تازہ تر ین

پانچواں دھریجہ بولتا ہے!

عامر سلیم دھریجہ …. بحث و نظر
19 دسمبر 2016ءکے خبریں میں منصور بلوچ کا کالم پڑھ کر صاف ظاہر ہو گیا کہ اب ان کے پاس کہنے کو کوئی بات نہیں رہی، ساری باتیں کمزور اور فضول ہیں صرف خانہ پری کیلئے کالم لکھا گیا ہے۔ ایک کالم چوہدری عامر حسین کا بھی آیا جو سرائیکی وسیب پر قبضے کو جائز قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ صوبہ نہ بنایا جائے تاکہ قبضہ برقرار رکھا جا سکے، وہ کہہ رہے تھے کہ غیر آباد زمین کو آباد کیا ، اگر ایسا ہے تو سرائیکیوں کو بھی لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ اور اسلام آباد میں زمینیں دی جائیں وہ بھی آباد کر دینگے۔ ہم سے پوچھئے میرے دادا جان سندھ گئے ، ہماری زبان اب سرائیکی ہے اور ہمارے بزرگ سندھی تھے، اس کے باوجود سندھیوںنے پنجاب کے ڈومیسائل کی وجہ سے نکال دیا۔ چوہدری صاحب باتیں کرتے ہیں ، سب کو اپنے گھر خوش رہنا چاہےے، قبضے نہیں کرنے چاہئیں ، راﺅ اسلام کو پروفیسر شوکت مغل نے خوب جواب دیا ان لوگوں کے پاس اگر کوئی جواب ہے تو لے آئیں۔
مورخہ 14دسمبر 2016ءکے خبریں میں سرائیکی بحث دوبارہ شروع ہونے کا اعلان پڑھ کر خوشی بھی ہوئی اور تھوڑی پریشانی بھی کہ اب منصور بلوچ وغیرہ کو پھر سے موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بیگم اور دوسری لڑکیوں کا تعارف خبریں کے ذریعے کرائیں اور سرائیکی دشمنوں سے مراعات لے کر سرائیکی تحریک کو پھر سے بھارت کی تحریک کا نام دیں۔ اخبار میں ایک چوہدری صاحب نے کالم لکھا ہے خوشی ہوئی ہے کہ انہوںنے حقیقت پسندی سے کام لیا، سرائیکی محب وطن قوم ہے، اس کا مرنا جینا پاکستان کے ساتھ ہے ، سرائیکی قوم کی مثال مچھلی کی مانند ہے جو پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔اسی طرح سرائیکی قوم بھی پاکستان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اب وہ وقت گزر گیا کہ لوگ سندھ کی علیحدگی کی بات کرتے تھے ، اب ان کو بھی اپنی عافیت پاکستان کھپے کے نعرے میں نظر آئی ہے، پٹھانوںنے بھی آزاد پختونستان کے بہت نعرے لگائے، اب وہ منتیں کر رہے ہیں کہ فاٹا کے علاقوں کو بھی پاکستان کا حصہ بنایا جائے اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل کیا جائے ، بلوچستان کے بلوچوں کی عافیت بھی پاکستان سے ہے ، محض بھارت اور افغانستان شر پسندی کر رہا ہے ۔ اب پاکستان نئے دور میں داخل ہو چکا ہے ، پاکستان دنیا کا ترقی یافتہ طاقتور ملک بن سکتا ہے اگر حکمران لوٹ مار کو چھوڑ کر پاکستان پر توجہ دیں ، لوٹ مار کرنا ایک جرم ہے اور لوٹ مار کی دولت باہرلے ملکوں میں منتقل کرنا بد ترین جرم اور محکوم قوموں کو دبا کر رکھنا اور اُن کو حق نہ دینا، صوبہ نہ دینا، شناخت نہ دینا، اختیارات نہ دینا، نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل قتل کرنا، تعلیمی ادارے نہ بنانا، صحت کی سہولتیںنہ دینا، موٹر ویز نہ بنانا، ہسپتال نہ بنانا ، یہ سب سرائیکی قوم کے خلاف جرم ہے، جناب ضیاءشاہد صاحب! آپ نے بحث شروع کی ہے تو خدارا پاکستان کے استحکام کیلئے سرائیکی قوم کو حق دلوانے تک خاموشی اختیار نہ کیجئے اور جو جاگیردار خاموش ہیں ان کی غیرت کو بھی جگاتے رہےے اور پیپلزپارٹی، ن لیگ اور مذہبی و مسلکی جماعتوں نے سرائیکی قوم سے جو دھوکے کئے ہیں ان کی بھی کلاس لیجئے تاکہ محروموں کو انکا حق ملے اور آپ کی شروع کی گئی بحث سے ثمرات سرائیکستان کے غریبوں کو حاصل ہوں ۔ اسی طرح یہ سرائیکستان کی بحث پاکستان کے قومی مسئلے کی بحث بن جانی چاہیے اور اس میں تمام قوموں کا نقطہ نظر شامل ہو تو اچھا ہے۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھ جیسے کم پڑھے و کم عمر نوجوان کو بھی لکھنے والوں کی صف میں شامل فرما دیا۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved