تازہ تر ین

کچھ سید علی گیلانی کے بارے میں ….6

ضیا شاہد
دو روزہ امارت
سید علی گیلانی کی امارت کا دور مختصر رہا ‘ لیکن امیر منتخب ہونے کا ایمان افروز منظر بہت سے لوگوں کو آج بھی یاد ہے ۔ محترم غلام محمد صفی بتاتے ہیں۔
” مولانا سعد الدین نے شرکائے اجتماع سے کہا کہ میری صحت خراب ہے ‘ میں چاہتا ہوں کہ بار امارت کسی دوسرے شخص پر ڈال دیا جائے ۔ بہت سی اہم شخصیات موجود تھیں۔ سب نے یک زبان ہو کر علی گیلانی کا نام لیا ۔ سید علی گیلانی کھڑے ہو کر رقت آمیز اور لجاجت بھرے لہجے میں بولے کہ وہ بار امارت کے قابل نہیں ہیں ‘ خدا کے لیے انہیں معذور سمجھا جائے ‘ لیکن تمام ارکان مطمئن تھے۔ جب ذمے داران نے ان کی ایک نہ چلنے دی اور قرعہ فال ان کے نام پڑ کر رہا تو جناب گیلانی کی حالت غیر ہو گئی ۔ کسی نے بھی ان کی اس جذاتی کیفیت کو پہلے نہ دیکھا تھا نہ بعد میں ۔ انہوںنے روتے ہوئے ‘ شدت جذبات میں اپنے کپڑے پھاڑڈالے۔ بھرائی ہوئی آواز میں انہوںنے بمشکل کہا ۔
” مولانا سعد الدین کی موجودگی میں علی گیلانی امیر کی حیثیت سے کام نہیں کر سکتا۔“
اس کیفیت نے اجتماع میں موجود لوگوں کو بھی رلا رلا دیا ۔ امارت کی ذمے داری صرف دو روز تک رہی ۔ حکومت وقت کا ظرف بہت تنگ نکلا ۔ ۶ مارچ کو ایک بار پھر جیل کے دروازے آپ کے پیچھے بند ہوئے ۔ اس موقعے پر آپ کو پندرہ ماہ کے لیے پس دیوار زنداں رکھا گیا ۔ جیل سے نکلے تو آزادی کا عشق کچھ اور بھی سوا ہو چکا تھا …. ایک صحافی نے پوچھا۔
” آپ بھارت کو غاصب کیوں قرار دیتے ہیں ؟“
”جب کوئی قابض اپنے قبضے کی شرائط پر پورا نہ اترے تو اسے غاصب کہا جاتا ہے ۔“ سید علی نے مسکت جواب دیا۔
۱۹۷۲ءمیں یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنے پروگرام میں گیلانی صاحب کو دعوت دی ۔پروگرام ایک ہوٹل میں تھا۔ موضوع خطاب تھا ” اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے ۔“ یہ وہ دور تھا جب کسی کو مسئلہ کشمیر پر تقریر کرنے یا آزادی کی بات کرنے کا یارانہ تھا۔ سید علی گیلانی اپنی تقریر میں آزادی کا مسئلہ لے آئے اور کچھ ایسے جذباتی ہو گئے کہ قمیص کے سارے بٹن ٹوٹ گئے۔دل میں اتر جانے والی باتیں سن کر سامعین تڑپ اٹھے اور علی گیلانی بے ہوش ہو گئے۔
۱۹۸۹ءمیں سری نگر میں جلسہ عام تھا ہزاروں افراد جمع تھے ۔ جہاد آزادی کا آغاز ہو چکا تھا ‘ لیکن کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کہ کلاشنکوف اٹھانے والے مجاہدین کی بر سر عام حمایت کرتا ۔ سید علی گیلانی نے بلا خوف و خطر لبریشن فرنٹ کے نوجوانوں کی عسکری کارروائیوں کی حمایت کی اور کہا ‘ اگر سکھ جدوجہد آزادی کرنے اور اس کے لیے کام آنے والوں کو شہید کہتے ہیں تو ہم اپنے مسلمان نوجوانوں کو شہید کہنے سے کیوں ڈرتے ہیں ۔ انہوںنے کہا ” کون کہتا ہے کہ اعجاز ڈار شہید نہیں ہے ۔“ مقبول بٹ کو علیٰ الاعلان شہید کہنے کا اعزاز بھی جناب علی گیلانی نے حاصل کیا۔
جنہیں خصوصی کام تفویض کیے جاتے ہیں ‘ انہیں خاص صلاحیتوں سے بھی نوازا جاتا ہے ۔ سید علی گیلانی کو قومی مفادات پر اپنی ذات کو قربان کرنے کا خصوصی ملکہ عطا ہوا ہے۔
حزب المجاہدین کے امیر بتاتے ہیں کہ ایک دن گیلانی صاحب کی اہلیہ محترمہ سخت علیل اور بے ہوش پڑی تھیں ‘ ادھر ایک اجتماع میں ان کی تقریر کا انتظار ہو رہا تھا ‘ وہ اپنی اہلیہ کو بے ہوشی کے عالم میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے حوالے کر کے اجتماع گاہ میں جا پہنچے۔ایسے سکون و متانت سے خطاب فرمایا کہ کسی کو آپ کے داخلی کرب اور پریشانی طبع کا اندازہ نہ ہو سکا۔
اسی نوع کا ایک واقعہ استاد عبدالمجید کریمی نے سنایا۔
” جس روز سید علی گیلانی کی صاحبزادی کی شادی ہو رہی تھی وہ جیل میں تھے اور بیمار ہونے کے باعث ہسپتال میں داخل تھے۔ میں نے ان کے دل کی حالت کے بارے میں سوچا….باپ اپنی جان سے پیاری اور لاڈلی بچی کی شادی میں شریک نہ ہو سکے …. میں برداشت نہ کر سکا اور گیلانی صاحب سے ملنے صورہ ہسپتال چلا گیا۔ ان کے چہرے سے ان کے کرب و جراحت کا کچھ اندازہ نہ ہوتا تھا۔ پہاڑ جیسی استقامت ہے اس شخص کی …. برداشت کی بھی حد ہوتی ہے …. وہ گھنٹے سے زیادہ دیر مجھ سے سیاسی امور پر گفتگو کرتے رہے ۔ میں اساتذہ کے متحدہ محاذ کا صدر تھا ۔ زیادہ دیر گفتگو اسی تنظیم کے حوالے سے ہوئی ۔ بالآخر مجھ سے رہا نہ گیا ۔ میںنے مودب لہجے میں پوچھ ہی لیا ۔
”شفیقہ بی بی آئی تھیں؟“
سید علی گیلانی داخلی تاثر کو چہرے پر لائے بغیر بولے ۔
” ہاں آئی تھیں …. لیکن کوئی بات نہیں کی ۔ بس پھوٹ پھوٹ کر روتی رہیں ۔ میں سنتا رہا اور پھر گیٹ تک اسے چھوڑنے گیا۔“
اس لمحے مجھے گیلانی صاحب کے چہرے پر اداسی کی ایک پرچھائیں سی گزرتی دکھائی دی اور بس….
جماعت سے نکالے گئے
مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کا اصول ہے کہ ہر رکن جماعت اپنی سال بھر کی آمدنی میں سے ایک ماہ کی آمدنی بیت المال میں داخل کراتا ہے ۔ سید علی گیلانی ممبر اسمبلی تھے ‘ان کا پرانا مکان خستہ ہو چکا تھا ‘ اس لیے نیا مکان بنوا رہے تھے۔جماعت کے بیت المال میں رقم جمع نہ کرا سکے۔ حکیم غلام نبی امیر جماعت تھے۔ انہوںنے سید علی گیلانی کے خلاف ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے ان کی رکنیت معطل کر دی ۔ یہ جماعت اسلامی کے مثالی نظم کی ایک مثال تھی اس کارروائی سے پہلے ایک جگہ ان کا پروگرام تھا۔ وہ پروگرام میں تو گئے لیکن خطاب نہیں کیا ۔ یہ اطاعت نظم تھا۔
رکنیت سے معطل کیے جانے کے عرصے میں اسمبلی میں آپ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں ۔ایک مرحلے پر جب آپ کسی کو جواب دیتے ہوئے جماعت اسلامی کا دفاع کر رہے تھے ‘ مخالف ممبران اسمبلی نے کہا ” آپ کس جماعت کی بات کر رہے ہیں ۔ اس نے توآپ کو نکال دیا ہے۔“
آپ نے بڑی متانت سے مگر بر جستہ فرمایا۔” جماعت نے مجھے نکالا ہے ‘ لیکن میں تو نہیں نکلا ہوں ۔ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی دوسری پارٹی مجھے اپنے نصب العین اور مقصد کی آبیاری کرتی نظر آتی تو میں نکل بھی جاتا ۔ لیکن اب تو یہ معاملہ ہے کہ جماعت مجھے دروازے سے نکالے گی ‘ میں کھڑکی سے اندر آ جاﺅں گا۔“ (جاری ہے)
پروفیسر عبدالحمید کریمی کی روایت ہے‘ ایک بار حکیم غلام نبی ( موجودہ امیر ) کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا گیا اور جماعت سے فارغ کر دیاگیا۔ گیلانی صاحب کی تو رکنیت معطل کی گئی تھی حکیم صاحب کو جماعت سے نکال دیاگیا ۔ وہ دوسرے ہی دن دفتر جماعت آ گئے ۔ کسی نے کہا ” جناب آپ کو تو جماعت سے نکال دیا گیا ہے ۔“ حکیم صاحب پُر سوز لہجے میں بولے ….” میں تو جماعت اسلامی کا کتا ہوں ۔ مالک چاہے کتنی لاتیں مارے کتا اپنے مالک کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔“
ایک موقعے پر جماعت اسلامی کی طرف سے مالی امداد کا تقاضا ہوا ۔ سید گیلانی کے پاس ایک اوور کوٹ کے سوا کچھ نہ تھا۔ انہوںنے وہی چندے میں دے دیا۔
اسمبلی کے رکن بنے اور وہاں سے تنخواہ ملنے لگی ‘ تو جماعت کے بیت المال میں جمع کرانے کا حکم ہوا ۔ آپ حکم کے مطابق اپنی تنخواہ جمع کرا دیتے اور اپنی ضرورت کے برابر کفاف بیت المال سے وصول کرتے تھے۔ جماعت سے وابستہ دوسرے چار ممبران اسمبلی بھی یہی کیا کرتے تھے۔ بعد میں مہمانداری کا دباﺅ بڑھا ‘ تو انہوںنے شوریٰ سے کفاف میں اضافے کی درخواست کی ۔ شوریٰ نے کمیٹی بٹھائی جس نے فیصلہ کیا کہ ممبران اسمبلی کو پوری تنخواہ کے برابر الاﺅنس دیا جائے ‘ تاہم اسمبلی سے وصول ہونے والی تنخواہیں حسب معمول پہلے بیت المال میں جمع کرائی جائیں گی۔بعد میں جب اس طریقے سے بھی مسائل پیدا ہونے لگے تو جماعت نے ممبران اسمبلی کو اپنی تنخواہوں پر بلا واسطہ تصرف کا حق دے دیا لیکن ” جماعت کے نظم کے تحت “ اور ” فیصلے کے تابع“ رکھ کر۔
سید علی گیلانی کو امریکی مسلمانوں کی دعوت پر امریکہ جانے کا موقع ملا ۔ واپسی پر مختلف عقیدت مندوں نے انہیں قیمتی تحائف دیے ۔ کشمیر پہنچے تو انہوںنے سنت رسول اور سنت صحابہؓ کی پیروی میں یہ تمام تحائف بھی بیت المال میں جمع کرا دیے ۔ ان کے خیال میں یہ تحفے انہیں جماعت اسلامی کی وابستگی کی بنا پر ملے تھے۔
واد· لولاب کے گاﺅں ٹکی پورہ سے دعوت ملی ۔ رفقائے جماعت نے طویل اور مشکل سفر ہونے کے پیش نظر آپ کے لیے ایک گھوڑا اور خادم بھیجا۔ آپ گھوڑے پر سوار ہوئے ‘ کچھ دور جا کر اتر گئے اور خادم کو سوار ہونے کے لیے کہا۔ اس نے کہا ‘ جناب پہاڑی راستہ ہے ہم پہاڑوں میں چلنے کے عادی ہیں اور یہ گھوڑا تو آپ کی سواری کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ لیکن سید گیلانی کسی طرح آمادہ نہ ہوئے۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ کی سنت کے عین مطابق آپ خادم کے ساتھ باری باری سواری کرتے ہوئے ٹکی پورہ پہنچے۔
غیرمتنازعہ قائد
جماعت اسلامی کے ہر کارکن کو سید گیلانی جانتے ہیں ۔ ہزاروں نام آپ کو یاد ہیں ۔ ہر جماعتی رفیق سمجھتا ہے کہ سید علی گیلانی مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں ۔ دوسری جماعتوں کے لوگ بھی آپ کے یکساں طور پر مداح ہیں ۔ حالیہ گرفتاری سے پہلے آپ نے مختلف مجاہد تنظیموں کے تعاون سے ایک مجلس منعقد کی ۔ اس اجتماع میں حزب المجاہدین اور اس کی ہم خیال جماعتوں کے قائدین کے علاوہ جے کے ایل ایف کے اشفاق مجید وانی شہید اور دوسرے اہم رہنما شریک تھے۔ ان سب لوگوںنے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ سید علی گیلانی کی قیادت میںتمام اختلافات ختم کر کے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ لیکن اس اجتماع کے فوراً بعد آپ گرفتار کر لیے گئے۔
۱۹۸۷ءکے ریاستی انتخابات سے پہلے گیلانی صاحب کی کوششوں کے نتیجے میں نو جماعتوں پر مشتمل مسلم متحدہ محاذ وجود میں آیا تھا ۔ ریکارڈ توڑ دھاندلی کے نتیجے میں مسلم متحدہ محاذ کو شکست دے دی گئی۔خود گیلانی صاحب دھاندلی کے باوجود اسمبلی میں جا پہنچے ۔ تن تنہا بھی آپ کٹھ پتلی حکمرانوں کے لیے شمشیر بُراّں بنے رہے ۔
بہت برس پہلے آپ نے عوام کو تین الف …. اسلام ‘ اتحاد اور آزادی …. کا نعرہ دیا تھا۔ اب آپ چوتھے الف کا اضافہ کر رہے تھے۔ تعیش کی زندگی ترک کرو اور اسلحہ ….خریدو…. ۳۰ اگست ۱۹۸۸ءکو آپ اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے ۔ جہاد آزادی تیز ہو چکا تھا اور اب اس ایوان کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی تھی ۔ آپ نے پوری ریاست کا طوفانی دورہ کیا اور عوام کو بتایا۔” صندوق کے راستے سے انقلاب آنا ممکن نہیں رہا ‘ اب آپ کو بندوق کا راستہ اپنانا ہوگا ۔“ جہاد آزادی کی شدت کے آگے کشمیر کے تمام سیاسی رہنما چلے ہوئے کارتوسوں کی طرح بے کار ہو کر رہ گئے۔ کل تک جو قائد کشمیر بنے پھرتے تھے‘ ان کا گھروں سے نکلنا محال ہو گیا ۔ جناب گیلانی واحد سیاسی قائد تھے جو بانہال سے جم گنڈ تک آزادانہ گھوم سکتے تھے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۹۰ءکو آپ نے ریاست بھر میں یوم پاکستان منانے کا اعلان کیا ۔ بھارت نے شدید کرفیو نافذ کر کے اسے روکنے کی کوشش کی ۔ ۱۳ پریل ۱۹۹۰ءکو جب آپ سوپور سے بارہ مولا جا رہے تھے کہ آپ کو پھر گرفتار کر لیا گیا تب سے وہ الہ آباد کے عقوبت خانے میںمحبوس ہیں ۔ کشمیرکے اس عظیم قائد پر جیل میں بے پناہ تشدد کیاگیا ہے وہ دل کے پرانے مریض ہیں ۔ لیکن آزادی کی جنگ کا یہ عظیم سپہ سالار جیل کو بھی محاذ جنگ میں تبدیل کیے ہوئے ہے۔ جیل سے آنے والے پیغامات میں قوم کو اتحاد کا درس دیا جا رہا ہے ‘ بشارتیں دی جا رہی ہیں۔
میرے بیٹو ! ڈٹے رہو !بہادرو ّ آزادی چند قدم دور ہے ۔ اک ذرا صبر میری بیٹیو! ظُلم کے دن تھوڑے ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved