میں سے ایک پشتون ہونا چاہیے۔ سرحد اور بلوچستان کے لیڈروں نے 1973ءکے آئین کی حمایت کی۔ واضح رہے کہ قیام پاکستان کے بعد 1956ءمیں عبدالصمد اچکزئی کو لاہور ہائیکورٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ قیام پاکستان کی مخالفت کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے یہ کہا کہ ڈیورنڈ لائن کے اس طرف پختون آبادی پر مشتمل سرحد اور بلوچستان کے پختون حصوں کو ملا کر آزاد پختونستان کی ریاست قائم ہونی چاہیے۔ عبدالغفار خان اور عبدالصمد خان دونوں نے ڈیورنڈ لائن یعنی پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور سرحد اور بلوچستان کے پختونوں کو اکٹھا کر کے آزاد ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کی۔ سرحد کے عبدالغفار خاں ہوں یا بلوچستان کے عبدالصمد خان اچکزئی، دونوں نے مسلم لیگ کے مقابلے میں کانگریس کا ساتھ دیا۔
ان دونوں راہنماﺅں کے گاندھی سے قریبی تعلقات تھے اور ان کی بے شمار ملاقاتیں گاندھی سمیت کانگریس کے دیگر قائدین سے ہوئیں۔
ان دونوں لیڈروں نے قیام پاکستان کی بھرپور مخالفت کی۔ غفار خان نے پاکستان کے لئے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا کیونکہ انہیں اپنی شکست نظر آ رہی تھی جبکہ عبدالصمد اچکزئی نے کوئٹہ میں شاہی جرگے میں جسے پاکستان کے الحاق کا اعلان کرنا تھا میونسپل کمیٹی کوئٹہ کے سرکاری رکن کی حیثیت سے قیام پاکستان کے خلاف ووٹ دیا لیکن ہار گئے۔
غفار خان ہوں یا عبدالصمد اچکزئی، دونوں نے آزاد دیش کے نظریے کے بانی جی ایم سید سے قریبی رابطے رکھے، دونوں نے مشرقی پاکستان سے آنے والے وزیراعظم پاکستان محمد علی بوگرہ کے دور میں پیش کئے جانے والے ون یونٹ منصوبے کی مخالفت کی، جس کے تحت مشرقی پاکستان سے پنجاب، سندھ اور سرحد، بلوچستان کو مدغم کر کے مغربی پاکستان کے نام پر بڑا صوبہ قائم کیا گیا۔
سرحد کے عبدالغفار خاں عرف باچا خان کے بعد ان کے فرزند عبدالولی خان نے بھی آزاد پختونستان کے لئے جدوجہد کی۔ آج غفار خان کا پوتا اسفند یار ولی یہ اعلان کر رہا ہے کہ میں افغانی ہوں، افغانی پیدا ہوا اور افغانی رہوں گا حالانکہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے جبکہ عبدالصمد خان اچکزئی کے بیٹے محمود اچکزئی نے گزشتہ دنوں یہ اعلان کیا کہ پختونخوا کا صوبہ افغانستان کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پختونخوا ملی پارٹی کے لیڈر یہ کہتے رہے ہیں کہ سرحد کا نام پختونخوا رکھنے کے بعد بلوچستان کے پختونوں کے لئے جنوبی پختونخوا کے نام سے ہماری سیاسی وحدت تسلیم کی جائے۔
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ملی پختونخوا پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کے والد عبدالصمد خان کی سوچ آج بھی ان کے صاحبزادے کی سوچ کی رہنمائی کرتی ہے۔ محمود اچکزئی ہوں یا اسفند یار ولی آزاد پختون ریاست کا خواب ان کے ذہن میں جاری و ساری ہے۔ محمود اچکزئی بھی اسفند یار ولی کی طرح پاکستان میں پیدا ہوئے لیکن ایم این اے کا حلف اٹھانے کے باوجود کہ وہ 1973ءکے آئین کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں پریقین رکھنے کے پابند ہیں، ان کی طرف سے پختونخوا کو افغانستان کا حصہ قرار دینا آرٹیکل کی خلاف ورزی اور آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
(جاری ہے)


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved