تازہ تر ین

سیالکوٹ کی بیٹیاں

صوفیہ بیدار……..امروز
عنوان کیلئے یہی کہہ سکتی ہوں( بقول غالب)
پھر چاہتا ہوں نامہ دلدار کھولنا
جاں نظر دل فریبی عنواں کئے ہوئے
سیالکوٹ کی بیٹیوں پر لکھنا چاہوں تو سب سے پہلے تو وہی چہرہ سامنے ہے
تصویر بنائے کیا کوئی
کیا کوئی لکھے تجھ پہ کویتا
رنگوں جھنگوں میں سمائے گی
کس طرح سے اتنی سندرتا
اک دھڑکن ہے تو دل کیلئے
اک جان ہے تو جینے کیلئے
مخروطی انگلیوں میں قلم تخلیقی تحیر میں ڈوبی آنکھیں کبھی وہم کبھی گمان جسے لوگ نصرت ادیب ہاشمی کہتے اور ہم امی جان…. مجھے امی کا شاعرہ ہونا ، نازک ہونا، ہلکا سا بیمار ہونا، سب بہت آرٹسٹک لگتا۔ وہ گورنمنٹ افسر بھی تھیں مگر شاعری ان سب شعبہ جات پر حاوی تھی۔ شخصیت کا بے نیاز ہونا، تفافل اور شوہر سے عشق ہی کمبی نیشن تھا۔ آخر الذکر ”صفت“ سے ہمیں ”چڑ“ تھی۔ ہم سب بہنیں سمجھتی تھیں کہ خون کے رشتے محبت کے اس لئے ہیں کہ اس میں ہر ناراضی Time Limit میں ہے۔ بالآخر خون کی کشش اکٹھا کردیتی ہے اس ضمن میں بہت پیارے پیارے واقعات بھی ہوئے۔ انتخاب کے رشتوں کو اگر مذہب اور ثقافت کے قوانین میں درج کرلیا جائے تو پھر معاہدہ حاوی ہوجاتا ہے۔ انتخاب پیچھے رہ جاتا ہے اور معاہدے ہمیشہ Logic منطق کی رو سے چلتے ہیں۔ شوہر سے وفاداری عین ایمان ہے یہ صفت سب بہنوں کو والدہ سے ملی مگر ان کی والد کیلئے عشقیہ کیفیت انہیں ہمیشہ ملول اور بیمار رکھتی۔ ہمہ وقت وہ رشتہ اور محبت کے درمیان الجھی رہتیں۔ میں اپنے بچپن کے ذہن کے مطابق انہیں سمجھاتی کہ پرواہ مت کریں وہ گھر تو آتے ہیں بس Respect کا تعلق رکھیں، باقی کہاں جاتے ہیں کہاں سے آتے ہیں، چھوڑ دیں مگر ماں کوئی محض بیوی تھوڑا ہی تھیں انہیں تو ”لگن“ لگی ہوئی تھی اک خلش جو کبھی توہین سے ہمکنار کرتی تو کبھی رقابت سے، کڑھنا جلنا، سلگتی لکڑیوں کا تو دیکھا تھا مگر لڑکیوں کو جلتے کڑھتے سلگتے صرف سیالکوٹ کی گلیوں میں دیکھا۔ بہت سی لڑکیاں امی کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہوکر ہمارے ہاں آیا کرتیں۔ ان میں ہی ایک ”بیلا باجی“ تھیں جنہیں پہلے لوگوں نے رخسانہ آرزو اور پھر رخسانہ نور کے نام سے جانا۔ ”نور“ جو روشنی بھی ہے روشنی جو کبھی ٹھنڈک مگر زیادہ تر تپش سے موصوم ہے۔ معاہدے ٹھنڈے ہوتے ہیں مگر عشق پر تپش، جس میں اقبال نے بھی بے خطر کودنے کی بات کی اور جو محو تماشہ لب بام رہے وہ آج بھی ہیں، گنگنا رہے ہیں، رقصاں ہیں، رخسانہ کے نئے خوبصورت گھر کے دالان میں‘ میں ان کی بڑی باجی اور اپنی سکول ٹیچر باجی رخشندہ (جو مجھ سے بہت مشفق اور میری اردو نظموں نثر کی معترف تھیں) سے کہہ رہی تھی آپ نے مجھے کچی عمر میں پکی سوچ سے آشنا کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ اچھائی کا انجام برا اور برائی کا اچھا کیوں ہوتا ہے، نامرادی، بیماری اور تنہائی محبت کی قسمت میں کیوں ہے؟ اگر ”بیلا“ محض بیوی ہوتی اور عین شریعت کے مطابق نبھتی تو نبھاتی ورنہ چھوڑ دیتی تو کیا وہ آج اتنی بیماری سے نبرد آزما ہوکر مرجاتی؟
کیا ”کینسر“ کوئی مافوق الفطرت چیز ہے کیا یہ دکھ کا دوسرا نام نہیں۔ ”جنرک نیم“ تو کئی رکھے جاتے ہیں مگر بیماری اور ہر بیماری کا ایک ہی نام ہے بے اعتنائی، بے وفائی، بے عزتی جو آپ ہی آپ ہوجاتی ہے اس کیلئے لفظوں کو گالیوں میں پرونے کی ضرورت نہیں۔ برصغیر کی عورت بظاہر تو عربی نکاح کرتی ہے مگر سات جنموں سے ”ستی“ ہونے والی ”یکتائی“ کے ساتویں آسمان پر ہوتی ہے اسے گھریلو کام کاج اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے تولنے والے ”ظرف“ سے محروم ہوتے ہیں۔ لیبر روم اور آپریشن تھیٹروں سے ”لوتھڑے“ لاکر پرورش کرنے والی محض ”کتبے“ پر اپنا نام لکھوانے کیلئے تمام عمر عزت کے کٹہرے میں کھڑی سوالوں کے جواب دیتی رہتی ہے وہ ”سند“ جو اس کے جھریوں زدہ چہرے، راکھ میں بجھے ہاتھوں ، پھٹی ہوئی ایڑیوں اور ادھورے جسموں کے ساتھ بھی نہیں ملتی۔ بیگم فلاں کا جنازہ ، اس اعزاز کیلئے تمام عمر بھانڈے ، برتن چولہے چوکے ، روٹی کپڑے ، جھاڑو پونچھے اور منیو پاز ہوجانے کے بعد بھی کردار کی گواہیاں دیتی رہتی ہے۔ شوہر، والد ، بھائی اور بیٹھے تک منتقل کرتا ہے کہ ہمہ وقت اس عورت کو کیسے نشانے پر رکھناہے ان سب جھمیلوں میں اگر عورت کو عشق بھی اپنے قاتل سے ہو تو کوئی کیا کرے؟
کل ایک میگزین میں چار پانچ سیریل کلرز جنہوں نے سینکڑوں قتل کئے ان سے خواتین کی محبت کی شادیوں کی تصاویر دیکھ رہی تھی۔ سوچ رہی تھی انہو ںنے تو اعلانیہ قتل کئے ہیں اور جو بیوی کی ماں، بہن، بھائی اور باپ کو گالیوں سے نواز کر اس کے کردار کو تماشہ بنا کر قطرہ قطرہ قتل کرتے ہیں ان کا کیا؟
میری ٹیچر بہت مذہبی ہیں بولیں ”دنیا مسلمان کیلئے نہیں بنی، میرے دفتر میں میرے بچوں جیسے نذیر نے کہا میڈیم مومن کیلئے دنیا خواب ہے اس کی دنیا اور ہے ہم سب مسلمان ہیں اور جو دوسرے عقیدوں سے تعلق رکھتے ہیں، اخلاقیات میں سب متفق ہیں کہ ایک ہجرت کی ماری کو دوسرے گھر میں مقام ملنا چاہیے اس کی توہین تو آئینے میں کھڑی عورت دیکھ کر بھی ہوجاتی ہے وہ کیسے گوشت پوست کی بنی ٹھنی عورت کا مقابلہ کرے“۔ رخسانہ نور تھک گئی، آخری گفتگو میں مجھے کہا بیٹا میں تھک گئی ہوں (بیٹا وہ مجھے اس لئے کہتی تھیں کہ میں ان کی سب سے چھوٹی بہن ”گڑیا“ کی کلاس فیلو اور ان ہی کے گھر میں پلی بڑھی ہوں) میں ثمرینہ اور خاورگڑیا سب اکٹھے ان کے خوبصورت ”وچھاڑوں جھالروں“ والے تخت پوشوں کے اردگرد دوڑیں لگا کر ان کی والدہ سے جھاڑیں کھایا کرتے تھے وہ بہت دین دار عورت تھیں۔ گھر کی بالائی منزل پر ڈائننگ ٹیبل پر کھڑے ہوکر نماز پڑھتیں تو تب سمجھ نہ آتا کہ یہ اہتمام کیوں؟ ذرا سا بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ نچلی منزل پر رخسانہ کے والد شام کو لڑکوں کو ٹیوشن اور صبح سکول چلاتے تھے۔ بالائی صحن میں لوہے کی سلاخوں والا جنگلہ عین درمیان میں تھا وہ عبادات میں یہ دھیان رکھتی تھیں کہ کوئی لڑکی بذریعہ جنگلہ نیچے تو نہیں جھانک رہی۔ اس وقت سب مائیں ایسی ہی تھیں ، سب کی بیٹیوں کا دھیان رکھتی تھیں۔
تیس پنتیس برس کی مائیں ”مائیوں“ کے روپ دھارے اپنی چودہ پندرہ برس کی بچیوں کی حفاظت میں رات رات بھر نہ سوتیں۔ پورے محلے کی دادیاں، نانیاں تمام لڑکیوں کے اٹھنے بیٹھنے، زور سے قہقہہ لگانے، اپنے آپ مسکرانے پر پریشان ہوجاتیں اور فوری اقدامات کرکے منگنی، نکاح کروا کر چلتا کرتیں۔ اتنے مضبوط معاشرے کو نظر لگی سو لگی مگر آدھے ادھورے نئے پیکیج نے نہ پچھلے کی سہولتیں چھوڑی نہ اگلے کے ثمرات….
کمبی نیشن کچھ اس طرح ہے….
پچھلی عورتیں پڑھ پڑھ کر ادھ موئی ہونے کی بجائے نئے آنگن میں زیور، کپڑوں، مہندی سمیت سجی سنوری اتر جاتیں، نہ گندی نظریں پڑتیں نہ حسن ماند پڑتے۔ پچاس برس کی عمروں میں بھی شرماتی لشکیں مار رہی ہوتیں۔
موجودہ پڑھ مرکھپ کر آنکھوں کے گرد ہلکے انٹلیکچوئیل بیوٹی کے نام پر سڑی مری جلد، کمزور ہڈیاں اور وٹامنز پر پرورش پانے والی بے خواب آنکھیں، میٹنگوں کے خوف، فائلوں کی گرد رولز اینڈ ریگولیشن کلازز نے شکلوں، عقلوں اور حسن و شرماہٹ کی مت ماردی ہے۔ اب تو مردوں جیسی ”کھروی“ عورتیں عورتوں جیسے نازک مارد اور بے پناہ ابہام ہے ایسے میں بھی کبھی کبھی خالص عورتیں نظر آتی ہیں جو پڑھ لکھ کر نوکریاں کرکے بچے امریکہ اور یورپ میں سیٹل کرکے بھی خود ہزاروں سال قدیم عورت رخسانہ نور کے روپ میں پیدا ہوجاتی ہے (کیونکہ وہ بھی سیالکوٹ کی بیٹی ہے) جو اپنے ہی ”نور“ کے ہالے سلگتی رہتی ہے اور جو وہ رسم جسے انگیریز اپنے تئیں ایک ایکٹ کے ذریعے ختم کرگئے تھے جو آج بھی کبھی کبھی جنوبی بھارت کی عورتیں نبھاتیں ہیں وہ ”ستی“ کی رسم ایک دیوانی نے اور بھی ”پوتر“ کردی ۔ کہتے ہیں آگ پاک ہوتی ہے سارے آلام جلا ڈالتی ہے اور دوسروں کیلئے روشنی کردیتی ہے۔ صغرا صدف نے آخری لمحات میں چہرہ دیکھ کر بتایا کہ اس کے چہرے پر بہت سکون تھا۔ میں وفات کے فوری بعد ہی اس کے کمرے اس کی آخری سانسوں کو محسوس کرنے پہنچی تھی میں نے صغرا سے کہا اشفاق احمد کے بھی رخصت ہونے کے فوری بعد میں نے ان کے کمرے کو دیکھا تھا اور ہومیو پیتھی کی چھوٹی چھوٹی شیشیوں کی بے بسی بھی۔
رخسانہ کے کمرے میں آکسیجن سلنڈر بے بس کھڑا تھا اپنی جعلی آکسیجن سمیت، اسے جو آکسیجن چاہیے تھی وہ فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ لوگ ضرور سوال کرتے ہیں کہ دوسری شادی جرم نہیں مگر بات محبت کی ہو تو عاشق کے تصویر میں پنہاں حسن پر نظر بھی جرم بن جاتی ہے بہت سے دوسرے ابہام کی طرح برصغیر کی شادیوں میں عربی معاشرہ اور برصغیر کی ثقافت دو حقیقتیں بن کر رہیں گی۔ مذہب ثقافت سے متصادم نہیں۔ ہم جہاں کے لوگ ہیں وہاں محبت میں شراکت نہیں وہاں یکتائی ہے نہیں تو پھر لوگ اس طرح ”موت “ کی دلہن بن کر لحد میں اتر جاتے ہیں جیسے میری ماں اتر گئی تھی، جیسے میری بہن ”رخسانہ نور“ اتر گئی۔٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved