تازہ تر ین

طیبہ کیس منطقی انجام تک پہنچائیں

بیرسٹر سید علی ظفر….توجہ طلب
ویسے تو اصول یہ ہے کہ اگر کوئی مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہو تو اس کے معیارات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس سے آپ عدالت کے فیصلے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے طیبہ کیس کے اصل حقائق کیا ہے ان پر میں کمنٹ نہیں کروں گا لیکن اس مقدمے کے جو امکانات ہیں ان پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔ جو الزام اس کیس میں ایک فاضل ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ پر عائد کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کم سن بچی طیبہ کو گھریلو ملازمہ رکھا اور اس پر شدید اور ظالمانہ تشدد کیا۔ میں اس کیس کو اس طرح دیکھتا ہوں کہ سب سے پہلے ایک کم عمر بچے کو گھریلو ملازمت دینا ایک جرم ہے اور غیرآئینی طرز عمل ہے۔ اس کے بعد کسی بھی شخص پر تشدد کرنا ہر لحاظ سے قابل سزا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کم عمر بچوں کو گھریلو ملازمت دینا قابل فخر سمجھا جاتا ہے اور ہمارے ہاں یہ ایک معمول کاوطیرہ اختیار کرچکا ہے اور من حیث القوم ہم سب بے حس ہوچکے ہیں جبکہ میرے نزدیک یہ عمل اتنی ہی سماجی برائی ہے جتنی کہ کسی بچی کو ونی یا کاری قرار دے دینا۔ بچوں سے مشقت بین لاقوامی قوانین کے مطابق اور ہیومن رائٹس کے جتنے کنونشنز ہوئے ہیں جن میں پاکستان بھی سگنیٹری ہے‘ ان کنونشنز میں بچوں کے بنیادی حقوق مندرج ہیں۔ ان میں سب سے اہم شق اینٹی چائلڈ لیبر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر بچے کا یہ بنیادی و آئینی حق ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اور اس سے کسی قسم کی محنت یا مشقت نہ کروائی جائے۔ پاکستانی ریاست اور حکومتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ ایسے قوانین نافذ کریں جن سے گھروں میں کام کرنے والے بچوں کی ملازمت کی شدت کے ساتھ حوصلہ شکنی کی جائے اور بچے یا بچی کو گھر میں ملازمت دینے والا اور دلوانے والا دونوں کو قانون کی گرفت میں لاکر کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ اگرچہ بچوں سے مشقت کی سزا ہمارے ہاں مروجہ قانون میں موجود ہے جوکہ تین ماہ سے ایک سال تک ہے اور جرمانہ بمشکل 10ہزار روپے ہے۔ لیکن قیام پاکستان سے لے کر تادم تحریر یہ سزا کسی بھی بااثر اور گھروں میں بچوں پر تشدد کے مرتکبین پر نافذالعمل نہیں ہو سکی۔ اگر ایسے واقعات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا یا پھر سوشل میڈیا کی برق رفتار ترقی کے باعث معاشرے کے سامنے آبھی جائےں تو معاملہ راضی نامہ کرکے دبا دیا جاتا ہے یا پھر والدین کچھ نہ کچھ لے کر گھریلو بچوں پر تشدد کرنے والے لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ میری اس موضوع پر کچھ احباب سے بات ہوئی ہے‘ انہوں نے بحث یہ کی ہے کہ غریب لوگ جن کے ہاں آٹھ سے دس بچے زیرکفالت ہوتے ہیں ان کی مجبوری ہے کہ وہ روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے چند سکوں کے عوض اپنے لخت جگر بڑے اور بااثر لوگوں کے ہاں گروی رکھ دیتے ہیں اور اگر یہ ملازمت قانون کے ذریعے ختم کروا دی جائے تو پھر ان کےلئے ذرائع آمدن مسدود ہوجاتے ہیں اور انہیں طرح طرح کے معاشی تفکرات کے لاحق ہونے کا اندیشہ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس مرحلے پر جو سب سے زیادہ کردار ادا ہوسکتاہے وہ حکومت کا ہے۔ اس کا ایک طریق کار یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح حکومت نے بھٹہ خشت پر کام کرنے والے بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کروا کر سکولوں میں داخل کروایا ہے اور ان کے والدین کو بھٹہ خشت سے ملنے والے معاوضے کے مطابق اپنی گرہ سے کچھ دیا ہے بالکل اسی طرح حکومت گھروں میں‘ فیکٹریوں میں اور مختلف مارکیٹس کی دکانوں پر کام کرنے والے کمسن بچوں کو مشقت سے نجات دلوا کر اپنے ذرائع سے ان کے والدین کو کچھ نہ کچھ معاوضہ ادا کرے اور ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ دلوائے۔ اس سے ایک طرف ایسے بچوں کے والدین کا نان و نفقہ بھی چلتا رہے گا اور کمسن معصوم جبری مشقت سے بھی نجات حاصل کر سکیں گے لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قوانین پر قوانین اور آئے روز آرڈیننس تو جاری کر دیتے ہیں لیکن شاذونادر ہی کبھی ان قوانین پر عملدرآمد کا مرحلہ آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی قانون کا نفاذ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک پورا معاشرہ اس طرزعمل کی کھل کر مذمت نہ کرے۔ اس میں ہمارا میڈیا اور سول سوسائٹی بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے جو کہ اپنے تئیں وہ کر بھی رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک بچے کو ملازمت دینے والے شخص کو ہمارا معاشرہ ایک مجرم گردانے ۔
حال ہی میں اسلام آباد میں طیبہ نامی بچی کے ساتھ تشدد کے واقعہ کی سپریم کورٹ ایک ایسی مثال قائم کرے جس سے آئندہ ایسی سماجی برائیوں کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن ہو سکے۔ مجھے امید ہے کہ سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے سیکرٹری داخلہ کو عدالت میں طلب کرے گی اور ان سے ملک بھر کی رپورٹ مانگے گی کہ ان کے پاس کیا ڈیٹا ہے اور یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ تمام صوبوں میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد کا تناسب کیا ہے اور اس حوالے سے کمسن بچوں کی ملازمت کو روکنے کیلئے کیا عملی اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ طیبہ نامی بچی کا کیس جس کا سوموٹو سپریم کورٹ لے چکی ہے اسے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر عدلیہ کو آرام سے نہیں بیٹھناچاہئے۔
جہاں تک بچوں پر تشدد کا معاملہ ہے، لگتا ہے ساری حکومتیں سوئی ہوئی ہیں۔ اس کی ایک اور مثال پاکستان کے ہر جیل میں آپ کو دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں بعض بچے تو ایسے ہیں جو جیل میں ہی پیدا ہوئے ہیں اورانہوں نے آج تک آزادانہ طور پر سورج نہیں دیکھا۔ دوسری مثال بچوں کو کئی جیلوں میں خوفناک مجرموں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں انڈرٹرائیل کمسن بچوں کو جیلوں میں رکھا ہوا ہے جہاں غسل خانوں میں ان کے کمرے بنے ہوئے ہیں اور وہیں ان کو سونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جہاں بچہ سونا تو درکنار اپنی ٹانگیں بھی سیدھی طرح پھیلا نہیں سکتے۔ ایک اور دلخراش اور خوفناک بات جو اکثر دیکھنے، سننے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ جیلوں میں بند کمسن بچوں کومجرمان خلاف وضع فطری فعل کا نشانہ بھی بناتے ہیں جس سے ایک طرف بچے اس فعل کے عادی ہو جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب بچے تمام زندگی سر اونچا اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ لہٰذا گھروں میں کام کرنے والے بچوں کو مشقت سے نجات دلا کر حکومت معاشرے کے اچھے شہری بنا سکتی ہے اور جیلوں میں بند بچوں کو رہائی دلوا کر ایک خوبصورت فریضہ سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved