تازہ تر ین

درویشی نشہ؟

ندیم اُپل …. نشانہ
دو روز قبل سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جب غیر ملکی شراب کا تذکرہ آیا تو عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما شاہی سید نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ شراب پینے والوں کو پھانسی ہونی چاہیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ پارلیمنٹرین تو عوام کاسمبل ہوتے ہیں اور اگر وہ ایسا کام کریں گے تو ان کیلئے کڑی سے کڑی سزا ہونی چاہیے ۔البتہ غربیوں کے حوالے سے شاہی سید کاکہنا تھا کہ وہ اگر شراب پئیں تو انہیں سال یا چھ ماہ کی سزا ملنی چاہیے۔ شاہی سید سے جب کسی اخباری نمائندے نے چرس کے بارے میں سوال کیا تو موصوف فرمانے لگے کہ چرس ایک درویشی نشہ ہے لیکن یہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔
شاہی سید جب بھی لاتے ہیں دور کی کوڑی لاتے ہیں اور تجاویز اس انداز میں پیش کرتے ہیں گویا حکم صادر فرمارہے ہوں۔ اگر وہ سیاستدان کے بجائے جج ہوتے تو شاید معاشرتی برائیوں کا بھی خاتمہ ہوجاتا۔ شاہی سید کی تجویز پر شراب پینے والوں کو اگر پھانسی دینے کا قانون بن گیا پھر تو شاید منتخب اسمبلیوں کی بہت سی نشستوں پر ضمنی الیکشن کروانا پڑیں گے۔ جس کے نتیجہ میں عین ممکن ہے کہ ملک میں سیاسی توازن بھی برقرار نہ رہے ۔ہمارے خیال میں تو شاہی سید کی اس تجویز کے پیچھے یہی حکمت عملی کارفرما ہوگی۔ ویسے تو کوئی رکن اسمبلی اپنی نشست چھوڑنے کو تیارنہیں شاید ایسے ہی کچھ ارکان کو آﺅٹ کردیا جائے۔ جہاں تک شراب کے نشے کا تعلق ہے‘ ایسا نشہ کرنے والوں کا مو¿قف ہے کہ شراب دلیر نشہ ہے اور کام کرنے کی صلاحیت بڑھا دیتا ہے۔ تخلیقی کام کرنے والوں کی خوبیوں کو جلا بخشتا ہے۔ اکثر شعراءپر الزام ہے کہ انہوں نے شراب پی کر اچھی شاعری کی جبکہ احمد ندیم قاسمی (مرحوم) نے ایک بار فرمایا تھا کہ شراب پی کر تو منہ سے صحیح بات نہیں نکلتی شعر کیا نکلنا ہے۔ قاسمی صاحب نے اختر شیرانی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب انہوں نے شراب کی حالت میں ایک شعر کہا تھا‘ ہوش میں آنے کے بعد خود اس شعر کے کہنے والے کو غائبانہ طور پر گالیاں دی تھیں۔ شاہی سید کا یہ کہنا کہ غریب کو شراب پینے پر سال یا چھ مہینے کی سزا ہونی چاہئے۔ ایسا ممکن نہیں کیونکہ اول تو غریب کے پاس جانی واکر جیسی ولایتی شراب پینے کیلئے پیسے ہی نہیں ہوتے اور اگر کبھی خوشی کے موقع پر وہ دیسی شراب سے شوق کر لے تو ہسپتال جانے سے پہلے راستے میں ہی وہ دم توڑ جاتا ہے۔ اس لئے غریب تو خود ہی اپنے آپ کو شراب پینے کی اذیت ناک سزا دے دیتا ہے۔ اس کیلئے سال یا چھ ماہ کی سزا کی تجویز قابل قبول نہیں‘ البتہ چرس کے بارے میں شاہی سید کا یہ کہنا کہ چرس درویشی نشہ ہے مگر یہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔اب معلوم نہیں کہ انہوں نے چرس کودرویشی نشہ کیوں کہا‘ اس بارے میں محققین ہی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔ شاید شاہی سید نے درویش شاعر ساغر صدیقی کی وہ مشہور زمانہ تصویر دیکھ لی ہو گی جو نشہ کی حالت میں اتاری گئی تھی اور پاکستان کا ہر اخبار اور میگزین اس تصویر سے فراخدلانہ استفادہ کر چکا ہے۔ جو ماہرین شراب کودلیر نشہ قرار دیتے ہیں وہ چرس اور ہیروئن کو بزدل نشہ قرار دیتے ہیں اور ایسا نشہ کرنے والے نالیوں اور گٹروں کے پاس پڑے ملتے ہیں۔ معلوم نہیں شاہی سید نے کن معنوں میں چرس کو درویشی نشہ قرار دیا۔
تذکرہ شراب کے نشے کا آیا ہے تو پچھلے دنوں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے شراب کی پابندی کے حوالے سے ریمارکس دیئے تھے کہ اقلیتوں کو تو اس پابندی پر کوئی اعتراض نہیں پھرمسلمان معلوم نہیں اس پابندی کے خلاف کیوں آواز اٹھاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ شراب، چرس، ہیروئن اور افیون سے زیادہ خطرناک ہمارے اشرافیہ کو نشے لگے ہوئے ہیں۔ مثلاً دولت کا نشہ، طاقت کا نشہ، غیر ملکی اکاﺅنٹس کا نشہ، پلاٹوں پرمٹوں اور لائسنسوں کا نشہ، ڈالرز پاﺅنڈ اور ریالوں کانشہ، کیمرے کے سامنے آنے کا نشہ، خدمت خلق پر فوٹو سیشن کا نشہ اور جو اس نشے میں جھوٹ بول کر دوسروں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایسے نشہ بازوں کیلئے شاہی سید کیا سزا تجویز کریں گے۔ البتہ وہ ممالک جہاں شراب کا استعمال ایک کلچر تصورکیا جاتا ہے اور اس فعل کو جرم تصور نہیں کیا جاتا۔ وہاں دوسرے نشے نہیں ہیں۔ جن کا ذکر ہم سطور بالا میں کر چکے ہیں۔ مثلاً امریکہ سے تازہ خبر یہ آئی ہے کہ نائب صدر جوبائیڈن جو بھرپور اختیارات کے ساتھ کام کر رہے ہیں مگر اتنے ایماندار ہیں کہ ان کے پاس کینسر کا شکار اپنے بیٹے کے علاج کے لیے پیسے نہیں تھے اور بیٹے کے علاج کیلئے اس ایماندار امریکی نائب صدرکو اپنا گھر بیچنا پڑ رہا تھا۔ ایسے میں صدراوباما نے ان سے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اپنی کمائی سے بچائی ہوئی رقم دوست کو دے ڈالی۔ کاش ہمارے اشرافیہ بھی ایسی مثال بننے کی کوشش کریں۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved