تازہ تر ین

نئے آرمی چیف جنرل باجوہ کی باتیں

عبداللہ حمید گل …. افکار تازہ
وہ پانچ برس کا معصوم سا بچہ اپنے تین بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا، کہ اس کے سر سے باپ کا سایہ ہمیشہ کیلئے اٹھ گیا۔ اس یتیم نونہال کی والدہ اور بہن بھائیوں اور ان کے ماموں نے باپ کی طرح دیکھ بال اور پرورش کی ۔ بچپن ہی میں باپ کی شفقت سے محروم ہو جانے والے تاریخ کے کئی نامور یتیموں کی طرح اپنی انتھک محنت اور لگن سے زندگی میں ناقابل یقین اہداف حاصل کرنے والا وہ”سیلف میڈ“ بچہ آج پاکستان کی بہادر افواج کا سپہ سالار اعلیٰ بن کر دنیا کا اٹھائیسواں طاقتور ترین شخص بن چکا ہے ۔ اپنے سینے پر سبز ہلالی پرچم کے دیس کے سپہ سالار کا سبز نشان سجانے والے جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی تعیناتی کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان سے والہانہ محبت کرنے والی قوم کے دل میں اتر چکے ہیں ۔ قوم کے محب وطن طبقات کا پختہ یقین ہے کہ وہ جنرل راحیل شریف کی پیشہ ورانہ روایات اور مجاہدانہ طریق پر چلتے ہوئے پاکستان کی بقا و سلامتی کے عظیم محافظ اور ایک جرا¿ت مند سپہ سالار ثابت ہوں گے ۔ خوش آئندبات یہ ہے کہ اپنے پیشہ ورانہ دور قیادت کے آغاز میں ہی انہوں نے عمرہ کی سعادت حاصل کی اور بارگاہ الٰہی میںپاکستان کی سالمیت اور افواج پاکستان کے شاندار کردار کو مزید بہتر بنانے کی دعا کی اور یقینا قوم کی ان سے بہت سی توقعات بھی وابستہ ہیں۔
میری چونکہ ان سے اسی روز ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی جس دن انہوںنے کمان سنبھالی تھی۔ میں نے مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو انہوں نے انتہائی محبت سے گلے لگا لیا۔ وہ ضروری میٹنگ میں شرکت کیلئے روانہ ہونے لگے تو بیگم صاحبہ کو خصوصی طور پر یہ فرما کر رخصت ہوئے کہ عبداللہ حمید گل ، جنرل حمید گل صاحب کا بیٹا ہی نہیں بلکہ میرے لیے بھی حقیقی بیٹے جیسا ہے ، اسے کھانا کھائے بغیر رخصت نہ کیجئے گا۔ باجوہ صاحب کی یہ ملنساری ، یہ حسنِ سلوک اور یہ شفقت بھرا انداز ان کی بے حد نرم خو میٹھی شخصیت کا عکاس اور ہم دو خاندانوں کے ان دیرینہ باہمی گرم جوش رشتوں کا مظہر ہے، جو چار دہائیوں اور پچھلی نسل سے جڑے ہیں ۔
عالم اسلام اور پاکستان کے عظیم جرنیل جنرل حمید گل کا بیٹا ہونے کے ناطے میرا بھی تعلق گذشتہ تین دہائیوں اور پچھلی نسل سے باجوہ صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کے گھرانے سے قائم ہے ۔ باجوہ صاحب کے سسر جنرل اعجاز امجد مرحوم ایک سچے دین دوست اور عاشق رسول فوجی آفیسر تھے ۔ وہ جنرل اسلم بیگ کے ملٹری سیکریٹری اور تا دم حیات میرے والد گرامی جنرل حمید گل صاحب کے انتہائی قریبی دوست رہے ۔ ہمارے خاندان سے اس خاندان کے دیرینہ روابط اور باہمی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی ایک عید بھی ایسی نہیں گزری ہو گی کہ جس پر جنرل اعجاز امجد اور ان کی بیگم صاحبہ عید ملنے کیلئے ہمارے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ جنرل باجوہ صاحب کی خوش دامن میرے والد کی منہ بولی بہن تھی اور اتفاق سے آج بھی میرے والد صاحب کی ہمسائیگی میں اسی آرمی قبرستان میں دفن ہیں۔بہر حال بات کہیں اور نکل گئی میرا مقصد جنرل قمر باجوہ کی شخصیت کے چند پہلوﺅں پر روشنی ڈالنا تھا ۔
اب ہم بات کرتے ہیں ملکی حالات اور چیف صاحب کو درپیش چیلنجز کی ۔ایک طرف صورت حال یہ ہے کہ ملکی سلامتی کے دشمن اور بھارتی ایما پر شر انگیزی پھیلانے والے شکست خوردہ دہشت گردوں نے افواج پاکستان کی طرف سے کمر توڑ اپریشن کے بعد اب پاکستان کے عسکری اداروں کیخلاف پراپیگنڈا اور اداروں سے منسلک افراد کی کردار کشی کی مہم شروع کر رکھی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد آزادی کشمیر کیلئے سرگرم کشمیری مسلمانوں میں خوشی کی لہر سے جڑے حقائق اصل کہانی بیان کر رہے ہیں۔ ساٹھ برسوں سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار رہنے والے مظلوم کشمیری مسلمان جانتے ہیں کہ امور کشمیر اور خصوصی طور پر اس علاقے کی جغرافیائی سرحدوں کے معاملات کا بھرپور ادراک رکھنے والا ایک جری اور پیشہ ور جرنیل اب افواج پاکستان کا قائد ہے ۔ جہاں جنرل باجوہ کی عسکری قیادت پاکستان میں امن کی خواہاں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے فعال قوتوں کیلئے امیدِ نو کا پیغام ہے ، وہاں اس پیشہ ور سپاہی کا قیادت سنبھالنا بھارت کے ایما پر پاکستان میں شرانگیزی اور دہشت گردی پھیلانے والی طاقتوں کیلئے کسی ڈرا¶نے خواب کی ہولناک تعبیر سے کم نہیں ۔
دوسری بڑی بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کا تعلق پاک فوج کی بلوچ رجمنٹ سے ہے اور پچھلے ایک ماہ میں چار مرتبہ بلوچستان کا دورہ کر کے انہوں نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ بلوچستان کی عوام کا احساس محرومی دور کرنے میں پوری طرح سنجیدہ ہیں۔کیونکہ حالیہ دورہ خضدار میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے NUSTیونیورسٹی کے کیمپس ، طلباءکےلئے سکالرشپ اور بلوچ طلباءکےلئے چائینیز زبان سکھانے کا اعلان کیا جسے بلوچ طلباء، قبائلی عمائدین نے خوب سراہا۔
اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ آرمی چیف کے دورہ خضدار کے دوسرے ہی روز BLAکے کمانڈر بلخ شیر بادینی نے سرینڈر کر کے یہ پیغام دیا کہ بلوچ نوجوان ترقی پسند اور محب وطن ہیں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کے منصب سنبھالتے ہی پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ ساکھ کو متنازعہ بنانے کیلئے سرگرم سازشی عناصر کی طرف سے خود ساختہ ڈس انفارمیشنز کا سلسلہ شروع ہے ۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنرل باجوہ صاحب اپنے ہم خیال افراد کی ٹیم کو اپنے آفس میں لا رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان آرمی کی ازل سے روایات یہی ہیں کہ آرمی ایک ایسی ون یونٹ آرگنائزیشن ہے جس میں سپاہی سے لیکر جرنیلوں تک تمام افراد صرف ملکی سلامتی اور اس کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے عظیم تر قومی فریضہ کیلئے ایک وجود کی طرح یک جان ہیں۔ لہٰذا آرمی میں کسی بھی جرنیل کی طرف سے گروپنگ اور اپنی یا پرائی ٹیم جیسی ناقابل فہم دھڑے بندیاں خارج از امکان ہی نہیں ، مضحکہ خیز ڈس انفارمیشن بھی ہے ۔جس کا ثبوت گزشتہ روز ہونے والی کور کمانڈڑ کانفرنس ہے جو کہ جنرل باجوہ کی زیر صدارت پہلی کور کمانڈر کانفرنس تھی میں یہ واضح کیا گیا کہ دہشت گردی اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور ملکی سلامتی پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔اور میرا یہ خیال ہے کہ جنرل باجوہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ انہوں نے کمان سنبھالتے ہی مثبت فیصلے کیے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح نظر آئیں گے۔اور جو لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن رک جائے گا یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ پاک فوج باحیثیت ادارہ یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ ملک کی سالمیت کےلئے کسی قسم کی کارروائی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کے مثبت اور منفی ناقدین بھی اس امر سے خوب واقف ہیںکہ آج تمام بین الاقوامی میڈیا ہی نہیں بلکہ بھارت کے سابقہ جرنیل بھی افواج پاکستان کے نئے سپہ سالار کو ، حلقہءسپاہ میں مقبول ایک جری قائد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال دبنگ جرنیل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جنرل باجوہ کے ساتھ دوسری تعیناتی جنرل زبیر محمود حیات کی بطور چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف ہے ۔ وہ پیشہ ورانہ ہسٹری کے مطابق جنرل باجوہ کے بیج میٹ بھی ہیں ۔ جنرل زبیر صاحب بھی جنرل باجوہ کی طرح امریکہ اور برطانیہ کے اعلیٰ ترین فوجی تربیتی اداروں سے تعلیم یافتہ ہیں اور ماضی میں کور کمانڈر کے علاوہ کئی اہم ترین فوجی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ جنرل زبیر آرمی چیف کے پرائیویٹ سیکریٹری کے علاوہ ، آرٹلری رجمنٹ کے کمانڈر اور ایٹمی اثاثوں کی نگرانی کرنے والے انتہائی اہم سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے بھی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔
یہ تمام حقائق اس امر کے گواہی ہیں کہ پاکستان آرمی وہ قابل فخر ادارہ ہے کہ جہاں ہر سپاہی، ہر آفیسر اور ہر جرنل پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال اور دل میں قومی و ملی جذبوں کا طوفان لئے ہوئے ہے ۔ افواج پاکستان وہ متحدہ یونٹ ہے جہاں قیادت کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، حب وطنی کے حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاتا ۔ اور پاکستان کا دشمن بھی اس بات سے با خبر ہے کہ امن ہو یا جنگ، پوری پاکستانی قوم ہمیشہ اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔ میں جنرل زبیر محمود حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کی تمام محب وطن قوتیں، تمام امن پسند طبقات اور جنرل حمید گل کے مشن کو آگے بڑھانے والی تحریک جوانان ِ پاکستان جیسی تمام قومی تنظیمیں، ملکی سلامتی اور فروغ امن کیلئے آج بھی اپنی افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں، کل بھی ساتھ کھڑی رہیں گی۔ آئیے مل کر وطن عزیز اور افواج پاکستان کیخلاف متحرک اندرونی اور بیرونی عناصر کے مذموم ارادے ناکام بنائیں، آئیے سبز ہلالی پرچم کے ملک کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے مل کر ساتھ چلیں اور ملک و قوم اور عسکری اداروں کیخلاف سرگرم سازشی عناصر کی ہی شرانگیزی کوکلی ناکام بنائیں ….افواج پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved