تازہ تر ین

کچھ سید علی گیلانی کے بارے میں ….5

ضیا شاہد
کہیں فوج یا پولیس کا ظلم ہوتا ‘ یا کسی کی فریاد کی آواز بلند ہوتی ہے ‘ سید علی گیلانی فی الفور وہاںپہنچ جاتے ہیں ۔ کرفیو کی رکاوٹیں بھی کبھی آپ خاطر میں نہیںلائے۔ جس وقت بڑے بڑے عوامی لیڈر گھروں میںپناہ لینے میں عافیت خیال کرتے ہیں ‘ علی گیلانی ایسے وقت میں اپنے لوگوں کے پاس ہوتے ہیں۔ ہم عقیدہ عوام کی تو بات چھوڑیں ‘ انہوںنے ہندوﺅں کے دلوں پر بھی حکومت کی ہے۔ سوپور میں آپ کی انتخابی کامیابی میں ہندو پنڈتوں کے ووٹوں نے اہم کردار ادا کیا ۔ ایسے ہندو ووٹروں سے ایک مسلمان رہنما کی حمایت کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوںنے کہا ۔
” علی گیلانی انسانیت دوست انسان ہیں ۔ مذہبی تعصب انہیں چُھو کر نہیں گیا۔“
امیر حزب المجاہدین جناب غلام محمد صفی کہتے ہیں کہ سید علی گیلانی نے غیر مسلموں کے اجتماعات میں بھی اسلام کی دعوت پیش کرنے کا دلنشین اسلوب اختیار کیا ۔ وہ ایسے اجتماعات میںہمیشہ حدیث ” الخلق عیال اﷲ ( مخلوق خدا کاکنبہ ہے) ضرور پیش فرماتے اور اس کی تشریح کرتے ہوئے بتاتے تھے کہ خدا کو اپنے کنبے میں عزیز وہ شخص ہے جو اس کے خاندان کے دوسرے لوگوں سے بہت اچھے طور پر پیش آئے ۔یہ ان کی دلوں میں کھب جانے والی خوبیوں اور دل نوازی کا اعجاز تھا کہ اسمبلی کے فلور پر فاروق عبداﷲ کے ہندو وزیر خزانہ شری دیوی داس ٹھاکر نے یہاں تک کہہ دیا ۔
” اگر جماعت اسلامی والے اپنی جماعت کا نام بدل ڈالیں تو میں ان کی بے لاگ اصول پسندی اور دیانت دارانہ کارکردگی سے اس درجہ متاثر ہو چکا ہوں کہ ان کی پارٹی کو جوائن کرنا اپنے لیے فخر جانوں۔“
حق گوئی و بے باکی
اکتوبر ۱۹۸۳ءمیں آپ نے سری نگر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ میچ کی شدید الفاظ میں مخالفت کی اور ایک پریس کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کو متنازعہ قرار دے کر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے اس موقع پر جماعت اسلامی کی اڑتیس برس کے موقف کا پوری شدت سے اعادہ کیا۔ حکومت نے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا جسے مقدمہ الحاق کہا جاتا ہے ۔ حکومت کا رویہ ظاہر کر رہا تھا کہ شاید آپ کو شدید سے شدید سزاد دلائی جائے گی ۔ بعض لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ علی گیلانی کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے گا ۔ لیکن عوامی احتجاج نے ریاستی حکومت کو جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ چوبیس گھنٹے کے بعد آپ رہا کر دیے گئے ۔
۲۸ جنوری ۱۹۸۴ءکو سید علی گیلانی کو پھر گرفتار کر کے جموں وسنٹرل جیل پہنچا دیاگیا ۔ جہاں سے ساڑھے دس ماہ کے بعد آپ کی رہائی ہوئی ۔ رہائی کے فوراً بعد آپ نے کشمیر کے کونے کونے میں جلسوں اور اجتماعات میں اپنے موقف کی وضاحت کی اور عوام کو آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کی دعوت دی ۔دہلی سرکار ایک بار پھر بوکھلا اٹھی ۔ چھ فروری ۱۹۸۵ءکو ڈی آئی جی کشمیر اور ایس پی بارہ مولا کے ہمراہ کشمیر کے ڈویژنل کمشنر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے استدعا کی کہ کشمیر کو متنازعہ مسئلہ کہنے سے گریز کریں ۔ ان لوگوں نے اپنی مجبوریاں گنوائیں اور سید گیلانی سے مصالحت سے کام لینے کو کہا ۔ علی گیلانی اصول پر سمجھوتہ کیسے کرسکتے تھے۔ انہوںنے ریاستی افسروںکو غیر مبہم لہجے میں بتا دیا۔
” یہ جماعت اسلامی کا یوم تاسیس سے اپنایا ہوا موقف ہے ۔اس کو گرفتاریوں کے خوف یا حاکموں کے ناراض ہونے کے اندیشے سے کیسے ترک کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ زیادہ سے زیادہ ہمیں پھر گرفتار کر سکتے ہیں تو اس کے لیے باتوفیق ایزدی ہر وقت تیار رہیں ۔“
وزیر اعلیٰ سے ملاقات
پولیس اور بڑے افسران کا رعب کام نہ آیا تو وزیر اعلیٰ فاروق عبداﷲ نے دوسرا پیغام بھیجا ۔” میں آپ سے بذات خود ملاقات کرنے کا آرزو مند ہوں ۔“ آپ نے اس پیغام کے جواب میں بتایاکہ ۱۶ فروری کو وہ جموں جا رہے ہیں ۔ ممکن ہوا تو اس موقعے پر وزیر اعلیٰ سے ملاقات بھی کر لیں گے ۔ بائیس فروری ۸۵ءتک جموں میں قیام کے دوران آپ نے فاروق عبداﷲ سے ملاقات کی ۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ اس کے وزراءاور اعلی ٰافسران بھی موجود تھے۔
فاروق عبداﷲ نے آغاز گفتگو کرتے ہوئے آپ کو دھمکایا۔
فاروق …. دیکھیے گیلانی صاحب ! آپ کشمیر کومتنازعہ کہتے اور لوگوں کو ابھارتے ہیں ۔ آپ کی پھر گرفتاری ہوگی۔
علی گیلانی ….آپ کل گرفتاری کا کہتے ہیں ‘ میں تو آج ہی تیار ہوں ۔
فاروق( نرمی سے ) دیکھیے نا مرحوم شیخ (عبداﷲ ) بائیس سال تک کوشش کرتے رہے ‘ لیکن وہ بھی بالآخر ہندوستان کے ساتھ مفاہمت پر مجبور ہو گئے۔
علی گیلانی …. آپ لوگوں کو مایوسی اور لالچ نے اپنا موقف ترک کرنے پر مجبور کیا۔
فاروق …. (تندی سے ) اڑتیس سال سے ہندوستان یہاں قابض ہے ۔ اب یہ قبضہ کیسے چھوڑ سکتا ہے؟
علی گیلانی …. انگریز کتنا عرصہ ہندوستان پر قابض رہے ۔ وہ بھی ہندوستان کو آزاد کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
فاروق…. انگریزوں کو آن جہانی گاندھی کی تحریک نے ہندوستان چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا تھا ‘ بلکہ بین الاقوام،ی حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کہ انگریزہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔
علی گیلانی…. اگر ہندوستان کے لیے بین الاقوامی صورت حال مدد گار ثابت ہو سکتی ہے تو آپ ہمارے لیے اس کو کیوں رول آﺅٹ کر رہے ہیں۔
فاروق …. ہم قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
علی گیلانی….آپ کے ہاتھ کسی نے نہیں روکے ۔ ہم ہر وقت تیار ہیں ۔
یوں یہ ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی۔
۲ سے ۴ مارچ ۱۹۸۵ءتک جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کا نہایت اہم اجلاس ہوا ۔ ۴ مار چ کو مولانا سعد الدین کے امارت سے رخصت پر چلے جانے کے بعد جناب علی گیلانی کو متفقہ طور پر امیر منتخب کر لیاگیا۔جوں ہی یہ خبر اخبارات تک پہنچی ‘ حکومت کے ایوانوں میں ایک بار پھر بھونچال آگیا‘ ۶ مارچ کو آپ کی گرفتاری عمل میں آگئی۔
(جاری ہے)


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved