تازہ تر ین

اسلامی عسکری اتحاد- ابہامی کیفیت! 2

محمد مکرم خان….نوشتہ دیوار
جنرل راحیل شریف نے اگر ذاتی حیثیت میں کوئی عہدہ قبول کیا ہے تو بھی اس پر سوال اٹھانے اور صورتحال واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ صرف ڈیڑھ ماہ پہلے اسلامی دنیا کی موثر اور بڑی فوج کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ اب اگر وہ سعودی عرب کےلئے پیشہ ور فوج بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے پاک فوج اور پاکستان کی شہرت متاثر ہوگی۔ وزیر دفاع کے گزشتہ بیان سے لگتا تھا کہ اس عمل میں حکومت پوری طرح شریک ہے۔
بین الاقوامی فوج کی کمان سے قبل ہی بعد جنرل (ر) راحیل شریف کا ممکنہ رول تنازع کا شکار ہو گیا، کہا جانے لگا ہے کہ ابھی اس حوالے سے سرکاری اعلان نہیں ہوا کہ جنرل (ر) راحیل شریف اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ مقرر ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب 39ملکی اسلامی فوجی اتحاد کو دہشت گردی کے خلاف قرار دیتا ہے تا ہم عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد متنازعہ ہے، ایک بڑا اسلامی ملک انڈونیشیا بھی اس کا حصہ نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اتحاد اسلامی دنیا میں موجود تقسیم کی نمائندگی کرتا ہے اس میں ایک جانب سعودی عرب اور دوسری جانب ایران ہے اس لئے جنرل راحیل شریف اگر اس اتحاد کے کمانڈر بنے تو ایران کی خفگی کا احتمال ہے۔ اس خبر نے پاکستان میں ایک ارتعاش پیدا کیا ہے۔ یہ بات بھی وضاحت طلب تھی کہ حکومت نے ”این او سی“ دیا ہے اور یہ کہ اس اتحاد میں پاکستان کا کیا ”رول“ ہو گا۔ جنرل راحیل کی تقرری کے بارے میں ریاض اور اسلام آباد سے کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا۔جنرل راحیل شریف کی جانب سے بھی اس ضمن میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا، لیکن اس خبر نے پاکستان میں ایک تلاطم برپا کردیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اہم مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب انتہائی قریبی برادر ملک ہے۔اس سے پاکستانیوں کا بھرپور جذباتی تعلق ہے۔دوسری حقیقت بھی اہم ہے کہ ایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے اس موقع پر جنرل راحیل کا یہ تقررایران کے تحفظات کا باعث ہو گااور پاک ایران تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں اتحادی افواج کی سربراہی کے معاملے پر چیئرمین سینیٹ نے وزارت دفاع سے وضاحت طلب کرلی۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا سینیٹ اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ وزارت دفاع بتائے کہ سابق آرمی چیف کو کن قواعد و ضوابط کے تحت ملازمت کی اجازت دی گئی ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سابق آرمی چیف نے اتحاد کی سربراہی کے حوالے سے ”این او سی“ لیا؟ کیا آرمی چیف ریٹائرمنٹ کے فوری بعد کسی غیر ملک میں کام کرسکتا ہے؟ انہوں نے وضاحت مانگتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ سابق آرمی چیف کی یہ تقرری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی قرارداد سے متصادم نہیں؟
امریکہ کے ایک ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ٹونی کونسلنگ نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان ”سعودی عرب علاقے میں بدامنی اور عدم استحکام کا ذمہ دار ہے“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی نائب ولی عہد کے ردعمل میں بہرام قاسم کا بیان انتہائی ”مناسب“ ہے اور آل سعود کی معاندانہ پالیسیوں سے خود سعودی عرب میں مشکلات پیدا ہوں گے۔
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکیوں،سعودیوں اوراسرائیلوں کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ رہاہے کہاکہ جب تک سعودی حکام اپنا رویہ نہیں بدلتے انہیں تب تک مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی میگزین ”فارن افیئرز“ کے ساتھ انٹرویو میں شہزادہ سلمان نے ایران پر علاقائی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزا م عائد کیا تھا۔ سعودی ولی عہد کے ردعمل میں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسم نے کہاکہ سعودی عرب دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرکے علاقے میں بدامنی کا باعث بناہوا ہے۔
بطور پاکستانی ہمارے لیے مسئلہ کشمیر انتہائی اہم ہے۔ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کی شہ رگ ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے مودی حکومت سے بے نظیر تعلقات کے بعد ان ممالک سے مسئلہ کشمیر میں کس طرح کی مدد کی بات بھی بعید نظر آتی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل(ر) طلعت مسعود پاکستان کے ایک ممتاز سیاسی تجزیہ نگار اور عالمی امورکے ماہر نے سعودی قیادت میں بننے والے داعش مخالف اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد ایک متنازعہ اتحاد ہے اور اسے مسلم دنیا کی مکمل حمایت حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد سعودی عرب جو یمن میں عام شہریوں کا قتل عام کررہا ہے اور جس کے اپنے مفادات ہیں کی حمایت کررہاہے، بہت سے ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں لیکن بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جو یمن پر سعودی جارحیت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے نام نہادداعش مخالف سعودی اتحاد میں سابق پاکستانی فوجیوں کی شمولیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب یمن جنگ پر مسلم دنیا میں اتفاق رائے نہیں ہے اس ملک میں کسی بھی فوجی آپریشن میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ اتحاد اہم علاقائی ممالک کے بغیر اپنے اہداف پورے نہیں کرسکتا بلکہ یہ ایک دوسرے کے خلاف اتحاد میں تبدیل ہوجائے گا۔
پاکستان شروع میں تو اس سعودی عسکری اتحاد میں شمولیت سے گریزاں تھا لیکن پھر بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے اس فوجی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی تصدیق تو کر دی تھی تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اسلام آباد حکومت اس اتحاد کا حصہ ہوتے ہوئے کوئی ملکی فوجی دستے بیرون ملک نہیں بھیجے گی۔
چند روز قبل وزیر دفاع نے کہا تھا کہ ایسی تقرری سے قبل حکومت اور جی ایچ کیو سے اجازت لی جاتی ہے۔ جس کی باضابطہ کلیرنس دی گئی ہے اور حکومت کو اس معاملے مکمل اعتماد میں لیا گیا ہے۔ یہ سارے معاملات پاکستان میں طے کیے گئے جن میں نواز شریف بھی شامل تھے۔اب وزیر دفاع کے یوٹرن نے پوری قوم کو شکوک شبہات میں مبتلا کر دیا ہے۔وزیر موصوف کا سینٹ میں یہ بیان کہ جنرل راحیل نے حکومت یا جی ایچ کیو سے نہ ہی کوئی این او سی حاصل کیا اور نہ اس کے لیے درخواست دی۔سرتاج عزیز نے یہ کہہ کر مزید ابہام پیدا کردیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے راحیل شریف کو کوئی آفر نہیں آئی۔حکومتی ذمہ دارن کے متضاد بیان اس حقیقت کا عکاس ہیں کہ یہ ملک بغیر کسی داخلی و خارجی پالیسی کے چل رہا ہے۔حکومت اس معاملے میں لاعلم نہیں بلکہ پوری قوم کو لاعلم رکھنا چاہتی ہے۔وطن عزیز کو غیر محسوس طریقے سے تنہا کیاجا رہا ہے۔عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کو مسلم ممالک کے سامنے متنازعہ بنانے کی اس مذموم کوشش کا ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو تدارک کرنا ہو گا۔
چیئرمین رضا ربانی کی سربراہی میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی سعودی عرب کی سربراہی میں 39 ممالک کے فوجی اتحاد کی قیادت کرنے کے معاملے میں پالیسی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ راحیل شریف کو سعودی عرب کے شاہی خاندان کی جانب سے عمرے کی دعوت دی گئی اورانہوں نے عمرہ پر جانے کی اطلاع دی تھی۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل(ر)راحیل شریف عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس آچکے ہیں اورابھی تک انہوں نے مسلم فوجی اتحاد کے سربراہ سے متعلق جی ایچ کیو یا وزارت دفاع کو کوئی درخواست نہیں دی اور نا ہی راحیل شریف کی جانب سے اس قسم کی پیشکش کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
خواجہ آصف نے سینیٹ کو بتایا کہ عسکری اداروں کے افسران ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کی ملازمت کے لیے وزارت دفاع سے لازمی کلئیرنس لینے کے پابند ہوتے ہیں، عام طور پر ریٹائرڈ افسران ملک کے اندرہی نوکری چاہتے ہیں لیکن اب غیر ملکی ملازمت لینے سے متعلق بھی قواعد میں ترمیم کی جائے گی۔
خواجہ آصف نے ریٹائرڈ فوجیوں کے حکومتی اداروں میں ملازمت کے بارے میں متعلقہ قواعد اور وزارتِ دفاع کے26 فروری 1998 کے ایک ”سرکلر“ کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ موجودہ قوانین کے تحت وزارتِ دفاع سے ”این اوسی“ درکار ہوتا ہے اور یہ قواعد بنیادی طور پر ریٹائرڈ آرمی افسروں کے دیگر حکومتی اداروں میں ملازمت کے لیے بنائے گئے تھے جیسے کے سفارتکار، کسی کارپوریشن کا سربراہ یا مشیراور کنسلٹنٹ کے طور پر۔ اگر سابق آرمی چیف کی جانب سے ایسی کوئی درخواست آتی ہے تو ایوان کو آگاہ کیاجائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ا±ن کے خیال میں اگر انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان میں وزارتِ دفاع کے ”این اوسی“ کی ضرورت ہے تو بیرونِ ملک کے لیے اسی وزارت کی ”این او سی“ کی ضرورت ہوگی۔چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے وزیرِدفاع خواجہ آصف سے کہا کہ اگر سابق آرمی چیف کی جانب سے ایسی کوئی درخواست آتی ہے تو ایوان کو آگاہ کیاجائے۔
وزیردفاع کے پالیسی بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اس اتحاد میں کسی بھی طرح سے شمولیت سے انکار کیا گیا تھا تو فاضل وکیل صاحب کو اس اجلاس کو یہ یقین دہانی کرانی چاہئے کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جوفیصلہ ہوا ا±س کی رو کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ ہے کہ اس کی اجازت نہیں دے گی۔ اس بارے میں واضح بیان دیا جاناچاہئے تھا۔
سینیٹر فرحت اللہ بابرنے 39 ممالک کے اسلامی اتحاد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر تو یہ اتحاد دہشت گردی کےخلاف جنگ کے لیے بناہے لیکن اس میں اہلِ تشیع کے تناظر میں جن چار ممالک کو الگ رکھنے کی وجہ سے اسے فرقہ پر مبنی اتحاد قراردیا جارہا ہے۔ انہوں نے ایوان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی تعیناتی کے بہت غلط مضمرات سامنے آئیں گے۔کل کو خدا نخواستہ اگر ایران تین چار ممالک کو ملا کر ایسا کوئی اتحاد بنائے اور پاکستان سے کوئی تھری اسٹار جنرل ریٹائر ہو جو ا±ن کو منظور ہو تو اس کے بہت دور رس مضمرات سامنے آئیں گے۔ البتہ سینٹر تاج حیدر نے کہا کہ جب میڈیا میں جنرل راحیل کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی باتیں آئیں تھیں تو انہوں نے ایک بیان کے ذریعے واضح کردیا تھا۔ اب بھی خود ایک بیان دے کے اس مسئلہ کو کلیئر کردیں۔ ان کی بات کے درمیان میں سینیٹر رضا ربانی بولے اور خوب بولے کہ اب وہ وزیردفاع کے تحت کام نہیں کرتے بلکہ ایک آزاد شہری ہیں!سماجی رابطوں کے ذرائع اور میڈیا میں جنرل (ر)راحیل شریف کے حوالے سے شدید بحث تمخیص جاری ہے اس دوران ایک اور درینہ سینئر دوست لیفٹیننٹ جنرل(ر)امجد شعیب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل(ر) راحیل شریف اولاً کسی کے زیر کمانڈ یہ ذمہ داری نہیں سنبھالیں گے ۔ ثانناً وہ اس میں مصالحتی کردار ادا کرنے کے خواہشمند ہیں ثلاثل وہ سعودی عرب اور ایران میں حائل گہری خلیج کو پر کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ ایک دوسرے تجزیہ کار جنرل(ر)اعجاز اعوان نے سرے سے ہی ایسے امکان کو رد کردیا ہے۔ دونوں ریٹائرڈ جنرنیلوں نے جنرل (ر)راحیل شریف سے ملاقات کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ پھر ان کےبیانات میں تصاد کیوں؟اس کا بہتر جواب جنرل(ر)راحیل شریف خود ہی دے سکتے ہیں جو آئندہ چند روز میں ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ جارہے ہیں۔ ٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved