تازہ تر ین

جوڑ توڑکی سیاست

مختار عاقل …. دوٹوک
پاکستان دنیا کے عظیم خوبصورت اور وسائل سے مالا مال ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ تمام اسلامی ممالک میں پاکستان واحد ایٹمی ملک ہے اس کے قومی ترانے کی دھن دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر شمار ہوتی ہے۔ دنیا کا چوتھا براڈ بینڈ انٹر نیٹ سسٹم پاکستان کا ہے اس کی فوج دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر بڑی شمار ہوتی ہے۔پاک فضائیہ کے مایہ ناز ہوا باز محمد محمود عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5طیارے گرادیئے تھے جن میں سے چار طیارے 30سیکنڈ میں گرائے تھے جو عالمی ریکارڈ ہے۔ پاکستان دنیا کے 11ملکوں میں شامل ہے جن میں 21ویں صدی کے دوران سب سے بڑی معیشت بننے کی صلاحیت ہے۔ دنیا کے دوسرے نمبر پر طویل ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو اور نویں نمبر پر نانگا پربت پاکستان میں ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں چھٹے اور اسلامی ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ زمین کی بھرائی والا سب سے بڑا اور دنیا میں دوسرے نمبر کا بڑا تربیلا ڈیم پاکستان میں ہے۔ ایدھی فاو¿نڈیشن دنیا میں سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ دنیا کا بلند ترین ریلوے اسٹیشن بھی پاکستان میں ہے۔ دنیا میں ماہر ترین ہوا باز پاک فضائیہ میں ہیں۔ دنیا کی سب سے گہری بندرگاہ گوادر پاکستان میں ہے۔ سائنسدانوں اور انجینئروں کی دنیا بھر میں ساتویں بڑی کھیپ پاکستان میں ہے۔ دنیا میں تیار ہونے والی فٹبال کا نصف (50فیصد) پاکستان میں تیار ہوتی ہیں۔ چین اور پاکستان کو ملانے والی قراقرم ہائی وے دنیا میں بلند ترین پختہ سڑک شمار ہوتی ہے۔ کھیوڑہ میں نمک کی کانیں دنیا میں دوسرے نمبر پر شمار کی جاتی ہیں۔ دنیا کا بلند ترین پولو گراو¿نڈ شیندور پاکستان میں ہے جس کی بلندی 3700میٹر ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا نظام آبپاشی اور آسمان کو چھونے والی پہاڑی رینج پاکستان میں ہے پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی دنیا میں بہترین شمار ہوتی ہے لڑاکا طیارہ سازی میں بھی پاکستان آگے ہے۔ پاکستان سرجیکل آلات کی برآمد میں بھی بڑا مقام رکھتا ہے۔ ایک عالمی سروے کے مطابق دنیا 125ممالک میں پاکستان ذہین ترین افراد میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس عظیم الشان ملک اور اس کے عالیشان عوام کے ”جگاڑو سیاستدانوں“ نے حالت تباہ کر رکھی ہے۔ ہر نئے دن کے ساتھ غربت و افلاس‘ بیروزگاری اور مہنگائی کا گراف بڑھ جاتا ہے۔ مہنگی تعلیم اور صحت کی سہولیات نے عام آبادی کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ رشوت کرپشن اور بدعنوانیوں نے ملک کا نقشہ بگاڑ رکھا ہے۔ پاکستان کے بد عنوان سیاستدانوں نے اپنا ملک لوٹ کر بیرون ملک بینکوں میں پیسہ جمع کر رکھا ہے۔ پانامہ لیکس نے حکمرانوں کے بہت سے راز افشاں کر دیئے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ سوئس بینکوں میں جمع پاکستانیوں کی رقوم واپس لانا بہت مشکل کام ہے۔ ان رقوم کا تخمینہ 200ارب ڈالر سے زیادہ لگایا جاتا ہے جو پاکستان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں سے تقریباً دوگنی رقم ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام ان قرضوں کا سود ادا کررہے ہیں اور قومی خزانہ لوٹنے والے اپنے خاندانوں کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ان ”جگاڑو سیاستدانوں“ نے پاکستان کے 70برسوں میں اسے کنگال اور بے حال کردیا ہے انہوں نے ملک میں ہر شے ”جگاڑ“ پر ڈال دی ہے۔ کبھی کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔ لطیفہ ہے کہ امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کچھ جاسوس اسلامی ممالک میں بھیجے تاکہ وہاں کے حالات کو سمجھا جاسکے دو قابل جاسوس پاکستان کی طرف روانہ کئے گئے۔ وہ پی آئی اے کے جہاز پر پاکستان کا سفر کررہے تھے کہ اچانک جہاز خراب ہوگیا پائلٹ نے اعلان کیا کہ جہاز کے چاروں انجن فیل ہوچکے ہیں لیکن آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لیا جائے گا۔ جاسوس جوں ہی پاکستان پہنچے تو دہشت گردوں نے ایئرپورٹ پر حملہ کردیا۔ سیکورٹی کی طرف سے اعلان ہوا کہ آپ مت گھبرائیں‘ زمین پر لیٹ جائیں‘ کوئی نہ کوئی جگاڑ لگارہے ہیں۔ ایئر پورٹ سے جان بچا کر گاڑی میں ہوٹل جارہے تھے کہ انجن خراب ہوگیا۔ ڈرائیور نے کہا کہ گھبرائیں نہیں کوئی جگاڑ لگا لیا جائے گا۔ دونوں جاسوس بمشکل اپنے ہوٹل کی دسویں منزل پر پہنچے تو وہاں آگ لگ گئی۔ فائر بریگیڈ نے اعلان کیا کہ پانی کا پریشر 8ویں منزل تک جارہا ہے لیکن آپ فکر نہ کریں‘ کوئی جگاڑ لگالیں گے۔ دونوں امریکی جاسوس گھبرا کر دوسرے ہی دن واپس اپنے ملک چلے گئے اور صدر ٹرمپ کو رپورٹ دی کہ پورا پاکستان جگاڑ پر چل رہا ہے۔ اگر جگاڑ پر ہمارا قبضہ ہو جائے تو پورا پاکستان قبضے میں آسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کو فون کیا کہ جگاڑ کا کتنا مانگتا ہے۔ حکومت نے جواب دیا کہ ہم آپ کو جگاڑ فروخت نہیں کرسکتے۔ یہاں خود حکمران خاندان نے قطری شہزادے کے خط کا جگاڑ لگایا ہوا ہے۔ بظاہر یہ ایک لطیفہ ہے لیکن لطف یہ ہے کہ پاکستان میں ”جگاڑ“ ہر شے پر حاوی ہے۔ سیاست سے لے کر معیشت اور انتظامیہ سے لے کر سرکاری امور کی انجام دہی تک سب ”جگاڑ“ پر چل رہے ہیں۔اس جگاڑ کے ذریعے
ایسے ویسے‘ کیسے کیسے ہوگئے ہیں
اپنے اطراف پر نظر ڈالئے۔ چند سال قبل جن کے پاس سائیکل نہیں تھی‘ وہ پراڈو اور مرسڈیز میں گھوم رہے ہیں جن کے پاس کھانے کی محتاجی تھی‘ وہ فائیو اسٹار سے کم بات نہیں کرتے۔ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے رضاعی بھائی اویس مظفر ٹپی نے گزشتہ دنوں دبئی میںلاکھوں درہم کی خریداری کی ہے ان میں 39ہزار درہم کے تین جوتے بھی شامل ہیں جن کی پاکستانی روپے میں قیمت 11لاکھ 70ہزار روپے بنتی ہے وہ دو سال قبل سندھ کے وزیر بلدیات تھے۔ نیب کی انکوائری اور ایف آئی اے کی پکڑ دھکڑ سے بچ کر بیرون ملک گئے۔ بہانہ بھائی کی میت لانے کا تھا لیکن آج تک واپس نہیں آئے۔ پاکستان کے ”جگاڑو سیاستدانوں“ نے اس حسین و جمیل سر زمین کی شکل بگاڑ دی ہے۔ پاکستان بنا تو ایک ڈالر ایک روپے کا تھا‘ انہوں نے اسے 108روپے تک پہنچا دیا ہے۔ چند سو روپے میں پلنے والے خاندانوں کےلئے آج 20ہزار روپے ماہانہ بھی کم ہیں۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات آسمان سے باتیں کررہے ہیں اور مہنگائی سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ دبئی اور کراچی ایک ہی خط پر واقع ہے درمیان میں سمندر (بحیرہ عرب) ہے لیکن دونوں کی ترقی اور نظام حکومت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ گزشتہ 30سال سے ڈالر اور درہم کی ایک ہی شرح مقرر ہے‘ قانون کی حکمرانی ایسی کہ تنہا خاتون سڑک پر سونا اچھالتی چلی جائے مگر کیا مجال کہ کوئی لوٹنے کا خیال بھی دل میں لاسکے۔ ہمارے یہاں اسٹریٹ کرائم مستقل ناسور بنا ہوا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مجرموں کےخلاف آہنی ہاتھ استعمال کئے ضرب عضب لگائی‘ امن و امان قائم کیا تو عوام ان کے گرویدہ ہوگئے۔ حکمران اگر عوام کا خیال کریں‘ ملک سنواریں‘ مجرموں کی سر کوبی کریں‘ قومی خزانہ کو امانت سمجھیں‘ عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم سمجھیں تو پاکستان بھی سوئٹزر لینڈ اور دبئی بن سکتا ہے لیکن ”جگاڑو سیاستدانوں“ سے اس کی توقع عبث ہے۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved